Dharkanon Ka Ameen – Episode 6 | Complete Urdu Story

311

صبح ناشتے کی ميز پر وہ دونوں آمنے سامنے بيٹھے تھے۔
“لگتا ہے رات بھر سوئے نہيں” سميع نے وقار کی سرخ آنکھوں کو ديکھ کر کہا۔
“ميں تب تک نہ سکون سے سو سکتا ہوں اور نہ ہی چين سے کچھ بھی کرسکتا ہوں۔ جب تک وہ منحوس لڑکی مر کھپ نہيں جاتی” وقار سامنے موجود چاۓ کے کپ کو گھورتے ہوۓ بولا۔
“ميں نے ابھی اپنے بندے کو فون کيا تھا۔ فی الحال تو اسکے فليٹ ميں کوئ ہلچل نہيں ہے جيسے ہی وہ نکلتی ہے ميرا بندہ اسے فالو کرے گا” سميع نے اب تک کی صورتحال بتائ۔
“ٹھيک ہے” وقار سپاٹ لہجے ميں بولا۔
اسی لمحے سميع کے موبائل کی رنگ بجی۔
“ہيلو۔۔ ہاں۔۔ کيا حالات ہين” سميع کی بات پر وقار اسکی جانب متوجہ ہوا۔
“اچھا نکل پڑی ہے۔۔ ويری گڈ۔ بس پلين کے مطابق کام ہونا چاہئيے” سميع کے پرجوش لہجے پر وقار کچھ دير پہلے کی بيزار کيفيت سے باہر آچکا تھا۔
اس نے گھڑی کی جانب ديکھا جہاں صبح کے دس بج چکے تھے۔
“کيا بنا” سميع نے جوں ہی فون بند کيا۔ وقار نے بے چينی سے پوچھا حالانکہ وہ جان چکا تھا۔
“وہ کوٹ جانے کے لئے نکل کھڑی ہوئ ہے۔ تم بھی اپنے بندے سے کہو کہ ان کے پیچھے لگ جاۓ” سميع کی ہدايت پر اس نے فورا عمل کيا۔
“ہيلو ۔۔ہاں مبشر۔۔ اچھا ٹھيک ہے تم اسے ديکھ چکے ہو۔۔ چلو يہ تو بہت اچھا ہوگيا۔ بس تم بھی اپنی گاڑی اسکے پيچھے لگا لو” اس نے مبشر کو بھی وہی ہدايات ديں جو سميع نے کہيں تھيں۔
“بس يار اب کام ہوجاۓ” وقار نے فون بند کرتے ہی اپنی خواہش کا اظہار کيا۔
“ہو گا۔۔ ہوگا۔۔ ميں کبھی کچی گولیاں نہيں کھيلتا۔۔ تم فکر مت کرو۔۔ بس اب تھوڑا ريليکس ہو کر چاۓ تو پيو” سميع نے اسے تسلی دی۔
وہ اپنے کپ کی جانب متوجہ ہوا۔
________________________
بريکنگ نيوز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاران نے آج ليٹ آفس جانا تھا۔ رات ميں يماما نے جو پارٹی دی تھی۔ وہاں سے واپس آتے ہی وہ کافی ليٹ ہوگيا تھا لہذا صبح اس نے آفس ليٹ جانے کا سوچا۔
ابھی تھوڑی دير پہلے ہی وہ لاؤنج ميں آيا تھا۔
ربيعہ اس کے اٹھتے ہی اس کے لئے ناشتہ بنانے کچن کی جانب چل پڑيں۔
اس نے ٹی وی آن کيا ہی تھا کہ بريکنگ نيوز کا سنتے ہی چينل چينج کرتا ہاتھ وہيں رکا۔
“مشہور و معروف وکيل يماما صديقی جنہوں نے پچھلے دنوں ہی ايک مشہور سياستدان کا کيس لڑا۔ اور کل اس سياستدان گھرانے کے ايک سربراہ کو سزا دلوانے ميں کامياب ہوگئيں۔
