Dil Huwa Tukrey Tukrey | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1873
میں 14 برس کی تھی، جب مجھے احساس ہوا کہ ہمارے گھر کے ماحول میں تبدیلی آچکی ہے۔ قبل ازیں ہمارے گھر کا ماحول نہایت صاف ستھرا اور پاکیزہ تھا۔ امی جان بھی ایک دیندار اور مثالی عورت تھیں، تبھی گھر میں سکون تھا، برکت تھی اور والد صاحب کی محبت و شفقت کے زیر سایہ بہت خوشگوار دن گزر رہے تھے۔ کسی شے کی کمی نہ تھی۔
والد صاحب ہمیں اکثر سیر و تفریح کے لئے لے جاتے، زیادہ تر وہ ہمیں اپنی اراضی پہ لے جاتے جہاں گنے کے کھیت تھے اور موسم گرما میں آموں کے باغ، بہار دیتے تھے۔ زمین اپنی تھی، اس لئے ہر شے فصل کے موسم میں منوں کے حساب سے آتی تھی۔ کھجوروں کے ٹوکرے اور کینوئوں کے بورے بہتات سے گھر کے برآمدے میں پڑے ہوتے۔ نوکر ہی نہیں، فقیر فقراء بھی پیٹ بھرکر کھاتے تھے۔
رزق کی فراوانی کے ساتھ ساتھ محبت کی بھی فراوانی تھی جو دولت مند لوگوں کے گھروں میں کم ہی ہوتی ہے۔ والد صاحب میری والدہ سے عشق کرتے تھے۔ ان کی صورت دیکھ کر جیتے تھے۔ والدہ جو بات منہ سے نکالتیں اسی وقت پوری کردیتے تھے۔
میں نے ایسا محبت کرنے والا شوہر کہیں نہیں دیکھا جیسا امی کے مقدر میں تھا اور اتنا اچھا باپ کسی کو نہیں پایا، جیسے میرے ابو تھے… والد صاحب نے امی سے پسند کی شادی کی تھی تبھی ان کے رشتے دار اس شادی میں شریک نہ ہوئے تھے۔
ابو کے رشتے دار چھ برس امی سے نہ ملے کیونکہ وہ جب شہر سے اپنے گائوں جاتے، میری ماں کو ساتھ نہیں لے جاتے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ والد صاحب نے اپنی چچا زاد منگیتر کو چھوڑ کر امی سے شادی کی تھی، تبھی دادا دادی نے حکم دے دیا تھا کہ تمہاری بیوی ہمارے گائوں نہیں آئے گی۔
جب میری والدہ تین بچوں کی ماں بن گئیں تب دادا کی وفات پر والد نے رشتے داروں کو منا لیا اور پہلی بار بیوی بچوں کو گائوں لے گئے۔ تب تک ان کی منگیتر کی بھی شادی ہوگئی تھی۔ شہر میں والد صاحب کا بزنس تھا۔ کاروبار کے سلسلے میں انہیں اکثر باہر جانا پڑتا تھا۔ میری بہن اور بھائی دونوں اسکول جاتے تھے، میں ان دنوں میٹرک کر چکی تھی جب یہ واقعہ رونما ہوا۔
سردیوں کا موسم تھا۔ دھوپ سینکنے چھت پر گئی، ذرا دیر بعد دھوپ تیز لگنے لگی تو سیڑھیوں سے آنگن میں آئی… تبھی ایک شخص کو ڈرائنگ روم میں بیٹھے دیکھا جس کے لئے امی کچن میں کچھ لینے گئی ہوئی تھیں۔
میں نے ڈرائنگ روم میں جھانکا کہ دیکھوں کون آیا ہے۔ کوئی اجنبی صورت تھی۔ پہلے کبھی اس مہمان کو نہ دیکھا تھا، یہ ابو کا رشتے دار تھا اور نہ میری ماں کا کوئی عزیز تھا۔ امی کے رشتے دار تو کبھی آتے ہی نہ تھے۔
وہ شخص مجھے شوق اور دلچسپی سے دیکھنے لگا۔ تو میں جھینپ کر پیچھے ہٹ گئی۔ مجھے اس کا یوں اشتیاق سے دیکھنا برا لگا۔ امی کچن سے نکلیں تو مجھے دیکھ کر گھبرا گئیں۔ بولیں۔ یہ میرے دور کے کزن ہیں۔ آج اچانک ملنے آگئے تم ان کی آمد کا اپنے باپ سے ذکر مت کرنا۔ وہ میرے رشتے داروں کا آنا پسند نہیں کرتے، جانتی ہو نا؟
