Saturday, May 18, 2024

Dharkanon Ka Ameen – Episode 1 | Complete Urdu Story

شديد ٹريفک جام ميں وہ بری طرح پھنسے تھے۔
“اف يار ٹائم بہت کم رہ گيا ہے” فرنٹ سيٹ پر بيٹھی۔ ہاتھ ميں بندھی گھڑی ديکھتے ہوۓ۔ وہ کوفت زدہ لہجے ميں ڈرائيونگ سيٹ پر بيٹھے فاران سے مخاطب ہوئ۔
فاران نے ايک نظر اسکے بيزار چہرے پر ڈالی۔ انہيں کورٹ کے لئے دير ہورہی تھی۔
اسی لمحے ٹريفک چل پڑی۔
“افف شکر” آنکھيں تشکر سے بند کرکے جيسے ہی کھوليں نظر سيدھی دائيں جانب سے غلط موڑ کاٹ کر آنے والی گاڑی پر پڑی۔ غلط موڑ کاٹنے کا نتيجہ يہ ہوا کہ اپنےصحيح راستے پر جانے والے ايک موٹر سائيکل سوار سے اس گاڑی کی بری طرح ٹکر ہوئ۔
وہ تو اس موٹر سائيکل والے کی قسمت اچھی تھی کہ موٹر سائيکل تو اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر دور گری۔ وہ خود بھی گرا مگر زندگی بچ گئ۔
يکدم بھيڑ لگ گئ۔
“روکو۔۔ روکو۔۔ اسے تو ميں بتاتی ہوں” وہ فاران سے کہتے ہوۓ۔ گاڑی رکتے ہی مرنے مارنے والے انداز ميں گاڑی سے نکلی۔
تيز قدم وہاں رکے جہاں گاڑی والا موٹر سائيکل سوار کو سخت سست سناتا يہ باور کروا رہا تھا کہ غلطی موٹر سائيکل والے کی ہے۔
“او بھائ صاحب” يماما ماتھے پر تيوری چڑھاۓ گاڑی والے سے مخاطب ہوئ۔
“غلط موڑ کاٹ کر خود آئے اور اسے غريب جان کر اپنی دولت کا رعب جھاڑ رہے ہو” وہ آستينيں اوپر کرتی غرائ۔
بھانت بھانت کی بولياں بولنے والے سب ايک نسوانی مگر کڑک دار آواز پر لمحہ بھر کو سب گنگ رہ گۓ۔
دھان پان سی يماما کی گرج دار آواز نے سب کو ساکت کيا۔
“ايکسکيوزمی ميم۔۔ آپ اس معاملے سے ذرا دور ہی رہيں” گاڑی والا شخص نہايت تڑخ کر بولا۔
“کيوں دور رہوں۔ باپ کی سڑک ہے۔۔۔ دور رہو۔۔” اس کی بات پر پھر سے وہاں خاموشی چھائ۔
“تم جيسوں کی وجہ سے نجانے کتنے مجبور لقمہ اجل بن جاتے ہيں۔ اور کہنے کو يہ ملتا ہے کہ بائيک والے تو بائيک چلاتے نہيں اڑاتے ہيں۔۔۔ ہٹو۔۔ گاڑی کا نمبر نوٹ کروں” ماتھے پر بل ڈالے اسے ايک جانب کرتی نمبر نوٹ کرنے لگی۔
وہ حيران اسکی کاروائ ديکھ رہا تھا۔
بلکہ سبھی حيران تھے۔
“تم سے اگلی ملاقات اب تھانے ميں ہوگی۔” اسے گھوری ڈال کر دھمکی دينے سے باز نہيں آئ۔
” بھائ تم اپنے گھر جاؤ۔ ايسوں کو سيدھا کرنا مجھے خوب آتا ہے” بائيک والے لڑکےسے مخاطب ہوئ جو اب بھيڑ ہٹا کر اپنی بائيک کی جانب بڑھا تھا۔باقی سب حيران تھے۔
“او مس۔۔ نمبر کيوں نوٹ کيا ہے ميری گاڑی کا تمہيں پتہ نہيں مين کون ہوں” يماما کا راستہ روکتے ہوۓ وہ غصے مين بولا۔
