Deewangi | Episode 2

590
’’تیرا جرم تھانے جا کر بتا دیں گے۔‘‘ پولیس والے نے اندر بیٹھے نوجوان سے سگریٹ لے کر کہا۔
خرم کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اسے کیوں پکڑا گیا ہے اور جو نوجوان اس کے ساتھ مطمئن بیٹھے ہیں، وہ کس جرم کی پاداش میں پولیس وین میں موجود ہیں۔
وین علاقے کے پولیس اسٹیشن میں داخل ہوگئی۔ ان کو باری باری اُتارا گیا اور لائن بنا کر اندر لے گئے۔ اندر پولیس والے نے ان کی تلاشی لی۔ اسے جس کی جیب سے جو مل رہا تھا، وہ نکال کر ایک طرف رکھتا جا رہا تھا۔ خرم کی بھی تلاشی لی گئی۔ اس نے پھر کہا۔ ’’میرا قصور کیا ہے جناب! میں تو وہاں بیٹھا تھا۔‘‘
’’تڑاخ…‘‘ کی آواز آئی اور پولیس والے کا زوردار تھپڑ خرم کے منہ پر پڑا۔ خرم کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔
’’اب کوئی اور سوال پوچھنا ہے؟‘‘ پولیس والے نے غصے سے پوچھا۔
خرم خاموشی سے اسے گھورتا رہا۔ ایک پولیس والا اسے کھینچ کر لاک اَپ کی طرف لے گیا اور اندر دھکا دے دیا۔ اس کے ساتھ لائے ہوئے سب لڑکوں کو حوالات میں بند کردیا تھا۔ خرم ایک طرف کھڑا ہوگیا۔ پولیس والے کا تھپڑ ایسا تھا کہ جیسے اس کے گال پر انگارہ رکھ دیا گیا ہو۔ خرم نے اپنی شدید تذلیل محسوس کی تھی۔ وہ اپنے گال پر ہاتھ رکھے ایک طرف کھڑا تھا۔
’’پولیس والوں سے سوال نہیں کیا کرتے۔‘‘ ایک نوجوان نے اس کے پاس آکر آہستہ سے کہا۔
’’مجھے کیوں انہوں نے پکڑا ہے، میں نے کیا کیا ہے؟‘‘ خرم بولا۔ ’’میں نے تو کوئی جرم نہیں کیا۔‘‘
’’پولیس والوں کے جو ہتھے چڑھ جائے، وہ ان کی نظر میں مجرم ہوتا ہے۔ ویسے تم تو ہمارے ساتھ نہیں تھے، تمہیں کیوں انہوں نے پکڑ لیا؟‘‘ اس نوجوان کو حیرت تھی۔
’’میں تو وہاں بیٹھا ہوا تھا۔‘‘ خرم بولا۔ ’’یہ بتائو تم لوگوں کو کس جرم میں پکڑا ہے انہوں نے؟‘‘
نوجوان نے بتایا۔ ’’ہم جوا کھیل رہے تھے، پولیس کا چھاپہ پڑ گیا۔ ہم بھاگے لیکن انہوں نے ہمیں پکڑ لیا۔ تم ہمارے ساتھ نہیں تھے لیکن پولیس نے تمہیں بھی دھر لیا۔ ہماری پولیس اندھی ہے۔ اب کوئی سوال نہ کرنا، چپ چاپ ایک طرف بیٹھ جائو۔‘‘
خرم پریشان ہوگیا۔ وہ ناکردہ گناہ کے سبب پھنس گیا تھا۔ اس کا سر جھکا ہوا تھا اور پریشانی کی وجہ سے چہرہ اترا ہوا تھا۔ اچانک کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اس نے گھبرا کر سر اٹھایا اور گردن گھما کر اپنے عقب میں دیکھا تو اسے ایک آدمی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے نظر آیا۔ اس کی شیو بڑھی ہوئی تھی اور مونچھیں اتنی بڑی تھیں کہ اس کے ہونٹ دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ اس کی سرخ آنکھوں میں عجیب سی وحشت تھی۔
’’واقعی تم ان لوگوں کے ساتھ نہیں تھے؟‘‘ اس آدمی نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
’’آپ ان سے پوچھ لیں، میں ان کے ساتھ نہیں تھا۔ میں ایک طرف بیٹھا ہوا تھا۔‘‘ خرم نے بتایا۔
’’یہاں ایسا ہی ہوتا ہے، بے گناہ پکڑے جاتے ہیں اور گناہ گار آزاد پھرتے ہیں۔‘‘ وہ ہنس کر بولا۔
’’آپ کون ہیں؟‘‘
’’میرا نام شیرو ہے۔ اسی شہر میں رہتا ہوں۔ سائیں کا ڈیرہ ایک مشہور جگہ ہے، وہ میرا ہی ڈیرہ ہے۔‘‘ اس نے بتایا۔ خرم کے ذہن میں فوراً وہ جگہ آگئی۔ وہ اس کے محلے سے آگے دوسرے محلے میں تھی اور کافی معروف تھی۔ شیرو نے پھر کہا۔ ’’تم فکر مت کرو، اس جرم کی جلدی ضمانت ہوجاتی ہے۔‘‘
’’میری ضمانت کرانے کوئی نہیں آئے گا۔ پھر میں بے قصور پکڑا گیا ہوں۔ ساری زندگی اپنے گھر والوں کے سامنے نظر نہیں اٹھا سکوں گا۔‘‘ خرم نے افسردہ چہرے کے ساتھ کہا۔
شیرو بولا۔ ’’تم فکر نہیں کرو، میں کچھ کرتا ہوں۔ تمہارا نام کیا ہے؟‘‘
’’میرا نام خرم ہے۔‘‘ اس نے بتایا۔
’’میں بات کرتا ہوں۔‘‘ شیرو اپنی جگہ سے اٹھا اور سلاخوں کے ساتھ لگ کر کھڑا ہوگیا۔ اس نے ایک سپاہی کو اشارے سے اپنے پاس بلایا اور اس سے آہستہ سے کچھ کہا۔ وہ اس کی بات سن کر وہاں سے چلا گیا۔ شیرو واپس آکر اسی جگہ بیٹھ گیا جہاں پہلے بیٹھا تھا۔
خرم کا دل کانپ رہا تھا۔ آگے کیا ہوگا؟ ان اندیشوں نے اسے اپنے حصار میں لیا ہوا تھا۔ شیرو پھر اپنی جگہ سے اٹھا۔ جب وہ پولیس والا سلاخوں کے پاس آیا، دونوں نے پھر کچھ باتیں کیں۔ پولیس والے کے جانے کے بعد شیرو، خرم کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔
پانچ منٹ کے بعد ایک دوسرا سپاہی آیا۔ اس نے حوالات کا تالا کھولا اور بلند آواز سے بولا۔ ’’خرم کون ہے؟‘‘
