Dharkanon Ka Ameen – Episode 3 | Complete Urdu Story

444

وہ کافی دنوں بعد وقار سے ملا تھا۔
“بہت دنوں بعد چکر لگايا” وقار نے مصافحہ کرتے ہی خفگی سے پوچھا۔ پچھلے دو سال سے سميع سے اسکی کافی دوستی ہوگئ تھی۔
سميع سے اسکی ملاقات کينيڈا ميں ايک سيمينار کے دوران ہوئ تھی۔
پہلے پہل اچھی سلام دعا ہوئ اور پھر يہ سلام دعا گہری دوستی ميں بدل گئ۔
سميع اپنے والدين کا اکلوتا بيٹا تھا۔ گارمنٹس کا بزنس تھا۔ اور اس سے زيادہ وقار اسکے بارے ميں نہيں جانتا تھا۔
مگر وہ وقار سے اپنی دوستی پوری طرح نبھا رہا تھا۔
وقار اس نئے مسئلے کے بارے ميں بھی اس سے ہر طرح کا مشورہ لے رہا تھا۔
“تم اس دن بھی بہت پريشان تھے۔ ليکن مجھے کہيں جلدی جانا تھا تو تم نے پوری بات نہيں بتائ تھی۔ اب بتاؤ ہوا کيا تھا” وہ دونوں اس وقت وقار کے جم ميں موجود تھے۔ دونوں ايک ٹيبل اور اس کے ساتھ رکھی کرسيوں پر سے دو پر آمنے سامنے بيٹھے تھے۔
يہ جم اوپر سے تو ورزشی جم معلوم ہوتا تھا۔ مگر اسکی بيسمينٹ ميں شراب اور جوۓ کا اڈا تھا۔
وقار نے اسے يماما کے متعلق سب بات بتائ۔
“يہ لڑکی حد سے بڑھتی جارہی ہے۔ پہلے سوچا تھا اسے اٹھوا کر اسکے کہے لفظوں کی ايسی سزا دوں گا کہ ساری زندگی موت بھی مانگے گی تو وہ بھی اسکے قريب نہيں آئے گی۔ اسے سسکا سسکا کر ماروں گا۔۔اپنی آگ بھی بھجاؤں گا۔ اور جو جو اس گنگا ميں ہاتھ دھونا چاہے گا اسے اجازت دوں گا” وقار کے چہرے پر اس لمحے چٹانوں کی سی سختی کے ساتھ ساتھ شيطانيت ٹپک رہی تھی۔
“مگر اب وہ اس کی مہلت نہيں آنے دے رہی۔ اگر اب ہم نے اسے اغوا کروايا تو معاملہ بہت خراب ہوجاۓ گا۔ سب الزام ہم پر آئے گا۔ اور ہم مزيد اس کيس ميں پھنس جائيں گے” سميع خاموشی سے اسکی سب باتيں سن رہا تھا۔
“تو پھر اب کيا سوچا تم نے؟” کچھ دير کی خاموشی کے بعد سميع کی آواز آئ۔
“اب سوچا ہے اس کا قصہ ہی ختم کرديا جاۓ۔ روڈ ايکسيڈنٹ ميں اسکی موت” اسکی آنکھوں سے ايسے چنگارياں نکل رہی تھيں جيسے يماما اس لمحے اسکے سامنے ہو۔
“ليکن اگر يہ بھی تمہارے حق ميں نہيں گيا تو” اس کی بات پر ايک غرور سے بھری مسکراہٹ اسکے چہرے پر بکھری۔
“اسی لئے تو تم سے يہ سب بات کی ہے۔ ميں جانتا ہوں تم بھی کم شيطانی سوچ کے مالک نہيں ہو” اسکی بات پر وہ محظوظ کن مسکراہٹ ہونٹوں ميں دبا گيا۔
“يعنی۔ جال تک تو تم نے سوچ ليا۔ اب يہ جال بچھانا کيسے ہے وہ ميں نے سوچنا ہے” سميع بائيں آنکھ دبا کر مسکراتے ہوۓ بولا۔