“پتہ تو تمہيں نہيں کہ ميں کون ہوں۔ کورٹ ۔۔ کچہری ميں تم جيسے ہزاروں دھمکی لگاتے ہيں۔ ايک کو بھی بخشتی نہيں۔ تم کيا چيز ہو” اسکی آنکھوں ميں آنکھيں ڈالتی اسکی دھمکی کو کسی خاطر ميں لاۓ بغیر گاڑی کی جانب بڑھی۔
“تم کب باز آؤ گی۔ ان حرکتوں سے” فاران اپنے ساتھ والی سيٹ پر اسے بيٹھتے ديکھ کر کڑے تيوروں سے پوچھنے لگا۔
‘کبھی نہيں” وہ مزے سے چہرہ تھوڑا سا اٹھا کر بولی۔
” سنو فاران ميں نے وکالت کی ڈگری اسی لئے حاصل نہيں کی کہ بس کورٹ۔۔ کچہری۔۔ يا پھر اپنے آفس ميں بيٹھ کر لوگوں کے مسئلے حل کرواؤں۔” فاران کے گاڑی چلاتے ہی اسکی بھی زبان فراٹے بھرنے لگی۔
“ہم جس شعبے ميں ہيں۔ اس کا مطلب ہے لوگوں ميں انصاف قائم کرنا۔۔ اور انصاف صرف پيسہ دے کر ہی بانٹنا نہيں ہے۔ مجھے جہاں جہاں بہتر لگا ميں اس انصاف کو پھيلاؤں گی” ونڈ اسکرين کے پار ديکھتے اس کے لہجے ميں جو درد تھا وہ فاران سے چھپا نہيں رہ سکا۔ اسے اپنی يہ دوست بہت عزيز تھی۔
بلکہ عزيز نہيں۔ اس کے لئے بہت خاص فيلنگز اسکے دل ميں تھيں۔ جنہيں يماما ہر مرتبہ جھٹلانے پر تلی رہتی تھی۔
“اچھا يہ بتاؤ تم نے سب پروفس جمع کرلئے ہيں؟” فاران اسے زيادہ دير اس تکليف ميں نہيں ديکھ سکتا تھا جو اس کے چہرے سے اس لمحے ہويدہ تھی۔
“ہاں۔۔اس مرتبہ اس گھٹيا شخص کو چھوڑنا نہيں۔ ايسی عبرت ناک سزا دلوانی ہے کہ اس کی سات پشتيں بھی ياد رکھيں” اس کے لہجے ميں ايک عجيب سا عزم تھا۔
“ان شاءاللہ اس بار يہ نہيں بچے گا” فاران نے بھی صدق دل سے دعا کی۔
__________________
قيديوں کی مخصوص گاڑی ميں اس لمحے بالکل خاموشی چھائ ہوئ تھی۔
قيدی ايک تھا جبکہ پوليس کے آٹھ اہلکار بيٹھے تھے۔
ہاتھوں ميں بھاری بھرکم ہتھکڑياں پہنے ہوۓ بھی وہ اس قدر آرام اور سکون سے بيٹھا تھا جيسے اسے ڈيتھ سيل کی جانب نہيں بلکہ اس کی بارات پر لے جارہے تھے۔
ايک مخصوص شرارتی مسکراہٹ مسلسل اسکے چہرے کا احاطہ کئے ہوۓ تھے۔ سامنے بيٹھے دو اہلکار اسکے جھکے سر کو خشمگيں نگاہوں سے ديکھ رہے تھے۔ کندھوں تک آتے لمبے بال اسکے چہرے پر پڑے ہوۓ تھے۔ آنکھيں جھکی ہوئ تھيں۔ بھاری بھرکم داڑھی اور مونچھوں ميں مسکراتے لب پوليس اہلکاروں کو طيش دلا رہے تھے۔
ان کے سامنے بيٹھا شخص کوئ عام غنڈا موالی نہيں تھا۔
خطرناک دہشتگرد شہنشاہ تھا۔ جس کو پندرہ دن سے پوليس نے قيد کررکھا تھا۔
مگر يہ کوئ پہلی بار نہيں تھا۔ بہت بار اسے قيد کيا اور ہر بار وہ بغير وکيل کے اسی طرح ايک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے کچھ نہ کچھ ايسا گاڑی کے ساتھ کرتا کہ سب کی آنکھوں ميں دھول جھونک کر فرار ہوجاتا۔
اب کی بار پوليس نے اسے پکڑ کر سيدھا ڈيتھ سيل کی جانب روانہ کيا۔ اور اسکے ساتھ آٹھ پوليس اہلکار بھيجے تاکہ اس بار فرار کی کوئ صورت نہ بن سکے۔
