Dharkanon Ka Ameen – Episode 5 | Complete Urdu Story

325

“تم کيوں فکر کرتے ہو۔۔ميں نے کہا تو ہے کہ کل کی ساری تياری مکمل ہے۔” سميع آج رات وقار کے ساتھ ہی تھا۔
دونوں اسی کے کمرے ميں بيڈ پر آمنے سامنے بيٹھے تھے۔ وہسکی پر وہسکی چڑھا کر بھی وقار کی طبيعت ميں سکون نہيں آيا تھا۔
“ميرے اندر آگ لگی ہوئ اس لمحے” شراب کے خمار اور کچھ غصے سے لال انگارہ ہوتی آنکھيں اس نے سميع کے چہرے پر ٹکائيں۔
“ميں جانتا ہوں يار۔ تيری حالت سے انجان نہيں ہوں۔ اسی لئے ميرا ايک بندہ يماما کے فليٹ کی بلڈنگ کے باہر ہے۔ کل وہ جس وقت بھی وہاں سے نکلے گی۔ ميرا بندہ اسے فالو کرے گا اور پھر کسی کم رش والی جگہ پر آتے ہی اسکی گاڑی کو ہٹ کردے گا۔
اسکی گاڑی کے پہيوں کی ہوا وہ آج رات ميں ہی نکال دے گا۔ تاکہ وہ جہاں بھی ڈولے ميرا بندہ غير محسوس انداز ميں اسے مزيد ہٹ کرے۔ اور ديکھنے والے يہی سمجھيں کہ يہ گاڑی بے قابو ہو کر کسی کھمبے يا پھر کسی درخت سے ٹکرا گئ ہے۔
وہيں سے يماما کو ميرا بندہ گاڑی سے نکال کر ہسپتال لے جانے کے لئے نکالے گا۔ اور راستے ميں ہی اسے ہم شراب کے ہمراہ زہريلی دوا کھلا ديں گے۔ تاکہ وہ مر جائے۔ پوسٹ مارٹم ميں يہی پتہ چلے گا کہ اس نے کوئ گندی شراب پی تھی اور اسی وجہ سے اسکی گاڑی نشے کی حالت ميں بے ڈول ہوئ اور وہ ہاسپٹل لے جانے تک مر گئ۔ ميں نے اپنے ايک اور بندے کو ہاسپٹل ميں الرٹ کرديا ہے۔ وہ ڈاکٹر ميرا بہت اچھا دوست ہے اور جو ميں نے اسے ہدايات دی ہيں۔ وہ اسکے مطابق ہماری مرضی کی رپورٹ بنا دے گا۔” سميع نے تفصيل سے اسے سب سمجھايا۔ وقار کو کسی قدر تسلی ہوئ۔
“ٹھيک ہے ويسے تو ميں نے بھی اپنا ايک بندہ اسکے فليٹ کے باہر کھڑا کروا ديا تھا” وقار کی بات پر سميع خاموش ہی رہا۔
“بس کل وہ اپنا گندا وجود لے کر اس دنيا سے دفع دور ہو جاۓ۔” سميع کے لہجے ميں يماما کے لئے شديد کڑواہٹ تھی۔
“ہو جاۓ گی۔۔ ہو جاۓ گی۔۔ تم بس اب ريسٹ کرو۔۔ ”
سميع نے اس کا کندھا تھپتھپا کر اسے تسلی دی۔
“نيند اب کہاں يار” سميع نے ٹھنڈی آہ بھری۔
“تمہارے چچا نيچے ہی ہيں؟” سميع کے پوچھنے پر وقار استہزائيہ ہنسا۔
“ہاں يار مرے ہوۓ ہيں ادھر ہی۔۔۔ اپنی مصيبتيں کم ہيں کہ وہ بھی ادھر ہی دھرنا ڈال کر بيٹھ گۓ ہيں۔ ميں نے تو کہہ ديا ہے کہ اپنے اپارٹمنٹ ميں جائيں۔ کل صبح چلے جائيں گے” وقار کی بات پر وہ محض سر ہلا کر رہ گيا۔
“چل يار تو بھی ليٹ جاکر ۔۔۔ ساتھ والا روم ميں نے تيرے لئے سيٹ کروا ديا تھا۔ کسی چيز کی ضرورت ہو تو بلا جھجھک بتا دينا ۔ تم تو اس وقت اپنوں سے بڑھ کر ثابت ہوۓ ہو” وقار نے ممنون لہجے ميں کہا۔
