Deewangi | Episode Last Episode

615
’’تمہاری یہ بات ٹھیک ہے لیکن یہ میسج کہیں مہتاب تو نہیں کررہا؟‘‘ شمشاد نے کہا۔
’’ان کا موبائل فون استعمال ہورہا ہے۔‘‘ دلبر بولا۔ ’’میں جاکر ان لوگوں کو کہیں بھیج دیتا ہوں۔‘‘
دلبر باہر چلا گیا۔ اچانک اس کا فون بجنے لگا۔ اس پر مہتاب کا نمبر آرہا تھا۔ دلبر تیزی سے واپس شمشاد کے کمرے کی طرف بھاگا۔ اس نے اسپیکر آن کردیا۔ دوسری طرف سے ایسی آواز آئی جیسے بولنے والے کا گلا کافی دنوں سے خراب ہو۔
’’مجھے موسمی پھلوں کی پانچ، چھ پیٹیاں چاہئیں۔ ساتھ پانی کی بوتلیں اور بہت سے چپس کے پیکٹس بھی ہوں۔ تم سارا سامان لے کر ہاکی اسٹیڈیم کے چھوٹے گیٹ کے پاس آجانا اور میری کال کا انتظار کرنا۔ یہ کام ایک گھنٹے کے اندر ہوجانا چاہیے ورنہ نتیجے کے ذمہ دار تم خود ہوگے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی فون بند ہوگیا۔
’’تم فوراً نکلو… یہ سارا سامان شاید اسی کے کہنے پر ہی منگوایا جارہا ہے۔‘‘ شمشاد نے کہا اور دلبر اسی وقت باہر نکل گیا۔ کار تیزی سے مارکیٹ کی طرف رواں دواں ہوگئی۔
٭…٭…٭
خرم نے کال کرنے کے بعد دروازے اچھی طرح سے لاک کئے اور گھر سے باہر نکل گیا۔ اس نے وہاں تک پہنچنے کے لیے اپنے دوست کی کار لے جانے کی غلطی نہیں کی تھی۔ وہ رکشے میں بیٹھ کر ہاکی اسٹیڈیم تک پہنچا۔ دلبر کی کار چھوٹے گیٹ کے پاس کھڑی تھی۔
خرم نے ایک محفوظ جگہ کھڑے ہوکر مہتاب کے فون سے دلبر کو کال کی اور اسی لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا۔ ’’کار سست رفتار سے آگے لے جائو۔‘‘
دلبر انتہائی آہستہ رفتار سے آگے بڑھا۔ خرم نے ایک ویران جگہ دیکھ کر حکم دیا۔ ’’گاڑی چھوڑ کر تیزی سے باہر نکلو اور جس طرف سے آئے تھے، اسی طرف چلے جائو۔ خبردار جو پیچھے مڑ کر دیکھا۔‘‘
دلبر تیزی سے باہر نکل کر واپس چل پڑا۔ خرم کار تک پہنچا اور تیزی سے اس جگہ سے نکلا اور دوسری سڑک پر پہنچ کر ٹریفک کا حصہ بن گیا۔
٭…٭…٭
خرم نے سیب کھاتے ہوئے اسکرین پر مہتاب کو کمرے میں کھڑا دیکھا تو اس نے کچھ سیب ایک پلیٹ میں رکھے اور دراز سے ایک ماسک نکال کر اپنے چہرے پر چڑھا لیا اور اس کے کمرے میں داخل ہوگیا۔
’’کیسے ہو مہتاب؟‘‘ خرم نے پلیٹ ایک طرف رکھتے ہوئے بدلی ہوئی آواز میں پوچھا۔
’’مجھے اغوا کیوں کیا ہے؟‘‘ مہتاب نے سوال کے جواب میں سوال کیا۔
’’ہم نے تمہیں تاوان کے لیے اغوا کیا ہے۔‘‘ خرم بولا۔
’’ شاید تم لوگ جانتے نہیں کہ کس پر ہاتھ ڈالا ہے۔‘‘ مہتاب غصے سے بولا۔
’’ہم بغیر جانے کسی پر ہاتھ نہیں ڈالتے۔‘‘ خرم نے اطمینان سے کہا۔ ’’لیکن شاید تم ہمیں نہیں جانتے ورنہ تمہارا لہجہ ایسا نہ ہوتا۔‘‘
’’میں جاننا بھی نہیں چاہتا کہ تم کون لوگ ہو۔ بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے چھوڑ دو ورنہ تم سب کے ساتھ برا ہوگا۔‘‘ مہتاب زعم میں بولا۔ ’’میرا خاندانی بیک گرائونڈ جانتے ہو؟‘‘
’’ہاں! جانتا ہوں۔ اس خاندان میں ایک شخص ہے شمشاد … جو بھیگی بلی بن کے بیٹھا ہوا ہے اور التجا آمیز لہجے میں کہہ رہا تھا کہ مجھ سے جتنا چاہے پیسہ لے لو، میرے بیٹے کو کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ اس نے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ کسی کو کچھ نہیں بتائے گا۔‘‘ خرم نے کہا۔
مہتاب اس کی طرف بغور دیکھنے لگا۔ پھر بولا۔ ’’کتنا پیسہ چاہتے ہو؟‘‘
’’یہ تو باس ہی بتائیں گے۔‘‘
’’اس کا مطلب ہے مجھے بتانا نہیں چاہتے؟‘‘
’’سمجھدار ہو۔ پھل کھائو، بہت اچھا سیب ہے۔‘‘ خرم نے پلیٹ کی طرف اشارہ کیا۔ ’’تم ہمارے مہمان ہو۔ جب تک ہم تمہارے باپ سے پیسہ وصول نہیں کرلیتے، تب تک یہاں مزے سے رہو۔ جو تمہیں پسند ہو، بتائو۔‘‘
’’مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
’’شرمانے کی ضرورت نہیں، بلاتکلف بتا دینا۔ میں جارہا ہوں۔‘‘
’’میری بات سنو۔ میرے پیر سے یہ زنجیر کھولو۔‘‘ مہتاب نے گرج کر کہا۔
’’یہ تب ہی کھلے گی جب ہماری ڈیمانڈ پوری ہوگی۔ آئندہ تمیز سے بات کرنا ورنہ تمیز سکھانے کے لیے مجھے تمہارے جسم پر کوئی زخم لگانا پڑے گا۔‘‘
خرم کہہ کر چلا گیا اور مہتاب جو اکڑ دکھا رہا تھا، وہ برقرار نہ رہ سکی۔ اس نے کوشش کی تھی کہ وہ یہ ظاہر کرے کہ اس کے دل میں کوئی ڈر، خوف نہیں ہے مگر کسی کے چنگل میں رہ کر نڈر ہونے کا ڈرامہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔ وہ قید میں تھا اور اب خوف اس پر غالب آنے
لگا تھا۔
٭…٭…٭
