Wednesday, July 17, 2024

Dil Maaf Nahi Karta | Teen Auratien Teen Kahaniyan

ناجیہ میری تایازاد تھی۔ ہمارے گھر پاس پاس تھے۔ ہم عمر ہونے کی وجہ سے ایک ساتھ اسکول میں داخلہ لیا تھا اور اب نویں جماعت میں آگئے تھے۔ مڈل گرلز اسکول گھر سے پندرہ میل دور تھا۔ لاری اڈے سے بس ملتی تھی۔ اکٹھی گھر سے نکلتیں اور اڈے تک پیدل سفر کر تیں۔ یوں ایک سے دو بھلے والے مقولے پر عمل پیرا تھیں۔ امی اور تائی کی کبھی نہ بنی۔ جب تک ایک گھر میں رہنا سہنا تھا، کسی طرح گزارا کر لیا۔ بچے کچھ بڑے ہوئے تو تایا ابو نے صحن کے بیچوں بیچ دیوار اٹھا دی۔ یوں ایک مکان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ ناجیہ بھی مجھ سے ایک دیوار ادھر ہو گئی۔ مکان کی تقسیم سے ہماری محبت میں فرق نہ آیا۔ ہم روز ملتے پہلے کی طرح اکٹھے اسکول آتے جاتے۔ گرچہ اب تائی ہمارے گھر آتیں اور نہ امی سے ملتیں لیکن ہم نے اپنی مائوں کی تلخ روش کو نہ اپنایا اور اپنائیت کے رشتے کو قائم رکھا۔ مجھے اور ناجیہ کو ایک دوسرے کے گھروں میں آنے جانے کی کوئی روک ٹوک نہ تھی۔ تایا ہمارے گھر آتے اور ہم سے پیار کرتے کیونکہ یہ تو عورتوں کی لڑائی تھی جس سے ابو اور تایا کے میل ملاپ میں رخنہ نہ پڑا تھا۔

نویں میں اسکول دور ہو گیا تھا۔ اب لاری سے جانا پڑتا تھا جس کے لئے صبح جلدی نکلنا ہوتا۔ ہم ٹھیک سات بجے اڈے پر پہنچ جاتے۔ سواری کے لئے ویگن، بس لاری جو اس وقت ملتی، اس میں سوار ہو جاتے تاکہ لیٹ نہ ہوں۔ زیادہ تر لاری اڈے سے بس پر ہی سوار ہوتے تھے جو ہم کو لب سڑک واقع ہمارے مڈل اسکول پر اتار دیتی تھی۔ روز کی سواریوں سے عموماً مقامی بس اور لاری ڈرائیور واقف ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ہاتھوں میں اسکول بیگ دیکھ کر وہ ہمارے لئے گاڑی کو روکے رکھتے گرچہ ہم ابھی کچی سڑک پر ہوتیں۔ دوچار فرلانگ سے وہ ہم کو آتا ہوا دیکھ لیتے تھے۔ ایک بس ہمارے علاقے سے ہی اسٹارٹ ہوتی تھی۔ اس کا ڈرائیور ہم کو خوب پہچانتا تھا۔ وہ سات بجے بس لے کر گائوں سے آنے والی طالبات کا منتظر ہوتا۔ بس کو روکے رکھتا کیونکہ اسکول کی لڑکیاں اس کی مستقل سواریاں ہوتیں۔ ہم بھی اسی گاڑی میں سوار ہونے کو ترجیح دیتے۔ ہاں اگر کبھی یہ بس ہم سے مس ہو جاتی تب دوسری سواری پر جانا پڑتا تھا۔ اس روز بھی یہ بس ٹھیک ٹائم پر آگئی اور ہم صحیح وقت پر پہنچ گئیں۔ جونہی بس میں سوار ہوئیں، ہم سے پچھلی نشست پر ایک خوش شکل نوجوان بھی سوار ہو گیا۔ اس روز تو ہم نے نوٹس نہ لیا لیکن اگلے کئی روز تک ایسا ہی ہوتا رہا، تب محسوس ہوا جیسے یہ نوجوان لاری اڈے پر ہمارے آجانے کا انتظار کرتا ہو اور جونہی ہم بس پر چڑھتیں، یہ بھی چڑھ آتا۔ ہم خواتین کی مخصوص نشست پر بیٹھتیں اور یہ ہم سے پچھلی سیٹ پر بیٹھنے کی کوشش کرتا۔اگر وہاں کوئی دوسرا شخص بیٹھ جاتا اور اسے جگہ نہ ملتی تو پہلے سے نشستہ آدمی سے درخواست کرتا۔ محترم ! آپ ذرا پچھلی سیٹ پر جانے کی زحمت گوارا کر لیں کیونکہ میرے ساتھ خواتین سفر کر رہی ہیں۔ کئی بار یہ قصہ ہوا، تب میں چوکنی ہو گئی کیونکہ اس کے ساتھ کوئی خاتون سوار نہ ہوتی تھی۔ وہ اکیلا ہی چڑھتا تھا۔ گویا کہ ہم ہی وہ خواتین تھیں جن کو وہ اپنے گھر کی خواتین ظاہر کرتا تھا۔ ہمارا توروز کا آنا جانا تھا۔ چند دن تک دھیان نہ دیا۔ لیکن ایک بار ماتھا ٹھنک گیا کیونکہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر اس روز ہم دونوں کے علاوہ کوئی خاتون سوار نہ ہوئی تھی۔ وہ پھر بھی ہم سے عین پچھلی سیٹ پر پہلے سے ؟ بیٹھے ہوئے ایک شخص سے ملتجی تھا کہ برادر ! ذرا آپ بیک سیٹ پر چلے جائیے ، میرے ساتھ خواتین ہیں۔ یہ سن کر اس شخص نے موصوف کے لئے جگہ خالی کر دی اور خود پیچھے چلا گیا۔

