Dosri Choot | Episode 1

262
’’کیا بات ہے، آج آپ بہت خوش دِکھائی دے رہی ہیں۔‘‘ میں نے بہت عرصے بعد اَمّی کو بات بات پر مسکراتے دیکھ کر پوچھا۔
’’تو سنے گی تو، تو بھی خوش ہو جائے گی۔‘‘ امّی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ایسی کیا بات ہے؟‘‘ مجھے تجسس ہوا۔
’’کھانا کھا لے پھر بتائوں گی۔‘‘
’’نہیں… پہلے بتائیں۔‘‘ میں نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا۔
امّی جو بجلی نہ ہونے کے باعث میرے نزدیک ہی بیٹھی دستی پنکھا گھما کر مجھے اور خود کو شدید گرمی اور حبس سے قدرے نجات فراہم کر رہی تھیں، مسکراتے ہوئے بولیں۔ ’’پہلے اطمینان سے کھانا کھا لے پھر بتائوں گی۔‘‘
’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘ میں نے کھانے کی ٹرے اپنے سامنے سے ہٹا کر ایک طرف کر دی۔
’’میرا کہنا غضب ہوگیا… اس سے تو بہتر تھا میں کہہ دیتی کوئی بات نہیں۔‘‘ میرا کھانے سے ہاتھ کھینچنا اور پھر ٹرے کو پرے ہٹا دینا امّی کو ملول کر گیا۔
’’بتائیں نا کیا بات ہے؟‘‘ میں نے اصرار کیا۔
’’وہ جو اپنا کرائے دار ہے آصف زمان… اس نے تجھ سے نکاح کا پیغام دیا ہے۔‘‘ امّی بالآخر بتانے پر مجبور ہوگئیں۔
’’پاگل تو نہیں ہوگیا وہ؟‘‘ میں نے کھانے کی ٹرے پھر اپنے سامنے کر لی۔
’’کیوں! پاگل ہونے کی کیا بات!‘‘
میں نے ایک نظر امّی کو دیکھا۔ ’’آپ شاید بھول رہی ہیں کہ وہ شادی شدہ ہے اور آٹھ بچوں کا باپ۔‘‘
’’نہیں… میں بھلا کیوں بھولنے لگی۔‘‘
’’پھر بھی اتنی خوش دِکھ رہی ہیں!‘‘ میں نے نوالہ منہ میں رکھا۔
’’کسی سے تو تیرا گھر بسانا ہی ہے۔‘‘
’’گھر بسنا ہوتا تو اُجڑتا ہی کیوں۔‘‘ میری آواز بھرّا گئی اور آنسو پلکوں پر آ کر تھم گئے۔
’’دفع کر… بُھول جا۔‘‘
بھولنا آسان نہیں تھا۔ آسان ہوتا بھی کیسے!
وہ میری زندگی کا سب سے بڑا سانحہ تھا۔ اتنی دُکھی تو میں ابّو کی موت پر بھی نہیں ہوئی تھی۔ امّی کی گرم آغوش نے ابّو کی جدائی کا دُکھ کم کر دیا تھا مگر ابّو کی موت کے کئی سال بعد میری شادی کے چند ہی ماہ بعد طلاق ایسا صدمہ تھا جسے امّی کی آغوش میں ملنے والی حدّت بھی تسلی نہ دے پائی تھی۔ نوالہ میرے حلق میں اَٹکنے لگا۔
’’ایک آدمی کے پیچھے زندگی برباد نہیں کی جاتی۔‘‘ امّی بولیں۔
میں امّی کو یہ بتانے سے قاصر تھی کہ اس ایک آدمی کے پیچھے میری زندگی ہی کیا دُنیا برباد ہوگئی تھی۔ میری آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اس درد کے گواہ تھے جو میں اس آدمی سے اپنا تعلق ٹوٹنے کے بعد تیرہ شبوں میں آنسوئوں اور گھٹی گھٹی سسکیوں کی صورت سہتی رہی تھی۔ مجھے یاد نہیں تھی کوئی ایسی شب جو میں نے اپنا گھر ٹوٹنے کے بعد اس بے مہر شخص کو یاد کیے بنا گزاری ہو۔ درد میری رَگ رَگ میں اُتر گیا تھا۔
’’آٹھ بچوں کا باپ لگتا تو نہیں وہ۔‘‘ امّی نے پنکھے سے مجھے ہوا دیتے ہوئے کہا۔
’’نہ لگنے سے کیا ہوتا ہے… اس نے بتا تو رکھا ہے نا آپ کو۔‘‘
’’وہ کہتا ہے اس کی بیوی جاہل، اَن پڑھ ہے۔ اس سے اس کا مزاج نہیں ملتا۔‘‘
’’مزاج ملے بغیر ہی آٹھ بچّے پیدا ہوگئے اس سے۔‘‘
’’وہ خاندان کی ہے… گائوں، دیہاتوں میں اکثر ایسے ہی بے جوڑ رشتے ہو جاتے ہیں۔ یہ پڑھا لکھا، افسر آدمی ہے۔ بڑے لوگوں میں اُٹھتا بیٹھتا ہے۔ اُونچی محفلوں میں جاتا ہے۔ اسے پڑھی لکھی عورت چاہیے جو اس کے ساتھ چل سکے۔‘‘
’’اتنے عرصے بعد خیال آیا اسے!‘‘
’’خیر اس سے ہمیں بحث نہیں… ہمارا مسئلہ حل ہونا چاہیے۔‘‘
’’آپ مجھے مسئلہ سمجھتی ہیں۔‘‘ میں نے شاکی لہجے میں کہا۔
’’میں روگی عورت۔ کبھی کھانسی، کبھی بخار، کبھی بلڈپریشر ہائی تو کبھی الرجی… ساٹھ کی ہونے والی ہوں۔ زندگی کا کوئی بھروسا نہیں۔ ہر وقت دل کو یہی فکر لگی رہتی ہے کہ میرے بعد تیرا کیا ہوگا۔‘‘
’’آپ کو ہزار بار سمجھایا ہے خواہ مخواہ کی فکریں دل سے نہ لگایا کریں۔ زندگی کا تو کسی کو بھی کوئی بھروسا نہیں۔ کیا پتا آپ سے پہلے میں ہی چلی جائوں۔‘‘ میں نے کہا۔
’’بکواس مت کر۔‘‘ امّی نے پنکھے کی ڈنڈی دھیرے سے میرے کندھے پر ماری۔ ’’میں ناشدنی کیا اولاد کا صدمہ دیکھنے کو بیٹھی رہوں گی… مجھ اندھی کی ایک ہی تو لاٹھی ہے۔‘‘
’’اور وہ بھی ٹوٹی، پھوٹی اور کمزور سی۔‘‘
’’جیسی بھی ہے۔ ہے تو… آس تو ہے۔‘‘
میں اپنی بیوہ ماں کی اکلوتی اور نہایت لاڈلی اولاد تھی۔ مگر اس سے اس جفا جو شخص کو کیا فرق پڑا تھا۔ اس نے تو مجھے اپنی زندگی سے ایسے نکال پھینکا تھا جیسے دُودھ سے مکھّی!
