Dharkanon Ka Ameen – Episode 7 | Complete Urdu Story

426
يماما کو دفنانے کے بعد فاران سيدھا اس جگہ پہنچا جہاں اسکی گاڑی درخت سے ٹکرائ تھی۔
وہاں پہلے سے ہی پوليس نے اپنے بندے بھيج کر اس جگہ کو بھی سيل کرديا تھا۔
فاران غم سے نڈھال اس جگہ پہنچ چکا تھا۔ اسے ذرا برابر اميد نہين تھی کہ يہ صرف حادثہ تھا۔ اسے پورا يقين تھا کہ اسے مروايا گيا تھا۔
اور کس نے يہ ابھی اسے شک تھا۔ مگر وہ دل ميں مصمم ارادہ کرچکا تھا کہ وہ يماما کے مقصد کو نہ صرف يوں ہی چھوڑ دے گا۔ بلکہ اب وہ اسکے قاتلوں کو بھی انجام تک پہنچاۓ گا۔
بس اب اسے ثبوت اکٹھے کرنے تھے۔
وہاں پہنچ کر سب سے پہلے اس نے گاڑی تک رسائ کی۔
گاڑی کے ٹائر اس نے فورا جانچے تو وہ پنکچر تھے۔
وہاں سے ہٹ کر وہ فورا گاڑی کے اندر کی جانب بڑھا۔
دروازہ کھولا تو اسکی چند فائلز ڈرائيونگ سيٹ کے ساتھ موجود سيٹ پر بکھری پڑی تھيں۔
پوری گاڑی چھان ماری مگر اس کا موبائل کہيں بھی نہيں تھا۔
نہ ہی اس کا بيگ تھا۔ مگر چند فائلز تھيں۔ مگر يہ وہ والی تھيں جن کے کيسے وہ ڈيل کرچکی تھی۔ تو اب ان فائلز کو لے کر کہيں جانے کا کوئ مقصد نہيں تھا۔
اس نے پھر بھی وہ فائلز وہاں سے اٹھا ليں۔
باہر نکلا تو فنگر پرنٹس لينے کے لئے ٹيم آچکی تھی۔ جسے وہ يہاں آنے سے پہلے فون کرچکا تھا۔
“مجھے ايک ايک جگہ کے فنگر پرنٹس چاہئيں” انکے آفيسر کو تنبيہہ کرکے وہ فون ملانے لگا۔
يماما کے نمبر پر فون ملايا تو بيل متواتر جارہی تھی۔
يہ کيسے ہو سکتا تھا کہ وہ موبائل لے کر گھر سے نہ نکلتی۔
“کہيں کوئ موقع کا فائدہ اٹھا کر اس کا بيگ اور موبائل گاڑی سے چرا کر نہ لے گيا ہو۔” يکدم اسے خيال آيا۔
ہمارے ملک کا الميہ بھی تو يہی ہے کہ جہاں کوئ حادثہ ہوا نہيں وہاں اس قسم کے راہگير چور لازمی موجود ہوتے ہيں۔
کوئ زخمی يا موت سے گزر کر کسی حال ميں ہے۔ وہ کسی کو نہيں دکھائ دے گا۔ ہاں اسکے پاس کوئ قيمتی چيز ہو اسے دبوچنے ميں پہل کريں گے۔ اسی انسانيت نے ہمارے دل مردہ کررکھے ہيں۔
اور يقينا ايسے ہی مردہ دل کا مالک کوئ يماما کا بيگ اور موبائل لے اڑا ہوگا۔
“ہيلو فياض۔ ميں ايک نمبر سينڈ کررہا ہوں اسے فورا سے پہلے بلاک کرواؤ۔ اور اس کا اب تک کا کالز کا سب ريکارڈ مجھے جلداز جلد بھيجو” اپنے کسی دوست کو فون کرکے وہ وہاں سے نکل چکا تھا۔
ابھی پوليس نے فنگر پرنٹس لے کر يماما کی گاڑی اپنی تحويل ميں رکھنی تھی۔
فاران کا رخ اب يماما کے فليٹ کی جانب تھا۔
