Friday, May 24, 2024

Dil Fakhar Say Labraiz Huwa | Teen Auratien Teen Kahaniyan

بچپن سے ہی فوجی جوان مجھے اچھے لگتے تھے۔ باوقار وردی میں، باوقار انداز سے چلتے ہوئے جی چاہتا تھا کہ اپنے وطن کے ان محافظوں کو سلیوٹ کروں۔ جوں جوں شعور آتا گیا۔ یہ پسندیدگی بڑھتی گئی۔ اب یہی خواہش دل میں کروٹیں لینے لگی۔ اے کاش میرا جیون ساتھی بھی کوئی وردی والا ہو۔ جس کے ساتھ فخر سے چلوں اور میری سہیلیاں مجھے رشک بھری نگاہوں سے دیکھیں۔
سوچوں کی دنیا سے نکل کر میں خوابوں کی دنیا میں آ گئی۔ اب میں اٹھارہ برس کی تھی۔ بی اے پاس کر لیا تھا۔ گھر میں میرے لیے رشتے کی تلاش اور شادی کی باتیں ہونے لگیں۔ میں امی سے کہتی مجھے فوجی لوگ پسند ہیں۔ ان کی زندگی میں کتنا سکون اور کتنا ڈسپلن ہوتا ہے۔ ماں سمجھ چکی تھی کہ میں ایسا کیوں کہتی ہوں۔ وہ میرے لیے کسی فوجی جوان کے رشتے کی خاطر دعا گو رہنے لگیں۔
ماں کی دعائیں رنگ لائیں۔ میں جس کا انتظار کر رہی تھی اس کا پیغام آ گیا۔ امی جان کو ان کی ایک سہیلی نے اپنے فوجی آفیسر بھتیجے کا رشتہ بتایا۔ والدہ ان کا گھر دیکھنے آنٹی صدف کے ہمراہ گئیں، واپس آئیں تو بہت خوش تھیں۔ انہیں ان کی منشا کا داماد مل گیا تھا۔ فوراً ہاں کہہ دی اور ان لوگوں کی دعوت بھی کر دی۔ فہد ہمارے گھر اپنی والدہ کے ہمراہ آیا تھا۔ میں نے ایک نظر اسے دیکھا اور اس نے مجھے۔ وہ سجیلا میری روح میں پہلی ہی نظر میں سما گیا۔ ایسے ہی کسی فوجی آفیسر کو میں اپنا شریک زندگی دیکھنے کی آرزو مند تھی۔ وہ دن بھی آ گیا کہ تصورات میں جس کا انتظار کرتی تھی وہ شہزادہ حقیقت کا روپ دھار کر مجھے لینے آپہنچا اور میں باعزت طریقے سے بابل کے گھر سے رخصت ہو کر ہمیشہ کے لیے اس کی ہو گئی۔ فہد کا گھر میرے لیے جنت جیسا تھا، میں خوشیوں کے ہنڈولے میں جھولنے لگی۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے یوں گھل مل گئے جیسے جنم جنم کے ساتھی ہوں۔ ان دنوں زندگی کتنی خوبصورت لگتی تھی۔
فہد دفتر سے آتے تو مجھے دیکھ کر ان کے چہرے پر محبت بھری مسکراہٹ بکھر جاتی۔ کہتے سلطانہ۔ اگر تم مجھے نہ ملتیں تو…تو کوئی اور مل جاتی۔ کسی نہ کسی کو تو آپ کی شریکِ حیات ہونا تھا۔ مگر تمہاری بات اور ہے، تم اگر نہ ملتیں تو…میں درمیان میں بول پڑتی۔ تو کچھ بھی نہ ہوتا۔ ہاں کچھ بھی نہ ہوتا مگر میں ادھورا رہ جاتا۔ تمہیں پاکر میری زندگی کی خوشیاں مکمل ہو گئی ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ تم مل گئی ہو۔ وہ اللہ کے حضور شکر ادا کرتے اور میں فخر سے مسکرا دیتی۔
ان دنوں فہد کی پوسٹنگ شمالی علاقہ جات میں تھی۔ اپنے وطن میں بکھرے خالق لازوال کے حسن کی روشنی دلوں میں بھر کے جب ہم واپس آتے تو گھر چاہتوں کا منتظر لگتا تھا۔ میں اپنے شوہر کی رفاقت میں بہت خوش تھی۔