’’تیرا گھر دوبارہ بس جائے تو میرے دل کو چین آئے۔‘‘
’’امّی آپ اپنی اس خواہش کو ترک نہیں کر سکتیں۔‘‘
’’میری جگہ ہوتی تو… تو میں تجھ سے پوچھتی۔‘‘
’’آپ کی جگہ میں کیا، دُنیا کا کوئی فرد بھی نہیں ہو سکتا… آپ میری پیاری سی میٹھی میٹھی ماں ہیں۔‘‘
امّی نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھ دیا اور نہایت لجاجت سے بولیں۔ ’’اچھا رشتہ ہے۔ بار بار ایسے موقعے نہیں ملتے۔ وہ کہتا ہے اس کی پہلی بیوی گائوں میں ہی رہے گی۔ تجھے یہ اپنے ساتھ شہر میں رکھے گا۔ مردوں کی بھی مجبوریاں ہوتی ہیں میرے بچّے۔‘‘
’’امّی پلیز!‘‘
’’تجھے میری قسم۔‘‘
میں چپ ہو رہی مگر میری خاموشی کا مطلب رضامندی نہیں تھا۔ یہ میری زندگی کا معاملہ تھا جسے ایک مرتبہ پہلے بھی دائو پر لگا کر میں بازی ہار چکی تھی اور اس ہار نے مجھے اتنا دِل شکستہ کر رکھا تھا کہ میں دوبارہ اس مشکل میں نہیں پڑنا چاہتی تھی۔
٭…٭…٭
’’شادی ایک جوا ہے۔‘‘ میری پھوپھی جن کی ازدواجی زندگی میری طرح ناکام رہی تھی، کہا کرتی تھیں۔
’’کوئی جوا نہیں۔ شادی تو ایک بندھن ہے جو پچھم کی عورت اور پورب کے مرد کو اٹوٹ رشتے میں باندھ دیتا ہے۔‘‘ امّی پھپھو کی نفی کرتیں۔ شاید اس لیے کہ ان کا اپنا تجربہ مختلف تھا۔
ابّو اور امّی دو مختلف گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ شادی نے انہیں میاں بیوی کے رشتے میں باندھا۔ تقریباً پندرہ سالہ ازدواجی زندگی میں وہ ایک دُوسرے سے لیلیٰ مجنوں کا سا عشق کرتے رہے۔ شادی کے تقریباً ڈھائی سال بعد میں ان کی زندگی میں آئی اور بقول امّی میری پیدائش نے ان کے پیار کےرشتے کو اور مضبوط کر دیا۔ ابّو کوئی امیر آدمی نہیں تھے البتہ خوشحال تھے۔ امّی کو خوش رکھنے کے لیے ان کی ہر ضرورت، ہر خواہش پوری کرتے تھے۔ شادی کے بعد انہوں نے امّی کو ان کے نام پر پانچ مرلے زمین پر دو منزلہ مکان بنا کر دیا جسے امّی نے نہایت محبت اور خلوص سے گھر بنایا۔ سب کچھ بہت اچھا، بہت ٹھیک تھا کہ ایک روز ابّو اچانک امّی کو چھوڑ کر اُس جہان چلے گئے، جہاں گیا کوئی ذِی رُوح آج تک واپس نہیں پلٹا۔ امّی کے پاس اب صرف میں تھی۔ امّی کی عدّت گزری، حالت سنٓبھلی اور کچھ وقت گزرا تو ان کے ہمدردوں نے انہیں دوبارہ کسی نیک اور شریف آدمی سے نکاح پر آمادہ کرنے کی بہت کوشش کی مگر امّی نے صاف انکار کر دیا۔
’’اکیلے کیسے زندگی گزارو گی؟‘‘ امّی کے بہن بھائیوں نے سوال اُٹھایا۔
’’اکیلی کہاں ہوں، میری بچی ہے نا میرے پاس۔ سہارا دے گی مجھے۔‘‘
’’وہ خود سہارے کی محتاج ہے تمہیں کیا سہارا دے گی۔‘‘
’’ہم ماں بیٹی ایک دُوسرے کا سہارا بن جائیں گی۔‘‘
’’عورت، مرد کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتی۔‘‘
’’میں گزاروں گی۔‘‘
امّی کی جرأت نے سب کو مایوس کر دیا۔ ہم ماں، بیٹی ایک دُوسرے کا سہارا بن گئے۔ مکان کا ایک حصہ امّی نے کرائے پر چڑھا دیا۔ دُوسرا ہم ماں بیٹی کا مسکن بن گیا۔ امّی میرے لیے اور میں امّی کے لیے زندگی کا دُوسرا نام بن گئے۔ ہم یک جان دو قالب تھے۔ امّی مجھے دیکھ کر جیتیں اور میں سایے کی طرح امّی کے ساتھ چمٹی رہتی۔ مکان کے ایک حصے سے ملنے والا کرایہ ہم ماں بیٹی کی بخوبی کفالت کرتا۔
روزمرّہ ضروریات کے علاوہ امّی کی اپنی ذاتی ضرورتیں تو برائے نام تھیں۔ ابّو کے بعد ان کے سارے شوق، تمام خواہشیں منہ دُبکا کر پڑ گئی تھیں۔ امّی کو بس میری ضرورتوں اور خواہشوں کا خیال رہتا۔
مجھے انہوں نے ایک نجی تعلیمی ادارے میں جہاں ذریعۂ تعلیم انگریزی تھا داخلہ دلوایا تھا۔ میٹرک کے بعد میں نے ایف ایس سی کیا۔ امّی چاہتی تھیں میں ڈاکٹر بنوں۔ خود میری بھی یہی خواہش تھی مگر میں ڈاکٹر بننے کے لیے اپنی اہلیت ثابت کرنے میں ناکام رہی، چنانچہ گریجویشن کے لیے اسی کالج میں اپنی تعلیم جاری رکھی۔
