Dharkanon Ka Ameen – Episode 23 | Complete Urdu Story

299

اگلے دن صبح نائل اس سے پہلے ہی گھر سے جا چکا تھا۔ اسے نو بجے تک تيار ہونے کا آرڈر دے گيا تھا۔
شمس تو جانتے تھے مگر مہک کو بتايا گيا تھا کہ يماما کسی ضروری کام کے سلسلے ميں کچھ دير کے لئے باہر جاۓ گی۔
مہک کو کيا اعتراض ہو سکتا تھا۔انہوں نے گھر پر ہی رہنا تھا۔
يماما سادہ سا ميرون اور زنک کامبينيشن کا لباس پہنے بڑی سی چادر اپنے گرد لپيٹے تيار تھی۔
ناشتے کے نام پر اس نے فقط ايک چاۓ کا کپ ہی پيا تھا۔
“بيٹا صحيح سے لو نا۔ پتہ نہيں کب تمہاری واپسی ہو؟” مہک محبت بھرے انداز ميں سلائس اسکی جانب بڑھاتے ہوۓ بوليں۔
“نہيں آنٹی ابھی نہيں۔ ان شاءاللہ واپسی پر خوب سير ہو کر کھاؤں گی” يماما کے لہجے کی گہرائ کو مہک نہيں جان سکيں۔
“آنٹی۔۔” يماما چاۓ کے کپ سے آخری سپ ليتے مگ رکھتے يکدم مہک کو پکار اٹھی۔
“جی بيٹا” ممتا سے چور لہجے نے يماما کی آنکھوں کو آنسوؤں سے بھر ديا۔
يماما نے يکدم مہک کے دونوں ہاتھ تھام لئے۔
ڈائننگ ٹيبل پر وہ دونوں ساتھ ساتھ بيٹھی تھيں۔
مہک يماما کے انداز پر چونک گئيں۔
“دعا کيجئے گا ميں جس مقصد کے لئے جارہی ہوں اس ميں کامياب ہوجاؤں” کپکپاتے لبوں سے وہ بمشکل اتنا ہی کہہ سکی۔
مہک اسکے انداز پر ٹھٹھکيں۔
“کيا بات ہے ميرے بچے۔ کوئ پريشانی کی بات ہے” وہ پريشان ہو اٹھيں۔ جب سے نائل نے يماما سے محبت کا اظہار کيا تھا وہ انہيں اور بھی عزيز ہوگئ تھی۔
يماما آنسو پيتے لبوں پر مسکراہٹ سجاۓ نفی ميں سر ہلا گئ۔
“چھوٹے ہوتے جب بھی کسی خاص مقصد کے لئے گھر سے نکلتی تھی اماں سے کہتی تھی آپ دعا کريں آپ کی دعا سے ميں کامياب ہوجاؤں گی۔ مجھے لگتا ہے ماں کوئ بھی ہو کسی کی بھی ماں کے دل سے نکلی دعا ضرور پوری ہوتی ہے۔ بس اسی لئے آپ سے درخواست ہے کہ آپ ميرے لئے بھی ويسی ہی دعا کريں جيسی آپ نائل کے لئے کرتی ہيں” يماما انہيں بتا نہيں سکتی تھی کہ وہ اس کے لئے کيا ہيں۔ نائل کے حوالے سے وہ اسے عزيز ترين تھيں۔
“ميرا بچہ۔۔ اللہ تمہاری ہر جائز مراد بر لاۓ۔۔آمين” مہک اسکے معصوم سے انداز پر صدقے واری جاتيں محبت سے اسے ساتھ لگا کر خود ميں بھينچتيں صدق دل سے دعا دينے لگيں۔
“آمين۔” يماما نے بھی زير لب کہا
_________________
اسی لمحے باہر کسی گاڑی کا ہارن بجا۔
“مجھے لگتا ہے تمہيں گاڑی لينے آگئ ہے” مہک سے الگ ہوتے وہ چادر سنبھالتی رہائشی حصے سے نکل کر پورچ سے گزرتی باہر گيٹ پر آئ۔
گيٹ سے نکلنے سے پہلے وہ چہرے کو چادر سے نقاب کی صورت ڈھانپنا نہيں بھولی۔
ايک مسلح ڈرائيور دروازہ کھولے اس کا منتظر تھا۔
يماما گاڑی کے اندر خاموشی سے بيٹھ گئ۔
فرنٹ سيٹ پر ايک اور گارڈ بھی موجود تھا۔ ڈرائيور نے سيٹ سنبھالتے ہی گاڑی چلا دی۔
يماما نے ہاتھ ميں وہ فائل مضبوطی سے تھام رکھی تھی۔ جو صبح نائل اسکے کمرے ميں رکھ گيا تھا۔
اس ميں وہ سب ثبوت موجود تھے جن ميں صاف صاف واضح ہوتا تھا کہ وہاج اور سرتاج نے چںد سال پہلے يماما اور نائل کے گھر کو نذر آتش کر ديا تھا۔
نہ صرف ثبوت تھے۔ بلکہ ايک سی ڈی بھی موجود تھی جس ميں اس علاقے کے ان لوگوں کے بيان موجود تھے جو آگ لگانے ميں شامل تھے۔ اور اب وہ پوليس کی حراست ميں تھے۔
چند ہی منٹوں بعد وہ عدالت کے سامنے کھڑی تھی۔جيسے ہی گاڑی سے اتری اگلی سيٹ پر موجود سيکورٹی گارڈ حرکت ميں آيا۔
يماما کے نيچے اترتے ہی وہ بھی اسکے ہمقدم ہوا۔ يماما لمحہ بھر کو جھجھکی۔