خرم بیڈ روم میں چلا گیا۔ اس نے الماری کھول کر دیکھا تو اندر دوست کے کچھ سوٹ لٹکے ہوئے نظر آئے۔ تھوڑی دیر بعد جب خرم کمرے سے باہر نکلا تو اس نے پینٹ کے ساتھ ٹائی بھی باندھی ہوئی تھی۔ اس نے دستانے پہنے اور چہرے پر ایک دوسرا ماسک چڑھا کر مہتاب کے کمرے میں داخل ہوا۔
وہ گدے پر بیٹھا تھا۔ اسے دیکھ کر کھڑا ہوگیا۔ خرم ایک نئی آواز میں بولا۔ ’’تمہارا باپ تمہاری کتنی قیمت دے دے گا؟‘‘
’’تم کون ہو؟‘‘
’’میں تمہارا دوست ہوں، اس صورت میں کہ تمہارا باپ میری بات مان لے اور میں بدترین دشمن ہوں اگر تمہارے باپ نے میری بات نہ مانی۔‘‘
’’کیا چاہتے ہو؟‘‘
’’میرے سوالوں کا جواب دینے میں دیر کرنا اور نہ ہی ٹال مٹول سے کام لینا، ورنہ اس کمرے میں زخم پر لگانے کے لیے کوئی مرہم نہیں ہے۔‘‘
مہتاب چپ ہوکر اس کی طرف دیکھتا رہا۔ اس کی آنکھوں سے خوف مترشح ہوگیا تھا۔ خرم بولا۔ ’’مجھے بتائو اس شہر میں وہ کون سی جگہ ہے جہاں تم اپنے دوستوں کے ساتھ رات کو محفلیں جماتے ہو؟‘‘
’’تم کیوں پوچھ رہے ہو؟‘‘ مہتاب بولا۔
خرم نے اپنا ہاتھ پینٹ کی جیب سے نکالا۔ اس کے ہاتھ میں بلیڈ تھا۔ اس نے اسے بڑی برق رفتاری سے ہاتھ بڑھا کر مہتاب کے سامنے گھمایا۔ مہتاب ڈر کے پیچھے ہوگیا۔
’’یہ صرف جھلک تھی ورنہ تم زخمی بھی ہوسکتے تھے۔ جو میں نے پوچھا ہے، وہ بتائو۔‘‘ خرم نے کہا۔
’’ایسی کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘
اس کا جواب سنتے ہی خرم نے پھرتی سے اس کے بازو پر بلیڈ سے زخم لگا دیا۔ وہ تکلیف سے کراہ اٹھا۔ خرم نے غصے سے کہا۔ ’’ہمارے پاس وقت نہیں ہے کہ ٹال مٹول سنیں۔ سیدھی طرح میری باتوں کا جواب دو ورنہ میرا ہاتھ تمہاری شہ رگ کو بھی چھو سکتا ہے۔‘‘
زخم کی وجہ سے مہتاب کو تکلیف ہورہی تھی۔ اس نے ایک جگہ کا پتا بتا دیا۔ خرم کے پوچھنے پر اس نے یہ بھی بتا دیا کہ وہاں اس کا ایک چوکیدار موجود ہوتا ہے۔
خرم نے اس کا موبائل فون نکال کر شمشاد کا نمبر ملایا اور جونہی شمشاد سے رابطہ ہوا، خرم بولا۔ ’’دس کروڑ روپے چاہئیں، پیسوں کا انتظام کرو، میں دوبارہ کال کرتا ہوں۔‘‘
’’یہ بہت بڑی رقم ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے پھر بیٹے کی لاش کا انتظار کرو۔‘‘ خرم نے لاپروائی سے کہا۔
’’ایک منٹ، ایک منٹ… بتائو رقم کہاں چاہیے؟‘‘
’’تم رقم کا انتظام کرو، میں دوبارہ کال کرتا ہوں۔‘‘ خرم نے فون بند کردیا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
بیڈ روم میں جاکر خرم نے کپڑے تبدیل کئے اور اس کمرے میں چلا گیا جہاں ٹی وی اسکرین لگی ہوئی تھی۔ خرم نے باہر کا جائزہ لیا۔ اندھیرا چھا چکا تھا۔ اس کالونی میں دور تک ہُوکا عالم تھا۔ اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد خرم نے کمرے کو مقفل کیا۔ اسٹور میں جاکر اس نے رسی لی اور گاڑی نکال کر باہر نکل گیا۔
مہتاب نے جس جگہ کا بتایا تھا، وہاں پہنچا۔ اس نے کار کی ہیڈ لائٹس بند کردیں اور حویلی نما عمارت کے پیچھے لے گیا جہاں درختوں کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ اس نے ایک جگہ کار کھڑی کی اور اردگرد کا جائزہ لے کر عمارت کی طرف چل پڑا۔
مہتاب نے بتایا تھا کہ یہاں ایک چوکیدار ہوتا ہے۔ جب اس کے دوستوں کی محفل جمتی ہے تو وہ خانساماں یا کسی دوسرے ملازم کو بلا لیتا ہے۔
خرم نے دیکھا کہ بائونڈری وال زیادہ بلند نہیں تھی۔ ایک درخت حویلی کی پچھلی دیوار کے ساتھ ایستادہ تھا۔ اس کی شاخیں پھیلی ہوئی تھیں۔ خرم اس درخت پر چڑھ گیا۔ اندر جھانکا، اندر مکمل سناٹا تھا۔
وہ دیوار پر چڑھ کر دوسری طرف کود گیا۔ اس نے دائیں بائیں دیکھا۔ کچھ فاصلے پر ایک ڈرم دکھائی دیا۔ وہ ڈرم خالی تھا۔ اس نے احتیاط سے اس ڈرم کو اس دیوار کے ساتھ لگا دیا۔ اب اسے اطمینان تھا کہ اگر کوئی مسئلہ ہوا تو وہ اس ڈرم پر چڑھ کر باآسانی دیوار سے دوسری طرف کود سکتا تھا۔
وہ دبے پائوں چلتا حویلی کے بڑے گیٹ کے نزدیک پہنچ گیا۔ گیٹ کے ساتھ ایک کیبن تھا۔ اس کیبن کے اندر روشنی دکھائی دے رہی تھی۔ اندر چوکیدار رضائی میں لیٹا حقہ گڑگڑا رہا تھا۔ اس کی رہائش قریب کے گائوں میں تھی۔ وہ یہاں کئی ماہ سے ملازم تھا۔ وہ اس ملازمت سے اکتا چکا تھا کیونکہ کئی کئی دن یہاں کوئی نہیں آتا تھا۔ جب کوئی محفل جمتی، اس کا دل لگ جاتا تھا۔ چوکیدار کو لگتا تھا جیسے وہ یہاں نوکری نہیں بلکہ قید کاٹ رہا ہو۔ وہ شام ہوتے ہی کھانا کھا
کر لیٹ جاتا۔ تین چار دنوں سے شہر سے یہاں بہت اچھا کھانا آتا تھا جس میں سے چوکیدار کو بھی مل جاتا تھا۔