گاڑی نے جيسے ہی شہر سے نکل کر ويران راستہ اپنايا پوليس اہلکار اور چوکنا ہو کر بيٹھے۔
“ہمممممم” شہنشاہ نے اب ہولے سے سر نيچے کئے ہوۓ ہی گنگنانا شروع کيا۔
“ابے چپ کر تيری بارات لے کر نہيں جارہے” اسکے ساتھ دائيں جانب بيٹھے پوليس اہلکار نے ايک دھپ اسکی کمر پر رسيد کی۔
شہنشاہ ہولے سے مسکرايا۔ نظريں مسلسل نيچے جھکی تھيں۔
گنگناہٹ بند ہوئ۔
شہنشاہ نے اسی طرح گنگناتے ہوۓ سامنے بيٹھے اہلکار کو نظريں اٹھا کر ديکھا۔
چمکتی سياہ خوبصورت آنکھوں ميں سے شرارت ٹپک رہی تھی۔
پوليس اہلکار اسکے يوں خود کوٹکٹکی باندھ کر ديکھنے پر گڑبڑايا۔
اسی اثناء ميں شہنشاہ نے اسے آنکھ ماری۔ وہ اور گڑبڑايا۔
يکدم گاڑی ہچکولے کھاتی ڈولنے لگی۔
“ابے کيا کررہا ہے” پيچھے بيٹھا ايک اہلکار خود کو سنبھالتے ہوۓ چلايا۔
ابھی وہ سنبھل بھی نہ پائے تھے کہ ايک گاڑی زن سے ان کے قريب سے گزری۔۔ اور بے تحاشا دھواں پوليس کی گاڑی کے آس پاس بکھرا۔۔
لمحوں ميں انکی آنکھوں اور گلے ميں وہ دھواں بھرنا شروع۔۔
بے تحاشا کھانسی چھڑی۔
کسی کو اس غنڈے کا ہوش نہ رہا جسے انہوں نے باحفاظت ڈيتھ سيل پہنچانا تھا۔
سب کو اپنی اپنی پڑ گئ۔ گاڑی سے بھاگتے ہوۓ وہ اترے اور ايسے مقام پر پہنچے جہاں وہ دھواں نہ ہو۔
طبيعت سنبھلی تو ايک افسر کو شہنشاہ کا خيال آيا۔
“ابے او۔۔۔” اس نے پاس کھڑے دو ماتحتوں کو ايک ساتھ تھپڑ رسيد کئے۔
“وہ غنڈہ کہاں دفعان ہوگيا” وہ غرايا۔
“سر جی يہيں تو تھا۔۔
گاڑی ميں ہی بندھا ہوگا۔ اس کا ايک ہاتھ تو ہتھکڑی کے ساتھ ہم نے گاڑی سے باندھ ديا تھا۔ جس وقت ہم اترے ہيں۔ تب اپنا کہاں ہوش تھا کہ اسے کھول کر اتارتے”ايک نے وضاحت دی۔
“سر جی وہ وہيں ہوگا” دوسرے نے تسلی دی۔ جبکہ افسر انہيں گھور کر گاڑی کی جانب تيزی سے بڑھا۔
اور وہی ہوا جس کا اسے شک گزرا تھا۔
وہاں شہنشاہ کی جگہ کھلی ہتھکڑی لٹک رہی تھی۔
“پھر بھاگ نکلا کمينہ” اس نے غصے سے دانت کچکچا کر ايک دو اور گںدی گالياں بھی اسے دے ڈاليں۔ کيونکہ اسے اپنی متوقع بے عزتی ہوم منسٹر کے ہاتھوں ہوتی نظر آرہی تھی۔ جس کی ايما پر انہوں نے شہنشاہ کو پکڑا تھا۔
“اب رو سر پکڑ کر نہيں ہے وہ” باقی سب بھی جيسے ہی گاڑی کی جانب آئے وہ افسر گاڑی کے دروازے پر زور سے ہاتھ مار کر بولا۔
سب منہ لٹکاۓ کھڑے تھے
________________________
اس وقت شديد مصروفيت کا عالم تھا کچھ دير ميں ہی اسے کيس کے سلسلے ميں کورٹ پہنچنا تھا۔
تيزی سے ہاتھ چلاتے وہ سب ثبوت جنہيں اس نے صفحات پر اتار رکھا تھا انہيں اکٹھا کرکے فائل ميں ترتيب سے رکھتی جارہی تھی۔
