Friday, May 24, 2024

Dil Main Kanta Chubh Gaya | Teen Auratien Teen Kahaniyan

گائوں میں ان دنوں بچپن کی شادی کا رواج عام تھا۔ میری والدہ کی شادی بھی پندرہ برس کی عمر میں ان کے چچازاد سے ہو گئی اور جب میں پیدا ہوئی امی سولہ برس کی تھیں۔ انہیں ابھی بچے سنبھالنا بھی نہیں آتا تھا۔ والد بھی زیادہ عمر کے نہ تھے۔ امی سے صرف دو برس بڑے تھے۔ وہ ابھی کماتے نہ تھے۔ دادا ہمارا خرچہ اٹھاتے اور دادی بچوں کو پالنے میں مدد کرتی تھیں۔

جب امی چار بچوں کی ماں بن گئیں تو خرچہ بھی بڑھ گیا۔ انہی دنوں دادا کا انتقال ہو گیا۔ گائوں میں ان کی لکڑیوں کی ٹال تھی جس پر تایا بیٹھا کرتے تھے۔ تائی اور ان کے بچے بھی ہمارے ساتھ رہتے تھے۔

دادا وفات پاگئے تو تائی نے تایا سے کہنا شروع کیا کہ تمہارے بھائی کو اب کام کرنا چاہیے کیونکہ وہ بال بچے دار ہے لیکن ابو کو کمانے کی عادت نہ تھی۔ وہ ٹال پر بھی دوچار گھنٹے ہی بیٹھتے پھر اِدھر اُدھر دوستوں کے ساتھ گھومنے نکل جاتے۔ یہ بات تائی کو کھلتی تھی۔ بالآخر انہوں نے تایا کو اس قدر اُکسایا کہ انہوں نے میرے والد کو خرچہ دینا بند کر دیا کہ خود کمائو اور اپنے کنبے کا بوجھ اُٹھائو۔

والد کو گھومنے پھرنے کی عادت تھی۔ لہٰذا وہ دو دن کسی کے پاس کام کرتے، چار دن کسی کے پاس، پھر کام چھوڑ کر گھر آ بیٹھتے۔ ہمارا بہت تنگی سے گزارہ ہونے لگا۔ تنگ آکر امی نے نانی کو کراچی فون کرایا کہ میں بہت پریشان ہوں، بچے فاقے کر رہے ہیں، بتائیے کیا کروں۔ کراچی میں میرے ماموں رکشہ چلاتے تھے۔ انہوں نے امی سے رابطہ کیا۔ کہا اگر تم لوگ یہاں آ جائو تو کام مل جائے گا۔امی نے والد کو راضی کیا اور وہ ہم سب کو لے کر ماموں کے پاس کراچی آگئے۔ انہوں نے اپنے مالک سے کہہ کر ایک رکشہ کرائے پر دلوا دیا۔

جہاں ہم رہتے تھے وہاں قریب ہی کوٹھیاں تھیں۔ وہاں غریب علاقے کی عورتیں کام کرنے جاتی تھیں۔ امی نے ان سے بات کی۔ یوں انہیں بھی ایک بنگلے میں کام مل گیا۔ صبح وہ کام پر چلی جاتیں۔ میں سب بہن بھائیوں میں بڑی تھی۔ مجھے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو سنبھالنا پڑتا تھا۔

خیال تھا کہ ہمارے حالات جلد اچھے ہو جائیں گے۔ لیکن یہاں آکر ابو مزید لاپروا ہوگئے۔ وہ امی کو بہت کم پیسے دیتے تھے۔ میں چھوٹے بہن بھائی سنبھالتی۔ گھر کا کام کرتی، سودا سلف بھی لاتی اور کھانا پکا کر بہن بھائیوں کو کھلاتی۔ ابو آجاتے تو انہیں بھی کھانا دیتی۔ حالانکہ میری عمر اس طرح کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی نہیں تھی لیکن مجبوری انسان کو وقت سے پہلے بہت کچھ کرا دیتی ہے۔

نانی کا گھر کچھ دُوری پر تھا۔ کبھی جب موقع ملتا تو میں اُن کے گھر چلی جاتی۔ پاس میں ان کی بہو کے بھائی کا گھر تھا، اس کے لڑکے کا نام اسلم تھا۔ میں کسی طرح نانی کے گھر چلی تو جاتی لیکن اگر شام ہو جاتی تو نانی کہتیں کہ اسلم زیب کو اس کے گھر چھوڑ کر آئو، یہ اکیلی نہ جائے۔ تب میں اور میری چھوٹی بہن اسلم کے ساتھ گھر واپس آتے تھے۔

