Dharkanon Ka Ameen – Episode 18 | Complete Urdu Story

422

ان دنوں نواز نائل کو اپنے ساتھ شہر لے جا چکے تھے۔ ملکوں کی جانب سے مسلسل محمد بخش کو دھمکياں مل رہی تھيں کہ اگر بيٹے کو نہ روکا تو اس کے پورے خاندان کو برباد کر ديں گے۔
دو دن سے مسلسل اسے گھر سے فون آرہے تھے۔ نائل کو لئے وہ کچھ دنوں کے لئے گھر آيا۔
گھر آيا تو معلوم ہوا ايک قيامت آکر گزری ہے۔ محمد بخش کی بيٹی کو ملکوں نے اٹھوا ليا تھا۔ اور غم يہ تھا کہ کوئ پوچھنے والا بھی نہ تھا۔
گھر پہنچے تو ماتم کی صورتحال تھی۔
“تجھے دو دن سے فون کررہے تھے۔ کہ وہ ہمارے گرد گھيرا تنگ کررہا ہے۔ کچھ کر۔۔”نواز سر جھکاۓ باپ کے قريب بيٹھا تھا۔ سب بڑے اور بچے اس وقت غم زدہ سے وہاں بيٹھے تھے۔
“يہ کون سی اندھير نگری ہے جہاں يہ سب ہوتا ہے ميں خود ملکوں کی طرف جاؤں گا۔ چليں آپ ميرے ساتھ” باپ کے جھکے کندھے ديکھ کر اس کے دل پر چھرياں چل رہی تھيں۔
“ابھی تو ہماری بيٹی کو صرف اغوا کيا ہے۔ اس کا تاوان تيری ڈگری چھوڑنا ہے” محمد بخش اپنے کندھے پر پڑے رومال کو منہ پر رکھ کر پھپھک کر رو پڑا۔
“آپ چليں ميرے ساتھ۔۔ بہن کی عزت سے بڑھ کر کچھ نہيں ہے” وہ باپ کو اٹھاتے ہوۓ حويلی کی جانب چل پڑا۔
کچھ دير بعد ہی وہ ملکوں کے سامنے موجود تھا۔
باپ فقيروں کی طرح انکے پيروں ميں بيٹا تھا۔ نواز کا دل کٹ گيا۔ وہ کھڑا ہی رہا۔
“ميں اپنی ڈگری چھوڑنے کا وعدہ کرتا ہوں۔ ميری بہن کو چھوڑ دو” نظريں نيچی کئے اس نے بڑی مشکل سے يہ الفاظ ادا کئے۔
وہاج سامنے کرسی پر بڑے طمطراق سے بيٹھا مونچھوں کو تاؤ دے رہا تھا۔
ٹانگ پر ٹانگ رکھے غصے سے اسکے چہرے کو ديکھ رہا تھا جہاں غلاموں والے کوئ آثار نہيں تھے۔ نہ بے بسی جھلک رہی تھی اور نہ ہی انکے جاہ وجلال سے خوف کھاتی پرچھائياں تھيں۔
“پہلے گڑگڑا ہمارے سامنے” وہاج کی آنکھوں سے اس لمحے چنگارياں نکل رہی تھيں۔
نواز نے نظر اٹھا کر ايک نظر اسے ديکھا۔
بہن ان کی تحويل ميں نہ ہوتی تو منہ توڑ کر رکھ ديتا ايسے فرعون کا۔
“ہاتھ جوڑ” اب کی بار سرتاج دھاڑا۔
اس نے ايک سپاٹ نظر ان دونوں بھائيوں پر ڈالی۔
ميکانکی انداز ميں ہاتھ جوڑے
“ميری بہن کو چھوڑ دو” بے تاثر لہجے ميں اپنا مدعا پھر سے بيان کيا۔
اسکے عمل پر دونوں کے چہروں پر فاتحانہ مسکراہٹ بکھری۔
“جاؤ لے کر آؤ اس کی بہن کو۔۔ اور ياد رکھ يہ صرف ٹريلر تھا۔ ہماری بات سے منحرف ہونے پر۔۔ اگر ہميں معلوم ہوا کہ تو اپنی ضد پر ڈٹا ہے تب تيری بہن کيا۔ خاندان کی عزت کی گارنٹی ہم نہيں ديں گے۔۔ تيرے باپ نے ہمارے يہاں بہت کام کيا ہے صرف اسی کی لاج رکھی
ورنہ تيری اوقات نہيں تھی کہ ہم تيری بہن کو ويسے ہی واپس کرتے جيسے اٹھوايا تھا” سفاک لہجے ميں کہے جانے والی باتوں نے نواز کے فشار خون کو بڑھا ديا۔