خرم اپنا نام سن کر گھبرا گیا۔ اس نے شیرو کی طرف دیکھا اور شیرو نے اسے اشارہ کیا کہ وہ اٹھ کر پولیس والے کے پاس چلا جائے۔ خرم پولیس والے کے پاس گیا تو شیرو اس کے پاس آکر آہستہ سے بولا۔ ’’دو چار دن میں، میں بھی باہر آجائوں گا۔ میرے ڈیرے پر آنا۔‘‘
خرم خاموشی سے اس پولیس والے کے ساتھ چلا گیا۔ وہ اسے ایک کمرے میں لے گیا اور وہاں کرسی پر بٹھا دیا۔ پولیس والا بولا۔ ’’شیرو بندا کچھ الگ قسم کا ہے۔ یاروں کا یار ہے اور دشمنوں کا دشمن… ہم بھی جانتے ہیں کہ تم بے قصور پکڑے گئے ہو۔ اب لے آئے تھے تو چھوڑ نہیں سکتے تھے لیکن شیرو کی بات ماننا بھی ضروری ہے… اب تم گیٹ کی طرف جائو اور جلدی سے تھانے سے باہر نکل کر اپنے گھر کا رخ کرو۔‘‘
خرم کی سانس میں سانس آئی۔ وہ اسی وقت اٹھا اور تھانے سے باہر نکل کر اپنے گھر کی طرف یوں چلا جیسے کمان سے تیر نکلتا ہے۔
اس وقت تھانے میں مہتاب کا سیکرٹری دلبر کسی کام سے آیا تھا۔ اس نے خرم کو تھانے سے باہر جاتے دیکھا تو سپاہی سے پوچھا۔ اس نے بتایا تھا کہ یہ جوا کھیلنے والوں کے ساتھ پکڑا گیا تھا۔ اب اسے کسی کے کہنے پر چھوڑا گیا ہے۔
دلبر نے پکڑے جانے والے لڑکوں سے خرم کے بارے میں دریافت کیا تو سب نے یہی کہا کہ وہ اسے نہیں جانتے، بے چارہ مفت میں پولیس کے ہتھے چڑھ گیا تھا۔ دلبر کو یہ تسلی ہوگئی کہ خرم بے گناہ تھا۔
٭…٭…٭
فجر کی اذان ہورہی تھی۔
ماسٹر رشید نماز کے لیے گھر سے باہر نکلے تو چونک گئے۔ خرم دروازے کے ساتھ لگ کر کھڑا تھا۔ خرم ان کی طرف دیکھ کر ڈر گیا۔ ماسٹر رشید نے کچھ نہیں کہا اور نماز پڑھنے کے لیے چلے گئے۔ خرم اندر چلا گیا۔
زبیدہ نماز پڑھنے کی تیاری کررہی تھی کہ اچانک اس کی نظر خرم پر پڑی۔ وہ دوڑتی ہوئی اس کے پاس آئی اور سرگوشی کے انداز میں بولی۔ ’’تم کہاں چلے گئے تھے… کہاں رہے رات بھر؟‘‘
’’میں یہیں دروازے پر ہی کھڑا تھا۔‘‘ خرم بولا۔
’’جھوٹ بولتے ہو۔ میں نے خود دیکھا تھا، تم دروازے پر نہیں تھے۔‘‘ زبیدہ نے کہا۔
’’میں دروازے پر ہی تھا۔ کچھ دیر کے لیے بازار تک چلا گیا تھا۔‘‘ خرم نے بتایا۔
’’تم نے دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹایا؟ دروازہ تو تمہارے ابو نے اندر سے بند نہیں کیا تھا۔‘‘ زبیدہ نے انکشاف کیا۔
یہ سن کر خرم چونکا۔ ’’میں نے اس ڈر سے نہیں کھٹکھٹایا کہ آپ کھولنے کی کوشش کریں اور ابو آپ سے الجھ پڑیں۔ میں تو پندرہ منٹ کے اندر اندر واپس آگیا تھا۔ مجھے راستے میں چچا حاکم مل گئے۔ ان کی موٹرسائیکل کا پیٹرول ختم ہوگیا تھا۔ مجھ سے بولے کہ میں موٹرسائیکل ان کے گھر چھوڑ آئوں۔ اب بتائیں میں کیا کرتا، مجھے دیر ہوگئی۔‘‘
’’تم سچ کہہ رہے ہو؟‘‘
’’یقین نہیں آتا تو آپ ابھی ان کے گھر جاکر پوچھ لیں بلکہ کپڑے کا شاپر بھی ان کے گھر ہی رہ گیا تھا۔‘‘ خرم نے کہا۔
زبیدہ نے اس کا جائزہ لیا اور بولی۔ ’’اس میں کوئی چال تو نہیں؟ تم نے حاکم بھائی کو کوئی کہانی سنا کر رضامند کرلیا ہو؟‘‘
’’آپ میرا یقین کریں، میں سچ کہہ رہا ہوں۔‘‘ خرم نے یقین دلانے کی کوشش کی۔
زبیدہ نے اس کا ہاتھ پکڑا جو برف کی طرح ٹھنڈا تھا۔ ’’تم جاکر رضائی میں لیٹ جائو، میں نماز پڑھ کر تمہارے لیے چائے بناتی ہوں۔‘‘
’’امی! ابو کو بتا دیں۔ میں نے جو کہا ہے، وہ سچ کہا ہے۔‘‘
’’تم جائو، میں ان سے بات کرلوں گی۔‘‘ زبیدہ نے کہا اور خرم اپنے کمرے میں جاکر رضائی میں گھس گیا۔
فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد ماسٹر رشید اکیلے گھر نہیں آئے بلکہ ان کے ساتھ حاکم علی بھی تھے۔ جب ان کی بیوی کی کال آئی تھی اور وہ اس کے ساتھ باتوں میں مشغول ہوگئے تھے تو بعد میں ہادیہ نے انہیں بتایا تھا کہ خرم یہاں سے پریشان حال گیا ہے۔ اس وقت کافی وقت ہوگیا تھا، اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ فجر کی نماز کے بعد ماسٹر رشید کو ساری حقیقت بتا دیں گے۔
جب زبیدہ نے دیکھا کہ دونوں ایک ساتھ گھر آئے ہیں تو انہیں ماسٹر رشید کے چہرے سے پتا چل گیا وہ غصے میں نہیں ہیں۔
’’بھابی جی! یہ میری غلطی ہے۔ میں نے خرم کو بلایا تھا۔ اب وہ بچہ انکار تو نہیں کرسکتا تھا۔ میں نے ہی اسے زبردستی چائے پر بٹھا لیا تھا۔‘‘
’’وہ تو سب ٹھیک ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کام کے ساتھ سنجیدہ کیوں نہیں ہوتا؟ ہر وقت اداکاری کا بھوت سوار رہتا ہے اس پر۔‘‘ ماسٹر رشید اور حاکم علی برآمدے میں ہی بیٹھ گئے تھے۔
’’اداکاری بھی اچھا کام ہے۔ بہت پیسہ کماتے ہیں اداکار لوگ۔‘‘ حاکم علی بولے۔
