Dawaien Mout Ka Bais Bane | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1891
ہمارے تایازاد ابصار آفیسر تھے اور ان کی پوسٹنگ مختلف جگہوں پر ہوتی رہتی تھی۔ اس بار ہمارے شہر میں تبادلہ ہوا تو ہم بہنیں بہت خوش ہوئیں، کیونکہ ان کی بیوی سے ملنے کا ہمیں بہت اشتیاق تھا۔ ابصار بھائی کی شادی پر ان کی دلہن کو دلہن کے روپ میں دیکھا تھا، دوبارہ ملاقات نہ ہو سکی تھی، وہ امی کی کزن کی بیٹی تھیں۔ چونکہ دور کا رشتہ تھا اس لئے ملنا ملانا شاذ ہی ہوتا تھا۔ اتفاق کہ ابصار بھائی کو ہمارے گھر کے قریب رہائش ملی۔ سب سے پہلے والد اور بھائی ان سے ملنے گئے اور کھانے پر مدعو کر لیا۔ والد نے بتایا فی الحال وہ اکیلے آئے ہیں، بیگم ساتھ نہیں آئیں۔ ہم انتظار کرنے لگے کہ بھابی آ جائیں، پھر ہم ان کے گھر جائیں گے۔
چھ مہینے گزر گئے …بھابی نہیں آئیں۔ بھائی ابصار اکیلے رہائش پذیر رہے۔ ایک روز وہ ہمارے گھر آئے، امی نے پوچھا بیٹا ابصار! تمہاری بیگم ابھی تک نہیں آئیں، کیا وجہ ہے، تم اکیلے رہتے ہو، کیا بچّوں کی یاد نہیں آتی۔ جب یاد آتی ہے ان سے ملنے لاہور چلا جاتا ہوں، بیگم کا دل اپنے شہر کے علاوہ کہیں نہیں لگتا، تب ہی نہیں آتیں۔ ایک بار آئیں تو ہفتہ بھر مشکل سے رہیں۔ ان کو یہ جگہ پسند نہیں ہے۔ مہوش کا کہنا ہے یہاں نہ کوئی ڈھنگ کا بازار ہے اور نہ کوئی شاپنگ مال ہے، بیوٹی پارلر بھی نہیں ہے، شہر میں صفائی نہیں ہے، یہ بھی کوئی جگہ ہے رہنے کی۔
ہاں بیٹے! بڑے شہروں جیسی رونقیں چھوٹے شہروں میں کہاں، لیکن رہنا تو اسے تمہارے ساتھ ہی چاہئے، بیوی گھر میں نہ ہو تو گھر کے کھانے کی سہولت میسّر نہیں ہوتی۔
کھانا میرا خانساماں اچھا بنا لیتا ہے چچی۔ یوں بھی مہوش کب کھانا بناتی ہے، اسے کچن کے کاموں سے الرجی ہے۔ موضوع نازک موڑ پر آ گیا تو امی جان نے بات کا رخ بدل دیا۔ اندازہ ہوگیا کہ بیچارے ابصار بھائی بیوی سے خوش نہیں ہیں۔ کچھ دن بعد سنا کہ بھائی کی فیملی لاہور سے آ گئی ہے۔ سوچا جا کر بھابی سے مل آنا چاہئے، حال احوال پوچھنا چاہئے، شاید انہیں ہماری ضرورت ہو۔
امی نے کہا کہ چلو، مکان ٹھیک کرنے میں لگی ہو گی، ضرورت محسوس کرو تو ان کا کام کاج میں ہاتھ بٹا لینا۔ ہم نے دستک دی، نوکر نے دروازہ کھولا۔ ہم بلاجھجھک اندر پہنچ گئے۔ وہ واقعی گھر ٹھیک ٹھاک کرنے میں لگی تھیں، اسی وجہ سے لباس بھی گردآلود ہو گیا تھا، وہ ہمیں نہ پہچان سکیں۔ ہاں بھئی، کون ہیں، کیوں آئی ہیں؟