میں اپنے کمرے کی طرف جانے لگی تو کہا… ٹھہرو۔ ان سے مل تو لو۔ مہمان کو سلام نہ کرنا بری بات ہے۔میں نے امی سے کہا۔ میں نہیں ملتی ابھی ان کو دیکھ کر آرہی ہوں۔ مجھے اچھے نہیں لگے۔ یہ کہہ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔ ماں میرا منہ تکتی رہ گئیں۔
وہ شخص تھوڑی دیر بیٹھ کر چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد میں نے محسوس کیا۔ امی جان کچھ جھینپی جھینپی سی ہیں جیسے ان کے دل میں کوئی چور ہو۔
دو چار روز گزر گئے۔ میں یہ بات بھول گئی کہ امی کا کوئی کزن ملنے آیا تھا، یہ کوئی ایسی خاص بات تھی بھی نہیں۔ رشتے دار ملنے آتے ہی ہیں۔ یہاں تک کوئی مسئلہ نہ تھا۔ مگر جب یہی شخص دو چار بار مزید آیا تو میں نے برا منایا اور امی سے سوال کیا کہ آپ کا رشتے دار سہی، لیکن یہ اس وقت آتا ہے جب ابو دوسرے شہر گئے ہوتے ہیں اور بہن بھائی اسکول میں ہوتے ہیں۔ صرف میں اور آپ گھر پر اکیلی ہوتی ہیں اور جب آپ کہتی ہیں کہ اس کے آنے کا تم کسی سے ذکر مت کرنا تو مجھے عجیب سا لگتا ہے۔ آپ مجھے مجبور کرتی ہیں کہ آئو ان سے ملو۔ ان کو سلام کرو۔ تھوڑی دیر بیٹھو بات کرلو… آخر کیوں؟
امی نے مجھے ٹالنے کی کوشش کی۔ میں نہ ٹلی تو تنگ آکر کہنے لگیں۔ یہ میرا نہیں بلکہ تمہارا رشتے دار ہے اور یہ میری خاطر نہیں بلکہ تمہاری خاطر آتا ہے۔ تم سے ملنے، تمہیں دیکھنے آتا ہے۔
اپنی نیک کردار ماں کے منہ سے ایسی باتیں سن کر پریشان ہوگئی۔ رونے لگی پہلی بار ماں کے سامنے زبان کھولی۔ امی جان، کوئی ماں ایسی بات اپنی بیٹی سے کبھی نہیں کہہ سکتی… آپ کیسی ماں ہیں۔ کیا ہوگیا ہے آپ کو؟ یاد رکھئے، اگر آئندہ یہ آدمی ہمارے گھر آیا تو میں ابو کو بتا دوں گی۔
امی میرے تیور دیکھ کر ڈر گئیں۔ کہنے لگیں۔ آج تم کو سچ بتانا ہی پڑے گا… میری بیٹی میں نیک طنیت ہوں، میں نے کوئی جرم نہیںکیا۔ یہ شخص جو یہاں آتا ہے، تمہارا سگا باپ ہے اور صرف تم سے ملنے کی تڑپ لے کر آتا ہے۔ میں نے اس کو سمجھایا اور روکا بھی کہ یہاں نہ آئے مگر اس نے میری بات کو نظرانداز کردیا۔ میں خود نہیں چاہتی کہ یہ آئے یا ہم سے کسی قسم کا رابطہ یا واسطہ رکھے۔ اگر تمہارے ابو کو پتا چل گیا تو ان کو بہت صدمہ ہوگا۔ میرا بھی انجام خراب ہوجائے گا، اسی لئے تم کو منع کیا کہ اپنے والد کو نہیں بتانا۔ میں خود اس کو آنے سے روک دوں گی۔
ماں میری نظروں میں خود کو نہ گرانا چاہتی تھیں، تبھی اپنی صفائی میں ان کو سچ اُگلنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات تمہارے والد کے رشتے داروں کو بھی معلوم نہیں ہے کہ میں درحقیقت ایک مطلقہ عورت تھی اور ایک بچی کی ماں تھی جب پہلے خاوند، اسی شخص یعنی مظہر نے مجھے طلاق دی تھی اور تم اس وقت صرف چھ ماہ کی تھیں۔ تمہاری پرورش کی خاطر مجھے ملازمت کرنا پڑی تو وہاں آفس میں تمہارے موجودہ ابو سے میری ملاقات ہوگئی، انہوں نے مجھے پسند کیا۔ شادی کی پیش کش کردی، یوں ہماری شادی ہوگئی لیکن مجھے سسرال والوں نے قبول نہ کیا بلکہ سسرال آنے کی بھی ممانعت کردی۔ ان کو تمہارے ابو نے یہی بتایا کہ انہوں نے ایک کنواری لڑکی سے شادی کی ہے۔ یہ نہیں بتایا کہ میں مطلقہ ہوں یا ایک بچی کی ماں بھی ہوں۔
