Dharkanon Ka Ameen – Episode 4 | Complete Urdu Story

401

وقار باہر باہر جانے کے لئے جيسے ہی گاڑی کی جانب بڑھا، جہاں اس کا ڈرائيور اور گارڈز منتظر تھے کہ چوکيدار کو اپنی جانب آتے ديکھ کر گاڑی کی جانب اسکے بڑھتے قدم رک گئے۔
“کيا موت آگئ ہے تجھے” وہ ناگواری سے اپنے سے کئ گنا بڑے اور بوڑھے چوکيدار سے مخاطب ہوا۔
“وہ وہ صاحب جی يہ خاکی لفافہ آيا ہے” وہ ہانپتے ہوۓ ايک عدالتی نوٹس اسکی جانب بڑھا کر بولا۔
وقار نے جھپٹنے کے انداز سے وہ لفافہ لے کر چاک کيا۔ بوڑھا چوکيدار اسکے تيور بھانپتے ہوۓ تيزی سے واپسی کی جانب مڑا۔
نوٹس پڑھتے ہی اسکے تاثرات خطرناک ہوچکے تھے۔
“گاڑی بند کرو۔۔ ميں ابھی نہيں جاؤں گا” غصے سے بمشکل اتنا ہی بولا۔
دھپ دھپ کرتا رہائشی حصے کی جانب بڑھا۔
سرتاج اپنی باقی فيملی کو پہلے ہی باہر بھجوا چکا تھا۔ اب اس ملک ميں وہ اور وقار کے علاوہ وہاج اور اسکی فيملی موجود تھے جو کہ گاؤں ميں حويلی اور زمينوں کی نگرانی کرتے تھے۔
“کيا ہوا ہے۔۔ تم تو باہر جارہے تھے۔۔ موڈ کيوں خراب ہے” سرتاج لاؤنج ميں بيٹھا اپنے مجبوب مشروب کے ساتھ شغل ميں مصروف تھا کہ وقار کو غصے سے لال چہرہ لئے اندر آتا ديکھ کر حيران ہوا۔
“ہمارے کالے دھندے تو سرعام ہوچکے ہی تھے۔ اب چچا کے لئے بھی نوٹس آگيا ہے” اس نے غصے سے وہی لفافہ اسکی جانب کيا۔
سرتاج نے پيشانی پر بل ڈالتے اس کا گستاخانہ لہجہ ہضم کيا۔
لفافہ جيسے ہی کھولا وہاج کے خلاف عدالت سے نوٹس والا کاغذ برآمد ہوا۔ جس ميں دہشتگردوں کا ساتھ دينے اور انہيں دو نمبر طريقوں سے ملک ميں آنے کا راستہ دينے پر الزام نہ صرف عائد کيا گيا تھا بلکہ اسکی چند دنوں بعد پيشی بھی تھی اور پيش نہ ہونے کی صورت ميں گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہونے کی پيشگی وارننگ تھی۔
سرتاج سر پکڑ کر بيٹھ گيا۔
“يہ لڑکی اب قتل ہوگی ميرے ہاتھوں” وقار غصے ميں بھرا بيٹھا تھا۔
سامنے رکھی وہسکی کی بوتل سے گلاس بھر کر غٹا غٹ پی گيا۔
“جينا حرام کر ديا ہے اس حرامزادی نے” سرتاج نوٹس ايک جانب پھينک کر مغلظات بکنے لگا۔
“فون کريں چچا کو۔۔ ہميں مصيبتوں ميں پھنسا کر نہ تو ہمارا ساتھ ديا۔۔ اب اپنے بھگتان تو بھگتيں” منہ آستين سے صاف کرتے باپ کو تيکھی نظروں سے ديکھتے ہوۓ بولا۔
سرتاج نے اسی وقت وہاج کو فون کيا۔
“بھائ صاحب ۔۔۔۔ يہ ۔۔يہ سب سی اس کمينی کو کيسے پتہ چلا” وہاج بھی حيران پريشان بيٹھا تھا۔
“وہ کوئ عام لڑکی نہيں۔۔ مجھے لگتا ہے بڑی بڑی طاقتيں اسکے ہمراہ ہيں۔ بيٹھے بٹھاۓ ہماری زندگی کو عذاب سے دوچار کرديا ہے اس نے” سرتاج تو پہلے ہی اپنے کيس کی وجہ سے غصے ميں تھا۔
