Dil Main Rehte Hain | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1757
کبھی کبھی بڑوں کے فیصلوں پر چھوٹوں کو بہت دکھ اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ ان کو بڑوں کا ہر حکم ماننا ہوتا ہے۔ میری زندگی پر بھی بڑوں کی مرضی کے بہت گہرے اثرات مرتب ہوئے۔
ہمارے گھر کے حالات تو ٹھیک تھے لیکن میں بچپن سے اتنی باشعور تھی کہ کسی پر بوجھ بننے کی عادت نہ تھی۔ نہم میں تھی کہ پڑھائی کے ساتھ سلائی، کڑھائی کا بھی کورس شروع کردیا تاکہ گھر پر سلائی کرکے بہن بھائیوں کے تعلیمی اخراجات میں بہتری لاسکوں۔
پانچ وقت نماز کی پابندی کرتی تھی اور مجھے ایسے لوگ پسند تھے جو صوم وصلوٰۃ کے پابند ہوں کیونکہ میں سمجھتی تھی کہ ایسے لوگ اپنے وعدے کے پکے ہوتے ہیں۔ سلائی سیکھنے کے بعد میں نے بہن بھائیوں کے کپڑے گھر پر سلائی کرنے شروع کردئیے اس طرح بچت کی راہ نکال لی۔
انہی دنوں ممانی کے بھائی کی شادی کا بلاوا آگیا اور ہم وہاں چلے گئے۔ میری ممانی کے چھوٹے بھائی آئے ہوئے تھے نام فہیم تھا۔ وہ قرآن پاک حفظ کررہے تھے اور انہیں پانچ وقت کی نماز پڑھتے دیکھا تو مجھے ان کی یہ بات اچھی لگی۔ جتنے لڑکے شادی کے گھر نظر آئے وہ ان سب میں زیادہ بہتر اور سنجیدہ تھے۔ غرض گھر آنے کے بعد دل اس خوب سیرت کو بھول نہ پایا۔
زندگی میں پہلے کبھی کسی کو اس طرح نہ دیکھا تھا۔ اس دور میں اتنی سادگی کہ مجھے ان کے رہن سہن پر تعجب ہوا اور یاد بناکر میں انہیں ساتھ لے آئی۔
ممانی اور ماموں اکثر ہمارے گھر آتے تھے۔ اس بار ان کے ابو امی بھی ساتھ آئے۔ انہوں نے فہیم کے لیے میرا ہاتھ مانگ لیا۔ میں تو خوش ہوگئی کیونکہ یہ شخص ہی زندگی میں پہلی بار پسند آیا تھا۔ امی ابو نے بھی لڑکے کی سیرت دیکھ کر ہاں کردی۔
اب فہیم کے والدین اکثر ہمارے گھر آنے لگے۔ وہ منگنی کے لیے زور دے رہے تھے۔ مجھے پڑھائی کی فکر تھی۔ ابو نے بھی کہا کہ ہم نے ’’ہاں‘‘ کردی ہے تو اب بات پکی سمجھو، منگنی بعد میں ہوجائے گی۔
انہی دنوں محلے کے ایک اسکول میں پڑھنے گئی تو انہوں نے کہا کہ ہم کو ایک ٹیچر کی ضرورت ہے اگر چاہو تو ہمارے اسکول میں پڑھا دو اور شام کو ہماری اکیڈمی میں پڑھ لینا۔ مجھے یہ شرط منظور تھی کیونکہ پڑھائی میں لائق تھی۔ انہوں نے ٹیچر رکھ لیا۔
عید پر ممانی اور ان کی بہن آئیں کہا کہ ہم نے عید سے پہلے منگنی کرنی ہے۔ ابو نہ مانے کہ پہلے میں اپنی دو بہنوں کی شادی کروں گا پھر بیٹی کی رسم منگنی کروں گا۔ میری تین پھوپھیاں غیرشادی شدہ تھیں۔