گائوں میں یہی رواج تھا کہ اگر کسی مرد کے ہمراہ خواتین سفر کر رہی ہوتی تھیں تو درخواست پر ہمسفر خواتین کی مخصوص نشست سے قریبی سیٹ اس کے لئے خالی کر دیتے تھے۔ میں نے ناجیہ سے کہا۔ لگتا ہے یہ شخص ہمارا تعاقب کرتا ہے۔ کون ہے یہ؟ نجانے کون ہے ، میں نہیں جانتی۔ اس نے جواب دیا۔ منزل آگئی اور ہم قریبی شہر کے اسکول اڈے پر اتر گئے، تبھی میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہی نوجوان ذرا فاصلے پر ہمارے پیچھے چلا آرہا تھا۔ ناجیہ ! یقین مانو یہ ہمارا تعاقب کر رہا ہے۔ ہاں! آج کی بات نہیں ہے، یہ تو کئی دنوں سے اسی طرح ہمارا تعاقب کرتا ہے۔ تو تم کو پتا تھا، مجھے کیوں نہ بتایا ؟ ارے بھئی یہ بھی کوئی بتانے والی بات ہے۔ ایسے آوارہ تو روز ہی مل جاتے ہیں۔ بس تم اس کا کوئی نوٹس مت لو۔ اس کے بعد میں نے نوٹ کیا کہ ناجیہ اس نوجوان کے بارے میں بہت مضطرب ہو گئی ہے۔ جو نہی ہم بس سے اترتے، وہ اضطراری انداز سے پلٹ پلٹ کر دیکھتی جاتی۔ اگر ہمارے پیچھے وہ نوجوان آ رہا ہوتا تو زیادہ مضطرب ہو جاتی۔ اس کی حرکات و سکنات اس کے کنٹرول سے باہر ہوتیں۔ کبھی نقاب الٹتی اور کبھی گرادیتی۔ دھیان کہیں ہوتا، قدم کہیں پڑتے۔ وہ میری ہمدم دیرینہ تھی۔ تایا زاد تھی۔ کچھ کہہ کر اس کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اچھی طرح جان گئی تھی کہ یہ شخص ہمارا تعاقب کرتا ہے لیکن وہ خود احتجاج کرتی اور نہ مجھے کچھ کہنے دیتی۔ میں تعاقب میں آنے والے کی وجہ سے بڑ بڑاتی تو کہتی ۔ چھوڑو بھی … یہ آوارہ لڑکے یونہی لڑکیوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ اس کے منہ لگنا نہیں ہے ، اس میں ہماری اپنی بدنامی ہو گی۔ ہمارا تو روز کا آنا جانا ہے۔ جب گھاس نہیں ڈالیں گے تو آپ ہی پیچھا چھوڑ جائے گا۔ ناجیہ کی خاطر میں چپ رہی اور اس کی آوارگی کو نظر انداز رکھا۔ سوچا یہ ٹھیک کہتی ہے۔ جب لفٹ نہ کرائیں گے، خود ہی مایوس ہو کر رہ جائے گا۔ سوچا بھی نہ تھا کہ میری عزیز از جان کزن اچانک ہی یوٹرن لے گی اور مجھ سے اپنی راہ الگ کرلے گی۔ اب وہ اسکول کے لئے دیر سے نکلنے لگی۔ جان بوجھ کر لیٹ ہونے لگی۔ مجھے تو اپنی اسٹڈی عزیز تھی۔ چند دن یہ برداشت کیا لیکن روز روز استانی کی ڈانٹ کون سہتا، جبکہ اب ہم اسکول اسمبلی میں بھی ٹھیک وقت پر نہ پہنچ پاتے تھے۔ ڈانٹ تو ناجیہ کو بھی پڑتی تھی لیکن اس پر کوئی اثر ہی نہ ہوتا تھا۔ میں نے اس کا انتظار کئے بغیر وقت پر اسکول کے لئے گھر سے نکلنا شروع کر دیا۔ وقت مقررہ پر اسکول کو روانہ ہو جاتی اور ٹائم پر پہنچ جاتی لیکن ناجیہ دیر سے آتی۔ جرمانہ لگتا، ڈانٹ کھاتی، سزا ملتی۔ اس کے معمول میں تبدیلی نہ آئی۔ چند دنوں بعد یہ ہونے لگا کہ وہ اسکول سے غیر حاضر رہنے لگی۔ میں نے تایا کے گھر جا کر اس سے باز پرس کی تو آنکھیں دکھا بولی۔ تم چپ رہو اور اس معاملے سے دور رہو۔ مجھے دیر ہو جاتی ہے تو ڈانٹ اور بے عزتی کے خوف سے ناغہ کر لیتی ہوں۔ تم استانی کو کہہ دیا کرو کہ وہ بیمار ہے اس لئے نہیں آئی اور ہاں میری امی کو کچھ مت بتانا۔ تیور ایسے ہوں تو کوئی بے وقوف بھی سمجھ جاتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ تائی ہم سے ناک چڑھا کر رکھتی تھیں تو ہم بھی ان کے نزدیک نہیں پھٹکتے تھے۔ ان سے ناجیہ کی شکایت کرنے کی بھلا میری جرات کہاں تھی۔ اب صاف واضح ہو گیا تھا کہ ناجیہ میرے ساتھ اسکول جانے اور آنے سے کترانے لگی ہے اس لئے بہتر جانا کہ اس کا معاملہ اس پر چھوڑ دوں اور اس سے اپنا راستہ الگ کرلوں۔ میں نے اس کے ساتھ آنا جانا، ملنا ملانا حتی کہ بات چیت تک چھوڑ دی۔

