Dharkanon Ka Ameen – Episode 2 | Complete Urdu Story

456

“يہ لڑکی ميرے ہاتھوں نہيں بچے گی” سرتاج کا بيٹا غصے سے بھرا گھر ميں داخل ہوا۔
“ميں آئندہ آپ کی کسی پيشی پر نہيں جاؤں گا۔ بے عزت کرنے کے لئے مين ہی رہ گيا ہوں” سرتاج کے بيڈ کے سامنے موجود کرسی پر بيٹھا وہ باپ سے تنک کر بولا۔
“ہوا کيا ہے؟” وہ حيران پريشان اسے غصے سے بل کھاتے ديکھ رہا تھا۔
خور آرام دہ انداز ميں اپنی راکنگ چئير پر بيٹھا تھا۔
“آپ نے اسے آج پھر صبح کال کی تھی؟” وہ باپ کی بات کا جواب دينے کی بجاۓ اس سے استفسار کررہا تھا۔
“ہاں مگر ميں نے کسی اور نمبر سے کال کی تھی” وہ بيٹے کی بات پر چونکا۔
“آپ جتنے مرضی نمبر بدل ليں۔ وہ ثبوت اٹھا کر عدالت ميں پيش کرديتی ہے۔ نجانے کہاں تک اس کی پہنچ ہے سب کالز کا ڈيٹا تک نکوال کر لاتی ہے۔ آپ اپنے ساتھ ہميں بھی حوالات کی ہوا کھلوائيں گے۔
مجھے يہاں نہيں رہنا ۔۔ ميری فرانس کی سيٹس بک کروائيں۔ ميں آپکے کيس تک وہيں رہوں گا” وہ ہٹ دھرمی سے بولا۔
سرتاج اسکی باتيں سن کن ہکا بکا رہ گيا۔
“باپ کو اس سچوئيش ميں چھوڑ کر تمہيں سکون کی پڑی ہوئ ہے۔۔۔ارے تم لوگوں کے لئے ہی يہ سب دو نمبرياں کيں تھيں” وہ افسوس سے بيٹے کو ديکھتے ہوۓ بولا۔
“تو ہم نے کہا تھا کہ ہميں حرام کی عادت ڈاليں۔ اور ويسے بھی آپ نے بھی بہت عياشياں کی ہيں۔ ممی کی ڈيتھ کے بعد کون سی ايسی يہاں کی ماڈل ہے جس پر آپ نے ہاتھ نہ صاف کئے ہوں۔
اور مفت ميں تو وہ آپکو اپنے جلوے دکھانے نہيں آتيں۔ بھاری بھاری معاوضے ليتی ہيں۔۔” وہ آج اپنے ہی باپ کو آئينہ دکھا رہا تھا۔
“بکواس مت کرو۔۔ دفع ہوجاؤ ميں خود ہی نمٹ لوں گا” سچ کب کسی کو ہضم ہوا ہے۔۔
سرتاج بھی بيٹے کے منہ سے نکلنے والا سچ ہضم نہيں کرپايا۔
“ميں صرف ايک صورت ميں يہاں رہوں گا۔ آج جس طرح اس لڑکی نے ميری بے عزتی کی ہے۔ اسے اس کی کڑی سزا ميں دوں گا۔ مگر اسے يہاں لانے کا بندوبست آپ کريں گے” باپ کی ٹيبل پر دھرے شراب کے گلاس کو ديکھتے ہوۓ وہ دانت کچکچا کر بولا۔۔
“لے آؤں گا۔۔ فکر کيوں کرتے ہو۔ آج تک تم لوگوں کی کوئ بات ٹالی ہے۔۔
مگر اتنا گرم گرم کھانے کی ضرورت نہيں۔۔ ابھی سب ميڈيا۔۔ جرنلسٹ اور اين جی اوز تک اسکے ساتھ ملے ہوۓ ہيں۔ پہلے ان کو ہٹاؤں پھر اس تک بھی پہنچيں گے۔” اس کا پراسرار لہجہ وقار کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرگيا۔
موبائل پر بجنے والی کال کی آواز پر وہ چونکا۔
“ہاں سميع کيسے ہو؟” وہ اپنے کسی دوست سے گفتگو ميں مصروف تھا۔
“ہاں يار آجا ويسے بھی اس وقت بہت غصے ميں ہوں۔ کہيں باہر نہيں آسکتا” باتيں کرتا ہوا وہ سرتاج کے کمرے سے باہر آگيا۔
“تو آۓ گا تو پھر ہی تفصيل بتاؤں گا” دوسری جانب سے يقين اسکے موڈ کی خرابی کا پوچھا گيا تھا۔
