Dharkanon Ka Ameen – Episode 11 | Complete Urdu Story

210

وہاج نے فارم ہاؤس فون کرکے جوں ہی سب معلومات ليں۔ فورا سے پيشتر وہ گاؤں کے لئے نکل کھڑا ہوا۔ حويلی جانے کی بجاۓ وہ سيدھا فارم ہاؤس ہی پہنچا تھا۔
“کدھر مرے ہوۓ تھے تم سب کے سب۔۔ يا پھر ستو اور افہيم پی کر سوۓ پڑے تھے” سب ملازموں کو لائن حاضر کرکے اس وقت وہ ان پر دھاڑ رہا تھا۔
سب سر نيچے جھکاۓ اپنی بے عزتی کروا رہے تھے۔
جتنے گارڈز تھے ان ميں سے ايک بھی نہيں بچا تھا۔ سب کوئ گولياں ايسی جگہوں پر ماری تھيں کہ وہ سيدھا موت کی نيند جا سوئے تھے۔
يقينا کسی نے اس کے ملازموں کو جان بوجھ کر اسی لئے چھوڑا تھا کہ وہاج کو سبق مل سکے۔
وہ اس وقت سر پکڑ کر بيٹھا ہوا تھا۔ خفيہ ايجنسی جب کسی کے پيچھے لگ جاۓ پھر تو قبر سے بھی نکال لاتی ہے۔
اس نے کچھ سوچتے ہوۓ کسی کو فون ملايا۔
“ہيلو۔۔ ہاں شکور ايک کام کرو آج رات جو ٹرک بارڈر پار بھيجنے تھے انہيں روک لو۔ مخبری ہوچکی ہے۔ اور تو اور ميرے بيٹے کو بھی خفيہ ايجنسی والے پکڑ کر لے گۓ ہيں۔” وہ فون پر کسی کو ہدايات دے رہا تھا۔
“کيا کہہ رہے ہيں سر جی” دوسری جانب سے خوف اور وحشت سے ملی جلی آواز ابھری۔
“صحيح کہہ رہا ہوں” وہ بيزار لہجے ميں بولا۔
“تو سر پھر تو ہئيروئن کو گودام ميں بھی رکھنا خطرے سے خالی نہين” اس نے اپنے تئيں مشورہ ديا۔
“تو کيا کروں۔۔ ہاں۔۔ اپنے سر پر سجا کے پھروں۔ بلکہ ايک کام کروسب کی سب کھا کر اپنے پيٹ ميں محفوظ کرلو۔۔۔ الو کے۔۔” گاليوں کی بوچھاڑ کرتا وہ شکور کو بھی بے نقط سنا گيا۔
“دفع ہوجاؤ تم سب کے سب يہاں سے” شکور کو لعن طعن کرنے کے بعد بھی دل نہ بھرا تو سامنے کھڑے ملازموں پر پھر سے بھڑاس نکالی۔
وہ سب کے سب سر پٹ بھاگے۔ايسے جيسے اسی انتظار ميں تھے۔
“ابھی فی الحال گودام ميں ہی رکھو۔۔” شکور کو ہدايت کرکے غصے سے فون بند کيا۔
ايک طرف کيس لٹکا پڑا تھا اور اب يہ دوسرا مسئلہ کھل گيا تھا۔
_____________________
بارش رکنے کا نام نہيں لے رہی تھی۔
جس گھر ميں نائل اور يماما رکے تھے وہ وہاں کے مقامی لوگوں کا ہی تھا۔
نائل کو مردان خانے ميں لے جايا گيا تھا اور يماما کو زنانے حصے کی جانب۔
عورتوں وہاں کا مقامی لباس پہنے۔ دوپٹے کو سختی سے سر پر ڈھکے يماما کے اردگرد بيٹھی اسے گھورنے ميں مصروف تھيں۔اور کچھ اس کی خاطر داری کررہی تھيں۔
“تم امرا زبان نہ بولے” ان عورتوں ميں سے ايک نے ٹوٹی پھوٹی اردو ميں يماما سے سوال کيا۔
“نہيں اور نہ ہی مجھے سمجھ آتی ہے” يماما نے شکر کا سانس ليا کہ کوئ تو اردو بولنے والی ملی۔