عید آگئی۔ امی نے رشتہ داروں کو فون پر مبارک دی اور کہا کہ ممانی کا بھی نمبر ملا دو۔ ان کو بھی مبارک باد کہنی ہے۔ میں نے نمبر ملایا تو فہیم نے اٹھالیا وہ ممانی کے گھر عید ملنے آئے ہوئے تھے۔
اب میں پریشان کھڑی تھی کہ کیا کہوں؟ بہرحال سلام کیا اور عید مبارک کہا۔ تو انہوں نے بھی جواب میں خیر مبارک کہا اور گھر والوں کی خیریت دریافت کی۔ میرے تمام گھر والوں سے بات کی۔
مجھ کو ان کی عادات تو پہلے ہی اچھی لگی تھیں، ان کی آواز بھی اچھی لگی۔ بات کرنے کا انداز بہت شائستہ تھا۔ جب میں نے خدا حافظ کہا تو فہیم نے پوچھا۔
دوبارہ کال کب کریں گی… میں نے جواب دیا کہ ہم اتوار کے دن گھر پر ہوتے ہیں۔ اتنی بات کہہ کر فون رکھ دیا۔
میں تو یہ بات کہہ کر بھول گئی۔ وہ نہ بھول پائے ۔اتوار کے دن انہوں نے شام کو فون کیا۔ امی سے بات کرنے کا بہانہ بنایا۔ امی سے بات کرلی تو میری چھوٹی بہن سے بات کرکے میرا حال پوچھا۔ بہن نے مجھے فون پکڑا دیا تو مجھ سے بھی بات کرلی۔
اب وہ اتوار کو فون کرنے لگے اور میں مطمئن ہوگئی کہ جس شخص سے رشتہ طے ہوا ہے وہ بھی مجھے پسند کرتا ہے۔
اب میں فرسٹ ائیر میں تھی۔ ان کے گھر والے آئے اور ہم بھی ان کے گھر جاتے۔ اسی دوران ایک لڑکی میری دوست بن گئی۔ جس کا نام نسرین تھا وہ اور اس کی کزن عائشہ تھی مجھے دل سے چاہتی تھیں۔ ان دونوں نے ہمیشہ مجھے نیکی کی ترغیب دی۔ خدا ہر کسی کو اچھے دوست دے کہ جس سے زندگی خوبصورت ہوجائے۔ کہتے ہیں کہ ایک اچھا دوست خدا کی عطا ہوتا ہے اور مجھ پر خدا کا کرم تھا۔
ہر اتوار فہیم کا فون آنے لگا۔ اچھی باتیں کرتے۔ دین کے اچھے اصول بتاتے۔ خاص طور پر یہ کہ ہمیشہ ماں باپ کی فرمانبرداری کرنا۔ جو وہ کہیں ان کا ہر حکم بجا لانا… چاہے تمہاری جان پر کیوں نہ بن جائے۔ وقت تیزی سے گزرنے لگا یہاں تک کہ دوسری عید آگئی۔
دن کو میرے سب گھر والوں سے بات کی مجھ سے بات نہ ہو سکی تو رات کو فون کیا۔ میرے دل کو بھی انتظار تھا لہٰذا بات کرتے ہوئے آواز گلوگیر ہوگئی۔ فہیم نے پوچھا کیوں عید کے دن اداس لہجے میں بول رہی ہو۔ خیر تو ہے۔
میں نے اپنا خدشہ ظاہر کردیا کہ فہیم کہیں اپنا ارادہ نہ بدل دینا۔ بے شک ابو منگنی کی رسم نہیں کررہے مگر ان کا ارادہ آپ کی طرف پکا ہے۔
اس نے جواب دیا۔ ناز… میں بھی اپنے ارادے پر قائم ہوں۔ وعدہ کرتا ہوں کہ تم کو ہی شریکِ زندگی بنائوں گا لیکن آگے اللہ تعالیٰ کی مرضی کیونکہ آنے والا وقت کسی نے نہیں دیکھا۔
