Dharkanon Ka Ameen – Last Episode 24 | Complete Urdu Story

1205

فاران کافی حد تک خود کو سنبھال چکا تھا۔
چند لمحوں ميں جج نے سماعت شروع کرنے کا حکم ديا۔ اور سب سے پہلے فاران کو بولنے کا موقع ديا۔
فاران کوٹ کے بٹن بند کرکے اٹھ کھڑا ہوا۔
“شکريہ سر”
“سر جيسے کہ آپ جانتے ہيں کہ ملک خاندان پہ بہت سے غلط کاموں ميں ملوث ہونے کے باعث چند اہم کيس شروع کئے گۓ ہيں۔
ان کيسز کے بہت سے ثبوت مہيا ہونے پر سرتاج ملک تو آج جيل کے پيچھے ہيں ہی۔مگر ان کے بيٹے اور بھائ بھی کسی صورت ان کيسز سے مبرا نہيں ہيں۔
کرپشن کے کيس کے علاوہ حال ہی ميں وہاج ملک پر دہشت گردوں کا ساتھ دينے اور انہيں غير قانونی طريقے سے ملک ميں آنے کی سہولت انہوں نے ہی مہيا کی” فاران کی بات ابھی پوری بھی نہيں ہوپائ تھی کہ سرتاج اور وقار کا وکيل چلا اٹھا۔
“جج صاحب يہ ميرے معقل پر الزام ہے۔۔ کرپشن سے نکل کر اب انہوں نے اور بھی الزام ميرے معقل پر تھوپنا شروع کردئيے ہيں” وہ غصے ميں فاران کو جھٹلا رہا تھا۔
“اتنے ہی يہ سچے ہيں تو ثبوت پيش کريں” وہ فاران کو چيلنج کرنے والے انداز ميں بولا۔
فاران ہولے سے مسکرايا۔
اور ايک جانب کھڑے پوليس افسران کے ساتھ نقاب ميں لپٹے تين ملزموں کا کپڑا ہٹانے کا اشارہ کيا۔
انکے چہرے سے کپڑے ہٹتے ہی سرتاج اور وقار کو لگا کہ زمين اور آسمان گھوم چکے ہيں۔ وہ کوئ اور نہيں
وہی دو غيرملکی اور سرتاج کا بيٹا تھا جنہيں نائل نے مشن کے طور پر اسکے فارم ہاؤس سے اٹھوايا تھا۔
“ميرا خيال ہے ميرے ساتھی وکيل کے معقل شايد ان ميں سے اب اپنے بيٹے کو بھی پہچاننے سے انکار کرديں گے” فاران نے بھنويں اچکا کر فاتحانہ مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ سرتاج کی جانب ديکھا۔
جس پر گڑہوں پانی گر چکا تھا۔
“جج صاحب اگر آپ اجازت ديں تو ميرے يہ مجرم کٹہرے ميں آکر اپنا اپنا ريکارڈ کروائيں۔ تاکہ يہاں موجود ہر شخص کو يقين ہو جاۓ کہ اس خاندان کا دہشتگردی کے بہت سے واقعات ميں حصہ تھا” فاران کے کہنے پر جج نے ان تينوں کو باری باری کٹہرے ميں بلا کر ان کے بيان ريکارڈ کرواۓ۔
تينوں نے آکر اس بات کا باری باری اعتراف کيا کہ سرتاج کے کہنے پر چار سے پانچ اہم مقامات پر انہوں نے اپنے بندے خودکش حملے کے طور پر تيار کروا کر بھجيے تھے۔
“اور سر اسکے علاوہ يہ ان تينوں کو خفيہ طريقے سے چرس اور ہئيروئن سے بھرے ٹرکوں ميں چھپا کر بارڈر پار کروانا چاہتا تھا۔