“تم۔ کد کا” يماما کو اسکے ‘کد’ کی سمجھ نہيں آئ۔
ہونق شکل بنا کر اسکی جانب ديکھا۔ پھر پہلے سوال سے اس سوال کا رشتہ جوڑتے اسے سمجھ آئ کہ وہ ‘کدھر’ کو ‘کد’ بول رہی ہے۔
“ميں شہر سے ہوں۔۔۔کراچی سے” بڑی مشکل سے اسکے سوال کا متن سمجھ کر يماما نے مسکراتے ہوۓ جواب ديا۔
نائل نجانے کس جانب تھا۔ بہت بڑی سی حويلی نما گھر تھا۔ کمرے ہی کمرے۔ شام آہستہ آہستہ گہری ہو رہی تھی اور اسی طرح رات بھی۔
ابھی يماما شدت سے دعا کرہی رہی تھی کہ نائل کا کوئ بلاوا آجاۓ کہ دروازے پر دستک ہوئ۔
ان ميں سے ايک دروازے کے پاس گئ۔
واپس آکر اس نے اسی لڑکی کے کان مين کچھ کہا جسے تھوڑی سی اردو بولنی آتی تھی۔
“ترا۔۔بندہ اے۔۔جا” اس نے دروازے کی جانب اشارہ کرکے نائل کی موجودگی کی خبر دی۔
يماما شکر کی سانس خارج کرتے ہوۓ تيزی سے دروازے کی جانب لپکی۔ باقی سب فورا کسی دوسرے کمرے ميں چلی گئيں۔
“آجائيں” يماما نے پردہ اٹھا کر نائل کو اندر آنے کا کہا۔
“يہ ہم کدھر آگۓ ہيں۔ مجھے ان کی سمجھ ہی نہيں آرہی۔۔ نہ انہيں ميری۔ اوپر سے آپ بھی پتہ نہيں کس کمرے ميں ہيں۔ مجھے وحشت ہورہی ہے۔ بارش کچھ کم ہوئ ہے۔ ہم کہين اور چلتے ہيں” يماما جو کب سے بے صبری سے بيٹھی نائل کے آنے کی منتظر تھی۔ اپنی بے صبری کا اظہار بہت سارے سوالوں سے کر گئ۔
“ميری جان ہم يہاں ہنی مون پر نہيں آۓ کہ چوائسز ڈھونڈيں۔ ابھی مجبوری ہے۔ اور ميں نہيں چاہتا ميرے ساتھ تم بھی کسی مشکل ميں پھنسو۔” نائل کی بات پر يماما کا منہ بنا۔ اس سچوئيشن ميں بھی اسے مذاق سوجھ رہے تھے۔
“اور جہاں تک بات ہے بارش کی۔ تو يہاں کی بارشيں تو کب رکيں۔ يہ کوئ نہيں جانتا۔ لينڈ سلائيڈنگ کے چانسز بہت ہوتے ہيں۔ اسی لئے يہاں سے نکلنے کا رسک بھی ميں نہيں لے سکتا۔” اس نے سہولت سے اسے انکار کرکے گويا ہری جھنڈی دکھائ۔
“تو کيا ضرورت تھی مجھے اغوا کرکے ايسے علاقے ميں لانے کی” اب کی بار يماما نے اپنی ساری کھولن نکالی۔
نائل نے بڑی مشکل سے يماما کی بے ساختگی پر اپنے قہقہے کا گلا گھونٹا۔
“بس اس وقت عقل گھاس چرنے گئ ہوئ تھی۔ ويسے بھی عشق جب سر پر چڑھتا ہے تو عقل سالم نگل ليتا ہے” اس کی گہری نظروں کے مفہوم پر يماما کو احساس ہوا وہ کيا بول گئ ہے۔ اور کہاں پر نائل کو چھيڑنے کی غلطی کر بيٹھی ہے۔ ان چند گھنٹوں ميں اسے اتنا تو اندازہ ہوگيا تھا کہ شہنشاہ کے روپ ميں جو جو اظہار اس نے کئے تھے۔ وہ جھوٹ ہر گز نہيں تھے۔ وہ نائل کے روپ ميں بھی بے باک اور کھل کر اظہار کرنے والا تھا۔
