Tuesday, September 29, 2020
Home Urdu Stories Dharkanon Ka Ameen - Episode 21 | Complete Urdu Story

Dharkanon Ka Ameen – Episode 21 | Complete Urdu Story

سيمی مقررہ وقت پر ہوٹل پہنچ چکی تھی۔
فاران پہلے سے ہی وہاں موجود اس کا انتظار کررہا تھا۔
دروا‌زے سے کچھ آگے ايک کھڑکی کے پاس دو بندوں کی ٹيبل پر وہ موجود تھا۔ سيمی با اعتمادی سے چلتی ہوئ اس ٹيبل کے قريب گئ۔
فاران اسے ديکھ کر اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“السلام عليکم” فاران دوستانہ مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ بولا۔
“وعليکم سلام ۔۔ اميد ہے ميں نے زيادہ انتظار نہيں کروايا ہوگا” سيمی بھی دوستانہ لہجے ميں بولی۔
“بالکل بھی نہيں” دونوں نے اپنی اپنی کرسياں سنبھاليں۔
“کچھ حيران سی لگ رہی ہيں؟” وکيل تھا زيرک نگاہ کيسے نہ ہوتا۔
سيمی ہولے سے مسکرائ۔
“ظاہر ہے۔ ايک ايسا بندہ جو آپ سے پہلے ملتے ہوۓ ہچکچاۓ۔۔ اور ايک ہی ملاقات کے بعد پھر يکدم آپ کو چاۓ کی آفر کردے۔ تو۔۔ ميرا خيال ہے کہ ہر نارمل بندے کا حيران ہونا بنتا ہے” سيمی بھی لفظوں کی کھلاڑی تھی۔ اتنی آسانی سے اس کی گرفت ميں کيسے آتی۔
“ويل سيڈ” فاران اس کی حاضر جوابی پر ہولے سے مسکرايا۔
“چاۓ کے ساتھ آپ کيا ليں گی؟” اس نے يکدم بات پلٹی۔
“ميں کھانے پينے کی زيادہ شوقين نہيں۔ جو مل جاۓ شکر کرکے کھا ليتی ہوں۔ اور ہاں سبھی کچھ کھا ليتی ہوں۔
لہذا اگر آپ اپنی پسند کی کوئ چيز منگوانا چاہئيں تو مجھے قطعی کوئ مسئلہ نہيں ہوگا” سيمی کی بات پر وہ ايک بار پھر سے مسکرايا۔ مگر اس بار مسکراہٹ کو چھپانے کی بھرپور کوشش کی اور کامياب بھی ہوا۔
مگر سيمی کی تيز نظروں نے اس متاثر کن مسکراہٹ کو بھانپ ليا۔
“لوگوں کو راز فراہم کرنے کے علاوہ آپ اور کيا کرتی ہيں؟” ويٹر کو چاۓ کے ساتھ سينڈوچز اور چاکليٹ موز براؤنز کا آرڈر دے کر کرسی کی پشت سے ٹيک لگاۓ۔ ريليکس انداز ميں بيٹھے اب وہ مکمل طور پر سيمی کو نگاہوں کے فوکس ميں رکھے ہوۓ تھا۔
“بس کچھ نہ کچھ کرتی رہتی ہوں۔ کوئ اتنی بڑی ہستی نہيں اور کوئ ايسا خاص پروفيشن نہيں کہ بتاؤں۔۔آپ کی طرح اتنے اچھے پروفيشن سے نہ تو تعلق ہے اور نہ کوئ اتنی اچھی ڈگری کہ اچھی جاب کروں۔ چھوٹی موٹی جاب جہاں ملے کر ليتی ہوں” وہ جس قدر فاران کو گھما سکتی تھی۔ گھما ديا تھا۔
“پھر بھی ۔۔۔کوئ تو نام ہوتا ہے جاب کا۔ يا گمنام سپاہی سمجھوں” فاران کی مسکراہٹ اب غير معمولی ہو چکی تھی۔
“ارے نہيں ہمارے ايسے نصيب کہاں” سيمی نے پھر سے بات کو ادھر ادھر کيا۔
“وہ کيس کہاں تک پہنچا؟” اب اس نے خود سے بات ہٹانا چاہی۔
“کيس ابھی چل رہا ہے۔ کيونکہ يہاں کی عوام کا حال آپ کو پتہ ہے۔ پيسے کے پيچھے اپنا ايمان تک بيچ ديتے ہيں۔ يہ تو پھر ايک اہم شخصيت کا کيس ہے۔ مگر آپ نے جو شواہد دئيے۔ ان سے کافی مدد ملی ہے۔