اور بہت عرصے سے يہ بہت سے کالج اور يونيورسٹی کے طلبا اور طالبات کو چرس اور ہيروئن بھی فراہم کرتا ہے۔ اور اس بات کا ثبوت ميرا ايک اور گواہ دے گا” فاران کے کہتے ہی پوليس آفسرز نے ايک اور بندہ کٹہرے ميں لاکھڑا کيا۔
جو کوئ اور نہيں وہی پٹھان تھا جس کے گھر يماما اور نائل ايک رات رہے تھے۔
“صاحب يہ پچھلے پانچ سال سے ميرے ساتھ کام کرتا ہے۔ صاحب مجھے معاف کردو۔ ميں پيسوں کی خاطر اسکی باتوں ميں آگيا۔ مگر اب ميں ايسا کبھی نہيں کروں گا۔ ہم غريب لوگ تھے۔ جنہيں اس نے ان کاموں پر مجبور کيا۔اور پھر پيسوں کے لالچ ميں ہم نے اس کا غلط کاموں ميں ساتھ ديا۔” وہ ہاتھ جوڑے سب اعتراف کرتے کرتے معافی مانگ رہا تھا۔
“يہ يہ غلط کہہ رہا ہے۔ سب جھوٹ ہے جج صاحب۔ يہ ان بندوں کو چںد پيسے دے کر گواہ بنا کر لايا ہے” سرتاج اور وقار کا وکيل پھر سے انہيں جھٹلانے لگا۔
“ٹھيک ہے اگر يہ جھوٹ ہے تو يہ فون کالز سن لو” فاران نے کہتے ساتھ ہی ايک ريکارڈنگ اونچی آواز ميں لگا دی۔
کمرہ عدالت ميں پہلے ہی خاموشی تھی موبائل کے ساتھ اس نے ايک پورٹيبل اسپيکر لگايا ہوا تھا۔ جس کی بدولت پورے کمرہ ميں آواز گونجنے لگی۔
“ہيلو”
“جی استاد”
“ايک کام کرو۔ جو چرس اور ہيروئن کا ٹرک تم بارڈر کے اس پار بھيج رہے ہو۔ اس ميں ميرے دو غير ملکی دوست بھی ہيں انہيں بھی کسی طرح بارڈر پار کروا دو۔
ميرے بيٹے کے پاس ہيں وہ دونوں۔ وہاں سے ميرا ايک بندہ انہيں تم تک پہنچا دے گا۔ آگے کا کام تمہارا ہے”
“استاد فکر ہی نہ کريں۔ بڑے آرام سے ميں انہيں بارڈر پار کروا دوں گا”
“ٹھيک ہے شاباش” پورے کمرے ميں سرتاج اور اس پٹھان کی آواز گونج رہی تھی۔
“اگر اب يہ اپنی آواز پہچاننے سے بھی انکار کرديں گے تو سر آپ ہی بتائيں کيا کيا جاۓ” فاران نے سرتاج پر طنز کيا۔
“آپ کے پاس اپنی صفائ ميں کہنے کو کجھ ہے” جج کا رخ اب دوسرے وکيل کی جانب تھا۔
“يہ سب بے بنياد ہے” سرتاج چلايا۔
“ثبوت کو آپ بے بنياد کيسے کہہ سکتے ہيں۔اگر آپ سچے ہيں تو اپنی سچائ کا ثبوت پيش کريں” جج نے سيدھا سا حل نکالا۔
مگر وہ جانتے ہی نہيں تھے کہ وہ کس کے شکنجے ميں پھنسے ہيں۔
نائل۔۔۔۔۔وہ بلا تھی جس کی سوچ تک اس کا کوئ دشمن کبھی رسائ نہيں پاسکا تھا۔
وہ ايسے ايسے کارڈ کھيلتا تھا کہ سب کی سب بازی ہی الٹ جاتی تھی۔ اور جيت اسی کے حصے ميں آتی تھی۔
