Monday, July 4, 2022

Dairah

سونیا نے ہی مجھے بتایا تھا یہ سب، تمہیں تو پتا ہے ، ہم دونوں بچپن سے دوست ہیں۔ کل اس نے مجھے اپنا فیس بک اکاؤنٹ دکھایا جو وہ سب سے چھپا کر چلارہی تھی۔ اس کے ساتھ بہت سے مرد بھی ایڈ ہیں۔ اس نے مجھے وہ پیارا سا سوٹ بھی دکھایا، جو اس کے ایک آن لائن دوست نے بھیجا تھا۔ میرے ذہن میں وہی خوب صورت شیشوں کی کڑھائی سے مزین سندھی سوٹ تھا جوسونیا نے آن لائن کہیں سے خریدا تھا۔ میں نے بات کرتے کرتے آزر کے چہرے کا جائزہ لیا- یہ اس کی سرخ رنگت اندرونی خلفشار کا پتا دے رہی تھی۔ میں نے تیر نشانے پر لگتا دیکھ کر کمان پر گرفت مضبوط کی۔ خوب صورت سوٹ ہے ، پانچ ہزار سے کم کا نہیں ہوگا ۔ میں نے اشتیاق سے کہتے ہوۓ اسے دیکھا۔ وہ پھٹ پڑنے کو تیار تھا۔ زہر آہستہ آہستہ پلایا جا تا ہے تا کہ وہ رگ رگ میں پہنچ جاۓ ، یہ میرا پہلا اصول تھا۔ اچھا، سونیا سے یہ ساری باتیں مت پوچھنا، ویسے بھی اس نے مجھے منع کیا تھا کہ تمہیں یہ ساری باتیں نہ بتاؤں ۔اب اگر تم اس سے پوچھو گے تو وہ مجھ سے ناراض ہو جائے گی اور شاید دوستی بھی ختم کردے۔ میں نے محتاط انداز اپناتے ہوۓ کہا۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ کھیل شروع ہونے سے پہلے ہی بگڑ جاۓ۔ آزرکسی گہری سوچ میں گم تھا۔ تم نے اس کی تصویریں دیکھیں؟ دو دن بعد جب تیز دھوپ چلچلا رہی تھی، میں نے گیٹ سے اندر آ تے ہوۓ اسے پکڑا۔ ہم دونوں کزنز تھے اور ہمارے گھر ساتھ ساتھ تھے۔سونیا میری دوست تھی اور آزرکزن تھا لیکن پھر دونوں کی منگنی ہوگئی اور میں کہیں کی نہیں رہی۔ ان دونوں کی منگنی کو چار ماہ ہو چکے تھے اور ہر گزرتا دن میرے حسد میں اضافہ کر رہا تھا۔ کون سی تصویریں؟ آزر کا لہجہ بالکل سرد تھا۔ میرے دل کے آخری کونے تک ٹھنڈ پڑ گئی۔ تمہاری سونیا سے بات نہیں ہوتی کیا ؟ میں نے اس کا چہرہ پڑ ھنے کی کوشش کی۔ نہیں، ہماری بات نہیں ہوئی کچھ دنوں سے- وہ مجھے کچھ الجھا ہوا لگا۔ ویسے کتنی پیاری ہے نا سونیا؟ تمہارے ساتھ بہت جچے گی، میں بہت خوش ہوں تم دونوں کے لیے۔ میں نے مصنوعی مسرت سے اسے دیکھا۔ کون سی تصویریں؟ آزر کی سوئی تصویروں پراٹکی ہوئی تھی ۔ میں نے دل ہی دل میں مسکراتے ہوۓ اسے دیکھا۔ سونیا رحیم تم بھول ہی جاؤ کہ تم کبھی اس گھر کے آنگن میں دلہن بن کر آ سکوگی۔ میرے اندرزہر پھیلتا ہی جارہا تھا۔ میں نے اپنا موبائل نکالا۔ سونیا کے دوست کی مہندی کی ہیں تصاویر، مجھے لگا اس نے تمہیں دکھائی ہوں گی ۔ میں نے مسکراتے ہوۓ کہا۔ ساتھ کھڑا یہ لڑکا کون ہے؟ آزر کے ماتھے کی سلوٹیں گہری ہوتی جارہی تھیں۔ میں مسکرائی۔ میں جانتی تھی ، اس ایکسپرٹ نے زیادہ پیسے لے کر یہ تصویر ایڈٹ کر کے دی تھی مجھے- ہوگا وہیں مہندی پر کوئی لڑکا- میں نے سرسری لہجے میں کہا۔ تمہیں تو پتا ہے وہ آزاد خیال لڑکی ہے،ایسی باتوں کا بالکل برا نہیں مانتی۔ نہیں ، ایسی تو نہیں تھی سونی پہلے۔ اس کی آواز میں بے یقینی ، نفرت ،غصہ سب کچھ تھا۔ وہ شروع سے ایسی ہے، میں جانتی ہوں اسے۔ میں نے عام سے لہجے میں کہا۔ آزرموبائل ہاتھ میں لیے تیزی سے اندر کی طرف بڑھ گیا۔ میرا موبائل تو واپس دو۔ میں پیچھے سے لپکی۔ اندر کی طرف بڑھتے ہوۓ میں نے دیکھا کہ بھابی اپنے کمرے کی کھلی کھڑکی سے مجھے گھور رہی تھیں۔ میں نے ان کی نظروں میں اپنے لیے واضح ناپسندیدگی دیکھی ۔ وہ مجھے شروع سے پسند نہیں کرتی تھیں لیکن اس بات سے فرق کے پڑتا تھا۔ کلہاڑے کا آخری وار لگ چکا تھا، درخت پورے قد کے ساتھ زمین پر گرنے والا تھا، یہ میں جانتی تھی۔
***
منگنی کی انگوٹھی واپس کر دی گئی تھی۔ امی حیران پریشان مجھ سے پوچھو رہی تھیں ۔ اچانک کیا ہو گیا ان کو تمہیں کچھ پتا ہے؟ میں نے نفی میں سر ہلایا۔ آزر نے کسی کو بھی کچھ بتاۓ بغیر ہی منگنی ختم کر دی تھی۔ سب کچھ ویسے ہی ہورہا تھا، جیسے میں چاہتی تھی۔ اس رات میں شاداں و فرحاں باہر لان میں ٹہل رہی تھی۔ کھیل بالکل میرے مطابق چل رہا تھا، میں جیت سے فقط دو قدم کے فاصلے پرتھی۔ میں ان ہی سوچوں میں گم تھی کہ سونیا کی کال آئی۔ فرحین، تم نے یہ کیوں کیا؟ اس کی آواز لرز رہی تھی۔ کیا کیا ہے میں نے؟ میں نے پریشانی سے پوچھا۔ تم جانتی ہو کہ تم نے کیا کیا ہے۔ اس کی آواز سرد ہوگئی۔ اور تم اپنے کیے کا صلہ پاؤ گی فرحین، تم دیکھنا۔ میرا دل مضطرب ہو چکا تھا، کال کٹ چکی تھی لیکن میں فون کان سے لگاۓ بیٹھی تھی ۔ میں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا، میں نے خود کوتسلی دی۔ اس جیت کو محسوس کروفرحین- ہلکی ہلکی ہوائیں میرے موڈ پر اچھا اثر ڈال رہی تھی لیکن جانے کیوں اس کی بھیگی آواز میری سماعتوں میں اٹک گئی تھی۔ میں نے سر جھٹکا۔ کیا اسے معلوم تھا کہ یہ سب میں نے کیا ہے؟ آزر اس سے ساری باتیں کہہ چکا تھا شاید ،اب سونیا اسے لاکھ اپنی صفائیاں دیتی لیکن وہ کبھی بھی یقین نہیں کرتا ، یہ میں جانتی تھی۔ میں نے مسکراتے ہوۓ اندر کی طرف قدم بڑھاۓ ۔اب وقت آ گیا تھا کہ میں ہر لمحہ آزر کے ساتھ رہ کر اس کو اس غم سے نکالنے کی کوشش کرتی ۔
****
میں پارلر میں بیٹھی تیار ہورہی تھی۔ بیوٹیشن نے کئی بار مجھے ستائشی نظروں سے دیکھا اور پھر آخر کار بول پڑی۔ آپ بہت خوب صورت ہیں۔ میں نے بے نیازی سے مسکرا کر اسے دیکھا اور شکر یہ کہا۔ یہ جملہ میں کئی لوگوں سے سن چکی تھی۔ آج ہماری منگنی تھی اور میری خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔ وقت لگ گیا تھا لیکن بالآخر جیت میری ہوئی تھی۔ میں گھر آ گئی تھی۔ منگنی کے فنکشن کا اہتمام ہمارے مشترکہ لان میں کر دیا گیا تھا۔ آزرابھی نہیں آیا،کسی کام سے شاید باہر گیا ہے۔ تم اندر اپنے کمرے میں ہی بیٹھوا بھی۔ گاڑی سے اترتے ہی امی نے آگے بڑھ کر سرگوشی کی ۔ بھا بھی طنزیہ نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھیں۔ میں نے نخوت سے سر جھٹکا اور نزاکت سے فراک کو چٹکیوں میں پکڑ کر اندر کی طرف بڑھ گئی۔ میں اپنے کمرے میں بیٹھی سیلفیز بنارہی تھی کہ ایک دم دھڑام سے دروازہ کھلا۔ امی کا حق دق چہرہ سامنے تھا۔ وہ نہیں آ رہے منگنی کے لیے۔ کیوں؟ میرے پاؤں تلے سے زمین سرک گئی۔ کیا ہوا؟ میری زبان لڑکھڑا رہی تھی۔ انہوں نے اپنا سر تھام لیا۔ اب کیا ہوگا ؟ وہ کانپ رہی تھیں ۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ میں بڑ بڑائی۔ باہر سے لوگوں کی آوازیں آ رہی تھیں، باہر شور ایک دم بڑھ گیا تھا۔ کال کریں آزرکو۔ میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا، اگلے لمحے میں تیورا کر زمین پر گرگئی ۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں جان گئی کہ کھیل آخری لمحے میں پلٹ دیا گیا تھا۔ میں جیت کے بالکل قریب تھی کہ منہ کی کھا کر گر گئی۔ کہیں بھی کوئی بھی شک کا امکان نہ ہونے کے با وجود آزر ساری سچائی جان چکا تھا اور اس نے سب کو بتا دیا تھا کہ کیسے میں نے سونیا کی تصویر ایڈٹ کرائی تھی اور پھر اس کو دکھایا تھا۔سونیا کی اصل تصویر اور ایڈٹ شدہ تصویر سب دیکھ چکے تھے۔ سن ہوتے دماغ کے ساتھ میں سب کو دیکھ رہی تھی۔لوگ مجھے لتاڑنے کے بعد واپس گھروں کو جا چکے تھے۔
***
ابو اوربھائی نے مجھ سے بات کرنا چھوڑ دی تھی لیکن کوئی بھی یہ نہیں سوچ رہا تھا کہ آخر آزرکوساری سچائی کیسے پتا چلی سواۓ میرے۔ میں جانتی تھی وہ بھابھی تھیں جنہوں نے اس کوساری بات بتائی پھر اس کو ایڈٹ شدہ تصویر بھیج دی تھی۔ مجھے وہ وقت یاد آیا جب میں سونیا کی تصویر ایڈٹ کروانے کے لیے اس ایکسپرٹ سے کال پر بات کر رہی تھی ۔ اس بندے کو میں نے انسٹا گرام پر ڈھونڈا تھا۔ تب پیچھے ہلکا سا کھٹکا ہوا تھا۔ میں پیچھے مڑی تو کوئی نہیں تھا لیکن اب ….. ساری گرہیں ایک ایک کر کے کھل رہی تھیں ۔ امی مجھے لعن طعن کرنے میں مصروف تھیں ۔ میں ایک ہی دن میں آسمان سے زمین پر آ گئی تھی۔ دن گزر رہے تھے، بھابھی روز آزر کے گھر جا رہی تھی وہ بھی اپنی چھوٹی بہن کو ساتھ لے کر۔ تو اب بھابی بھی میرے ساتھ وہی کریں گی؟ جو میں نے سونیا کے ساتھ کیا تھا۔ میں نے شکست خوردہ قہقہہ لگایا۔ لیکن پھر میری اور بھابی کی ساری چالیں دھری کی دھری رہ گئیں اور ایک دین خبر آئی کہ سونیا رحیم ، آزر کے ساتھ رخصت ہو کر آ گئی ہے۔ اس دن ساتھ والے گھر میں خوب ہنگامہ تھا اور ہمارے گھر میں گہرا سناٹا۔ سب کی چالیں پیکار گئی تھیں اور آخری چال آسمان سے چل دی گئی تھی۔ دو دن بعد مجھے واٹس ایپ پر ایک تصویر ملی۔ میں نے خالی خالی آنکھوں سے کھول کر دیکھا، دونوں ساتھ کھڑے مسکراتے ہوۓ بہت پیارے لگ رہے تھے۔ میں نے نمبر پر نام چیک کیا تو سونیا آزر لکھا ہوا تھا۔ میرے لبوں پر ایک تلخ مسکراہٹ پھیل گئی۔ مکافات شاید ایک گول دائرے کی طرح ہے، ہم صرف اس دائرے میں گھوم رہے ہیں۔ دائرہ وہی ہے بس لوگ بدل رہے ہیں، میں کسی کو گرا کر پوری شان سے آگے بڑھ گئی تھی کہ کسی نے پیچھے سے آ کر مجھے گرا دیا اور قطار سے ہی نکال دیا۔ یہ دائرہ ہمیشہ یونہی رہنے والا تھا تا کہ مکافات کے لیے ترتیب برقرار رہے اور یہ بات کرما کے شروع ہوتے ہی میری سمجھ میں آ گئی تھی۔

Latest Posts

Related POSTS