Dharkanon Ka Ameen – Episode 19 | Complete Urdu Story

673

فون کی گھنٹی پر وہ يکدم چونکا۔
چند ہی لمحوں ميں ملازم فون کا سيٹ پکڑے اسکے سامنے حاضر تھا۔
کھانا کھا کر ابھی وہ فارغ ہی ہوا تھا۔ اخبار پکڑے دن بھر کی خبروں پر نظريں دوڑا رہا تھا۔
“کس کا فون ہے؟” فون تھامنے سے پہلے اس نے سواليہ نظروں سے پاس کھڑے ملازم سے پوچھا۔
“سرکار۔رشيد کا فون ہے” اس نے عجلت ميں فون کا ريسيور تھاما۔
“ہيلو۔۔ہاں رشيد”
“سرکار!يہ بندہ ہارنے والوں ميں سے نہيں۔ ابھی ہيک مشہور اين جی او کے دفتر سے باہر آيا ہے۔ چہرہ روشن ہے۔ لگتا ہے ہمارے خلاف کوئ کاروائ کروانے والا ہے” رشيد وہ بندہ تھا جسے وہاج نے نواز کے پيچھے لگايا تھا۔
نجانے کيوں اس کے انداز ديکھ کر وہاج کو شک گزرا تھا کہ نواز سکون سے بيٹھنے والا نہيں۔
اسی لئے اپنا ايک خاص بندہ اس نے نواز کے پيچھے لگا رکھا تھا۔
“ہمم۔ مجھے اميد تھی۔کہ يہ نچلا نہيں بيٹھے گا۔کوئ نہ کوئ گل کھلاۓ گا” مونچھوں کو تاؤ ديتے وہ سامنے يوں ديکھ رہا تھا جيسے نواز موجود ہو۔آنکھوں سے چنگارياں پھوٹ رہی تھيں۔
“جی صاحب مجھے بھی يہی لگتا ہے۔ کيونکہ اب اس کا رخ اپنے ايک ايڈوکيٹ دوست کی جانب ہے” رشيد مسلسل اسکی نگرانی کر رہا تھا۔
“واہ بھئ۔۔۔ ابھی يہ جانتا نہيں کہ کن پر ہاتھ ڈالنے لگا ہے۔ اس کا سارا خاندان نيست و نابود نہ کرديا تو ميرا نام بھی وہاج نہيں” وہ مزيد پھنکار کر بولا۔
کھٹاک سے فون رکھ ديا۔
_______________________
رات تک نواز گھر واپس آچکا تھا۔ دو دن بعد ہی بہن کومايوں بٹھايا جانا تھا۔واپسی پر آتے ہوۓ وہ نائل کو اپنے ساتھ لے آيا تھا۔
نائل کے آتے ہی يماما ادھر ادھر چھپتی پھرتی تھی۔
رات تک اس کی ہمت جواب دے گئ۔تو اپنی دوست شمع کے گھر چلی گئ۔
تین گھر چھوڑکر شمع کا گھر تھا۔ وہ لوگ بچپن سے ايک دوسرے کو نہ صرف جانتے تھے بلکہ ايک دوسرے کے گھروں ميں بے جد آنا جانا تھا۔
وہ اکثر شمع کے گھر رات رہنے آجاتی تھی۔
“آج کيا ہوا تجھے؟” اس کا پھولا چہرہ ديکھ کر وہ کچھ کچھ جان گئ تھی۔
“يہ نائل کو ديکھو پتہ نہيں کيا ہوگيا ہے۔جب آتے ہيں بس مجھے گھورےہی جاتے ہيں۔ شديد الجھن ہوتی ہے مجھے” وہ بارہ سال کی تھی۔جوانی کی دہليز پر قدم رکھ چکی تھی۔
اپنے نکاح کے حوالے سے اتنا جانتی تھی کہ کچھ سالوں بعد نائل کی دلہن بن جاۓ گی۔
يہ سب باتيں ہی اسے بہت عجيب لگتی تھيں۔اور اس پر نائل کی نظريں۔ جو ہمہ وقت اس کا گھيرا کۓ رکھتيں۔
محبت لفظ سے تو وہ آشنا نہيں تھی۔مگريہ سب اسے الجھن ميں ضرور مبتلا کر ديتا۔