“اور ميرا آخری گواہ۔۔ جسے وقار ملک نے اس تمام قصہ کے شروع ہوتے ہی مروانے کی سازشيں اختيار کيں۔
کچھ عرصے پہلے ايک کار حادثے ميں اسے مروا بھی ديا گيا۔
مگر افسوس۔ موت اتنی ہی آسان ہوتی تو ہر شخص اپنے دشمن کو اتنی ہی آسانی سے مار ديتا۔
مگر موت برحق ہے اور جب تک اللہ نہ چاہے واپسی کا بلاوا آہی نہيں سکتا۔
ميری آخری گواہ۔۔۔۔۔”فاران نے چںد پل رک کر وقار کا زرد پڑتا چہرہ ديکھا۔
اور پھر پيچھے مڑ کر کالی چادر ميں موجود يماما کو آگے آنا کا اشارہ کيا۔
اس کی نظريں بے اختيار نائل کی جانب اٹھيں۔
نائل نے سامنے ديکھتے ہولے سے اسکے ہاتھ کو اپنے بائيں ہاتھ سے چھو کر جانے کا عنديہ ديا۔
يماما ہولے سے فائل کو سينے سے لگاۓ اٹھی۔ کالی چادر اب چہرے سے ہٹا دی تھی۔
اس کے ہر اٹھتے قدم ميں دشمن کو رود دينے والا عزم تھا۔
ہولے سے وہ کٹہرے ميں کھڑی ہوئ۔ اپنی پراعتماد فاتح نظريں وقار کے پتھريلے چہرے پر ٹکائيں۔
“ميں يمامانائل۔۔وہ وکيل تھی جس نے يہ کيس شروع کيا تھا۔ يہ کيس اسی لئے شروع کيا تھا۔ کہ بہت سال پہلے اس خاندان نے ميرے خاندان پر ظلم اور بربريت کا وہ پہاڑ توڑا تھا کہ ميں نے اپنا ہر رشتہ کھو ديا۔
ميرے جان سے پياروں کو زندہ جلا ديا گيا۔ صرف اسی لئے کہ انہوں نے سر اٹھا کر جينے کی خواہش کی تھی۔
جب اللہ نے ہر انسان کو برابر کہہ ديا پھر يہ فرعون کون ہوتے ہيں لوگوں کو خدا بن کر اپنے پيروں تلے روندنے والے۔ انہيں کيڑے مکوڑے سمجھ کر انکی زندگيوں کا فيصلہ کرنے والے۔”
يماما کی آنکھوں ميں چمک تھی اور لہجہ چير دينے والا۔
“سر آپ مجھے بتائيں۔ آپ تو اس انصاف کے منسب پر فائز ہيں۔ وکيل بنتے ہی ہميں يہ سکھايا جاتا ہے کہ انصاف کرنا ہے۔ حقدار کو اس کا حق دينا ہے۔
پھر ان بڑے بڑے وزيروں کے پاس ايسا کون سا اختيار ہے کہ يہ کسی غريب کی اولاد کو اس کا حق نہيں دينے پر تيار۔ اور اگر کوئ انکی مرضی کے خلاف جاۓ تو يہ اسے مسل کر رکھ ديتے ہيں۔
ميری کہانی ايک عام سی کہانی ہو شايد مگر ميرے لئے وہ اتنی خاص تھی کہ ميں نے اپنی تمام زندگی اسی پر تياگ دی کہ ان حوس کے مارے پجاريوں کو ايک نہ ايک دن انکے کئے کی سزا دلواؤں گی۔ اور وہ سب لوگ جو اب بھی انکے ظلم کا شکار ہيں انہيں رہائ دلواؤں گی۔۔” يہ کہتے ہی يماما نے الف سے يہ تک اپنے خاندان پر ہونے والے ظلم کی ايک ايک بابت بيان کی۔