“ارے نہيں يار۔ ياروں کے بھی کام نہ آئيں تو ايسی دوستی کس کام کی۔ چل ڈئير صبح خوشخبری کے ساتھ ملاقات ہوگی” سميع اس کے بيد سے اٹھتا ہوا دروازے کی جانب بڑھا۔
______________________
جس لمحے اسکی آنکھ کھلی سر شديد بھاری ہورہا تھا۔ بمشکل اس نے آنکھيں کھوليں۔سر کو تھامے وہ آہستہ سے اٹھ کر بيٹھی۔
ليکن جوں ہی نگاہ اردگرد کے ماحول سے مانوس ہوئ اسکی آدھ کھلی آنکھيں پٹ سے کھل گئيں۔ وہ اپنے کمرے ميں نہيں تھی۔ يہ تو کوئ اور ہی کمرہ تھا۔ چھوٹا مگر ڈبل بيڈ تھا۔ سامنے ديوار گير الماری تھی۔ چھت چھوٹی تھی اور ديواريں لکڑی کی بنی ہوئ تھيں۔ بيڈ کے قريب چيتے کی شکل کی رگ بچھی تھی۔ نائٹ بلب کی روشنی بھی خاصی تيز تھی۔ دائيں جانب جيسے ہی اس نے نظر گھمائ کوئ بہت توجہ سے اسکی جانب ديکھ رہا تھا۔
کندھوں سے بھی نيچے آتے گھنے بال، ويسی ہی گھنی سياہ مونچھيں اور داڑھی۔ روشن چمکتی آنکھيں تنی ہوئ بھنويں، مسکراتے لب۔ رات کی تاريکی کے ہمرنگ اس نے کالی شلوار قميض اور کندھوں پر کالی ہی شال لے رکھی تھی۔
ہاتھوں ميں اور گلے ميں ڈھيروں چينيں موجود تھيں۔ ہاتھوں ميں بھی بے حساب انگوٹھياں اور پاؤں ميں پشاوری چپل۔ ايک ٹانگ دوسری ٹانگ پر بڑے کروفر ميں ٹکاۓ ايک بازو کرسی کے پيچھے رکھے۔ سيدھے ہاتھ کی کہنی کرسی کی ہتھی پر ٹکاۓ ہاتھ کی مٹھی بنا کر ہونٹوں کے آگے رکھے وہ يماما کے فق چہرے کو بڑی توجہ اور کسی قدر پيار سے ديکھ رہا تھا۔
“تت۔۔ تم” يماما شايد زندگی ميں پہلی بار کسی کے سامنے ہکلائ تھی۔
“تمہارا خادم” بڑی ادا سے مٹھی ہونٹوں کے آگے سے ہٹا کر آنکھوں کو لمحہ بھر کے لئے بند کرکے اپنے گھمبير لہجے ميں بولا۔
يماما نے غصے سے ايک نظر اس پر ڈال کر ہاتھوں پر سر گرا ليا۔
“کيا ہوا عزيزم” يماما خاموشی سے بے ہوشی سے پہلے کا واقعہ ياد کرنے لگی۔ اسے ياد آيا کہ اسی کی ايک ہمشکل لڑکی
رات ميں کسی کيس کے سلسلے ميں اسکے فليٹ ميں آئ تھی اور بس پھر وہ دروازہ کھلتے ہی تيزی سے اندر آئ اور اسکے منہ پر کوئ تيز دوائ والا کپڑا رکھا۔
“کوچ کرنے کا پروگرام تو نہيں” اس کی گمبھير آواز اسے واپس حال ميں کھينچ لائ۔
“کس قدر گھٹيا انسان ہو تم” سر اٹھا کر دائيں جانب اسے ديکھتے ہوۓ اپنے مخصوص نڈر مگر تاسف بھرے لہجے ميں بولی۔
“نوازش ۔۔۔۔کچھ اور تعريف کرو نا” وہ بھی کہاں باز آنے والوں ميں سے تھا۔ مسکراہٹ دباۓ اس کا غصے سے تپتا ہوا چہرہ نظر بھر کر ديکھا۔
“ميں نے تمہارا تو کبھی کوئ کيس نہيں لڑا نہ مجھے تم سے کوئ سروکار۔۔ پھر ميرے ساتھ يہ سب کرنے کی وجہ” اب کی بار وہ بيڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوتی دونوں بازو کمر پر دائيں بائيں جانب ٹکاۓ اس سے باز پرس شروع کرچکی تھی۔
