Tuesday, September 29, 2020
Home Urdu Stories Dharkanon Ka Ameen - Episode 20 | Complete Urdu Story

Dharkanon Ka Ameen – Episode 20 | Complete Urdu Story

اگلا پورا دن گزر چکا تھا مگر شرافت کا کہيں اتہ پتہ نہيں تھا۔ وقار سارا دن چکراتا پھرا تھا۔ اپنے بندے تک اسکے گھر دوڑا دئيے۔ اسکی گاڑی کا بھی پتہ کيا مگر وہ گاڑی سميت ايسا غائب ہوا تھا کہ وقار کی سوچنے سمجھنے کی صلاحيتوں کو بھی اپنے ساتھ لے اڑا تھا۔
اس وقت وہ فون پر اپنے ماتحت پر برس رہا تھا۔
“آخر اسے زمين کھا گئ يا آسمان نگل گيا۔ کہاں دفع ہوگيا ہے وہ منحوس۔ اسکی سم بھی نجانے کہاں ہے۔ بند پڑی ہے کل سے۔” وقار اپنا غصہ اس شخص پر نکال رہا تھا۔
جس کے فرشتوں کو بھی شرافت کا پتہ نہيں تھا۔
“صاحب جی۔ اردگرد لوگوں سے بھی پوچھ ليا ہے۔ کل صبح کے بعد انہوں نے شرافت کو اپنے فليٹ ميں آتے نہيں ديکھا۔ اور نہ جاتے۔ سارا فليٹ چھان مارا ہے ليکن کوئ سرا ہاتھ نہيں آرہا” وہ بے چارا اپنی صفائياں دينے ميں مصروف ہوگيا۔
“يہ سب کيا ہو رہا ہے۔ ميرے گرد گھيرا تنگ ہوتا جارہا ہے۔ ميں۔۔ ميں کسی کو نہيں چھوڑوں گا۔ سب مجھے ايک ايک کرکے چھوڑتے جارہے ہو۔ مگر ميں ہار نہيں مانوں گا” وہ غرا کر بولا۔
فون بند کرکے غصے ميں ديوار پر دے مارا۔
بالوں ميں انگلياں پھنساۓ وہ بيڈ پر بيٹھ گيا۔
چل چل کر اب تو دماغ کے ساتھ ساتھ پاؤں بھی شل ہورہے تھے۔
کس سے پوچھے۔ کون بتا سکتا ہے۔
يہ تو اسے اندازہ ہوگيا تھا۔ کہ جس سميع پر اس نے بھروسہ کيا تھا۔ وہ کوئ عام بندہ نہيں تھا۔ وقار کو اسے پہچاننے ميں غلطی ہوئ تھی۔
وہ يقينا کسی ايجنسی کا بندہ ہے۔ اور کہيں اسی نے تو شرافت کو۔۔۔۔۔۔۔
يکدم ايک سرا اسکے ہاتھ آيا۔
مگر وہ سميع کو بے نقاب کيسے کرے۔ کوئ ثبوت اسکے ہاتھ ميں نہيں تھا۔
سوچ سوچ کر وہ تھک گيا۔ مگر اسے لگا سب بے سود ہورہا ہے۔
___________________________
سيمی کچن ميں چاۓ بنا رہی تھی جس لمحے اس کے موبائل کی بپ بجی۔
موبائل اٹھا کر ديکھا تو فاران کا میسج تھا۔وہ حيران ہوئ
انباکس کھولا
“السلام عليکم! کيسی ہيں آپ” سيمی نے چند لمحے موبائل کو گھورا۔
پھر کچھ سوچ کر ٹائپ کيا۔
“وعليکم سلام ميں ٹھيک ہوں۔ آپ بتائيں” جواب ٹائپ کرکے موبائل ايک جانب رکھا۔
چاۓ پک چکی تھی کپ ميں انڈيلی اتنی دیر ميں دوبارہ ميسج کی بپ بجی۔
فون اٹھا کر ميسج چيک کرنے ہی لگی تھی کہ فون ہی آگيا۔
کپ اٹھا کر موبائل بھی اٹھايا۔ يس کا بٹن دبا کر کان سے لگايا۔
“ہيلو”
“يہ تو پوچھ ہی چکا ہوں کہ آپ کيسی ہيں۔ لہذا مطلب کی بات کروں گا؟”وہ کوئ بھی۔ لگی لپٹی رکھے بغير مطلب کی بات پر آيا۔
“جی بتائيں”سيمی بھی کوئ تاثر دئيے بنا بولی۔
“ميں شام ميں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ کہيں بيٹھ کر بس دوستوں کی طرح بات چيت کرنے کا خواہش مند ہوں” سيمی کو اس سے اتنی جلدی ايسی کوئ بات کرنے کی اميد نہيں تھی۔