خرم نے اپنی جیب سے ماسک نکال کر چہرے پر چڑھایا پھر ایک دم دروازہ کھول دیا۔ اس سے پہلے کہ وہ چوکیدار لحاف سے نکل کر سیدھا ہوتا، خرم نے اس پر قابو پا لیا۔
’’کوئی حرکت نہ کرنا ورنہ مفت میں جان سے جائو گے۔ مجھے اندر جانا ہے، دروازے کی چابی دے دو۔‘‘
چوکیدار نے انگلی کے اشارے سے ایک طرف اشارہ کیا۔ وہاں چابیوں کا گچھا لٹک رہا تھا۔
’’اس جگہ اور کون ہے؟‘‘ خرم نے پوچھا۔
’’میرے سوا اور کوئی نہیں۔‘‘ چوکیدار نے جواب دیا۔
’’سچ بتائو ورنہ گردن توڑ دوں گا۔‘‘ خرم نے درشت لہجے میں کہا۔
’’بس اندر ایک لڑکی قید ہے۔‘‘ چوکیدار نے بتایا۔ ’’اور کوئی نہیں ہے۔‘‘
خرم نے چوکیدار کو رسیوں سے اچھی طرح باندھا۔ اس کا موبائل فون بند کیا۔ خرم نے اپنی پینٹ کی جیب سے مہتاب کا موبائل فون نکال کر ایک نمبر منتخب کیا اور پش کرنے سے قبل سوچا اور پھر ارادہ بدل کر موبائل فون جیب میں ڈال لیا۔ جب اس نے جیب سے موبائل فون نکالا تھا تو مکان کے گیٹ کی چابی نیچے گر گئی۔ اس کا پیر چابی کے اوپر آگیا اور ’’کڑک‘‘ کی ہلکی سی آواز آئی۔ خرم نے جھک کر چابی اٹھائی لیکن پیر کے نیچے آنے کی وجہ سے ’’کی چین‘‘ ٹوٹ گئی تھی۔ خرم نے محض چابی اٹھا کر جیب میں ڈال لی، کمرے کی روشنی بند کی اور باہر آکر دروازے کا کنڈا لگا دیا۔ چوکیدار چارپائی کے ساتھ اس طرح بندھا تھا کہ وہ حرکت بھی نہیں کرسکتا تھا۔
خرم مین دروازے کو کھول کر اندر چلا گیا۔ ہر کمرا مقفل تھا۔ وہ چابیوں کے گچھے سے جو چابی جس دروازے کو لگ رہی تھی، اسے لگاتا، دروازہ کھولتا اور اندر جھانک کر دیکھتا۔ اسے کسی کمرے میں ہادیہ نظر نہیں آئی۔ وہ اوپر چلا گیا۔ ایک کمرا کھولتے ہی اسے سامنے ہادیہ نظر آئی۔ وہ سہمی ہوئی دیوار کے ساتھ لگی بیٹھی تھی۔
’’خرم تم؟‘‘ ہادیہ اسے دیکھتے ہی بولی۔
’’ہادیہ! تم ٹھیک ہو؟‘‘
’’مجھے یہاں سے لے چلو، مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔‘‘ ہادیہ نے گھبرائی ہوئی آواز میں کہا۔
’’تم گھبرائو نہیں۔ یہ بتائو یہاں تمہارے پاس کوئی آدمی آیا تھا؟‘‘
’’ایک آدمی آیا تھا۔ اس نے مجھ سے کہا تھا کہ تم کچھ دنوں کے لئے ہماری مہمان ہو، پھر ہم تمہیں چھوڑ دیں گے۔‘‘ ہادیہ نے بتایا۔
’’اب میری بات دھیان سے سنو اور جیسا میں کہہ رہا ہوں، ویسا ہی کرنا۔ کہیں میرا نام نہ آئے۔‘‘ خرم اسے تفصیل سے سمجھانے لگا۔ ہادیہ بغور سنتی رہی۔ جب خرم نے اچھی طرح سمجھا دیا تو اس نے مہتاب کے فون سے ماسٹر رشید کو فون کیا۔
رابطہ ہوتے ہی خرم بولا۔ ’’ابا جی! میری بات غور سے سنیں۔ ہادیہ کو جس جگہ مہتاب نے قید کررکھا ہے، اس کا پتا اچھی طرح سمجھ لیں اور پولیس کو لے کر وہاں پہنچ جائیں۔ پولیس کو یہ نہ بتایئے گا کہ وہ جگہ کس کی ہے ورنہ پولیس مہتاب کا نام سنتے ہی نہیں آئے گی۔ آپ پولیس کو بس اتنا بتانا کہ ہمیں پتا چلا ہے کہ اس جگہ ہادیہ کو اغوا کرکے رکھا ہوا ہے۔ بس آپ پولیس کے پاس جائیں اور انہیں لے کر یہاں پہنچ جائیں۔‘‘ خرم نے ان کو اچھی طرح اس جگہ کا پتا سمجھا دیا۔
رابطہ ختم کرنے کے بعد خرم نے ایک نمبر یاد کیا اور اسے ملانے لگا۔ خرم جس کو فون کررہا تھا، اس کا تعلق میڈیا سے تھا اور وہ خرم کے کراچی جانے سے ایک دن پہلے ان کی دکان پر کپڑے سلوانے کے لیے آیا تھا۔ اس نے اپنا کارڈ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کبھی کوئی کام ہو تو مجھے کال کرنا۔ اس کا نمبر بہت آسان تھا اس لیے خرم کو جلدی یاد ہوگیا تھا۔
جونہی اس کا رابطہ ہوا، خرم بولا۔ ’’آپ کو ایک خبردینا چاہتا ہوں۔‘‘
’’کیسی خبر دینا چاہتے ہو؟‘‘ دوسری طرف سے پوچھا گیا۔
’’مہتاب کا اصل چہرہ دکھانا چاہتا ہوں۔ اس نے ایک لڑکی کو اغوا کرکے قید کررکھا ہے۔ پولیس بھی وہاں پہنچ رہی ہے، آپ بھی پہنچ جائیں۔ بہت بڑی خبر ہے۔‘‘ خرم نے بتایا۔
’’کیا یہ سچ ہے؟‘‘ اس نے جلدی سے پوچھا۔
’’آپ ایڈریس سمجھیں اور جتنی جلدی ہوسکتا ہے، وہاں پہنچیں۔‘‘ خرم نے اچھی طرح پتا سمجھایا اور فون بند کردیا۔ پھر اس نے ہادیہ سے کہا۔ ’’اب میں جارہا ہوں۔ جو میں نے سمجھایا ہے، وہی کہنا، بالکل مت گھبرانا۔‘‘
’’اوکے۔‘‘ ہادیہ مطمئن ہوکر بولی۔
خرم نے باہر نکل کر دروازہ مقفل کیا۔ پھر اس نے ہر وہ دروازہ


کردیا جو اس نے کھولا تھا۔ اس کے بعد اس نے ایک بار پھر ماسک چڑھایا اور چوکیدار کے کیبن میں چلا گیا۔ اس نے اس کے قریب جاکر پوچھا۔ ’’مہتاب نے اس لڑکی کو کب سے یہاں رکھا ہوا ہے؟‘‘
’’دو تین دن ہوگئے ہیں۔‘‘