میرے لیے رشتے تو سولہ سترہ سال کی عمر ہی میں آنا شروع ہو چکے تھے مگر امّی مجھے اتنی جلدی رُخصت نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ سو آنے والے رشتوں میں کہیں بات آگے نہ بڑھ سکی۔ گریجویشن کے بعد امّی کو میری شادی کی فکر ہوئی اور انہوں نے اپنے پرایوں میں کسی مناسب رشتے کی تلاش شروع کی۔ امّی کی ایک ملنے والی نے ایک رشتہ بتایا اور لڑکے کے ساتھ اس کے گھر والوں کی تعریف میں یوں زمین آسمان کے قلابے ملائے کہ امّی لڑکے اور اس کے گھر والوں کو اپنے ہاں مدعو کرنے پر مجبور ہوگئیں۔
لڑکا جس کا نام زبیر تھا۔ تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ والد فوت ہو چکے تھے۔ والدہ حیات تھیں۔ تینوں بہنیں اپنے اپنے گھر کی تھیں۔ زبیر کسی فلمی ہیرو کی طرح خوبرو اور اسمارٹ تھا۔ ماں اور دو بہنیں ہمراہ آئی تھیں۔ تینوں خوش شکل، خوش پوش اور خوش گفتار تھیں۔ زبیر کی والدہ اور بہنوں نے اپنی خوش گفتاری سے ذرا سی دیر میں امّی کو اپنا گرویدہ کرلیا۔
’’بہن! میں تو اپنی تینوں بیٹیاں ان کے گھروں کی کر چکی، اب مجھے اپنے گھر کے لیے ایک اچھی بیٹی چاہیے۔‘‘ زبیر کی والدہ نے کہا۔
’’مجھے بھی ایک اچھا بیٹا چاہیے۔‘‘ امّی بولیں۔
’’اِن شاء اللہ یہ خود کو ایک اچھا بیٹا ہی ثابت کریں گے۔‘‘ زبیر کی والدہ نے بیٹے کو محبت سے دیکھتے ہوئے امّی کو یقین دلانے کی کوشش کی۔
زبیر نے یونیورسٹی سے سولہ سالہ تعلیم مکمل کر رکھی تھی۔ ایک پرائیویٹ ادارے میں ملازمت بھی کر رہا تھا۔
’’اللہ کا شکر ہے گھر میں کوئی تنگی نہیں۔ بس گھر کرائے کا ہے، اپنا بھی بن جائے گا۔ زبیر کے پاپا نے پلاٹ تو کب کا خریدا ہوا تھا۔ اپنا گھر بنانے کا ارادہ بھی تھا لیکن بیٹیوں کی شادیوں کا سلسلہ شروع ہوا تو ماشاء اللہ ایک کے بعد دُوسری اور پھر تیسری… پھر زبیر کے پاپا بیمار ہوگئے۔ مکان تعمیر کرانے کی مہلت ہی نہ ملی، چلے گئے۔ اب اِن شاء اللہ زبیر خود گھر بنوائیں گے۔‘‘ زبیر کی والدہ نے امّی کو بتایا۔
لڑکے کا اپنا مکان نہ ہونا امّی کے نزدیک رشتے کی قبولیت میں بڑی قباحت تھی۔ مگر زبیر کی والدہ نے امّی کو اپنی خوش کلامی سے موہ لیا۔ ’’آپ فکر نہ کریں بہن۔ اپنے مکان کی آپ سے زیادہ ہمیں فکر ہے۔ اپنا گھر ہو تو آدمی دیوار میں ایک کیل ٹھونکتے ہوئے بھی خوش ہوتا ہے کہ دیوار اپنی ہے، کیل بھی اپنی ہی رہے گی۔‘‘
’’ٹھیک کہتی ہیں آپ… مکان اپنا ہونے سے بہت ڈھارس
رہتی ہے۔ مجھی کو دیکھیے عفاف کے ابّو نے یہ مکان نہ چھوڑا ہوتا تو میں اکیلی عورت ایک بچی کے ساتھ کہاں جاتی۔ ایک منزل کرائے پر چڑھا دی۔ دُوسری اپنے استعمال میں رکھی۔ آمدنی بھی رہی۔ اپنے گھر کا تحفظ بھی حاصل رہا۔ الحمد للہ عزت سے گزر بسر ہوگئی۔ اپنا گھر، اپنی چھت بہت بڑی نعمت ہوتی ہے۔‘‘ امّی نے کہا۔
’’بے شک!‘‘ زبیر کی والدہ نے تائید کی۔
حسبِ پروگرام میں مہمانوں کے لیے چائے لے کر گئی تو لڑکے کی والدہ اور بہنوں نے مجھ سے میری تعلیم اور مشاغل کے بارے میں گفتگو کی۔ ایک آدھ بات زبیر نے بھی کی۔ میں نے اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے اسے شرمائی لجائی نگاہوں سے دیکھا۔ وہ خاصا ہینڈسم تھا۔ لڑکیوں کو خوبرو اور خوش پوش مرد ہی اچھے لگتے ہیں۔ میں کچھ دیر مہمانوں کےساتھ بیٹھ کر دُوسرے کمرے میں چلی گئی۔
چائے کے بعد زبیر کی والدہ نے امّی سے کہا۔ ’’آپ سے مل کر بہت اچھا لگا۔ بیٹی بھی پسند آئی۔ اب آپ ہماری طرف آئیں۔ اپنی تسلی کریں اور ہمیں رشتہ دیں۔‘‘
’’مجھے بھی آپ سے مل کر خوشی ہوئی… میں نے اپنے میکے اور سُسرال میں ابھی کسی کو نہیں بتایا، لیکن آپ کے ہاں میں اپنے کسی بہن، بھائی یا سسرالی کے ساتھ آئوں گی۔ اکیلے آنے جانے میں مجھے مشکل ہوتی ہے۔‘‘
’’ضرور… آپ جسے چاہیں ساتھ لائیں۔ ہم کھلی کتاب جیسے لوگ ہیں۔ گھر اپنا نہیں وہ آپ کو بتا دیا۔ باقی اللہ کی رحمت ہے۔ جب آپ کا آنے کا پروگرام بنے ایک دن پہلے بتا دیں تاکہ میں بھی ایک آدھ بیٹی کو گھر بلا لوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے بہن۔‘‘
’’بُرا نہ مانیں تو بیٹی کو بلا دیں۔ میں اسے پیار کر کے جائوں۔‘‘
امّی نے مجھے پکارا۔ میں دروازے کی آڑ میں ہی کھڑی تھی۔ سر پر دوپٹہ رکھ کر اندر داخل ہوئی۔
’’آنٹی جا رہی ہیں۔ انہیں خدا حافظ کہو۔‘‘