“ہمم۔۔ چليں ميں آپکو اپنا شيڈول چيک کرکے بتاتی ہوں” دماغ کو تيزی سے دوڑايا۔ نائل سے پوچھے بغير تو وہ کوئ قدم نہيں اٹھا سکتی تھی۔
“ٹھيک ہے ميں آپکے جواب کا منتظر رہوں گا” متبسم لہجے ميں جواب آيا۔
“شکريہ۔ اللہ حافظ” سيمی نے کال کاٹنے ميں پہل کی۔
فاران کی کال بند کرتے ہی اس نے نائل کا نمبر ملايا۔
“نائل ايک ايشو ہو گيا ہے”
دوسری جانب سکون ہی سکون تھا۔
“کيا؟”
“فاران نے مجھے چاۓ پر انوائٹ کيا ہے۔” سيمی نے تشويش بھرے انداز ميں کہا۔
دوسری جانب نائل نے بے ساختہ قہقہہ لگايا۔
سيمی کو اس بے وجہ کے قہقہے کی سمجھ نہيں آئ۔
“اس ميں ہنسنے کی کيا بات ہے” اسکی آواز ميں ناراضگی کی جھلک تھی۔
“يار بندہ بہت فاسٹ جارہا ہے” نائل کے شرارت آميز لہجے پر وہ بھی مسکراۓ بغير نہيں رہ سکی۔
“اب سيمی کے ساتھ بندہ بھی تو ايسا فاسٹ ہی جچے گا نا۔ تمہاری طرح کوئ مجنوں تو نہيں جو ليلی کے ہوتے بھی ‘وقت آنے کا’ راگ الاپتا رہے” سيمی نے بھی اس پر چوٹ کی۔ نائل کھل کر ہنسا۔
“اس کيفيت کا بھی اپنا سرور ہے۔ انتظار کے بعد جو محبت ملتی ہے نا۔۔ وہ بہت دير پا رہتی ہے۔ خير بندہ اچھا اور شريف ہے۔ سکون سے جاکر ملو۔ سميع کو تمہارے پيچھے لگا دوں گا۔ اسے ميسج کرتا ہوں۔ اسکے بعد تم اس سے کنٹيکٹ ميں رہو۔ وہ تمہيں فالو کرتا رہے گا۔ ڈونٹ وری سوئيٹ فرينڈ” نائل کے خيال رکھنے کے يہی انداز سيمی کو بے حد پسند تھے۔ ہميشہ کسی بڑے بھائ کی طرح اس کا خيال رکھتا تھا۔ کبھی اسے اکيلا نہيں چھوڑا تھا۔ سيمی بھی اسکی کے ساتھ يتيم خانے ميں پلنے والی لڑکی تھی۔ وہيں ان دونوں کی دوستی ہوئ۔
اور پھر يہ دوستوں تاعمر قائم رہنے والی بن گئ۔ سيمی کی سٹڈيز مکمل کرتے ہی نائل نے اسے سيکرٹ سروسز کا ايگزيم پاس کرنے کے لئے بھر پور تياری کروائ۔
اور جب وہ کلئير کر گئ تو اسے اپنی ٹيم ميں شامل کر ليا۔
سيمی کسی کی وقتی محبت کا نتيجہ تھا۔
اس کے ماں باپ کون تھے کہاں تھے کوئ نہيں جانتا تھا۔
بس کسی نے سڑک پر نومولود بچی کو ديکھا اور اٹھا کر يتيم خانے پہنچا ديا۔
اسی لئے نائل اب اس کا سر پرست بن چکا تھا۔ سيمی کے قريب آنے کی بڑی وجہ يماما سے اسکی مشابہت بھی تھی۔ اور يہی مشابہت ان کے کام آئ۔
اس کی خواہش تھی کہ فاران سيمی کو پسند کرے اور اس سے شادی کرے۔ نائل نے ہر لحاظ سے اسے پرکھا تھا۔ اسی لئے وہ اسے بے حد اچھا لگا تھا۔
____________________________
اگلے دن شام کی بجاۓ دوپہر ميں ہی مہک کی واپسی ہو چکی تھی۔ نائل اپنے کام سے باہر تھا۔ گھر ميں صرف يماما تھا۔ اس نے پرتپاک انداز ميں مہک کو خوش آمديد کيا۔
وہ اس عورت کی ان محبتوں کی مقروض تھی جو نائل سے انہيں تھی۔ تو پھر يماما کو وہ کيونکر نہ عزيز ہوتيں۔مہک ، يماما ميں خوشگوار سی تبديلی ديکھ کر بے حد متاثر ہوئيں۔
کچھ دير آرام کرنے کے بعد وہ نائل کے کمرے ميں اسکی چيزيں ٹھيک کرنے کی غرض سے گئيں۔
کمرے ميں داخل ہوئيں۔ ہر چيز ترتيب سے رکھی تھی۔ مگر بيڈ کے قريب کوئ جگمگاتی چيز نظر آئ۔