رکھائی سے ایک اچٹتی نگاہ ڈال کر کہا اور منہ پھیر کر الماری میں کپڑے رکھنے لگیں۔ ہمیں ان سے ایسے روکھے برتائو کی توقع نہ تھی۔ میں ہوں تمہاری آمنہ خالہ، ارے بھئی تمہاری امی کی کزن ہوں اور ابصار کی بڑی چچی اور یہ میری بیٹی گل رخ ہے۔ والدہ نے کچھ ایسے اعتماد سے تعارف کروایا کہ وہ پہچان کر تپاک سے ملیں گی اور نادم ہو جائیں گی کہ کیوں خاطر میں نہ لائی۔
ان پر تعارف کروانے کا بھی کچھ اثر نہ ہوا، جھٹ سے کہا، آنے سے پہلے بتا دیا ہوتا۔ کسی کے گھر بغیر اطلاع پہنچ جانا کہاں کی ریت ہے۔ اب تو ہمیں شرمندہ ہوتے بنی۔ امی کو بڑی خفت محسوس ہو رہی تھی کہ اپنے رشتے سے نہ پہچانتی کم از کم ابصار کی چچی جان کر کچھ لحاظ کر لینا چاہئے تھا۔
گھر آئے مہمان سے کوئی ایسا سلوک نہیں کرتا۔ یہ خاتون تو واقعی بدتمیز ہیں۔ ہم کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے۔ میں نے امی کو ٹہوکا دیا، چلیے بھی اب۔ بھابی جان آپ بہت مصروف ہیں، ہم چلتے ہیں۔ آئندہ آنا ہوا تو اطلاع کر کے آئیں گے۔
ٹھیک ہے، شکریہ، خداحافظ۔ انہوں نے وہیں کھڑے کھڑے ان الفاظ کے ساتھ ہمیں رخصت کر دیا۔ اب سمجھ میں آ گیا بھائی ابصار کیوں اتنے مایوس تھے، شاید بیوی ان کو بھی خاطر میں نہ لاتی تھیں۔ ہمیں ابصار بھائی کے بچّوں سے ملنے کا ارمان رہ گیا۔ وہ لان میں اپنی آیا کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ جب ہمارا سواگت اس طور ہوا تو کس منہ سے کہتے کہ اپنے بچّوں سے تو ملوایئے۔ آٹھ سالہ میرا بھتیجا چنو ساتھ تھا، خاص طور پر وہ ابصار بھائی کے بچّوں سے ملنے گیا تھا، بہت مایوس ہوا۔ بھابی نے ابصار بھائی کو نہ بتایا کہ ان کے رشتے دار ملنے آئے تھے۔
ایک روز وہ آئے، شکوہ کیا، چچی آپ ہمارے گھر نہیں آئیں، میری بیگم تو کب کی آئی ہوئی ہے۔ بیٹا میں تو
گئی تھی، آپ کی بیگم مصروف بہت تھی، ہم جلدی واپس آ گئے۔ کیا انہوں نے آپ کو نہیں بتایا۔ بھول گئی ہوں گی۔ انہوں نے خفت مٹانے کو بات ٹال دی۔
بہت دن گزرگئے، ہم ان کے گھر دوبارہ جانے کی جرأت نہ کرسکے۔ ایک دن ان کا ملازم آیا، دروازے پر دستک دی۔ امی نے در کھولا، اس نے کہا…مجھے ابصار صاحب کی بیگم نے بھیجا ہے کہ چچی جان سے کہو مجھے ایک اچھی گھریلو ملازمہ کی ضرورت ہے، اگر ان کا کسی سے رابطہ ہو تو مجھے بھجوا دیں۔
امی نے جواب دیا، مہوش سے کہنا،میرے رابطے میں کوئی ایسی عورت نہیں ہے جو تمام دن کے لئے کام کرے، ہاں جزوقتی بھجوا سکتی ہوں، میری ملازمہ ہے، وہ یہاں سے بارہ بجے فارغ ہوتی ہے، وہ آ جائے گی، کل اس سے بات کروں گی۔
