Chunda Ka Milna | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2922
شادی سے پہلے زندگی اتنی بری نہ تھی ماں باپ کا گھر تھا، سکھ اور سکون کے دن تھے۔ کوئی فکر تھی، نہ غم۔شادی ہوگئی تو گھر خوشیوں سے بھرپور ملا۔ کبھی دکھوں کا منہ نہ دیکھا تھا۔ جب لوگ اپنے غموں کی باتیں کرتے میں سپاٹ چہرہ لئے ان کو پتھر کی مورتی کی مانند تکتی۔ کسی کی آنکھوں سے آنسو بہتے یا چہرہ درد سے بدل جاتا، مجھ کو تکلیف محسوس نہ ہوتی۔ جب کوئی اپنا دکھڑا بیان کرتا۔ چپ سنتی یا جھوٹی ہم دردی جتلا دیتی۔
میرے میاں البتہ رحم دل تھے۔ ان کی زندگی دکھوں میں بسر ہوئی۔ اچھی طرح جانتے تھے یتیمی دلوں پر کیسے زخم لگاتی ہے اور غربت کی چڑیل کس کس طرح انسانی خود داری کو گھائل کرتی ہے۔ تبھی اکثر ضرورت مندوں کی مدد کردیا کرتے تھے۔ مجھ سے بھی کہتے سائل کو خالی ہاتھ نہ لوٹایا کرو، مگر مجھے تو مانگنے والوں سے چڑ ہوگئی تھی۔
اگست کے شروع کے دن تھے۔ ایک صبح چائے پینے بیٹھی تو دروازے پر دستک ہوئی، سر میں شدید درد تھا۔ بے دلی سے اٹھ کر دروازہ کھولا ایک عورت، پھٹے حالوں سامنے آگئی۔ اللہ کے واسطے کچھ دے دو بھوکی ہوں۔ بڑا غصہ آیا۔ دروزہ بجاکر مانگنا دلیری ہی تو تھی۔
غصہ پی کر اسے بھیک دی اور واپس لوٹی تو چائے پیالی میں ٹھنڈی ہوچکی تھی۔ ابھی دو منٹ بھی نہ ہوئے ہوں گے کہ پھر دستک ہوئی۔ ایک بڑے میاں تھے، رقت آمیز آواز میں پکار رہے تھے۔ اللہ کے نام پر صبح سے بھوکا ہوں؟
طبیعت اچھی نہ ہو تو بار بار اٹھ کر دستک کا جواب دینا… اف… میں نے سر پکڑ لیا۔ کچھ پیسے دے کر واپس پلٹی ہی تھی کہ پھر سے در بجا۔ سوچا۔ ملازمہ آئی ہوگی۔ لیکن نہیں… پٹ کھول کر جھانکا تو ایک بڑھیا تھی، ساتھ میں چار برس کا بچہ بھی تھا۔
بیگم صاحبہ… یہ میرا نواسا ہے، یتیم ہے اس کا باپ مرچکا ہے۔ جوان بیٹی بیوہ ہے، چار بچے ہیں۔ سب کا بوجھ مجھ پر ہے ایک روپے کا سوال ہے…! میں اسے ڈپٹ کر نکالنے والی تھی کہ میری ملازمہ آگئی۔
آشو۔ دیکھ تو سہی ان کم بختوں نے صبح سے ناک میں دم کردیا ہے۔ ایک منٹ چین سے بیٹھنے نہیں دیتے۔ چائے بھی ٹھنڈی ہوگئی۔
بی بی آپ اندر جایئے میں خود نمٹ لوں گی۔ یہ دیکھ کر اس نے جیب سے ایک سکا نکال کر بڑی بی کی ہتھیلی پر ٹکا دیا اور دروازہ بند کردیا۔
میں غصے سے بھری ہوئی تھی۔ آشو، سر میں شدید درد ہے۔ اوپر سے انہوں نے دماغ خراب کردیا ہے۔ جسے دیکھو صبح سے بھوکا ہے۔ جانے یہ کام کیوں نہیں کرتے۔
آشو کہنے لگی۔ ہمارے ملک میں بہت غربت ہے بی بی… ہم کو دیکھ لو۔ سارا دن کام کرتے ہیں پھر بھی پورا نہیں پڑتا، بہت مہنگائی ہے۔
بس رہنے دو اور مجھے چائے بناکر دو۔ میں نے تنک کرکہا تو وہ بیچاری چپ ہوگئی۔ چائے بناکر پیالی میرے ہاتھ میں تھمائی ہی تھی کہ ایک عورت چھوٹے بچے کے ساتھ بے دھڑک اندر آگئی اور برآمدے کے ستون سے لگ کر بیٹھ گئی۔
کیا تم نے دروازہ کھلا چھوڑ دیا تھا آشو؟
بند تو کیا تھا…
پھر یہ عورت کیسے اندر آگئی۔ مجھ کو بھکارن کا بے دھڑک چلے آنا بالکل نہ بھایا۔
شاید میں کنڈی لگانا بھول گئی۔ وہ خود شرمندہ تھی۔