’’وہ کماتے ہیں پیسہ… اور یہ ابھی کچھ نہیں کررہا۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اس کا کیا کروں۔‘‘ ماسٹر رشید نے کہا۔
’’تم ایسا کرو کہ اس پر ذمہ داری ڈال دو۔‘‘ حاکم علی نے مشورہ دیا۔
’’وہ کوئی ذمہ داری لے تو… میں جو کام بتا کر جاتا ہوں، وہ ہوتا ہی نہیں۔‘‘ ماسٹر رشید بولے۔
’’اس کی کہیں منگنی کردو۔ اسے احساس ہوگا کہ اب جلد میری شادی ہوگی۔ مجھے اس کے بھی اخراجات اٹھانے ہوں گے۔ پھر یہ کام میں سنجیدہ ہوجائے گا۔‘‘ حاکم علی نے کھل کر بات کی۔
’’ایسا کرنے سے وہ سدھر جائے گا؟‘‘
’’میری مثال تمہارے سامنے ہے۔ میں تو اس سے بھی گیا گزرا تھا۔ ابا نے ادھر منگنی کی اور ادھر یہ احساس دل میں بیٹھ گیا کہ اب کچھ کیے بغیر چارہ نہیں ہے۔ پھر دیکھ لو میں نے کام شروع کردیا۔‘‘ حاکم علی بولے۔
’’بات تو تمہاری ٹھیک ہے لیکن اب لڑکی کہاں تلاش کروں؟‘‘ ماسٹر رشید سوچنے لگے۔
’’لڑکیاں دنیا سے ختم ہوگئی ہیں کیا؟ رشتے کرانے والوں سے بولو، پھر دیکھو وہ کیسے لائن لگاتے ہیں لڑکیوں کی۔‘‘ حاکم علی بلاتامل بولے۔
ماسٹر رشید سوچنے لگے۔ حاکم علی کا مشورہ ان کو پسند آیا تھا۔ اس پر وہ عمل کرنا چاہتے تھے۔ اچانک انہوں نے حاکم علی کی طرف دیکھا اور بولے۔ ’’بیٹی تو تمہاری بھی
ہے۔‘‘
’’ہاں ہے۔‘‘ حاکم علی نے کہا۔
’’پھر کیوں نہ ہم آپس میں رشتے داری کرلیں؟‘‘ ماسٹر رشید مسکرا کر بولے۔
حاکم علی سوچ میں پڑ گئے۔ زبیدہ بھی ان کے پاس آکر کھڑی ہوگئی تھی۔
’’اب کیا سوچ رہے ہو؟‘‘
’’سوچنا کیا ہے۔ بات تو ٹھیک ہے۔ اگر خرم اداکاری نہیں کرے گا تو وہ تمہاری دکان تو سنبھال سکتا ہے۔ تم نے کون سا قیامت تک بیٹھے رہنا ہے۔‘‘ حاکم علی بولے۔
’’مجھے تم سے اسی بات کی امید تھی۔ مجھے تم اوپر بھیج کے ہی خوش ہونا۔‘‘ ماسٹر رشید نے مسکراتے ہوئے شکوہ کیا۔
’’تم نے اکیلے اوپر جانا ہے کیا؟ سبھی نے جانا ہے۔‘‘ حاکم علی بولا۔ ’’اچھا! اب سنجیدہ بات کرلیتے ہیں۔ مجھے اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ دلی خوشی ہے لیکن اس کی باقاعدہ ہاں ہادیہ کی ماں کے آنے پر ہوگی۔‘‘
’’ظاہر ہے تم نے آج تک بھابی کے مشورے کے بغیر کوئی کام جو نہیں کیا۔‘‘ ماسٹر رشید نے چھیڑا۔
’’یہ جتنی برکت تجھے دکھائی دے رہی ہے، یہ اسی کے دم سے ہے۔‘‘ حاکم علی اپنی بیوی کو بہت زیادہ اہمیت دیتا تھا، اس لیے اس نے اس کی حمایت کی۔
’’اب مجھے کب جواب دو گے؟‘‘ ماسٹر رشید نے پوچھا۔
حاکم علی نے ایک لمحے سوچا، پھر بولا۔ ’’آج دوپہر کے بعد تمہاری بھابی آرہی ہے پھر میں بات کرکے بتائوں گا۔ اب میں چلتا ہوں، کل ملاقات ہوگی۔‘‘ حاکم علی کہہ کر اٹھا، پھر واپس پلٹ کر بولا۔ ’’ویسے کیسا کمال ہے۔ میں تم سے بات کچھ کرنے آیا تھا اور بات ہو کچھ اور گئی۔‘‘ پھر وہ مسکراتا ہوا باہر نکل گیا۔
حاکم علی کے جاتے ہی زبیدہ مسکراتی ہوئی ماسٹر رشید کے پاس جاکر بیٹھ گئی۔ ’’آپ نے بہت اچھی بات کی۔ ہادیہ کا رشتہ خرم سے ہوجائے تو اس گھر میں جیسے چاند اتر آئے گا۔‘‘
’’اصل بات یہ ہے کہ خرم کو ہدایت مل جائے اور ہادیہ کا نصیب اچھا ہوجائے۔‘‘ ماسٹر رشید بولے اور پھر اپنے کمرے کی طرف چلے گئے۔
٭…٭…٭
جب اس بات کا علم خرم کو ہوا تو وہ دم بخود رہ گیا۔ اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک رات میں اتنا کچھ ہوجائے گا۔ وہ حوالات کی ہوا بھی کھا لے گا، وہاں شیرو جیسے بدمعاش سے ملاقات ہوجائے گی اور ہادیہ کے رشتے کی بات بھی چل جائے گی۔ خرم نے سوچا کہ اللہ جو چاہے کرسکتا ہے، اس کے لیے کوئی مشکل نہیں۔
دوپہر کے بعد حاکم علی اپنی بیوی کے ساتھ گھر آگئے۔ ماسٹر رشید کو بھی بلا لیا۔ دونوں گھرانوں نے منہ میٹھا کیا اور یوں خرم اور ہادیہ کا رشتہ طے ہوگیا۔ سبھی خوش تھے لیکن خرم کی خوشی سب سے الگ تھی۔ وہ پھولے نہیں سما رہا تھا۔
مہمانوں کے جانے کے بعد ماسٹر رشید نے خرم کو اپنے پاس بٹھایا اور سمجھانے لگے۔ ’’دیکھو بیٹا! تم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی کوشش کرو اور سنجیدگی سے کام کی طرف توجہ دو۔‘‘
’’اب میں اداکار بننے کے لیے پہلے سے زیادہ کوشش کروں گا۔‘‘ خرم نے جواب دیا تو ماسٹر رشید اس کا چہرہ دیکھتے رہ گئے۔ ان کی دانست میں تھا کہ خرم انہیں یہ جواب دے گا کہ وہ فوراً آپ کے ساتھ دکان پر چلتا ہے اور اس کام کو محنت اور لگن سے شروع کرے گا۔
’’میری دکان کون سنبھالے گا؟‘‘ ماسٹر رشید نے اپنے غصے پر قابو رکھتے ہوئے پوچھا۔
’’آپ کام کررہے ہیں ابو۔‘‘