وہ سب ميں نے کورٹ ميں جمع کروادئيے ہيں۔
اب مجھے چند اہم گواہوں کی ضرورت ہے۔ جو پيسے کے بل پر نہيں بلکہ سچ ميں اس خاندان کے راز فاش کريں” فاران نے ايک ٹھنڈی سانس لی۔
ويٹر کے آتے ہی دونوں خاموش ہوگۓ۔
چاۓ سرو کرکے اور چيزيں رکھ کر جيسے ہی ويٹر گيا۔ فاران نے ايک ہاتھ سے سيمی کو سب لينے کا اشارہ کيا۔
“آپ کو يہ سب شواہد کيسے ملے؟” وہ اب بھی اسی بات پر اٹکا ہوا تھا۔
“جب اللہ مدد کر رہا ہو۔ تو يہ نہيں پوچھتے کہ مددگار کو مدد کا خيال کيسے آيا۔ يہ تو اللہ کا حکم تھا۔ جو ميرے ذريعے عمل ميں آيا۔ ميں خود نہيں جانتی يہ سب کون کيسے اور کب دے گيا۔ بس آپ کی صورت ميں ايسے درندوں کو بے نقاب کرنے کا خيال ذہن ميں آيا اور ميں پہنچ گئ۔” سيمی کسی طور اس موضوع پر نہيں آرہی تھی۔
جبکہ فاران کا شک اب يقين ميں بدل رہا تھا۔ يقينا وہ سيکرٹ ايجنٹ کی ہی کارکن تھی۔
فاران نے پھر اسے اصرار نہيں کيا۔
دونوں ادھر ادھر کی باتيں کرتے رہے۔ کچھ دير بعد ہی دونوں واپسی کے راستے پر تھے۔
سيمی نے نائل کے کہنے پر اس ملاقات کی ايک ايک بات ٹيپ ريکارڈر ميں ريکارڈ کردی تھی۔ جو کہ اسکے چھوٹے سے بيگ ميں موجود تھا۔
فاران اس بات سے واقف نہيں تھا کہ جس لمحے وہ اس کی ٹيبل کے قريب آئ اس لمحے بيگ کے اندر ہاتھ ڈال کے اس نے ٹيپ ريکارڈر کا بٹن آن کرديا تھا۔
واپس پہنچتے ہی اس نے وہ ٹيپ موبائل پر سويو کرکے نائل کو بھجوا دی۔
______________________
“ہاں۔۔ کہاں تک معاملہ پہنچا۔۔ ٹھيک ہے۔ اسے اٹھوا لو۔۔ ميں مزيد کسی اور بربادی کا انتظار نہيں کرسکتا”وقار کی آواز ميں شديد غصہ بھرا تھا۔
“ابے نہيں۔۔۔۔ جيسے ہی گھر سے نکلے اسے اٹھوا لو۔۔ ميں پہلے ہی بہت مصيبتوں ميں گھرا ہوں۔ اب اس سب کا اينڈ ہونا چاہئيے۔۔۔اس کمينے نے مجھے گھن چکر بنا ديا ہے۔۔۔
ميں اس کو برباد کرکے چھوڑوں گا۔ مجھے معلوم ہی نہيں تھا اصل دشمن تو ميرا ميرے سامنے پھر رہا تھا۔ اور ميں ادھر ادھر جھک مار رہا تھا” موبائل کان سے لگاۓ وہ کمرے ميں ايک جگہ سے دوسری جگہ چکر کاٹ رہا تھا۔
“اوپر سے وہ خبيث جج ۔۔۔کسی طور ميرے کيس کو ڈھيل دينے کو تيار نہيں۔ بکواس بھی کی ہے کہ دبئ ميں ميرے دو کامياب مالز ميں اسکے نام کر دوں گا۔ اسکی سات پشتيں بھی بيٹھ کر کھائيں گی تو کم نہيں پڑے گا۔ مگر بڈھا ہاتھ ہی نہيں آرہا۔
نجانے کس نے دھمکياں دے رکھی ہيں۔ ہر بار بوکھلايا ہوا ملتا ہے ايسے جيسے اسے ہر لمحہ کوئ اپنی نظروں ميں رکھے ہوۓ ہے۔ مگر مجال ہے کہ ميری باتوں ميں آجاۓ۔” وہ ہر کسی کو کوسنے دے رہا تھا۔
“خود تو ڈيڈی سلاخوں کے پيچھے چلے گۓ۔ مجھے بھی يہاں پھنسا گۓ۔۔۔” وہ باپ کو بھی برا بھلا کہنے سے گھبرايا نہيں۔
“ہاں چلو ٹھيک ہے۔ اسے اٹھوا کر فارم ہاؤس پہنچاؤ۔ آگے کا کام ميرا ہے” اپنے بندے کو ہدايات ديتے فون بند کيا۔
_________________________
“ميں آخر کب تک يوں گھر ميں بند رہوں گی” يماما اس وقت اکتائ ہوئ نائل کے پاس اس کی لائبريری ميں موجود تھی۔
