Dharkanon Ka Ameen – Episode 22 | Complete Urdu Story

303
اسکی بند آنکھيں آہستہ آہستہ کھل رہی تھيں۔ وہ اس قدر مضبوط اعصاب کا مالک تھا کہ وہ دوائ جس کے بے ہوش ہونے پر لوگ کئ گھنٹوں بعد ہوش ميں آتے ہيں۔ اس کے مضبوط اعصاب کی وجہ سے وہ فقط چار گھنٹوں ميں ہی ہوش ميں آچکا تھا۔
مندی مندی آنکھوں کو اب پوری طرح کھولے اس نے اردگرد ديکھا۔
وہ کرسی پر بيٹھا تھا۔ پاؤں کرسی کی ٹانگوں کے ساتھ اور ہاتھ اسکی پشت پر لے جا کر باندھے گۓ تھے۔
چند منٹ وہ ہاتھوں کو دائيں بائيں ہلاتا رہا۔
مگر بے سود۔ وہ نہتا ہو کر بھی اتنا نہتا نہيں تھا جتنا اس کو اغوا کرنے والے نے سمجھ رکھا تھا۔
اسکی گھڑی پر بآسانی اس جگہ کی ٹريسنگ ہوسکتی تھی جہاں وہ موجود تھا۔
اور اس کا باس کوئ عام شخص نہيں۔ نامی گرامی شہنشاہ عرف نائل تھا۔
سميع کو اغوا کرنے والے نے اپنی شامت کو آواز دے دی تھی۔
اور اسے اغوا کرنے والا کوئ اور نہيں وقار تھا۔
ابھی وہ اپنے دماغ کے گھوڑے دوڑا ہی رہا تھا کہ دروازہ زوردار ٹھوکر سے کھولا گيا۔
وقار غضبناک چہرے سميت اندر آچکا تھا۔
“مجھے پاگل سمجھا تھا تم نے؟” دروازہ واپس اتنے ہی زور دار طريقے سے بند کرکے وہ غرايا۔
سميع خاموش تھا۔ اب اسے خاموش ہی رہنا تھا۔ کيونکہ اس جگہ جہاں وہ بيٹھا تھا نہ وہ کسی کا بھائ تھا۔۔ نہ کسی کا بيٹا اور نہ ہی دوست وہ صرف اپنے ملک کا محافظ تھا۔
اور ايسی صورتحال ميں ملک کے محافظ اپنا تن ۔ من ۔دھن سب اس دھرتی پر وار ديتے ہيں۔ مگر اس دھرتی پر آنچ نہيں آنے ديتے۔
“تم سمجھتے تھے کہ ميں جان نہيں پاؤں گا کبھی اور تمہارے ہاتھوں کٹھ پتلی بنتا رہوں گا” وہ چيخ رہا تھا۔ چلا رہا تھا۔
غصے سے پاگل ہورہا تھا۔ اور جھوٹوں۔۔سازشوں اور ملک دشمن عناصر کے پاس بے نقاب ہونے کے بعد سواۓ غصہ اور چيخ چلا کر سچ کو دبانے کے سوا کچھ نہيں ہوتا۔ وقار بھی اس لمحے وہی کر رہا تھا۔
اور محافظ خاموش تھا۔
“اب بھونکو گے يا نہيں۔۔ تم ايجنسی کے پالتو کتے۔۔ مجھے۔۔ وقار ملک کو جيل بھجوانے کی غلط فہمی ميں مبتلا تھے” اب کی بار اسکے بال مٹھی ميں جکڑے وہ جھنجھوڑ رہا تھا۔
سميع نے ايک غصيلی نظراس پر ڈالنے کے سوا اب بھی کچھ نہيں کہا تھا۔
وقار اسکی خاموش پر اور بھی طيش ميں آگيا۔ گھما کر ايک الٹے ہاتھ کی چپيڑ اتنے زور سے اسکے منہ پر ماری کہ اس کا ہونٹ پھٹ گيا۔ مگر وہ کرسی سميت ٹس سے مس نہ ہوا۔
اس سے پہلے کہ وہ مزيد مارتا يکدم کھڑکی پر ٹھک ٹھک کی آواز گونجی۔
وقار چوکنا ہوا۔
سميع اس آواز پر مسکراۓ بغير نہيں رہ سکا۔
ايک بار پھر ٹھک ٹھک کی آواز گونجی۔
