Dharkanon Ka Ameen – Episode 9 | Complete Urdu Story

490

رات کے پہر اس سنسان سڑک سے دھول اڑاتی گاڑی اپنی منزل کی جانب گامزن تھی۔
يکدم گاڑی ہچکولے کھا کر رک گئ۔ انہيں اميد تھی کہ کچھ نہ کچھ تو ہوگا ہی۔
ڈرائيور نے گاڑی فورا روکی۔
جھاڑيوں کے چاروں اور سے سياہ لبادے ميں لپٹے بہت سے لوگ ان کی لينڈ کروزر کا گھيراؤ کئے کھڑے تھے۔
کالے شيشوں والی اس لينڈ کروزر کے اندر کون تھا۔ وہ ديکھنے سے قاصر تھے۔بندوقوں کی نالوں کا رخ ہر جانب سے گاڑی کی جانب تھا۔
پچھلی سيٹ کا شیشہ بے حد آہستگی سے نيچے ہوا۔
“کون ہو تم لوگ۔۔ باہر نکلو” سياہ لبادوں ميں موجود ايک شخض شيشے کے قريب آکر رعب دار انداز ميں بولا۔ سب کے چہرے نقاب ميں پوشيدہ تھا۔
گاڑی کی کھڑکی کے قريب موجود چہرہ اس شخص کو کچھ جانا پہچانا لگا۔
“ابے تيرا باپ ہوں ميں۔۔ يہ بندوقيں نيچے کرو۔۔ اور تيتر بتر ہو جاؤ يہاں سے” گاڑی ميں سے آنے والی رعب دار اور کڑک آواز نے ان سب کو لمحہ بھر کو گنگ کيا۔
“ک۔۔کک۔ کون؟” جو شخص باہر نکلنے کا رعب جھاڑ رہا تھا۔ آواز سن کر وہ گھبرايا۔
“تمہارا باپ۔۔ شہنشاہ۔۔ حرامو اب تم لوگوں کو تعارف کروانا پڑے گا” وہ دانت پيس کر بولا۔
“مم۔۔ معاف کرديں۔ حضور ۔۔ اوو۔۔ سب بندوقيں نيچے کرو” اس نے فورا گھگھياتے ہوۓ اپنے ساتھيوں کو آواز لگائ۔ بدمعاشوں کے سردار سے وہ کيونکر پنگا لے سکتے تھے۔
اب تک صرف اس کا نام سن رکھا تھا۔ اور نام ہی کافی تھا۔
“معافی سرکار” يکدم وہ ہاتھ جوڑے اس سے معافی مانگنے لگا۔
“اپنے دماغ ميں بٹھا لو۔ ايسے خطرناک راستے جن کا لوگ صرف تصور کرتے ہيں۔ شہنشاہ کی اصل گزرگاہ ہی يہی راستے ہوتے ہيں۔ کسی اور مائ کے لعل کی ہمت نہيں ہوتی ايسے راستوں سے گزرنے کی۔ آئندہ احتياط کرنا” اسے تنبيہہ کرتے اس نے گاڑی کا شيشہ دوبارہ چڑھايا۔اور يہ جا وہ جا۔
وہ سب ابھی تک پيچھے کھڑے کانپ رہے تھے۔ سب جانتے تھے اس سے دشمنی مول لينے والا کہاں جاتا ہے کوئ نہيں جانتا۔
____________________

رات ہو چکی تھی مگر شہنشاہ کا کوئ اتا پتہ نہيں تھا۔ يماما نے شکر ہی ادا کيا۔
يہاں رہ کر بھی اس نے کون سے جھنڈے گاڑھ دينے تھے سوائے اس کا خون جلانے کے۔ مگر وہ حيرت زدہ تھی کہ آخر وہ اس کے بارے ميں اتنی معلومات کيسے رکھتا تھا۔
اس پر دو حرف بھيجتی وہ قميض کی آستين ميں چھپے موبائل کی جانب متوجہ ہوئ۔
اس لڑکی کے مطابق اس کی ايک ايک حرکت کو شہنشاہ کيمرے کی آنکھ ميں ريکارڈ کررہا ہے تو کمرے ميں بھی وہ ان کيمروں اور مائيک سے محفوظ نہيں تھی۔
آخری ٹھکانہ واش روم تھا۔
وہ فورا سے پہلے واش روم کی جانب بڑھی۔
اندر آتے ہی اس نے چٹخنی چڑھائ۔ موبائل کو آستين ميں سے نکالا۔ آن کيا ہی تھا کہ نو سگنل نے منہ چڑھايا۔ يماما نے مايوسی سے موبائل کو ديکھا۔ لانے کا کوئ فائدہ نہيں ہوا تھا۔