’’اس سے پہلے کتنی لڑکیوں کو وہ یہاں رکھ چکا ہے؟‘‘
’’کئی لڑکیوں کو۔‘‘ چوکیدار کی آنکھوں میں خوف مترشح تھا۔
’’یہ بیان پولیس کو بھی دے دینا ورنہ تم اوپر چلے جائو گے۔‘‘ خرم نے اسے دھمکی دی۔
ایک گھنٹے کے بعد خرم کو باہر ہلچل سی محسوس ہوئی۔ اس نے گیٹ کی درز سے باہر دیکھا۔ پولیس کی گاڑی کھڑی تھی، اسی وقت میڈیا کی گاڑی بھی آگئی۔ خرم نے جلدی سے چوکیدار کی رسیاں کھول کر اسے ایک طرف دھکا دے دیا۔ چوکیدار دیوار کے ساتھ ٹکرا کر گرا۔ اس دوران خرم پیچھے کی طرف بھاگا۔ بھاگتے ہوئے اس نے مہتاب کا موبائل فون ایک طرف رکھ دیا اور ڈرم پر چڑھ کر دیوار پر بیٹھا اور اندر جھانکنے لگا۔
پولیس اندر داخل ہوچکی تھی۔ گیٹ کھول دیا۔ پولیس نے چوکیدار کو گرفت میں لے کر رعب دار آواز میں پوچھا۔ ’’یہاں کس کو قید میں رکھا گیا ہے؟‘‘
’’جی وہ اندر ہے ایک لڑکی۔‘‘ چوکیدار نے ڈرتے ڈرتے بتایا۔
چوکیدار نے دروازہ کھولا تو سامنے ہادیہ نظر آئی۔ ماسٹر رشید نے اسے اپنی بانہوں میں لے لیا۔
’’کس کی جگہ ہے یہ؟‘‘ پولیس والے نے پوچھا۔
’’یہ جگہ مہتاب صاحب کی ہے۔‘‘ چوکیدار نے بتایا تو پولیس ششدر ہوکر اس کی طرف دیکھنے لگی۔ میڈیا ساری کوریج کررہا تھا۔ پولیس انسپکٹر کے علم میں نہیں تھا کہ وہ عمارت مہتاب کی ہے ورنہ وہ یہاں آنے سے پہلے مہتاب سے ضرور رابطہ کرتا لیکن اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ وہ آچکا تھا، لڑکی برآمد ہوچکی تھی اور میڈیا موجود تھا۔
جب پولیس کی گاڑی میں ہادیہ اور ماسٹر رشید جارہے تھے تو خرم نے گاڑی وہاں سے نکالی اور اپنے دوست کے گھر چلا گیا۔ اس نے گاڑی وہاں کھڑی کی اور تیزی سے ایک رکشے کی طرف بڑھا۔ کچھ دیر میں وہ رکشے میں بیٹھا اپنے گھر کی طرف جارہا تھا۔
٭…٭…٭
ٹی وی چینل کے ہاتھ بڑی خبر آگئی تھی اور پولیس بے بس ہوگئی تھی۔ ہادیہ اور چوکیدار کے بیان نے ہلچل مچا دی تھی۔
قادر ہائوس کے فون بجنا شروع ہوگئے تھے۔ شمشاد اور دلبر کے لیے جواب دینا مشکل ہوگیا تھا۔ میڈیا اس خبر کو لے کر مسلسل چیخ رہا تھا۔ شمشاد کو سامنے آکر کہنا پڑا۔ ’’یہ مخالفین کی سازش ہے۔ مہتاب کل سے خود لاپتا ہے، اسے اغوا کیا گیا ہے۔‘‘
’’اغوا کیا گیا ہے؟ آپ نے پولیس کو اطلاع دی تھی؟‘‘ ایک صحافی نے سوال کیا۔
’’اغوا کرنے والوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر ہم نے اس بارے میں کوئی بات کی تو وہ مہتاب کو جان سے مار دیں گے۔‘‘ شمشاد بولا۔
’’کیا مہتاب صاحب اب گھر آچکے ہیں؟‘‘ ایک صحافی نے سوال کیا۔
’’میں نے ابھی کہا ہے کہ وہ لاپتا ہیں۔‘‘ شمشاد نے اسے گھورا۔
’’سر! جب وہ گھر نہیں آئے اور آپ نے پولیس کو اس خوف سے اطلاع نہیں دی کہ کہیں وہ انہیں مار نہ دیں تو اب آپ نے کیسے میڈیا کے سامنے ان کے اغوا ہونے کا انکشاف کردیا؟ کیا اب ان کی جان کو خطرہ لاحق نہیں ہے؟‘‘
میڈیا کے اس سوال نے شمشاد کو لاجواب کردیا۔ وہ دلبر کا منہ دیکھنے لگا اور دلبر بے بسی سے آنکھیں گھمانے لگا۔ شمشاد کا بیان مشکوک ہوگیا تھا۔ اب یہ بات مخفی نہیں رہی تھی کہ یہ جگہ مہتاب کی تھی اور وہاں محفلیں جمتی تھیں اور مہتاب نے جس لڑکی کو پسند کیا تھا، وہ اسے یہاں لے آیا تھا۔
قادر ہائوس میں لوگوں کا رش لگا ہوا تھا۔ خاندان کے لوگ بھی جمع ہوگئے تھے۔ میڈیا میں خبر آنے کی وجہ سے پولیس اس کو گرفتار کرنے پر مجبور تھی۔ جس پارٹی سے مہتاب کا تعلق تھا، وہ اپنا دامن داغدار ہونے سے بچانے کے لیے اپنی صفائی دے رہی تھی۔ وہ مطالبہ کررہی تھی کہ اگر مہتاب نے ایسا کیا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق چارہ جوئی ہونی چاہیے۔
’’مہتاب کے اغوا کی بات تم نے ہم سے بھی چھپائی؟‘‘ شمشاد کے بڑے بھائی نے کہا۔
’’انہوں نے دھمکی دی تھی کہ وہ مہتاب کو مار دیں گے۔‘‘
’’اب تم نے بتا دیا ہے، اب مہتاب کا کیا ہوگا؟‘‘ اس سوال نے شمشاد کے ساتھ خاندان کے دوسرے لوگوں کو بھی پریشان اور سوچنے پر مجبور کردیا تھا۔
پولیس کے بڑے افسران بھی آگئے تھے۔ شمشاد نے اپنا فون دکھا کر کہا۔ ’’یہ دیکھیں اس نمبر سے کال آئی۔‘‘
’’میسج اور کال مہتاب کے
نمبر سے آئی ہے آپ کو؟‘‘ پولیس آفیسر نے پوچھا۔
’’جی بالکل! وہ لوگ مہتاب کا فون استعمال کررہے ہیں۔‘‘ شمشاد نے بتایا۔
پولیس آفیسر نے مہتاب کا نمبر اپنے ماتحت کو دیتے ہوئے کہا۔ ’’اس کی لوکیشن تلاش کرو۔‘‘
’’آپ کوئی کارروائی کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں، مہتاب کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے۔‘‘ شمشاد نے خدشہ ظاہر کیا۔