وقار اسکی شرارت پر قہقہہ لگاۓ بنا نہ رہ سکا۔
“ايسے ہی تو دو سالوں سے تم سے دوستی نہيں رکھے ہوا” دونوں شيطان ذہنيت کے حامل انسان ملے ہوۓ تھے۔
“تو بس پھر۔۔ کل تم پہلی فرصت ميں اسکے آفس جاؤ۔ کيونکہ ابھی اگلی پيشی ميں چار دن ہيں۔ تب تک شايد يہ رام ہوجاۓ اور اگر نہ ہوسکی تو بس پھر اگلا قدم اسکی موت کی صورت ہوگا” اسکے لہجے ميں سفاکی تھی۔
“ٹھيک ہے۔ ميں نے اسی لئے تم سے مشورہ لينا مناسب سمجھا تھا” وقار نے تائيد ميں سر ہلاتے ہوۓ کہا۔
___________________
رات ميں جس وقت وہ گھر آيا شمس جاگ ہی رہے تھے۔
“آپ سوئے نہيں ابھی” وہ لاؤنج ميں داخل ہوا تو سامنے ہی صوفے پر بيٹھے وہ يقينا کافی پی رہے تھے۔
“تم جب تک باہر رہو مجھے نيند نہيں آتی” ان کی محبت پر سرشار ہوتا وہ آگے بڑھ کر انکے ماتھے پر پيار کرتا انکے ساتھ ہی صوفے پر بيٹھ گيا۔
“کبھی کبھی تم پيار نچھاور کرنے ميں اپنی ماں سے بھی بازی لے جاتے ہو” ان کے مسکراتے لہجے ميں کہے گے الفاظ اسے قہقہہ لگانے پر مجبور کرگۓ۔
“يقينا تمہاری بيوی کبھی اس بات کی شکايت نہيں کرے گی کہ تم پيار کا اظہار کرنے ميں کنجوس ہو۔۔ جو باپ کے ساتھ اتنی محبوبانہ حرکتيں کرے۔۔ وہ بيوی کے ساتھ۔۔۔” ان کی ادھوری بات پر وہ پھر سےقہقہہ لگاۓ بغير رہ نہيں سکا۔
“ڈيڈی پليز” اب وہ بلش کررہا تھا۔ اور وہ محبت سے بيٹے کا روپ ديکھ رہے تھے۔
“خدا جلد ہی مجھے يہ وقت دکھاۓ جب ميری بہو تمہاری ہی طرح تمہاری حرکتوں پر بلش کرے” ان کی بات پر اب کی بار اس نے مسکراتے چہرے ليکن خفگی بھری نظروں سے انہيں ديکھا۔
“آپ کيا اس وقت ميرے مستقبل پر روشنی ڈالنے کے لئے ہی جاگ رہے تھے” اب کی بار قہقہہ لگانے کی بارے شمس کی تھی۔
“نہيں ميری جان تمہارے ميسج نے مجھے پريشان کرديا تھا۔ جلد ہی اس کا کوئ بندوبست کرنا پڑے گا” اب کی بار انکے چہرے پر پريشانی کے آثار نظر آۓ۔
نائل نے ايک سنجيدہ نظر ان پر ڈالی۔
“جی ڈيڈی۔۔۔ميرا وآئس ميسج بھی سن ليا ہوگا آپ نے۔”
“ہاں۔۔ تم نے اچھا کيا اسے وہاں بھيج کر۔۔ يہ بے حد ضروری تھا ورنہ ہمارے ہاتھ ثبوت نہ آتا۔ کہ وہ کيا سوچے بيٹھے ہيں” انہوں نے کافی کا آخری گھونٹ بھرتے کپ ٹيبل پر رکھتے ہوۓ کہا۔
“تم کافی لوگے؟” انکے سوال پر وہ يکدم چونکا۔
“نہيں ۔۔ابھی پی کر ہی آيا ہوں” اسکے جواب پر وہ محض سر ہلا کر رہ گۓ۔
“ميں نے ہفتے والے دن کا پلين کيا ہے۔ اب آپ نے اسے وہاں سے نکلوانے کے سب انتظامات کروانے ہيں”
“تم ہتھيلی پر سرسوں تو نہيں جما رہے؟”