“اگر ميرے سگنل نہيں آرہے۔ تو اس منحوس کا موبائل يہاں کيسے چلتا ہے۔” اس نے صبح کی ہی ناشتے کے دوران شہنشاہ کو موبائل پر ميسج ٹائپ کرتے ديکھا تھا۔
“جن تو ہے۔۔ کر ليا ہوگا کوئ جادو ٹونہ” وہ غصے سے سر جھٹک کر رہ گئ۔ دل ہی دل ميں شہنشاہ کو ہزاروں صلواتيں سنائيں۔
“اب پھر سے اس کے رحم و کرم پہ۔” اس نے سر اٹھا کر بے بسی سے اردگرد کو ديکھا۔
اور مايوس ہوتی باہر آگئ۔
__________________
اس فارم ہاؤس سے کچھ ہی دور جھاڑيوں ميں انہوں نے اپنی گاڑی روکی۔
يہاں سے آگے کا راستہ انہيں بے حد خاموشی سے طے کرنا تھا۔ اور گاڑی کی آواز يقينا اندر موجود لوگوں کو چوکنا کر سکتی تھی۔
يکے بعد ديگرے گاڑی سے گيارہ بندے نکلے۔
“ميں فرنٹ پر رہوں گا” نائل نے اترتے ہی کہا۔
“نہيں نائل۔۔ تم تين بندوں کے بعد آؤ گے” ذيشان نے فورا اسکی بات مسترد کی۔
“ميں يہاں صرف اپنا فرض ادا کرنے نہيں آيا۔ ان لوگوں کی طرف ميرا بہت حساب نکلتا ہے اور يہ حساب مجھے مجبور کرتا ہے کہ ميں ان پر ہاتھ ڈالنے والا پہلا بندہ ہوں”اس کے لہجے ميں چھپے درد سے وہ سب آشنا تھے۔
“مگر ہم چاہتے ہيں تم ان سے بدلہ لينے تک زندہ رہو۔ اور ہم جس فيلڈ سے ہيں وہاں زندگی سے پہلے موت کھڑی ہوتی ہے” سعد نے بھی آگے بڑھ کر ذيشان کی تائيد کرتے نائل کو روکا۔
ان سب کی اپنے ساتھ وفاداری، خلوص اور محبت سے تو وہ کبھی انکار نہيں کرسکتا تھا۔
لہذا اب کی بار وہ خاموشی سے ان کی بات مان گيا۔
اب کی بار ذيشان آگے، اس کے پيچھے سعد اور پھر نائل اور اس کے پيچھے باقی کی ٹيم موجود تھی۔
وہ سب سياہ نقاب ميں موجود تھے۔ صرف آنکھيں اور ناک نقاب سے باہر تھے۔ باقی کا چہرہ نقاب ميں ڈھکا ہوا تھا۔
سب کے کانوں ميں ائير فون موجود تھے۔
ہاتھ ميں بندھی گھڑياں معمولی نوعيت کی نہيں تھيں۔ سب کے پاس اس گھڑی ميں نقشہ موجود تھا اور اپنا ٹارگٹ سرخ نقطوں کی صورت انہيں بآسانی نظر آرہا تھا۔
ہاتھوں ميں ڈاٹ گنز تھيں۔
“خيال رہے کہ کسی بھی صورت ميں ان دونوں بندوں کو ہم نے زندہ پکڑنا ہے۔” نائل نے مائيکرو فون پر ايک بار پھر سے سب کو ہدايت دی۔
“کنسيڈر اٹ ڈن” سب نے يک زبان کہا۔
ان کے پيروں ميں چمڑے کے ايسے جوتے تھے جو ذرا سی آواز تک پیدا نہيں کرتے تھے۔
کچھ دور مسلسل ايک لائن کی صورت ميں جھاڑيون کے درميان سے بھاگتے بھاگتے وہ سب اب فارم ہاؤس کے قريب پہنچ چکے تھے۔
فارم ہاؤس کے اردگرد کھڑے مسلح پہرہ داروں کو سب سے پہلے انہوں نے ہٹانا تھا۔
شير دل اور فواد دونوں سنائيپرز تھے۔
نائل نے انہيں فورا ان مخصوص جگہوں پر کھڑے ہونے کا اشارہ کيا جسے وہ پہلے سے ہی طے کر چکے تھے۔
خود وہ بے حد خاموشی سے رينگتے ہوۓ سانپ کی مانند درخت پر چڑھ چکا تھا۔