“ميں ہر پل تمہارے ساتھ ہوں ڈئير۔گھبراؤ مت” سيکورٹی گارڈ کی بات سن کر يماما لمحہ بھر کو حيرت زدہ ہوئ۔
وہ کوئ اور نہيں نائل تھا۔ بالکل بدلے ہوۓ روپ ميں۔ گھنی مونچھيں اور خوبصورتی سے ترشی ہوئ داڑھی چہرے پر سجی تھی۔ آنکھوں پر کالے شيشوں والی عينک لگا رکھی تھی۔ چہرے کے خدوخال کو شايد ميک اپ سے بدل ديا گيا تھا۔ سياہ يوسيفارم ميں ہاتھ ميں گن اٹھاۓ سر پر ٹوپی پہنے وہ اس کا محافظ۔۔ اس کا نائل تھا۔
يماما کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ پھيلی۔
يکدم اندر باہر اطمينان بھر گيا۔
اعتماد سے قدم اٹھاتے چند لمحوں ميں کمرہ عدالت ميں موجود تھی۔
فاران اگلی نشستوں پر بيٹھا نظر آگيا۔
يماما کے چہرے پر ابھی بھی نقاب تھا اسی لئے کوئ اسے پہچان نہيں سکا۔
نائل اسے لئے خاموشی سے پچھلی نشستوں پر بيٹھ گيا۔
وہاج اور وقار دونوں اپنے وکيل کے ہمراہ موجود تھے۔
نائل اور يماما سے آگے کی دو رو چھوڑ کر تيسری ميں سيمع بھی موجود تھا۔ پوليس کے لبادے ميں نہيں۔ بلکہ گواہوں ميں سے جو يماما کے اغوا کئے جانے والے قصے کو کھولنے والا تھا۔
جج نے ابھی سماعت شروع نہيں کی تھی کہ فاران کو اپنے کندھے پر کسی کے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا۔ موڑ کر ديکھا تو سيمی موجود تھی۔
وہ حيران ہوا۔ اس نے فاران کو اپنے آنے کے بارے ميں باخبر نہيں کيا تھا۔
فاران کچھ کہنے لگا کہ اس نے ہونٹوں سے خاموش رہنے کا اشارہ کيا اور ايک فائل اسکی جانب بڑھائ۔ پھر اسکے کان کے قريب جھکی۔
“اس ميں چند اور راز ہيں۔اميد کرتی ہوں کہ جتنا سمجھدار وکيل ميں نے آپ کو جانا ہے۔۔ آپ اس سے بھی زيادہ سمجھداری کا مظاہرہ کرکے اس فائل ميں موجود رازوں کو بہت احسن طريقے سے آخری کيل کے طور پر اس کيس ميں ٹھونکيں گے۔
اور ہاں اس ميں دو اور گواہان کو پيش کرنے کا عنديہ بھی ہے۔ اميد کرتی ہوں ان دونوں کو پيش کرتے وقت آپ اپنے جذبات کو قابو ميں رکھيں گے۔” فاران کو وہ کيا کچھ کہہ رہی تھی اس کی سمجھ ميں کچھ نہيں آرہا تھا۔
ابھی سماعت شروع ہونے ميں چند منٹ رہتے تھے۔
سيمی اپنی بات مکمل کرکے وہاں سے جا چکی تھی۔
فاران حيرت کے زير اثر فائل کو کھول کر جلدی جلدی پڑھنے لگا۔
اور جو راز اس ميں کھلے۔ اسے اپنے جذبات پر قابو رکھنا واقعی ميں مشکل لگا۔
يماما جسے وہ سب مردہ سمجھے تھے وہ زندہ تھی۔ اور اسی عدالت ميں اس لمحے موجود تھی۔ کيونکہ آخری گواہ کے طور پر اسے ہی آنا تھا۔
فاران نے آنکھيں بند کرکے بمشکل اپنی آنکھوں ميں آنے والے آنسوؤں کو روکا۔
گردن موڑ کر پيچھے ديکھا۔ وہاں يماما کی صورت والی کوئ لڑکی موجود نہيں تھی۔ ہاں مگر ايک لڑکی گارڈ کے ساتھ کالی چادر ميں منہ پر نقاب کئے بيٹھی تھی۔
اسی لمحے يماما کی نظريں بھی فاران کی سمت اٹھيں۔
اور بس فاران سمجھ گيا يماما کہاں ہے۔
دونوں چںد لمحے ايک دوسرے کی جانب ديکھتے رہے۔
“يہ تمہارا صرف دوست ہی ہے نا؟” نائل نے خشمگيں نظروں سے فاران کو ديکھا۔
“نہيں۔۔ صرف دوست نہيں بہترين دوست ہے” يماما اسکی جيلسی پر مسکراہٹ ہونٹوں ميں دباۓ بولی۔
“اتنی محبت سے تم نے کبھی مجھے تو نہيں ديکھا” ايک اور شکوہ۔
فاران اب رخ موڑ چکا تھا اور يماما بھی رخ موڑے ايک مسکراتی نگاہ نائل کے چہرے پر ڈالے ہولے سے ہنسی۔
“جن سے محبت ہو انکی جانب تو نگاہ ہی نہيں اٹھتی” يماما کے اعتراف پر نائل نے چہرے پر آنے والی مسکراہٹ کو بمشکل ہونٹوں ميں دبايا۔
اسے لگا ہر سو اطيمنان پھيل گيا ہو