“آپ کو اندازہ ہے ميں تين دن سے انہی کپڑوں ميں ہوں” اس کی بات کا اثر زائل کرنے کے لئے توجہ کہيں اور مبذول کی۔
“جی بالکل ۔۔۔ اور انہی کپڑوں ميں ايسی دل کو بھائ کہ تمہيں کپڑے بدلنے کا موقع دئيے بغير اسی حالت ميں اٹھا ليا۔ اور يقين کرو۔۔ تين دن کے بعد بھی اسی سر جھاڑ منہ پھاڑ حالت ميں سيدھا دل ميں اتر رہی ہو” نائل کہاں باز آنے والوں ميں سے تھا۔۔۔
يماما جتنا مرضی منہ بگاڑ رہی تھی۔ وہ اپنی کہنے سے ہٹنے والوں ميں سے تو تھا ہی نہيں۔
اب کی بار يماما نے تيوری چڑھائ۔
“فضول باتوں سے پرہيز کريں۔۔ اور مجھے کوئ حل بتائيں” نائل کی شوخ مسکراہٹ مسلسل اسکے چہرے کا احاطہ کئيے ہوۓ تھی۔
“اچھا ابھی تو کھانا کھا لو۔۔ پھر يہ لوگ ہميں ايک ہی روم ميں شفٹ کرديں گے۔ وہاں ميں اس کا حل بھی بتاؤں گا” نائل نے بات سميٹ کر باہر کی جانب قدم بڑھائے۔
يماما کچھ کہتے کہتے رہ گئ۔ منہ بنا کر واپس اندر کی جانب بڑھی۔
_________________________
فاران کچھ دير پہلے ہی وقار پر کئے جانے والا کيس فائنل کرکے ليٹا تھا۔
اسکی آنکھ لگے ابھی آدھا گھنٹا ہی گزرا تھا کہ موبائل بجنے کی آواز آئ۔
نيںد گہری تھی اسے يہ سمجھنے ميں کچھ دير لگی کہ اسکے بيڈ کے سائيڈ ٹيبل پر رکھا موبائل زور و شور سے بج رہا ہے۔
آنکھيں ملتے آخر اس نے چھٹی بيل پر فون اٹھا ليا۔
“ہيلو” نيند سے آواز بے حد بھاری ہورہی تھی۔
“ہيلو فاران۔۔ ميں کاشف بات کررہا ہوں” يہ اسی تفتيشی آفيسر کا دوست تھا جو اس وقت يماما کا موبائل ٹريس کرکے اس علاقے ميں پہنچے تھے۔
“جی جی سر۔۔ کيسے ہيں آپ۔۔ کوئ خبر؟” کاشف کا نام سن کر وہ يکدم سيدھا ہوکر بيٹھا۔
“شايد قاتل بہت ہوشيار ہے۔ اس نے اپنا اڈہ پہاڑوں مين بنايا ہوا تھا۔ اڈہ کيا ہے بڑا سا ايک کاٹيج ہے۔ مگر وہ وہاں سے بھاگ چکا ہے۔” اسکی بات پر فاران کا جوش يکدم سرد پڑا۔
“ليکن ايک اور اہم خبر ہے” اسکی بات پر جہاں وہ مايوس ہوگيا تھا يکدم چونکا۔
“جی جی بتائيں پليز” وہ فورا الرٹ ہوا۔
“وہاں سے ايک بندہ ہم نے پکڑ ليا ہے اور يہ وہی بندہ ہے جو اس دن يماما کی گاڑی کا نہ صرف تعاقب کررہا تھا بلکہ يہی يماما کو ہاسپٹل لے کر گيا تھا۔ اور تو اور ۔ اس نے يماما کی گاڑی کے پہئيوں کی ہوا بھی نکالی تھی” فاران کے لئے يہ خبر واقعی اہم تھی۔
“ہم نے اسے اپنی تحويل ميں لے ليا ہے۔ يہاں کا موسم کچھ خراب ہے۔ بارش ہے بہت تيز۔ جيسے ہی رکتی ہے ہم واپسی کے لئے نکل آئيں گے۔ اميد ہے يہ بندہ ہمارے لئے کارآمد ثابت ہوگا۔ اور کسی نہ کسی طرح يہ ہمين يماما کے قاتل تک پہنچا دے گا” وہ اپنا تجزيہ بتانے لگا۔
