Is Dil Ka Kiya Kijye | Teen Auratien Teen Kahaniyan

665
میں ایسے والدین کی بیٹی تھی جن کی شرافت کی لوگ مثالیں دیا کرتے تھے۔ والد تہجد گزار اور امی پانچ وقت کی نمازی تھیں۔ ہمارے گھر کا ماحول بے حد پاکیزہ تھا۔ بڑی بہن کو والد نے گھر پر خود پڑھایا۔ آپی نے بطور پرائیویٹ طالبہ میٹرک کا امتحان دیا۔ رزلٹ آتے ہی ان کی شادی کردی گئی۔ بھائی اسکول جاتا تو میں اسے حسرت سے دیکھتی تھی۔ جی چاہتا کہ میں بھی اسکول جائوں، والد نے اجازت نہ دی۔ بولے۔ تمہاری بہن کو بھی میں نے خود پڑھایا تھا میٹرک پاس کرلیا اس نے۔ آگے اس کے خاوند کی مرضی کالج میں پڑھائے یا نہ پڑھائے۔ تمہیں شوق ہے تو مجھ سے پڑھ لو۔
باجی کا ذہن تیز تھا۔ وہ اباجی کے تھوڑے پڑھائے کو جلد سمجھ لیا کرتی تھیں لیکن میں اتنی تیز نہ تھی۔ چند دن ابو سے پڑھا وہ روز سبق دیتے۔ دوسرے دن سنتے تو یاد نہ ہوتا۔ ڈانٹ پڑتی جس سے میں بددل ہوجاتی۔
امی نے یہ صورت حال دیکھی تو کہا۔ رابعہ کے ابو یہ تم سے نہیں پڑھ سکے گی۔ اس کے لیے کسی استانی کا گھر پر انتظام کردو۔ پہلے وہ راضی نہ ہوئے، پھر اس شرط پر ہامی بھرلی کہ استانی ایسی ہونی چاہیے جو قرآن پاک بھی پڑھا سکے۔ دین اور دنیا دونوں کی تعلیم دے سکے تبھی ٹیوشن پر رکھوں گا۔
اب ایسی استانی کی تلاش شروع ہوگئی۔ بڑی تگ و دو کے بعد امی کی ایک جاننے والی کے توسط سے ایک میٹرک پاس لڑکی مل گئی جو کالج میں پڑھ رہی تھی اور ضرورت مند تھی۔ اسے اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لئے رقم کی ضرورت تھی۔ شام کو پانچ بجے سے چھ بجے تک وہ مجھے گھر پر ٹیوشن دینے آنے لگی۔
استانی مومنہ کو آئے چار ماہ ہوئے تھے کہ ایک روز والد صاحب نے اسے لاری اڈے پر کسی لڑکے ساتھ کھڑے دیکھ لیا۔ وہ ڈرائیور کے پاس گئے اور پوچھا کیا تم ان دونوں کو جانتے ہو۔
ہاں کیوں نہیں یہ اکثر یہاں آتے ہیں، لاری میں بیٹھ کر اگلے اسٹاپ پر اتر جاتے ہیں۔ وہاں سامنے کیفے ہے۔ یہ وہاں بیٹھ کر گپ شپ کرتے ہیں۔ چائے پیتے ہیں اور دوسری لاری جو یہاں آرہی ہوتی ہے اس پر سوار ہوکر واپس آجاتے ہیں۔
چھوٹے علاقے میں ایسے معاملات چھپتے نہیں۔ والد صاحب نے مزید تفتیش کی۔ جب ڈرائیور کے بیان کی تصدیق ہوگئی تو انہوں نے استانی مومنہ کو ہٹا دیا۔ والدہ کو بھی خوب برا بھلا کہا کہ بے وقوف عورت جو ٹیچر خود مرض عشق میں گرفتار ہو میری بچی کو کیا پڑھائے گی۔ کسی روز اسے بھی اس موذی مرض کی لذت سے آشنا نہ کردے… آئندہ اس لڑکی نے ہمارے گھر میں قدم بھی رکھا تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔
میری بدقسمتی کہ مومنہ کا راز والد پر کھل گیا اور مجھ پر تعلیم کا در بند ہوگیا۔ ہمارے علاقے میں ٹیوشن سینٹر نہ تھے، ہوتے بھی تو جو باپ اپنی بیٹی کو اسکول بھیجنے کا روادار نہ تھا۔ وہ اسے اکیڈمی پڑھنے کیوں بھیجتا۔ استانی کیا گئی میں مرجھا کر رہ گئی۔ بھائی جان کو میری دلی کیفیت کا اندازہ تھا۔ وہ میرے دکھ کو پوری طرح محسوس کر رہے تھے۔ ان کے ایک کلاس فیلو کے ماموں ٹیوشن پڑھاتے تھے۔ وہ قاری بھی تھے۔ والد صاحب سے دست بستہ عرض کی اگر آپ اجازت دیں تو میں رابعہ کے لیے ایک اچھے استاد کا انتظام کردوں۔ وہ عمر رسیدہ ہیں۔ میرے دوست کے ماموں ہیں۔ بہت سے گھروں میں جاکر لڑکیوں کو ٹیوشن دیتے ہیں۔ والد بولے، استانی نے عورت ہوکر کیا گل کھلایا اب مرد استاد کی کسر رہ گئی ہے۔
میرے اور دوستوں کی بہنیں بھی ان سے ٹیوشن پڑھتی ہیں۔ آپ بھروسہ رکھیے۔ دنیا میں سبھی آدمی برے نہیں ہوتے۔ غرض کافی سر کھپائی کے بعد بھائی اکبر نے والد صاحب کو میرے لیے اس عمر رسیدہ ٹیوٹر کے لیے راضی کرلیا۔ جس کی ضمانت ان کے دوست کے والد نے ابو کو دی۔ وہ واقعی شریف اور محترم تھے۔ سارے علاقے میں ان کی عزت تھی۔ ان صاحب کا نام کمال دین تھا۔
کمال دین مجھے روز پڑھانے لگے۔ بہت محنت اور جانفشانی سے پڑھاتے تو میں بھی توجہ اور لگن سے پڑھتی۔ ایک سال میں انہوں نے مجھے دو جماعتیں پڑھا دیں۔ میں پھر تیسری سے پانچویں کے نصاب میں آگئی۔
پانچویں میں بورڈ کے امتحان میں فرسٹ پوزیشن لائی تو سب طرف سے واہ واہ ہونے لگی۔ والد صاحب کا بھی دل بڑھا اور کمال دین استاد سے مطمئن ہوگئے۔ ہمارے گھر میں ان کی عزت مزید بڑھ گئی۔ اسکول کے نصاب کے ساتھ وہ مجھے دینی تعلیم بھی دے رہے تھے، اس بات سے ابا جان بہت خوش تھے۔
میں سات سال کی عمر میں ان سے پڑھنے بیٹھی اور چھ سال پڑھا۔ ایک روز بھی انہوں نے ناغہ نہ کیا سوائے جمعہ کے۔ اور ہمیشہ توجہ سے پڑھایا۔ ابو سے دوستی ہوگئی تو وہ ہمارے گھر کے فرد جیسے ہوگئے۔ اصرار کرکے والد ان کوکھانا کھلاتے اور چائے پلواتے۔ جب مجھے پڑھا چکتے تو تھوڑی دیر والد سے گپ شپ کرتے اور میری پڑھائی کی تعریف کرتے۔
سچ بات یہ ہے کہ میری یادداشت کچھ اچھی نہ تھی۔ پڑھا ہوا بار بار بھول جاتی تھی، یہ استاد صاحب کی ہمت تھی جو پڑھائی کے لیے میرا ذہن بنایا اور ذہن کے دریچے کھولے۔ میں رغبت کے ساتھ ان کا پڑھایا ہوا سبق یاد کرتی تھی۔
اب میں کافی بڑی ہوگئی تھی اور برقع اوڑھنے لگی تھی مگر استاد صاحب سے میں نے پردہ نہ کیا۔ اب میں ان کو استاد صاحب کی بجائے چچا جان کہتی تھی۔ میرے تمام گھر والوں کو ان پر اعتبار تھا۔ گھر میں کسی کو یہ خیال نہ آیا کہ اب رابعہ بڑی ہوگئی ہے اور استاد صاحب لاکھ اچھے انسان سہی، ہیں تو نا محرم۔ پہلے کی طرح میں اب بھی اکیلے کمرے میں ان کے ساتھ پڑھنے بیٹھتی تھی اور اس معمول میں کوئی فرق نہ آیا کہ وہ جتنی دیر چاہتے مجھے پڑھاتے رہتے۔