مگر ابھی تھوڑی دير پہلے وہ گھر سے آفس کے لئے نکلی ہی تھيں کے کچھ دور جانے کے بعد ان کی گاڑی سڑک پر لہرائ اور سڑک کے ساتھ بنے فٹ پاتھ پر چڑھ گئ۔ وہيں موجود ايک درخت کے ساتھ بری طرح ٹکرائ۔
موقع پر ہی انکے پيچھے آتی گاڑيوں ميں سے ايک نے انہيں نکال کر اپنی گاڑی ميں منتقل کيا۔ اور زخمی حالت ميں انہيں ہاسپٹل لے جايا گيا ہے۔
ہمارے نمائندہ اسی جگہ موجود ہيں جہاں اب سے کچھ دير پہلے يماما صديقی کی گاڑی درخت سے ٹکرائ تھی۔۔ جی راحيل ۔۔ آپ ابھی وہيں ہيں۔ تو ناظرين کو بتائيے گا کہ يہ سب کيسے اور کب ہوا”؟ وہ نيوز اينکر تو اپنی روزمرہ کی ڈيوٹی نبھانے لگی۔
مگر نيوز سنتے فاران کی حالت بری تھی۔
ٹی وی پر دو سکرينز چل رہی تھين۔ ايک ميں يماما کی گاڑی کی حالت دکھائ جارہی تھی۔ دوسری سکرين پر اسکی مسکراتی تصوير تھی۔
ربيعہ اسکے لئے ناشتہ لے کر جيسے ہی لاؤنج ميں داخل ہوئيں۔ سامنے موجود ايل سی ڈی پر يماما کی تصوير ديکھتے ہی يکدم پريشان ہوئيں۔
“کيا ہوا ہے؟”وہ خوفزدہ آواز ميں فاران سے بوليں۔
جو اس لمحے ساکت بيٹھا تھا۔
نيوز اينکر پھر سے وہی سب دہرانے لگی۔
يکدم فاران اپنی جگہ سے اٹھا۔
“ميری بچی۔” ربيعہ کے منہ سے سب سن کر چيخ نما آواز نکلی۔
“ميں ہاسپٹل جا رہا ہوں” فاران اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔
چند منٹ بعد ہی والٹ۔ موبائل اور گاڑی کی چابی اٹھاۓ وہ تيز قدموں سے واپس آيا۔
“ميں ہاسپٹل جارہا ہوں” اس کی سنجيدہ آواز پر ربيعہ جو ٹی وی ديکھتے ساتھ ہی رو رہی تھيں۔ گردن موڑ کر فاران کو ديکھا۔
“ميں بھی چلوں گی” اسے ماں بن کر پيار ديا تھا۔ کيسے نہ اس وقت تکليف سے گزرتيں۔
“ماں ابھی آپ کا وہاں جانے کا فائدہ نہيں ہے۔ ميں جاکر اسکی کنڈيشن ديکھوں۔ آپ بس دعا کريں۔ بابا کو کال کردينا” وہ انکے قريب آکر انکے کندھے پر ہاتھ رکھتے تسلی ديتے ہوۓ بولا۔
“مجھے فون کرکے اسکے پل پل کی خبر دينا” آنسو صاف کرتے وہ بھرائ ہوئ آواز ميں بولی۔
“جی” وہ بس اتنا ہی کہہ سکا۔ اور تيزی سے باہر کی جانب بڑھا۔
____________________________
رات ميں سوچتے سوچتے نجانے اسکی کب آنکھ لگی۔ صبح جب اسکی آنکھ کھلی اس وقت بھی وہ رات والی ہی پوزيشن ميں چيتے کی شکل کی بنی ہوئ رگ پر بيٹھ تھی۔ سر اور بازو بيڈ پر دھرے تھے۔