“ٹھيک ہے آجا ميں انتظار کررہا ہوں” دوسری جانب سے آنے کی ہامی بھر لی گئ تھی۔ وقار نے فون بند کيا اور اپنے کمرے کی جانب چل پڑا۔
______________________
ربيعہ کے بہت اصرار پر آج شام وہ تھوڑا وقت نکال کر گھر آئ ہوئ تھی۔
“تميں ذرا احساس نہيں۔۔ کہ تمہيں کچھ ہوگيا تو ہمارا کيا حال ہوگا” چاۓ اور اسنيکس کے ساتھ ساتھ ربيعہ اس کی ڈانٹ سے بھی تواضع کررہی تھيں۔
“اف خدايا! اماں ” وہ بے بسی سے ماتھے پہ ہاتھ مار کر بولی۔
سامنے ہی صوفے پرفاران بيٹھا اسکی حالت انجواۓ کررہا تھا۔
“پليز تم سمجھاؤ انہيں” اسے دانت نکالتے ديکھ کر يماما نے پہلے تو اسے گھورا پھر مدد طلب کی۔
“اماں آپ تو کم از کم يہ بات نہ کريں۔ آپ کو پتہ ہے ميں اس فيلڈ ميں عورتوں کی طلاقيں کروانے يا ان کے گھر جوڑے رکھنے کے لئے نہيں آئ تھی۔ مجھے کريمنلز کے خلاف کيس کرنے ہيں” وہ ايک نئۓ سرے سے انہيں پھر سمجھا رہی تھی۔
“اچھا کيس کرو۔۔ مگر يہ جوآۓ دن تمہيں دھمکياں ملتی ہيں۔ جو چند ہفتے پہلے تمہارے فليٹ پر ہوا۔ تم ہمارے پاس رہتی بھی تو نہيں نا کہ مجھے تمہارے حوالے سے تسلی رہے” ان کا آج اسے بلانے کا مقصد ہی يہ سب سمجھانا تھا۔ حالانکہ وہ جانتی تھيں کہ يہ سب کرنا بے سود ہے۔ مگر وہ اپنی ممتا کا کيا کرتيں جس کی وجہ سے وہ ہر بار اس آس ميں اسے سمجانے بيٹھ جاتی تھيں کہ شايد وہ انکی بات مان لے۔
“يہ سب تو اس فيلڈ کا حصہ ہيں۔ دھمکياں نہ مليں تو يہ تشويش کی بات ہے۔۔ آپ بس يہ يقين رکھيں۔ کہ جس اللہ نے مجھے اتنے برے حالوں ميں بھی بچا ليا تھا۔ وہ آگے بھی بچا لے گا۔ اور اگر نہيں بچ سکی۔ تو مرنا تو ہے ہی نا۔۔۔ تو بس جب موت آئ ہوگی تو کوئ جگہ کوئ رشتہ مجھے نہيں بچا سکتا” اسکی بے خوف باتيں سن کر فاران اور ربيعہ دونوں کا دل خوف سے کانپ اٹھتا تھا۔
لڑکياں تو نازک مزاج ہوتی ہيں۔ مگر حالات نے اسے بے خوف بنا ديا تھا۔ اور اسی بے خوفی کی وجہ سے اسے کبھی کسی کا ڈر اور خوف نہيں رہا تھا۔ شايد جو لوگ موت کو نزديک سے ديکھ ليتے ہيں ان ميں موت کا خوف اسی طرح ختم ہوجاتا ہے۔ يماما کو بھی اب موت کا ڈر نہيں تھا۔
“ميں نے تمہيں بہت محبت سے اپنايا تھا۔۔ماں بن کر ہميشہ تمہارے لئے سوچا ہے” وہ بمشکل اپنے آنسوؤں پر بند باندھ کر بوليں۔
محبت سے مسکراتے وہ اٹھ کر انکے صوفے پر انکے پاس بيٹھی۔
“اماں۔۔ ہمارا ايمان ہے نا کہ ہر رشتہ ہمارے ساتھ ہميشہ ہمارے ساتھ نہيں رہے گا۔
ان کے کندھے کے گرد اپنا بازو رکھے وہ انہيں سمجھا رہی تھی۔ جو چہرہ نيچے کئے صوفے کی ہتھی کو انگوٹھے ناخن سے کھرچتے بمشکل اپنے آنسو روکتے ہوۓ سر ہلا کر بوليں۔
فاران بس خاموشی سے لب بھينچے ان دونوں کو ديکھ رہا تھا۔
يماما کی باتيں ہر بار کی طرح آج بھی اسے تکليف پہنچا رہی تھيں۔