اسلم بہت اچھا لڑکا تھا۔ فالتو باتیں راستے میں نہ کرتا۔ بس ہمیں ہمارے دروازے پر چھوڑ کر چلا جاتا۔ اس کی یہ عادت بہت اچھی لگتی۔ میں بھی اس سے زیادہ باتیں نہ کرتی تاکہ اردگرد کے لوگوں کو کچھ کہنے کا موقع نہ ملے۔

ان دنوں میری عمر چودہ برس تھی اور اسلم سولہ برس کا تھا۔ وہ آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا۔ اس کا والد سبزی منڈی میں کام کرتا تھا۔ شام کو کافی سبزی لاتا تو وہ نانی کے گھر بھی دے جاتا۔ نانی اسلم کے ہاتھ ہمارے گھر بھی سبزی بھجوا دیتی تھیں۔ مجھے پڑھنے کا شوق تھا۔ اسلم کو پڑھتا دیکھ کر جی چاہتا کہ کاش میں بھی پڑھتی لیکن مجبوری تھی، مجھ پر چھوٹے بہن بھائی سنبھالنے کی ذمہ داری تھی، اس لیے نہیں پڑھ سکتی تھی۔ میں نے دوسری جماعت تک پڑھا تھا، تیسری میں تھی۔ ہم کراچی آگئے۔ پھر اسکول جانے کا موقع نہ ملا۔

وقت گزرتا رہا۔ اسلم نے میٹرک کر لیا اور اُسے دبئی جانے کا موقع مل گیا۔ اس کے والد نے ویزے کا انتظام کیا تھا کیونکہ اس کے تایا اور چچا دبئی میں کما رہے تھے۔ اللہ جانے کیوں اس کے جانے کے بعد میں اُداس رہنے لگی۔ مجھے انتظار کی بیماری لگ گئی تھی۔ پل پل گنتی تھی کہ کب وہ دن آئے گا جب اسلم کو دیکھوں گی۔اتوار کے دن امی چھٹی کرتی تھیں۔ وہ ہمیں لے کر نانی کے گھر گئیں۔ پتا چلا کہ اسلم آگیا ہے۔

میں نے کافی عرصے بعد اُسے دیکھا۔ وہ خاصا خوبصورت ہو گیا تھا۔ اب یہ لوگ کافی پیسے والے ہو گئے تھے لہٰذا رشتے داروں کی خواہش تھی کہ اسلم ان کا داماد بنے لیکن اس نے شاید مجھے دل میں بسا رکھا تھا۔ جب ماں باپ نے شادی کے لیے پوچھا تو اس نے میرا نام لے دیا۔ میری سچی اور خاموش لگن رائیگاں نہ گئی اور اسلم کے اصرار پر میری اس کے ساتھ شادی ہوگئی۔ بھلا میرے ماں باپ کیوں انکار کرتے۔ انہیں پیسے والا کمائو داماد مل رہا تھا جو پڑھا لکھا بھی تھا اور محلے میں اسلم کے والد کی عزت تھی۔

میں بیاہ کر نانی کے گھر کے پاس آگئی۔ ان دنوں بہت خوش تھی۔ اسلم کہتا تھا کہ تم مجھے مل گئی ہو تو جیسے سب کچھ پا لیا ہے۔ تم شروع سے ہی مجھے پسند تھیں۔ سوچ لیا تھا تم سے شادی کروں گا۔ تب میں کہتی کہ میں بھی یہی سوچتی تھی مگر کہہ نہیں سکتی تھی کیونکہ ہم لڑکیاں بے زبان ہوتی ہیں۔ میں اسلم کے والدین کی خدمت کرتی تھی۔ وہ بھی مجھ سے بہت خوش تھے۔ چھٹی ختم ہو گئی تو وہ دوبارہ دبئی چلا گیا۔ اس کے بغیر دل نہ لگتا لیکن کیا کرتی، مجبوری تھی، اُسے جانا تو تھا اور مجھے بھی اس کی جدائی کا دکھ سہنا تھا۔ چھٹی پر جب اسلم آتا تو کہتا کہ زیب میں وہاں تمہارے بغیر بہت اُداس رہتا ہوں، جدائی ستاتی ہے لیکن تمہارے لیے ہی پردیس کی مشقت کاٹ رہا ہوں تاکہ اتنا کما لوں کہ ہم گھر بنا سکیں اور میں یہاں کوئی کاروبار کر سکوں۔ تم اُداس مت رہا کرو بلکہ مجھے حوصلہ دیا کرو تاکہ ہم اچھی زندگی گزارنے کے قابل ہو جائیں۔