اب ہم مختلف اوقات میں گھر سے نکلتی تھیں۔ میں ایک بس میں تو وہ دوسری میں سفر کرتی۔اب وہ نوجوان بھی اس بس میں نہ ہوتا جس میں ، میں ہوتی بلکہ وہ ناجیہ کے ساتھ سفر کرتا تھا۔ آخر تو ان دونوں کے بیچ کوئی معاملہ طے ہو ہی گیا تھا۔ مجھے ناجیہ کی پروا نہ رہی۔ وہ اسکول آئے یا غیر حاضر رہے، میری بلا سے ! اس کی اپنی راہ تھی اور میری اپنی راہ تھی اور یہ فاصلہ اس نے خود پیدا کیا تھا۔ کبھی کبھار وہ مجھے بس اڈے پر کھڑی ملتی لیکن میرے ساتھ نہ آتی، جیسے کسی کا انتظار کر رہی ہو۔ میں جانتی تھی اسے کس ہمسفر کا انتظار ہے جس کے ساتھ وہ ایک انوکھے سفر پر نکلی ہوئی تھی، کیونکہ ان دنوں روز ہی اس کی چھٹی کی درخواست آرہی تھی۔ میں نے اس بات کا کسی سے تذکرہ نہ کیا کیونکہ تائی اماں تو عجیب گلے پڑنے والی عورت تھیں اور وہی ایک تھیں جو بیٹی کو بھٹکنے سے روک سکتی تھیں، تاہم مجھے فکر اور پریشانی ضرور تھی کہ اگر وہ کسی بد معاش کے ہتھے چڑھ گئی تو نہ صرف خود کو نقصان پہنچائے گی بلکہ ہمارے خاندان کی عزت بھی خاک میں مل جائے گی۔ ایک بار میں نے دیکھا کہ و وہ اسی نوجوان کے ساتھ کار میں جارہی ہے۔ یہ کار عین میری نگاہوں کے سامنے سے گزری تھی۔ اس وقت میں بس میں کھڑکی کے پاس بیٹھی تھی۔ آنکھوں سے دیکھا تو یقین ہو گیا ناجیہ غلط راہ کی مسافر ہو چکی ہے اور اس کا ہمسفر بھی وہی ہمارے تعاقب میں آنے والا نوجوان ہے جس کے بارے مجھے اندازہ تھا کہ وہی ہو گا۔ وہ اسکول کے بہانے گھر سے نکلتی اور اس کے ہمراہ گھومتی پھرتی۔ وہ ہم سب کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی تھی، خاندان کی عزت مٹی میں ملا رہی تھی۔ آخر اس کا کوئی انجام تو ہونا ہی تھا۔ ایک روز تایا ابو نے خود اسے کسی غیر کے ساتھ گاڑی میں جاتے دیکھ لیا۔ وہ شہر سے لوٹے تو کافی اپ سیٹ تھے۔ انہوں نے ناجیہ کی خوب خبر لی اور پھر اس کا اسکول جانا بند کرادیا، اس کے ساتھ ہی رشتے کے لئے تگ و دو ہونے لگی، تبھی انکشاف ہوا کہ ناجیہ کی طبیعت بہت خراب ہے۔ تائی، لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے گئیں، جس نے بتادیا کہ تمہاری بچی امید سے ہے۔ تائی پر تو قیامت ڈھے گئی۔ اب تایا کو بتائے بغیر چارہ نہ تھا۔ ان کے بھی اوسان خطا ہو گئے۔ انہوں نے ناجیہ پر سختی کی تو اس نے اس نوجوان کا نام بتادیا جس کا نام شہاب تھا اور وہ اسی گائوں کے ایک ٹرک ڈرائیور کا بیٹا تھا۔ ہم معزز خاندان کے شریف لوگ تھے۔ تایا کی سارے علاقے میں عزت تھی۔ یہ رشتہ جوڑ کا نہ تھا لیکن اب مجبوری تھی کہ تایا کی عزت ایک ڈرائیور کے بیٹے کے ہاتھ میں تھی۔ معاملہ سنجیدہ تھا۔ والد صاحب سے مشورہ کیا۔ابو نے اپنے بڑے بھائی کو یہی مشورہ دیا کہ عزت بچانی ہے تو اس کو اسی لڑکے سے بیاہ دو۔بے شک بعد میں ہمیشہ کے لئے ناتا ختم کر دینا۔ اس وقت حالات ایسے ہیں کہ ان حالات میں خاندان کا کوئی لڑکا بھی تمہاری بیٹی سے شادی نہ کرے گا۔ تایا نے شہاب کا پتا کرایا۔ معلوم ہوا کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہے، تین بچوں کا باپ ہے اور کام بھی کوئی نہیں کرتا۔ اولاد جیسی بھی بری ہو، کوئی باپ بیٹی کو جان بوجھ کر کنویں میں دھکا دینا نہیں چاہتا۔ والد صاحب سے رو کر کہنے لگے۔ ایک تو شہاب بد معاش ہے، ہمارے گھر میں نقب لگائی ہے، وہ ہماری عزت کا دشمن اور اوپر سے کم ذات شادی شدہ بھی ہے۔ تم کیا کہتے ہو ؟ اس سے بہتر ہے کہ ناجیہ کو زہر نہ دے دیں۔