“پليز اماں۔۔ ميں آپ کو دکھ نہيں دينا چاہتی مگر۔ ميں اتنی حقيقت پسند ہوچکی ہوں کہ ميں موت اور مر جانے کے خوف ميں مبتلا نہيں ہوتی۔ پليز اماں ميں کسی بھی صورت اپنی زندگی کے اس مشن کو ختم نہيں کرسکتی” وہ بے چارگی سے بولی۔ وہ جانتی تھی کہ ربيعہ اس سے بہت پيار کرتی ہيں۔ بارہ سال کی تھی وہ جب انہوں نے يتيم خانے جاکر اسے ايڈاپٹ کيا تھا۔ فاران کے بعد وہ دوبارہ ماں نہيں بن سکتی تھيں۔ اسی تشنگی کو مٹانے کے لئے ربيعہ اور احمد نے فيصلہ کيا کہ وہ يتیم خانے سے کسی بچی کو ايڈاپٹ کريں گے۔
ڈری سہمی سی يماما کو ديکھتے اور اس کے ساتھ ہونے والے ظلم کا سنتے ہی انہوں نے فورا سے پيشتر اسے ہی ايڈاپٹ کرنے کا فيصلہ کيا۔
مگر اس يتيم خانے کے اصولوں ميں شامل تھا کہ جس بھی بچے يا بچے کو ايڈاپٹ کيا جاۓ۔ اسکے والدين اسکے پيپرز ميں اپنا نام لکھواتے ہيں سپانسر کی حيثيت سے۔ بچی يا بچہ رہتے يتيم خانے کے پاس ہيں۔ وہ انکے رہنے، کھانے پينے، تعليم اور باقی اخراجات سپانسر اٹھاتے ہيں۔ اور ہر ويک اينڈ پہ وہ بچہ يابچی اپنی سپانسر فيملی کے ساتھ وقت گزارنے جاتے ہيں۔
ربيعہ کو اتنا اطمينان ہی بہت تھا کہ رافع کے علاوہ دنيا ميں اب ان کی ايک بيٹی بھی ہے۔
انہوں نے اسے بے تحاشا پيار ديا تھا۔اور اس نے بھی ہميشہ انہيں اپنے ماں باپ کی جگہ سمجھا تھا۔
مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھ ہونے والے تکليف دہ واقعہ نے اسے نڈر اور بے خوف بنا ديا تھا۔
اور اسی چيز سے اب ربيعہ ڈرتی تھيں۔
اپنی تعليم مکمل کرنے کے بعد اس نے الگ فليٹ ميں رہنے کو ترجيح دی تھی۔
اسے اپنی زندگی کی فکر نہيں تھی مگر وہ اپنی وجہ سے ربيعہ ۔ احمد اور فاران کو کسی نقصان سے دوچار ہوتا نہيں ديکھ سکتی تھی۔ اسی لئے وہ ان کے ساتھ نہيں رہتی تھی۔
وکيل بن کر آۓ دن ملنے والی دھمکيوں نے اسے اور بھی نڈر بنا ديا تھا۔ وہ صرف اپنے ساتھ ظلم کرنے والوں کو ان کے انجام تک پہنچانے کے لئے زندہ رہنا چاہتی تھی۔
“تم نے آج پھر ميری ماں کو رلا ديا نا” رات ميں اسے اسکے فليٹ تک چھوڑنے کے لئے جاتے ہوۓ فاران بولا۔
وہ آج باقی دنوں کی نسبت زيادہ خاموش تھی۔
“وہ ميری بھی کچھ لگتی ہيں” فاران کی بات پر ناراضگی سے اسکی طرف ديکھا۔ جو آنکھوں ميں خفگی لئے ڈرائيو کرہا تھا۔
“مگر افسوس تم ابھی تک ہميں دل سے اپنا نہيں سمجھتيں” يماما اب اسکے دن بدن بڑھنے والے تقاضوں سے پريشان ہونے لگی تھی۔
“پليز فاران ۔۔۔ميں جس بات کو اگنور کررہی ہوں ۔۔ ميرے خيال ميں اب مجھے اسے ڈسکس کرلينا چاہئيۓ” وہ سنجيدگی سے اب اس سے مخاطب تھی۔
اب اسے محسوس ہونے لگا تھا کہ يہ بات اب اسے فائنلی فاران کے ساتھ کرلينی چاہئيے۔ تاکہ اسکے دل ميں جو جذبات پل رہے ہيں انہيں وہيں روک ديا جاۓ۔ اسے اپنا يہ دوست بہت پيارا تھا اور وہ اپنی وجہ سے اسے دکھ نہيں دينا چاہتی تھی۔