“جی سر يقينا۔ ميں شدت سے آپکی واپسی کا منتظر ہوں۔ اب تو ہمارا کيس اور بھی مضبوط ہوجاۓ گا” وہ اٹل لہجے ميں بولا۔
“بالکل۔۔ چليں پھر کل ملتے ہيں ان شاء اللہ” رسمی سی بات چيت کے بعد فون بند ہو گيا۔
فاران نے کچھ سکھ کا سانس ليا۔ وہ جلد از جلد يماما کے قاتل کو تختہ دار پر لٹکانا چاہتا تھا۔
جہاں يہ خبر اسکے لئے اطمينان کا باعث بنی وہيں ايک بار پھر يماما کی يادوں نے پوری طرح اسے اپنے گھيرے ميں لے ليا۔
اب يقينا باقی کی رات اسی ياد ميں گزرنی تھی۔ ايک سرد آہ بھر کر وہ واپس اپنے تکيے پر سر رکھ کر ليٹ گيا۔ مگر اب نيند کہاں آنی تھی۔ موبائل کھول کر يماما کی تصويروں کی گيلری کھولی۔
________________________
رات ميں کھانا کھلانے کے بعد وہاں کے گھر والوں نے ان دونوں کے لئے الگ سے ايک کمرے کا انتظام کرديا تھا۔
يماما کو وہی اردو بولنے والی لڑکی اس کمرے ميں چھوڑ کر گئ۔ يماما کے پوچھنے پر اس نے بتايا کے اس کا نام رشتينہ ہے۔
وہ کامنی سی لڑکی يماما کو بے حد اچھی لگی۔
“تم سو۔۔ صب ۔۔مليں گا” وہ يماما سے ہاتھ ملا کر اسکے ہاتھ کی پشت پر بوسہ دے کر باہر چلی گئ۔
ان سب نے يماما کے ساتھ اسی طرح ہاتھ ملايا تھا۔ شايد يہ وہاں کے لوگوں کا مہمانداری کا ايک انداز تھا۔
اسکے باہر جاتے ہی يماما نے سکھ کا سانس ليا۔ گھوم کر کمرہ ديکھا۔ کمرے کے وسط ميں دو پلنگ جوڑ کر انہيں ايک بيڈ کی شکل دی گئ تھی۔
باقی کے کمرے ميں ايک ٹيبل اور ايک کرسی موجود تھی۔ ٹيبل پر نمک کا بنا ليمپ موجود تھا۔ ساتھ ميں پانی سے بھرا جگ اور گلاس۔
پلنگ پر رضائ تھی۔ کمرے کے دائيں جانب بنی ديوار پر کھڑکی موجود تھی جو کہ اس وقت سختی سے بند کی گئ تھی۔ پلنگ کے بالکل سامنے آتش دان بنايا گيا تھا۔ جس ميں لکڑياں جلا کر کمرے کو گرم کيا گيا۔ اس علاقے ميں اس وقت شديد سردی تھی۔
يا شايد يماما کو زيادہ محسوس ہو رہی تھی۔ ميدانی علاقے کے لوگوں کو ويسے بھی پہاڑی علاقوں کی ذرا سی سردی بھی بہت محسوس ہوتی ہے۔
يماما نے اس وقت بھی وہی تين دن پرانا نيٹ کا کالا سوٹ پہن رکھا تھا۔
اور اس سوٹ ميں اب اسے شديد ٹھنڈ لگ رہی تھی۔
جلدی سے بيڈ پر بيٹھ کر لحاف ميں گھس گئ۔
کچھ ہی دير بعد دروازے پر ناک ہوا۔
يماما چونکی۔
اسکے کچھ کہنے سے پہلے ہی نائل دروازے ميں نمودار ہوا۔ ہاتھ ميں وہی بيگ تھاما ہوا تھا جو گاڑی سے اترتے وقت اسکے ہاتھ ميں تھا
“اف شکر آپ آگۓ” يماما نے بے ساختہ کہا۔