’’تو کیا میں ساری زندگی کام کرتا رہوں گا؟‘‘ ماسٹر رشید نے دریافت کیا۔
’’میں بڑا اداکار بن کر آپ کو کام نہیں کرنے دوں گا۔‘‘ خرم بولا۔
’’تم اداکاری کا بھوت سر سے اتار کیوں نہیں دیتے؟‘‘ ماسٹر رشید نے کہا۔
زبیدہ تیزی سے ان کی طرف بڑھیں اور ماسٹر رشید سے مخاطب ہوئیں۔ ’’آپ نے دکان پر نہیں جانا؟‘‘
’’دکان پر جانا ہے اور اسے سمجھانا بھی ضروری ہے۔‘‘ ماسٹر رشید نے اپنے سر پر رکھی سفید ٹوپی اتار کر بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔
’’ابھی آپ دکان پر جائیں، میں اسے سمجھاتی ہوں۔‘‘ زبیدہ نے مسئلہ حل کیا۔
ماسٹر رشید بڑبڑاتے ہوئے اٹھے اور باہر چلے گئے۔ خرم کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس سے ایسی کیا غلطی ہوگئی ہے۔
٭…٭…٭
دونوں گھروں میں منگنی کے بارے میں گفتگو چل رہی تھی۔ خرم کی بھابی نے کہا کہ منگنی کی تقریب ایک ساتھ کرلیتے ہیں۔ لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنا دیں گے۔ اس کا اتنا کہنا تھا کہ حاکم علی اس بات پر جم گئے۔ چنانچہ طے پا گیا کہ دونوں کی میرج ہال میں منگنی ہوگی اور دونوں ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنا کر خاندان کی پرانی روایت ختم کردیں گے۔
خرم کی منگنی پر دعوت دینے کے لیے ماسٹر رشید اور زبیدہ ’’قادر ہائوس‘‘ گئے۔ شمشاد نے ان کی مہمانداری کی۔ ماسٹر رشید نے شمشاد کو جب منگنی کی دعوت دی تو اس نے کہا۔ ’’میں آج رات شہر سے باہر چلا جائوں گا۔ مہتاب کو میں پابند کردوں گا کہ وہ لازمی خرم کی منگنی میں شرکت کے لیے جائے۔‘‘
ماسٹر رشید اور زبیدہ خوش ہوکر واپس آگئے۔ ان کے گھر میں ڈھولک بجنے لگی اور منگنی کی خوشیاں قوس قزح بن کر اتر رہی تھیں۔ خرم کی خوشی دیدنی تھی۔ وہ اپنی قسمت پر رشک کررہا تھا اور حیران بھی ہورہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ ایک دن اسی طرح اچانک اداکار بھی بن جائے گا۔
وہ شام بھی آگئی جب خرم اور ہادیہ کی ایک شادی ہال میں منگنی کی تقریب سج گئی۔ مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ خرم اسٹیج پر پہنچا تو کچھ ہی دیر میں ہادیہ بھی بنی سنوری اسٹیج پر آگئی۔ میک اَپ اور خوبصورت لباس میں ہادیہ کا حسن مزید نکھر گیا تھا۔ جو بھی اسے ایک نظر دیکھتا، وہ یہ ضرور کہتا کہ یہ اسی دنیا کی کوئی لڑکی ہے یا آسمان سے اُتری کوئی حور ہے؟
ماسٹر رشید بے چینی سے مہتاب کا انتظار کررہا تھا کہ اس کی موجودگی میں منگنی کی رسم ادا ہو۔ کچھ انتظار کے بعد مہتاب اپنے پورے وقار کے ساتھ ہال میں داخل ہوا تو سب کی نگاہیں اس پر اٹھ گئیں۔ اس کی شخصیت میں ایک سحر تھا۔ وہاں ایک ہلچل سی برپا ہوگئی۔ ہادیہ نے بھی ایک نظر اٹھا کر مہتاب کی طرف دیکھا۔ اس نے مہتاب کے بارے میں سن رکھا تھا کہ وہ بہت خوبصورت ہے۔ آج پہلی بار اسے اپنے سامنے دیکھ کر سوچ رہی تھی کہ لوگ ٹھیک کہتے تھے۔ وہ واقعی سحر انگیز شخصیت کا مالک ہے۔
مہتاب سب سے خوش دلی سے مل رہا تھا۔ سیاست دانوں کی یہی خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ سبھی سے مسکرا کر ملتے ہیں۔ ان کے دل میں جو ہوتا ہے، وہ ظاہر نہیں کرتے۔
جب منگنی کی رسم ادا ہونے لگی تو ماسٹر رشید نے مہتاب کو عزت دیتے ہوئے اسٹیج پر خرم کے ساتھ بٹھا دیا۔ پہلی بار مہتاب کی نظر ہادیہ پر پڑی۔ وہ دنگ رہ گیا۔ وہ دنیا گھوما تھا لیکن ہادیہ جیسی حسین لڑکی کو وہ پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ ہادیہ کے حسن میں کچھ ایسا تھا کہ جسے دیکھتے ہوئے کوئی پتھر کا بن جائے اور پھر کچھ اور دیکھنے کے قابل نہ رہے۔
مہتاب اس تقریب میں کچھ دیر کے لیے آیا تھا لیکن وہ آخر تک وہاں موجود رہا اور جب منگنی کی تقریب ختم ہوگئی تو ماسٹر رشید نے مہتاب کی آمد کا شکریہ ادا کیا۔ سب مہمان باری باری جانے لگے۔
مہتاب اپنی قیمتی گاڑی میں بیٹھ کر اپنے موبائل کے ساتھ کھیلتا رہا۔ اس نے اپنے سیکرٹری دلبر کو اشارہ کیا کہ وہ خرم اور ہادیہ کی تصویریں بنائے۔ دلبر نے ایک درجن سے زیادہ ان کی تصویریں بنا دی تھیں اور اب مہتاب ان تصویروں کو دیکھ رہا تھا۔
مہتاب کی گاڑی قادر ہائوس کی طرف چل پڑی تھی۔ سارے راستے مہتاب ہر فریم سے خرم کی تصویر غائب کرتا رہا اور ہادیہ کے ساتھ اپنی تصویر سیو کرتا جارہا تھا۔ قادر ہائوس پہنچنے تک مہتاب نے خرم کی ساری تصویریں غائب کردی تھیں۔
مہتاب اپنے مخصوص کمرے میں پہنچا تو دلبر اس کے ساتھ ہی تھا۔ مہتاب ایک طرف بیٹھ کر ہادیہ کے خیالوں میں کھویا ہوا بولا۔ ’’بہت حسن دیکھا لیکن اس لڑکی جیسا حسن کہیں نہیں دیکھا۔ حاکم علی کے گھر میں چاند اترا ہوا تھا، تم نے کبھی بتایا ہی نہیں؟‘‘