امی نے وحیدہ ماسی سے بات کی، اس نے کہاآپ کے کام سے فارغ ہو کر وہاں چلی جائوں گی، مجھے گھر دکھا دیں۔ امی نے وحیدہ کو گھر دور سے دکھلایا، خود اندر نہ گئیں کہ اس دن کا افسوس ان کے دل میں باقی تھا۔ بہرحال بھابی نے وحیدہ کو دوپہر سے شام تک کے لئے رکھ لیا اور تنخواہ بھی معقول دینا منظور کر لی۔ وحیدہ اب ہمارے اور ان کے گھر کے درمیان رابطہ تھی۔ وہ بھابی کے گھر کے حالات امی کو بتاتی تھی، کیونکہ گھر کے نوکر یا خادم سے بڑھ کر گھر کے حالات اور کوئی نہیں جان سکتا۔ اسی کی زبانی معلوم ہوا کہ بھابی کیوں اس قدر چڑچڑی اور آدم بیزار ہیں۔
ان کے چار چھوٹے چھوٹے بچّے تھے۔ ایک چھ سال، دوسرا پانچ سال کا، تین سالہ بیٹی اور ایک سالہ ننھی منی۔ سارا دن بچّے بھابی کو ستاتے تھے، وہ انہیں پھرکی کی طرح گھمائے رکھتے تھے۔ وہ انہیں کنٹرول کرتے کرتے تھک جاتی تھیں۔ لاہور میں ان کی معاونت بھابی کی والدہ اور بہن کرتی تھیں لیکن یہاں میکے سے دور اکیلی تھیں۔ بچّوں کے لئے آیا وہ اپنے ساتھ لاہور سے لائیں۔ وہ آتے ہی بیمار پڑ گئی، اسے واپس بھجوانا پڑا۔
اس شہر کی ملازم عورتیں ان کے مزاج کی نہ تھیں۔ وہ صاف ستھرا کام چاہتی تھیں، ان کو گندگی سے الرجی تھی حتیٰ کہ سڑکیں اور گلیاں تک صاف دیکھنا پسند کرتی تھیں ورنہ ان کے سر میں درد ہو جاتا تھا۔ لاہور میں نہایت پوش علاقے میں رہتی تھیں۔ ان کا صرف ایک بچّہ اسکول جاتا تھا۔ ایک کو خود گھر پر پڑھاتی تھیں اور باقی دو ابھی چھوٹے تھے۔ یہ سب ان کو اس حد تک تنگ کرتے، خاص طور پر بیٹے …کہ غصّے میں انہیں بری طرح پیٹ ڈالتی تھیں۔ سارا دن صفائی ستھرائی میں لگی رہتی تھیں۔
بچّے پھر بچّے ہوتے ہیں… وہ چیزیں اِدھر اُدھر پھیلاتے، پانی گراتے، بستر کی چادروں پر گیلے پیروں سے چڑھ جاتے، ایک دوسرے کے ساتھ دھکم پیل کرتے، تب وہ ان کو خوب دھنکتیں اور کمرے میں بند کر دیتیں، یوں وہ بے خوف اور ڈھیٹ ہو گئے۔ بچّے اتنے چھوٹے تھے کہ ان کو کھیلنے کے لئے گھر سے باہر بھی نہیں نکلنے دیا جاتا تھا اور نہ نئے ملازمین پر بھروسہ کیا جا سکتا تھا۔ وحیدہ پر اس لئے بھابی نے بھروسہ کیا کہ وہ امی کے وسیلے سے گئی تھی۔