سر گھما کر ادھر ادھر ديکھا دائيں جانب کی ديوار پر گھڑی نظر آگئ۔ گيارہ بج چکے تھے۔ اتنا اسے ياد تھا کہ فجر کی نماز تک وہ جاگتی رہی تھی۔ اور نماز پڑھ کر ہی وہ رگ پر بيٹھی بيٹھی آگے کا لائحہ عمل طے کرنے لگی تھی۔
کمر کو تھوڑی دير دائيں بائيں کرکے جسم کا اکڑا پن ٹھيک کيا۔ دوپٹہ شانوں پر ٹھيک کيا بال ادھ کھلے ہی تھے۔ پنيں اتار کر بالوں کو تھوڑا سا ٹھيک کرکے دوبارہ بالوں ميں لگايا۔ دروازہ دھکيلا تو وہ کھلا ہوا ہی ملا۔
آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی باہر آئ۔
سيڑھيوں کے سرے پر کھڑے ہوکر نيچے لاؤنج ميں جھانکا۔
سامنے ہی ميز پر ناشتے کا سامان رکھے اس سے نبرد آزما ہوتا ہوا شہنشاہ نظر آيا۔
يماما کا حلق تک کڑوا ہوگيا۔
دھپ دھپ کرتی نيچے آئ۔ قدموں کی آواز سن کر بھی شہنشاہ کی مصروفيت ميں کوئ اثر نہ آيا۔ وہ اسی دل فشانی سے ناشتہ کرنے ميں مصروف رہا۔
“مجھے آج واپس چھوڑ کر آؤ” اسکے سر پر کھڑی اسے حکم دينے والے انداز ميں تڑخ کر بولی۔
چاۓ پيتے ہوۓ شہنشاہ نے سيدھے ہوتے اس کا غصے سے بھرپور چہرے کا بھرپور ہی انداز ميں جائزہ ليا۔ پھر کمر صوفے کی پشت سے ٹکاتا اسے ناشتہ کرنے کا اشارہ کيا۔
“ناشتہ کرے گی ميری جوتی” اپنی بات نظر انداز کئے جانے پر يماما کا دماغ مزيد گھوم گيا۔ اس پر شہنشاہ کی اندر تک جھانکتی آنکھيں۔ اور چہرے پر کھلنے والی مسکراہٹ اور چمک۔
“ارے واہ تمہاری جوتی بھی ناشتہ کرتی ہے۔ بھئ ايسی جدت تو آج تک کسی نے نہيں سنی ہوگی۔ تم اور تمہاری ہر چيز سچ ميں بہت انوکھی ہے۔” صاف مذاق اڑاتا لہجہ تھا۔
“تمہيں ايک بکواس کی سمجھ نہيں آتی۔ مجھے واپس چھوڑ کر آؤ۔۔” اب وہ حلق کے بل چلائ۔
شہنشاہ نے ناگواری سے کان ميں انگلی ڈال کر گھمائ۔
“آہستہ بولو۔۔ ميرے کان بالکل ٹھيک ہيں۔ مجھے تمہاری آہستہ آواز ميں کہی ہر بات بھی سمجھ آجاۓ گی۔” اطمينان برقرار تھا۔ اور تو اور اب ايک ٹانگ پر دوسری ٹانگ ٹکاۓ وہ مزے سے چاۓ پينے ميں مصروف تھا جيسے يہی سب کرنے تو آيا ہو۔
“تمہارا آخر مقصد کيا ہے مجھے يوں اغوا کرنے کا۔ کون سا کام مجھ سے نکلوانا چاہتے ہو۔ مجھے بتاؤ۔ ميرے بس ميں ہوا تو ميں آج ہی کردوں گی۔ مگر پليز مجھے واپس چھوڑ آؤ۔ ديکھو ابھی ميں ايک بہت ضروری کيس پر کام کررہی ہوں۔ ميرے اس طرح اغوا ہونے سے ميری زندگی کا اصل مقصد ختم ہوجاۓ گا” اب کی بار وہ اسکے سامنے والے صوفے پر بيٹھ کر اسے سمجھانے والے انداز ميں بولی۔