’’میں نے خود اسے کبھی نہیں دیکھا۔‘‘ دلبر نے کہا۔
’’کیا نام ہے اس لڑکی کا؟‘‘ مہتاب نے پوچھا۔
’’اس کا نام ہادیہ ہے۔‘‘ دلبر نے بتایا۔
’’اب یہ ہادیہ جان لے کر رہے گی۔‘‘ مہتاب ایک آہ بھر کر بولا۔
’’کس کی جان لے کر رہے گی؟‘‘ دلبر نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
’’کوئی تو مرے گا۔‘‘ مہتاب نے کہا۔ ’’ویسے وہ خرم سے زیادہ میرے ساتھ اچھی لگتی ہے۔‘‘
دلبر اس کے قریب ہوکر بولا۔ ’’آپ حکم کریں۔ جیسا کہیں گے، ویسا ہوجائے گا۔‘‘
مہتاب اپنی جگہ سے اٹھا۔ اس نے ایک بار پھر موبائل فون کھولا، ہادیہ کی تصویروں کو دیکھا اور کہا۔ ’’کاش! اس پر پہلے نظر پڑ جاتی۔ میں ہادیہ کو اسی طرح اپنے گھر میں لے آتا جیسے پھول اپنے کوٹ کے کالر پر سجا لیا جاتا ہے۔‘‘
’’اب بھی کیا بگڑا ہے۔ اس کی منگنی ہوئی ہے۔ منگنی کا کیا ہے، جب چاہیں ختم ہوسکتی ہے۔‘‘
مہتاب سوچنے لگا۔ ’’خرم کو اداکاری کا بہت شوق ہے۔ وہ کراچی جانا چاہتا ہے، اسے کراچی نہ بھیج دیں؟‘‘
’’وہ یہاں بھی رہے تو ہمارا کیا بگاڑ لے گا۔‘‘
’’شکار ہمیشہ پوری ہوشیاری سے کرنا چاہیے۔ غافل ہوکر گولی چلانا بے وقوفی ہوتی ہے۔ چاہے شکاری کتنا ہی ماہر کیوں نہ ہو اور پھر میں نے کون سا ہادیہ سے شادی کرنی ہے۔‘‘
’’اسے بھیج کر کیا کریں گے؟‘‘
’’خرم کو کراچی بھیج کر شطرنج کی بساط بچھائیں گے اور پھر اپنی مرضی سے مہروں کو جس خانے میں چاہیں گے، رکھ دیں گے۔ تم خرم کو کراچی بھیجنے کا انتظام کرو اور وہاں کس کے پاس بھیجنا ہے، وہ میں بتاتا ہوں۔‘‘ مہتاب اپنا موبائل فون اٹھا کر نمبر تلاش کرنے لگا۔ نمبر ملانے کے بعد اس نے فون کان سے لگا لیا۔ دوسری طرف سے جیسے ہی آواز آئی، دونوں میں رسمی باتیں ہونے لگیں۔ پھر مہتاب نے کہا۔ ’’ایک لڑکا تیرے پاس بھیج رہا ہوں، اسے تب تک کراچی میں رکھنا ہے جب تک میں واپس آنے کا نہ کہوں۔‘‘
’’آپ بے فکر ہوجائیں۔‘‘ دوسری طرف سے آواز آئی۔
٭…٭…٭
خرم کے دل میں خیال آیا کہ وہ شیرو سے ملنے اس کے ڈیرے پر جائے۔ اس نے اس کی مدد کی تھی، اس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے اور اپنی منگنی کی مٹھائی بھی دینی چاہیے تاکہ اس سے تعلق مضبوط ہوجائے۔ کب کس کی ضرورت پڑ جائے۔ پھر اسے خیال آیا کہ ایک ہفتہ سے زیادہ ہوگیا کہ وہ مظہر کے اس گھر میں بھی نہیں گیا جو نئی کالونی میں تھا اور خالی تھا۔ چنانچہ اس نے مظہر کے پرانے گھر سے اس کی کار لی اور نئی


والے مکان میں پہنچ گیا۔ وہاں کچھ وقت گزارنے کے بعد وہ شیرو کی طرف چلا گیا۔ راستے سے اس نے مٹھائی کا ڈبہ بھی لے لیا تھا۔
جب وہ اس کے ڈیرے پر پہنچا تو شیرو نے اسے پہچاننے میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کی۔ وہ پرتپاک انداز میں ملا اور اس کی خوب آئوبھگت کی۔ ڈھیروں باتیں ہوئیں۔ خرم نے اسے مٹھائی کا ڈبہ پیش کیا، اپنی منگنی کی خوشخبری سنائی اور اس رات مدد کرنے کا شکریہ ادا کیا۔
شیرو بولا۔ ’’تمہیں میں نے اپنا بھائی کہا ہے، اس ڈیرے کے دروازے تم پر کھلے ہیں۔‘‘
’’بہت شکریہ شیرو بھائی۔ اب مجھے اجازت دیں۔ پھر ملاقات ہوگی۔‘‘ خرم نے ممنون نظروں سے دیکھ کر کہا۔
شیرو اسے ڈیرے کے دروازے تک چھوڑنے آیا اور خرم گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا۔
٭…٭…٭
خرم جونہی اپنی گلی میں داخل ہونے لگا تو ایک طرف سے دلبر نکل کر اس کے پاس آگیا اور باتیں کرتا ہوا اسے ایک طرف لے گیا۔ دونوں آہستہ آہستہ چلتے بازار کی طرف نکل گئے۔ دلبر نے کہا۔ ’’تم نے مہتاب صاحب سے کہا تھا کہ تم کراچی جانا چاہتے ہو؟‘‘
’’ہاں، ان سے بات ہوئی تھی۔ ان کا ایک دوست بہت بڑا ڈائریکٹر ہے۔‘‘ خرم نے جلدی سے کہا۔
’’کب جانا چاہتے ہو کراچی؟‘‘
’’وہ ان سے بات کریں، میں فوراً چلا جائوں گا۔‘‘ خرم بولا۔
دلبر نے اپنی جیب سے ایک لفافہ نکالا اور اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ ’’اس میں آج شام کی ٹرین کا ٹکٹ ہے۔ گھر جائو، سامان پیک کرو اور کراچی جانے کی تیاری کرو۔‘‘
یہ سن کر خرم کی آنکھوں کی چمک دوچند ہوگئی۔ وہ خوش ہوکر بولا۔ ’’کیا واقعی انہوں نے بات کرلی ہے؟‘‘
’’انہوں نے بات بھی کرلی ہے اور بھیجنے کے لیے ٹکٹ بھی خرید دیا ہے اور اس لفافے میں پیسے بھی ہیں جو وہاں تمہارے کام آئیں گے۔‘‘ دلبر نے بتایا۔
’’مہتاب بھائی نے میرے لیے اتنا کچھ کردیا۔‘‘ خرم کو یقین نہیں آرہا تھا۔