تاکہ پوری طرح ديکھ سکے کہ کون سے پہرہ دار کہاں موجود ہے۔ اپنی بائنوکيولر سے وہ سب جانب بڑے آرام سے ديکھ سکتا تھا۔
باری باری اس نے جن پہرہ داروں کی نشاندہی کی۔
شير دل اور فواد نے چن چن کر ان کا نشانہ ليا۔
اب اندر جانے کے لئے ان کا راستہ صاف تھا۔
فارم ہاؤس کی ديواريں کسی قلعے کی ديواروں سے کم نہ تھيں۔
اور اس پر ديواروں پر اس وقت کرنٹ چھوڑا ہوا تھا۔
نائل نے اس کا بھی انتظام کررکھا تھا۔
اس نے اپنی کمر پہ ايک بيگ پيک باندھ رکھا تھا۔ فورا اس ميں سے سپائيکس والے جوتے نکالے۔ وہ پہن کر دو لوہے کے نوکيلے منہ والے راڈ اپنے دونوں ہاتھوں ميں تھام کر ايک روڈ ديوار پر مارا دوسرا روڈ اس کے اوپر زيادہ فاصلے پر مارا۔ اوپر والے راڈ کو پکڑ کر نيچے والے راڈ پر پاؤں رکھا۔
پھر اسی طرح ايک اور راڈ نکال کر ايک ہاتھ سے دوسرے راڈ سے اور اوپر مارا۔ پھر دوسرے راڈ پر پاؤں رکھ کر تيسرے راڈ کو تھاما پھر چوتھا راڈ بيگ سے نکال کر اسے بھی اسی طرح ديوار کے اندر تک دھنسا ديا۔ اور يوں وہ ديوار کے اوپری حصے تک پہنچ گيا۔ وہاں پہنچ کر اس نے ايک ڈيوائس بڑی احتياط سے ربڑ کے دستانے پہن کر تار سے اس ڈيوائس کو جوڑا۔ چند سيکنڈز ميں ان تاروں ميں دوڑنے والی برقی رو جامد ہو چکی تھی۔
“اوپر چڑھو۔” ديوار کے دوسری جانب چھلانگ لگاتے ہوۓ اس نے باقيوں کو بھی آنے کا سگنل ديا۔
سبھی اس کی تقليد کرتے ہوۓ ديوار پھلانگ کر فارم ہاؤس ميں داخل ہوچکے تھے۔
ذيشان پھر سے آگے تھا۔
وہ سب پورے فارم ہاؤس ميں بکھر چکے تھے۔
سوئمنگ پول کے پاس ان کا ٹارگٹ موجود تھا۔
چند لوگ رہائشی حصے کی جانب بڑھ چکے تھے۔
جبکہ نائل، سعد اور ذيشان تينوں تيزی سے سوئمنگ پول والے حصے کی جانب بے آواز قدموں سے بڑھ رہے تھے۔
پول کے نزديک آتے ہی وہ تينوں پلر کی اوٹ ميں ہوچکے تھے جہاں سے وہ بڑی آسانی سے ان چاروں کو ديکھ سکتے تھے۔
ان ميں سے دو غير ملکی آدمی تھے۔ باقی دو ميں سے ايک وہاج کا بيٹا اور ايک وہاج کا وہی بندہ تھا جس نے آج رات ان دہشت گردوں کو بارڈر پار پہنچانا تھا۔
نائل نے اپنی ڈاٹ گن کو ٹارگٹ پر رکھا۔
“ويٹ نائل ميں اس والے پلر کی اوٹ مين ہوتا ہوں پھر تم نشانہ لو۔ ميں وہاں سے دوسرے کا لوں گا۔ تاکہ انہيں بھاگنے کا موقع نہ ملے۔ اور نہ ہی وہ سمجھ سکيں کہ يہ نشانے کہاں کہاں سے لئے جارہے ہيں” ذيشان نے ٹريگر دبانے سے پہلے نائل کو روکا۔
“اوکے۔ اور سعد جيسے ہی ذيشان بھی نشانہ لے۔ تم نے فورا سے پہلے بھاگ کر تيسرے پلر کی جانب جانا ہے۔ اور ان کے سامنے سے بھاگتے ہوۓ جانا ہے۔ اتنی ہی دير ميں ميں گن سے فائر کرون گا۔
تاکہ وہ اور بوکھلا جائيں۔” نائل کے کہنے پر اب سعد کو اپنی ٹائمنگ اسی حساب سے سيٹ کرنی تھيں۔
سب سے پہلے نائل نے ايک غير ملکی کی گردن کا نشانہ ليا۔