پولیس آفیسر اطمینان سے بولا۔ ’’آپ بھول رہے ہیں کہ آپ یہ بات میڈیا کے ذریعے طشت از بام کرچکے ہیں۔‘‘
ایک دم شمشاد کو یاد آگیا اور وہ دم بخود ہوکر اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔ پولیس آفیسر نے شمشاد کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا۔ ’’مہتاب کو واقعی اغوا کیا گیا ہے یا اس بات میں کوئی حقیقت سرے سے موجود نہیںہے؟‘‘
’’آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟‘‘
’’جس بات سے ڈرتے ہوئے پولیس کو آگاہ نہیں کیا لیکن اغوا شدہ لڑکی کے برآمد ہوتے ہی آپ نے میڈیا کو بتا دیا کہ مہتاب اغوا ہوچکا ہے، اگر آپ سچ بتا دیں تو ہمارے لیے آسانی ہوجائے گی۔‘‘
’’میں سچ کہہ رہا ہوں کہ وہ اغوا ہوچکا ہے۔‘‘ اچانک شمشاد کو یاد آیا اور اس نے خرم کی بھیجی ہوئی تصویر نکال کر پولیس آفیسر کو دکھائی جس میں مہتاب کے پیر میں زنجیر تھی۔ پولیس آفیسر نے بغور دیکھا۔
اسی دوران مہتاب کی اس حویلی کی تلاشی لینے کے بعد پولیس اہلکار آگئے۔ ان میں سے ایک اہلکار نے پلاسٹک کی تھیلی پولیس آفیسر کے سامنے رکھ دی۔ اس تھیلی میں اس حویلی سے ملنے والی بہت سی چیزیں تھیں اور ان چیزوں میں خرم کا چھوڑا ہوا مہتاب کا موبائل فون بھی تھا۔
’’اس فون کو پہچانتے ہیں آپ؟‘‘ پولیس آفیسر نے فون نکال کر شمشاد کے سامنے کیا۔
’’دلبر! یہ فون مہتاب کا ہے؟‘‘ شمشاد نے دلبر سے پوچھا۔ دلبر جلدی سے آگے بڑھا اور بولا۔ ’’جی! یہ انہی کا فون ہے۔‘‘
’’یہ فون اس جگہ سے ملا ہے جہاں سے لڑکی برآمد ہوئی ہے۔‘‘ پولیس آفیسر نے کہا۔
شمشاد کے ساتھ دلبر بھی حیرانی سے پولیس آفیسر کا منہ دیکھنے لگا۔
’’سر! چوکیدار نے بتایا ہے کہ پولیس کے آنے سے پہلے ایک نقاب پوش وہاں آیا تھا۔ اس نے اس سے پوچھا تھا کہ یہاں کون ہے، پھر اس نے چوکیدار کو باندھ دیا تھا۔‘‘ پولیس اہلکار نے بتایا۔
’’لڑکی کو کس نے برآمد کیا تھا؟‘‘ پولیس آفیسر نے اہلکار کی طرف دیکھا۔
ایک طرف کھڑا سب انسپکٹر آگے بڑھا اور سیلوٹ مار کر بولا۔ ’’سر! میں گیا تھا وہاں۔‘‘
’’چوکیدار بندھا ہوا تھا؟‘‘
’’نہیں سر! وہ آزاد تھا۔ لڑکی برآمد کرنے کے بعد ہم نے چوکیدار کا کمرا بھی دیکھا تھا۔ وہاں ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی کہ جس سے پتا چلتا کہ چوکیدار کو باندھا گیا تھا۔ گیٹ اندر سے بند تھا اور ہمارے ایک اہلکار نے دیوار کود کر اندر جاکر گیٹ کھولا تھا۔‘‘ سب انسپکٹر نے بتایا۔
پولیس آفیسر نے اس کی بات سن کر شمشاد کی طرف دیکھا اور پھر اس کے قریب ہوکر بولا۔ ’’اس سامان میں کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جو آپ کے بیٹے کے خلاف مضبوط ثبوت ہیں۔ بہرحال ہم تفتیش میں مصروف ہیں۔‘‘پولیس آفیسر نے کہہ کر اپنے ایک سب انسپکٹر سے کہا۔ ’’اس لڑکی کا بیان لیا؟‘‘
’’جی سر!‘‘ سب انسپکٹر نے جواب دیا۔
’’کیا کہتی ہے وہ؟‘‘
’’لڑکی نے بتایا کہ اسے کمرے میں بند کرنے کے کچھ گھنٹوں بعد مہتاب اس کے پاس آیا تھا اور اس سے کہا تھا کہ وہ اس وقت تک اس کے پاس رہے گی جب تک وہ چاہے گا۔ فی الحال وہ کچھ دنوں کے بعد آئے گا۔‘‘ سب انسپکٹر نے بتایا۔
’’اوکے! ہم چلتے ہیں۔‘‘ پولیس آفیسر اٹھا تو ایک اہلکار نے پلاسٹک کی تھیلی اٹھا لی۔
شمشاد کا بڑا بھائی پولیس آفیسر کا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف لے جاتے ہوئے دھیمی آواز میں بولا۔ ’’سیاست میں ہمارا مقام ہے۔ یہ جو ڈرامہ چل رہا ہے، یہ ہمارے مخالفین کی چال ہے۔ ہمارے دامن پر جو چھینٹے پڑ رہے ہیں، اس زاویئے سے اپنی تفتیش کیجئے گا۔‘‘
پولیس آفیسر نے بات سننے کے بعد اطمینان سے کہا۔ ’’معاملہ بڑا عجیب ہے۔ مہتاب کے خلاف خاصے ثبوت ہیں جبکہ اس کے اغوا ہونے کا ایک بھی اشارہ نہیں مل رہا ہے۔‘‘
’’وہ فون کالز اور تصویر… کیا یہ ثبوت نہیں ہے؟‘‘
’’جس فون سے کالیں آئیں اور تصویر بھیجی گئی، وہ موبائل فون اسی جگہ سے ملا جو مہتاب کی ملکیت ہے، پھر بھی ہم مہتاب کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘ پولیس آفیسر نے کہا اور اجازت لے کر
پولیس پارٹی کے ساتھ چلا گیا۔
شمشاد کا بڑا بھائی شمشاد کے پاس جاکر بولا۔ ’’مجھے شک ہونے لگا ہے کہ مہتاب اغوا نہیں ہوا۔‘‘ پھر اس نے دلبر کی طرف گھوم کر درشت لہجے میں کہا۔ ’’تم اس کی پونچھ ہو، بتائو اصل بات کیا ہے؟‘‘
’’اصل بات یہی ہے کہ وہ ہمارے سامنے اغوا ہوئے تھے۔‘‘ دلبر نے جلدی سے کہا۔