“ديکھو فاران ! ميرے خيال ميں تمہيں کوئ اچھی سی لڑکی ديکھ کر اب شادی کر لينی چاہئيے” فاران جو غور سے اسکی بات سن رہا تھا۔ اسکے مشورے پر جھٹکے سے اسکی گاڑی رکی۔
بےيقين نظروں سے اسے ديکھا۔
جو اسکے يوں ديکھنے پر رظريں چرا کر رہ گئ۔
“اچھا” استہزائيہ مسکراہٹ فاران کے لبوں پر بکھری۔
بمشکل اس پر سے نظريں ہٹا کر اس نے گاڑی سٹارٹ کی۔
“ميں تمہيں پہلے بھی بتا چکی ہوں کہ شادی اب ميری ترجيحات ميں کہيں بھی نہيں ہے۔ مجھے اس رشتے کی نہ کوئ چاہ ہے۔ نہ ہی ميں کبھی شادی کروں گی۔ اور کيوں نہيں کروں گی۔ يہ بھی تم اچھے سے جانتے ہو” اب کی بار اسکی جانب ديکھتے اس نے بہت کچھ باور کروايا۔
“زندگی ايک شخص پر نہيں رکتی۔” فاران نے اسے سمجھانا چاہا۔
“اور جب زندگی وہی ايک شخص ہو تو؟” يماما کے سوال پر وہ لا جواب ہو گيا۔
“فاران ميری زندگی ميں اب کسی اور کی گنجائش نہيں ہے۔۔ پليز تم۔۔ تم مجھے بہت عزيز ہو۔۔ ميں تم سے بے حد پيار کرتی ہوں۔

مگر يہ پیار بہترين دوست والا ہے۔” اسکی بات پر وہ بمشکل خود پر ضبط کرگيا۔ کيا کچھ نہيں ٹوٹا تھااندر
“پليز ميرے جذبوں کی يوں تذليل مت کرو”فاران نے ضبط کرتے ہوۓ اسے ٹوکا۔
“ميں ايسا سوچ بھی نہيں سکتی۔ ميں۔۔ ميں اس سب کی قدر کرتی ہوں مگر ميں تمہارے سچے جذبوں کے قابل نہيں ہوں” وہ بے بسی سے بولی۔
فاران ہونٹ بھينچے بس سامنے ديکھ کر ڈرائيو کئے جارہا تھا۔
“کس قدر سخت دل ہو تم” فاران نے اسکے فليٹس کی بلڈنگ کے سامنے گاڑی روکتے ہوۓ تاسف سے اسے ديکھا۔
“اسی لئے کہہ رہی ہوں۔ ميں تمہارے اتنے انمول جذبوں کے قابل نہيں۔ہميشہ تم نے مجھے مشکلوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے سمجھايا ہے۔ اميد کرتی ہوں اب تم خود کو بھی اس سے نکلنے پر سمجھاؤ گے” بہت مشکل سے اس نے فاران کی جانب ديکھا۔
وہ اپنا بہترين دوست کسی صورت کھونا نہيں چاہتی تھی۔
وہ بے بسی سے مسکرايا۔ہونٹ بھينچ کر ہولے ہولے ہاتھ اسٹيرنگ پر مارنے لگا۔ اندر کا اضطراب بڑھتا جارہا تھا۔
وہ نہيں جانتی تھی کہ کب اسکی دوستی محبت ميں بدلی۔
وہ اب ان جذبوں کو محسوس ہی نہيں کرتی تھی۔ تو اسے پتہ کيسے چلتا۔
“پليز فاران۔۔ ميں اميد کرتی ہوں آئيندہ ہم ميں اس ٹاپک سے متعلق کوئ بات نہيں ہوگی۔ اور تم مجھ سے ميرا دوست نہيں چھينوگے۔ ميرے پاس اب اور تمہارے اور اماں اور بابا کے علاوہ ہے ہی کون۔يہ بھی نہ رہے تو ميں تو ويسے ہی مر جاؤں گی” وہ بے بسی کی انتہا پر تھی کسی بھی طرح فاران کو اس سب سے روکنا چاہتی تھی۔
“ميں يہ دونوں کام کرلوں گا۔ مگر اس محبت کو ختم نہيں کرسکتا” سر اٹھا کر سامنے ديکھتے وہ بڑے ضبط سے گويا ہوا۔