وحیدہ نے امی کی تعریفیں کیں تو بھابی کو احساس ہوا کہ یقینا ایک اچھی خاتون کو انہوں نے ناحق مایوس کیا، جبکہ ان سے میل ملاپ میں اپنا ہی فائدہ تھا۔ کوئی خاتون اجنبی شہر میں میکے سے دور ہو تو سسرالی رشتے دار آڑے وقت کام آ سکتے ہیں۔ وہ اب خفت کے مارے امی سے ملنے نہ آ رہی تھیں۔ امی نے وحیدہ کو باور کرایا کہ اگر ابصار کی بیوی ہم سے میل ملاپ رکھنا چاہے تو بے شک آ جائے، ہمیں خوشی ہو گی، تب ایک روز وہ وحیدہ کے ساتھ ملنے آ گئیں۔ امی سے معذرت کی کہ اس دن بہت پریشان تھی، کیونکہ چابیوں کا گچھا بچّوں نے کہیں گم کر دیا تھا، جبکہ لاہور سے جو بیگ لائی تھی انہیں کھولنا تھا، تب ہی آپ کو ٹھیک طرح ویلکم نہ کر سکی۔ دراصل میں بچّوں کو سنبھالنے کی اہل نہیں ہوں۔ وہاں امی ان کو سنبھالتی ہیں۔ اسی وجہ سے میں یہاں نہیں آتی تھی، ابصار نے بہت اصرار کیا تو آنا پڑا۔ کوئی بات نہیں، مجھے اپنی امی جیسا ہی سمجھو، جو مشکل ہو بلاتکلّف کہہ دیا کرو، میری بچیاں تمہارے سارے کام کر دیا کریں گی، ان کو بلوا لیا کرو۔ غرض ہم جس قدر ناخوش ہو کر ان کے پاس سے آئے تھے ،وہ اتنی ہی خوش ہو کر گئیں۔ چند دن گزرے کہ وحیدہ نے سندیسہ دیا کہ بیگم ابصار آ پ کو بلا رہی ہیں، کہتی ہیں بڑی مشکل میں ہوں، خالہ سے کہنا کہ پیغام ملتے ہی آ جائیں۔
امی جان گھبرا


گئیں، جانے کیسی مشکل آ پڑی ہے، وہ بیچاری جن کپڑوں میں بیٹھی تھیں، ان کے گھر کی طرف دوڑ پڑیں۔ بھابی واقعی پریشان تھیں، امی دھک سے رہ گئیں۔
مشکل تو بتائو بی بی… ایسے روتی جائو گی تو کیا جان پائوں گی۔ بھابی کی زبان نہ کھل رہی تھی۔ بتانا پڑا کہ پانچویں بار میں ماں نہیں بننا چاہتی لیکن اللہ مجھے پھر ماں بننے کا شرف عطا کرنے والا ہے۔ جب یہ شرف ہے تو پھر کیسی پریشانی…؟ خالہ جی پہلے ہی چار بہت ہیں اور مزید اب پالنے کی سکت مجھ میں نہیں ہے۔ بے شک ماں بننا اعزاز کی بات ہے لیکن بچّے کا پالنا کتنا مشکل اور تھکا دینے والا کام ہے۔ میرے لئے کچھ کریں ورنہ جان دے دوں گی۔
کیسی نادانی کی باتیں کر رہی ہو مہوش! بھلا میں کیا کر سکتی ہوں۔ یہ قدرت کے معاملات ہیں، ہم کس طرح دخل دے سکتے ہیں۔ جو روح آنے والی ہے اسے کون روک سکتا ہے۔ کیوں نہیں، آپ مجھے کسی جاننے والی ڈاکٹر کے پاس لے چلیں۔ بیٹی، میری کوئی ایسی جاننے والی ڈاکٹر نہیں ہے، ہوتی بھی تو بھلا ایسا غلط کام کون کرے گا، کوئی ڈاکٹر تمہارا ساتھ نہ دے گی۔ ان کا کام مسیحائی ہے کسی کو مارنا نہیں۔ امی کے منہ سے ایسی باتیں سن کر بھابی ان سے خفا ہو گئیں کہ مجھ پر مشکل وقت ہے اور آپ میرا ساتھ نہیں دے رہیں۔