’’سارا محلہ جانتا ہے کہ تم لوگوں کے اس خاندان کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ اب کراچی جانا چاہتے ہو یا ابھی سوچو گے؟‘‘
’’سوچنا کس بات کا۔ میں آج ہی کراچی چلا جائوں گا۔‘‘ خرم نے اس کے ہاتھ سے لفافہ لے لیا۔ اسے کھول کر اندر جھانکا تو پانچ پانچ ہزار کے کچھ نوٹوں کے علاوہ فرسٹ کلاس کا ایک ٹکٹ بھی تھا۔
’’ایک بات اور یاد رکھنا۔ اس بات کا ذکر نہ کرنا کہ تمہیں کراچی کون بھیج رہا ہے۔ دیکھو اداکاری تمہارا جنون ہے۔ مہتاب بھائی کے جو اختیار میں تھا، انہوں نے تمہارے لیے کردیا ہے۔ تمہارے ابو کیونکہ تمہاری اداکاری کے شوق پر خوش نہیں ہیں، اس لیے مہتاب بھائی نہیں چاہتے کہ ان پر کوئی حرف آئے۔ انہوں نے جو کچھ کیا ہے، وہ تمہارے شوق کو دیکھتے ہوئے کیا ہے۔‘‘ دلبر نے اسے سمجھایا۔
’’میں ان کا نام نہیں لوں گا۔ میں گھر والوں کو بتائوں گا کہ میں نے کراچی کے ایک پروڈکشن ہائوس کو اپنی تصویریں بھیجی تھیں، انہوں نے مجھے بلایا ہے۔‘‘ خرم نے جلدی سے بہانہ تراش لیا۔
’’بہت خوب۔ بس یہی کہنا۔‘‘ دلبر خوش ہوکر بولا۔ ’’دیکھو ہم نے اپنا کام کردیا۔ اب تم جانو اور تمہارا کام جانے… ایک بات اور یاد رکھنا، چانس باربار نہیں ملتے اور اس چانس کو گنوانے کی کوشش نہ کرنا۔‘‘
’’میں آج ہی اس ٹرین سے چلا جائوں گا۔‘‘ خرم مصمم ارادے سے بولا اور یہی دلبر چاہتا تھا کہ وہ گھر والوں کی ضد کے آگے ہتھیار پھینک کر کراچی نہ جانے کا ارادہ نہ کرلے۔
دلبر نے اس کے کندھے پر تھپکی دی اور اپنا راستہ لے لیا۔
٭…٭…٭
ماسٹر رشید ٹکٹکی باندھے خرم کی طرف دیکھے جارہے تھے۔ وہ سوٹ کاٹنا بھول گئے تھے اور خرم کی جانب متوجہ تھے۔ ابھی خرم نے دکان پر جاکر انہیں بتایا تھا کہ وہ آج ہی کراچی جارہا ہے۔
’’کراچی میں تیرا کوئی دور کا رشتے دار بھی نہیں۔ وہاں جاکر رہے گا کہاں؟‘‘ ماسٹر رشید نے دریافت کیا۔
’’مظہر کے انکل کا وہاں ایک خالی فلیٹ ہے۔ میری مظہر سے بات ہوچکی ہے۔‘‘ خرم نے جانے کے جنون میں ایک اور جھوٹ بولا۔
’’کتنے پیسے ہیں تیرے پاس؟‘‘ ماسٹر رشید نے اگلا سوال کیا۔
’’یہی کوئی دس ہزار۔‘‘
’’دس ہزار روپے میں کتنے دن گزارو گے؟ اجنبی شہر میں قدم قدم پر خرچہ ہوتا ہے اور پھر ہمارا وہاں کوئی عزیز رشتے دار بھی نہیں ہے۔‘‘ ماسٹر رشید نے فکرمندی سے کہا۔
’’آپ فکر مت کریں۔ مجھے ضرورت ہوئی تو میں منگوا لوں گا۔ آپ مجھے جانے کی اجازت دے دیں۔‘‘ خرم نے کہا۔
کچھ دیر سوچنے کے بعد ماسٹر رشید متانت سے بولے۔ ’’مجھ سے ایک وعدہ کرو۔‘‘
’’جی حکم کریں؟‘‘
’’میں تمہیں کراچی جانے کی اجازت دے دیتا ہوں۔ تم ایک بار اپنی قسمت آزما لو۔ اگر کامیاب ہوگئے تو ٹھیک ہے اور اگر کامیاب نہ ہوئے تو پھر تم کبھی اداکاری کا نام نہیں لو گے اور سعادت مندی سے میرے ساتھ دکان پر کام کرو گے؟‘‘ ماسٹر رشید نے اتنا کہہ کر سوالیہ نگاہوں سے خرم کی طرف دیکھا۔
خرم نے سوچا کہ وعدہ کرلینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ وہ مہتاب کی سفارش پر ٹیلیویژن کے صف اوّل کے ڈائریکٹر کے پاس جارہا ہے۔ ایک تو سفارش بھاری اور اوپر سے خرم کو اپنی اداکاری پر بھی بھروسا تھا۔ چنانچہ اس نے وعدہ کرلیا۔ ’’مجھے منظور ہے۔‘‘
ماسٹر رشید مسکرائے۔ انہوں نے اپنی دراز سے کچھ پیسے نکال کر اس کی طرف بڑھا دیئے۔ ’’یہ رکھ لو۔‘‘
’’میرے پاس ہیں ابو؟‘‘
’’ایسا کرو اس کا موبائل فون لے لو تاکہ تم ہمارے رابطے میں رہ سکو۔‘‘ ماسٹر رشید نے کہا۔
خرم نے اسی وقت ایک کم قیمت موبائل فون خریدا اور گھر والوں کو اپنا نمبر دے کر کراچی جانے کی تیاری شروع کردی۔ زبیدہ حیران تھی کہ اس کے ابو نے خرم کو جانے کی اجازت کیسے دے دی۔
اسی شام کو خرم سب سے مل کر نئی امیدوں کے ساتھ کراچی جانے والی ٹرین میں سوار ہوگیا۔ جیسے جیسے ٹرین اس کا شہر چھوڑ رہی تھی، ویسے ویسے خرم پُرجوش ہوتا جارہا تھا۔ نئے نئے سپنے اسے گھیرنے لگے تھے اور وہ ان سپنوں کو دیکھتا ہوا کراچی شہر میں داخل ہوگیا۔
٭…٭…٭
خرم کو دلبر نے بتایا تھا کہ اسے کراچی ریلوے اسٹیشن پہنچ کر کہاں رکنا ہے اور پھر اسے وہاں سے ایک آدمی آکر لے جائے گا۔ خرم ریلوے اسٹیشن سے باہر نکلا تو اس نے متلاشی نگاہوں سے دائیں بائیں دیکھا۔ کچھ ہی فاصلے پر اسے وہ جگہ دکھائی دے گئی جس کے بارے میں دلبر نے بتایا تھا۔ خرم وہاں جاکر کھڑا ہوگیا۔ تھوڑی دیر میں ایک نوجوان آگیا اور اس نے آتے ہی شائستہ لہجے میں پوچھا۔ ’’آپ خرم ہیں؟‘‘
’’جی! میرا نام خرم ہے۔‘‘ خرم فوراً اس کی طرف متوجہ ہوا۔