“ہائے سوہنيو۔۔۔۔ يہی تو غلطی آپ سے سرزد ہوئ۔ تم نے کبھی مجھ پر نظر کرم ہی نہيں کی۔ بس يہی بات دل کو ٹھاہ کرکے لگی” اسکے مقابل کھڑے ہوتے بڑے انداز سے دل پر ہاتھ رکھ کر بولتا اسے زچ کررہا تھا۔
“اچھا بڑا غم ہے۔۔ مجھے چھوڑو پھر ديکھو تختہ دار پر نہ لٹکا ديا تو ميرا نام بھی يماما نہيں” بازو سينے پر باندھتے سر جھٹکتے اسے چيلنج کيا۔
“نانانانا۔۔۔۔۔۔اب تو غلطی سرزد ہوگئ اب کوئ تلافی نہيں سواۓ۔۔۔۔۔” تھوڑا سا اور فاصلہ سميٹتے اب کی بار وہ ہلکا سا اسکی جانب جھکا۔ يماما نے ناگواری سے اسکی يہ حرکت ديکھی۔
“سواۓ ميرے قريب رہنے کے” آنکھ دبا کر شرير مسکراہٹ اس پر اچھالتا پيچھے ہوا۔
“ديکھو ۔۔۔ تمہاری يہ خواہش صرف خواہش ہی رہے گی۔ مجھے اپنی زندگی سے ويسے بھی کوئ محبت نہيں اور اسے ختم کرتے مجھے کوئ دکھ بھ نہيں ہوگا۔ لہذا تم جو ناپاک ارادے لے کر ميری جانب آۓ ہو بہتر ہے کہ انہين ارادے ہی رہنے دو۔ سوچنے کا حق تمہيں تھا تم نے سوچا۔ مگر اسکے پورے ہونے يا نہ ہونے کا اختيار اب ميرے پاس ہے۔ لہذا ميں تمہيں وارن کررہی ہوں کہ ابھی سے پيچھے ہٹ جاؤ۔ ورنہ ميں بہت زہريلی ہوں” يماما کی وارننگ پر وہ مصنوعی حيرت سے اسے ديکھتے ہولے ہولے سر ہلانے لگا۔
“يہی انداز تو مار ڈالتے ہيں مجھے۔ مگر تمہارے حصول سے پہلے ميں مرنا کسی صورت گوارا نہيں کروں گا” جھک کر کرسی کے پاس رکھے ٹيبل سے اپنا موبائل اٹھاتے وہ دروازے کی جانب بڑھا۔
“او مسٹر۔۔۔۔۔ کدھر۔۔۔۔ مجھے چھوڑو پہلے” يماما اسے خاموشی سے دروازے کی جانب بڑھتے ديکھ کر چلائ۔ اپنی طرف سے وہ اسے کافی آئيںہ دکھا چکی تھی۔
“کہاں چھوڑوں۔۔۔ دل کی زمين پر تو چھوڑ ديا ہے تمہيں۔ اور بدقسمتی سے ايک ہی دل ہے۔ دس بارہ ہوتے تو سب پر چھوڑ ديتا” مڑ کر اسے ديکھتے وہ اسی محبت بھری ٹون ميں بولا۔
“تمہارا مسئلہ کيا ہے۔۔ يا اللہ۔۔۔ ديکھو شہنشاہ يا جو کوئ بھی تم ہو۔۔ مجھے پليز واپس چھوڑ آؤ۔ ميں تمہارے کسی کام کی نہيں۔ نہ يہ تھرڈ کلاس محبت بھرے ڈائيلاگز سے ميں پگھلنے والی ہوں۔ ميں ايک سبزی والے کی مجبت تو قبول شايد کرلوں ليکن ايک دہشتگرد۔۔ کيا سوچ کر تم نے ايسا سوچا بھی” وہ شديد الجھن کا شکار تھی۔ کيسے اس مصيبت سے نکلے۔ وہ اب تھوڑا لہجہ نرم رکھ کر اسے سمجھانے کی کوشش کررہی تھی۔
مگر سامنے بھی شہنشاہ تھا لوگوں کو ہرانے والا۔۔ راج کرنے والا۔ اپنی منوانے والا۔۔ اپنی فطرت سے کيسے ہٹتا۔
“ميں نے سن بھی ليا اور سمجھ بھی ليا۔ ميری پھلجھڑی۔ مگر مسئلہ يہ ہے کہ اس بار شہنشاہ کے دل نے دغا کيا ہے اور شہنشاہ نے پہلی بار دل کی سنی تھی۔ اب اتنی آسانی سے تو ميں اپنے دل کی نافرمانی نہيں نا کرسکتا” ہاتھ باندھے بڑے عجز سے وہ ايسے اسے سب کہانی سنا رہا تھا جيسے يہ سب سننے ہی تو يماما يہاں آئ ہے۔