“تو پھر يہ سمجھو کے ميری زندگی کا بھی يہی مقصد ہے” شہنشاہ نے اسکے چہرے سے بمشکل نظريں ہٹا کر کہا۔
نظريں کپ پر تھيں۔
“کيا؟ لڑکيوں کو اغوا کرنا تمہاری زندگی کا مقصد ہے؟” وہ اچنبھے اور کسی قدر طنز سے بولی۔
“اوہ نہيں جھلی کڑئيے۔۔۔تم اکيلی ہی ہزاروں کے برابر ہو۔۔۔اب کتنی بار بتاؤں۔ کہ تم شہنشاہ کے دل کو بھاگئ ہو۔۔اب دلوں کے معاملے تو کچھ نہيں ديکھتے۔ کوئ مجبوری۔۔ کوئ مصلحت۔۔۔نا۔۔۔” خالی کپ ٹيبل پر رکھتے ہوۓ۔ اسے ايک بار پھر ناشتے کا اشارہ کيا۔
“ايک کا کرو۔۔مجھے زہر کھلا دو۔۔” وہ دانت پيس کر بولی۔
اس کی جھنجھلاہٹ پر شہنشاہ کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
“تمہيں کبھی کسی نے بتايا نہيں شايد تم يوں دانت پيستے ہوۓ بہت ہی پياری لگتی ہو۔۔” اب وہ صوفے کے ساتھ پشت ٹکاۓ داياں ہاتھ داڑھی پر ٹکاۓ مزے سے اسکا تلملاتا چہرہ ديکھ رہا تھا۔
“بھاڑ ميں گۓ تم۔۔ اور بھاڑ ميں گئ تمہاری سوچ” اس کا بس نہيں چل رہا تھا کہ شہنشاہ کے اس لمحے ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔
“ہاۓ۔۔ بھاڑ ميں تو واقعی چلا گيا ہوں۔ اب ديکھو نا تم سے محبت کرنے کے بعد تو لگتا ہے کہيں کا نہيں رہا۔۔بھاڑ ہی مناسب جگہ ہے۔” يماما نے تيکھے چتونوں سے اسے ديکھا۔
پھر خاموشی سے اسے نظر انداز کئے اردگرد کا جائزہ لينے لگی۔ ساتھ ہی ساتھ دماغ ميں يہاں سے بھاگنے کے منصوبے بنانے لگی۔
شہنشاہ بھی خاموشی سے اس کا جائزہ لينے ميں مگن تھا اور يماما اسکی خود پر جمی نظروں سے اچھی طرح واقف تھی۔
“يہاں سے باہر جانے کے منصوبے مت بناؤ۔ بظاہر تمہيں يہاں کوئ نظر نہيں آئے گا ليکن ميرے بندے ہر پل يہاں کی نگرانی کر رہے ہيں” اب کی بار شہنشاہ اپنے مخصوص گمبھير مگر کسی قدر سنجيدہ لہجے ميں اسے تنبيہہ کرنے لگا۔
“اگر مجھے جاننے کا دعوی ہے تو اتنا تو اچھی طرح جانتے ہوگے کہ ميں عام دبو لڑکی نہيں۔ جو سکون سے بيٹھ جاؤ۔ آج نہيں تو کل۔۔۔ کل نہيں تو پرسوں۔۔ ميں يہاں سے نکل بھاگوں گی۔چاہے جتنے مرضی پہرے بٹھاؤ” اب کی بار وہ بھی ريليکس انداز ميں کمر صوفے سے ٹکاۓ اسکی کے انداز ميں بيٹھ گئ۔
“ميری جان جگر دبو ہو ہی نہيں سکتی تھی” شہنشاہ کے لوفرانہ انداز پر وہ جو سکون سے بيٹھی تھی ايک بار پھر اس کی رگيں تن گئيں۔