“بس کچھ دن اور۔۔ سمجھو۔ اس سارے قصے کا ڈراپ سين ہونے والا ہے۔ ميں نے وقار اور وہاج کے خلاف ڈھير سارے گواہان اکٹھے کرلئے ہيں۔ بس اب اس سب قصے کا انجام ہونے ہی والا ہے۔ پھر تم اور ميں آزاد ہوجائيں گے” يماما کے ہاتھ سے چاۓ کا کپ لے کر ايک جانب رکھتے وہی ہاتھ پکڑ کر اپنے سامنے رکھی کرسی پر اسے بٹھا کر گويا خوشخبری سنائ۔
“آپ کيا جاب کرتے ہيں؟” نائل کی توقع کے برخلاف اسکی باتوں پر خوش ہونے کی بجاۓ۔ يماما اسے کھوجتی نظروں سے ديکھنے لگی۔
“بس لوگوں کی حفاظت کرنے کی اور برائ کو جڑ سے ختم کرنے کی کوششوں ميں مصروف رہتا ہوں” نائل نے بات گھمائ۔
“آپکے اتنے سارے روپ۔ کبھی کسی کی آواز بدل لينی کبھی کسی کی۔ يہ سب کوئ عام انسان نہيں کرتا۔ يہ سب تو ميں نے ايجنسيوں۔۔۔۔” نائل نے اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ ديا۔
يماما کی آنکھيں حيرت کی زيادتی کے باعث کھل گئيں۔
“ديواروں کے بھی کان ہوتے ہيں۔۔۔لہذا اس بات اور اس گمان کو يہيں دفن کردو” نائل کے چہرے سے يکدم گہری سنجيدگی جھلکنے لگی۔
“ميں آپکی بيوی ہوں نائل” اسکے ہاتھ ہٹاتے ہی يماما نے جيسے اسے باور کروايا۔
“ہاں مگر کل مختار نہيں۔۔ لہذا ميں کون ہوں اور کيا کرتا ہوں۔ اس کو جاننے کا حق کسی کو بھی نہيں۔ نہ مجھے بار بار اپنی بات دہرانے کی عادت ہے۔ ميں تمہارے سب حقوق و فرائض پورے کروں گا۔ اور تمہارے لئے يہی کافی ہونا چاہئیے۔ تمہيں نہ کبھی فاقے کرنے پڑيں گے۔ اور نہ کبھی غربت کی شکل دکھاؤں گا۔
بس ۔۔۔اور اس بس کے بعد کچھ اور کہنے اور پوچھنے کی گنجائش کبھی نہيں ہونی چاہئيے۔ يہ سب ميں تمہيں پہلی اور آخری بار بتا رہا ہوں۔ اس کے بعد اس سب کو کبھی نہيں دہراؤں گا۔ميں تمہارے سامنے صرف تمہارا نائل ہوں۔ اور اس سے آگے پيچھے کيا ہوں اور کيوں ہوں۔ اس سب کو جاننے کی تمہيں ضرورت نہيں ہے۔
بس اتنا جان لو۔ اللہ اور اسکے رسول کی ہدايات کو جانتا ہوں۔ لہذا کسی بھی غلط کام ميں انوالو نہيں ہوں۔ بہت اچھا نہيں۔ بہرحال اچھا انسان اور مسلمان بننے کی کوشش کرتا ہوں۔ اور اس سب ميں کوئ غير قانونی يا انسانيت سوز کام نہيں کرتا۔
تم سمجھدار ہو۔ مجھے اميد ہے آئندہ اس سب کو دہرانے کی ضرورت محسوس نہيں ہوگی” يماما کی آنکھوں ميں آنکھيں ڈالے وہ جو کچھ سمجھانا چاہ رہا تھا يماما کو وہ بہت اچھی طرح سمجھ آچکا تھا۔
اس تمام عرصے ميں يماما نے اسے پہلی بار اس قدر سنجيدہ ديکھا تھا۔ اور يہ سنجيدگی غصے سے بالاتر تھی مگر يماما کی ريڑھ کی ہڈی سنسنا گئ تھی۔
نائل کے ہاتھ ميں دبے اسکے ہاتھ پر نائل کی گرفت بے حد مضبوط تھی۔ اور يہ مضبوطی اسے بہت کچھ کہہ رہی تھی۔
“جی” يماما نے نظريں جھکا کر فقط اتنا ہی کہا۔ کيونکہ اسے اتنا ہی کہنا تھا۔ اس سے آگے کی گنجائش نائل نے بالکل نہيں چھوڑی تھی۔