“ميں دعا کرتی ہوں۔ تمہيں کوئ اتنی بہترين ملے کہ يہ سب تمہيں کچھ سالوں بعد ايک حماقت کے سوا کچھ نہ لگے” اسکے چہرے پر اب پتھريلے تاثرات آچکے تھے۔
“اونہہ۔ بددعا دے رہی ہو” نظريں اسکے چہرے کی جانب موڑيں۔
“مر کر بھی تمہيں بددعا نہيں دے سکتی۔ تم بہت بہت خاص ہو” اس وقت وہ ضبط کی انتہاؤں پر تھی۔
“خود کو يوں ضائع مت کرو۔۔ ميں بس يہ سانسيں گزار رہی ہوں جو اللہ نے ميرے لئے مختص کررکھی ہيں۔ ورنہ مجھ ميں جينے کی کوئ خواہش نہيں۔ تم يہ اچھے سے جانتے ہو۔ اور کيوں نہيں ہے يہ بھی جانتے ہو۔ بس جتنی زندگی ہے” وہ بھی خاموشی سے سامنے ديکھتے ہوۓ بولی۔
“پليز فاران ميں تمہيں اپنی وجہ سے نہ تو کسی تکليف ميں ديکھ سکتی ہوں نہ تکليف دينے کا سوچ سکتی ہوں۔ آئم سوری پليز” وہ بے بسی سے اسکی جانب ديکھ کر بولی۔ جو اسے ديکھنے سے احتراز برت رہا تھا۔
“کہہ چکا ہوں نا اب دوبارہ اس بارے ميں بات نہيں کروں گا” اسے يقين دہانی کروائ۔
“اپنا خيال رکھنا۔ خدا حافظ” يماما نے بھی مزيد بات کرنا مناسب نہيں سمجھا۔
گاڑی سے اتر کر بلڈنگ کی جانب بڑھی۔

فاران نے اس کٹھور کو دور جاتے ہوۓ ديکھا۔
________________________
“اگر يہ کيس ختم ہوا يا تم نے پيسے کھاۓ تو ياد رکھنا نہ صرف تمہارے حلق سے وہ پيسے نکلواؤں گا بلکہ تمہارے خاندان کو بھی زندہ نہيں چھوڑوں گا”نجانے رات کے اس پہر يہ کون فون پر بکواس کررہا تھا۔
“ابے کون ہے۔۔ زندگی عذاب کی ہوئ ہے تم جيسے لوگوں نے” غفار نے سائيڈ ٹيبل سے ٹائم پيس اٹھا کر ديکھا رات کے دو بج رہے تھے۔
“شہنشاہ سے تو واقف ہوگے ہی” دوسری جانب سے لئے جانے والے نام پر غفار کی آنکھيں بھک سے کھليں۔
“تت۔۔ تت ۔۔۔تم” اسکی گھگھی بندھ گئ
“ہاں ميں۔۔۔۔شہنشاہ۔۔۔کان کھول کر ميری بات سنو” اب کی بار وہ تھوک نگلتا اٹھ بيٹھا۔ وہ بھی ايسے مودب کہ جيسے شہنشاہ سامنے ہی بيٹھا ہو۔
شہنشاہ کے نام سے وکيل ۔۔جج اور پوليس والے تھر تھر کانپتے تھے۔ وہ اپنے مخالف جانے والے کو ايسے غائب کرتا تھا کہ اس کا نام و نشان پھر کبھی کسی کو نہيں ملتا تھا۔
“مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم سرتاج کے ساتھ اسکے کيس کے سلسلے ميں گٹھ جوڑ کر رہے ہو۔۔ ياد رکھنا۔۔ اگر يہ کيس ختم ہوا يا پينڈنگ ميں گيا۔۔ تو تمہاری لاش بھی تمہارے گھر والوں کو نہيں ملے گی” شہنشاہ کی بات پر وہ جتنا بھی چونکتا کم تھا۔
کيونکہ کل ہی اسے سرتاج نے بلايا تھا۔ اور اس کے خاص اڈے پر ساؤنڈ پروف کمرے ميں سرتاج، غفار اور وقار کے علاوہ اور کوئ نہيں تھا۔ سرتاج نے اسے منہ مانگی رقم آفر کی تھی۔ اس کيس کو پينڈنگ ميں ڈالنے کی۔ اور غفار نے اس سے سوچنے کا وقت مانگا تھا۔
يہ کيس وہ اتنی آسانی سے اسی لئے اب ختم نہيں کرسکتا تھا کہ سرتاج کا نام اب ملکی سطح پر موجود کالے دھندوں والوں کی لسٹ ميں شامل ہوچکا تھا۔