يکدم وہ نيچے گرا۔ وہاج کا بيٹا اور اس کا وہ ساتھی جس نے غير ملکيوں کو لے کر جانا تھا وہ يکدم بوکھلا کر اس پر جھکے۔
اسی اثناء ميں ذيشان نے دوسرے کا نشانہ ليا اور وہ بھی گر پڑا۔
“يہ ۔۔۔يہ کيا ہورہا ہے” تيمور وہاج کے چہرے پر خوف کی پرچھائياں لہرانے لگيں۔ وہ دونوں انہيں چھوڑ کر اردگرد ديکھنے لگی۔
اتنی دير ميں سعد ايک جانب سے بھاگتا ہوا پول کے لان سے ہو گزر کر تيسرے پول کی اوٹ ميں چھپ گيا۔
وہ دونوں اور بھی حواس باختہ ہوگۓ۔
“يہ يہ۔۔۔ کون ہے۔۔” ان دونوں کا ہاتھ فورا اپنی اپنی پاکٹس ميں موجود گن کی جانب بڑھا۔
“شرفو۔۔ وحيد۔۔۔کہاں مر گۓ ہو سارے” تيمور يکدم چلا کر اپنے ملازموں کو آوازيں دينے لگا۔
“سمجھو سب مر ہی گۓ ہيں” يکدم نائل پلر کی اوٹ سے نکل کر گن کا رخ ان دونوں کی جانب کئے باہر نکلا۔
اس کے پيچھے پيچھے ذيشان اور سعد بھی اسی انداز ميں گنز ان کی جانب تانے باہر آۓ۔
“ک۔۔ ککک۔ کون ہو تم لوگ” وہ دونوں ہکلاۓ۔ گنز نکال چکے تھے۔
“تمہارے باپ کے بھی باپ۔۔۔ گنز پھينکو” نائل نے کڑک آواز ميں کہا۔
“تت۔۔ تم اندر کيسے آگۓ” وہ پھر سے حيران پريشان پوچھنے لگے۔
“آسمان سے ايک پری ہميں يہاں پھينک گئ ہے۔۔” نائل نے پھر سے بيزار لہجے میں جواب ديا۔
“نمبر تھری۔۔۔۔ انکی تلاشی لی” نائل نے کارڈورڈ ميں سعد کو اشارہ کيا۔
سعد نے آگے بڑھ کر ان دونوں کی گنز قابو ميں کيں اور ساتھ ہی ساتھ تلاشی لينے لگا۔
اتنی دیر ميں اندر جتنے ملازم تھے۔ نائل کے باقی بندے ان پر گنز تانے انہيں لئے باہر آچکے تھے۔
تيمور کی جيب سے ميری جوائنا کے بہت سے پيکٹس نکلے۔
“سر يہ ہے” نائل نے ايک نظر ان پيکٹس کو ديکھا۔
اور آگے بڑھ کر ايک زوردار بٹ اسکے سر پر رسيد کيا وہ درد سے بلبلا اٹھا۔
“اٹھاؤ ان سب کو۔۔” وہ غصے سے بولا۔
“ان دونوں کو کيوں لے کر جانا ہے؟”ذيشان نے آہستہ سے نائل کے کان ميں کہا۔
“يہ پلين ميں شامل نہيں تھا” وہ پھر سے اسے باور کروانے لگا۔
“مگر اب پلين ميں شامل ہوگيا ہے” نائل نے يقينا کچھ سوچ رکھا تھا۔
اب کی بار ذيشان خاموش ہوگيا۔
اس کے باقی ملازموں کو باندھ کر ۔
تيمور اور وہاج کے بندوں کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر وہ ان غير ملکيوں کے ساتھ ساتھ انہيں بھی اپنے سيل ميں لے آئۓ
_________________________
اگلے دن صبح ہی فاران ليب ميں پہنچ چکا تھا۔
“کيا رپورٹس آئ ہيں؟” ليب اسسٹنٹ کے سر پر کھڑا وہ بے چينی سے پوچھ رہا تھا۔