اس تنہائی نے اپنا کام کر دکھایا۔ استاد صاحب کے دل میں میرے لیے محبت پیدا ہوگئی اور ایک دن وہ مجھ پر اپنی محبت کا اظہار کر بیٹھے۔ مجھے ان سے ایسی امید نہ تھی گھبرا گئی۔ میں ان کی ایسی عزت کرتی تھی جیسے لڑکیاں اپنے بزرگوں کی کرتی ہیں… بھلا میں ان کے بارے میں ایسا کیسے سوچ سکتی تھی۔
استاد صاحب کے اظہارِ محبت سے میرا دل ان سے برا ہوگیا۔ ارادہ کرلیا کہ اب ان سے پڑھنا ترک کردوں گی۔ میں نے پڑھنے سے انکار کردیا۔ گھر والے لعنت ملامت کرنے لگے کہ جب منزل قریب آگئی ہے، میٹرک کی تیاری کرنی ہے تو اب پڑھنے سے جی چرا رہی ہے۔ اب ایک سال باقی رہ گیا ہے میٹرک تک پہنچنے میں۔
استاد صاحب آتے میں ادھر ادھر ہوجاتی۔ ان کے پاس پڑھنے نہ جاتی۔ والد اور بھائی ڈانٹتے یہ کیا تماشا ہے۔ امی ہر وقت برا بھلا کہتیں۔ کیا ہوگیا ہے تمہیں آخر کیوں پڑھائی سے دل اٹھا لیا ہے میں ان کو وجہ نہ بتاتی بس یہی کہتی کہ مجھے اب پڑھائی مشکل لگتی ہے، میٹرک نہیں کرسکتی۔ اتنی پڑھائی میرے بس کا روگ نہیں ہے۔ استاد صاحب بھی پریشان تھے۔ سمجھ گئے کہ انہوں نے اظہارِ محبت کرکے کتنی بڑی غلطی کر ڈالی ہے۔ وہ مقررہ وقت پر آجاتے، دیر تک بیٹھک میں بیٹھے رہتے اور میں جانے کا نام نہ لیتی۔ جانتے تھے کہ مجھے میٹرک کرنے اور کالج میں داخلے کا کتنا شوق ہے۔ انہوںنے ابا جان کو بھی اس امر کے لیے راضی کرلیا تھا کہ اگر رابعہ نے میٹرک اچھے نمبروں سے پاس کرلیا تو اسے کالج میں داخلہ دلوائیے گا۔ ایسی ہونہار بچی پر علم کے در بند کرنا ظلم ہوگا۔
ان کی کوششیں بار آور نہ ہوئیں۔ میں نے ان سے پڑھ کر نہ دیا۔ پڑھنے سے صاف انکار کردیا۔ اور انہوں نے روزانہ آنا موقوف کردیا۔ اب وہ کبھی کبھی والد سے ملنے آتے تھے اور باہر سے ہی مل کر چلے جاتے تھے۔
بھائی جان بی اے کے پرچے دے چکے تھے۔ انہوں نے مجھے قائل کیا کہ وہ خود پڑھائیں گے اور تمہیں میٹرک کا امتحان دینا ہوگا۔ اپنے بھائی سے پڑھنے پر مجھے کیا اعتراض تھا۔ خوش خوش بھائی جان سے پڑھتی اور یوں انہوں نے تیاری مکمل کرا دی تو میں نے امتحان دے دیا۔ اچھے نمبروں سے میٹرک پاس کرلیا۔ بے شک اس میں استاد کمال دین کی بہت محنت شامل تھی لیکن ان کی ایک غلطی نے یہ اعزاز ان سے چھین لیا کہ وہ ایک اچھے استاد اور قابل بھروسہ انسان ہیں۔
کالج میں داخلے شروع ہوگئے۔ والد صاحب بیمار پڑ گئے۔ بھائی نے وعدہ پورا کیا اور مجھے گرلز کالج میں داخل کرا دیا۔ یہاں بھی محنت اور لگن سے تعلیم جاری رکھی کیونکہ کالج میں پڑھنا میرا خواب تھا۔
ایک روز کالج سے گھر لوٹ رہی تھی کہ کسی کو اپنا تعاقب کرتے پایا۔ مڑ کر دیکھا حیرت زدہ رہ گئی۔ یہ میرے وہی استاد محترم تھے جنہوں نے مجھے تقریباً آٹھ سال پڑھایا تھا اور آخر میں اپنے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا تھا۔ انہیں دیکھ کر کچھ دیرکو وحشت زدہ تو ہوئی، پھر اعتماد بحال کرلیا اور بغیر پیچھے دیکھے اپنی راہ چلتی رہی، یہاں تک کہ بہ خیر و عافیت گھر پہنچ گئی۔ مجھے نہیں معلوم کب تک استاد کمال دین میرے پیچھے آئے اور کب راہ مڑ گئے۔