اور حکومتی بنيادوں پر جو ايک سيل ايسے لوگوں کے لئے تشکيل ديا گيا تھا اس کا چارج ايک فوجی کے پاس تھا۔
اور فوج غداروں کو کسی صورت نہيں چھوڑتی يہ سب جانتے تھے۔ اسی لئے غفار کشمکش ميں تھا کہ سرتاج کے کيس کو کس طرح وہاں سے ہٹايا جاۓ اور اسی سلسلے ميں اس نے وقت مانگا تھا۔
مگر وہ حيران تھا کہ انکی ملاقات کا شہنشاہ کو کيسے معلوم ہوا۔
“زندہ ہو يا ابھی سے کوچ کر گۓ۔” اسکی طنز بھری آواز فون سے ابھری۔
“مم۔۔ ميں تمہيں سوچ کر۔۔۔”
“شہنشاہ سوچنے کی مہلت نہيں ديتا۔۔ ہاں يا نا۔۔ تيسرا کوئ راستہ ميں نے کبھی کسی کو نہيں ديا۔۔ مجھے۔۔۔۔ تم مجھے ٹال رہے ہو” غفار کی بات کاٹ کر وہ غرايا۔
“اگر ميں نے اسکی بات نہيں مانی تو اس نے مجھے دھمکی دی ہے کہ وہ ميرے خاندان کو نقصان پہنچاۓ گا”
“اور ميں تو جيسے تمہارے خاندان کو ہيروں کے ہار پہناؤں گا۔۔ يہ گارنٹی ديتا ہوں۔ اگر يہ کيس پروسيڈ کرتے رہے تو تم اور تمہارے خاندان کی حفاظت کا ذمہ ميں ليتا ہوں۔ مگر کام کرنے کی صورت میں۔۔ اتنی سی بھی ہيرا پھيری کی نہ تو شہنشاہ تمہيں تمہاری سوچ سے بھی پہلے پالے گا اور انجام ميں تمہيں بتا چکا ہوں” شہنشاہ کا غراتا لہجہ اسے پسينے سے شرابور کرگيا۔
“پسينہ صاف کرو اپنا۔۔۔ اٹھو اور پانی وانی پيو۔۔۔جگ تو خالی پڑا ہے تمہارا” اسکی بات پر غفار کا تھر تھر کانپنا بنتا تھا۔ يعنی وہ اسے ديکھ رہا تھا۔
“اور ہاں يہ کال ٹريس کروانے کی غلطی مت کرنا۔۔۔۔کوشش کروگے بھی تو منہ کی کھاؤ گے” کہتے ساتھ ہی شہنشاہ نے فون بند کرديا۔
اس نے بھی کال اينڈ کرکے جيسے ہی سائيڈ پر موبائل رکھا موبائل سے ايک چنگاری نمودار ہوئ اور وہ وہيں پر جل گيا۔
غفار دل پر ہاتھ رکھے يہ خوفناک منظر ديکھ رہا تھا۔
اس کا موبائل اسکی نظروں کے سامنے جل گيا تھا۔ اب وہاں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔
وہ حقيقت ميں شديد خوفزدہ ہوچکا تھا۔
شہنشاہ کی بات ماننے کے علاوہ اسکے پاس دوسرا راستہ صرف موت اور يقينا تکليف دہ موت کا تھا۔
_____________________
آج جيسے ہی وہ گاڑی ميں بيٹھی وہاں پہلے سے ہی سفيد ٹيلوپ کا بکے پڑا ہوا تھا۔
وہ نہ تو خوفزدہ تھی نہ پريشان ہاں مگر حيران ضرور ہوتی تھی۔ پچھلے ايک ہفتے سے يہی ہورہا تھا۔
کبھی فليٹ کی بالکونی پو ايسا ہی بکے ملتا۔۔کبھی کچن کے آگے بنی کھڑکی ميں۔۔ کبھی آفس پہنچتی تو اسکی ٹيبل پر پہلے سے پڑا ہوتا۔
اور آج تو گاڑی کے اندر۔۔۔
رات ميں اسے اچھی طرح ياد تھا کہ جس وقت وہ ايک سيمينار اٹينڈ کرکے واپس آئ تھی تب اچھی طرح گاڑی کو لاک کيا تھا شيشے بھی بند کئے تھے۔
“آخر کون ہوسکتا ہے۔۔ کيا سرتاج يا وقار؟” اس کا دماغ انہی دونوں کی جانب گيا۔