“لڑکی محبت کا اظہار يوں پرائ جگہوں پر نہيں کرتے” نائل دروازہ بند کرکے شرارتی مسکراہٹ اس پر اچھالتے بيڈ پر آکر اسکے مقابل بيٹھا۔
“اب ميرے مسئلے کا حل۔۔۔۔” يماما نے اسکی توجہ پھر سے اپنے سوٹ کی جانب دلائ۔
“ديکھو اس بيگ ميں صرف ميرے کپڑے ہيں۔ انہی سے گزارا کرسکتی ہو تو کرلو۔ اب يہ کوئ کہانی تو ہے نہيں کہ ميں ہيرو کی طرح اس پہاڑی علاقے ميں کہيں سے بھی اپنی ہيئروئن کے لئے کپڑے ايجاد کرليتا۔” وہ مزے سے کہہ کر يماما کی چڑچڑی شکل ديکھنے لگا۔
“مجھے اغوا کرتے وقت ہی ميری وارڈروب سے چںد کپڑے اٹھوا ليتے” يماما مزے سے اسے مشورہ دينے لگی۔ اس طرح کی سچويشنز ميں بھی يماما جيسی کا ہی دماغ چل سکتا تھا۔
“واہ ۔۔۔ اغوا کروا رہا تھا کہ پکنک پے لے کر جارہا تھا” نائل اسے گھور کر بولا۔ جس پر خاطر خواہ اثر نہ ہوا۔
مزے سے اسکا بيگ ہاتھ سے لے کر چيک کرنے لگی۔ جس ميں ايک ٹراؤذر اور سويٹ شرٹ بالآخر اسے مل ہی گئ۔ دونوں چيزيں گو کہ تھوڑی لمبی تھيں۔ مگر گزارا تو کرنا تھا۔
“اب مجھے يہ پہننی ہيں” ايک نيا مسئلہ۔۔
“يہاں اٹيچ واش روم نہيں ہے؟” يماما نے ادھر ادھر ديکھ کر کہا۔
“ہم کسی ہوٹل ميں نہيں ہيں” نائل بيڈ پر آڑھا ترچھا ليٹ گيا۔ جو پگ سی پہن رکھی تھی وہ آتے ہی اس نے اتار کر ٹيبل پر رکھ دی تھی۔
“ميں باہر جاتا ہوں ۔۔ تم چينج کرلو” نائل فورا اٹھ کر باہر نکل گيا۔
يماما نے شکر کرتے جلدی سے کپڑے چينج کئے۔
کچھ دير بعد پھر سے دروازے پر دستک ہوئ۔
“آجائيں” يماما ايک بار پھر لحاف کے اندر تھی۔ کپڑے تہہ کرکے بيگ ميں ڈال دئيے۔
“اب ريليکس ہو؟” نائل نے اندر آتے اب کی بار چٹخنی چڑھاتے اس سے سوال کيا۔
“اففف بہت” يماما نے سکھ کی سانس ليتے ہوۓ کہا۔
“ليکن صبح اپنے کپڑے پہن لينا۔ يہ لوگ اتنی ماڈرن اپروچ کے نہيں ہيں۔ کہ تمہارا يہ حليہ آرام سے ہضم کرليں۔”يماما کے دوسری جانب ليٹتے ہوۓ اس نے تنبيہہ کی۔
اسے آنکھيں بند کرتے ديکھ کر يماما نے جلدی سے کپڑے بيگ ميں رکھ کر بيگ پلنگ کے پاس رکھا۔
“نائل آپ سونے کيوں لگے ہيں” وہ اسے آنکھوں پر بازو رکھتا ديکھ کر جلدی سے اسکی جانب مڑی۔
“اسی لئے کے رات سونے کے لئے ہی ہوتی ہے۔۔ جلسے کرنے کے لئے تو نہيں” نائل کے جواب پر وہ برا سا منہ بنا کر رہ گئ۔ وہ نائل جو اس کا آئيڈيل تھا۔ جسے اسے بہت پہلے سے عشق تھا وہ ايسا تو نہيں تھا۔
وہ تو ہر لمحہ يماما کا دھيان کرنے والا تھا۔
اور يہ نائل۔۔۔ يہ تو اسکی ہر بات کا الٹا جواب ديتا تھا۔
“آپ بدل گئے ہيں” وہ رہانسی لہجے ميں بولی۔
“کيا ہماری شادی کو دس سال گزر گۓ ہيں؟” نائل نے بازو سے ہاتھ ہٹا کر حيرت سے اسے ديکھتے پوچھا۔