“ابے کون ہے؟” وہ غصے ميں پھر سے چلايا۔ کيونکہ کھڑکی مقفل تھی۔ اس کا کوئ بندہ ايسی جرات نہيں کرسکتا تھا۔
يکدم خاموشی چھا گئ۔
وقار پھر سے سميع کی جانب مڑا۔ شايد ہوا تھی۔ وہ يہی سمجھا۔
مگر وہ جانتا نہيں تھا کہ يہ ہوا نہيں طوفان کی آمد تھی۔
“کس کے لئے کام کرتا ہے۔ سيدھی طرح بتا دے۔ کل تک اسکی وردی اور رتبے کا نشہ نہ اتارا تو ميرا نام بھی وقار نہيں” وہ پھر سے سميع کے بال مٹھی ميں جکڑے اس کا چہرہ اونچا کئے آنکھيں نکال کے بولا۔
يکدم پھر سے کھڑکی بجی۔
“ابے ميں کہتا ہوں کون۔۔(گالی) ہے” وہ غصے سے کھڑکی کے قريب گيا پردہ غصے سے ہٹايا تو کھڑکی کھولے کوئ لمبے بالوں والا ہيبت ناک انسان موجود تھا۔ بڑی بڑی داڑھی اور مونچھوں ميں۔۔
وقار يکدم لڑکھڑايا۔ کھڑکی کيسے کھل گئ۔۔
“تت۔۔ تم کون ہو۔۔ کيسے کھڑکی کھولی” وہ گھبرايا۔
“رشيد۔۔ شوکی۔۔ ذکا۔۔” وہ يکدم اونچی آواز ميں اپنے بندوں کو آوازيں دينے لگا۔
“ابے ۔۔تيرا باپ آيا ہے۔۔ اندر تو آنے دے۔ کوئ سلام تو پيش کر ميری خدمت ميں۔” بھاری مگر کسی قدر غنڈوں جيسی بولی بولتا وہ کھڑکی پھلانگ کر اندر آگيا۔
وقار نے تيزی سے اپنی پينٹ کی جيب سے ريوالور نکالی۔
“ايک قدم بھی آگے بڑھايا تو بھون کے رکھ دوں گا” ريوالور کا رخ اسکی جانب کئے وقار اونچی آواز ميں بولا۔
مگر سامنے والے کو تو جيسے کوئ فرق ہی نہ پڑا۔
“بيٹا ۔۔ ان کھلونوں سے شہنشاہ کو ڈرانے کی ناکام کوشش نہيں کرتے” وہ اسے پچکار کر بولا۔
اب اس کا رخ سميع کی جانب تھا۔
“يہ تھپڑ کس نے مارا ہے تمہيں” اب وہ سميع سے مخاطب تھا۔
وقار نے اسے خوفزدہ نہ ديکھ کر گولی چلائ۔
مگر شہنشاہ نے پھرتی سے جھکائ دے کر نہ صرف اسکی کوشش ناکام کی بلکہ نيچے بيٹھتے ہوۓ ايک ٹانگ گھما کر اسکے پيٹ پر اس زور سے ماری کہ وہ دور جاگرا۔
وقار کو اندازہ نہيں تھا کہ وہ اتنا چوکنا انسان ہے۔
وقار نے اس کا نام بہت سن رکھا تھا۔ انڈر ورلڈ کی دنيا سے شہنشاہ کا تعلق تھا۔
مگر وہ اسکے پيچھے کيوں پڑا تھا اور کيا سميع اس کا بندہ تھا؟
شہنشاہ کی ايک ہی ٹانگ کھانے کے بعد اس کا دماغ صحيح سمت چلنے لگا تھا۔
پيٹ پکڑے وہ شہنشاہ کو سميع کے ہاتھ پاؤں کھولتے ديکھ رہا تھا۔
پھر جيب سے رومال نکال کر اس نے سميع کے ہونٹ سے رسنے والا خون صاف کيا۔
“اس نے ہاتھ اٹھايا تم پہ؟” اب وہ تيکھی نظروں سے وقار کو ديکھ رہا تھا۔
“باس جانے ديں” سيمع يقينا اس کے غضب سے واقف تھا لہذا اسے اس موضوع سے ہٹانا چاہا۔
“نہيں بيٹا ايسے کيسے جانے دوں” وہ غضب ناک تيور لئے وقار کی جانب آيا۔
“بات سنو۔۔ شہنشاہ۔۔ پہلے ميری بات سنو” وہ سرعت سے پيچھے ہوتا ديوار کے ساتھ لگا۔