وہ نٹ کھٹ سی تھی۔ گوکہ اپنی عمر کے بچوں کی نسبت زيادہ ذہين اور سمجھدار تھی۔ اسی لئے نائل کے بدلتے تيور اسے کشمکش ميں مبتلا کرديتے۔
“ارے پاگل نائل بھائ کی دلہن جو بنو گی۔ اسی لئے اب وہ تمہيں نہيں ديکھيں گے تو کيا پرائ لڑکيوں کو ديکھيں گے” شمع اس سے دو سال بڑی تھی۔ اور بڑے ہونے کا رعب بھی جھاڑتی تھی۔
اس لمحے بھی جيسے بڑی پتے کی بات کی۔
“ہاں تو۔۔ ابھی تھوڑی دلہن بن گئ ہوں۔ جو گھورے جاتے ہيں۔ مجھے تو لگتا ہے وہ اس سب سے خوش نہيں۔ تبھی تو عجيب ہی طرح ديکھتے ہيں۔ حالانکہ وہ مجھے اتنے اچھے لگتے تھے۔ مگر جب سے يہ نکاح ہوا ہے نا۔۔ وہ تو بدل ہی گۓ ہيں۔بس جہاں جاتی ہوں ان کی نظريں پيچھے پيچھے ہوتی ہيں۔” وہ جھنجھلا رہی تھی۔ مگر نہيں جانتی تھی کہ يہ اسکی بے پناہ محبت تھی۔ بڑے ہونے کے ناطے وہ ان سب جذبات سے واقف تھا۔
“بس جب تک وہ يہاں ہيں۔ ميں اپنے گھر زيادہ نہيں جاؤں گی” وہ نروٹھے پن سے بولی۔
“ارے پاگل ۔۔ پھوپھو کی شادی ميں نہيں جاۓ گی کيا” شمع نے جيسے اسکی عقل پر ماتم کيا۔
“جاؤں گی۔مگر ٹائم کے ٹائم يا جب نائل گھر نہيں ہوں گے” وہ اپنا فيصلہ سنا چکی تھی۔شمع سر پکڑ کر رہ گئ۔
جانتی تھی جو کہا ہے وہی کرے گی۔
__________________________
نائل چھوٹے دادا(محمد بخش)کے بھائ کے گھر موجود تھا۔
يہاں سب سے زيادہ اس کی وليد کے ساتھ دوستی تھی۔بچپن سے بہترين دوست تھا۔ يماما کے بارے ميں سب فيلنگز وہ ہميشہ وليد کے ساتھ شئير کرتا تھا۔
آج بھی بيگ اٹھاۓ وليد کے گھر موجود تھا۔ وليد اسے رات کے اس پہر بيگ سميت ديکھ کر حيران رہ گيا۔
“کدھر کے ارادے ہيں؟” وليد کے کمرے ميں وہ دونوں وليد کی چارپائ پر آمنے سامنے موجود تھے۔
“يار ميں آج تيری طرف رک کر کل واپس چلا جاؤں گا۔اور اب شادی والے دن ہی آؤں گا” نظريں نيچے کئے وہ وليد کو اپنا ارادہ بتانے لگا۔
“کيا کيا۔۔ پاگل ہے تو۔۔ يہ کيا بات ہوئ۔۔ کچھ ہوا ہے؟” وليد اس کی رگ رگ سے واقف تھا۔
“يار ميں کيا کروں يماما کو ديکھ کر نظريں قابو ميں نہيں رہتيں۔ اور اب وہ ميری نظروں کو خود پر محسوس کرکے غصہ کرتی ہے۔ابھی بھی برکت چاچا کے گھر چلی گئ ہے۔ اسی لئے ميں نے سوچا ہے کہ ٹائم کے ٹائم شادی ميں آؤں گا۔ اور بس۔”وہ بے بسی سے بولا۔
“يار وہ ابھی چھوٹی ہے اس رشتے اور تعلق کو نہيں سمجھتی۔ نہ تيری محبت سے صحيح سے واقف ہے۔ تو يوں خود کو اذيت مت دے” وليد نے اسے سمجھايا۔
“نہيں يار بس اب ارادہ کرليا ہے کہ جب تک وہ بڑی نہيں ہو جاتی ميں اسکے سامنے نہيں آؤں گا۔” وہ ہٹيلے لہجے ميں بولا۔
“تيرا کچھ نہيں ہوسکتا” وليد نے نفی ميں سر ہلايا۔
“کہتا ہے تو ابھی چلا جاؤں يہاں سے” وليد کے مسلسل اسے ديکھنے پر وہ سر اٹھا کر غصے سے بولا۔