” دشمن گولياں تو تحفے ميں مار سکتے ہيں مگر پھول نہيں دے سکتے۔” اپنی سوچ کی نفی کرتے اس کا دھيان يکدم فاران کی جانب گيا۔
“اف يہ بندہ” اسے شديد غصہ آيا۔۔ وہی ہوسکتا تھا۔ حالانکہ اس دن کے بعد سے اس نے دوبارہ اس حوالے سے يماما سے بات نہيں کی تھی۔
“خاموشی سے کنوينس کرنا چاہتا ہے” يماما اسٹيرينگ پر ہاتھ رکھے کچھ دير سوچتی رہی۔
پھر ايک گہری سانس بھر کر گاڑی سٹارٹ کی۔
وہ دوبارہ فاران سے اس بارے ميں بات نہيں کرنا چاہتی تھی۔ مگر يہ حرکتيں اسے پھر سے اس سے بات کرنے پر اکسا رہی تھيں۔
ابھی وہ آفس آکر اسی سوچ ميں غرق تھی کہ فاران کو فون کرے يا اسکے آفس جا کر اس سے اس حرکت کی بابت دريافت کرے کہ اس کا موبائل بج اٹھا۔
بے توجيہی سے اس نے نمبر پر غور کئے بنا موبائل اٹھايا۔
“ہيلو”اسکی ہيلو کے جواب ميں چند لمے دوسری جانب خاموشی ہی قائم رہی۔
“سرتاج اور اسکے بيٹے کا آئندہ تم نے فون اٹينڈ نہيں کرنا” دوسری جانب سے ايک گھمبير آواز نے اسے جو وارننگ دی وہ سن کر يماما جتنا حيرت سے دوچار ہوتی کم تھا۔
“يہ دنيا ميں کون پیدا ہوگيا مجھے حکم دينے والا” ايک ابرو اچکا کر اس نے سوچا۔
“کيوں۔۔ تمہارے پھوپھا لگتے ہيں وہ جو درد اٹھ رہا ہے” طيش ميں وہ اسی پر چڑھ دوڑی۔
“ايک دفع کی بات بھيجے ميں نہيں بيٹھتی تمہارے۔ جب کہا ہے کہ ان کمينوں کا فون نہيں اٹھانا تو نہيں اٹھانا” اسکے انداز پر اس نے فون کان سے ہٹا کر اب کی بار نمبر ديکھا۔ چار ہندسوں والا عجيب سا نمبر تھا۔
“اور آپ يہ بتانا پسند کريں گے کے آپ کون ہيں؟ميں آپکی بات کس خوشی ميں مانوں” وہ دانت کچکچا کر بولی۔ کسی کا ايسا حاکمانہ لہجہ اس نے کبھی برداشت نہيں تھا کيا۔
“تمہارا چاہنے والا” اسکی بات پر دوسری جانب سے پہلے تو قہقہہ گونجا اور اسکے بعد جو الفاظ اس شخص نے بولے يماما کو چار سو چاليس والٹ کا کرنٹ لگا گۓ۔
“فاران اگر يہ سب بکواس تمہاری ہے تو يقين کرو۔۔ تمہارا دماغ سيدھا کردوں گی” وہ اب کی بار کچھ سمجھتے ہوۓ بھنا کر بولی۔
“تمہارے اس عاشق کو تمہاری ايک بار کی ڈوز ہی کافی تھی۔۔ميری جان” اس طرز تخاطب پر يماما کا دل کيا يہ جو بھی گھٹيا انسان ہے اس کا منہ توڑ کر رکھ دے۔ اور يہ ايک بار کی ڈوز۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اپنا ننھا سا دماغ زيادہ خرچ مت کرو۔۔ سوچتے ہوۓ اور بھی حسين لگتی ہو۔۔” يماما کی ريڑھ کی ہڈی چندلمحوں کے لئے سنسنائ۔
“منہ توڑ دوں گی تم جيسوں کا۔۔۔۔ گھٹيا انسان” يماما نے آخرکار اپنی حيرت کو پس پشت ڈالتے ہوۓ اپنے ازلی انداز ميں اسے لتاڑا۔
“سو بار ميری رانی۔۔۔۔سو بار” دوسری جانب جيسے کوئ فرق ہی نہيں پڑا تھا۔ شرير مسکراتا لہجہ يماما کو آگ بگولا کر گيا۔
غصے ميں فون بند کيا۔
سامنے ٹيبل پر پڑے ٹيولپ کو ايک نظر ديکھ کر ہاتھ ميں اٹھايا اور زور سے سامنے ديوار پر مارا۔