تمہارے سوتیلے والد نے مجھ سے شادی کے روز وعدہ کیا تھا کہ وہ تم کو حقیقی والد کا پیار دیں گے۔ یہ شرط بھی رکھی تھی کہ میں یہ راز کبھی کسی پر آشکار نہ کروں گی کہ تم ان کی بیٹی نہیں ہو۔ اسی وجہ سے میں اپنے میکے والوں سے بھی قطع تعلق کرلیا کہیں وہ لوگ کبھی یہ راز تم پر یا تمہارے والد کے رشتہ داروں پر نہ کھول دیں۔
میرے دوسرے شوہر یعنی تمہارے ابو نے واقعی تم کو سگے باپ جیسا پیار دیا اور اپنے کسی دوست، رشتہ دار کو یہ پتا نہیں لگنے دیا کہ تم ان کی بیٹی نہیں ہو۔ وہ یہ بھی نہ چاہتے تھے کہ کوئی اس حقیقت کو جانے کہ انہوں نے ایک مطلقہ عورت سے شادی کی ہے۔ انہوں نے تمہارے نام کے ساتھ ولدیت میں اپنا نام لکھوایا۔ لوگوں سے یہی کہا کہ تم ان کی حقیقی اولاد ہو۔
امی نے مجھے یہ سب بتایا تو مجھے لگا جیسے آسمان میرے سر پر گر رہا ہو یا زمین میرے پیروں تلے سے کھسک رہی ہو۔ میں کسی بت کی مانند بیٹھی تھی تبھی ماں نے مجھے ہلاکر کہا کہ کیا ہوگیا ہے ثمن؟ تم ہوش میں تو ہو۔ اتنی سی بات پر تمہارے حواس جواب دے گئے ہیں۔
یہ اتنی سی بات ہے امی جان؟ میں رونے لگی۔ یہ بہت بڑی بات ہے قیامت آچکی ہے میرے لئے۔ وہ شخص جس سے میں والہانہ پیار کرتی ہوں جس کو اپنا حقیقی باپ جانتی ہوں، آپ نے اس ہستی کو مجھ سے چھین لیا، ایک پل میں اور آپ کو احساس بھی نہیں ہوا کہ آپ نے کتنا بڑا ظلم ڈھا دیا ہے مجھ پر… اور وہ شخص جس نے مجھے چھ ماہ کی بچی کو بھی چھوڑ دیا۔ آپ کو طلاق دے دی۔ اچانک اب آکر اسی نے میری دنیا تباہ کردی۔
مجھے اس شخص سے قطعی کوئی محبت اور لگائو محسوس نہ ہوا جو میرے حقیقی باپ ہونے کا دعویدار تھا۔
آپ اس شخص کو منع کردیں یہ اب کبھی یہاں نہ آئے۔ میں اس کی صورت نہیں دیکھنا چاہتی، عمر بھر اس سے ملنا نہیں چاہتی، میرا باپ وہی ہے جس نے آج تک مجھے بیٹی سمجھا اور سگے باپ جیسا پیار دیا۔میں اسے سمجھانے کی کوشش کررہی ہوں مگر وہ سمجھتا نہیں۔ ہربار کہتا ہے اب نہیں آئوں گا، بس آخری بار میری بیٹی کی ایک جھلک دکھا دو۔ اور… وہ پھر آجاتا ہے۔ نہ جانے پندرہ برس کے بعد اچانک اس کے دل میں بیٹی کی محبت کیسے جاگ اٹھی ہے۔ دراصل اس کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوسکی۔ کہتا ہے اگر ثمن مجھے باپ مان لے تو اپنی ساری جائداد اس کے نام کردوں گا۔
نہیں چاہیے مجھے اس شخص کی جائداد، ایک کوڑی بھی اس سے نہیں چاہیے لیکن آپ اب اسے گھر کے اندر قدم مت رکھنے دینا ورنہ میں خود اس کو اچھی طرح سمجھا دوں گی۔