میں زبیر کی والدہ کی طرف بڑھی۔ انہوں نے مجھے گلے لگایا۔ پیار کیا اور دُعائیں دیں۔ میں زبیر کی دونوں بہنوں سے بھی باری باری گلے ملی۔ زبیر کھڑا دیکھ رہا تھا۔ میں اس کی طرف دیکھنے کی ہمت نہ کر پائی۔ بس ایک نظر دیکھنا ہی کافی رہا تھا۔ وہ مجھے اچھا لگا تھا۔
مہمانوں کے رُخصت ہونے کے بعد امّی نے مجھ سے پوچھا۔ ’’کیسے لگے لوگ؟‘‘
’’مجھے کیا پتا۔‘‘ میں نے بے نیازی سے کہا۔
’’لوگ تو اچھے ہیں۔ لڑکا بھی مجھے پسند آیا۔ بس ایک بات ہے کرائے کے مکان میں رہتے ہیں۔‘‘
’’سب کے پاس اپنا مکان تھوڑی ہوتا ہے امّی۔‘‘ میں نے کہا۔
امّی نے چونک کر میری طرف دیکھا پھر بولیں۔ ’’ہاں سب کے پاس اپنا مکان نہیں ہوتا لیکن جن کے پاس نہیں ہوتا وہ آئے دن پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں۔ کرایہ دینے کی تاریخ پلک جھپکتے ہر ماہ سر پر آ کھڑی ہوتی ہے۔ کھانے کو ہو یا نہ ہو مالک مکان کو کرایہ دینا لازم ہوتا ہے ورنہ سامان گھر سے باہر اور گھر والے لوگوں کے لیے تماشا۔‘‘
میں چپ رہی۔ مجھے جو کہنا تھا کہہ چکی تھی۔
’’ویسے پلاٹ ہے ان لوگوں کے پاس۔‘‘ امّی چند لمحے توقف سے بولیں۔
امّی نے اپنی اس ملنے والی کو فون کیا جس کے توسط سے یہ رشتہ آیا تھا۔ ’’باقی تو ٹھیک ہے امینہ بس گھر اپنا نہیں ہے ان لوگوں کا۔‘‘
’’بنا لیں گے، عفاف کی امّی۔ پلاٹ تو ہے ان کے پاس… کیا کہہ کر گئی ہیں وہ؟‘‘
’’اپنے گھر بلایا ہے۔‘‘
’’بس تو سمجھو ان کی طرف سے تو ہاں ہوگئی۔ اب تم بھی جا کر ان کا گھر بار اور رہن سہن دیکھ لو۔‘‘
’’تم ساتھ چلو گی؟‘‘
’’تم کہو گی تو چلی چلوں گی۔ ویسے اتنا زیادہ نہیں جانتی ہوں میں ان لوگوں کو… مجھے بھی کسی نے بتایا تھا ان کا… تم نے مجھ سے کہہ رکھا تھا میں نے سوچا تمہی کو بتا دوں۔ ہو سکتا ہے تمہاری سمجھ میں آ جائے۔‘‘
’’سمجھ میں تو آئے ہیں … لڑکا بھی دل کو لگا ہے۔‘‘
’’چلو یہ تو اچھی بات ہے … اللہ بہتر کرے۔‘‘
امّی رشتہ کرانے والی خاتون کے علاوہ اپنی بڑی بہن اور دیور کے ساتھ زبیر کے گھر گئیں۔ واپسی پر انہوں نے بتایا کہ گھر چھوٹا مگر صاف ستھرا اور آراستہ تھا۔ لڑکے کی والدہ اور بہنوں نے بہت پذیرائی کی۔ زبیر بھی گھر میں تھا۔ چائے خاصی پُرتکلف تھی۔ امّی کو ان لوگوں کا رہن سہن بھی اچھا لگا تھا۔
بات چیت آگے بڑھی۔
امّی نے کہا۔ ’’منگنی کیے لیتے ہیں۔ شادی کے لیے سال، ڈیڑھ سال کا وقفہ، اس دوران وہ لوگ اپنا مکان بنا لیں۔‘‘
’’ارے بہن مکان بھی اِن شاء اللہ بن جائے گا۔ آپ اس کی فکر نہ کریں۔ بیٹیوں کی رُخصتی کے بعد میں اکیلے پن سے گھبرا گئی ہوں۔ میں بیٹے کی شادی جلد سے جلد کر کے اپنی تنہائی دُور کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’بیٹی کو رُخصت کر کے میں بھی تو تنہا ہو جائوں گی۔‘‘ امّی نے دِل گرفتگی سے کہا اور اپنی تنہائی کے خیال سے ان کی آنکھیں بھر آئیں۔
’’آپ فکر نہ کریں بہن… ہم دونوں سمدھنیں نہیں سہیلیاں بن کر رہیں گی۔‘‘ زبیر کی والدہ نے امّی کی کیفیت بھانپ کر انہیں تسلی دی۔
امّی کے کہنے پر میرے چچا نے زبیر کے آفس سے سرسری سی پوچھ گچھ کی۔ وہ وہاں دو ڈھائی سال سے ملازمت کر رہا تھا اور اس کے بارے میں کوئی ایسی ویسی بات نہ پتا چلی۔
تاہم امّی مجھے کرائے کے مکان میں بیاہتے ہوئے متذبذب تھیں اور زبیر کی والدہ جلدی شادی پر مصر۔ امّی کے ہمدردوں اور بہی خواہوں نے مشورہ دیا کہ اگر لوگ دل کو لگے ہیں تو کرائے کے مکان کو مسئلہ نہ بنائیں۔ اللہ پر توکل کر کے شادی کر دیں۔ رشتہ کرنے والی خاتون نے کہا۔ ’’عفاف کی امّی بے شمار لوگ کرائے کے مکانوں میں رہتے ہیں۔ باقی باتیں اطمینان بخش ہیں تو رشتہ چھوڑو مت۔‘‘
بات طے ہوگئی۔ شادی کی تاریخ بھی ٹھہر گئی۔
امّی جہیز کی تیاری میں لگ گئیں۔ میں اکلوتی بیٹی تھی۔ امّی کا بس نہیں چلتا تھا کہ اپنا دل بھی نکال کر میرے جہیز میں رکھ دیتیں۔ ماموں، خالائیں، پھوپھی اور چچا بھی حسبِ مقدور اعانت کر رہے تھے۔ برسوں سے امّی نے اپنا زیور میرے لیے سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔ وقتاً فوقتاً دیگر چیزیں بھی خرید کر رکھتی رہی تھیں۔ سامان دیکھنے والوں نے امّی کو داد دی کہ بیٹی کو دینے کے لیے اپنی حیثیت سے بڑھ کر جہیز اکٹھا کر لیا تھا۔