بیچاری والدہ سوائے سمجھانے کے کیا کر سکتی تھیں، ان کو سمجھا کر آگئیں۔ بھابی مگر سمجھنے والی نہ تھیں، وہ ابصار بھائی سے لڑ جھگڑ کر میکے چلی گئیں اور تینوں بڑے بچّوں کو بھی شوہر کے پاس چھوڑ گئیں۔ سب سے چھوٹی بچّی کو ساتھ لے گئیں۔ ابصار بھائی بہت پریشان تھے، بغیر ماں بچّے ان سے کیوں کر سنبھل سکتے تھے۔ امی کے پاس آئے کہ آپ میری مشکل کا کوئی حل نکالیے۔ میں بچّوں کو سنبھالوں یا ڈیوٹی پر جائوں۔ فی الحال چھٹی بھی نہیں مل رہی کہ ان کو لاہور لے جائوں۔
والدہ نے وحیدہ کی منت کی کہ تم صبح سے رات نو بجے تک ابصار کے گھر رہو اور بچّوں کو سلا کر گھر جایا کرو، جب تک وہ بیوی کو منا کر نہیں لاتے، یہ ذمہ داری تمہیں سنبھالنی ہے، بے شک میرے گھر کا کام نہ کرو لیکن تنخواہ تمہیں دوں گی۔ وحیدہ بچّوں کے پاس رہنے لگیں، ان کا گھر دور تھا، رات کو نہ جا سکتی تھیں۔ 45سے اوپر ان کی عمر تھی، ان کے بچّے جوان تھے، وہ ابصار بھائی کے گھر رہ سکتی تھیں۔ ابصار بھائی نے فون پر ساس سے بات کی، بیوی کو سمجھانے کی کوشش کی کہ لوٹ آئو، بچّے تمہارے بغیر نہیں رہ سکتے لیکن وہ ضد پر اڑی تھیں کہ تم بچّوں کو لاہور لے آئو، میں وہاں نہیں رہ سکتی۔ سب ہی سمجھ رہے تھے وقتی بیزاری ہے، جلد آ جائیں گی، آخر ممتا کھینچ لائے گی بچّوں کے پاس۔ بھائی ابصار بھی مجبور تھے، اس جگہ رہنے پر کہ تبادلہ ہوا تھا، اپنی مرضی سے تو وہ نہیں رہ رہے تھے جبکہ یہ شہرمہوش بھابی کے معیار کے مطابق نہ تھا۔
کچھ دن بعد ابصار بھائی چھٹی لے کر لاہور چلے گئے کہ مہوش کو سمجھا کر واپس لے آئیں گے، ادھر بچّے ملازمہ کے حوالے کر گئے۔ امی بھی دن میں دو بار ان کے گھر جا کر بچّوں کو دیکھ آتی تھیں۔ ابصار کو گئے دوسرا دن تھا کہ وحیدہ گھبرائی ہوئی آئیں، امی سے کہا جلدی چلو بچّوں نے کوئی چیز کھا لی ہے، وہ بے ہوش ہیں۔ والدہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ دوڑی گئیں۔ مجھے کہا بھائی کو فون کر کے اطلاع دو۔ شاید بچّوں کو اسپتال لے جانا پڑے۔ وہاں جا کر پتا چلا کہ بھابی سکون کے لئے گولیاں کھاتی تھیں اور ان کو بلڈپریشر بھی ہو گیا تھا۔ وہ سب دوائیں اپنی الماری کی دراز میں رکھتی تھیں۔ لاہور جاتے ہوئے دوائیں لے جانا بھول گئیں اور وحیدہ بھی اس امر سے بے خبر تھیں کہ دراز میں دوائیں رکھی ہیں۔ ابصار بھائی کے بڑے لڑکے نے دراز کھول کر دوائیں نکالیں۔ تجسس میں دوسرے بچّوں نے بھی ساتھ دیا اور پھر سب نے گولیاں پھانک لیں۔ شاید وہ سمجھ رہے ہوں گے یہ ٹافیوں کی طرح ہوں گی۔