“يہ تمام ثبوت موجود ہيں۔ وہ لوگ جنہوں نے ميرے گھر کو اس رات نذر آتش کيا تھا وہ پکڑے جا چکے ہيں۔ اور اپنے اپنے تماما بيانات اس ميں ريکارڈ کروا دئيے ہيں۔
اس وقار ملک نے مجھے دھمکياں ديں۔ ميرے آفس آکر مجھے ڈرايا۔ اور پھر مجھے مروانے کا منصوبہ بنايا۔
مگر ايجنسيوں ميں موجود محافظوں نے مجھے بچا ليا۔ اور کيسے بچايا۔ اس کا بيان سميع ارشد آپ کو بتائيں گے” يماما نے کٹہرے سے باہر آتے کہا۔
سميع اپنی سيٹ سے اٹھ کر اب کٹہرے ميں آچکا تھا۔
اور پھر وقار کی ايک ايک اصليت کو کھول کر پيش کيا۔
بہت ساری فوٹيجز بھی مہيا کيں۔ نہ صرف يہ۔
بلکہ جس بندے کو وقار نے اس دن يماما کے پيچھے لگايا تھا اسے بھی گواہ کے طور پر پيش کيا۔
تماما بيانات سننے کے بعد جج نے اپنا فيصلہ تيار کيا۔
” ان تمام گواہان اور ثبوتوں کے پيش ہونے کے بعد عدالت اس نتيجے پر پہنچی ہے کہ نہ صرف ملک خاندان کے سب اثاثے ضبط کر لئے جائيں گے۔ بلکہ سرتاج کو دہشتگردی کے کيس ميں ملوث ہونے کے سبب پھانسی کی سزا سنائ جاتی ہے ۔ اور وقار کو عمر قيد کی سزا دی جاتی ہے۔” يماما نائل کے ساتھ بيٹھی دم سادھے يہ فيصلہ سن رہی تھی۔
جج کی بات مکمل ہوتے ہی وہ چہرہ ہاتھوں ميں چھپاۓ رو پڑی۔
نائل نے آنسوؤں کو بڑی مشکل سے پيا۔ آج اس لمحے يقينا انکا خاندان ان دونوں پر رشک کررہا ہوگا۔
نائل نے يکدم سر اٹھا کر اوپر ديکھا۔
اس لمحے اللہ کا شکر ادا کرنے سے بڑھ کر اور کچھ نہيں تھا۔ جس نے ہر لمحہ اسے ہمت حوصلہ ديا۔ اسکی مدد کی۔
يکدم ايک بھاری ہاتھ اسکے کندھے پر ٹہرا۔
نم آنکھوں سے بھی وہ مسکرا ديا۔ ايک بار پھر اللہ کا شکريہ ادا کيا۔ کہ اسکے حقيقی ماں باپ کے کھونے پر بھی اس نے شمس اور مہک جيسے ماں باپ اسے عطا کرکے اسے اکيلا نہيں ہونے ديا۔
وہ کندھے پر ٹہرے اس ہاتھ کے لمس سے بہت اچھے سے واقف تھا۔
شمس کے سوا کون ہو سکتا تھا۔
انکے بيٹے کی زندگی کا سب سے اہم فيصلہ ہورہا تھا وہ کيسے اس لمحے اسے اکيلا چھوڑ ديتے۔
نائل نے باياں ہاتھ اپنے دائيں کندھے پر رکھے انکے ہاتھ پر ٹکايا۔
انہوں نے وہی ہاتھ تھپتھپا کر گويا اسے مبارک دی۔
اور پھر وہاں سے چلے گۓ۔
اب گھر جاکر شکرانے کے نفل بھی تو پڑھنے تھے۔ اور مہک کو بھی بتانا تھا کہ انکی بہو کوئ اور نہيں يماما ہی ہے۔
“چلو” نائل نے اپنے پاس بيٹھی روتی ہوئ يماما کو مخاطب کيا۔
اس سے پہلے کہ وہ چہرے سے ہاتھ اٹھا کر کچھ کہتی۔
فاران انکے قريب آچکا تھا۔