“يار کچھ فنگر پرنٹس تو بالکل سيم ہيں۔ الماری پر لگے ہاتھوں کے فنگر پرنٹس۔ دروازے کے لاک پر لگے فنگر پرنٹس۔ اور بھی بہت سی جگہوں کے۔۔۔جبکہ الماری پر ايک اور طرح کے فنگر پرنٹس بھی ملے ہيں۔ جو باقی جگہوں پر لگے فنگر پرنٹس سے مختلف ہيں۔ اور اس دن گاڑی کے دروازے اور اسٹيرنگ پر لگے فنگر پرنٹسس بھی دوسری قسم کے فنگر پرنٹس کی ڈٹو کاپی ہيں۔ جس کا مطلب ہے۔ ايک رات پہلے يماما کے فليٹ پر اس کے علاوہ کوئ اور بھی تھا۔ اور اگلے دن بھی اسکی گاڑی کسی اور نے ڈرائيو کی ہے۔ اور اگلے دن اس گاڑی ميں يماما کے فنگر پرنٹس تھے ہی نہيں” وہاں ايک تفتيشی آفسر بھی موجود تھا۔ اور وہ فنگر پرنٹس کو پہلے ہی ليب آپريٹر سے ڈسکس کرچکا تھا۔
يہ سب انکشاف سن کر فاران کی تو ہوائياں اڑ گئيں۔
“مگر جو لڑکی۔۔۔مطلب۔۔ اس ڈيڈ باڈی نے يماما کے ہی ائیر رنگز پہن رکھے تھے۔ اور تو اور اس کی گردن پر بھی يماما کے جيسا جھلسنے کا نشان موجود تھا۔ جو کہ بہت سالوں سے اسکی گردن پر موجود تھا۔ اور اس کے بعد ہی ميں نے چہرے کو ديکھے بنا يہ جان ليا تھا کہ يہ يماما ہی ہے۔ اس کا قد کاٹھ۔۔ جسامت ۔۔ سب۔۔۔” فاران سر پر ہاتھ پھيرے حيران پريشان اپنی کيفيت بيان کررہا تھا۔
“ہم يہ نہيں کہتے کہ وہ يماما نہيں۔ مگر يہ يقينا اس کيس کو اور مشتبہہ بنا رہا ہے۔ اور يقینا يہ قتل کا کيس ہی ہے” تفتيشی آفيسر نے اس کی بات کی تصديق کی۔
“مگر يہ سب کيا معمہ ہے؟” فاران حقيقت ميں الجھ کر رہ گيا تھا۔
“تم نے کہا کہ يماما کا سيل اور بيگ اس کے فليٹ اور گاڑی دونوں ميں نہيں۔ تو ہو سکتا ہے يہ اس قاتل کی تحويل ميں ہو۔ تمہارے پاس اس کے موبائل کا آئ ايم ای آئ نمبر موجود ہے؟” آفيسر نے اسے ايک اور رخ دکھايا۔
“ہاں۔ ہاں بالکل ہے۔” فاران نے تيزی سے اپنا موبائل نکالا۔
اس کی عادت تھی جب بھی نيا موبائل اس کے گھر والے ليتے۔ ان کا آئ ايم ای آئ نمبر کی تصوير وہ لے کر اپنے موبائل ميں محفوظ کرليتا۔ يماما کے موبائل کے آئ ايم ای آئ نمبر کی تصوير بھی اس کے موبائل ميں تھی۔
“بس پھر يہ تصوير مجھے سينڈ کرو۔ کيونکہ اس کی مدد سے موبائل آرام سے کمپنی کے ذريعے ٹريس ہوجاۓ گا۔ جيسے ہی وہ آن ہوگا۔ اور ايک اور کام کرو اسے ان بلاک کرواؤ” اس آفيسر نے ايک اور حل فوری بيان کيا۔
“ٹھيک ہے ميں ابھی اپنے دوست کو کال کرتا ہوں جس نے بلاک کيا تھا” فاران نے فورا سے پہلے کال ملائ۔
__________________________
اگلے دن صبح اسکی آواز کمرے پر ہونے والی دھڑ دھڑ سے کھلی۔ کيونکہ رات ميں وہ کمرے کی چٹخنی چڑھا چکی تھی۔ لاک ہوتا تو شہنشاہ کب کا کھول چکا ہوتا۔
اسی ڈر سے يماما نے رات ميں سونے سے پہلے دروازے پر موجود خٹخنی چڑھا دی۔
“کيا مصيبت ہے” وہ نہيں جانتی تھی کہ دوسری طرف شہنشاہ ہے۔
“دروازہ کھولو پھر بتاتا ہوں کون سی مصيبت ہے” دوسری جانب سے آنے والی شوخ آواز پر يماما کے يکدم کان کھڑے ہوۓ۔
دوپٹہ درست کرتی کھڑی ہوئ۔ آہستہ سے بڑھ کر دروازہ کھولا۔
“تم خود کسی مصيبت سے کم نہيں۔۔ آگۓ واپس۔۔ ” دروازہ کھول کر پيچھے ہٹتے اس نے طنز کيا۔