“خیر ناشتہ کرو۔۔ خالی پيٹ نہ تمہارا دماغ چلے گا اور نہ ہی منصوبے بن سکيں گے۔ خود ميں جان شان لاؤ تاکہ مقابلہ کرنے ميں مزہ بھی آۓ۔” شہنشاہ اپنی جگہ سے اٹھ کر سامنے بنے کمروں ميں سے ايک کی جانب چل پڑا۔
يماما کی چبھتی نظروں نے اس کا پيچھا کيا۔ پھر سر جھٹک کر وہ سامنے رکھے ابلے انڈوں۔ جيم اور سلائسز کی جانب متوجہ ہوئ۔
خاموشی سے ناشتہ کرنے ميں مصروف ہوگئ۔ جو بھی تھا اتنا تو اسے اندازہ ہو گيا تھا کہ وہ اسے کوئ نقصان نہيں پہنچاۓ گا۔ فی الحال تو اسے ايسا ہی لگا تھا۔
________________________
جب تک فاران وہاں پہنچا تب تک ڈاکٹرز نے يماما کے مرنے کی تصديق کردی۔
“مجھے اسکی ڈيڈ باڈی ديکھنی ہے” فاران اس وقت ضبط کی انتہاؤں پر تھا۔
ايمرجنسی کے باہر ميڈيا کا رش تھا۔ ڈاکٹرز کے مطابق ايکسيڈنٹ کے بعد يماما کا چہرہ مسخ ہو چکا تھا۔
اور ڈاکٹرز نے يہاں تک کہا تھا کہ اس نے کوئ زہريلی شراب پی ہے جس کی وجہ سے يہ حادثہ پيش آيا ہے۔
فاران کو اندر جانے کی اجازت نہيں دی جارہی تھی۔
“سوری سر۔۔ اس وقت ہم کسی کو بھی ڈيڈ باڈی تک نہيں جانے دے سکتے۔” وہاں موجود ايک ڈاکٹر نے اسے اندر جانے سے روکا۔
“وہ ميری فيملی تھی”
“جی سر ہم جانتے ہيں۔ ليکن ابھی يہ معاملہ پوليس کيس سے مکمل طور پر نکل جاۓ پھر ہم ڈيڈ باڈی آپکے حوالے کرديں گے” اس ڈاکٹر کی بات پر فاران نے غصے سے اسے گھورا۔
پھر وہاں پر موجود پوليس کے بندوں کے پاس گيا۔ وہ سب فاران کو وکيل کی حيثيت سے بہت اچھی طرح جانتے تھے۔
ان سے سب بات کلئير کروا کر۔ اور اس معاملے کی مزيد کوريج ختم کروائ۔ پوليس کے کہنے پر ڈاکٹرز نے ڈيڈ باڈی فاران کے حوالے کی۔
اس کا چہرہ تو پٹيوں ميں جکڑا ہوا تھا۔
مگر کانوں ميں موجود ائير رنگز جو خون ميں لتھڑے ہوۓ تھے فاران انہيں بہت اچھے سے پہچانتا تھا۔
ابھی کل رات پارٹی ميں اس نے يہی ائیر رنگز تو پہنے ہوۓ تھے۔
جسامت بھی سب يماما کی تھی۔ سرخ آنکھوں سے وہ اسے يوں موت کی آغوش ميں سوئے ديکھ رہا تھا۔ آنسو آنکھوں سے بہنے کو بے تاب تھے۔
جس يتميم خانے ميں يماما پڑھی بھلی تھی اسکے اونر صديقی صاحب بھی وہيں موجود تھے۔ غم سے نڈھال وہ اس کا مردہ وجود ديکھ رہے تھے۔
ايمبولينس ميں وہ يماما کی ڈيڈ باڈی کے ساتھ بيٹھ گۓ اور فاران اپنی گاڑی ميں بيٹھ کر گھر کی جانب روانہ ہوا۔