میں نہایت عزت سے ماں کے گھر سے رُخصت ہو کر عازمِ سسرال ہوئی۔ سسرال کا چھوٹا سا گھر میرے وہاں پہنچنے سے قبل ہی میرے جہیز کے سامان سے بھر چکا تھا۔
٭…٭…٭
سسرال پہنچنے پر چند رسمیں ہوئیں اور مجھے حجلۂ عروسی میں پہنچا دیا گیا۔ زبیر کسی شاہزادے کی طرح کمرے میں آیا۔
میں بہت خوش تھی۔ میری سہیلیاں اور کزنز میرج ہال میں بارات آنے کے بعد زبیر کو تعریفی نظروں سے دیکھتی رہی تھیں۔ ’’تم بہت خوش قسمت ہو عفاف۔ ایسا حسین دولہا تو کسی کسی کو ملتا ہے۔‘‘ میری ایک سہیلی نے بارات کی شام میرے پہلو میں بیٹھ کر تصویر کھنچوانے سے قبل میرے کان میں سرگوشی کی تھی۔
دُوسری نے شرارتاً کہا تھا۔ ’’عفاف یار مجھے بھی ایسا ایک پیس دلوا دے، ساری زندگی تیری احسان مند رہوں گی۔‘‘
تیسری نے کہا۔ ’’اُف عفاف! تیرا ہسبینڈ تو بالکل ہیرو لگتا ہے۔‘‘
شادی کے بعد اگلی صبح جب میں تھوڑی دیر کو میکے آئی تو خالا نے کہا۔ ’’عفّی تیرے دولہا نے کل رات جب ہال میں اپنا سہرا اُلٹا تو ہر کوئی دیکھتا ہی رہ گیا۔ اس کے گلے میں پڑے ہاروں کے گلاب اس کے چٹّے رنگ پر ایسی بہار دِکھا رہے تھے کہ کیا بتائوں۔‘‘
پھوپھی نے میرے پلّو میں چپکے سے نصیحت باندھی۔ ’’عفّی! اپنے دولہا کو اپنی سہیلیوں سے بچا کر رکھنا۔‘‘
ہر ایک زبیر کی خوبصورتی کی تعریف کر رہا تھا۔ پھر بھلا میں اپنے مقدر پر نازاں کیوں نہ ہوتی۔ چھوٹی سسرال، اکلوتا بیٹا اور وہ بھی حسن کی اعلیٰ مثال!
میکے سے سسرال واپسی پر میں ولیمے کے لیے تیار ہونے بیوٹی پارلر چلی گئی۔ رات کو تقریب دیر تک جاری رہی۔ گھر آنے کے بعد جب میں اپنے جہیز کی سنگھار میز کے رُوبرو بیٹھی زیورات اور میک اَپ اُتار رہی تھی تو زبیر میرے نزدیک آ کھڑا ہوا۔
سنگھار میز کے آئینے میں اپنے اور زبیر کے عکس کو دیکھتے ہوئے مجھے شرم کے ساتھ احساسِ کمتری نے بھی آ لیا۔ زبیر میرے مقابلے میں بہت خوبرو تھا۔ اسے نہایت گہری نگاہوں سے اپنی طرف دیکھتے پا کر مجھے اپنی سانسوں کی لَے بے ربط سی ہوتی محسوس ہوئی۔ زبیر نے ہاتھ بڑھا کر میرے شانے پر جھولتی بالوں کی ایک لٹ کو جھٹکے سے پیچھے کیا اور بولا۔ ’’کل رات تو گھر میں مہمانوں کی وجہ سے میں کچھ نہیں بولا۔ یہ بتائو تمہارے ہاں داماد کو سلامی میں گاڑی واڑی دینے کا رواج نہیں!‘‘
میں نے ہڑبڑا کر اسے دیکھا۔
’’بس دس ہزار سلامی پر ٹرخا دیا تمہاری امّی نے۔‘‘ وہ مجھے استہزائیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے نہایت تحقیر سے مسکرایا۔
میں دم بخود تھی۔
’’اے! میں تم سے کچھ کہہ رہا ہوں۔‘‘ وہ اپنی اُنگلیاں میری آنکھوں کے سامنے نچاتے ہوئے بولا۔
’’امّی بے چاری نے تو اپنی حیثیت سے بڑھ کر کیا ہے۔‘‘ میں ناگہاں صدمے سے گھائل لہجے میں بولی۔
’’کیا! کیا کیا ہے؟‘‘ اس نے آنکھیں نکالیں۔
’’آپ کو پتا تو ہے ابّو بہت پہلے انتقال کر گئے تھے۔ پھر امّی ہی نے کیا جو کچھ بھی کیا۔‘‘ میری آواز ملال میں ڈُوبی ہوئی تھی۔
’’مجھے اس سے سروکار نہیں… میں سلامی کی بات کر رہا ہوں اور جہیز میں بھی انہوں نے کیا دیا… تم اکلوتی بیٹی تھیں۔ گھر کے کاغذات جہیز میں دیتیں تو بات تھی۔‘‘
میں نے آنکھیں پھاڑ کر بے یقینی سے اسے دیکھا۔
’’ایسے آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے کی کیا بات… کیا غلط کہہ رہا ہوں۔‘‘
میں جو زبیر سے اپنی شادی کی بات طے ہو جانے کے بعد سے اس خوش گمانی میں رہی تھی کہ اس کی شادی کے بعد امّی کو داماد کی صورت ایک بیٹا مل جائے گا صدمے کی کیفیت میں تھی۔
’’ہونہہ! دس ہزار روپے۔‘‘ وہ حقارت سے بولا۔
صدمے کی کیفیت پر قابو پاکر میں نے گھائل لہجے میں کہا۔ ’’مجھے آپ سے ایسی اُمید نہیں تھی۔‘‘
’’مجھے بھی تمہاری والدہ سے ایسی اُمید نہیں تھی۔ میں سوچ رہا تھا شادی ہال میں سارے مہمانوں کے سامنے تمہاری اماں اپنے مکان کی چابی تمہیں تھمائیں گی اور اعلان کریں گی کہ بس آج کے بعد یہ مکان عفاف کا ہے۔ کرائے کا مکان چھوڑے اور اپنے شوہر اور ساس کے ساتھ اسی گھر میں آکر رہے۔ انہیں کون سی کوئی قبر بنانی ہے اپنی، اس گھر میں۔‘‘