ہفتہ بعد پھر یہی واقعہ ہوا۔ اس بار بھی نظر انداز کیا۔ بازار میں ان کو تماشا بنانا چاہتی تھی اور نہ خود تماشا بننا چاہتی تھی۔ ان کا احسان بھی یاد تھا کہ مجھ کند ذہن پر انہوں نے کتنی محنت کی تھی جب میں چھوٹی سی تھی اور بار بار پڑھا ہوا سبق بھول جاتی تھی۔
تیسری بار میں ان کے تعاقب کو نظر انداز نہ کرسکی اور جب وہ میرا تعاقب کرتے ہوئے قریب آگئے تو رک گئی اور مڑ کر ان سے مخاطب ہوگئی۔ استاد صاحب کیا بات ہے۔ کیا کوئی مسئلہ ہے جو آپ یوں میرا پیچھا کررہے ہیں۔ کوئی پرابلم ہے تو بتائیے۔
میں بہت شرمندہ ہوں رابعہ اور تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔ جس روز اظہارِ محبت کی غلطی ہوئی اس دن سے جان سولی پر ٹنگی ہے۔ جیتا ہوں اور نہ مرتا ہوں۔ شرمندگی اس قدر ہے کہ اپنے ضمیر سے بھی آنکھ نہیں ملا سکتا۔ اتنا پچھتاوا ہوتا ہے کبھی کبھی جی چاہتا ہے خودکشی کرلوں… زندگی کی اب بس ایک خواہش تھی تم ایک بار کہیں مل جائو تو تم سے معافی مانگ لوں، اگر تم معاف کردو تو سکون آجائے گا۔ یقین کرو سکون سے مرسکوں گا اور قبر میں بھی سکون سے سو سکوں گا۔ وہ اس قدر نادم نظر آرہے تھے کہ مجھے ان پر ترس آگیا۔ ان کی داڑھی آنسوؤں سے بھیگ گئی تھی۔ یہ رستہ تھا۔ عام گزرگاہ تھی۔ مجھے ڈر بھی لگ رہا تھا کہ لوگ ہمیں دیکھ رہے ہوں گے تو وہ ہمارے بارے میں کیا سوچیں گے۔
جب انہوں نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔ رابعہ کہو تم نے مجھے صدقِ دل سے معاف کیا تو میں یہ الفاظ دہرائے بغیر نہ رہ سکی اور کہا… استاد صاحب میں نے آپ کو صدق ِدل سے معاف کیا۔ بے شک بھول انسان سے ہوجاتی ہے اور آپ بھی ایک انسان ہی ہیں۔ بولے۔ انسان بوڑھا ہوجاتا ہے اس کا دل مگر
بوڑھا نہیں ہوتا اور دل پر کسی کا اختیار نہیں، اسے کوئی شے پسند آجائے تو بچہ بن جاتا ہے… تم نے میری بھول کو معاف کیا۔ مجھے سکون آگیا۔ اللہ تم کو خوش رکھے۔ اب کبھی تمہارے رستے میں نہ آئوں گا۔
واقعی اس روز کے بعد استاد صاحب پھر کبھی میرے رستے میں نہ آئے۔ انہوں نے مجھ سے استدعا کی تھی کہ ان کے اس راز کو راز رکھوں گی اور کبھی کسی کو نہ بتائوں گی۔ میں نے بھی ان کی بزرگی کی لاج رکھتے ہوئے کبھی اس بات کا کسی سے ذکر نہ کیا۔ اور ایک انسانی غلطی سمجھ کر فراموش کردیا کہ انسان کا دل واقعی کبھی کبھی اس سے ایسی خطا کرا دیتا ہے جب کوئی اپنی دلی کیفیات پر قابو نہیں رکھ سکتا۔