کل ہی سرتاج ملک کے خلاف اس نے بہت سے ثبوت اکٹھے کئے تھے۔
موبائل پر ہونے والی بيل نے اسکے کام ميں بری طرح خلل ڈالا۔
فائل ميں سب صفحات رکھے جاچکے تھے۔ اس نے فائل اٹھا کر سينے سے لگائ۔ اور ايک ہاتھ سے بيگ اٹھا کر کندھے پر ڈالا اور پھر اسی ہاتھ سے فون پر آنے والی کال کو يس کرکے کان سے لگاتی تيزی سے آفس سے باہر نکلی۔
“ہيلو” اسکی ميٹھی آواز نے دوسری جانب جيسے آگ لگا دی۔
“(گالی) بات سن۔۔ تو جتنی اونچی اڑان بھرنے کی کوشش کررہی ہے۔۔ تو جانتی نہيں مجھے ابھی” گالی سن کر جو اس کا ميٹر آؤٹ ہونے لگا تھا اگلی بات سن کر اعتدال پر واپس آيا۔
“اچھا کيا کروگے۔۔ اغوا کرواؤ گے۔ پھر ريپ کی کوشش کروگے۔۔۔ تم جيسے بزدل اور حرام پيسوں پر پلنے والے اور کر ہی کيا سکتے ہيں” اس کا ٹھنڈا مگر زہر خند لہجہ سرتاج ملک کو مزيد آگ بگولا کر گيا۔
“جب تيرے جسم کا ايک ايک حصہ ميرے پالت نوچ کھائيں گے۔ تب پوچھوں گا کون سی بہادری اور کہاں کی بہادری”اس نے پھر سے اپنے گھٹيا انداز ميں اسے دھمکايا۔۔
“ارے جاؤ۔۔۔ عدالت ميں آکر بات کرو۔۔ يہ گیدڑ بھبھکياں مجھ پر اثر کرنے والی نہيں۔ تم جيسے کمينوں کے لئے ہی يہ ڈگری حاصل کی ہے۔ تمہيں اور تمہارے سارے خاندان کو تمہارے انجام تک نہ پہنچايا نا تو اسی دن اس ڈگری کو آگ لگا دوں گی” اس کا برفيلا اور نڈر لہجہ چند پل کے لئےسرتاج ملک کو خاموش کرواگيا۔
يماما نے اس کے مزيد بولنے سے پہلے فون بند کيا۔ نہ اس کا تنفس تيز چل رہا تھا۔ نہ چہرے پر کسی درشتگی کے آثار تھے۔ پرسکون چہرہ لئے وہ فاران کے ساتھ گاڑی ميں بيٹھی کورٹ کی جانب رواں دواں تھی۔
______________________
“اس کمينی کو چھوڑوں گا نہيں ميں” غصے سے اپنا فون ميز پر پٹختے وہ ہاتھوں کی انگلياں چٹخانے لگا۔
“تم نے پتہ کروايا ہے اس کا بيک گراؤنڈ” اپنے سامنے کھڑے مينجر کو اسی غصيلے انداز ميں پوچھا۔
“جی سر۔۔ آگے پيچھے کوئ نہيں ہے اس کا۔ يتيم خانے کون چھوڑ کر گيا يہ بھی نہيں پتہ۔ بس اتنا معلوم ہوا ہے۔ ہمارے گاؤں کی ہے۔ مگر کس کی اولاد ہے کوئ کاغذات نہيں ہيں۔۔۔باپ کے نام کی جگہ بھی يتيم خانے کے مالک نے اس فيملی کا نام لکھا ہے جو اسے سپانسر کرتی ہے۔ بس اور کوئ ڈيٹيل نہيں ہے اس کی” مينجر نے ساری معلومات ايک ہی سانس ميں سنا ڈاليں۔
“ہمم” اس نے گہرا سانس ليا۔ چند دن ہی ہوئے تھے اس لڑکی کو سرتاج ملک کے خلاف کيس شروع کۓ۔ جس ميں پہلے يماما نے اس کے ناجائز اثاثوں پر اٹيک کيا۔ پھر اسکی اسی کے گاؤں ميں ہونے والی بربريت کے بے شمار قصوں کو دنيا کے سامنے لانا شروع کيا۔