“سرتاج اگر يہ تمہارا بندہ ہے نا تو چھوڑوں گی نہيں۔
موبائل پھر سے اٹھا کر فورا سے کاشف کا نمبر ملايا۔
“ہيلو کاشف ميرے موبائل پر ابھی جو کال آئ تھی اس کا ريکارڈ چاہئيے مجھے کوئيک” يہ وہی شخص تھا جس سے وہ اپنے فونز کا ريکارڈ ہميشہ نکلوا کر اپنے دشمنوں کے منہ پر انہی کی باتيں مارتی تھی۔
“ابھی تو کوئ کال نہيں آئ تمہارے موبائل پر” اس نے سامنے ريکارڈ چيک کرتے ہوۓ کہا۔
“کيا بکواس کررہے ہو۔۔ تھوڑی دير پہلے ہی ايک چار ہندسوں کے نمبر سے مجھے کال آئ ہے” اس نے جھنجھلا کر کہا۔
“نہيں يماما تمہارے موبائل پر جو لاسٹ کال آئ تھی وہ کل رات کی ہے اور يقينا فاران کی ہے” اسکی بات پر وہ مزيد حيران ہوئ۔
“اچھا ميں فون بند کرتی ہوں” کہتے ساتھ ہی اس نے جيسے ہی اپنے موبائل کا کال لاگ چيک کيا تاکہ ابھی آنے والی کال کو ديکھ سکے ۔۔ مگر وہ يہ دیکھ کر حيران رہ گئ کہ اسکے موبائل ميں آخری کال کل رات کی ہی تھی۔
جس نمبر سے ابھی اسے کال آئ تھی اس نمبر کا نام و نشان بھی اسکے موبائل ميں کہيں نہيں تھا۔
“يہ کيا مذاق ہے” اب کی بار وہ اور بھی الجھی۔
سر پکڑ کر بيٹھ گئ۔
کچھ دير وہ سر پکڑ کر بيٹھی رہی۔
اسے کوئ خوف نہيں تھا۔ وہ مرنے سے ڈرتی بھی نہيں تھی۔
“بس اللہ جی اس کيس کا فيصلہ ہونے تک زندگی دے ديں” وہ سرتاج اور اسکے خاندان کو کڑی سزا دلوانے تک زندہ رہنا چاہتی تھی۔
بہت حساب چکانا تھا اسکے خاندان کو۔۔۔ نہ صرف يماما کا بلکہ ان سب غريب اور نادار لوگوں کا جو وقتا فوقتا اسکی درندگی کی بھينٹ چڑھتے رہے تھے۔
آج سرتاج کے بھائ کے خلاف ثبوت اکٹھے کرچکی تھی۔ کل ہی کسی گمنام نمبر سے اسے کچھ ثبوت فراہم کرنے کا کہا گيا تھا۔
وہ نہيں جانتی تھی کہ اس فون کے پيچھے کون تھا۔ اسے صرف ثبوت سے مطلب تھا۔
اسکے آفس کے گارڈن ميں ايک گملے ميں ايک سی ڈی کی نشاندہی کی گئ تھی۔
جيسے ہی اسے فون پر اطلاع ملی وہ نہايت پرسکون انداز ميں اس گملے سے وہ سی ڈی پکڑ لائ۔
گھر جاکر جب اس نے اس سی ڈی کو پلئير ميں آن کيا۔وہ يہ ديکھ کر دنگ رہ گئ کہ بہت سے مشکل دشمن عناصر کے ساتھ مل کر سرتاج کے بھائ وہاج نے نہ صرف پوليس کے چند ايماندار آفيسرز کو غائب کروايا تھا بلکہ چند ايک مقامات پر بم بلاسٹ کرنے کا پلين بھی مرتب کيا گيا تھا۔
“يعنی يہ لوگ اپنی جائيداديں بنانے کی خاطر ملک کو کھوکھلا کرنے ميں بھی ملوث ہيں” اس نے دکھ سے سوچا۔
اب اسے جلد ازجلد يہ سب اہم ثبوت کورٹ ميں پيش کرکے اسکے بھائ کو بھی اندر کروانا تھا۔
“اس ملک کی نسلوں کو برباد کرنے چلے ہو۔۔ ميں تمہاری نسلوں کو برباد کردوں گی” وہ عزم لئے آج يہ سب ثبوت دينا چاہتی تھی۔ مگر اس فون کال نے اسے پريشان کرديا تھا۔
ابھی بھی وہ پيچھے ہٹنے والوں ميں سے نہيں تھی