جن دنوں سیکنڈ ائیر میں تھی، ایک روز آنٹی آگئیں۔ اس دن بارش ہورہی تھی اور موسم بہت خوبصورت تھا۔ میں ان کو دیکھ کر ہمیشہ کی طرح خوش ہوگئی۔ مجھے خوش دیکھ کر وہ بولیں نازلی چلو ذرا باہر چہل قدمی کرتے ہیں، بوندا باندی میں لطف آجائے گا۔ خوشی خوشی ان کے ساتھ چل دی۔
بارش تھم گئی، بہت پیارا موسم تھا۔ سامنے پارک تھا۔ چلو دو گھڑی وہاں چل کر بیٹھتے ہیں۔
میرے ذہن میں تو وہ میری ہونے والی ساس تھیں، فہیم کی امی تھیں… کیسے ان کی بات ٹال دیتی۔
پارک میں پتھر کی بینچ پر بیٹھے۔ کہنے لگیں… ناز تم سے ایک بات کہنی ہے مانوں گی؟ میں نے جواب دیا۔ آنٹی آپ کہئے، آپ کی ہر بات مانوں گی۔ آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔
ہم چاہتے ہیں کہ تمہاری شادی فہیم کے چھوٹے بھائی نعیم سے کریں۔ یہ میں نے اس لیے کہا ہے کہ فہیم نے میٹرک کے بعد پڑھائی چھوڑ دی ہے جبکہ تم کالج میں ہو۔ اب تم اپنے گھر والوں سے کہو کہ مجھے فہیم سے نہیں نعیم سے شادی کرنی ہے کیونکہ نعیم بھی کالج میں پڑھتا ہے۔
ان کی یہ بات سن کر حیرت زدہ رہ گئی۔ دل کی ایسی کیفیت ہوئی کہ بدن کانپنے لگا اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ بمشکل اس قدر کہہ سکی۔ آنٹی کیا فہیم مان جائیں گے؟
ہاں وہ میرا فرمانبردار بیٹا ہے، میں اُسے منالوں گی۔ اُسے منانا ہمارا کام ہے۔ اب میں کوئی جواب نہ دے سکی۔ بارش ہوئی تھی۔ لگتا تھا آسمان بھی رویا ہے۔ میری آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی لگ گئی، مجھے روتا پاکر بولیں… ہم بدلے میں تمہارے نام اپنی شہر والی کوٹھی لکھ دیں گے۔ ہماری خوشی پوری کردو ہم تمہاری ہر بات مانیں گے۔
ہمت کرکے کہا۔ میں نے تو کبھی یہ نہیں سوچا کہ فہیم کم پڑھے لکھے ہیں۔ انسان کا کردار خوبصورت ہونا چاہئے۔ فہیم جیسے بھی ہیں میری نظر میں ٹھیک ہیں۔ مجھے ان کے بدلے دنیا کی کوئی دولت نہیں چاہئے۔ پلیزٖ! آنٹی آپ ایسا نہ کریں مگر وہ نہ مانیں۔ مجھے یقین تھا کہ فہیم خود اور ان کے والد بھی آنٹی کے اس بدلتے فیصلہ کو قبول نہ کریں گے کیونکہ وہ مجھ سے پیار کرتے تھے لیکن جب قسمت ساتھ چھوڑ جائے تو گلہ کیسا۔
رات گزر گئی صبح آنٹی نے پھر مجھ سے کہا۔ ناز بیٹی ضرور میری بات پر غور کرنا۔ سمجھ نہ پا رہی تھی اب کیا کروں۔ آنٹی تو چلی گئیں اور میں بے جان انسان کی طرح دن گزارنے لگی۔ اچانک خیال آیا کیوں نہ فہیم سے براہ راست اس مسئلے کے بارے میں بات کرلوں۔
فون کرکے ان کو بتایا، وہ بولے… سوچ کر جواب دوں گا۔ اور پریشان ہوگئی۔ اب اپنے خدا سے سارا دن دعائیں مانگتی کہ اے اللہ میرے والدین کی عزت رہ جائے۔ میرے اور فہیم کے رشتے کی بات سارے خاندان کو معلوم ہوچکی ہے۔ لوگ کیا کہیں گے۔ اس سوچ سے اور پریشان رہنے لگی۔