کہيں پر لڑکيوں کو اغوا کرکے انکے ساتھ زيادتی کے قصے تھے تو کسی کی زمين پر ناجائز قبضے کی کہانی۔ کہيں پر گاؤں کے لوگوں کی زمينوں پر ناجائز ملکيت اور ناجائز ٹيکس کے مسئلے تھے تو وہيں ان ميں سے کسی کے آواز اٹھا لينے پر اسے اذيت ناک موت مارنے کے واقعات۔
سرتاج ملک کو سمجھ نہيں آرہی تھی کہ کيسے اس لڑکی کے پاس يہ سب ثبوت اکٹھے ہوۓ۔
شروع شروع ميں اس نے ٹی وی چينلز کی مدد سے اسکے خلاف بنائ گئ ويڈيوز کو عام کرنے کی کوشش کی مگر بہت سے چینلز نے يہ کہہ کر انکار کر ديا کہ وہ ہوم منسٹر کے خلاف يہ سب نہيں چلا سکتے۔
وہاں سے مايوس ہوکر اس نے الگ سے اپنا يو ٹيوب چينل بنايا۔ ٹوئيٹر اور فيس بک کا استعمال کرکے سب ويڈيوز عام کيں۔
مگر سرتاج ملک کے پالتو لوگوں نے وہاں بھی اسے جينے نہ ديا۔ اور پھر اسکے اکاؤنٹس باری باری ہيک کرنا شروع کئے۔
انہی دنوں جب ملک ميں حکومت بدلتے ہی ناجائز جائيداديں رکھنے والوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئ يماما کو گويا موقع مل گيا۔
اس نے کورٹ ميں سرتاج ملک کے خلاف کيس شروع کروا ديا۔
وہ نہيں جانتی تھی کہ کيسے اور کس نے ججوں کا ساتھ ديا۔ مگر سرتاج ملک کے خلاف کيس شروع ہوگيا اور ساتھ ہی اسے کيس چلنے تک اسکی سيٹ سے برطرف کرديا گيا۔
اس نے بہتيرے ہاتھ پاؤں مارے۔۔۔
مختلف گمنام کالز کرکے يماما کو دھمکياں ديں۔۔
نہ صرف يہ بلکہ اسکے فليٹ پر اسکی غير موجودگی ميں بندے بھيج کر اس کی ہر چيز کو توڑ پھوڑ کر رکھ ديا۔
مگر وہ پھر بھی پيچھے نہيں ہٹی۔
فاران نہ صرف اس کا دوست تھا بلکہ اسی فيملی کا سپوت تھا جو اسے بچپن سے اب تک سپانسر کررہے تھے۔
اس نے بھی بہت سمجھايا کہ وہ اپنی جان کو اس قدر خطرے ميں نہ ڈالے مگر يماما کے سر پر ايک ہی دھن سوار تھی۔ سرتاج ملک کی پوری فيملی کو جيل ميں ديکھنے کی۔
________________________
“تم ايسا کچھ نہيں کروگے” پچھلے آدھے گھنٹے سے شمس اس کا غصہ کم کرنے کوشش کررہے تھے۔ مگر وہ تھا کہ ايک عجيب جنون اس پر سوار تھا۔
“ميں اسکی بوٹياں اسی کے پالتو کتوں کو کھلاؤں گا۔ کيا سمجھ کر اس نے دھمکی دی ہے” لال انگارہ آنکھيں سامنے ديوار کو ديکھ رہی تھيں۔ چہرے کی رگيں تنی ہوئ تھيں۔
“ميری طرف ديکھو نائل” اب کی بار انہوں نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسکا رخ اپنی جانب کرنا چاہا۔
جب جب وہ غصے ميں آتا تھا وہ اسے اسی طری قابو کرتے تھے۔
“اس وقت نہيں” وہ انکاری ہوا۔
“نائل” انہوں نے بالآخر زبردستی اس کا رخ اپنی جانب کرکے۔
دونوں ہاتھوں ميں چہرہ پکڑ کر زبردستی اس کا رخ اپنی جانب کيا۔
اس نے چہرہ تو ان کے سامنے کر ليا مگر آنکھيں بند کرليں۔
وہ انہيں چھوٹا سا بچہ لگا۔ وہ ايسے ہی کرتا تھا جب اسے پتہ چلتا شمس اسکے غصے کو زير کرليں گے۔ وہ آنکھيں بند کرليتا۔