“تم ميری نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہو۔۔ ميں بکواس کر رہی ہوں کہ مجھے يہاں سے جاناہے تو بس جانا ہے” يماما اب کی بار طيش ميں آچکی تھی۔
“اگر يہ تمہاری نرمی ہے تو ميری جان تمہارا جلال کيا ہوگا۔ چلو آج وہ بھی ديکھ ليتے ہيں” بڑے آرام سے اب کی بار وہ واپس مڑا اور کرسی پر جاکر اسی انداز ميں مٹھی ہونٹوں پر ٹکاۓ بيٹھ گيا۔
“تم۔۔تم کس قسم کے ڈھيٹ ہو۔۔ مجھے واپس بھيجو بس ابھی اور اسی وقت” وہ بھی مڑ کر اسکے سر پر کھڑی حکميہ انداز ميں بولی۔
“دروازہ کھلا ہے۔۔ تم جاسکتی ہو۔ ميں بھی ديکھو بغير کسی اسلحے کے بيٹھا ہوں۔ تمہارے پيچھے بھی نہيں آؤں گا۔ جانا چاہتی ہو شوق سے جاؤ۔ سب دروا‌زے کھلے ہيں” اسکے اتنی آسانی سے مان جانے پر يماما نے مشکوک نظروں سے اسے ديکھا۔
“اب جاؤ بھی۔ کھڑی ميرا منہ کيا ديکھ رہی ہو۔ يا پھر يہ چاند چہرہ دل کو بھا گيا ہے۔” ايک آنکھ دباۓ وہ پھر شوخ لہجے ميں بولا۔
يماما اسکے چہرے پر لعنت بھيجتی۔ دروازے کی جانب مڑی۔
اسے يہ موقع گنوانا نہيں تھا۔ ساتھ ہی ساتھ پيچھے مڑ کر ديکھتی کہ کہيں وہ پيچھے آ تو نہيں رہا۔کمرے سے نکل کر چھوٹی سی راہداری کے بعد سيڑھياں نيچے کی جانب جارہی تھيں۔ يہ ايک چھوٹا سا لکڑی کا کاٹيج تھا۔
مدہم روشنی ہر سو پھيلی ہوئ تھی۔
نيچے اترنے تک اسے احساس ہوگيا تھا کہ اسکے اور شہنشاہ کے علاوہ اس وقت يہاں کوئ نہيں تھا۔
سيڑھيوں سے اتر کر ايک چھوٹا سا سيٹنگ روم تھا۔ اردگرد بھی چند کمرے تھے۔
ليکن يماما کو اس وقت اس کاٹيج کا جائزہ لينے کا قطعی کوئ شوق نہيں تھا۔
تيزی سے وہ داخلی دروازے کی جانب بڑھی۔ آہستہ سے اس کا لاک گھما کر تصدي‍ق کی ۔۔کہ آيا لاک ہے يا کھلا ہے۔
مگر وہ حيرت زدہ رہ گئ جب وہ دروازہ بھی اسے کھلا ہوا ملا۔
جيسے ہی دروازہ کھولا۔ اندھيری رات ميں جو کچھ اسے باہر دکھائ ديا وہ کوئ عام جگہ نہيں بلکہ کوئ پہاڑی علاقہ تھا۔
اندھيرے ميں آنکھيں پھاڑنے پر اسے اندازہ ہوا کہ اس کاٹيج کے باہر ايک پتلی سی پگڈنڈی کے ايک جانب گھنا جنگل اور اونچی اونچی چوٹياں تھيں جبکہ دوسری جانب گہری کھائ تھی۔
وہ کہاں اور کدھر تھی۔ اپنے شہر ميں تو ہر گز نہيں تھی۔ اور يہاں سے باہر جانے کا کيا راستہ تھا وہ بالکل انجان تھی۔
دو قدم جو وہ باہر نکال چکی تھی۔
آہستہ سے دوبارہ دہليز کے اندر کئے۔
بے بسی سے دروازہ بند کرکے اس سے ماتھا ٹکا ديا۔
نجانے يہ خبيث انسان اسے کہاں لے آيا تھا۔ اس پہر وہ باہر جا ہی نہيں سکتی تھی۔
باہر جانے کا کوئ فائدہ ہی نہيں تھا۔