وہ دن بھی آ گیا جب اسلم نے اتنا کما لیا کہ ہم نے گائوں میں ایک چھوٹا سا گھر بنا لیا اور قریب ہی کریانہ کی دکان کھول لی۔ اب جدائی کے دن تمام ہو چکے تھے۔ دو بیٹے ہوگئے تھے، میں جن کی پرورش میں کھو گئی۔ انہی دنوں میری ساس آئیں اور کہا کہ تمہارے بچے چھوٹے ہیں، تم تنگ ہوتی ہو گی، کہو تو سائرہ کو تمہارے پاس چھوڑ جائوں۔ سوتیلی ماں اس کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتی۔ چھوڑ جائیں، واقعی بچے مجھے بہت تنگ کرتے ہیں۔

سائرہ میری ساس کے ایک رشتے دار کی بیٹی تھی۔ جب وہ چھوٹی تھی، ماں فوت ہو گئی تھی۔ سوتیلی ماں اس لڑکی سے برا سلوک کرتی۔ وہ بہت ناخوش رہتی۔ میں سائرہ کے حالات جانتی تھی۔ اسی وجہ سے اپنے گھر آنے سے منع نہیں کیا کہ کام کاج میں ہاتھ بٹا دے گی۔ سوتیلی ماں کے ظلم سے بھی اُسے نجات مل جائے گی۔ اسلم نے کہا بھی کہ پرائی لڑکی کو سوچ سمجھ کر رکھو، میں نہ مانی کیونکہ یہ لڑکی مجھے اچھی لگتی تھی۔ سائرہ بارہ برس کی معصوم بچی تھی۔ اسلم اس سے زیادہ بات نہیں کرتا تھا ۔ وہ یوں بھی بہت کم بات کرتا تھا۔ میں اس کی عادت جانتی تھی۔ اُسے اکثر دکان کا مال خریدنے قریبی شہر جانا ہوتا۔ تب سائرہ میرے پاس سویا کرتی، گھر میں اکیلی ہوتی۔ وہ سارا دن مجھ سے چپکی رہتی۔ ہمارے پڑوس میں ایک لڑکی رہتی تھی جس کا نام آسیہ تھا۔ اس کی سائرہ سے دوستی ہوگئی۔ وہ روز آنے لگی۔ دونوں شام کو سیڑھیوں پر بیٹھ کر باتیں کرتیں۔ میں نے اُسے سائرہ سے ملنے سے منع نہ کیا۔

ایک روز ان کی باتیں سنیں تو حیرت ہوئی کیونکہ آسیہ غلط قسم کی باتیں کر رہی تھی۔ میں نے اُسے گھر آنے سے روک دیا۔ سائرہ کو بھی سمجھایا، اس سے دوستی نہ رکھو۔ یہ ٹھیک لڑکی نہیں ہے۔ اس دن کے بعد سے سائرہ اُداس رہنے لگی۔ میں نے کہا۔ یہاں اُداس ہو تو اپنے گھر چلی جائو۔ وہ جانے سے بھی انکاری تھی۔ سوچا اکیلے پن کی وجہ سے اُداس ہے۔ اسلم سے کہا کہ ہمیں گھمانے پھرانے لے جایا کرو کیونکہ سائرہ نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے، سیر و تفریح سے اس کا دل بہل جائے گا۔ یہ خوش رہے گی۔ وہ اب سولہ برس کی تھی۔ میں چاہتی تھی اپنے والد کے گھر واپس چلی جائے۔ جب بھی اُسے بھجوانے کی بات کرتی، وہ رونے لگتی۔ کہتی یہیں رہنا ہے، واپس نہ بھیجیں وہ رو رو کر برا حال کر لیتی۔