اگلے روز فہیم نے فون کیا اور اس نے جو باتیں کہیں میری سمجھ سے باہر تھیں۔ بتایا کہ آج سے تین ماہ قبل امی اپنی کزن کے بیٹے کی شادی میں گئی تھیں، وہاں ان کی کزن نے کہا کہ میں نے اپنی بیٹی عمارہ تم کو دے دی ہے، اب یہ میری بیٹی نہیں تمہاری بیٹی ہے۔ امی یہ بات سن کر چپ ہوگئیں۔ امی کی خاموشی کو انہوں نے رضامندی سمجھ لیا۔ امی نے مجھے بتایا تو میں نے عمارہ سے شادی کرنے سے انکار کردیا۔ ابو بھی نہیں مانے لیکن امی کہتی ہیں کہ اب میں اپنی بہن کو انکار نہیں کرسکتی۔ فہیم کے لیے عمارہ ہی لوں گی البتہ ناز کا رشتہ نعیم سے کرلیتے ہیں۔ دونوں پڑھ رہے ہیں۔ تعلیم یافتہ کا جوڑ تعلیم یافتہ سے ہی بنتا ہے۔ جبکہ عمارہ صرف آٹھویں پاس ہے۔ میں نہیں مان رہا تھا تو امی رونے لگیں کہا کہ میری بات نہ مانو گے تو دودھ نہ بخشوں گی۔ آخر حرج ہی کیا ہے۔ اگر تمہارا رشتہ عمارہ سے اور ناز کا نعیم سے ہوجائے۔ ہم ناز کے والدین سے انکار تو نہیں کررہے ہیں۔ اب امی نے مجھے اس قدر مجبور کردیا ہے کہ ماں کی حکم عدولی سے جی ڈر رہا ہے۔ ناز مجھے معاف کردینا کیونکہ میں نے یہی سیکھا ہے کہ والدین کی فرمانبرداری میں ہی عافیت ہے۔ خاص طور پر ماں کو کبھی ناراض نہ کرنا چاہئے۔ ناز، خدا کے لیے مجھے معاف کردینا۔ میں نے تمہارا دل دکھایا ہے۔ لیکن کیا کروں امی کی منت سماجت کو بھی نظرانداز نہیں کرسکتا۔
فہیم کی یہ باتیں سن کر فون پر ہی زار و قطار رونے لگی اور فون بند کردیا۔ ساری رات روتی رہی لیکن اس سے کیا فرق پڑتا تھا۔ ہفتہ گزر گیا، دن رات اس کی باتیں یاد کرکے روتی۔ اس نے ہفتہ بعد پھر فون کیا۔
ناز معاف کردو۔ میں قصور وار ہوں۔ مجھے پتا ہے تم نے مجھے ذہن میں جگہ دے دی ہے۔ اسی لیے اب تم کو بہت تکلیف سے گزرنا پڑ رہا ہے۔
آپ اپنی دنیا بسائو… ہماری خیر ہے۔ میں نے جواب دیا۔
ناز… اب تم خود اپنے والدین سے مجھ سے شادی کے لیے انکار کردو اور میرے چھوٹے بھائی سے شادی کا عندیہ ظاہر کردو۔ امید ہے وہ مان جائیں گے کیونکہ انہیں تو رشتہ کرنا ہے۔ بڑے سے نہ سہی چھوٹے سے سہی، گھر تو ایک ہی ہے۔
میں نے کہا اگر آپ عمارہ سے شادی پر رضامند ہیں تو ٹھیک ہے۔ میں آپ کی زندگی سے دور ہوجاتی ہوں۔ میں آپ کے ساتھ شادی سے انکار کردوں گی مگر اس شرط پر کہ آپ کی بھابھی بھی نہیں بنوں گی۔ میری یہ بات سن کر وہ رونے لگے۔ میں نے کہا۔ روئیے مت… رونے کے لیے ہم جو ہیں۔ عمارہ کو قبول کررہے ہیں تو پھر خوشی خوشی قبول کرنا چاہئے۔