“تم ميرے ہی انتظار ميں تھيں۔۔۔افف دل خوش کر ديا شہنشاہ کا” دروازے کی چوکھٹ سے ٹيک لگاۓ اسکی گہری چمکتی آنکھيں اس لمحے کچھ اور بھی روشن لگ رہی تھيں۔
“ہاں۔۔ ميری جوتی اور زبان شدت سے تمہاری منتظر تھے” منہ بگاڑ کر بولتے۔ وہ دروازے سے ہٹ کر اندر کی جانب بڑھی۔ جانتی تھی۔ اب اندر آکر جب تک وہ اس کا دماغ نہيں کھاۓ گا اسے سکون نہيں ملے گا۔
“ارے واہ۔۔ ان دونوں کو بھی مجھ سے محبت ہو ہی گئ” وہ کہاں ہارنے والوں ميں سے تھا۔
“ہاں ہوگئ ہے۔ اسی خوشی ميں مجھے واپس چھوڑ آؤ” بيڈ پر بيٹھ کر وہ کوفت زدہ لہجے ميں بولی۔
وہ بھی اس کے سامنے موجود صوفے پر براجمان ہوچکا تھا۔
“نکلنا تو پڑے گا اب يہاں سے ۔کيونکہ جو کارنامہ تم نے کل کيا ہے اس کے بعد ميں تمہيں يہاں نہيں رکھ سکتا” اب کی بار وہ سنجيدہ لہجے ميں بولا۔
“کيا مطلب؟” وہ حیران ہوئ۔
“موبائل کہاں ہے تمہارا” شہنشاہ کے لہجے ميں سنجيدگی کے ساتھ ساتھ اب ہلکا سا غصہ بھی تھا۔
“کون سا موبائل؟” وہ بھی يماما تھا اتنی جلدی ہتھيار کيسے ڈال ديتی۔
“وہی جو کل تم نے ميرے کمرے سے چرايا ہے” شہنشاہ نے اب کی بار پورے و‌‌ثوق سے کہا۔
“پتہ نہيں کيا بکواس کررہے ہو۔۔ سٹھيا گۓ ہو” يماما نے تيوری چڑھا کر کہا۔
اب اس کے انکار کرنے پر شہنشاہ طيش کے عالم ميں اپنی نشست سے اٹھا۔ اور اس کے بيڈ کے سائيڈ ٹيبل کے دراز کو کھولا۔
“يہ موبائل نہيں تو کيا تمہارا کيلکوليٹر ہے” وہ غصے سے دھاڑا۔
“ناکارہ موبائل اب ميرے کس کام کا۔۔ نہ سگنل آتے ہيں اور نہ ہی انٹرنيٹ۔۔ ميں کيا لڈياں ڈالوں اسے لے کر” يماما اس کے غصے سے متاثر ہوۓ بنا بڑے آرام سے بولی۔
“اس سے اور بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ اور يقينا ہوچکا ہوگا” شہنشاہ نے موبائل کو آف کرتے ہوۓ۔ پاکٹ مين رکھا۔
“اٹھو۔ ہميں ابھی اوراسی وقت يہاں سے نکلنا ہے” يماما کو اٹھنے کا اشارہ کرتے ہوۓ وہ دروازے کی جانب بڑھنے لگا۔
“ميں اب يہاں سے سیدھا اپنے گھر جاؤں گی۔ سمجھے تم” وہ تڑخ کر بولی۔
“اپنے گھر بھی لے جاؤں گا۔ اتنی جلدی کيا ہے” پريشانی ميں بھی وہ شوخی سے باز نہيں آيا۔
“تمہارے گھر نہيں اپنے گھر” وہ تصحيح کرتے ہوۓ بولی۔
“ايک ہی بات ہے” وہ دروازے پر کھڑا پھر سے پہلے والی جون ميں لوٹ آيا تھا۔
“شہنشاہ ميں منہ توڑ دوں گی اب تمہارا” وہ انگلی اٹھا کر اپنے مخصوص لہجے ميں بولی۔
“زہے نصيب۔۔ پاس آکر ہی توڑو گی نا” ايک آنکھ دبا کر وہ مسکراہٹ دباۓ بولا۔
يماما نے دل ميں ہزاروں گالياں ديں۔
“تم جيسوں کے لئے ہی کسی نے کہا ہے”در فٹے منہ” يماما چبا چبا کر بولی۔ نائل کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
“اچھا چلو۔۔ اب ساری زندگی لڑنا ہی ہے تم نے ابھی نکلو” اب کی بار وہ اسکے قريب آکر بازو سے پکڑنے لگا۔
“ہاتھ مت لگانا مجھے” وہ خود کو پيچھے کرتے ہوۓ بولی۔