آگے بڑھ کر ديکھا تو وہ کوئ انگوٹھی تھی۔ ہاتھ بڑھا کر اٹھايا۔ہتھيلی پر رکھتے ہی وہ چند پل حيرت زدہ سی رہ گئيں۔ يہ وہی انگوٹھی تھی جو اکثر انہوں نے يماما کے ہاتھ ميں ديکھی تھی۔ کچھ سوچ کر انہوں نے ہاتھ ميں دبائ اور کمرے سے باہر آگئيں۔
رات ميں کھانا کھانے کے بعد انہوں نے نائل کو اپنے ساتھ اسٹڈی روم ميں آنے کا کہا۔
خود وہ اس سے پہلے اسٹڈی روم ميں پہنچ چکی تھيں۔
نائل بھی کچھ دير بعد انکے پيچھے آيا۔ وہاں موجود صوفے پر وہ پرسوچ انداز ميں بيٹھيں تھيں۔
“کيا بات ہے ممی خيريت؟”نائل کو انکے سنجيدہ تيور کچھ عجيب سے لگے۔
انہوں نے نظر اٹھا کر جانچتی نظروں سے نائل کو ديکھا۔ اپنے قريب صوفے پر بيٹھنے کا اشارہ کيا۔
وہ انکے قريب بيٹھ گيا۔
مہک نے ايک ہاتھ اسکے چوڑے کندھے پر رکھا۔
“کنزہ اچھی لڑکی ہے” انکے منہ سے نکلنے والی بات اسے سمجھ نہيں آئ۔ اس نے کچھ الجھ کر انہيں ديکھا۔ ان کا چہرہ کسی بھی تاثر کے بغير تھا۔
“آپ مجھ سے پوچھ رہی ہيں۔ يا بتا رہی ہيں” ہولے سے مسکرا کر اس نے مہک کی جانب ديکھا۔
“نہ پوچھ رہوں ہوں نا بتا رہی ہوں۔ مجھے خوشی ہے کہ اتنے سالوں بعد کوئ لڑکی ميرے بيٹے کو پسند آئ۔ ليکن مجھے تب اور بھی زيادہ خوشی ہوتی اگر تم اپنی فيلنگز ميرے ساتھ شئير کرتے۔ ميں تو کب سے اس آس ميں بيٹھی ہوں کہ تم کسی لڑکی کو پسند کرو” اپنی بات ختم کرکے انہوں نے ہتھيلی نائل کے آگے کی۔ جس پر يماما کی انگوٹھی جگمگا رہی تھی۔
“يہ آج تمہارے کمرے ميں سے مجھے ملی ہے۔” نہ ان کا انداز شرمندہ کرنے والا تھا اور نہ طنز والا۔ بس سادہ سا انداز تھا ايسے جيسے کوئ معمول کی بات اسے بتا رہی ہوں۔
“کل رات ميں ہم نے اکٹھے چاۓ پی تھی۔ شايد تبھی يہ ميرے روم ميں گر گئ تھی” نائل نے بھی سادہ سے انداز ميں آدھی حقيقت بتا دی۔ مگر يہ نہيں بتايا کہ وہ کيوں وہاں تھی۔
“تو کيا ميں اس سے آگے کے انتظام کروں؟” انہوں نے اب کی بار مسکرا کر اسے ديکھا۔
“وہ بہت اچھی ہے۔ اور مجھے اچھی بھی لگتی ہے۔ مگر کچھ مسائل ايسے ہيں کہ ميں ابھی اسکے ساتھ کوئ اور رشتہ قائم نہيں کرسکتا۔ آپ کچھ وقت ديں۔ پھر ان شاءاللہ ميں آپکی خواہش پوری کردوں گا” نائل نے ان کا ہاتھ تھام کر انہيں تسلی دلائ۔
“بس خيال رکھنا اپنی زندگی ميں ہی يہ خوشی ديکھ لوں” انہوں نے مسکراتی نظروں سے اپنے بيٹے کو ديکھا۔ کيا ہوا جو انہوں نے اسے پيدا نہيں کيا۔ کيا ہوا کہ وہ بہت سالوں بعد انہيں ملا۔ مگر جس قدر انہوں نے اسے محبت دی تھی۔ نائل کو لگتا تھا وہی اسکی اصل ماں ہيں۔
“پليز ممی ايسے مت کہيں۔ ميرے بہت سارے بچوں کو ميں اور کنزہ اکيلے نہيں سنبھال سکيں گے۔ آپ نے اور بابا نے ہی انہيں سنبھالنا ہے” نائل نے محبت سے انکے گرد اپنی بازوؤں کا گھيرا باندھ کر انہيں خود سے لگايا۔
وہ انہيں اور شمس کو کسی صورت اب کھونا نہيں چاہتا تھا۔
مہک نے مسکرا کر آنکھيں موند ليں۔ اور دل ميں ان شاءاللہ کہا۔