میں ہکّا بکّا زبیر کو دیکھ رہی تھی۔ ساری خوش گمانیاں کافور ہو چکی تھیں۔ خواب ریزہ ریزہ ہو گئے تھے۔ زبیر مجھے انتہائی لالچی اور گھٹیا آدمی دِکھ رہا تھا۔
’’امّی کے پاس ایک مکان ہی تو ہے… رہنے کا ٹھکانا اور آمدنی کا ذریعہ۔‘‘ میں گھٹی گھٹی آواز میں بولی۔
’’ایک کمرے میں پڑی رہتیں۔ کافی تھا ایک کمرا ان کے لیے۔‘‘ زبیر غرّا کر بولا۔ ’’باقی گھر میں ہم رہتے۔‘‘
مجھے یوں لگا جیسے میرا ذخیرئہ الفاظ ختم ہو چکا ہو۔ کیا کہتی میں اس شخص سے جس کے خوبصورت چہرے کے پیچھے چھپے گھٹیا انسان نے اپنا سفلہ پن دکھانے میں زیادہ دیر نہیں لگائی تھی۔ افسوس کہ اس شخص سے میرا زندگی بھر کا رشتہ استوار ہو چکا تھا۔ میں دل گرفتہ تھی۔ دم بخود تھی۔ ایسے صدمے میں تھی جو مجھے رونے پر مجبور کر رہا تھا مگر میں رو بھی نہ پا رہی تھی۔ عجیب بے بسی کی کیفیت تھی۔
ابھی میں اس صدمے سے نہ سنبھل پائی تھی کہ زبیر کی والدہ میرے سر پر آکھڑی ہوئیں۔ ’’بہو! وہ جو زیور ہماری طرف سے گیا تھا بَری میں وہ دے دو مجھے… ہاتھوں سے یہ کنگن بھی اُتار دینا۔‘‘
میں نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا۔
’’بچیوں کا زیور ہے۔ وقتی طور پر ان سے لے کر تمہیں چڑھا دیا تھا۔‘‘ وہ بولیں۔
میں ٹکٹکی باندھے ایک نئے صدمے سے دوچار انہیں دیکھے گئی۔
’’بھئی ایسے کیوں دیکھ رہی ہو مجھے۔ اپنی عزت کے لیے آدمی کو بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ اپنا بھرم رکھنے کو آدمی غیروں سے مانگنے تانگنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ تو پھر بھی گھر کی بات ہے۔ تینوں بہنیں زبیر پر جان چھڑکتی ہیں۔ انہوں نے کہا، امّی آپ زیور ہم سے لے کر چڑھا دو ولیمے کے بعد واپس دے دینا۔‘‘
میں گنگ تھی۔ کچھ بول نہ پا رہی تھی۔
’’بھئی ایسے کیوں بیٹھی ہو۔ جیسے اللہ نہ کرے کوئی بُری بات ہو گئی ہو۔ اس گھر کی عزت اب تمہاری عزت ہے۔ زیور کا کیا ہے۔ اللہ میرے بچّے کو دے گا تو وہ تمہیں اپنا بھی بنا دے گا۔ ارے بھئی زیور سے زندگی تھوڑی کٹتی ہے انسان کے ساتھ گزرتی ہے۔ میرا زبیر لاکھوں میں ایک ہے۔ بیسیوں لڑکیاں اس پر مرتی تھیں۔ کتنے ہی لوگ اسے خود سے اپنی بیٹیاں دینے کو تیار تھے۔ مگر جب امینہ نے تمہارا رشتہ بتایا تو میں نے سوچا کسی بڑے گھر کی بیٹی لانے کی بجائے میں بِن باپ کی بچی کو اپنے زبیر کی دُلہن بنا کر گھر لائوں گی تو اللہ بھی خوش ہوگا۔‘‘
’’کاش! یہ عنایت نہ کرتیں مجھ پر۔‘‘ میں نے دِل ہی دِل میں سوچا۔
’’لائو شاباش بَری کا سارا زیور مجھے دے دو تاکہ میں بچیوں کی امانت انہیں لوٹا دوں۔‘‘
مجھے امّی کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ وہ پاس ہوتیں تو میں ان سے پوچھتی کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔ مجھے تذبذب میں دیکھ کر زبیر کی والدہ نے کہا۔ ’’دے رہی ہو یا میں خود نکال لوں۔ اپنی بچیوں کے زیور کی پہچان ہے مجھے۔‘‘
میں
اُٹھی اور میں نے سنگھار میز کی دراز سے زیورات کے ڈبّے نکال کر بَری میں چڑھائے جانے والے زیورات علیحدہ کرنا شروع کیے۔ وہ کرسی کھینچ کر نزدیک بیٹھ گئیں اور علیحدہ کیے جانے والے زیورات سمیٹتے ہوئے مجھے امّی کی طرف سے دیے جانے والے زیورات کو دیکھتے ہوئے بولیں۔ ’’تمہیں بہت ہے۔ شادی کے بعد دُلہنیں شروع شروع ہی تو بھاری زیور پہنتی ہیں پھر الماری میں اُٹھا کر رکھ دیا جاتا ہے۔ بعد میں بہوئوں، بیٹیوں ہی کو دینے دلانے کے کام آتا ہے۔ اب دیکھو نا یہ تمہاری امّی ہی کا زیور ہوگا، جو انہوں نے تمہیں دے دیا اور میں نے اپنا زیور اپنی بچیوں کو۔‘‘
میرے جی میں آیا کہوں میری ماں کا تو کوئی بیٹا کیا میرے سوا اور کوئی بیٹی بھی نہیں تھی، اس لیے انہوں نے اپنا سارا زیور مجھے دے دیا۔ آپ کا تو بیٹا تھا۔ بہو کو آپ نے کیا دیا… مگر میں کہہ نہ پائی۔