“چل سنا۔۔ کيونکہ اسکے بعد ميں نے تجھے کچھ کہنے کا موقع نہيں دينا” شہنشاہ نے ايسے کہا جيسے پھانسی کے وقت بندے کو آخری خواہش کہنا کا موقع ديا جاتا ہے۔
“تت۔۔ تمہارا اور ميرا ۔۔ تو کبھی آپس ميں آمنا سامنا نہيں ہوا۔ پھر تم مجھ سے کس بات کی دشمنی نکال رہے ہو۔ ميرے پيچھے اپنا بندہ کيوں لگا رکھا ہے۔ کيونکہ ميں تو سميع کو ايجنسی کا بندہ سمجھا تھا۔
اسی غلط فہمی ميں اٹھايا تھا۔ اگر يہ تمہارا بندہ ہے تو لے جاؤ۔ مگر تم نے اسے ميرے پيچھے کيوں لگايا؟” وہ شديد کنفيوز تھا۔ شہنشاہ کی دشمنی کے اس نے بہت سے واقعات سن رکھے تھے۔ وہ جتنا اچھا ڈان تھا۔ اس سے کہيں برا دشمن تھا۔ اور وہ اس سے دشمنی مول نہيں لينا چاہتا تھا۔
“تيرے خيال ميں ۔۔ ميں اتنا ہی اچھا ہوں کہ تو پوچھے گا اور ميں سب الف سے يہ تک تيرے گوش گزار کردوں گا۔ تيرے اور تيرے خاندان کے شہنشاہ پر بہت سے قرض تھے جو اب چکانے کا وقت آگيا ہے۔ ميں تيری سوچ سے بہت اوپر کی چيز ہوں۔
لہذا اپنا ننھا سا دماغ ان سوچوں ميں ضائع مت کر”
شہنشاہ استہزائيہ ہنسا۔۔
پھر يکدم بپھر کر اسکے قريب آيا۔ گريبان سے پکڑ کر اس سے کہيں زور دار تھپڑ اسکے منہ پر مارا جو اس نے سميع کو مارا تھا۔
“يہ ميرے عزيز ترين بندے کو ہاتھ لگانے کا نتيجہ” اوندھے منہ گرے وقار کے قريب تھوکتے ہوۓ شہنشاہ غرا کر بولا۔
“اور تيرے باقی کے سوالوں کے جواب بہت جلد تيرے منہ پر مارنے عدالت آؤں گا۔ اب اگلی ملاقات وہيں ہوگی” سميع کا ہاتھ تھامے وہ اسی کھڑکی کے راستے اندھيرے ميں کہاں اور کس طرف گيا۔
جتنی دير ميں کراہتا ہوا وقار کھڑکی کے پاس آيا وہ دونوں اندھيرے ميں گم ہو چکے تھے۔
اسکا نہ صرف پورا گال جل رہا تھا بلکہ آدھا ہونٹ پھٹ چکا تھا۔
وہ ہونٹ پکڑے نيچے آيا۔
آخر اس کے سب بندے کہاں مرگۓ تھے۔
کسی کو ہوش نہيں تھا کہ کيا کچھ ہوگيا ہے۔
وہ غصے سے باہر آيا تو ديکھا سب کے سب بے ہوش پڑے ہيں۔ اور ايا ڈاٹ سا ان کی گردنوں ميں لگا ہے۔
وقار نے ايک کی گردن سے وہ ڈاٹ نکالا تو اس پر کوئ محلول لگا تھا۔
وہ شايد بے ہوش کرنے والی کوئ دوائ تھی۔
وہ غصے سے وہ ڈاٹ پھينک کر کھڑا ہوا۔ سامنے پڑی ٹيبل کو زوردار ٹھوکر ماری۔ اس کا سارا پلين تباہ ہوگيا تھا۔
دو دن بعد اب اسکی پيشی تھی۔ اور اسی پيشی پر اس کا فيصلہ ہونے والا تھا۔
_________________________
“تم کہاں تھے جب اس نے تمہيں اغوا کيا” نائل اب گاڑی ميں بيٹھا شہنشاہ والے حليے سے چھٹکارا پا چکا تھا۔
سميع کے ہونٹوں پر دوائ لگاتے وہ پوچھ رہا تھا۔