“ارے ابھی تک يہيں کھڑی ہو گئ نہيں” اپنے پيچھے شہنشہاہ کی آواز سنتے ہی اس کا دل کيا اس بدتميز شخص کا سر پھاڑ دے۔
وہ جانتا تھا کہ اس وقت وہ يہاں سے نہيں نکل سکتی۔ وہ جانتا تھا کہ وہ اسے کہاں اٹھا لايا ہے تبھی اتنے سکون سے اسے جانے کی اجازت دے دی تھی۔
“کہيں دہشت سے بے ہوش ہونے کا ارادہ تو نہيں” اسکے پھر سے بلانے پر وہ سيدھی ہوتی اسکی جانب مڑی۔
“تم ڈھيٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ايک کمينے انسان بھی ہو” غصے سے اسے ايسے ديکھا جيسے نظروں سے ہی کھا جاۓ گی۔
“اور کوئ تعريف رہتی ہے تو آج وہ بھی کردو۔۔ويسے تو ميں اب اپنی زندگی کی ہر صبح اور ہر رات انہی تعريفی کلمات سے سننے کا سوچے بيٹھا ہوں۔ اور مجھے پورا يقين ہے تم ميری اميدوں پر پورا اترو گی” اسکی بے بسی پر زير لب مسکراتے ہوۓ وہ چمڑے کے بنے خوبصورت اور ديدہ زيب صوفے پر بيٹھ چکا تھا۔
اپنے اسی مغرور انداز ميں۔
“حسرت ہی رہے گی” وہ بھی ايک ايک لفظ چبا چبا کر بولی۔
“تو کيا پھر ميری محبت ميں قيد ہو کر پيار بھری باتيں کرو گی”وہ صاف اس کا مذاق اڑا رہا تھا۔
“مر کر بھی نہيں۔۔۔ تمہاری منصوبہ بندی پر چوٹ کی تھی۔۔۔۔ دن اور رات والی۔۔ ان شاءاللہ اس تاريک رات کے بعد اگلا کوئ دن ايسا نہيں آگے گا۔ جب تمہاری يہ فضول شکل ديکھوں” جوابی کاروائ کرکے وہ سيڑھياں چڑھ گئ۔ اتنا تو اندازہ ہوگيا کہ اسکی نيت غلط نہيں۔ ورنہ ابھی تک اسکی کڑوی کسيلی باتوں پر کم ظرف مردوں کی طرح اپنی مردانگی دکھانے کی کوشش کرچکا ہوتا۔
“کہيں آج رات مرنے کے ارادے تو نہيں” اسے سيڑھياں چڑھتا ديکھ کر وہ پھر سے بولا۔
“مريں ميرے دشمن” شہنشاہ کی ہی بات اسے لوٹائ۔
اس کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
“ارے ہم تو آپکے اسيروں ميں سے ہيں” وہ بھی اونچی آواز ميں بولتے اسے چڑانے سے باز نہيں آيا۔
جواب ميں دروازہ جس زوردار انداز سے يماما نے بند کيا وہ جواب ہی شہنشاہ کے لئے کافی تھا۔
وہ خود اٹھ کر دوسرے کمرے کی جانب بڑھ گيا۔ اسکی چیتی کو اتنا ہی نڈر اور بے خوف ہونا چاہئيے تھا جتنی کہ وہ تھی۔
مجال ہے ايک آنسو بھی بہايا ہو۔ يا ترلے منتيں کی ہوں۔ وہ کسی بھی خطرناک شچوئيشن ميں جذبات کو عقل پر حاوی نہيں ہونے ديتی تھی۔ اور يہی اسکی اب تک کاميابی تھی۔ اسے اس بات سے فرق ہی نہيں پڑتا تھا کہ کس دہشتگرد کے ہاتھ وہ لگی ہے۔ بس اب ان حالات سے نبرد آزما ہونے کے لئے کيا طريقہ اختيار کرنا تھا۔
يہ آج رات اسے سوچنا تھا۔
___________________________
“نائل آيا نہيں ابھی تک” مہک تہجد کے لئے اٹھيں۔ ان کی عادت تھی۔ جب بھی تہجد کے لئے اٹھتيں۔ نوافل پڑھ کر نائل کے کمرے کی جانب جاتيں۔ آيات پڑھ کر اس پر پھونک مارتيں اور پھر واپس اپنے کمرے ميں آتيں۔