بَری میں چڑھائے جانے والے تمام زیورات سمیٹ کر وہ چلتی بنیں۔ میرے پاس صرف امّی کا دیا ہوا زیور رہ گیا جو کسی صورت پچیس تیس تولے سے کم نہ تھا۔ امّی کا میکہ کھاتے پیتے لوگوں پر مشتمل تھا۔ میرے نانا نانی نے اپنی چاروں بیٹیوں کو خوب جہیز دے کر رُخصت کیا تھا۔ امّی سے شادی کے وقت ابّو نے بھی انہیں چار پانچ تولہ سونا چڑھایا تھا۔ امّی نے اپنا سارا زیور میری شادی پر مجھے دے دیا تھا۔ اسی لیے زبیر کی والدہ کہہ رہی تھیں کہ تمہیں تو یہی بہت ہے۔ بہرحال زبیر کی بات کے بعد اس کی والدہ کا یہ انکشاف کہ مجھے سسرال کی طرف سے چڑھایا جانے والا سارا زیور ان کی بیٹیوں کا تھا میرے لیے دوسرا بڑا صدمہ تھا۔
میں میکے گئی اور امّی کو اپنے ان صدمات سے آگاہ کیا تو وہ بھی پریشان ہوگئیں۔ تاہم انہوں نے مجھے ہدایت کی کہ میں اس کا تذکرہ کسی اور سے نہ کروں۔
’’لوگ رو کر سنتے ہیں ہنس کر اُڑاتے ہیں۔‘‘ امّی نے مجھے سمجھایا۔
میرا دِل سسرال والوں کی طرف سے بُرا ہو چکا تھا۔
٭…٭…٭
کچھ ہی دنوں میں زبیر کے اطوار مزید کھلنے لگے۔ وہ اکلوتا ہونے کے ناتے ماں بہنوں کے بے جا لاڈ پیار میں بگڑا نوجوان تھا۔ برسرِ روزگار ضرور تھا مگر جو کماتا زیادہ تر اپنے اللّے تللّوں میں لٹا دیتا۔ اسے اپنی وجاہت کا ضرورت سے زیادہ احساس تھا۔ خودپسند، خودغرض اور یار باش تھا۔ شادی کے بعد اس کا گھٹیاپن تو دُوسرے ہی دن سامنے آگیا تھا جب اس نے سلامی میں گاڑی نہ ملنے اور امّی کے مکان پر اپنی نیت کی خرابی کا اظہار کیا تھا۔ مجھ سے بھی ہفتہ عشرہ دلچسپی دکھائی۔ پھر یار دوستوں کے ساتھ وقت گزاری کرنے لگا۔ رات کو دیر سے گھر آتا۔ میں گلہ کرتی تو بگڑ کر کہتا۔ ’’کیا زَن مرید بنا گھر میں بیٹھا رہوں۔‘‘
’’بات زَن مریدی کی نہیں۔ میں آپ کا انتظار کرتی رہتی ہوں۔‘‘
’’نہ کیا کرو۔‘‘
’’کیوں نہ کروں… بیوی ہوں آپ کی۔‘‘
’’بیوی ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ تم مجھ پر پابندیاں لگائو … پابندی تو میں نے کبھی اپنی ماں اور باپ کی نہیں سہی۔‘‘
’’مجھے اندازہ ہونے لگا ہے۔‘‘
’’ہونے لگا ہے تو چپ کر کے بیٹھی رہو۔‘‘
’’آپ کی بیوی ہوں۔ پورا حق ہے مجھے آپ پر… اس گھر میں رات کو بارہ بجے تک آپ کے انتظار میں بیٹھے رہنے کے لیے نہیں آئی ہوں۔‘‘
’’اچھا! تو پھر کس لیے آئی ہو۔‘‘
’’وقت پر گھر آیا کریں۔‘‘
’’نہیں آیا تو کیا کرو گی؟‘‘
’’امّی کے گھر چلی جائوں گی۔‘‘
’’یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔ میں اور اماں بھی وہیں آجائیں گے۔‘‘
’’کس خوشی میں؟‘‘
’’داماد ہوں۔‘‘
’’گھر داماد بننے کی خواہش نہ کریں۔‘‘ میں نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
آئے دن میرے اور زبیر کے درمیان جھڑپیں معمول بن گئیں۔ وہ اپنی روش بدلنے پر آمادہ نہ تھا اور میں بیوی ہونے کے ناتے اس کی توجہ اور وقت کی طلبگار تھی، جو وہ مجھ سے زیادہ اپنے یار دوستوں کے ساتھ گزارنا پسند کرتا تھا۔ زبیر کی والدہ پہلے تو خاموش تماشائی بنی رہیں پھر انہوں نے مجھے روکنا ٹوکنا شروع کر دیا۔
’’ارے بھئی کیوں جھگڑتی ہو اس سے… دوستوں کے بغیر نہیں رہ سکتا وہ۔‘‘
’’دوست اتنے ہی عزیز تھے تو شادی کیوں کی۔‘‘
’’لو بھلا یہ کیا بات ہوئی … دوست، دوست ہوتے ہیں۔ بیوی، بیوی۔‘‘
’’یہ کہاں کا انصاف ہے کہ بیوی گھر میں بیٹھی انتظار کرتی رہے اور شوہر دوستوں کے ساتھ گل چھرّے اُڑاتا رہے۔‘‘
’’کوئی گل چھرّے نہیں اُڑاتا میرا بچہ … دوستوں سے اس کے سو کام نکلتے ہیں۔‘‘ زبیر کی والدہ تیوری چڑھا کر بولیں۔
’’میں نے امّی کو زبیر کی حرکتوں سے آگاہ کیا تو وہ رنجیدہ اور فکرمند ہو کر بولیں۔ ’’بیٹا اب تو جیسے تیسے تمہیں گزارہ کرنا ہے۔‘‘
’’میں گزارہ کرنے سے انکار نہیں کر رہی ہوں امّی… وہ میرا شوہر ہے۔ شادی کے شروع کے دنوں میں اس کا یہ حال ہے تو آگے کیا کرے گا۔‘‘
’’اللہ بہتر کرے گا… اکلوتی اولاد کو بعض گھر والے بے جا لاڈ پیار کر کے یونہی بگاڑ دیتے ہیں مگر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ذمّے داری پڑنے پر بگڑے ہوئے وقت کے ساتھ سدھر بھی جاتے ہیں۔‘‘
’’امّی وہ میرا شوہر ہے۔ مجھے اس سے محبت ہوگئی ہے۔ میں اس کی توجہ چاہتی ہوں۔‘‘ امّی سے میں اپنے دل کی ہر بات شیئر کرنے کی عادی تھی۔