“ميں نے اس خبيث جج کو بھی رام کرنے کی بہتيری کوشش کی تھی مگر وہ گھٹيا انسان ۔۔۔۔۔۔جواب ہی نہيں ديا اس نے ميری آفر کا۔۔۔اوپر سے فيملی بھی پتہ نہيں کہاں چلی گئ ہے اسکی۔ سوچا تھا کوئ قاتلانہ حملہ اسکے بيوی بچوں پر کرواؤں گا تو عقل ٹھکانے آجاۓ گی اس گندگی کے پوٹ کی۔
مگر جب سے وہ آفر کی اسکے بعد سے تو اسکی فيملی گھر سے راتوں رات غائب ہوگئ ہے۔ اکيلا ہی ہے اب۔۔۔افف لگتا ہے ہر جانب سے گھيرا تنگ ہورہا ہے” وہ اپنی رام کہانی سنانے لگا۔
“تم بس کل ہی شہر پہنچو۔۔ اس سے پہلے کے حالات خراب ہوجائيں۔ ہميں تو اکيلا چھوڑ کر تم سب گاؤں بھاگ گۓ تھے۔۔ اب اپنے کرتوتوں کو خود بھگتو۔ مجھ سے ايک ٹکے کی بھی اميد مت لگانا” اس لمحے دونوں کو اپنی اپنی پڑ گئ تھی۔ کون بھائ کہاں کا بھائ
“اچھا کيا آپ نے۔۔ يہ رشتے دار ہيں ہی اس قابل۔ جوتی کی نوک پر رکھنا چاہئے انہيں” وقار ساری بات سنا چکا تھا۔ اپنی راۓ دينے لگا۔
“اور تمہارا وہ دوست سميع کسی کام کا نہيں نکلا وہ۔۔ ” اس کی بات ان سنی کرکے سرتاج اس پر چڑھ دوڑا۔
“ميرے ہی دوست کسی کام کے ہيں۔۔ آپ کے تو سب جان نچھاور کرنے والے اب کونوں کھدروں ميں چھپے ہوۓ ہيں” اس نے بھی اينٹ کا جواب پتھر سے دينا ضروری سمجھا۔
“اسکے ايکسيڈينٹ کا پورا پلين تيار ہے۔ آپ بس اپنی فکر کريں” وہ طنزيہ ہنسی ہنستا اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔
“الو کا۔۔۔۔۔” سرتاج منہ ميں بڑبڑا کر رہ گيا
__________________________
سرتاج کی فيصلہ کن پيشی سے ايک دن پہلے سميع کی ہدايات کے مطابق وقار اپنے گن مينز سميت يماما کے آفس پہنچ چکا تھا۔
“ميڈم وقار اپنے بندوں سميت آيا ہے” اس کے پی اے نے وقار کو دروازہ کھول کر اندر آتے ديکھ کر فورا يماما کو فون گھمايا۔
“اوۓ تيری ميڈم اندر بيٹھی ہے” بلال کے سامنے رکھی کرسی کو ٹھوکر مار کر اپنے مخصوص مغرور لہجے ميں بولا۔
“اسے اندر آنے دو” يماما نے دوسری جانب وقار کی آواز سنتے ہی بلال کو حکم ديا اور فون کھٹ سے بند کرديا۔
بلال نے تھوک نگل کر سر اثبات ميں ہلايا۔
اپنی مونچھيں مروڑ کر بلال کو گھوری سے نوازتا وہ يماما کے آفس کی جانب بڑھا۔
بغير ناک کئے زوردار آواز سے دروازہ کھولتا وہ اندر کی جانب بڑھا۔
يماما اپنی کرسی کی پشت سے ٹيک لگاۓ پرسکون انداز ميں بيٹھی وقار کے مغرور انداز کو تيکھی نظروں سے ديکھ رہی تھی۔
اس کا پرسکون انداز وقار کو آگ بگولا کرگيا۔
ہاتھ بڑھا کر کرسی کھينچی۔
“ايک منٹ۔۔”يماما نے ہاتھ اٹھا کر اسے اسکے اقدام سے روکا۔
وہ بھنويں اچکا کر اسے ايسے ديکھنے لگا جيسے کہہ رہا ہو مجھے روکنے کی ہمت کيسے کی۔