“ميرا خيال ہے پہلے ہی بہت دير ہوچکی ہے۔ اور ويسے ہی جمعہ کو جيسے ہی اس بار کا فيصلہ پتہ چلے گا۔ وہ ضرور ہاتھ پاؤں مارے گا۔ اور اس سے پہلے کہ وہ اشتعال ميں کچھ کرے ميں اسے ہوا دے کر اپنا کام نکلوا لوں” اس کی بات پر وہ مزيد کوئ سوال اٹھا ہی نہيں سکتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ نائل پہلے ہی اسکے لۓ کتنا تڑپا ہے۔ وہ اور مہک اسکی ايک ايک تکليف سے آگاہ تھے۔ وہ مزيد اسے کيسے تکليف ميں ديکھ سکتے تھے۔
“ٹھيک ہے ميں سب کو بريفنگ دے دوں گا۔ ان سے کورڈينيٹ پھر تم کرلينا” انکی بات پر وہ قدرت مطمئن نظر آيا۔
“چلو اب جاکر سوؤ” صوفے سے اٹھتے وہ اس کا کندھا تھپتھا کر بولے۔
“ميں تھوڑی دير کے لئے غائب ہوسکتا ہوں” اسکے شرارتی انداز ميں کئے گۓ سوال پر وہ جاتے جاتے پلٹے۔
“تم زيادہ شوخے ہوتے جارہے ہو۔۔” انکے لہجے ميں چھپے اقرار اور خفگی کے ملے جلے تاثرات نے اسے مزہ ديا۔
“مہک تہجد کے لئے اٹھتی ہے۔ اب سوچ لو صرف ڈيڑھ گھنٹا ہے تمہارے پاس” وہ جانتا تھا وہ کبھی منع نہيں کريں گے۔ مگر وہ انکی اجازت کے بغير اور انہيں بتاۓ بغير اس کے پاس جاتا بھی نہيں تھا۔
“اب زيادہ دانت مت نکالو۔۔ جلدی جاؤ اور جلدی آؤ” انکی بات پر وہ مسکراتے ہوۓ سر نفی ميں ہلاتا تيزی سے اٹھا۔
_______________________
آج رات اس کا سونے کا کوئ ارادہ نہيں تھا۔
وہ چاہتی تھی کہ وہاج کا کيس بھی وہ ساتھ ہی شروع کردے تاکہ دونوں بھائيوں کو بيک وقت قانون آڑے ہاتھوں لے۔ لاؤنج ميں موجود صوفے کے قريب نيچے گدا بچھاۓ وہ آرام دہ انداز ميں تکيہ ديوار سے لگاۓ۔ پچھلے چار گھنٹوں سے ليپ ٹاپ ٹانگوں پر دھرے ايک ہی پوزيشن ميں بيٹھی۔ وہاج کا پورا کيس تيار کررہی تھی۔
اسے کل ہی يہ کيس فائل کرنا تھا۔اسی لئے رات کو سونے کی بجاۓ وہ کام ميں مصروف تھی۔
چار گھنٹوں بعد جب کافی حد تک کيس بن چکا تب اس نے ليپ ٹاپ سے نظريں ہٹائيں۔ سامنے لگی گھڑی ميں وقت ديکھا تو رات کے ڈھائ بج چکے تھے۔
ليپ ٹاپ سائيڈ پر رکھتی وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اوپن کچن کی جانب گئ۔
کافی کپ ميں ڈال کر وہ پھينٹنے لگی۔
ساتھ ساتھ کيبنٹس ميں جھانکنے لگی کہ کچھ کھانے کو بھی ملے جاۓ۔
اسی دوران لائٹ چلی گئ۔
کچھ دنوں سے يو پی ايس کی بيٹری بھی خراب ہوچکی تھی۔
اب يکدم لائٹ جانے پر اسے ياد آيا کہ وہ روز آج لوں گی ۔۔آج لوں گی ۔۔کے چکر ميں بھول جاتی تھی۔
“اس ملک ميں تو بجلی کا بحران ختم نہيں ہونا۔ ہميں اپنا بندوبست خود ہی کرنا پڑے گا” افسوس سے سوچتے وہ مڑی تاکہ جہاں وہ کام کررہی تھی وہاں پڑے موبائل کی ٹارچ آن کرسکے۔