“اب يماما تجھے نظر نہيں آرہا تو اس کا غصہ مجھ پر تو مت نکال” وہ اسے چھيڑنے والے انداز ميں بولا۔ نہ چاہتے ہوۓ بھی نائل کے چہرے پر مسکراہٹ لہرائ۔
_____________________
“اس لمحے اسکا سارا خاندان وہاں جمع ہے” وہاج اپنے خاص ملازموں کو لئے باڑے کی جانب آيا۔
“جی سرکار” وہ کل سات آدمی ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔
“ہمم۔۔ بس تم ميں سے دو خاموشی اور ہوشياری سے اسکے گھر کے پاس مٹی کے کنستر رکھو۔ اور چاہو تو گھر کے چاروں جانب مٹی کا تيل گرا دو۔ منظور اسکے گھر کے پچھلے حصے ميں جو جگہ خالی ہے وہاں سے اوپر چھت پر چڑ کر وہاں بھی مٹی کا اچھا خاصا تيل گرا دو۔
رات کے اندھيرے ميں يہ سب کام بہت ہوشياری سے ہونا چاہئيے۔ اس وقت سب اپنے اپنے گھروں ميں سو رہے ہوں گے۔ تم لوگوں نے نہايت ہوشياری اور تيزی سے يہ سب کرنا ہے۔
اور پھر وہ سب لکڑی جو اسکے گھر کے پيچھے شادی کی ديگيں بنانے کے لئے رکھی ہے اسے مٹی کا تيل اور آگ لگا کر صحن ميں پھينک دو۔صبح تک اس کا سارا خاندان بھسم ہو چکا ہو۔ مٹی کا تيل گراتے ہی چاروں جانب آگ کے شعلے پھينکو۔۔ اب باقی کا کام کيسے کرنا ہے تم سب بہتر جانتے ہو۔ اس کے گھر کا ايک فرد بھی زندہ نہ بچے” وہاج کے دل ميں انتقام تھا شديد انتقام۔
“سرکار فکر ہی نہ کريں۔ صبح تک ان ميں سے کوئ زندہ نہيں بچے گا۔” ان ميں نے ايک شيطان ۔۔۔شيطانی مسکراہٹ لبوں پر سجاۓ بولا۔
“شاباش” وہاج کے ہونٹوں پر بھی شيطانی مسکراہٹ تھی۔
اور پھر صبح تک وہ سارا گھر راکھ کا ڈھير بن چکا تھا۔
جلنے والوں کی چيخيں گونجيں مگر کوئ انہيں بچانے نہ آسکا۔
برکت نے يماما کو چھپا ليا تھا۔ وہ جان گيا تھا ايسی آگے گاؤں ميں تب ہی بھڑکتی ہے جب کوئ ملکوں کی نافرمانی کرتا ہے۔ وہ يہ بھی جان گيا تھا۔ ان ميں سے کوئ نہيں جانتا کہ اس خاندان کا ايک چراغ رات ميں اس کے گھر آيا تھا۔
ملک اسی گمان ميں رہے کہ انکے گھر کے تمام لوگ جل کر مر چکے ہيں۔
يماما بھی اس بات سے واقف نہيں تھی کے جس وقت وہ شمع کے گھر گئ۔ کچھ دير بعد نائل بھی وہاں سے چلا گيا تھا۔
وہ يہی سمجھی تھی۔کہ باقی سب کی طرح نائل بھی شايد مر چکا ہے۔
وہ غم سے نڈھال تھی۔ اور پھر وہيں سے چھپ چھپا کر برکت نے يماما کو شہر ميں ايک يتيم خانے بھيج دیا۔وہ جانتا تھا کہ اگر يماما اسکے پاس رہی تو جلد ہی ملک کو معلوم ہوجاۓ گا۔
وہ کتنے دن اسے اپنے گھر ميں چھپا سکتا تھا۔ گاؤں ميں کسی ايک کو بھی بھنک پڑ جاتی تو وہ ملکوں کو بتانے ميں دير نہ کرتے۔