ان دنوں جس کرب کا شکار تھی، میں ہی جانتی ہوں۔ ابو جان پیار سے بلاتے اور میرے دل میں ٹیس سی اٹھتی تھی۔ یہ سوچ کر کہ یہ میرے سگے ابو نہیں ہیں، مر جانے کو جی چاہتا تھا۔ بہن اور بھائی بھی غیر نظر آنے لگے تھے۔ میری ماں نے نادانی میں کتنا بڑا ظلم مجھ پر ڈھایا تھا کہ سگے اور پیارے رشتوں کو اچانک ہی سوتیلے اور کڑوے رشتوں میں تبدیل کر دیا تھا۔ میرے سکون کی نگری ہی لوٹ لی تھی اور سگے باپ ہونے کا دعویدار وہ شخص جس کا نام مظہر تھا، جی چاہتا تھا کہ اس کا گریبان پکڑ کر پوچھوں کہ تم کو کیا حق پہنچتا تھا میرے پیارکی دنیا اجاڑنے کا…
جب چھ ماہ کی تھی، مجھے چھوڑ دیا تھا، اب کیسے میری یاد آگئی… چودہ پندرہ برس کے بعد۔ کیوں آگئے یہاں؟ کیا میرا سکون لوٹنے اور میرا جیون برباد کرنے کے لئے۔ میرے پیارے رشتے تباہ کرنے کا حق تم کو کس نے دیا ہے۔ اپنے ابو کے پاس جاتی تو ٹھٹھک کر رہ جاتی۔ دل سے آواز آتی یہ تیرے سگے والد نہیں ہیں، یہ تیرے سوتیلے باپ ہیں۔ تیرا کیا حق ہے ان کو بلانے کا… پھر خیال آتا اگر تجھے حقیقت کا علم نہ تھا، ان کو تو تھا۔ کیا یہ واقعی عظیم انسان ہیں؟ یا دنیا والوں کی خاطر انہوں نے اس راز کو افشا نہ ہونے دیا؟ کتنے روح فرسا خیالات آتے تھے دل میں میرے۔
ایک روز دستک پر میں نے دروازہ کھولا۔ سامنے وہی شخص موجود تھا۔ امی اس وقت غسل خانے میں تھیں۔ اس نے کہا… بیٹی… مجھے اندر نہ لے جائو گی۔ میں تم سے ملنے آیا ہوں۔
آپ کس کی اجازت سے گھرکے اندر آتے ہیں؟ کیا میرے سوتیلے والد کی اجازت سے؟ کیونکہ یہ ان کا گھر ہے۔ آپ میرے والد ہیں یا جو بھی ہیں۔ براہ کرم ہمارے گھر تشریف نہ لایا کریں۔ کیونکہ آپ کے آنے سے ہماری اس چھوٹی سی جنت میں بھونچال آسکتا ہے۔
میں صرف تم کو ایک نظر دیکھنے کی خاطرآتا ہوں میری بچی۔ اس نے کہا… میرا یقین کرو، مجھے اور کوئی طمع نہیں ہے۔
مجھے اپنی بچی مت کہو۔ کیونکہ میں آپ کو اپنا باپ تسلیم نہیں کرتی۔ میں نے جواب دیا۔ آپ کو معلوم ہے کہ یوں چوری چھپے آنے سے اس گھر پر قیامت ٹوٹ سکتی ہے۔ یہ ہنستا بستا گھر اجڑ بھی سکتا ہے، اس شخص کی دنیا آپ کیوں ویران کرنا چاہتے ہیں جس نے مجھے پالا پوسا اور اولاد جیسا پیار دیا ہے۔ یہ اس کی عظمت ہے کہ اس نے ایسا کیا اور یہ آپ کا ظرف ہے جو آپ اس کی پیار بھری نگری میں آگ لگانے آگئے ہیں۔ میرے تلخ لہجے پر اس کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے اور وہ الٹے قدموں لوٹ گیا۔
صد شکر میرا اتنا کہنا ہی کافی ہوا۔ وہ پھر نہ آیا اور میری ماں کی دنیا اجڑنے سے بچ گئی۔ مگر میرے دل کی دنیا ویران ہوگئی اور وہ اب کبھی آباد نہ ہوسکے گی۔ کیونکہ ماں نے قسم کھا کر بتادیا تھا کہ وہ تیرا باپ تھا۔ اس کی آنکھوں میں آئے ہوئے آنسو آج بھی میرے دل میں چبھتے ہیں… سوچتی ہوں اے کاش… مظہر صاحب آپ کے دل میں میری محبت نہ جاگتی اور آپ مجھ سے ملنے کی تڑپ لے کر نہ آتے۔ اے کاش امی جان ان کو گھرکے اندر قدم رکھنے کی اجازت نہ دیتیں یا مجھے یہ نہ بتاتیں کہ میرا سگا باپ کوئی اور ہے اور جس نے مجھے پالا پوسا ہے، وہ کوئی اور ہے، محبت کے اس بٹوارے نے میرے دل کو پارہ پارہ اور شخصیت کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ہے۔ (ث … ملتان)