يہ بھی شکر تھا کہ چاند کی روشنی پوری آب و تاب سے بالکونی سے ہوتی اسکے لاؤنج ميں آرہی تھی۔
ہر چيز کا ہيولا سا نظر آرہا تھا اسکے لئے اتنا ہی بہت تھا۔
اندازے سے نيچے فرش پر بچھاۓ ميٹرس کے قريب گئ تو کسی کی موجودگی کا شدت سے احساس ہوا۔
ميٹرس کے ساتھ پڑے صوفے پر سرسراہٹ اس نے صاف محسوس کی۔
ابھی وہ بيٹھی اپنا موبائل اٹھا کر صوفے کو غور سے ديکھ ہی رہی تھی کہ کوئ اسکے کان کے قريب آيا۔
“کيسی ہے ميری رانی” گمبھير لہجے نے لمحہ بھر کو اسے دہشت زدہ کيا۔
وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس ہيولے کو ديکھ رہی تھی جو اب بھی اسکے چہرے کے قريب تھا۔
چند ہی لمحے لگے تھے اسے خود کو سنبھالنے ميں جلدی سے کھڑی ہوئ۔
“کيوں آۓ ہو يہاں؟” درشت لہجے ميں سوال کيا۔
ساتھ ہی ساتھ کپ پہ گرفت سخت کی۔
“اپنی رانی سے ملنے بھی نہيں آسکتا تو تف ہے پھر ميری بہادری پر۔۔۔”لہجے ميں بدمعاشوں والا ٹچ تھا۔
“مل لئے اب نو دو گيارہ ہوجاؤ” وہ بھی يماما تھی۔ کسی سے نہ ڈرنے والی
وہ جو کوئ بھی تھا۔۔ يماما کے انداز پر قہقہہ لگاۓ بغير نہيں رہ سکا۔
“دوری کي باتيں جانے دو۔۔”دل پر ہاتھ رکھے وہ بڑے انداز ميں گنگنايا۔
“اگر تو تم سرتاج يا وقار کے بندے ہو اور مجھے فضول ميں دھمکانے کی خواہش سے آۓ ہو تو ايک بات ذہن نشين کرلو۔۔ مين مر تو جاؤں گی مگر ان کے کيس سے پيچھے نہيں ہٹوں گی” وہ اسے وارن کرتے ہوۓ بولی۔
اب وہ ہيولا صوفے سے اٹھ کر اسکے قريب کھڑا تھا۔
بھاری بھرکم داڑھی اور لمبے بال تھے مگر اندھيرے کے سبب اسکے چہرے کی ہئيت واضح نہيں ہورہی تھی۔
“مريں ميری جان کے دشمن” محبت سے چور لہجے ميں بولے والے جملے پر وہ دنگ رہ گئ۔
بات سنو تم۔۔ يہ اپنا ٹھرکی انداز کسی اور پہ جا کر آزمانہ يہاں کوئ فرق نہيں پڑنے والا”
وہ پھر چٹانوں کے سے سخت لہجے ميں بولی۔”
“کسی اور کی ان باتوں سے تمہيں فرق واقعی نہيں پڑنا چاہئيے۔۔ ورنہ اس شخص کی موت ميرے ہاتھوں لکھی جاۓ گی”اپنی بات ختم کرکے اسکے چہرے پر بکھری لٹوں کو پھونک ماری۔
“ارے جاؤ” وہ اسکی ديدہ دليری پر حيرت سے نکلتے ہوۓ اسکی بات کو ہوا ميں اڑانے کے سے انداز ميں بولی۔
“جاؤں گا بھی۔۔ اور تمہيں لے کر بھی جاؤں گا۔ مگر آج نہيں۔۔آج تو بس يار کے ديدار کو آيا تھا۔۔”اسے زچ کرنے والے شرير لہجے ميں اپنی بات کہہ کر بالکنی کی جانب بڑھا۔
پھر غصے سے مٹھياں بھينچے کھڑی يماما کی جانب مڑا۔