دل تو کيا اپنی بہن کے بارے ميں بولے جانے والے ان نازيبا الفاظ پر سامنے موجود شخص کا خون کر دے۔ مگر ابھی جوش سے کام لينےکا وقت نہيں تھا۔
______________________________
زيبا کے خير و عافيت سے واپس آتے ہی سب نے سکھ کا سانس ليا۔
سب کا ارادہ يہی تھا کہ جلد از جلد اسکی شادی کروا دی جاۓ۔
سب پرسکون تھے سواۓ نواز کے اس کا برسوں کا خواب ادھورا رہ گيا تھا۔
وہ بے حد خاموش رہنے لگا۔
کافی دنوں سے وہ شہر بھی نہيں جارہا تھا۔ نائل کو اس نے واپس بھيج ديا تھا۔ مگر خود وہ ابھی گاؤں ميں ہی تھا۔
انہی دنوں ايک بہتر رشتہ ديکھ کر محمد بخش نے زيبا کی شادی جلد ازجلد کرنےکا سوچا۔
شام ميں ہی لڑکے والے رشتہ پکا کرکے گۓ تھے۔ پورے گھر ميں خوشی کی لہر دوڑ گئ تھی۔
رات ميں نواز زيبا کے پاس آيا۔ اسے مبارکباد دينے اور پوچھنے کے اسے کس کس چيز کی ضرورت ہے تاکہ اسکے جہيز ميں ہر وہ چيز ہو جس کی وہ خواہش رکھے ہوۓ ہے۔ اسکی بہن نے اسکے ناکردہ گناہ کی سزا کاٹی تھی۔
وہ اسے اب اور بھی عزيز ہوگئ تھی۔
“خوش ہے ميری بہن” زيبا کے سر پر ہاتھ پھيرتے ہوۓ وہ اسکے قريب ہی مسہری پر بيٹھ گيا۔
زيبا نے سر جھکا ديا۔ نوازکو محسوس ہوا وہ کچھ غمگين سی ہے۔
“کيا بات ہے۔ تم خوش نہيں اس رشتے پر؟” نواز نے آخر پوچھا۔
“نہيں بھا ايسی بات نہيں۔۔ آپ۔۔۔ آپ نے صرف ميری وجہ سے وکالت چھوڑ دی ہے نا۔” وہ بھراۓ لہجے ميں بولی ۔ نواز خاموش ہی رہا۔
“بھا ۔۔ آپ۔۔۔ آپ اپنے خواب پورے کريں۔ ميری فکر چھوڑ ديں۔ مجھ جيسی کمزور لڑکيوں کو کسی کی بہن نہيں ہونا چاہئيے۔ بھائيوں کو اپنے خواب تاوان کی صورت بھرنے پڑتے ہين” وہ بلک بلک کر رو پڑی۔
نواز نے خود پر ضبط کرتے اسے اپنے ساتھ لگا ليا۔
“ارے پاگل ايسے نہيں کہتے۔۔ بس اللہ تمہيں خوش رکھے۔” وہ ضبط کی انتہا پر تھا۔ بڑی مشکل سے آنسوؤں پر بندھ باندھا۔
“بھا۔۔ آپ يماما کو ميری جيسی بزدل بيٹی اور بہن مت بننے دينا۔ايسی مضبوط بنانا کہ وہ اپنے دشمنوں کا خود منہ توڑے۔اس کا باپ اور بھائ اس کے عورت ہونے کے سبب خود کو کمزور تصور نہ کريں۔ آپ مجھ سے وعدہ کريں۔ آپ يماما کو بے حد مضبوط عورت بنائيں گے۔” وہ روتے ہوۓ بھائ سے وعدہ لے رہی تھی۔ نواز نے سر اثبات ميں ہلا کر نہ صرف وعدہ ليا بلکہ دل ہی دل ميں چںد فيصلے بھی کئے۔
______________________
اگلے دن ہی وہ شہر ميں موجود تھا۔
اين جی او کی بلڈنگ ميں داخل ہونے سے پہلے ايک گہرا سانس لے کر سوچا کہ کيا ميں ٹھيک کررہا ہوں۔ دل نے ہاں ميں ہاں ملائ۔
اگلا قدم اين جی او کی بلڈنگ کے اندر رکھا۔
“ميم انيلہ سے مل سکتا ہوں؟” ريسيپشن پر بيٹھی عورت سے وہ مخاطب ہوا۔
“جی مگر کس سلسلے ميں؟” اس لڑکی نے اپنے پيشے کا تقاضا نبھايا۔
“ايک کيس کےسلسلے ميں۔ ميرے پاس اپائنٹمنٹ تو نہيں ہے۔ مگر مجھے ضروری ان سے ملنا ہے” وہ ملتجيانہ انداز اپناۓ ہوۓ تھے۔