ایک دن مجھے جٹھانی کے گھر جانا تھا۔ دوپہر کا وقت تھا۔ بچے سو رہے تھے۔ میں نے سائرہ کو ان کے پاس گھر پر رہنے دیا اور گھر سے چلی گئی۔ اب جب کہیں نزدیک جانا ہوتا، وہ کہتی۔ آپا، آپ چلی جائیں میں بچوں کو سنبھال لوں گی۔ مجھے بھی سہولت ہو گئی۔ اس کے پاس بچے چھوڑ کر رشتے داروں کے گھر چلی جاتی تھی کیونکہ اسلم تو دکان بند کر کے رات کو ہی لوٹتے تھے۔ایک دن تائی نے بلوایا۔ ان سے مل کر واپس آئی تو دیکھا اسلم دکان سے گھر آئے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان کا یہ گھر لوٹ کر آنے کا وقت نہیں تھا۔ کیا آج جلدی آ گئے ۔ ہاں طبیعت ٹھیک نہ تھی۔ سامنے والے کی ریڑھی سے چھولے منگوا کر کھائے تو پیٹ میں مروڑ ہونے لگی تو میں دکان بند کر کے آ گیا۔

وہ جھینپے جھینپے سے تھے۔ میں نے کچھ نوٹس نہ لیا۔ اب جب میں کہیں جاتی، سائرہ گھر میں ہوتی وہ آجاتے۔ اور کوئی بہانہ بناتے کہ سخت بھوک لگی تھی، کھانا گھر بھول گیا تھا وغیرہ… سائرہ بھی مجھ سے نظریں چُراتی اور کافی نروس ہوتی۔ اسلم کی ہنسی بدلی سی ہوتی۔ مجھے لگتا کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔ لیکن اس بات کا ذکر کسی سے کرنا نہ چاہتی تھی کیونکہ میرے شوہر کی میرے میکے میں بڑی عزت تھی۔ خاندان میں ان کا ایک مقام تھا۔ تاہم ان دنوں جس کرب سے گزری، الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔ سوچ سوچ کر بیمار پڑ گئی۔

ساس کو پتا چلا کہ بیمار پڑی ہوں تو وہ پوچھنے آئیں۔ بتایا کہ سائرہ کا والد اسے واپس لینے کا مطالبہ کر رہا ہے کیونکہ بیٹی کی بات چیت اپنے بھائی کے لڑکے سے طے کر رکھی ہے، اب منگنی کرنا چاہتا ہے۔ میں نے ابھی ہاں، نہیں کہی، سوچا تم بیمار پڑی ہو اس کے چلے جانے سے مزید تنگ ہو جائوگی۔ ہرگز نہیں۔ خالہ جی۔ میں نے خوش ہو کر کہا۔ آپ اسے آج ہی لے جائیے، میں بالکل بھی پریشان نہیں ہوں گی۔ ساس سمجھ گئیں اور سائرہ کو تیاری کے لیے کہا تو وہ رونے لگی۔ جانا نہ چاہتی تھی مگر میں نے ہمدردی جتائی اور اصرار کیا کہ چلی جائو۔ تمہارے والد ورنہ ناراض ہو جائیں گے۔ وہ روتی ہوئی چلی گئی۔ میں نے سکون کا سانس لیا۔ میری ساری بیماری ختم ہو گئی۔

اس کے جانے کے بعد ایک دن آسیہ آئی، بولی۔ آپا، اچھا ہوا آپ نے سائرہ کو بھجوا دیا۔ وہ اسلم بھائی کو پسند کرتی تھی اور مجھ سے اسلم بھائی کی باتیں کرتی تھی کہ کتنے خوبصورت اور ہینڈ سم ہیں۔ وہ ان سے شادی کرنے کی خواہش مند تھی۔ میں نے آسیہ کو ڈانٹا۔ شرم کرو۔ لڑکیوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ایسی باتیں کریں، پہلے تو تم اس کی سہیلی تھیں اور اب پیٹھ پیچھے اس کی برائیاں کرنے لگی ہو، دوبارہ ایسی بات اپنے لبوں پر مت لانا… سمجھیں۔ وہ چلی گئی۔ پھر نہ آئی مگر میرے دل میں ایک ایسا کانٹا چبھو گئی جو آج تک نہیں نکلا۔ میاں بیوی کا رشتہ اعتماد اور بھرم کی ڈور سے بندھا ہوتا ہے۔ ان دنوں کا کرب بتا نہیں سکتی جو میں نے خاموشی سے سہا لیکن لبوں پر احرفِ شکایت نہ لائی۔ کیونکہ میں اس رشتے کے بھرم کو توڑنا نہیں چاہتی تھی۔ (ز…ملتان)

Latest Posts

Related POSTS