گاڑی ميں بيٹھ کر وہ اس کا رخ يماما کے فليٹس کی جانب کرچکا تھا۔
_____________________
صبح ناشتہ کرنے کے بعد وہ کمرے ميں جاچکی تھی۔ اتنا اسے اندازہ ہوگيا تھا کہ فی الحال وہ جتنے بھی ہاتھ پاؤں مار لے ابھی وہاں سے نکلنا ٹھيک نہيں۔
شہنشاہ ابھی چوکنا تھا۔ يماما کو اسے اب ايسا تاثر دينا تھا کہ وہ ان سے خوفزدہ ہوچکی ہے۔ تاکہ وہ اسکی جانب سے تھوڑے نرم پڑيں۔
اور يہيں سے وہ فائدہ اٹھا کر نکل بھاگے گی۔
يہی سب سوچتے وہ بيڈ پر نيم دراز تھی اور اسی طرح سو بھی گئ۔
اسکی آنکھ کسی کے گنگنانے سے کھلی۔
“يہ شام پھر نہيں آئے گی
اس شام کو اس ساتھ کو
آؤ امر کرليں
ميں تمہارے قريب
تم ميرے پاس ہو
اور کچھ ہو نہ ہو
بس يہ احساس ہو” مدہم سی گنگناہٹ کے ساتھ ہی اسے اپنے چہرے پر کسی کی انگليوں کا لمس محسوس ہوا۔
وہ کرنٹ کھا کر سيکنڈ سے بھی پہلے سيدھی ہو کر بيٹھی۔
بے يقين نظروں سے اپنے بائيں جانب بيڈ پر بيٹھے شہنشاہ کو ديکھا۔
جس کی نظروں ميں اس وقت الگ ہی چمک تھی۔ يماما کے يوں تيزی سے اٹھنے پر وہ طيش ميں آنے کی بجاۓ ہولے سے مسکرايا۔
“گھٹيا پن پر اتر آۓ” يماما طنز کے تير برساتی بيڈ پر سے اٹھ کر سامنے موجود صوفے پر بيٹھی۔
“تم تو اتنی خالص ہو کہ تمہارے ساتھ گھٹيا پن پر چاہ کر بھی نہيں اتر سکتا” ايک سرد آہ بھرتے ہوۓ اس نے سائيڈ ٹيبل پر موجود سگار سلگايا۔
“مگر يوں ميری سونے کا فائدہ اٹھا کر ميرے کمرے ميں آکر يہ سب بکواس کرنا۔۔۔۔ گھٹيا پن نہيں تو اور کيا ہے” وہ دانت پيس کر بولی۔
“ارے واہ تم نے تو بہت جلد ميری اميدوں پر پورا اترنا شروع کرديا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ميرا کمرہ” واہ۔۔ مزہ آيا سن کر” سر کو ہولے ہولے جنبش ديتا منہ سے دھواں اڑاتا وہ محظوظ کن انداز ميں بولا۔
يماما اسے لتاڑ رہی تھی اور وہ اپنے ہی راگ الاپ رہا تھا۔
“آئںدہ مجھے ہاتھ مت لگانا۔۔ ورنہ ميں بہت برا حشر کروں گی۔۔ اور اب مجھے بتاؤ کہ اس اغوا کا کيا مقصد ہے۔ تم کيا سوچ رہے ہو۔۔ يا سوچ چکے ہو۔ اور کس خوش فہمی ميں ہو وہ بھی بتا دو” يماما نے اسکی حرکتوں پر چڑتے ہوۓ پوچھا۔
“ارے ارے سانس تو لو۔۔ يہاں بھی کٹہرا کھول کر بيٹھ گئ ہو۔۔ کوئ پيار محبت کی بات کرو۔۔” وہ حيرت سے ہنستے اسے اور غصہ دلا گيا۔
“تم پتہ نہيں کن خوش گمانيوں ميں ہو۔۔ عجيب کوئ بے ڈھنگے دہشتگرد اور چور اچکے ہو۔۔ تمہيں يہ سمجھ ہی نہيں آرہی کہ ميں تمہاری اتنی انسلٹ کررہی ہوں۔ مجھے کسی طور تم گوارا نہيں ہو۔ مگر تم ہو کہ اثر ہی نہيں کوئ تم پر” وہ اب کی بار حيرت کی زيادتی سے بولی۔