ایک رات جب میں بے خبر سو رہی تھی کہ فہد نے مجھے جگایا اور کہا۔ سلطانہ اٹھو۔ فون آیا ہے۔ میں ابھی جا رہا ہوں۔ وہ تیز تیز بول رہے تھے جیسے بہت جلدی میں ہوں اور ان کے پاس مجھ سے بات کرنے کا بھی وقت نہ ہو۔ میں ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی۔ وہ چند لمحوں میں تیار ہو گئے۔ اس وقت اتنی جلدی میں کہاں جا رہے ہیں۔ ڈیوٹی پر۔ میں نے آنکھیں ملتے ہوئے سوال کیا۔ ڈیوٹی پر؟ وہ بولے۔ ہاں بھئی ڈیوٹی پر… کسی بھی وقت جانا ہو سکتا ہے۔ گھبرانا نہیں بس دعا کرنا۔ ہم جلد ملیں گے۔ وہ تیزی سے بیرونی دروازے سے نکل گئے۔ میں گھبرا کر ان کے پیچھے لپکی تھی مگر ان کی آواز آئی دروازہ بند کر لو۔ میں نے کھڑکی کا پردہ ہٹا کر دیکھا۔ وہ گاڑی میں بیٹھ چکے تھے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے جیپ نظروں سے اوجھل ہو گئی، کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ میں کافی دیر تک یونہی ساکت بیٹھی رہی۔ رفتہ رفتہ پھر سب کچھ سمجھ میں آنے لگا۔ جنگ ستمبر کا آغاز ہو چکا تھا۔ پڑوسی ملک نے حملہ کر دیا تھا اور وہ دوسرے بہت سے جانبازوں کے ہمراہ محاذ پر چلے گئے تھے۔ وقت کانٹوں پر بسر ہونے لگا۔ دن تھا کہ گزرتا ہی نہ تھا۔ ہول ناک تاریک اور بھیانک خاموشی سے بھری راتیں بڑی مشکل سے گزرتی تھیں۔ ہر وقت وطن عزیز کی سلامتی اور فہد کے لیے فتح و نصرت کی دعائیں کرتی رہتی تھی۔ سب کچھ ٹھہرا ٹھہرا سا لگنے لگا تھا۔ نبض تھم تھم کر چلتی اور کبھی تیز۔ دل دھڑکنے لگتا۔ وقت بھی اسی طرح کبھی تھم جاتا تو کبھی گردش تیز محسوس ہوتی تھی۔ سارا دن ریڈیو پر خبریں سنتے بیت جاتا تھا۔
تھما ہوا وقت چلنے لگا۔ جنگ بھی تھم گئی۔ مگر ایک روز جب فہد کو دیکھنے اسپتال لے جایا گیا تو وہ بستر پر لیٹے تھے اور چہرہ زرد تھا۔ سراپے پر سینے تک چادر پڑی تھی۔ انہوں نے بڑے حوصلے سے مسکرا کر دیکھا اور کہا۔ سلطانہ ہمت مت ہارنا۔ شکر کرو وطن عزیز سلامت ہے اور مجھے بھی تم سلامت دیکھ رہی ہو۔ شہید ہو جاتا تو رتبہ پا لیتا لیکن زندگی بھی نعمت ہے اس کا بھی شکر ادا کرنا چاہیے۔ میں گھر جا کر سجدہ ریز ہو گئی کہ میرے ہونے والے بچے کا باپ سلامت تھا۔ جبکہ اس جنگ کے الائو میں کتنے ہی جانثار دیوانہ وار قربان ہو گئے تھے۔ کاش میری زندگی بھی وطن کے کام آسکتی، ان دنوں میں ایسا سوچنے لگی تھی۔ فہد گھر آئے مگر وہ صحیح سلامت نہیں رہے تھے۔ ان کی ایک ٹانگ ضائع ہو گئی تھی۔ وہ بیساکھی کے سہارے آئے تھے۔ میں نے شکر کیا تھا لیکن ان کو اس حال میں دیکھ کر بے اختیار آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔ جنہیں جلدی سے اپنے آنچل میں جذب کر لیا تھا، کہیں وہ ناراض نہ ہوں۔