’’آپ کو مہتاب صاحب نے بھیجا ہے؟‘‘
’’جی۔ مجھے انہوں نے ہی بھیجا ہے۔‘‘
’’میرے ساتھ آجائیں۔‘‘ اس نوجوان نے خرم کے ہاتھ سے بیگ لے لیا اور کچھ فاصلے پر کھڑی گاڑی کے پاس لے گیا۔ دونوں گاڑی میں بیٹھ گئے اور گاڑی آگے بڑھ گئی۔
خرم پہلی بار کراچی آیا تھا۔ وہ دائیں بائیں گردن گھما کر اونچی عمارتیں دیکھ رہا تھا۔
’’آپ پہلی بار کراچی آئے ہیں؟‘‘ نوجوان نے پوچھا۔
’’جی۔ میں پہلی بار کراچی آیا ہوں۔‘‘ خرم نے بتایا۔
’’مجھے یقین ہے اب آپ کراچی کے ہی ہوکے رہ جائیں گے۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ خرم نے پوچھا۔
’’جن کے پاس مہتاب صاحب نے آپ کو بھیجا ہے، وہ ان کی کوئی بات نہیں ٹالتے۔ آپ کو وہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیں گے اور آپ بہت جلد سپر اسٹار بن جائیں گے۔‘‘ نوجوان مسکرا کر بولا۔ خرم اس کی بات سن کر خوش ہوگیا اور ایک بار پھر اپنے خوابوں میں کھو گیا۔
کراچی کی مختلف سڑکوں پر ان کی کار دوڑتی رہی اور پھر ایک بنگلے کے سامنے رک گئی۔ وہ پوش علاقہ تھا۔ چوڑی گلی کے دائیں بائیں بڑے بڑے بنگلے تھے۔ دور تک خاموشی اور ویرانی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے ان بنگلوں میں کوئی نہیں رہتا۔
نوجوان نے ہارن دیا تو گیٹ کھل گیا۔ کار اندر چلی گئی۔ وہ نوجوان، خرم کو لے کر خوبصورت لائونج سے ایک کشادہ بیڈ روم میں لے گیا۔
’’آپ فریش ہوجائیں، میں کھانا لگواتا ہوں۔‘‘ نوجوان یہ کہہ کر باہر چلا گیا۔
خرم نے کمرے کا جائزہ لیا۔ وہاں ایک ڈبل بیڈ، ڈریسنگ ٹیبل کے علاوہ دو کرسیاں اور ایک چھوٹی میز تھی۔ خرم کمرے سے ملحق باتھ روم میں چلا گیا۔
اچھی طرح نہا کر باہر نکلا تو میز پر پُرتکلف کھانا لگ چکا تھا۔ وہ نوجوان ایک کرسی پر براجمان تھا۔ مسکرا کر بولا۔ ’’آجائیں، کھانا کھا لیں۔‘‘
خرم نے دوسری کرسی سنبھال لی اور وہ دونوں کھانا کھانے لگے۔ خرم کو بھوک بھی لگی ہوئی تھی اور کھانا بھی مزیدار تھا، اس لیے اس نے تکلف سے کام نہیں لیا۔
کھانے سے فارغ ہوکر وہ نوجوان اسے اوپر ایک کمرے میں لے گیا۔ خرم کا سامان ایک ملازم وہاں چھوڑ گیا تھا۔ اس کشادہ کمرے کا فرش شیشے کی طرح چمک رہا تھا۔ ایک طرف زمین پر ہی گدا بچھا کر بستر لگا دیا گیا تھا۔ کمرے میں ایک فریج تھا اور دیوار کے ساتھ نصب ٹی وی اسکرین۔
’’آپ لمبے سفر سے آئے ہیں، اس لیے آرام کریں۔ شام کو ملاقات ہوگی۔‘‘ نوجوان نے کہا۔
’’ہم پروڈکشن ہائوس نہیں جائیں گے؟‘‘
’’بالکل جائیں گے۔‘‘
’’آرام کیا کرنا، ابھی چلتے ہیں۔‘‘ خرم بولا۔
’’جب رات ہوتی ہے اور لوگ سو جاتے ہیں تو یہ لوگ جاگ رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے ہم شام کے بعد چلیں گے تب تک آپ آرام کریں، مزے سے سو جائیں۔‘‘ نوجوان نے کہا۔ اسی اثنا میں ملازم ایک چھوٹی ٹرے میں جوس کا گلاس لے کر آگیا۔ اس نے ٹرے خرم کے سامنے بڑھا دی۔
’’فریش جوس ہے، پی لیں۔‘‘ نوجوان بولا۔
’’اس کی ضرورت نہیں، ابھی تو کھانا کھایا ہے۔‘‘
’’ہمیں حکم ہے آپ کی خدمت میں کوئی کسر نہیں رہنی چاہیے، اس لیے جوس پی لیں۔‘‘ نوجوان نے کہا۔ خرم نے گلاس اٹھا لیا۔ ملازم اور نوجوان باہر چلے گئے۔
خرم نے جوس کے چھوٹے چھوٹے گھونٹ لینے شروع کردیئے۔ اسی وقت اس کا موبائل فون بجا۔ گھر سے کال تھی۔ خرم نے فون کان سے لگایا تو دوسری طرف سے ماسٹر رشید کی آواز آئی۔ ’’بیٹا! تم پہنچ گئے کراچی؟‘‘
’’جی ابو! میں خیریت سے پہنچ گیا ہوں۔ مجھے سفر کے دوران کوئی دقت پیش نہیں آئی۔‘‘ خرم نے بتایا۔
’’بیٹا! اپنا خیال رکھنا۔‘‘ ماسٹر رشید نے اتنا کہہ کر فون بند کردیا۔
خرم نے جوس کا گلاس ختم کیا اور خالی گلاس ایک طرف رکھ کر زمین پر بچھے گدے پر بیٹھ
گیا۔ وہ پروڈکشن ہائوس جانے کے لیے پُرجوش تھا۔ وہ چاہتا تھا ابھی شام ہوجائے اور وہ پروڈکشن ہائوس پہنچ جائے۔
خرم کو جمائیاں آنے لگیں اور پھر رفتہ رفتہ نیند کا خمار چڑھنے لگا۔ وہ گدے پر لیٹ گیا اور کچھ ہی دیر میں نیند کی وادی میں پہنچ گیا۔
٭…٭…٭
شام کے سائے رفتہ رفتہ گہرے ہورہے تھے۔ پوش علاقوں کے بنگلوں کی روشنیاں جاگ اٹھی تھیں۔ کشادہ گلیوں کی اسٹریٹ لائٹس روشن ہوگئی تھیں۔ آنے جانے والوں کی چہل پہل ہوگئی تھی۔ کسی بنگلے میں کار داخل ہورہی تھی یا نکل رہی تھی لیکن اس بنگلے میں خاموشی تھی اور گیٹ بند تھا۔
اس بنگلے کے گیراج میں روشنی تھی اور اوپر والے کمرے کی کھڑکی کے آگے پڑے ہوئے پردوں سے بھی روشنی اپنے ہونے کا پتا دے رہی تھی۔