وحیدہ کچن میں بچّوں کے لئے کھانا بنا رہی تھیں، وہ جب کھانا لے کر کمرے میں آئیں، تینوں بچّے سوئے ہوئے تھے۔ ان کو شک ہوا کہ سارے بچّے کبھی ایک ساتھ تو نہیں سوتے، یہ آج ان کو کیا ہو گیا ہے، دوپہر کا کھانا کھائے بغیر کیسے سو گئے۔ انہوں نے ہلا جلا کر دیکھا، سانس تو آ رہی تھی لیکن بچّے بے ہوش تھے۔ دوڑ کر ہمارے یہاں آئیں۔ امی نے مجھے ہدایت کر دی تھی۔ میں نے ابو اور بھائی دونوں کو فون کر دیا۔ وہ فوراً
لے کر آ گئے اور بچّوں کو اسپتال منتقل کر دیا۔
بڑے بیٹے کی جان ڈاکٹروں کی کوشش سے بچ گئی۔ شاید اس نے کم گولیاں کھائی تھیں۔ دونوں چھوٹے بے ہوشی کے عالم میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ جب تک ماں، باپ روتے پیٹتے پہنچے، دو معصوم پھول اس دنیا میں نہ رہے تھے۔ بھابی تو غش کھا کر گر گئیں۔ جب ہوش آیا روتی تھیں، سر پیٹتی تھیں اور کہتی تھیں، ہائے اللہ میں کیوں کہتی تھی کہ اتنے ڈھیر سارے بچّے دے دیئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو میری یہ بات پسند نہ آئی، اس نے میرے لخت جگر واپس بلا لئے۔ اب میں کیسے جیوں گی ان کے بغیر۔
نہ جانے یہ حادثہ تھا کہ قدرت کی طرف سے کوئی سزا تھی لیکن موت نے بھابی کے آنگن میں اتر کر اپنے دامن کیلئے دو خوبصورت پھول منتخب کر لئے تھے۔ آپ کو بچّے پسند نہیں تھے نا، آپ سے سنبھلتے نہ تھے، صاحب سے اسی وجہ سے روز لڑتی تھیں، اب چلے گئے وہ اللہ کے گھر۔ وحیدہ بھی روتے ہوئے اپنی عقل کے مطابق ماتم کر رہی تھی۔ آہ…میری غفلت مگر مجھے کیا خبر تھی کہ الماری میں دوائیں موجود ہیں، دراز تو اوپر تھی۔ وسیم نے اسٹول رکھ کر دراز کو نیچے اتارا تھا۔ کاش بیگم صاحبہ اس الماری کو تالا لگا جاتیں یا دوائیں ساتھ لے جاتیں لیکن اب ان باتوں کا کیا فائدہ… جو چلے گئے تھے وہ واپس نہیں آ سکتے تھے اور بچّوں کی نانی جو بین کرتی لاہور سے پہنچی تھیں، کہہ رہی تھیں… بیٹے ابصار تم کہا کرتے تھے کہ میکہ عورت کا دور ہونا چاہئے، گھر کے برابر میں ہو تو ہر وقت میکے والوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ اب دیکھ لو اور جان لو کہ میکے کا لڑکی کے گھر سے قریب ہونا کتنا اچھا ہوتا ہے۔ میں جو روز اپنا گھر چھوڑ کر تمہارے گھر آ بیٹھتی تھی تو اپنے فائدے کے لئے نہیں تمہارے بچّوں کو سنبھالنے کی خاطر آتی تھی اور تم جانے کیا سمجھتے تھے کہ مجھے اپنے گھر سے زیادہ بیٹی اور داماد کا گھر اچھا لگتا ہے۔ میں سب کی باتیں سن کر چپ تھی، سوچ رہی تھی کہ انسان اگرچہ اشرف المخلوقات ہے، پھر بھی نادان ہے۔ وہ آج کو بھول کر کل کی سوچتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کو بھول جاتا ہے، جبکہ کل کائنات کا سب اختیار اللہ کے پاس ہے۔ (م۔ک… مظفرآباد)