“آپ کچھ دير ادھر ويٹ کريں ميں ميم کو بتاتی ہوں”نواز کو بغور ديکھتے اس نے سامنے موجود صوفوں کی جانب اشارہ کيا۔ اور ساتھ ہی فون کا ريسيور اٹھا ليا۔
“آپ کا نام سر؟” دوسری جانب اطلاع پہنچاتے اس نے يکدم نواز کو مخاطب کيا۔
“نواز۔۔نواز نام ہے” نواز نے چونکتے ہوۓ کہا۔
“ميم نواز نام کا کوئ شخص ہے وہ کسی کيس کے سلسلے ميں آيا ہے” سر ہلاتے وہ دوسری جانب کی بات سننے لگی۔
“سر آپ جاسکتے ہيں۔يہ دائيں ہاتھ پر بنے کاريڈور کے سرے پر ميم کا آفس ہے” اس لڑکی نے پيشہ ورانہ انداز ميں ريسيور رکھتے ہوۓ نواز کو مخاطب کيا۔
وہ شکريہ کہہ کر اسکے بتاۓ راستے کی جانب چل پڑا۔
چند ہی منٹ کے بعد وہ انيلہ کے سامنے تھا۔
“آئيے پليز بيٹھيے”وہ عورت چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجاۓ اسے اپنے آفس کے دروازے پر کھڑے ديکھ کر بولی۔
وہ شکريہ کہہ کر کرسی گھسيٹ کر بيٹھ گيا۔
“جی نواز ميں آپ کی کيا مدد کرسکتی ہوں؟”اسکے پوچھتے ہی نواز وہاج اور سرتاج کی ہر بات سے اسے آگاہ کرتا گيا۔
“ميں اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی تو برداشت کرسکتا ہوں۔مگر يہ ناانصافی صرف ميرے ساتھ نہيں ميری آنے والی نسلوں کے ساتھ ہے۔اور جب ميں مروؤں گا تو کيا منہ لے کر مروں گاکہ ميں نے صرف اپنی بقا کی کوششيں کيں۔ميں نے اپنی نسلوں کا کچھ نہيں سوچا۔
ميں فی الوقت وکالت چھوڑ چکا ہوں۔ مگر ميں ان درندوں کو يونہی نہيں چھوڑ سکتا۔ جانور سے لوگ پھر بھی محفوظ رہتے ہيں۔کيونکہ وہ اپنی بھوک مٹتے ہی شکار نہيں کھيلتا۔ مگر يہ وہ درندے ہيں جن کی بھوک کبھی ختم نہيں ہونی۔
ميں وکالت جاری رکھ کر انہيں بہت سے کيسز ميں ملوث کرسکتا ہوں۔مگر وہ مجھے يہ سب کرنے نہيں ديں گے۔ آج ميری بہن کو اٹھوايا تھا کل کو ميری نسل پر بھی ہاتھ ڈال سکتے ہيں۔
ميں انکے اس انداز ميں ہاتھ توڑنا چاہتا ہوں کہ سانپ بھی مر جاۓ اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے” نواز نے ايک ايک حقيقت سے پردہ اٹھايا۔
انيلہ دم سادھے اسکی ہر بات سن رہی تھی۔
“ميں آپ کے حوصلے کی داد ديتی ہون۔ اور يقين کريں۔ ہم ايسے لوگ کی جی جان سے مدد کرتے ہيں جو يہاں کے فرسودہ نظام کو مٹانے ميں ہماریمد کرنے کو تيار ہو۔” وہ ستائشی انداز ميں بولی۔
“ميں اور ميری اين جی او ہر ممکن کوشش کرنے گی کہ جيسا آپ چاہتے ہيں ويسا ہی ہو” انيلہ نے اسے بے حد تسلی بخش جواب ديا۔
نواز ہولے سے مسکرايا۔
“بس ہميں چند گواہوں کی ضرورت ہوگی۔ اور پھر ہم ان پر گھيرا تنگ کريں گے۔ اب ثبوت آپ نے مہيا کرنے ہين” وہ اس سے اگلا لائحہ عمل طے کرنے لگی۔
نواز کافی حد تک مطمئن ہوا۔
وہ جان گيا کہ کسی تگڑی سفارش کے بنا وہ وہاج اور سرتاج کو وہ پکڑ نہيں سکتا۔
جس لمحے وہ وہاں سے اٹھا۔
اسے کافی حد تک يقين ہو چکا تھا کہ اسے انصاف ضرور ملے گا۔