“نائل کيا۔۔۔ مسئلہ ہے۔۔ آپ کسی بات کا سيدھی طرح جواب نہيں دے سکتے” اب کی بار وہ شديد چڑچڑے لہجے ميں بولی۔
“يار اس وقت بہت شديد نيند آرہی ہے۔ تمہيں سب کچھ بتاؤں گا۔ مگر ابھی سونے دو۔۔ صبح بہت لمبا سفر کرنا ہے۔ کل کی رات بھی ميں ايک لمحے کے لئے نہيں سويا۔۔” نائل نے نيند سے سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے ديکھتے ہوۓ منت بھرے لہجے ميں کہا۔
“اچھا ٹھيک ہے۔۔ ” يماما کو اس پر ترس آ ہی گيا۔
“صرف اتنا بتا ديں شہنشاہ زندہ ہے کہ مر گيا” چند سال پہلے اس نے خبر پڑھی تھی کہ شہنشاہ کو مار ديا گيا ہے۔ مگر پھر پتہ چلا خبر جھوٹی تھی۔ اور اب نائل اس روپ ميں تھا۔۔۔ کيا معمہ تھا۔
“چند سال پہلے اسکے گروہ کو مار ديا گيا تھا۔ مگر ميں نے اس کا روپ دھار ليا تھا۔ اور کيوں دھارا تھا يہ نہيں بتا سکتا۔ ہاں مگر يہ ياد رکھنا اس روپ ميں اب اچھے کام ہوتے ہيں برے نہيں۔” نائل نے بند آنکھون سے سب بات کلئير کی۔ يماما نے تشکر بھرا سانس فضا کے سپرد کيا۔
اسے يہی ڈر تھا کہ کہيں نائل غلط کاموں ميں نہ پڑ گيا ہو۔
“لائٹ بند کرکے يہ ليمپ آن کردو” وہاں موجود ديوار سے لٹکتے بلب کی جانب اشارہ کرتے نائل نے کہا۔
يماما نے اٹھ کر ليمپ آن کيا۔ لائٹ بند کی۔
نائل تب تک نيند ميں جاچکا تھا۔
اور يماما اسکے قريب ليٹ کر اب بھی بے يقين نظروں سے اسے ديکھ رہی تھی کہ اس کا کوئ بہت اپنا اسکے قريب اس کی حفاظت کرنے کے لئے موجود ہے۔ وہ اب اس دنيا ميں اکيلی نہيں۔ وہ جو ہر لمحہ اسکی ہر سانس ميں زندہ رہتا تھا وہ حقيقت ميں زندہ اور مجسم اسکے سامنے اسکے پاس چند انچ کے فاصلے پر ليٹا تھا۔
يماما نے تکيے پر رکھے اسکے ہاتھ پر جھجھکتے ہوۓ ہاتھ رکھ ديا۔
يکدم اسے اپنے ہاتھ پر نائل کی مضبوط گرفت محسوس ہوئ۔
“سو جاؤ” اسکے ہاتھ کو دباتے ہوۓ بند آنکھوں سے ہی اس نے مشورہ ديا يا حکم سنايا يماما کو سمجھ نہيں آئ۔
“آپ جاگ رہے تھے؟”يماما نے حيرت سے پوچھا۔
“ہم سوتے ميں بھی جاگ رہے ہوتے ہيں۔۔ ڈونٹ وری”ذرا سی آنکھيں کھول کر اسکے چہرے پر اپنا ہاتھ پھير کر اسی کی جانب کروٹ لی۔
يماما کا ہاتھ اب بھی اسکے ہاتھ ميں تھا۔
يماما کشمکش ميں پڑتی آنکھيں بند کرگئ۔
Home in the valley
Home in the city
Home isn’t pretty
Ain’t no home for me
Home in the darkness
Home on the highway
Home isn’t my way
Home I’ll never be
Burn out the day
Burn out the night
Burn out the day
Burn out the night
And I’m burnin’, I’m burnin’, I’m burnin’ for you