شمشاد کا بڑا بھائی دلبر کی بات سن کر اسے دیکھتا رہا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ حقیقت کیا ہے۔ ان باتوں سے بڑھ کر اس کے لیے پریشانی کی بات یہ تھی کہ میڈیا مہتاب کے بارے میں خوب چیخ رہا تھا۔
٭…٭…٭
خرم گھر پہنچا تو سارے گھر والے اس کے اردگرد جمع ہوگئے۔ اس کی ماں نے پوچھا۔ ’’تم نے کراچی جاکر کوئی رابطہ نہیں کیا، کہاں غائب ہوگئے تھے؟‘‘
’’میں کراچی میں ہی تھا۔ میرا موبائل فون کھو گیا تھا، اس لیے رابطہ نہیں کرسکا۔‘‘ خرم نے بتایا۔
’’کوئی کام بھی کیا کہ بس کراچی کا سمندر دیکھ کر آگئے ہو؟‘‘ اس کے بڑے بھائی نے پوچھا۔
’’بس یہی سمجھ لو کہ سمندر دیکھ کے آگیا ہوں اور میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اداکاری کرنا میرے بس کا کام نہیں ہے۔ میں اب ابا جی کی دکان پر بیٹھا کروں گا۔‘‘ خرم نے اپنا فیصلہ سنایا۔
’’اچھا چھوڑو ان باتوں کو، ابھی ہم سب حاکم علی کے گھر جارہے ہیں۔ چلو جلدی کرو۔‘‘ ماسٹر رشید نے کہا تو سبھی اٹھ کر چلے گئے۔ خرم کے پاس ماسٹر رشید اور اس کی ماں رہ گئی تھی۔
’’وہاں کیوں جانا ہے ابا جی؟‘‘ خرم نے انجان بنتے ہوئے پوچھا۔
اس کی ماں بولیں۔ ’’ہادیہ کو جانے کون لوگ اغوا کرکے لے گئے تھے، اب وہ مہتاب کے ایک مکان سے ملی ہے۔‘‘
خرم نے کچھ حیرانی کی اداکاری کی تو ماسٹر رشید نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ بھی اٹھ کر تیار ہوجائے۔ اس کی ماں چلی گئی تو ماسٹر رشید نے اس کے پاس بیٹھ کر آہستہ سے کہا۔ ’’یہ سارا چکر کیا ہے؟‘‘
’’ابا جی! ہادیہ کو مہتاب نے اغوا کرایا تھا۔ شکر ہے کہ ہادیہ محفوظ رہی اور میں یہ سراغ لگانے میں کامیاب ہوگیا کہ اس نے ہادیہ کو کہاں رکھا تھا۔‘‘
’’تمہیں یہ سب کیسے پتا چلا اور مہتاب کیا واقعی اغوا ہوا ہے؟‘‘
’’ابا جی! اب ان باتوں کو یہیں دفن کردیں۔‘‘ خرم نے ماسٹر رشید کا ہاتھ پکڑ کر التجا کی تو ماسٹر رشید چپ ہوگیا۔
تھوڑی دیر کے بعد وہ سب حاکم علی کے گھر چلے گئے۔ حاکم علی، ماسٹر رشید کو اپنے گلے سے لگا کر بولا۔ ’’مجھے معاف کردینا میرے دوست، میں نے جانے کیا کیا بول دیا تھا۔‘‘
’’تم نے کب کچھ ایسا بولا تھا؟‘‘ ماسٹر رشید انجان بنتے ہوئے بولے۔
’’جب میں نے کہا تھا کہ…‘‘ حاکم علی نے کہنا چاہا۔
ماسٹر رشید نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔ ’’چھوڑو کیا باتیں لے کر بیٹھ گئے۔ مجھے کچھ یاد نہیں۔ آئو شکر ادا کرتے ہیں کہ ہادیہ بیٹی گھر پہنچ گئی ہے۔‘‘ ماسٹر رشید اس کا ہاتھ پکڑ کر اس طرف لے گیا جہاں سب بیٹھے ہوئے تھے۔
٭…٭…٭
میڈیا نے مہتاب کے حوالے سے کئی سوال اٹھا دیئے تھے اور اس کے اغوا کو ایک ڈرامہ قرار دے دیا تھا۔ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے پولیس کے ایک ہونہار آفیسر ریاست خان کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔
ریاست خان کی عمر زیادہ نہیں تھی لیکن اس کا تجربہ اور ذہانت کی سبھی مثال دیتے تھے۔ اس نے یہ کیس ہاتھ میں لیتے ہی دلبر اور مہتاب کے محافظوں سے اس کے اغوا ہونے کی تفصیل جانی اس کے بعد وہ مہتاب کے والد شمشاد سے ملا اور اس کے موبائل فون میں موجود مہتاب کی زنجیر میں بندھی تصویر کو انتہائی غور سے دیکھا۔ اس کے بعد وہ ہادیہ کے گھر گیا۔ وہاں اس نے ہادیہ سے کئی سوال کئے اور آخر میں وہ چوکیدار سے ملا۔ ریاست خان نے پوری باریک بینی سے اس جگہ کا جائزہ لیا جہاں سے ہادیہ برآمد ہوئی تھی۔ وہ اس ڈرم تک پہنچ گیا جس پر چڑھ کر خرم دیوار پھلانگا تھا۔
ریاست خان ڈرم کے اوپر چڑھ کر دیوار پر کھڑا ہوگیا۔ وہاں جوتوں پر لگی مٹی کے نشان تھے۔ تیز روشنی میں اس نے درخت کی شاخ پر بھی جوتوں پر لگی مٹی کے نشان دیکھے اور پھر ریاست خان نے دوسری طرف چھلانگ لگا دی۔
ریاست خان ٹارچ کی تیز روشنی میں پیروں کے نشان تلاش کرتا ہوا اس جگہ تک پہنچ گیا جہاں خرم نے کار کھڑی کی تھی۔ کچی زمین پر کار کے ٹائر کے نشان سڑک پر جاتے ہی معدوم ہوگئے تھے۔ اس صورت حال کو دیکھ کر ریاست خان نے سوچا۔ ’’چوکیدار ٹھیک کہتا ہے کہ یہاں کوئی داخل ہوا تھا۔‘‘
ریاست خان واپس
میں چلا گیا۔ اس نے چوکیدار کا کمرا بغور دیکھا۔ اچانک اس کی نظر چارپائی کے پائے کے پاس زمین پر پڑی۔ وہ جھکا اور اس نے ٹوٹی ہوئی ’’کی چین‘‘ اٹھا لی۔ اس ’’کی چین‘‘ پر ’’پی۔نوے‘‘ لکھا ہوا تھا۔
ریاست خان نے اس ’’کی چین‘‘ کو غور سے دیکھا اور پھر اسے اپنی جیب میں ڈال کر واپس ہادیہ کے گھر پہنچ گیا۔ اس وقت خرم بھی اس گھر میں موجود تھا۔