اس کمرے میں خرم سویا ہوا تھا۔ اچانک اس کے جسم میں حرکت ہوئی اور اس نے انگڑائی لی اور پھر آہستہ آہستہ آنکھیں کھولنے کی کوشش کرنے لگا۔ خرم نے آنکھیں کھول کر دیکھا اور دوسرے لمحے اس کی آنکھیں پھر بند ہوگئیں۔ ایک منٹ بھی اپنی آنکھیں بند نہیں رکھ سکا اور اس نے فوراً اپنی آنکھیں کھول دیں۔ اس نے جب پہلی بار آنکھیں کھولی تھیں تو اسے لگا تھا جیسے اس کے قریب کرسی پر کوئی بیٹھا ہے۔ نیند کے خمار نے اسے زیادہ سوچنے نہیں دیا تھا۔ جونہی اس نے آنکھیں بند کی تھیں، اس کے دماغ میں ایک دھماکا سا ہوا۔ اس نے ایک دم آنکھیں کھول دی تھیں۔
خرم نے دیکھا کہ اس کے بستر کے پاس ہی کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے ایک خوش پوش پچاس سال کی عمر کا شخص براجمان تھا۔ اس کی آنکھوں پر فریم لیس عینک تھی۔
خرم ایک دم اٹھ کر بیٹھ گیا۔ خرم کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے، اس لیے وہ محض اس شخص کی طرف دیکھتا رہا۔
’’کیسے ہو ینگ مین؟‘‘ اس شخص نے شائستہ لہجے میں پوچھا۔
’’میں ٹھیک ہوں۔‘‘
’’کوئی تکلیف تو نہیں ہے؟‘‘
’’بالکل نہیں۔‘‘ خرم نے کہا۔
’’کھانا اچھا تھا؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’بہت اچھا تھا۔ میں نے بے تکلفی سے کھایا۔‘‘ خرم نے جواب دیا۔
اس شخص نے ایک طرف رکھے فریج کی طرف دیکھا اور اٹھ کر اس کے پاس چلا گیا۔ اس نے فریج کھولا تو اندر کھانے پینے کا بہت سا سامان رکھا ہوا تھا۔ فریج کے دوسرے خانے میں آئس کریم بھی موجود تھی۔
’’اس فریج میں کھانے پینے کا سامان موجود ہے۔ تم جو چاہو کھا سکتے ہو۔ صبح اور دوپہر کے بعد چائے بھی ملے گی۔ تمہیں یہاں کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔‘‘ اس شخص نے کہا۔
خرم اس کی بات سن کر کچھ پریشان ہوگیا۔ ’’کیا مطلب… مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوگی؟‘‘
’’تم ہمارے مہمان ہو، کچھ دن ہمارے ساتھ رہو گے اور جتنے دن یہاں رہو گے، ہم تمہارا پورا خیال رکھیں گے۔‘‘ وہ شخص ایک بار پھر اسی کرسی پر بالکل اسی انداز میں بیٹھ گیا جس انداز میں خرم نے اسے آنکھ کھلتے ہی دیکھا تھا۔
’’آپ کا شکریہ! میں نے پروڈکشن ہائوس جانا تھا۔ انہوں نے مجھے کہا تھا کہ وہ مجھے شام کو لے جائیں گے۔ شام ہوگئی ہے کیا؟‘‘ خرم کے دماغ میں پروڈکشن ہائوس جانے کا خیال جاگزین تھا، اس لیے اس نے فوراً وہاں جانے کی بات کی۔
اس شخص نے متانت سے کہا۔ ’’وہ بہت کمینہ لڑکا ہے، دوسروں کی فون کالیں ٹریس کرتا ہے اور پھر تم جیسوں کو پکڑ کر میرے پاس لے آتا ہے۔‘‘
’’آپ کے پاس کیوں لے آتا ہے؟‘‘ خرم پریشان ہوگیا۔
’’وہ تم جیسوں کو میرے ہاتھوں بیچ دیتا ہے اور ہم اپنا کوئی مقصد حل کرنے کے لیے تم جیسوں کو استعمال کرتے ہیں۔‘‘
’’آپ کیا کہہ رہے ہیں، میری سمجھ میں نہیں آرہا۔‘‘ خرم یک دم پریشان ہوگیا۔
’’صاف لفظوں میں سن لو، وہ تمہیں میرے ہاتھوں بیچ کر پیسے جیب میں ڈال کر جا چکا ہے۔ اب تم میرے پاس ہو اور ضرورت کے وقت میں تم سے کوئی کام لے کر اپنی قیمت مع منافع وصول کرلوں گا۔‘‘ اس شخص نے اپنے چہرے پر پہلی بار مسکراہٹ عیاں کی جو جلدی ہی معدوم ہوگئی۔
خرم گھبرا گیا۔ اس کا دل زور سے دھڑکا۔ ’’میں یہاں اداکار بننے کے لیے آیا ہوں، مجھے مہتاب بھائی نے بھیجا ہے۔‘‘
’’یہ مہتاب بھائی کون ہے؟‘‘ اس نے دلچسپی سے پوچھا۔
’’وہ ہمارے علاقے کے بڑے سیاستدان ہیں۔ ہمارا ان سے بہت پرانا تعلق ہے۔‘‘ خرم بولا۔
’’یہ تم نے اچھی بات بتائی ہے۔‘‘ وہ سر ہلا کر بولا۔
’’پلیز آپ مجھے جانے دیں۔ میں ایک شریف لڑکا ہوں اور یہاں صرف اداکار بننے کے لیے آیا ہوں۔‘‘ خرم نے استدعا کی۔
’’یہ اب ناممکن ہے۔ اب تم کہیں نہیں جاسکتے۔‘‘ اس نے اطمینان سے کہا۔
خرم نے جلدی سے اپنی جیبیں ٹٹولیں اور اپنا موبائل فون تلاش کرنے لگا۔ وہ شخص اس کی طرف دیکھتا رہا اور پھر بولا۔ ’’تمہارا موبائل فون اور پیسے میرے پاس ہیں، انہیں تلاش کرنے کی کوشش میں وقت ضائع مت کرو۔‘‘
’’مجھے میرا موبائل فون دے دیں، مجھے کال کرنی ہے۔‘‘ خرم پریشان ہوکر کھڑا ہوگیا۔
اس کی نگاہیں اس شخص کے چہرے پر مرکوز تھیں جو اس کے سامنے کرسی پر بڑے اطمینان سے ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا تھا۔
’’تم سمجھ لو کہ تمہارا ناتا باہر کی دنیا سے کٹ چکا ہے۔ اب وہی ہوگا، جو ہم چاہیں گے۔ تم وہی کرو گے جو ہماری خواہش اور حکم ہوگا۔‘‘ وہ شخص اتنا کہہ کر اپنی جگہ سے اٹھا اور دروازے کی طرف بڑھا تو خرم تیزی سے اس کے مقابل آگیا۔ (جاری ہے)