آج جس وقت وہ نوافل پڑھ کر اسکے کمرے ميں گئيں۔ کمرہ خالی تھا۔
بے شکن چادر سے اندازہ ہوگيا تھا کہ وہ آج رات پھر سے نہيں آيا۔
اپنے نہ آنے کا وہ مہک کو کبھی نہيں بتاتا تھا۔ ہاں باپ کو ضرور خبر کرديتا تھا۔
وہ نيچے اپنے کمرے ميں آئيں جہاں شمس بھی جاگ چکے تھے۔
اور قرآن کی تلاوت ميں مصروف تھے۔
“ہمم” انہوں نے کچھ بھی کہنے سے احتراز کيا۔
“ايک تو آپ باپ بيٹا کے يہ راز و نياز مجھے سمجھ نہيں آتے۔ آپکی بھی انوکھی فوج کی نوکری ہے کہ جس کی مسٹری ميں کبھی حل نہيں کرسکی۔
بيٹے کو بھی اپنے نقش قدم پر چلا رہے ہيں۔ اسکی تو فوج کی نوکری بھی نہيں۔ پتہ نہيں کس قسم کی نوکری کرتا ہے۔ميری تو سمجھ سے باہر ہے۔ ميں آپکو بتا رہی ہوں اگر وہ غلط کاموں ميں پڑا نہ تو ميں آپ کو کبھی معاف نہيں کروں گی۔ کس مشکل سے اللہ نے نوازا ہے اسے۔” وہ مسلسل بولتی جارہی تھيں۔
اور ہر بار ايسا ہی ہوتا تھا۔ جب جب وہ گھر سے باہر جاتا وہ اسی طرح غصے کا اظہار کرتيں۔
“کچھ نہيں ہوگا بيگم۔۔ آپ خوامخواہ پريشان ہوتی ہيں” وہ قرآن بند کرکے اسے سينے سے لگاتے کھڑے ہوۓ۔ الماری ميں اوپر کرکے رکھا۔ اور ان کی جانب پلٹے۔
“مجھے يہ بتائيں وہ اتنے مہينوں جب غائب ہوتا ہے تو کون سی ٹريننگ کرتا ہے۔ شمس ديکھيں آپ کی بار ميں نے يہ سب برداشت کرليا۔ مگر بيٹے کے لئے يہ سب نہين کروں گی”
“ہاں تو مين کون سا بگڑ گيا” وہ مسکراتے ہوۓ انکے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر بولے۔
“ہاں تو ميں تب موجود تھی نہ آپکی لگاميں کسنے کو۔۔۔ اس لڑکے کا ميں کيا کروں۔ کہيں اور مانتا ہی نہيں بس ايک ہی زد ہے۔۔ کہ وہ نہيں تو کوئ نہيں۔ اب ہم کہاں سے اسے لے کر آئيں۔” ماں تھيں نا کيسے بے بس نہ ہوتيں۔
“اللہ سے اچھی اميد رکھيں۔ اللہ نے اسکے لئے بہترين رکھا ہوگا۔” انہيں بيڈ پر بٹھاتے ہوۓ وہ ان کے ساتھ بيٹھے۔
“ميری تو ہر لمحہ يہی دعا ہے۔ کہ اللہ اگر وہی اسکی قسمت ميں ہے تو کسی طرح اسے زندہ کردے۔۔ يا۔۔۔” انکی آواز بھرانے پر شمس نے انہيں ساتھ لگايا۔
“کيا ہوگيا ہے آپ کو اتنے بہادر بيٹے کی ماں ہيں۔ اس طرح مت کريں” ان کی پشت سہلاتے انہيں تسلی دينے لگے۔
“کب تک آۓ گا؟” مہک کے سوال پر وہ مسکراۓ بنا نہيں رہ سکے۔
“کل دوپہر تک آئۓ گا۔ پھر خوب اسکے کان کھينچنا۔ ميں تو نوکری پر ہوں گا۔ آپ دل کے ارمان نکالنا” ان کے تنگ کرنے والے انداز پر وہ نم آنکھوں سميت مسکرا اٹھيں۔
مہک کی تو جان تھی نائل ميں۔۔ وہ دور ہوجاتا تو انکی جان پر بن جاتی۔
اسی کو سوچتے وہ پھر سے مصلی بچھا کر اسکی حفاظت اور خيريت کی دعائيں کرنے لگيں۔