’’مجھے چند سوال کرنے ہیں۔‘‘ ریاست خان نے ہادیہ سے کہا۔ ’’میرے پاس وقت کم ہے۔ میں آج رات ہی کسی نتیجے پر پہنچنا چاہتا ہوں۔ یہ بتائیں اس جگہ کوئی نقاب پوش آیا تھا؟‘‘
’’میں نہیں جانتی۔‘‘ ہادیہ نے پُراعتماد لہجے میں جواب دیا۔
’’اس نقاب پوش نے چوکیدار سے پوچھا تھا کہ یہاں کون ہے۔ جب چوکیدار نے بتایا کہ یہاں ایک لڑکی قید ہے تو اس نے چابیوں کا گچھا لیا اور ایک ایک کمرا کھول کر دیکھا۔ یقیناً اس نے وہ کمرا بھی کھولا ہوگا، جہاں آپ قید تھیں؟‘‘
’’میرے کمرے کا دروازہ پولیس نے کھولا تھا۔‘‘ ہادیہ کا اعتماد متزلزل ہورہا تھا۔
’’آپ غلط بیانی سے کام لے رہی ہیں۔ کوئی تھا جو آپ کے پاس پہلے پہنچا۔ آپ سوچ لیں۔ میں پھر آپ کی طرف آتا ہوں۔‘‘ ریاست خان کہہ کر ماسٹر رشید کی طرف متوجہ ہوا۔ ’’آپ کو کس نے اطلاع دی تھی کہ یہ لڑکی وہاں قید ہے؟‘‘
’’مجھے فون کال آئی تھی۔‘‘ ماسٹر رشید نے جواب دیا۔
’’میں آپ کا فون دیکھ سکتا ہوں؟‘‘ ریاست خان نے کہا تو ماسٹر رشید نے گھبرائے ہوئے انداز میں اپنا موبائل فون اس کی طرف بڑھا دیا۔ ماسٹر رشید کو کیونکہ خرم نے مہتاب کے فون نمبر سے کال کی تھی، اس لیے نمبر اور وقت سامنے آگیا۔ ریاست خان نے سوچا مہتاب کو اغوا کرنے والا بھی اسی نمبر سے فون کرتا تھا اور جس نے ماسٹر رشید کو اطلاع دی، اس نے بھی مہتاب کا موبائل فون استعمال کیا تھا۔ ریاست خان نے فون واپس کرتے ہوئے خرم کی طرف دیکھا اور پوچھا۔ ’’آپ کون ہیں؟‘‘
’’میں ان کا بیٹا اور ہادیہ کا منگیتر ہوں۔‘‘ خرم نے جواب دیا۔
ریاست خان نے اس کے قریب بیٹھتے ہوئے پوچھا۔ ’’موبائل فون ہے آپ کے پاس؟‘‘
’’میرے پاس موبائل فون نہیں ہے۔‘‘ خرم نے جواب دیا۔
ریاست خان نے اپنی پینٹ کی جیب سے رومال نکالا تو ’’کی چین‘‘ اس کے ساتھ ہی نکل کر نیچے گر گئی جسے پاس موجود ایک اہلکار نے جلدی سے اٹھا کر ریاست خان کو دے دی اور اس نے اسے ایک نظر دیکھ کر جیب میں ڈال لی۔ خرم کی اس پر نظر پڑتے ہی اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ وہ گھبرا گیا۔
کچھ دیر کے بعد ریاست خان واپس چلا گیا اور خرم باہر نکل کر رکشے میں بیٹھا اور اپنے دوست کے گھر پہنچ گیا۔ چوکیدار نے چھوٹی سی کھڑکی سے جھانکا تو خرم بولا۔ ’’مجھے گاڑی چاہیے۔ مجھے پتا چلا ہے کہ اس مکان میں کچھ لوگ گھس کر بیٹھ گئے ہیں، میں پولیس کو ساتھ لے جا رہا ہوں۔‘‘
چوکیدار نے فوراً گیٹ کھول دیا کیونکہ اسے مظہر کی طرف سے حکم تھا کہ وہ خرم کو کسی چیز سے منع نہیں کرے گا۔
خرم نے گاڑی نکالی اور سیدھا کالونی میں پہنچ گیا۔ جس وقت خرم گاڑی اندر کھڑی کرکے گیٹ بند کررہا تھا، اس وقت ریاست خان ’’کی چین‘‘ کی معلومات لے کر اس کالونی کی طرف روانہ ہورہا تھا۔
خرم نے جلدی سے کمرے میں جاکر ٹی وی اسکرین آن کیا اور اس کمرے میں دیکھا جہاں مہتاب کو قید کیا گیا تھا۔ مہتاب کمرے میں ٹہل رہا تھا۔ خرم نے دوسرے کمرے میں جاکر منہ پر ماسک اور ہاتھوں پر دستانے چڑھا کر دروازے سے وہ شیشی نکالی جس میں بے ہوش کرنے کی دوا تھی۔
خرم کمرے میں چلا گیا۔ اس کے پاس وقت نہیں تھا۔ وہ جانتا تھا کہ پولیس کسی بھی وقت وہاں پہنچ سکتی ہے کیونکہ جس رفتار سے ریاست خان اس کیس پر کام کررہا تھا، وہ چین سے بیٹھنے والا نہیں تھا۔
’’تمہارا تاوان ہم نے وصول کرلیا ہے۔ میرے ساتھ چلو، تمہیں آزاد کرنا ہے۔‘‘
’’کھولو مجھے۔‘‘ مہتاب جلدی سے بولا۔
خرم نے شیشی سے تھوڑا سا محلول نکال کر ایک کپڑے پر لگایا اور اس کی طرف دیکھ کر بولا۔ ’’یہاں سے جانے کے لیے تمہیں بے ہوش ہونا پڑے گا۔‘‘
مہتاب چپ کھڑا رہا۔ خرم اس کی طرف برق رفتاری سے بڑھا اور وہ ہاتھ جس میں دوا لگاکپڑا تھا، اس کے منہ پر رکھنا چاہا تو مہتاب نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
’’میں جان چکا ہوں کہ تم اکیلے ہو، تمہارا کوئی اور ساتھی ہوتا تو وہ اس وقت اس کام کے لیے یہاں موجود ہوتا۔‘‘ مہتاب کی


تھی کہ وہ ہاتھ جس میں خرم نے بے ہوشی کی دوا لگا کپڑا پکڑا ہوا تھا، وہ اس کے منہ پر رکھ دے۔ دونوں میں مزاحمت اور زور آزمائی ہونے لگی۔
ریاست خان اپنے آدمیوں کے ساتھ اس کالونی کی طرف بڑھا چلا آرہا تھا اور ادھر دونوں میں زور آزمائی جاری تھی۔ مہتاب اس سے زیادہ طاقتور تھا۔ خرم کی کوشش تھی کہ اگر اس نے کم ہمتی دکھائی تو وہ مہتاب کی جگہ بے ہوش پڑا ہوگا اور جس کھیل کو اس نے رازداری سے کھیلنے کی پوری کوشش کی ہے، وہ ختم ہوجائے گا۔ اس کا راز کھل جائے گا اور پولیس کے ہاتھ اس کا بچنا مشکل ہوجائے گا۔ یہ سوچ کر خرم پوری طاقت کا مظاہرہ کررہا تھا۔ بالآخر وہ کامیاب ہوگیا۔ اس نے مہتاب کے منہ پر دوا کا کپڑا رکھ دیا اور مہتاب چند لمحوں بعد بے ہوش ہوگیا۔