“ميرےآفس کا فرنيچر ميں نے حلال کی کمائ سے خريدا ہے تم جيسے حرام کھانے والے اس پر بيٹھ کر اسے ناپاک کرديں گے۔ لہذا جلدی جو بکواس کرنی ہے وہ کرو۔۔ اور يہاں سے اپنی شکل گم کرو” تيکھے چتون سے اسے ديکھتی اسے اسکی اوقات ياد دلا گئ۔
يماما کی باتوں پر وہ کيسے طيش ميں نہ آتا۔
اس نے غصے سے نتھنے پھلاۓ۔ ہلکا سا رخ موڑ کر چنگاریاں برساتی نظروں سے اپنے گن مينز کو ديکھا۔
انہون نے فورا يماما کی جانب اپنی گنز تانيں۔
اب اس نے رخ موڑ کر بھنويں اچکا کر جتاتی نظروں سے يماما کو ديکھا۔
وہ ہلکا سا قہقہہ لگا گئ۔
“تانو شاباش نہ صرف يہ گنز تانو بلکہ ايک آدھ گولی بھی چلا لو۔۔ مجھے اپنے مرنے کی کوئ فکر نہيں۔۔۔ ہاں مگر ميرے آفس ميں لگے کيمرے يہ سب منظر قيد کرکے اس وقت ميرے يوٹيوب چينل پر لائيو کوريج شروع کرنے کو بے تاب ہيں۔۔۔” يماما نے اپنے ليپ ٹاپ کا رخ انکی جانب کيا جہاں ان کی ايک ايک حرکت سی سی ٹی وی کيمروں ميں ريکارڈ ہورہی تھی۔
“ديکھو لڑکی” وقار نے غصہ ضبط کرتے اپنے گن مينز کو گنز نيچے رکھنے کا اشارہ کيا۔
“کيوں اپنی جان کی دشمن بن رہی ہو۔۔کتنی عمر ہے تمہاری پچيس۔۔ چھبيس سال” اس نے اب کی بار تمہيد باندھی۔
“کيوں اپنی جان کی دشمن بن رہی ہو۔ ديکھو۔۔ جتنے پيسے کہو گی ديے ديں گے۔ تم بس اس کيس کو ختم کرو” اب وہ منتوں پر اتر آيا۔
يماما اپنی سيٹ سے کھڑی ہوئ۔
“ميری عمر چاہے۔۔ چھبيس کو چاہے ساٹھ سال ہو جاۓ۔ مگر تم جيسے درندوں اور ملک دشمن عناصر کو کسی قيمت پر نہيں چھوڑوں گی۔ ميری قيمت تم جيسے ناسوروں کو جيل کی سلاخوں کے پيچھے لے جاکر کڑی سے کڑی سزا دلوانا ہے۔ اور اس سے کم پہ تو ميں مر کر بھی بات طے نہ کروں” ايک ايک لفظ چبا کر بولتی وہ وقار کو زچ کررہی تھی۔
“ميں تمہاری چمڑی ادھڑوا دوں گا” يہ جان کر بھی کہ وہ سی سی ٹی وی کيمروں کی زد ميں ہے۔ يماما کی باتوں پر خود کو کنٹرول نہ کرسکا۔
“اونہہ۔۔۔۔ ابھی تو چکی پيسنے کی يا تختہ دار پر لٹکنے کی تياری کرو۔۔ مجھ تک آنے کے خواب ۔۔ خواب ہی رہنے دو” کندھے اچکا کر گويا اسے چينلج کرتے آئينہ دکھا گئ۔
وقار چند لمحے شعلے برساتی نظروں سے اسے ديکھتا رہا جيسے اسے نظروں سے ہی جھلسا دے گا۔
مگر بے بسی کے مارے کچھ کرنہ سکا۔
غصے سے تن فن کرتا نکل گيا۔
يماما نے ساری ريکارڈنگ بند کی۔ اور فورا سے پيشتر اسے اپنے يوٹيوب چينل پر اس ہيڈ لائن کے ساتھ چلا دی۔
“ملک کے لٹيروں کا ايک اور کارنامہ”
يس کے بٹن کے ساتھ ہی وہ ويڈيو وائرل ہونے کو تيار تھی۔
وائرل ہوتے ہی سب سے پہلا ويور شہنشاہ کے نام سے تھا۔
يماما نے اچھنبھے سے نام پڑھا۔
ساتھ ہی اسکے موبائل کی سکرين جگمگائ۔