دن گزرتے گئے اور ایک روز میں ایک بیٹے کی ماں بن گئی۔ جب بیٹے کو دیکھنے فہد بیساکھی کے سہارے اسپتال آئے تو وفورِجذبات سے ان کا چہرہ سرخ تھا اور میں بھی ضبط نہ کر سکی۔ ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔ مدت سے رُکا ہوا سیلاب آنکھوں سے بہہ نکلا۔ بیٹے کی پیدائش کی خوشی ہوتی ہے۔ اس خوشی کے دن روتے نہیں۔ انہوں نے سمجھایا۔ حیات لافانی نہیں اور میں شہید بھی نہیں۔ جبکہ شہید تو حیات جاودانی پا لیتے ہیں۔ انہوں نے میرے آنسو پونچھ دیئے۔ دیکھو اللہ نے مجھے زندہ رکھا ہے۔ یہ اس کی مصلحت ہے کہ میں اپنے بیٹے کو دیکھنے کے لیے موجود ہوں، تم پھر کس لیے رو رہی ہو۔ انہوں نے پیار سے میرا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں لیا تو مجھے لگا جیسے میرے زخموں پر مرہم رکھ دیا ہو۔
وقت کا پہیہ تیزی سے گھومتا گیا۔ ہمارا لختِ جگر سعد دیکھتے دیکھتے بڑا ہو گیا۔ وہ اسکول جانے لگا۔ وہی اب ہماری تمنائوں کا واحد مرکز تھا۔ اور میں جی جان سے اس کی پرورش کر رہی تھی۔ وقت نے پھر ایک نئی کروٹ لی۔ کافی دنوں سے ملک میں کشیدگی پھیلی تھی۔ ہمارے ہی ہم وطنوں نے مشرقی پاکستان میں دشمن کے بہکاوے میں آ کر بغاوت کا علَم بلند کر دیا تھا۔ کشیدگی بڑھتے بڑھتے خوفناک شکل اختیار کر گئی۔ بدترین فسادات مشرقی پاکستان میں شروع ہو گئے۔ بھائی بھائی کے خون کا پیاسا ہو گیا۔ آگ اور خون کی ہولی کھیلی جانے لگی۔ محبِ وطن اپنے وطن عزیز کو بچانے کی خاطر سر دھڑ کی بازی لگا رہے تھے۔ اور وطنِ عزیز سے وفا کی پاداش میں وہاں ان کا گھر بار لوٹا جا رہا تھا۔ ان کے گلے بیدردی سے کاٹے جارہے تھے۔ فہد کی تڑپ دیکھی نہ جاتی تھی۔ کہتے تھے بس نہیں چلتا محاذ پر چلا جائوں لیکن عملی طور پر معذور ہونے کی وجہ سے جانے سے مجبور ہوں۔ کاش میرا بیٹا جوان ہوتا تو میں اسے وطن کا جانباز سپاہی بنا کر محاذ پر بھیج دیتا۔ ان کے ایسا کہنے پر میرا دل لرزنے لگا۔ مگر میں نے حوصلے سے کہا۔ جب بڑا ہو گا تو یقیناً باپ کی طرح بہادر ہو گا اور وطن سے وفاداری میں سب سے آگے ہو گا۔ اِن شاء اللہ۔ انہوں نے مضبوط لہجے میں جواب دیا تھا۔
وطن دولخت ہو گیا اور فساد کا سیلاب بہت سی تباہی پھیلا گیا۔ فہد ان دنوں بہت افسردہ تھے۔ ان کو وطن کے ٹکڑوں میں بٹ جانے کا دکھ تھا۔ وقت کی اپنی چال ہے وہ اپنے انداز سے چلتا ہے اور تاریخ ساز فیصلے کرتا جاتا ہے۔ اس المیے سے رفتہ رفتہ ہر کسی نے سمجھوتہ کر لیا۔ اور باقی ماندہ ملک میں پھیلی شورشوں کی طرف جانبازوں کی توجہ مبذول ہو گئی۔
سعد اب ایف ایس سی کر چکا تھا اور ہم اسی سوچ بچار میں تھے کہ اس کے کیریئر کا کیا فیصلہ کریں، اس کا مستقبل بنانے کا جتن کرنا تھا۔ اس کے لیے محنت کرنی تھی۔ فہد کا تو واضح فیصلہ تھا کہ سعد کو فوجی افسر بننا ہے۔ وہ اسی انتظار میں تھے کہ انٹرویو کے لیے کال آ جائے تو بیٹے کو بھیج دیں۔ لیکن میرا دل ڈر رہا تھا۔ کال آنے سے چند دن پہلے فہد کو بخار آیا، انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا مگر معمولی بخار جان لیوا ثابت ہوا۔ شاید وہ اپنے حصے کی زندگی گزار چکے تھے اور ان کے دن پورے ہو چکے تھے۔