تو اب بھگتو۔ میں نے عورت کی طرف دیکھ کرکہا۔ آشو پشیمان تھی لیکن وہ عورت شروع ہوگئی۔
’’بی بی مصیبت زدہ ہوں چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ شوہر کا حادثے میں انتقال ہوگیا ہے۔ زندگی کا بوجھ تنہا گھسیٹ رہی ہوں۔
یااللہ۔ کیا ساری دنیا ہی دکھوں سے بھر گئی ہے! اے عورت بس رہنے دے جھوٹ پر جھوٹ بول رہی ہے۔ صبح سے تیری جیسی کئی آچکی ہیں۔ سب ہی دکھیا اور بیوہ تھیں، سب کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ مگر ہمارے پاس بھی قارون کا خزانہ نہیں ہے۔
عورت نے یہ سن کر دوپٹے سے آنسو پونچھے۔ بوسیدہ پلو پھٹا ہوا اور اس کا چہرہ زرد تھا، جیسے ٹی بی کی مریض ہو۔ یہی حال اس کے بچے کا تھا۔
تم کسی گھر کام کیوں نہیں کرلیتیں۔
بی بی سارے دن کے کام کی اجرت سے کنبے کا پیٹ نہیں بھرتا۔ میں بیمار ہوں پھر بچے چھوٹے چھوٹے ہیں کام پر جائوں تو انہیں کون دیکھے۔
وہ عورت مایوس ہوکر اٹھ کھڑی ہوئی۔ بچے کا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹا لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ بلکہ ضد کرنے لگا کہ مجھ کو چائے دو… وہ میری پیالی پہ نظریں ٹکائے تھا۔ تپائی پر پلیٹ میں چند بسکٹ تھے۔ وہ زمین پر بیٹھ گیا۔ ماں نے اسے لے جانے کی کوشش کی تو بھی نہ گیا، پھر بسکٹ مانگنے لگا۔
بچہ تو بچہ ہوتا ہے بالک ہٹ بھی ہوتی ہے، مگر جانے کیوں میں اس قدر چڑ چڑی ہوگئی تھی کہ بچے پر بھی ترس نہ آیا، میں نے آشو سے کہہ کر دونوں کو گھر سے باہر نکال دیا۔ آدھی پیالی چائے ٹھنڈی ہوگئی اور میں نہ پی سکی۔
رات کو خاور آئے تو میں نے انہیں بتایا کہ آج دن کیسا بور گزرا۔ تب وہ بولے ماریہ… کم از کم اس بچے کو تو بسکٹ دے دیتیں۔ بچے تو پھر بچے ہوتے ہیں تم خود بھی اولاد والی ہو۔ اس بات پر میں ان سے بھی خفا ہوگئی۔
دوسرے روز سولہ اگست کی وہ منحوس صبح آئی کہ جب تیز رو کا لیاقت پور میں حادثہ ہوا۔ خاور بھی اس حادثے میں معذور ہوگئے۔ وہ اس دن اپنے کاروبار کے سلسلے میں اسی ٹرین میں جارہے تھے۔
شوہر اپاہج ہوئے کیا کہ… میری تو دنیا ہی اپاہج ہوگئی۔ زندگی کی خوشیاں لولی لنگڑی ہوگئیں۔ جب ہسپتال میں ان کی حالت دیکھی بے ہوش ہوکر گر گئی۔
آج صحیح معنوں میں غم آشنا ہوئی تھی۔ میرے معصوم بچے اپنے باپ کی تکلیف دیکھ کر رو رہے تھے۔ لوگ تسلی دے رہے تھے، صبر کرو اور شکر کرو کہ اللہ نے تمہارے سہاگ کی زندگی رکھ لی۔ کتنے لوگ جائے حادثہ پر ہی جان بحق ہوگئے۔ ان کے گھر والوں سے پوچھو… آج بہت سی باتیں یاد آرہی تھیں۔ جانے کس دن کے غرور نے یہ دن کھایا کہ میرے نصیب گھائل ہوگئے۔
خاور بہت عرصہ زیر علاج رہے۔ گھر آگئے تو بھی وہیل چیئر پر رہتے۔ اب وہ کام نہ کرسکتے تھے۔ مجھ کو ہی سلائی کرتے بنی۔ پہلے سلائی کٹائی کا کورس کیا پھر مشین پر لوگوں کے ملبوس سینے لگی۔ کچھ بھائی بھی مدد کرتے تھے لیکن گھر کا خرچہ پورا نہ ہوتا تھا۔ اب میرے بچے معمولی معمولی چیزوں کو ترسنے لگے۔ دکھ اسی قدر رہتا تو زندگی کی گاڑی کھینچ لیتی لیکن مقدر میں ایک اور غم بھی لکھا تھا۔ 5 نومبر کو ایک اور قیامت ٹوٹی۔ میری معصوم بچی جو تین سال کی تھی گلی میں نکلی اور گم ہوگئی۔ سب جگہ ڈھونڈ ماری وہ کہیں نہ ملی۔ اس کے غم میں خاور چار پائی سے جالگے اور میں جاں بلب ہوکر رہ گئی۔