ہاتھ بڑھا کر سائيڈ پر رکھا موبائل اٹھايا۔
“شاباش ميری چيتی” کسی اجنبی نمبر سے آنے والے ان جانے پہچانے الفاظ پر وہ دانت کچکچا کر رہ گئ۔
“سوہنيو۔۔ دانت اتنی زور سے نہ بھينچو۔۔ ايک دو ٹوٹ گۓ تو نقصان تو ميرا ہی ہوگا نا” ابھی وہ ٹھيک سے غصہ بھی نہ کر پائ تھی کہ اسکے ايک اور ميسج نے اسے سيخ پا کرديا
“کمينہ” کچھ سوچ کر اسے ايک نۓ القاب سے نوازتی۔ ليپ ٹاپ کی اسکرين غصے سے بند کی۔
کسی سے زچ نہ ہونے والی يماما۔۔
اس دہشتگرد عاشق سے زچ ہو کر رہ گئ تھی۔
__________________________
جمعہ کے دن يماما کی خواہش کے عين مطابق فيصلہ آيا۔
سرتاج پر جتنے کالے دھندوں کے الزامات تھے وہ سب ثابت ہو چکے تھے۔ اور اس پر چودہ سال قيد بامشقت عائد ہوچکی تھی۔ ضمانتوں سے متعلق سب اپيليں مسترد کر دی گئيں تھيں۔
کمرہ عدالت سے ہی سرتاج کو ہتھکڑی لگا کر جيل پہنچانے کا انتظام کر ديا گيا تھا۔
وقار غصے ميں بھرا بيٹھا تھا۔ سميع بھی اسکے ساتھ وہيں موجود تھا۔
وہ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے شرر بار نگاہوں سے يماما کو ديکھ رہا تھا۔ جو اس وقت کيس جيتنے کی خوشی ميں سب سے مبارکباديں وصول کررہی تھی۔
“تم فکر کيوں کرتے ہو۔۔ کل ہی اس فسادن کا کام تمام کرواتے ہيں” وہ وقار کے کان ميں گھسا اسے تسلياں دے رہا تھا۔
کيونکہ اب اگلی باری وقار اور وہاج کے جيل جانے کی تھی۔
“کل ہر صورت مجھے اسکی موت کی خوشخبری ملنی چاہئے ورنہ جيل تو جانا ہی ہے۔ تو اسی کے قتل سے ہاتھ رنگ کر کيوں نہ جيل جاؤں” يماما کے فاتحانہ چہرے کو بھسم کرنے والی نظروں سے ديکھتا ہوا بولا۔
“پاگل ہوگۓ ہو عقل سے کام لو” وہ اسے گھرکنے لگا۔
“عقل ختم کرکے رکھ دی ہے اس ڈائن نے” اب ان دونوں کا رخ باہر کی جانب تھا۔
جہاں ميڈيا دونوں کو گھيرے سوالوں کی بوچھاڑ کر رہا تھا۔ اور وہ ابھی بھی ڈھٹائ سے اپنے سچا اور معصوم ہونے کی جھوٹی گواہياں دے رہا تھا۔
“يہ سب سازش ہے ہماری فيملی کے خلاف۔ يہ سب جج بکے ہوۓ ہيں۔” وہ وہی زبان بول رہا تھا جو برسوں سے وہ باپ کو بولتے ديکھتا آيا تھا۔ جھوٹ اور بس جھوٹ کی زبان۔
اپنے گناہوں پر پردہ پوشی کی زبان۔
_________________________
کچھ دير پہلے ہی وہ فاران اور باقی سب دوستوں کو اپنے کيس کی ايک کڑی حل ہونے کی صورت ميں ٹريٹ دے کر آئ تھی۔
فليٹ کالے سٹائلش سے جوتے اتار کر گلے ميں مفلر کی صورت لپيٹا دوپٹہ صوفے کے ايک جانب رکھ کر اسی پر ڈھير ہوگئ۔
زندگی ميں پہلی بار وہ خوشی سے کسی ٹريٹ کے لئے تيار ہوئ تھی۔