“نائل ۔۔ آنکھيں کھولو” اب کی بار انہوں نے اسکے چہرے کو جھٹکا ديا۔
بالآخر ہميشہ کی طرح اسے ہار ماننی پڑی۔
“جب جب تم اپنی عقل پر اپنے جذبات کو حاوی کرتے ہو۔۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحيت ختم ہوجاتی ہے” اسکی آنکھوں ميں ديکھ کر وہ اسے بہت کچھ باور کروا رہے تھے۔
اس کا غصہ يک لخت ختم ہوا تھا۔ اور ہر بار ايسا ہوتا۔ نجانے ان کی آنکھوں ميں کيا جادو تھا يا کيا محبت تھی کہ نائل جب غصے کی حالت ميں انکی جانب ديکھ ليتا سارا غصہ ختم ہوجاتا۔
“وہ ميرا اس دنيا ميں واحد رشتہ ہے” اسکی آنکھوں کی بے بسی انہوں نے اپنے دل پر محسوس کی۔
“ميں جانتا ہوں۔ اسی لئے۔۔ تمہيں عقل سے کام لينا ہے جذبات سے نہيں۔۔ورنہ اسے بھی کھو دوگے” ان کی بات پر اسکا درد انتہاؤں کو چھو گيا۔
کرب سے اس نے آنکھيں چند لمحوں کے لئے بند کيں۔ شمس نے بڑھ کر اسکی روشن پيشانی چوم لی۔
“تم مجھے بہت عزيز ہو۔۔ميں تمہيں اس طرح۔۔ اتنی تکليف ميں نہيں ديکھ سکتا۔ کيا ميں نے اتنے سال تمہيں يہی سکھايا ہے؟” انکی بات پر اس نے آنکھيں کھول کر اپنی کالی گہری آنکھوں سے انہيں ديکھا۔
“نہيں” ضبط سے وہ بمشکل يہی کہہ سکا۔ جو مان انہيں اس پر تو وہ کيسے اس مان کو توڑ ديتا۔
“تو بس پھر خود کو تيار کرو۔۔ ايک نئ جنگ کے لئے۔۔ تمہارے لئے ميں جتنے پاپڑ بيلتا ہوں۔ کسی کو خبر بھی ہوگئ نا۔ تو مجھے اور ميرے کارندوں کو اندر ڈال ديں گے۔” ان کی بات پر ايک پھيکی سی مسکراہٹ اسکے چہرے پر بکھری۔
“ميں کبھی اسے نزديک سے ديکھ پاؤں گا؟” اس کا ذہن ابھی بھی اسی ميں اٹکا ہوا تھا۔
“ان شاءاللہ بہت جلد۔۔تمہيں مجھ پر بھروسہ ہے نا۔۔۔ميں موقع ديکھتے ہی اسے تمہارے پاس لے آؤں گا۔ فکر مت کرو۔۔ جتنی مجھے تمہاری فکر ہے ۔۔اتنی ہی تم سے جڑی اس ہستی کی بھی فکر ہے۔۔مگر تمہيں وعدہ کرنا ہوگا۔ کہ جذبات نہيں عقلمندی سے کام لوگے” اب وہ اس کے چہرے سے ہاتھ ہٹا چکے تھے۔ وہ بھی سيدھا ہو کر اثبات ميں سر ہلا کر رہ گيا۔
“تم تو ميرے شير ہو۔۔ ميرے چيتے ہو۔۔ پھر يہ گدھوں والی حرکتوں پر کيوں اتر آئے” اب وہ اسے اچھی طرح لتاڑ رہے تھے۔
اس نے خفگی سے انہيں ديکھا۔
اور پھر اپنی جاندار مسکراہٹ کی چھب دکھلائ۔
“جذبات بڑے بڑوں کو گدھا بنا ديتے ہيں سر۔۔” اسکی بات پر شمس نے اسکے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسے پھر سے اپنے ساتھ لپٹايا۔
وہ انہيں بے حد پيارا تھا۔ ايک ہی تو اولاد تھی ان کی۔ اللہ نے کسی معجزے کے تحت انہيں نائل نوازا تھا وہ کيسے اسے تکليف ميں ديکھتے

Latest Posts

Related POSTS