شہنشاہ اسکے انداز پر ہلکا سا قہقہہ لگا کر اپنی جگہ سے اٹھ کر يماما کی جانب بيڈ پر اسکے مد مقابل بيٹھا۔
“پہلی بات تو يہ کہ اس اغوا کا مقصد تمہيں ہميشہ کے لئے اپنا بنانا ہے۔۔ دوسری بات چور اچکا ہوں يہ ڈاکو ہوں۔۔ جو بھی کہو بس اب سے صرف تمہارا ہوں” ہاتھ دل پر رکھے ہولے سے جھکتا ہوا وہ اسے پاگل کے سوا کچھ نہ لگا۔
“اوہ۔۔ يہ شادی والی پليننگ تو تم اپنے دماغ سے بالکل ہی نکال باہر کرو” يماما نے اب کی بار کڑے انداز ميں اسے وارن کيا۔
“کيوں؟” شہنشاہ نے پل بھر کی بھی دیر کئے بنا سوال پوچھا۔
“کيونکہ ميں پہلے سے ہی شادی شدہ ہوں۔” اس نے اپنی طرف سے بہت بڑا دھماکا کيا۔ مگر دوسری جانب جيسے کوئ فرق نہيں پڑا۔
“اچھا ۔۔۔ وہ جس کو مرے ہوۓ بھی اب کتنے ہی سال ہوگۓ ہيں۔۔ لہذا تصحيح کرلو۔۔ شادی شدہ نہيں بيوہ” يماما کے لئے اسکے لفظوں کے نشتر سہنا آسان نہيں تھے۔
چند لمحوں کے لئے وہ اپنے بارے ميں اسکی اتنی معلومات پر گنگ رہ گئ۔ مگر پھر جلد ہی سنبھل گئ۔
“بيوہ ہوں يہ سہاگن۔۔ تم سے کوئ مطلب نہيں۔ ميرے لئے جو کچھ تھا وہی ايک شخص تھا۔ نہ اس سے پہلے کسی کی خواہش کی تھی۔ اور نہ اب اسکے بعد کسی کی خواہش ہے۔
لہذا تم اپنا وقت برباد مت کرو۔۔ بہت سی مل جائيں گی تمہيں” اس نے جيسے ہر بات ختم کردی۔
“مگر مجھے يماما ہی چاہے۔ سچی۔۔ کھری۔۔ باوفا۔۔ تمہيں چند گھنٹوں کی مہلت دے رہا ہوں۔ فيصلہ کرلو۔ نکاج کرکے رہو گی يا۔۔۔۔” شہنشاہ اب کی بار سب کچھ اس پر واضح کردينا چاہتا تھا۔ اور اس نے کر بھی ديا تھا۔
“ميرا فيصلہ چند سيکنڈز۔ چند منٹوں۔ چند گھنٹوں اور چںد سالوں کيا مرتے دم تک يہی ہے۔۔اور اس کے علاوہ ميں نے کوئ آپشن اپنی زندگی ميں رکھا ہی نہيں ہے۔
تم نے کچھ اور سوچا بھی تو ميں اپنی زندگی ختم کرنے ميں ايک پل کی بھی دير نہيں کروں گی۔ ياد رکھنا” يماما نے ايک ايک لفظ پر زور ديتے جيسے اس کی ہر خوش فہمی کو غلط فہمی بنا ديا۔
“مگر ميں تمہيں يہ چںد گھنٹے دينا چاہتا ہوں۔ اور کياتم دنياسے يوں ہی اپنا مقصد پورا کئے بنا چلی جاؤ گی۔ تو کيا پھر اگلے جہان ميں بھی خود کو معاف کرپاؤ گی”شہنشاہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اب دروازے کی جانب بڑھ رہا تھا۔
مگر اسکے منہ سے نکلنے والے الفاظ يماما کو پھر سے گنگ کر گۓ۔
يہ کون تھا۔۔ جو اسکے ماضی سے واقف تھا۔ وہ تو ربيعہ۔۔ فاران اور احمد کے علاوہ اور کوئ نہيں جانتا تھا۔ پھر يہ سب اسے کيسے پتہ چلا ہے۔