اس دل کا عالم کیا کہوں… ہم دونوں میاں بیوی کو ایسی چپ لگی جیسے گونگے ہوگئے ہوں۔ کسی ماں کا بچہ جیتے جی گم ہوجائے تو اذیت موت سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ طرح طرح کی سوچیں پریشان کرتیں۔ جانے کیوں اور کس نے میری بچی کو اغوا کیا۔ کیا بھیک منگوانے کے لئے یا پھر؟ اس سے آگے سوچنے سے کلیجہ پھٹنے لگتا۔
جانے کس بات کی سزا ملی۔ کاش اس روز میں اس بھکارن کے بچے کو چائے اور بسکٹ کھلا دیتی۔ کیا خبر آج میری بچی چائے اور بسکٹ کے لئے ترستی ہو؟ وہ تو میرے بغیر سوتی نہ تھی۔ اللہ جانے کس حال میں ہوگی۔ اس کے انتظار میں آنکھوں سے نیند روٹھ گئی۔ اب اچھی طرح سمجھ گئی تھی کہ زندگی کے دکھ درد کیا ہوتے ہیں۔
زندگی سے دلچسپی ختم ہوگئی تو صبح شام عبادت میں بسر ہونے لگے۔ آشو پرانی ملازمہ تھی، میرا دکھ اور میری ذہنی کیفیت کو سمجھتی تھی۔ اس نے میرا گھر سنبھال لیا اور میں نے مصلہ سنبھال لیا۔ روزو شب سجدے میں گر کر روتی اور اپنی کھوئی ہوئی بچی کے ملنے کی دعا کرتی۔ لندن سے خاور کے کزن آئے۔ انہوں نے جو ہمارا ایسا حال دیکھا تو خاصی رقم خاور کے نام بینک میں جمع کرا گئے کہ جب تک میری ذہنی حالت صحیح نہیں ہوتی کم از کم نان شبینہ کی پریشانی نہ رہے۔
ایک روز دوپہر کے وقت جائے نماز پر بیٹھی رو رو کر اپنی کھوئی ہوئی بیٹی کے مل جانے کی دعا کررہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ کسی فقیر نے صدا لگائی تھی۔ آشو سودا لینے گئی تھی، میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا اور سائل کو پانچ روپے دینے کو ہاتھ باہر کیا تو اس کے برابر کھڑی بچی پر نظر پڑ گئی۔ ذہن کو جھٹکا سا لگا۔ اس کے نین نقش ہو بہو میری کھوئی ہوئی چندا جیسے ہی تھے۔ میں اسے پیار سے چندا ہی بلاتی تھی۔ بے اختیار منہ سے نکلا میری چندا…!
ادھر آ میرے پاس… تبھی اس فقیر بابا نے کہا… بیٹی کیا یہ تمہاری کھوئی ہوئی بچی ہے؟ یہ مجھے سڑک پر کھڑی ملی تھی۔ بہت چھوٹی تھی، اگر میں اسے گود میں اٹھا نہ لیتا تو نادانی میں سڑک کے بیچ کسی گاڑی تلے آجاتی۔ اس کو لے کر یہاں میں کئی گلیوں اور گھروں میں پھرا۔ کسی نے نہ کہا ہماری بچی ہے۔ میری بیوی کو اولاد نہ تھی اس نے اس کو بیٹی بنالیا۔ اب اکثر ساتھ لے کر نکلتا ہوں اس امید پر شاید اس کے اصل ماں باپ مل جائیں، بابا کی زبانی باتیں سن کر میرے آنسو نکل آئے۔ خدا کا شکر ادا کیا۔ اپنی چندا کو بانہوں میں لے لیا۔ وہیل چیئر پر میرے شوہر بھی گیٹ کے پاس آگئے۔ ہم نے بابا کو حسب توفیق نذرانہ انعام کیا اور کہا کہ جب چاہیں آپ اور آپ کی بیوی ہماری چندا سے مل سکتے ہیں۔ اب تو اس واقعے کو برسوں گزر چکے ہیں۔ خاور وفات پاگئے ہیں اور چندا کی شادی ہوگئی ہے، آج کل میں چندا کے پاس ہی رہتی ہوں۔
(ا۔ م … کراچی)