“ميں فاران کو وہ دونوں فارنرز اور وہاج کے بيٹے کے پاس لے جانے کے لئے نکلا تھا۔ تاکہ پرسوں والی پيشی کے لئے انکی گواہی بھی لی جاسکے مگر نجانے کس وقت اس نے اپنا ايک اور بندہ ميرے پيچھے لگايا۔
گاڑی ميں بيٹھ کر کچھ دير ميں ہی مجھے معلوم ہوگيا تھا کہ کوئ ميرے پيچھے لگا ہے۔ ميں نے کافی ڈاج ديا۔
مگر ايک جگہ ميری گاڑی مڑی وہاں شايد اس کا بندہ مجھے جان بوجھ کر لے کر گيا۔ کيونکہ سڑک پر کيل بچھاۓ ہوۓ تھے۔
بس وہيں ميری گاڑی پنکچر ہوئ۔ اور جب تک ميں گاڑی کو سنبھالتا اس کا بندہ مجھ تک پہنچ گيا۔
اور اتنی ہی دير ميں کوئ اسپرے ميری جانب کيا کہ ميں بے ہوش ہوگيا” سميع نے ساری تفصيل بتائ۔
“ہمم۔ خير رفيق کو جيسے ہی سگنل ملے اس نے فورا مجھے کال کردی۔اور ميں اسی لمحے نکل آيا” نائل نے بھی اپنے پہنچنے کی تفصيل بتائ۔
“ہاں مجھے اطمينان تھا کہ آپ پتہ چلتے ہی نکل آئيں گے۔ اگر آپ تب تک نہ پہنچتے تو ميں گھڑی ميں سے بليڈ نکال کر ہاتھوں کی رسی کاٹ ليتا” يہ طريقہ بھی نائل نے اسے بتايا تھا۔
اسکی گھڑی ميں ايک چھوٹی سی پاکٹ ميں نائل نے بليڈ رکھوايا تھا۔ اور اسی طرح کی ہر گھڑی اسکی ٹيم کے سب بندوں کے پاس تھی۔ جسے وہ ہمہ وقت پہنتے تھے۔
ان کی جاب کی نوعيت کے حساب سے کوئ پتہ نہيں ہوتا تھا کون کب انہيں اغوا کروا لے تو کم از کم بچنے کے جتنے طريقے ہوسکتے تھے انہوں نے وہ سب اپنے قريب رکھے ہوتے تھے۔
“ہاں اس کا تو مجھے بھی اطمينان تھا۔ مگر اس وقت ميں اس کے پاس اپنی کوئ کمزوری نہيں دے سکتا۔” نائل نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“آئ نو سر” سميع بھی جانتا تھا۔
يہ دو دن ان کے لئے بے حد اہم تھے۔
___________________
کھانے کے بعد معمول کے مطابق يماما نائل کی اسٹڈی روم ميں کافی کا مگ لے کر آئ۔ آجکل وہ بہت زيادہ مصروف ہوگيا تھا۔
“تھينکس ۔۔بيٹھو تم سے کچھ بات کرنی ہے” نائل اس لمحے بے حد سنجيدہ دکھائ دے رہا تھا۔
“کل وقار اور وہاج کے کيس کی سماعت ہے” اسکی بات پر يماما چونکی۔
“کل صبح دس بجے ايک کالے شيشوں والی گاڑی تمہيں کورٹ تک پہنچا دے گی۔
تم نقاب ميں وہاں جاؤ گی۔ اور ميں ايک سيکورٹی گارڈ کے روپ ميں تمہارے ساتھ ہوں گا۔ ہم کورٹ ميں موجود رہيں گے۔ ميرا ايک بندہ سميع بھی وہاں ہوگا۔ ميں نے مختلف جگہوں سے وقار اور وہاج کے لئے مختلف گواہ ڈھوںڈے ہيں۔ اور ان سب کو اپنی قيد ميں رکھا ہوا ہے۔
ان سب گواہوں کے بعد آخری گواہ تم ہوگی۔ فاران اس کيس کو اب ہينڈل کررہا ہے جو تمہارے مرنے کی جھوٹی خبر کے باعث ادھورا رہ گيا تھا” پرت در پرت بہت سی حقيقتيں وہ يماما پر کھول رہا تھا۔
وہ حيران بس اسے سن رہی تھی۔