يماما نے پہلی بار اب سنجيدگی سے شہنشاہ کے بارے ميں سوچا۔
“کون ہو تم؟” اسے وہ کوئ بہروپيہ لگا۔
شہنشاہ اس کے حيرت ميں لپٹے سوال پر کمرے کا دروازہ کھولتے کھولتے ہولے سے مسکرايا مڑ کر اسکی جانب ديکھا اور پھر سينے پر ہاتھ رکھ کر ہولے سے جھکا۔
“تمہارا خادم” سيدھے ہوتے اس کی آنکھوں ميں چھپے مشکوک سے تاثرات نے شہنشاہ کی مسکراہٹ کچھ ہور گہری کی۔
مزيد کچھ بھی کہے بنا خاموشی سے دروازہ کھول کر باہر نکل گيا۔
___________________________
“ہيلو سر جی۔ اب ان ٹرکوں کا کيا کريں گے” وہاج اس وقت اپنے فليٹ پر بيٹھا تھا۔
يماما کی موت کی خبر پر اس نے بھی سکھ کا سانس ليا تھا۔
اس حادثے کا مطلب يہ تھا کہ اب کچھ عرصہ اس کا کيس التوا ميں جانے کی کافی حد تک اميد تھی۔
“ہاں يار اب معاملہ ٹھنڈا پڑ چکا ہے۔ تو جس طرح ہم نے پلين کيا تھا۔ اسی طرح ان منشيات کے ٹرک جانے دو۔ بارڈر پر ميں نے پوليس کے چند بندے لگا دئيے ہيں۔ وہ بہت آسانی سے ہمارا مال نکلوا ديں گے۔ ساتھ ہی ساتھ جو اسلحے کے ٹرک ہيں انہيں بھی نکلنے دو۔ اور انہی کے ذريعے چند دہشتگرد بھی واپس چلے جائيں گۓ۔ کيونکہ يہاں وزيرستان کے حالات بہت کشيدہ ہوگۓ ہيں۔ ہمارے ان بندوں کا اب يہاں رکنا خطرے سے خالی نہيں۔ اور اگر يہ بندے پکڑے گۓ تو سمجھو ميں تو سيدھا تختہ دار پر لٹکوں گا۔ کيونکہ يہ وہی بندے ہيں جن کی فوٹيج اس لڑکی کے پاس ہيں۔” وہاج موقع کا فائدہ اٹھا کر جلد سے جلد ہر ثبوت ختم کرنا چاہتا تھا۔
“ٹھيک ہے سر کوئ مسئلہ ہی نہيں سب انتظام بہت اچھے سے ہوجاۓ گا” اس نے وہاج کو پوری طرح تسلی کروائ۔
“بہت احتياط سے انہيں ميری حويلی سے نکالنا۔ کسی کو بھی شک نہ ہو کہ وہ میری حويلی ميں تھے۔” وہاج نے ايک اور ہدايت دی۔
“ميرا بيٹا انہيں ميری حويلی سے نکال کر گاؤں کے فارم ہاؤس تک پہنچا دے گا۔ تم نے فارم ہاؤس سے انہيں آگے لے کر جانا ہے”
“ٹھيک ہے سر آپ بے فکر ہوجائيں” اس نے پھر سے وہاج کی تسلی کروائ۔
پوری تسلی کرکے اس نے فون بند کيا۔
اور ساتھ ہی کہيں اور فون گھمايا۔
“ہيلو۔۔ ہاں بھئ آج رات کا کيا پلين ہے۔” دوسری جانب کی گفتگو سننے کے بعد اس نے ايک ٹھنڈی سانس بھری۔
“ارے يار بڑے دنوں بعد تو اس ذہنی پريشانی سے آزادی ملی ہے۔ بس مجھے بتا دو۔ کتنے پيسوں کا جوا رکھا ہے ميں ليتا آؤں گا” چہکتی آواز ميں اس نے پوچھا۔
“چلو ٹھيک ہے۔ ميں نکلتا ہوں پھر” فون بند کرکے وہ اپنے چند دوستوں کے ساتھ جوا کھيلنے نکل پڑا۔
___________________________