اسی لئے مجبورا برکت کو اسے يتيم خانے بھيجنا پڑا۔اور وہاں کے مالکان کو فقط اتنابتايا کہ خاندانی جھگڑے کی بنياد پر وہ يتيم ہوگئ ہے اور اب اس کی بھی جان خطرے ميں ہے۔ لہذا يماما کی شناخت وہ نہ لکھی جاۓ جو کہ اصل ميں ہے۔ لہذا يماما کے باپ کے بارے ميں يتيم خانے والوں نے کوئ ريکارڈ نہيں رکھا تھا۔
___________________________
“ميں جانتا تھا کہ تم برکت چاچا کے گھرگئ تھيں۔ اسی لئے مجھ جيسے ہی اس واقع کے بعد کچھ ہوش آيا تو ميں نے تم تک رسائ حاصل کرنی چاہی۔
مگر وليد لوگ بھی نہيں چاہتے تھے کہ ميرے زندہ رہنے کے بارے ميں گاؤں ميں کسی کو کچھ معلوم ہو۔ لہذا ميں نے اپنا حليہ بدل کر تمہارا برکت چاچا کے گھر تک پيچھا کيا۔چند دن ميں مسلسل وہاں آتا رہا۔ شمع کے بھائ کا دوست بن کر۔
اور پھر ايک دل کالے برقعہ ميں برکت چاچا تمہيں لے کر شہر کی جانب گۓ۔ ميں نے اس يتيم خانے تک تم دونوں کا پيچھا کيا۔ اور پھر مجھے تسلی ہوگئ کے ميری يماما اب ايک محفوظ جگہ پر ہے۔
مگر ميں ان تمام سالوں ميں چھپ کر تمہاری نگرانی کرتا رہا ہوں۔ بہت سے ثبوت جو کہ وہاج اور سرتاج کے لئے تمہيں چاہئيے تھے ۔ وہ ميں نے ہی تمہيں مہيا کئے ہيں۔ کبھی گمنام کالز کرکے اور کبھی تمہارے آفس کی کسی نہ کسی جگہ پر کوئ سی ڈی کوئ ريکارڈ رکھ کر اور کبھی اپنا کوئ بندہ تم تک بھيج کر۔
جس طرح تم انہيں تختہ دار پر پہنچانے کے لئے بے تاب ہو۔ اسی طرح ميں بھی بے حد بے چين ہوں۔اور ان شاءاللہ ہم يہ سب جلد ہی ديکھيں گے” يماما کے آنسو صاف کرکے وہ مضبوط لہجے ميں بولا۔
“اب بھی راتوں کو اکثر آگ کے شعلے ميرے خواب ميں آتے ہين۔ اپنے پياروں کی چيخيں سنائ ديتی ہيں” سالوں بعد کوئ غمگسار ملا تھا۔ يماما کا رونا اور دل ہلکا کرنا تو بنتا تھا۔
“بس ميری جان۔۔ ہمارے سب دشمن اپنے بھيانک انجام کو پہنچيں گے۔
ميرے سامنے اگر تم نہ ہوتيں تو ميں کب کا اپنا ذہنی توازن کھو بيٹھتا۔ مجھے تمہارے لئے جينا تھا۔” نائل اسے ساتھ لگاتے تسلی آميز لہجے ميں بولا۔
“پليز يوں رو کر خود کو ہلکان مت کرو۔ ميرا تم سے وعدہ ہے انہيں انکے انجام تک پہنچاتے مجھے اپنی جان کی بازی بھی لگانی پڑی تو لگا دوں گا” نائل کی بات پر يماما کو لگا اس کا دل کسی نے مٹھی ميں لے ليا ہو۔
“ايسی بات تو مت کريں۔ ايسا لگتا ہے ايک عمر گزر گئ آپکے انتظار ميں۔ اب جب ملے ہيں تو جدائ کی باتيں کررہے ہيں۔ ميں مرجاؤں گی آپکے بغير۔۔ پليز نائل يہ سب مت کہيں” وہ حقيقت ميں کانپ اٹھی تھی۔
نائل کا بازو جو اسکے گرد تھا اس پر گرفت مضبوط کئے وہ جيسے نائل کو اب کبھی خود سے جدا نہيں کرنا چاہتی تھی۔
اس کے کھو جانے کا ڈر اسے جيسے ہلا کر رکھ گيا۔