“يماما” پھڑپھڑاتے لبوں سے وہ بمشکل اتنا ہی کہہ سکا۔
يماما اسے ديکھ کر ايک بار پھر آنسو بہاتی۔ کھڑی ہوئ۔
اب کی بار وہ اسکے کندھے سے لگ چکی تھی۔
نائل جانتا تھا کہ فاران اور اسکی فيملی يماما کے لئے وہی مقام رکھتے ہيں جو شمس اور مہک اسکے لئے رکھتے ہيں۔
لہذا چپ چاپ بيٹھا رہا۔
فاران کا چہرہ بھی آنسوؤں سے تر ہوچکا تھا۔
“تمہيں کس قدر مس کيا ہم نے۔ تم اندازہ بھی نہيں کرسکتيں” يماما اسکے کندھے سے ہٹی تو وہ کچھ بولنے کے قابل ہوا۔
“يہ سب ضروری تھا” يماما نے آنسو صاف کرتے فاران کے نم چہرے کی جانب ديکھا۔
“ہاں اب مجھے اندازہ ہوگيا ہے۔ يہ سب نہ ہوتا تو يہ اس طرح بے نقاب نہ ہوتے۔ تمہيں بہت بہت مبارک ہو۔ آج تمہارے دشمن اپنے انجام کو پہنچے”
“صرف ميرے نہيں فاران۔ ميرے ملک کے دشمن۔ مجھے سب سے زيادہ خوشی اسی بات کی ہے۔ کہ مجھ جيسے نجانے کتنے گھر انکے ظلم سے نجات پا چکے ہيں” يماما نے مسکراتے ہوۓ اسکی تصحيح کی۔

“بے شک” فاران نے بھی اعتراف کيا۔
“تم کہاں ہو آجکل” فاران کو يکدم خيال آيا۔
“فاران۔۔ مجھے نائل مل گۓ ہيں” يماما کے لہجے ميں بے تحاشا خوشی تھی۔
اور اسکی يہ خوشی فاران کو ہر گز بری نہيں لگی۔ بلکہ خوشگوار سی حيرت ہوئ۔
“واقعی” وہ بھی اسی حيرت بھری خوشی کے باعث بولا۔
“ہاں ميں آجکل انہی کے ساتھ ہوں۔ مگر جلد ہی گھر کا چکر لگاؤں گی۔ ماما اور بابا کو ميرا بہت سلام دينا۔
ميں کوشش کروں گی کہ آج شام ہی گھر کا چکر لگاؤں” نائل اب کھڑا ہوچکا تھا۔
“ميم۔۔ سر کی کال آئ ہے۔ گھر چلئے” اس سے زيادہ وہ يہ جذباتی ملاقات سکون سے سہہ نہيں سکتا تھا۔
“جی جی” يماما نے يکدم پيچھے مڑ کر نائل کو ديکھا۔
“تم کہاں رہتی ہو۔۔ جگہ کا بتا دو ۔ ميں خود آجاؤں گا تم سے ملنے” فاران نے بے چينی سے کہا۔
“ميم سر کی بار بار کال آرہی ہے” نائل نے ايک بار پھر مداخلت کی۔
“ہاں ہاں چلو۔۔ ميں گھر جاکر تمہيں کانٹيکٹ کروں گی” يماما نے عجلت ميں کہا۔ اور نائل کے آگے آگے چل پڑی۔
اسے خيال ہی نہيں رہا تھا کہ نائل اسکے لئے کتنا پوزيسيو ہے۔ اسے اب ياد آيا۔ فاران سے ملتے وقت وہ اتنی جذباتی ہوگئ تھی کہ اسکے کندھے سے ہی لگ گئ۔
جبکہ نائل وہيں موجود تھا۔
اب اسے خفت اور شرمندگی نے گھير ليا۔
گاڑی ميں بيٹھ کر اس نے کن اکھيوں سے اگلی سيٹ پر بيٹھے نائل کو دیکھا۔
ڈرائيور کی موجودگی کے باعث وہ نائل سے مخاطب نہيں ہوسکتی تھی۔