“جو وارننگ صبح دی تھی اسے ياد رکھنا۔ سرتاج اور اسکے بيٹے کا فون اب نہيں اٹھانا” اسکی بات سن کر وہ جو اپنا غصہ ضبط کررہی تھی تڑخ ہی گئ۔
“کروں گی۔۔۔فون بھی اٹينڈ کروں گی۔ اور اب تو اسے دھمکانے اسکے گھر بھی جاؤں گی۔۔ کرلو جو کرنا ہے” اسکی توقع کے عين مطابق وہ جل کر بولی۔
اس کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
“ميری چيتی۔۔۔۔ جب اس نڈر انداز ميں بولتی ہو نا۔۔۔
ہاۓ بہت گھائل کرديتی ہو۔۔۔۔کسی سے زير نہ ہونے والا شہنشاہ۔۔۔۔اپنی چيتی کی ہر ادا سے زير ہوجاتا ہے۔۔۔” اس کے بےباک انداز اور اپنے نام کا دھماکا کرنے پر يماما کا دماغ کھول کر رہ گيا۔
وہ کيسے نہ جانتی اس شخص کا جو ہر وکيل۔۔ ہر پوليس والے کی زبان پر ازبر تھا۔ نجانے کتنے کيسيز ميں انوالو تھا اور ہر بار پوليس کی حراست سے اتنی آسانی سے غائب ہوجاتا کہ سب حيران رہ جاتے۔
مگر يہ سمجھ نہيں آتی تھی کہ جب غائب ہی ہونا ہوتا تھا تو پکڑائ کيوں ديتا تھا۔ يا پھر مقصد پوليس کو يہ باور کروانا ہوتا تھا کہ وہ شہنشاہ کے سامنے بے بس ہيں۔
ايک بار تو اسکے مرنے کی خبر بھی سنی تھی۔ مگر وہ بھی محض ايک ڈرامہ تھا شايد۔
“تم۔۔ تم شہنشاہ ہو۔۔ وہی گھٹيا دہشت گرد جو نجانے کتنے کيسيز ميں انوالو ہے” اس نے حيران ہوتے پوچھا۔
“جی جناب دنيا کے لئے دہشتگرد ليکن اپنی رانی کا ادنی سا خادم” اسکی بات پر وہ نہايت ادب سے کورنش بجا لايا۔
“تم۔۔۔ تم ميری پيچھے کيوں پڑ گۓ ہو۔۔ تمہيں تو ہزاروں مل جائيں گی” اب کی بار وہ پريشان ہو کر بولی۔
“افففف ايک دہشتگرد کا بھی مجھ پر دل آنا تھا” وہ دل ميں کلس کر رہ گئ۔
“ہاں مل تو جائيں گی۔ مگر ان ميں کوئ اتنی دبنگ يماما نہيں ہوگی۔ مجھے تو بس يہی چاہئيے” وہ ضدی لہجے ميں بولا۔
“ميں کھلونا ہوں کہ چاہئيے۔ اپنے دماغ سے يہ بھوت اتار دو تو بہتر ہے۔۔۔ اور اب دفع ہوجاؤ يہاں سے ورنہ يہ کپ ميں تمہارے سر پر توڑ دوں گی” جانتی تھی اسے پوليس بلانے کی دھمکی دينا بے کار ہے۔ وہ تو پوليس کو جيب ميں لئے پھرتا ہے۔
“زہے نصيب۔۔ کبھی يہ موقع بھی تمہيں ديں گے۔۔ جلدی کاہے کی ہے” وہ اسکی دھمکی پر مسکراتا ہوا۔ پلٹا اور بالکنی سے چھلاوے کی طرح نکل گيا۔ يماما اسے ديکھنے کے لئے آگے بڑھی۔
ليکن نجانے کتنی پھرتی سے نکلا کہ اسے نظر ہی نہيں آيا۔
اسی لمحے لائٹ آگئ۔ وہ پريشان ہوتی اندر آئ۔ وہ بہتيرے مشکل کيسيز بھگتا چکی تھی۔ مگر اس عشق و عاشقی کے کيس کا کيا کرتی۔
يہ کيس بے حد پيچيدہ تھا۔
_