ابھی اس نے پوليس سے مزيد تفتيش روکنے کا کہا۔
وہ خود اسکی گاڑی ديکھنا چاہتا تھا۔ مگر اس سے پہلے اسے يماما کی تدفين کے ضروری مراحل طے کرنے تھے۔
اسے يہ يقين ہی نہيں تھا کہ يماما نے شراب پی ہوگی۔
گاڑی چلاتے ڈاکٹرز کی اس ساری بکواس پر اس کا دماغ غصے سے بھرا ہوا تھا۔
وہ اسے بہت اچھے سے جانتا تھا۔ يماما نے آج تک کبھی کسی نشے کو ہاتھ تک نہيں لگايا تھا۔ وہ تو ان سب چيزوں سے نفرت کرتی تھی۔
فاران نے پوليس کو کہہ کر اس کا فليٹ بھی سيل کروانے کا کہا تھا۔
پوليس فی الحال فاران کی فيملی کی اجازت کے بغير اس کے فليٹ کی چھان بين نہيں کرسکتی تھی۔
_________________________
“مبارک ہو دوست” وہ دونوں اس وقت ٹی وی پر چلنے والی خبر ديکھ کر خوشی سے بغلگير ہوۓ۔ سميع نے اسے خوشی سے بھرپور لہجے ميں مبارکباد دی۔
“يہ سب تمہارے بغير ممکن نہيں تھا دوست” وقار اسکی پيٹھ تھپکتے ہوۓ بولا۔
“آج تو ہم جشن منائيں گے” وقار خوشی سے تمتماتے چہرے کے ساتھ بولا۔
دونوں يماما کی موت کی تصديق پر بے حد خوش تھے۔
“کيوں نہيں۔ سمجھو اب سکون کے دن آنے والے ہيں” سميع اور وہ پھر صوفوں پر بيٹھ چکے تھے۔
وقار پاس پڑے انٹرکام پر بيل دی۔
تھوڑی ہی دير بعد ايک ملازم ہاتھ باندھے اندر آيا۔
“بھئ آج رات کلب ميں زبردست سی پارٹی ہوگی۔ وہاں کی صفائ وغيرہ کرواؤ۔ جتنی شرابيں ختم ہوچکی ہيں۔ گودام سے نئ بوتليں نکلواؤ۔ ساتھ ميں باربی کيو کا انتظام بھی ہو۔ اور ہاں وہ جو بيک سائيڈ پر گيسٹ رومز کا ايريا ہے وہاں کی بھی صفائ کرواؤ۔ آج ہم بھر پور طريقے سے جشن منائيں گے۔” سب ہدايات ديتے ہوۓ وہ صوفے پر مزيد پھيل کر بيٹھا۔
“جگر تمہيں بھی آج خوش کرديں گے” ساتھ والے صوفے پر بيٹھے سميع کے بازو پر ہاتھ رکھ کر زور سے دباتے ہوۓ وہ جوش سے بولا۔
“بتاؤ۔ کون سی ماڈل يا ايکٹرس ميرے جگر کو پسند ہے آج اسے بلاتے ہيں تيرے لئے” وہ آنکھ دبا کر بولا۔
“ارے يار۔۔۔ ميں تو عرصہ ہوا شوبز کی دنيا سے دور ہی رہا ہون۔ مجھے نہيں معلوم آج کل کون کون ہے يہاں” سميع صاف گوئ سے بولا۔
“چل پھر تيرے لئے اپنی مرضی کی فٹ والی ماڈل کا انتظام کرتے ہيں۔ تو نے مجھے خوش کيا۔ اب تجھے خوش کرنا بھی تو ميرا فرض ہے نا” پھر سے ايک آنکھ دباتے خباثت سے ہسنتے ہوۓ بولا۔
سميع نے بھی اسکی ہنسی ميں اس کا بھرپور ساتھ ديا۔