کالے ہی نيٹ کے ديدہ زيب کپڑے پہنے کانوں ميں اينٹيک ائيرنگز تھے بالوں کو پونی سے ہٹ کر آج اچھا سا ہئير سٹائل ديا گيا تھا۔ آگے سے مانگ نکال کر ايک ايک لٹ کو ٹوئيسٹ کی شکل دے کر کانوں کے پيچھے لے جاکر پن سے باندھا ہوا تھا اور باقی کے بالوں کو لوز کلرز ڈال کر کھلا ہی چھوڑا ہوا تھا۔
آنکھوں پر پہلی بار لائنر کا استعمال کيا تھا۔
تھوڑا سا اناڑی انداز ميں لگا تھا۔ مگر اس کا گزارا ہوگيا تھا۔
پنک کلر کی لپ اسٹک اب بھی اسکے ہونٹوں پر موجود تھی۔ ہلکی ہو چکی تھی مگر پھر بھی موجود تھی۔
صوفے پر نڈھال سی بيٹھی وہ ابھی تک سرشار تھی۔
ايک گہری پرسکون سانس فضا کی سپرد کرتی وہ آنکھوں کے کناروں پر اٹکنے والے بھولے بسرے آنسو کو بے دردی سے اپنی آنکھ سے مٹاتی جوتے اٹھا کر اندر رکھنے کے لئے بڑھی۔
کيا کيا۔۔ اور کون کون آج ياد نہ آيا تھا۔ وہ بے درد لمحے کسی فلم کی طرح اسکی نگاہوں کے سامنے آج سارا دن رہے تھے۔ جنہوں نے اس سے سب کچھ چھين کر اسے تپتی دھوپ ميں لا کھڑا کيا تھا۔ جہاں سے آگے بڑھنے کے لئے اس کے پاس سواۓ اللہ کی ذات اور چند مددگاروں کے سوا اپنا کوئ نہ تھا۔
اتنے سال اس نے کيا کيا نہ جھيلا يہ کوئ نہيں جانتا تھا۔
تنہائ کاعذاب بڑا تکليف دہ ہوتا ہے۔ اور اسے يہ عذاب ساری زندگی جھيلنا تھا۔
مگر اپنے دشمنوں کو انکے انجام تک پہنچانے کے عزم نے اسے يہ تکليف محسوس کرنے کا وقت کم ديا تھا۔
اسی لئے اتنے عرصے بعد وہ سب ياد آۓ تھے۔ جو اسے پلک جھپکتے ميں تن تنہا کرگۓ تھے۔
کمرے ميں پہنچ کر وہ جو کچھ دير پہلے بے حد خوش تھی يکدم پژمردہ سی ہوگئ۔
جوتوں کو الماری ميں رکھ کر ابھی وہ سيدھی ہوئ ہی تھی کہ ڈور بيل بجی۔
وہ حيران ہوئ کہ اس لمحے کون ہوسکتا ہے۔
کمرے سے نکل کر صوفے پر پڑا دوپٹہ کندھے پر ڈالا۔
“کون” دروازہ کھولنے سے پہلے اندر سے پوچھا۔
اسکے فليٹ کا آئ ہول چند دن پہلے ہی خراب ہوا تھا۔
اس نے سوچا ہوا تھا کہ آج کی پيشی سے فارغ ہو کر ويک اينڈ پر لگوا لے گی۔ لہذا اس وقت وہ دروازے کے اس پار نہيں ديکھ سکتی تھی۔
“يماما ہيں کيا؟ مجھے ايک کيس کے سلسلے ميں ان سے ملنا ہے” کم و بيش اسی سے ملتی جلتی آواز ميں ايک لڑکی بولی۔
يماما نے حیرت سے وقت ديکھا۔ ساڑھے گيارہ بجے کون کيس ڈسکس کرنے آگيا۔
سوچوں سے نکلتے اس نے دروازہ کھولا۔
مگر اپنے سامنے بالکل اپنی شکل والی لڑکی کو ديکھ کر وہ جتنی بھی حيرت زدہ ہوتی کم تھا۔
“ہيلو يماما” اسکی ہم شکل لڑکی مسکراتے ہوۓ يماما کے حيرت زدہ چہرے کو ديکھتے۔
يکدم تيزی سے اندر بڑھتی اسے بھی اپنے ساتھ کھينچ کر لاتی۔ دروازہ بند کرتے ہی اسکے منہ پر ايک کپڑا رکھ گئ۔
يہ سب اتنی اچانک ہوا کہ يماما کو سنبھلنے کا موقع بھی نہ ملا اور چند لمحوں بعد وہ اپنی ہمشکل لڑکی کے بازؤں ميں