میں اچھی لڑکی تھی۔ استاد کمال دین بھی باکردار آدمی تھے۔ تو یہ کہانی شروع ہونے سے پہلے ختم ہوگئی۔ میں رسوا ہوئی اور نہ وہ ذلیل و خوار ہوئے لیکن… سوچتی ہوں ہمارے معاشرے میں آئے دن ایسی کہانیاں جنم لیتی رہتی ہیں۔ یہ داستانیں کوچہ کوچہ بکھری پڑی ہیں۔ جب ناسمجھ اور نادان نوعمر لڑکیاں اپنے گھاگ قسم کے استادوں سے مرعوب ہوکر ان کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتی ہیں اور آخر میں عمر بھر کا پچھتاوا پلے بندھ جاتا ہے۔
والد صاحب کی بیماری بہت بڑھی تو ان کو لاہور لے گئے جہاں کینسر تشخیص ہوا۔ یہ ایسی بیماری تھی کہ علاج کرائو تو مرو… نہ کرائو تو مرو۔ بھائی کو ابھی نوکری نہ ملی تھی۔ والد کی تھوڑی سی پینشن میں گزر بسر ہورہی تھی۔ کینسر کے عفریت نے منہ کھولا تو اباجی کے علاج کی خاطر مکان بک گیا اور ہم کرائے کے مکان میں شفٹ ہوگئے۔ یہ بعد میں پتا چلا کہ کرائے کا یہ مکان استاد محترم کا ہے جس کا ہم برائے نام کرایہ دیتے تھے۔ جب ہمارے مالی حالات بہت خراب ہوگئے تو پریشانی کے عالم میں ایک روز استاد کمال، بھائی کو ملے… یوں کہ وہ اسپتال گئے تو وہاں والد صاحب کو بھائی جان معائنہ کے لیے لے گئے تھے، کینسر وارڈ میں ٹکرائو ہوگیا۔
استاد کمال اپنے بڑے بھائی کو چیک اَپ کے لیے لائے تھے۔ خیر خیریت دریافت کی۔ جب انہیں پتا چلا والد صاحب کینسر میں مبتلا ہیں تو بہت دکھی ہوئے۔ اب روز گھر آنے لگے۔ والد کی تیمارداری کے بہانے علاج کے لیے رقم اور دوائیں لاکر دیتے۔ ڈاکٹروں نے اباجی کا آپریشن بتایا۔ خرچہ بہت زیادہ تھا۔ استاد صاحب نے ہمت بندھائی اور ان کو آپریشن کے لیے آمادہ کیا۔ دوران آپریشن دن رات ساتھ رہے اور تمام خرچہ انہوں نے اٹھایا۔ یہ ان کا ایسا احسان تھا جس کو ہم لوگ کبھی نہیں بھلا سکتے۔
والد صاحب کی زندگی نے وفا نہ کی۔ وہ کچھ عرصہ بعد خالق حقیقی سے جاملے۔ لیکن استاد کمال نے ان سے وفا کی۔ میرے بھائی کو اپنے اثر و رسوخ سے ملازمت دلوا دی۔ میری تعلیم کا خرچہ اٹھایا اور دکھ سکھ میں کام آتے رہے، یہاں تک کہ جب میری شادی کا وقت آیا تو انہوں نے کافی رقم قرضِ حسنہ کے طور پر والدہ کو دی جو بعد میں معاف کردی۔ ان کی عنایت سے آج میں اپنے گھر میں خوش اور آباد ہوں۔ بھائی برسرروزگار ہے۔ امی ان کو ہر وقت دعائیں دیتی ہیں۔ اگر وہ مدد نہ کرتے تو ہمارا کیا بنتا۔
آج میں سوچتی ہوں انسان بھی عجب فطرت لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ ایک وہ ہیں جو محبت کے دعوے دار ہوتے ہیں مگر محبت کو آڑ بناکر دوسرے کو شکارکرتے ہیں۔ ان کی عزتوں کو خاک میں ملاکر خاندانوں کو تباہ کردیتے ہیں اور ایک وہ جو واقعی محبت کرتے ہیں تو پھر صدقِ دل سے بغیر کسی طمع اور لالچ کے، اس جذبے کو دل میں چھپا کر رکھتے ہیں، عمر بھر اس پھول کو مرجھانے نہیں دیتے، ان کی مہک سے اپنی روح اور دوسروں کی زندگیوں کو معطر رکھتے ہیں، ایسے ہی لوگوں کے دم قدم سے اس دنیا میں بہار ہے۔ (ر … لاہور)