“تو کس زبان مين کہوں کہ چلو يہاں سے” وہ غصے سے بولا۔
“نہيں جاؤں گی” پہلی بار اس نے شہنشاہ کو اپنے سامنے بے بس ديکھا تھا۔
“يماما فضول کی ضد مت کرو چلو” اس نے ايک بار پھر ہاتھ پکڑنا چاہا۔ اب کی بار يماما نے زور سے ايک مکا اسکے سينے پر مارا۔ شہنشاہ اس کی توقع نہيں کررہا تھا۔
اب کی بار جارحانہ انداز ميں اس نے يماما کا بازو تھاما۔
“عزت سے پيش آرہا ہوں تو اسے راس آنے دو۔۔ ورنہ ميں بہت برا ہوں” اسکے چہرے کے نزديک آتے اپنی غضبناک آنکھوں کو اس کی آنکھيں ميں ڈالے ايک ايک لفظ پر زور دے کر بولا۔
يماما کا بازو تھامے غصے سے اسے اپنے ساتھ گھسيٹتا نيچے لايا۔
اس وقت شايد ان کے علاوہ وہاں اور کوئ نہيں تھا۔
اب اس کا رخ داخلی دروازے کی جانب تھا۔
وہاں سے باہر آتے ہی يماما نے ايک لمبی لوہے کی موٹی تار ديکھی۔ جس اس گھرسے منسلک تھی۔ اس کا ايک سرا اس کاٹيج کی چھت سے جڑا تھا۔ جبکہ دوسرا حصہ نيچے گہری کھائيوں سے ہوتا ہوا۔ کسی درخت يا پہاڑ سے جڑا تھا۔
وہ سرا جو کاٹيج کی چھت سے منسلک تھا۔ اس کے ساتھ بڑی بڑی تاريں اس شکل ميں جڑی تھيں۔ کہ ان کو دونوں ہاتھوں سے تھام کر جب اس رسی پر لٹکا جاۓ تو وہ آسانی سے اس موٹی تار سے پھسلتی ہوئ بندے کو نيچے پہاڑ کی جانب لے جائيں۔
يماما کو اب سمجھ آئ تھی کہ وہاں آنے اور جانے کا طريقہ کيا تھا۔
شہنشاہ تيزی سے اپنے گرد پيراشوٹ باندھ رہا تھا۔ شايد حفظ ماتقدم کے طور پر کہ اگر اس رسی سے ہاتھ چھوٹ بھی جاۓ تو پيرا شوٹ کی مدد سے جان بچائ جاسکے۔
“ہميں ابھی اور اسی وقت يہاں سے نکلنا ہے۔” شہنشاہ نے گويا اسے اطلاع دی۔
“ميں يہاں سے ہر گز ہر گز نہيں جاؤں گی” وہ جانتی تھی کہ يہاں سے جانے کا کيا طريقہ تھا۔ يعنی اب وہ يہاں سے نکلتے ہوۓ مکمل طور پر شہنشاہ کے رحم و کرم پر تھی۔ اور شہنشاہ اسے چھو لے يہ اسی کسی طور گوارا نہيں تھا۔
“مجھے تم اس کھائ ميں دھکا دے دو۔ مگر ميں اس انداز ميں تو يہاں سے بالکل نہيں نکلوں گی” شہنشاہ کو ايک مضبوط ہک سے بندھی رسی کو پکڑتے ديکھ کر وہ چلائ۔
“مجھے سمجھ نہيں آرہی تمہيں اس قلعہ مين بھی ميرے يہاں سے نکل بھاگنے يا کسے کے مجھ تک پہنچنے کا خطرہ ہے؟” اس کے انداز اب يماما کو کچھ کچھ سمجھ آرہے تھے۔
“کيا ميرے موبائل سے کوئ مجھ تک پہنچ سکتا ہے؟” وہ اب اپنے شک کو سوال ميں ڈھال رہی تھی۔
“جی ہاں۔کيونکہ دنيا کی نظر ميں تم ايک کار حادثے ميں مر چکی ہو۔ اور ميری بھيجی گئ تمہاری ڈوپليکيٹ کو مين نے ايسے شو کروايا تھا کہ يماما کو اسکے دشمن اب تک مار چکے ہيں۔ اب تمہاری کل والی حماقت کی وجہ سے سب سے پہلے تمہارا عاشق حرکت ميں آکر تمہاری آئ ايم ای آئ نمبر سے اس جگہ کو ٹريس کروا چکا ہے۔ اب اگر مين اس موبائل کو يہاں پھينک کر ضائع کر بھی دون۔ جو کہ ميں کرنے لگا ہوں۔ تب بھی وہ اس جگہ کی نشاندہی کر چکے ہيں۔ اور تمہيں تمہارے دشمنوں سے محفوظ رکھنے کا جو کھيل ميں نے کھيلا تھا وہ تمہاری ہوشياری اور تمہارے اس فاران کی وجہ سے خاک ميں ملنے والا ہے۔ لہذا مجھے تمہيں يہاں سے ہر صورت نکالنا ہے” شہنشاہ کے انکشاف اسے گنگ کرگۓ۔