“اور پھر تمہارے مرنے والے کيس ميں وقار نے جس بندے کو تمہارے پيچھے لگايا تھا اور جس نے تمہاری گاڑی کو ٹکر ماری تھی۔ وہ بھی پيش ہوگا۔ اور اس کے پيش ہونے کے بعد ميں تمہيں پيش کروں گا۔
تم نے ايک ايک حقيقت ہماری فيملی کے بارے ميں بھی وہاں کھولنی ہے۔ وہ سب پيپرز ميں تمہيں دوں گا۔ تم نے وہ کورٹ ميں پيش کرنے ہيں۔ ہاں مگر مجھے وہاں پوائنٹ آؤٹ نہيں کرنا اور نہ ہی يہ بتانا ہے کہ تمہاری فيملی ميں تمہارے علاوہ ميں بھی زندہ ہوں۔
مجھے تم گمنام ہی رہنے دو گی۔ صرف اپنا بتاؤ گی کہ تم صرف زندہ ہو۔
تم سمجھ رہی ہونا” نائل بہت بڑی ذمہ داری اسکے سر ڈال رہا تھا۔ مگر يہی وقت تھا اسے پورا کرنے کا اور اپنے دشمنوں کو بے نقاب کرنے کا۔
آنکھوں ميں آنسو لئے وہ نائل کو ديکھ رہی تھی۔
“يماما۔۔ يہ آنسو کيوں آجاتے ہيں يار۔۔ پليز مجھے اپنی نڈر يماما کو ديکھنا ہے ہر لمحہ۔ مجھے ايسا کيوں لگتا ہے ميری وہ يماما کھوگئ ہے” نائل نے اسکے دونوں
کو مضبوطی سے اپنے ہاتھوں ميں جکڑا۔
“پتہ ہے نائل۔۔۔ منزل جب تک قريب نہ ہو۔۔ تب تک اسے قريب ديکھنے کے لئے انسان تگ و دو کرتا ہے اور اس تگ و دو ميں جذبات کہيں معدوم ہو جاتے ہيں۔ مگر جب منزل سامنے نظر آنے لگے تب سب سے پہلے تشکر کا اظہار کرتے آنسو ہی ساتھ دينے کو آگے بڑھتے ہيں۔
بس مجھے لگ رہا ہے ہماری منزل اب قريب ہی ہے” يماما کی بات پر نائل ہولے سے مسکرايا۔ عقيدت سے اسکے ہاتھوں پر اپنے پيار کی مہر ثبت کی۔
“ان شاءاللہ۔۔بس تم نے گھبرانا نہيں۔” نائل نے اس کا ہاتھ تھپتھپايا۔
“اچھا يہ تو بتائيں۔۔ ميری ہم شکل کہاں سے ڈھونڈی تھی” يماما نے آنسو پيتے بات بدلی۔ وہ نائل کو اب کبھی خود سے مايوس نہيں کرنا چاہتی تھی وہ جيسا چاہتا تھا وہ ويسی ہی رہنا اور بننا چاہتی تھی۔ لہذا ابھی سے آنسوؤں کو خيرباد کہہ ديا۔ انہيں گالوں پر گرنے نہيں ديا۔
“يار ميری ايک دوست ہے۔۔دوست بھی کيا۔۔ بس بہن سمجھ لو۔۔ بہت اچھی وہ بھی اسی يتيم خانے ميں تھی جہاں ميں تھا۔ اسکی شکل تم سے بہت ملتی ہے۔ بس تب سے وہ ميرے ساتھ ہے۔
ميری ٹيم ميں ہے۔۔ اور جب تمہيں اغوا کروانا تھا۔ تو تمہارا نعم البدل وہ لگی۔
اسے تھوڑا سا ميک اپ کرکے بالکل تمہاری طرح بنا ديا۔ ” نائل مزے سے اپنی کارگزاری دکھا رہا تھا۔
“مجھے اس سے ملنا ہے” يماما نے اپنی خواہش ظاہر کی۔
“جلد ہی ملواؤں گا۔ اور اب کافی گرم کرکے لے آؤ۔ کيونکہ تمہيں ديکھنے کے چکر ميں کافی ياد ہی نہيں رہی” شرارتی نظروں سے اسے ديکھا۔
“مجھے ديکھنے کہ اپنی سٹورياں سنانے کے چکرميں” يماما نے آنکھيں دکھاتے کافی کا مگ اٹھايا۔
نائل کی شرارت پر مسکراتے ہوۓ باہر گئ