اپنے بھائی کی مجبوری پر ابو کی آنکھوں میں آنسو آگئے کیونکہ تایا بھی رو رہے تھے۔ابانے کہا۔ آنکھوں دیکھی مکھی کوئی نہیں نگلتا پھر بھی تم بھائی ہو اور تمہاری مجبوری پر کلیجہ پسیجتا ہے۔ میں اپنے بیٹے کو راضی کر کے نکاح کرائے دیتا ہوں، بعد میں دیکھ لیں گے ۔ ابھی تو بد نامی کی تلوار عین سر کے اوپر لٹک رہی ہے۔ کوئی چارہ نہ تھا۔ ابو اور تایا کی عزت تو ایک تھی۔ اگر بدنامی ہوتی تو سبھی کے منہ پر کالک لگتی۔ ناجیہ کو موت کے گھاٹ اتارنے کا بھی کسی میں حوصلہ نہ تھا۔ والد نے یہ راز سینے میں چھپا لیا کہ ان کی بدبخت بھتیجی امید سے ہے۔ والدہ اور بھائی کو نہ بتایا اور جھٹ پٹ بھتیجی کا نکاح میرے بھائی ارسلان سے پڑھوا دیا جو ابھی بی ایس سی کا طالب علم تھا۔ وہ واویلا کرتا رہ گیا کہ ابو ! آپ کو کیا ہو گیا ہے، کیوں اس قدر جلدی پڑ گئی ہے؟ مجھے تعلیم تو مکمل کر لینے دیں۔ والد صاحب نے ایک نہ سنی۔ کہا کہ بس ہماری مانو گے، تعلیم مکمل ہوتی رہے گی۔ دراصل تو وہ خاندان کی عزت بچا رہے تھے جس کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ ناجیه شادی ہو کر ہمارے گھر آگئی۔ تائی کو بھی گٹھنے ٹیک دینے پڑے۔ ان کا سارا غرور خاک میں مل گیا۔ امی سے جھک کر ملنے لگیں اور میری ماں حیران تھیں کہ تائی کو کیا ہو گیا ہے۔ یہ کیسا معجزہ ہوا کہ بیٹی کا رشتہ بھی دے دیا اور اب غلام بنی جاتی ہیں۔ وہ طوفان جس کی ابھی آہٹ ہی سنائی دی تھی ، ٹل گیا۔ ناجیہ افسردہ تھی مگر ایک لفظ نہ بول سکتی تھی کہ اس کا کیا سبھی نے بھگتا تھا۔ بہر حال اس نے وقت مقررہ ایک بیٹے کو جنم دیا جس کو میرے سوا ہر کسی نے ہاتھوں ہاتھ اٹھایا۔ میرے سارے گھر والے اس پر فریفتہ تھے۔ میری ماں خوش کہ اللہ تعالیٰ نے پوتے سے نواز دیا ہے۔ بھائی ارسلان بیٹے پر نہال اور میری بہنیں واری صدقے ہوتی تھیں مگر میری جونہی بچے پر نظر پڑی، میں خدا کی قدرت پر لرز کر رہ گئی۔ ہوبہو اس آوارہ شہاب کی تصویر تھا۔ اس کی صورت واضح طور پر اس حقیقت کو منکشف کر رہی تھی کہ وہ شہاب کا بیٹا ہے۔ میں نے اسے دیکھا ہوا تھا اور نومولود کو دیکھ کر اب میں دھوکا نہ کھا پارہی تھی۔ ہمارے گھر میں اس حقیقت سے صرف چار افراد ناجیہ کے علاوہ واقف تھے۔ تایاجی اور ابو تائی اور چوتھی میں تھی۔ تبھی میں اس بچے کو آج تک دل سے پیار نہ کر سکی کہ دل اسے اپنا قبول ہی نہ کرتا تھا۔اے کاش میں کبھی اس تعاقب کرنے والے نوجوان کو نہ دیکھتی۔ ناجیہ نے حالات سے سمجھوتا کر لیا۔ اس کی کمزوری جانتی تھی۔ اس نے کبھی میرے آگے سر نہ اٹھایا۔ وہ میری بھابی تو بن گئی مگر ہماری دوستی جاتی رہی۔ میں اس کے ساتھ واجبی سا تعلق رکھتی تھی جس کی وجہ صرف وہی جانتی تھی۔ باقی لوگ تو اس کو وہی عزت و تکریم دیتے تھے جو اس رشتے میں اس کو ملنی تھی۔ امی مجھے کہتی تھیں ۔ تم کیوں ناجیہ سے لئے دیئے رہتی ہو۔ کیا روایتی نند کا رول ادا کر رہی ہو ؟ اور میں جواب دیتی۔ ہاں … نند بھی تو بن گئی ہوں اس کی پھر نند والا سلوک کیوں نہ کروں؟

ناجیہ نے چار اور بچوں کو بھی جنم دیا جو سبھی مجھے پیارے لگتے ہیں۔ ان کو دل سے لگاتی ہوں تو ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے مگر اس کے پہلے بیٹے کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہوتیں، دل میں چھن ہونے لگتی ہے اور سوچتی ہوں کہ اگر یہ یہ لا چھی ہونے لگتی ہے اور سوچتی ہوں کہ اگر یہ میرے بھائی کی اولاد نہیں ہے تو ان کے ساتھ کتنا بڑا دھو کا ہے، کتنی بڑی زیادتی ہے کہ وہ اس بچے کو بھی اپنی اولاد سمجھ کر پال رہے ہیں۔ یہی سوچ میرے دل کو کچوکے لگاتی ہے اور کبھی کبھی مجھے ناجیہ سے ہی نفرت محسوس ہونے لگتی ہے۔ اے کاش! ناجیہ کے قدم نہ بہکتے۔

Latest Posts

Related POSTS