“اس سب قصے کے اختتام کےلئے مجھے تمہاری مدد کی ضرورت پڑے گی۔اور سمجھو تمہاری وہ مدد ہی آخری کيل ثابت ہوگی۔ جس کے بعد وقار، وہاج اور سرتاج کے تابوت دفن ہونے کو تيار ہوجائيں گے” يماما نے اسی خاموشی سے سر ہلايا۔ جو اب قدرے جھکا ہوا تھا۔
نائل نے اسکی خاموشی محسوس کرلی تھی۔
“يماما اس ميں برامنانے والی کوئ بات نہيں ہونی چاہئيے” نائل نے اسکے ہاتھ کو ہولے سے جھٹکا دے کر گويا اسے چہرہ اوپر کرنے کا اشارہ کيا۔
“نہيں ميں نے برا نہيں منايا۔ بس مين يہ تعين کرنا چاہ رہی ہوں۔ کہ اب مجھے آپ سے بات کرتے وقت کن کن باتوں کو ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا۔ تاکہ دوبارہ آپ کو وہ سب دہرانے کی ضرورت نہ پڑے” يماما نے سادے سے لہجے ميں کہا۔
نائل ہولے سے مسکرايا۔
“بس ميری اور اپنی بات کرو گی تو کچھ بھی سوچنے کی ضرورت نہيں ہوگی۔ ديکھو يماما کچھ چيزيں ايسی ہوتی ہيں۔ جنہيں انسان خود سے بھی نہيں دہراتا۔ وہ جيسی ہيں انہيں ويسے قبول کرنا پڑتا ہے۔ اس سب کو کہنے کا يہ مطلب نہيں کہ يہ ايک مسئلہ ہم ميں فاصلے پيدا کردے۔” نائل کی بات پر اس نے پھر سے ہولے سے سرہلايا۔
پھر آہستہ سے اپنا سر اسکے کندھے سے ٹکا ديا۔
“نائل مجھے يقين ہے جيسے آپ نے ہر لمحہ ميری حفا‍ظت کی۔ وہ چاہے ميری جان ہو يا ميری عزت۔ مگر دنيا کے سردوگرم سے بچانے کے لئے چھپ کر ہی سہی ۔۔ آپ نے ہر لمحہ مجھے اس سے بچايا۔ تو ميں کيسے يہ سوچ لوں کہ آپ کسی ايسے کام ميں ملوث ہوسکتے ہيں جس کے پتہ چلنے پر ميں شرم سے پانی پانی ہوجاؤں۔
مجھے اميد ہے آپ اللہ کی راہ ميں کوئ بہترين کام کررہے ہيں۔ اور اسی کام کے عوض ميری اللہ سے دعا ہے۔ وہ آپ کو ہر لمحہ کامياب اور کامران کرے اور آپ کے دشمنوں کو نيست و نابود کرے” يماما ان سب ڈھکی چھپی باتوں سے بہت کچھ جان گئ تھی۔
اور يہ اطمينان اس کے اندر تک سرائيت کرگيا کہ اس کا نائل اس وطن اور اسکے سچے لوگوں کے لئے کام کررہا ہے۔
نائل نے آہستہ سے اسکے گرد اپنی بازوؤں کا گھيرا باندھا۔
وہ جانتا تھا يماما بہت سی ان کہی باتوں ميں بھی وہ سب سمجھ جاۓ گی جو نائل اسے سمجھانا چاہتا ہے۔
نجانے وہ دونوں کب تک يوں ايک دوسرے ميں گم بيٹھے رہتے اگر نائل کا موبائل نہ بج اٹھتا۔
يماما سرعت سے پيچھے ہوتے آنکھوں کے گوشوں پر ٹھہرنے والے موتيوں کو پوروں سے چننے لگی۔
نائل نے فورا موبائل اٹھايا۔
“ہيلو” دوسری جانب سے نجانے کيا کہا گيا کہ نائل تيزی سے کھڑا ہوا۔
“کيا۔۔ کيا کہہ رہے ہو۔۔ اچھا تم وہيں رہو ميں آرہا ہوں” نائل نے عجلت ميں موبائل بند کيا۔
“کچھ کام ہے تھوڑی دير تک آتا ہوں”يماما کی سواليہ نظروں کی جانب ديکھتے کہا۔ پھر جھک کر اسکی آنکھوں کی نمی محسوس کی۔
“اپنا خيال رکھنا” پيچھے ہٹتے اسے محبت بھری ہدايت کرنا نہيں بھولا۔ اسکے قريب سے ہوتا لائبريری سے باہر چلا گيا۔ مگر اپنا احساس يماما کے پاس ہی چھوڑ گيا۔