يماما کے لمس سے ہی نائل کو اسکی اپنے لئے بے پناہ محبت کا اندازہ ہو رہا تھا۔
“کہيں نہيں جاؤں گا۔۔ پليزرونا بند کرو” نائل کو اسکے آنسو بے چين کررہے تھے۔ وہ اب تک يماما کو اتنا مضبوط دیکھ چکا تھا کہ اس کا يوں بکھرنا اسے تڑپا گيا تھا۔
اسکے آنسو ايک تواتر سے بہتے نائل کی شرٹ ميں جذب ہورہے تھے۔
يماما کو خود ميں بھينچے وہ اسے تحفظ کا احساس بخش رہا تھا۔ نائل نے اپنے لب اسکے گھنے بالوں والے سر پر رکھے۔
“پليز يار۔۔ آج کے بعد ميں تمہاری آنکھوں ميں آنسو نہ ديکھوں” نائل اسے تنبيہہ کررہا تھا۔
يماما آنسوؤں پر بندھ باندھنے کی کوشش کرتے سر ہلا گئ۔
“ديٹس لائک مائ بريو گرل” نائل کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھری۔ اسکا سر کندھے سے ہٹاتے۔اسکا چہرہ اپنے سامنے کيا۔ جہاں رونے سے لالی بکھری تھی۔
“تم تب چھوٹی تھيں۔ اسی لئے ان سب باتوں کا علم نہيں تھا۔ مگر بڑا ہونے کے ناطے ميں سب باتوں کو جانتا تھا۔” يماما نے نظريں اٹھا کر اسکی جانب ديکھا۔
ان کے گھر ميں رواج تھا کے بڑوں کے مسئلے چھوٹوں کو نہيں بتاۓ جاتے تھے۔
اسی لئے اپنا گھر جل جانے کے بعد وہ صرف يہ جانتی تھی کہ کسی دشمنی کی آڑ ميں ملکوں نے اسکے گھر والوں کو يہ سزا دی تھی۔
مگر يہ سب کيوں کيا تھا اسکی وجہ آج نائل سے معلوم ہوئ تھی۔
“اب تمہيں ويسی ہی مضبوط يماما بننا ہے جيسی چاچو تمہيں ديکھنا چاہتے تھے۔” نائل نے اسے ہمت دلائ۔
“آپ ميرے ساتھ ہيں نا تو ميں ويسی ہی بن جاؤں گی۔ بس اس سب تکليف کو برداشت کرنے ميں کچھ وقت لگے گا۔ کہ ميرے بابا کے خوابوں کی ايسی بھيانک سزا انہيں ملی۔ جو کہ پورے بھی نہ ہوسکے” پھر سے آنسو اسکی آنکھوں ميں جمع ہونے لگے۔
“نہيں يماما انکے خواب پورے ہوۓ۔ تمہاری صورت ميں۔” نائل نے اسکی صبيح پيشانی پر محبت بھرے لب رکھتے ہوۓ اسے تسلی دلائ۔
يماما نے بمشکل آنسوؤں کو باہر آنے سے روکا۔ وہ اپنے سامنے بيٹھے شخص کو کوئ تکليف نہيں دينا چاہتی تھی۔ جو دنيا ميں اب اس کا واحد سہارا تھا۔
“بس مجھ سے وعدہ کرو۔ يہ سب جاننے کے بعد تم ٹوٹ کر نہيں بکھروں گی۔ بلکہ خود کو اور بھی مضبوط بناؤ۔ کہ ہم مل کر ان کا مقابلہ کريں۔ مجھے تمہارے ساتھ کی ضرورت ہے۔ تمہارے حوصلے اور ہمت کی ضرورت ہے ورنہ ميں ہار جاؤں گا” نائل نے اسے بہت کچھ باور کروايا۔
“ميں ہر لمحہ آپکا حوصلہ بنوں گی۔” يماما نے گويا اسے يقين دلايا۔
“تھينک يو۔ بس ايسی ہی يماما چاہئے۔ دوسروں کو رلانے والی۔ خود رونے والی نہيں” نائل نے اسکی نم آنکھوں ميں جھانکتے محبت بھرے لہجے ميں کہا۔ يماما کی مسکراہٹ نے گويا اسکی ساری پريشانی پل ميں زائل کردی۔