وہ جری اور بہادر وطن کا سپاہی جو ہولناک جنگ کی ہولناکی سےبچ گیا تھا۔ اسپتال کے بستر پر موت اس کے ساتھ ہاتھ ملانے آ گئی اور وہ اپنے خالق حقیقی کے پاس چلا گیا۔ ان کی وفات کا یقین نہ آتا تھا لیکن موت کی حقیقت کو کون جھٹلا سکتا ہے۔ یہ خود اپنے آپ کو منوا لیتی ہے۔ انہوں نے ہمیشہ رونے سے منع کیا تھا۔ آج بھی جبکہ ان کا جسد خاکی اٹھایا جا رہا تھا میں ضبط کئے بیٹھی تھی۔ جبکہ سارا وجود بین کر رہا تھا۔ دل رو رو کر نڈھال تھا اور سعد بھی صبر کا پُتلا مجھے آنسو پونچھ لینے کی تلقین کر رہا تھا۔ کہتا تھا ماں آپ بہادر ہیں۔ مجھے بہادر بنانا چاہتی ہیں تو روئیں نہیں۔
فہد چلے گئے، میں روتی تھی مگر تنہائی میں سب سے چھپ کر، بھلا میں اپنے پیارے جیون ساتھی کو کیسے بھول سکتی تھی، ان کی ہر بات مجھے یاد تھی، ان کے لبوں سے نکلا ہوا ایک ایک جملہ اَزبر تھا۔ پھر وہ لمحہ آیا جب مجھے اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ کرنا تھا۔ سعد کی انٹرویو کی کال آگئی تھی۔ وہ آرمی جوائن کرنا چاہتا تھا اور مجھ سے اجازت مانگ رہا تھا۔ اپنے ابو کا خواب پورا کرنا چاہتا تھا جو اسے ایک فوجی آفیسر بنا ہوا دیکھنا چاہتے تھے۔ پہلے سوچا کہ منع کردوں کہ تم میرے اکلوتے بیٹے ہو، میرا سب کچھ تم ہی ہو، لیکن پھر سوچا کہ بیٹے تو اللہ کا مال ہوتے ہیں۔ اولاد وہی دیتا ہے اور وہی اس کی حفاظت کرتا ہے۔ اللہ میرے بچے کی حفاطت کرنے والا ہے۔ مجھے فہد کی خواہش کا احترام کرنا چاہیے اور میں نے سعد کو آرمی جوائن کرنے کی اجازت دے دی۔ وہ خوش خوش چلا گیا اور انٹرویو میں کامیاب ہوکر آرمی اکیڈمی میں چلا گیا۔ جہاں سے چار سال کی ٹریننگ کے بعد کامیاب ہو گیا۔ پاسنگ آئوٹ پریڈ پر جب وہ دوسرے جوانوں کے ساتھ سینہ تان کر پریڈ کرتا ہوا میرے سامنے سے گزرا تو میرا دل فخر کے جذبات سے لبریز ہو گیا۔ کتنی خوش تھی میں اس دن بتا نہیں سکتی، بیٹے کی کامیابی پر خوشی سے میری آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔
آج اس واقعہ کو مدت گزر چکی ہے اور سعد اپنے فرائض منصبی ادا کرنے کے بعد ملازمت کی مدت پوری کرچکا ہے۔ وہ اب ریٹائر ہو چکا ہے اور سکون کی زندگی بسر کر رہا ہے، تاہم اس نے اپنا فیصلہ مجھے سنا دیا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو فوجی افسر بنائے گا۔ سعد کہتا ہے۔ ماں وطن ہے تو ہم ہیں اگر ہم اپنے وطن کی حفاظت نہیں کریں گے۔ ہم ارض پاک سے وفاداری نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا۔ اس لیےمائوں کو دل بڑا کرنا چاہیے کیونکہ ہمارا ایمان ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جو زندگی کا مالک ہے۔ وہی عزت کے ساتھ زندگی دیتا ہے اور اس کی حفاظت بھی اسی کا کام ہے۔ میری تمام زندگی سعد کے لیے دعائیں کرتے گزری ہے۔ اللہ میرے بیٹے جیسے باحوصلہ اور لائق بیٹے ہر ماں کو دے۔ اللہ سبھی مائوں کے بیٹے سلامت اور ممتا کو ٹھنڈا رکھے۔
(مسز ۔ف ۔م …راولپنڈی)

Latest Posts

Related POSTS