خرم نے جلدی سے اس کی زنجیر کھولی اور اسے کار کی پچھلی سیٹ پر لٹا کر اندر کی طرف بھاگا۔ اس نے جس جگہ مہتاب کو قید کیا تھا، وہاں ہر نشان کو ختم کیا اور ماسک اور دستانے اتار کر ساتھ لے لیے۔ اس نے باہر نکل کر جائزہ لیا۔ دور تک سناٹا اور اندھیرا تھا۔ اس نے کار باہر نکال کر گیٹ بند کیا اور ابھی وہ تھوڑی ہی دور آگے گیا تھا کہ اسے دور روشنی دکھائی دی۔ ریاست خان کی کار کالونی میں داخل ہورہی تھی۔ خرم نے اپنی کار کی ہیڈ لائٹس بند کررکھی تھیں۔ اس نے تیزی سے اسٹیئرنگ گھمایا اور اسے دوسری سڑک پر لے گیا۔ سڑک سے نیچے تین درخت ایک ساتھ کھڑے تھے۔ خرم نے کار ان درختوں کے پیچھے کھڑی کردی۔
ریاست خان کی کار پی۔نوے کا بورڈ دیکھ کر اس مکان کے سامنے رک گئی۔ ریاست خان کے ہاتھ میں ٹارچ تھی۔ اس نے ایک اہلکار کو اشارہ کیا۔ وہ دیوار پر چڑھنے لگا۔ ریاست خان ٹارچ سے نیچے دیکھنے لگا۔ اسے گاڑی کے واضح نشان دکھائی دیئے۔
جو اہلکار دیوار پر چڑھا تھا، اندر کود گیا۔ اس نے اندر جاکر تمام دروازوں کا معائنہ کیا اور واپس دیوار پر چڑھ کر بولا۔ ’’سر! ہر دروازہ لاک ہے۔‘‘
’’واپس آجائو۔‘‘ ریاست خان نے کہا اور فون کرکے پولیس اہلکار بلا لیے جو رات بھر اس مکان کا پہرہ دیں گے۔ پھر وہ گاڑی کے ٹائر کے نشانات دیکھتا ہوا آگے بڑھا۔ ریاست خان اور اس کے اہلکار ٹائر کے نشانات کا تعاقب کرتے ان درختوں تک پہنچ گئے لیکن ان کے آنے سے قبل خرم وہاں سے نکل چکا تھا۔
خرم سیدھا مہتاب کے اس مکان پر پہنچا جہاں اس نے ہادیہ کو رکھا تھا۔ اس نے دائیں بائیں دیکھ کر دیوار پھلانگی اور اندر جاکر بڑے گیٹ کا کنڈا کھول دیا کیونکہ چھوٹا گیٹ باہر سے لاک تھا۔ اس نے مہتاب کو اٹھا کر باہر نکالا اور اندر ایک جگہ لٹا کر اس کے ہاتھ کھولے اور تیزی سے گیٹ کا کنڈا لگا کے دیوار کود کر اپنی کار میں بیٹھا اور مظہر کے گھر کی طرف چلا گیا۔ گاڑی اس کے گھر کھڑی کرنے کے بعد خرم نے چوکیدار سے کہا۔ ’’ایک بہت بڑا مسئلہ ہوگیا ہے۔ مظہر کے گھر کچھ آوارہ لوگوں نے ڈیرے جما لیے تھے، میرے جانے پر وہ بھاگ گئے ہیں لیکن شاید پولیس تفتیش کرتی ہوئی یہاں تک آجائے۔ تم یہی کہنا کہ مظہر صاحب ملک سے باہر ہیں، وہ گھر بالکل خالی ہے۔ وہ آوارہ لوگ تو بھاگ گئے لیکن ہم مشکل میں پھنس جائیں گے… تم میری بات سمجھ گئے؟‘‘
’’آپ بے فکر رہیں، میں ایسا ہی کہوں گا۔‘‘ چوکیدار نے کہا۔
کچھ مزید ہدایت کرنے کے بعد خرم وہاں سے رخصت ہوکر اپنے گھر چلا گیا اور بستر پر لیٹ کر سکون کی سانس لی۔ اچانک وہ پھر اٹھا اور اپنے ساتھ لایا ہوا موبائل فون جو اس نے کراچی میں قید کے دوران اس لڑکے سے لیا تھا، اسے آن کیا اور پھر چینل کے نمائندے کو کال کرکے کہا۔ ’’اہم خبر ہے۔ مہتاب وہیں چھپا ہوا ہے جہاں سے لڑکی برآمد ہوئی تھی۔‘‘ خبر دینے کے بعد خرم نے فون بند کیا۔ اس کی ایک ایک چیز کھول کر الگ کی اور ایک ایک کرکے فلش میں بہا دی۔
٭…٭…٭
ریاست خان کو مزید تفتیش کے لیے نئی کالونی سے اس کے اصل مالک کے گھر تک جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑی کیونکہ اس ٹی وی نمائندے نے اپنی ٹیم کے ساتھ جاکر مہتاب کو تلاش کرلیا تھا جہاں سے ہادیہ ملی تھی۔ پولیس بھی وہاں پہنچ گئی تھی۔ ریاست خان نے اغوا کے الزام میں مہتاب کو گرفتار کرلیا اور اس کی اپنے حق میں چیخ و پکار دب کر رہ گئی۔ سیاست میں بھی ہلچل برپا ہوگئی تھی۔ مہتاب کی سیاسی جماعت اپنا دامن بچانے کے لیے خود اس کے خلاف کھڑی ہوگئی اور یوں مہتاب پر ایک کیس کے بعد کچھ اور
بھی بن گئے کیونکہ وہاں سے کچھ اور ثبوت بھی ملے تھے۔
اب سب کچھ ٹھیک ہوگیا تھا، کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی تھی کہ خرم نے کیا کیا ہے۔ اگلے ماہ اس کی ہادیہ سے شادی تھی۔ اب وہ باقاعدگی سے ماسٹر رشید کے ساتھ دکان پر جانے لگا تھا۔ اداکاری کا شوق ختم ہوگیا تھا۔
مہتاب کئی مقدمات میں پھنس گیا تھا۔ ہادیہ کا اغوا بھی ثابت ہوگیا تھا۔ خرم دو بار مہتاب سے جیل میں ملاقات کر آیا تھا اور ایک بار اس نے اسے کھانا بھی پہنچایا تھا۔
خرم نے اپنے اوپر کوئی داغ نہیں لگنے دیا تھا اور مہتاب کا چھپا چہرہ دکھا کر اسے جیل پہنچا دیا تھا۔(ختم شد)