کچھ دنوں بعد ممانی آئیں اور علیحدہ کمرے میں مجھ سے بات کی کہ ناز خدارا… فہیم سے شادی سے انکارکردو اور نعیم کا رشتہ مان لو۔ ہماری مجبوری ہے، اگر فہیم سے عمارہ کا رشتہ نہ کریں گے تو میری والدہ اپنی برادری سے کٹ جائیں گی۔ عمارہ، نعیم سے بڑی ہے اس کا رشتہ چھوٹے سے نہیں ہوسکتا ورنہ میں بات بنالیتی۔ وہ بھی منت سماجت پر اُتر آئیں۔ میں نے ایک بار ممانی کو ہاتھ جوڑے اور منت کی کہ ایسا نہ کریں۔ مجھ کو یہ فیصلہ قبول نہیں۔ مجھے دکھ کے الائو میں نہ گرائیں۔ وہ نہ مانیں، کہا میں بے بس ہوں۔ آخر میں نے کہہ دیا کہ آپ جیت گئے اور میں ہار گئی۔ میرے ساتھ میرا خدا ہے وہی دکھ اور خوشیاں دیتا ہے۔ جو میرے نصیب کا دکھ تھا مجھے مل گیا ہے۔ شاید کبھی خوشی بھی مل جائے۔
ایک روز فہیم کے ابو کا فون آیا۔ بولے ناز بیٹی تم پریشان نہ ہو، ہم ضرور تم کو اپنے گھر لے کر آئیں گے۔ مگر وہ نہیں سمجھ سکے کہ زندگی میں نے گزارنی ہے۔ میں نے بات ٹال دی۔ ان لوگوں کے فیصلے بدلنے سے ابو بھی دل گرفتہ تھے۔ ان کی دل گرفتگی کو دیکھ کر میں نے کہہ دیا۔ ابو میں ابھی کسی سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔ آگے پڑھنا چاہتی ہوں۔ فی الحال مجھے فہیم اور نعیم دونوں قبول نہیں ہیں۔ آپ بے فکر ہوجائیں اللہ تعالیٰ بہتری کردے گا۔
سالانہ امتحان میں چند دن باقی تھے کہ فہیم کا فون آیا۔ بتایا کہ صبح میری عمارہ سے منگنی ہے خدارا معاف کردینا۔ یہ سب کچھ میں نے اپنی والدہ کی فرمانبرداری میں کیا ہے ورنہ میرا دل جانتا ہے کہ مجھ پر کیا قیامت گزر رہی ہے۔
قیامت تو مجھ پر ٹوٹ پڑی تھی۔ آنسو ایک پل کو روکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ ممانی آئی ہوئی تھیں۔ میری سرخ آنکھیں دیکھ کر گلے لگا لیا اور خود بھی رونے لگیں۔ لیکن اب سوائے رونے کے کیا بچا تھا۔
فہیم کی شادی تھی رشتہ داری کی وجہ سے ممانی نے ہم کو بھی کارڈ دیا۔ وہ دن کیسے گزرا بتا نہیں سکتی۔ وہ دن کبھی نہ بھولے گا۔ دعا کی کہ خدا فہیم اور ان کے گھر والوں کو ڈھیروں خوشیاں عطا کرے۔ میری خوشیاں بھی ان کو مل جائیں۔
اس کے بعد کبھی ان لوگوں نے ہم سے بات کی اور نہ علاقہ رکھا۔ کبھی کسی نے فون تک نہ کیا۔ جیسے ہمارے اور ان کے درمیان کچھ تعلق ہی نہ تھا۔ بے شک فہیم کی یاد دل میں رہ گئی لیکن میں خود ان سے دور رہنا چاہتی تھی تاکہ ان کی خوشیوں میں خلل نہ پڑے۔ آج اس بات کو کئی برس گزر چکے ہیں لیکن فہیم کو نہ بھلا سکی۔ وہ یاد بن کر اب بھی میرے دل میں رہتے ہیں۔
(ن… بورے والا)