“ميں۔۔۔ ميں مر گئ ہوں” وہ ابھی تک اسی بات ميں اٹکی ہوئ تھی۔
“ہاں۔۔ مگر ميری حور پری بن کر زندہ ہو” شہنشاہ شوخ لہجے ميں بولا۔
“مگر ميرے دشمنوں سے تمہارا کيا واسطہ” وہ اچنبھے سے بولی۔
“تمہيں کيا اپنی کک بنانے کے لئے اتنے پاپڑ بيل کر لايا ہوں ميری رانی” شہنشاہ کا دل کيا اپنا سر پيٹ لے۔
“تم سے واسطہ تو تمہارے دشمنوں سے تم سے زيادہ اب ميرا واسطہ ہے۔ باقی باتيں گاڑی ميں بيٹھ کر ابھی نکلو۔ تم نے مجھے مضبوطی سے پکڑنا ہے باقی نيچے جانے کا کام ميرا” شہنشاہ اب اسکی جانب ايک بيلٹ لئے بڑھا۔ جو اسکی کمر پر باندھنے کے بعد اسے خود سے لگا کر اس نے اس بيلٹ کا ايک حصہ اپنی کمر پر باندھنا تھا تاکہ يماما محفوظ ہوجاۓ اور پھر يوں اسے اپنے ساتھ لگاۓ۔ وہ ہک سے لپٹی رسی کو تھامے پہاڑ سے نيچے اس موٹی تار کی مدد سے اتريں گے۔
“تم پاگل تو نہيں ہوگۓ۔ ميں ہر گز يہ سب نہيں کروں گی۔ تم ہو ہی کون ميرے۔۔ ” وہ اس کے ارادے جان کر بھنائ۔ طريقہ تو وہ سمجھ ہی گئ تھی۔
“يماما ضد مت کرو اس وقت” شہنشاہ اب کی بار بگڑا۔
“نہيں۔۔ ہر گز نہيں۔۔ ميں تمہارے ساتھ يوں۔۔۔ کبھی بھی نہيں مر کر بھی نہيں” يماما پيچھے کی جانب ہوتے مسلسل نفی ميں سر ہلانے لگی۔
“شہنشاہ کے ساتھ نہيں جاؤ گی۔۔ نائل کے ساتھ تو جاؤ گی” اب کی بار شہنشاہ نے نرم لہجے ميں پوچھا۔
اور يہ پوچھنا ہی يماما کے اعصاب پر دھماکا کر گيا۔
“کک۔۔ کيا کہہ رہے ہو تم۔۔ کون ہو تم۔۔۔ تم ۔۔ تم نائل کو کيسے جانتے ہو۔۔” يماما پھٹی پھٹی آنکھوں سے وحشت زدہ سی اسے ديکھ رہی تھی۔
شہنشاہ نے گہری سانس خارج کرکے ايک فيصلہ کيا۔ اپنی شرٹ کے اوپری دو بٹن کھولے۔
يماما خاموشی سے لب سئے اس کی ايک ايک حرکت کو ديکھ رہی تھی۔
شہنشاہ نے اپنی گردن پر ہاتھ رکھ کر انگلی سے کچھ کھرچا۔ اسکی جلد وہاں سے اکھڑ گئ۔ تين انگليوں ميں اپنی جلد کا وہ اکھڑا حصہ پکڑکر اسے اوپر کی جانب کرتے کھينچ کر اتارا وہ کوئ ماسک تھا۔
يماما نے يکدممنہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی چيخ کا گلا گھونٹا۔
کيونکہ اس ماسک کے نيچے سے ہلکی سی شيو والا کوئ اور ہی چہرہ يماما کے سامنے تھا۔
وہ لمبے بال اور گھنی داڑھی مونچھيں اس ماسک کے ساتھ اتر چکی تھيں۔ اور جو چہرہ نظر آيا وہ بے حد جانا پہچانا۔
“تمہارا خادم نائل” شہنشاہ نے سينے پر ہاتھ رکھے اسکی پھٹی پھٹی حيرت زدہ نظروں ميں ديکھتے ہولے سے مسکرا کر کہا۔
__________________