’’فکر مت کرو۔‘‘ امّی نے مجھے تسلی دی۔ ’’دے گا توجہ … ایک آدھ بچہ ہو جانے دو، دوستوں کے چکر سے نکل آئے گا۔ اپنی اولاد کے آگے آدمی کو کچھ اچھا نہیں لگتا۔ پھر وہ گھر کو بھی وقت دے گا، تم پر بھی توجہ دے گا۔‘‘
مجھے امّی کی دی ہوئی اُمید پر رہنا تھا لیکن جلد ہی زبیر نے ایک نیا تقاضا کر دیا۔ وہ بولا۔ ’’اپنی امّی سے کہو کرائے داروں سے مکان خالی کرائیں۔ ہم لوگ وہیں شفٹ ہو جاتے ہیں۔‘‘
’’امّی کا گزارہ مکان کے کرا ئے پر ہی تو ہے۔ کرائے داروں سے مکان خالی کرا لیں گی تو ان کا گزارہ کیسے ہوگا۔‘‘
’’دو وقت روٹی ہی تو چاہیے ہوتی ہے انہیں۔ وہ ہم دے دیا کریں گے۔‘‘ زبیر بولا۔
’’امّی کو یہ کبھی گوارا نہیں ہوگا۔ انہوں نے ہمیشہ وقار سے زندگی گزاری ہے۔ کبھی کسی کی مدد نہیں لی۔‘‘
’’اوروں کی بات چھوڑو۔ یہ ان کی بیٹی داماد کا معاملہ ہے۔ ہر مہینے کرائے کی مد میں جو رقم جاتی ہے وہاں شفٹ ہونے سے یہ رقم بچے گی۔ ان کی بیٹی ہی کے کام آئے گی۔‘‘
’’نہیں… میں امّی سے یہ بات نہیں کر سکتی۔‘‘
’’کسی دن اکیلی گھر میں مر جائے گی تمہاری ماں۔‘‘ زبیر نے نہایت بدتمیزی سے کہا۔
’’اللہ نہ کرے۔‘‘ میں نے دہل کر کہا، مجھے اس کی بدتمیزی اور بے رحمی پر بہت غصّہ آیا۔ بات ایسی تھی کہ میں نہ چاہتے ہوئے بھی امّی کو بتانے پر مجبور ہوئی۔
امّی نہایت فکرمند ہوئیں۔ ’’لالچی لوگوں سے پالا پڑ گیا ہے۔ گھر کرائے داروں سے خالی کرا کے تمہارا گھر بچانے کے لیے تمہیں اور تمہارے شوہر اور ساس کو یہاں رکھنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں لیکن کیا پھر میں کرائے کے لیے داماد کے سامنے ہاتھ پھیلائوں گی اور پھر… کیا پتا بعد کو یہ لوگ کوئی نیا مسئلہ کھڑا کر دیں۔ چپ چاپ گزارہ کرو۔‘‘ امّی نے مجھے تلقین کی۔
چند ہی دن بعد ایک روز زبیر کی والدہ نے بھی امّی کے گھر شفٹ ہونے کی بات چھیڑی دی۔ ’’تم اپنی امّی سے بات تو کر کے دیکھو۔ تھوڑا بہت کرایہ بھی دے دیا کریں گے ہم لوگ، جس سے ان کا گزارہ چلتا رہے۔‘‘
’’آپ خود سوچیں میں کس منہ سے امّی سے یہ بات کروں۔‘‘ میں نے معذوری ظاہر کی۔
’’جس منہ سے تم اس گھر کی اور باتیں کرتی ہو ان سے۔‘‘ ان کے لہجے میں طنز تھا۔
میں نے چونک کر ان کی طرف دیکھا۔
’’نہ … نہ… اب یہ مت کہنا کہ تم اپنی ماں سے یہاں کی کوئی بات نہیں کرتیں… ایک ایک بات اپنی ماں سے لگاتی ہوگی، جا کر۔‘‘
مجھے بھی غصّہ آگیا۔ میں نے کہا۔ ’’ماں ہیں میری… ان سے نہیں تو پھر کس سے کہوں گی۔‘‘
’’قبول لیا نا… خوب تربیت دی ہے ماں نے۔‘‘
’’امّی کو کچھ نہ کہیں۔‘‘
’’کوئی لاٹ صاحب ہیں تمہاری امّی۔‘‘
’’مجھے اپنی امّی بہت پیاری ہیں۔‘‘
’’تو جائو… جا کر اپنی امّی کے کلیجے سے لگ کر بیٹھو۔ ہمارے گھر کا سکون برباد کرنے کیوں آ گئیں۔‘‘
’’کیا کیا ہے میں نے۔‘‘
’’ایک سے بڑھ کر ایک رشتہ موجود تھا میرے زبیر کے لیے… میری قسمت ہی خراب تھی جو تمہیں بیاہ کر لے آئی۔‘‘
’’قسمت تو میری خراب تھی۔‘‘ میں روہانسی ہوگئی۔
’’زبیر آ جائے بتاتی ہوں اسے۔‘‘
’’کیا بتائیں گی یہ۔‘‘ میں نے دل ہی دل میں سوچا۔ میں مطمئن تھی کہ میں نے کوئی ایسی بات نہ کی تھی ان سے جو زبیر کو میرے خلاف مشتعل کر سکے، مگر آدھی رات کو زبیر کے انتہائی مشتعل رویّے نے مجھے حواس باختہ کر دیا۔ میں حسبِ معمول اس کا انتظار کرتے کرتے سو چکی تھی۔ گلابی جاڑے شروع ہو چکے تھے اور میں نے اپنے جہیز میں ملی ریشمی دلائی رات کو اوڑھنا شروع کر دی تھی۔
دفعتاً مجھے نیند میں احساس ہوا کہ میرے اُوپر سے دلائی ایک جھٹکے سے کھینچی گئی تھی۔ میں گھبرا کر اُٹھ بیٹھی۔ زبیر بیڈ کے نزدیک کھڑا مجھے نہایت غصّے سے گھور رہا تھا۔
’’اٹھو۔‘‘ اس نے چٹکی بجائی۔
’’کیا ہوا؟‘‘
’’میں کہہ رہا ہوں اٹھو۔‘‘ اس نے آنکھیں نکالیں۔
’’ہوا کیا ہے؟‘‘
اس نے جواب میں پوری قوت سے میرے منہ پر تھپّڑ مارا، ضرب شدید تھی، میں سی کر کے رہ گئی۔
’’اُٹھو فوراً… تمہاری ماں کے گھر چھوڑ کر آتا ہوں۔‘‘
’’اس وقت!‘‘ میں نے اپنے گال کو سہلاتے ہوئے کہا۔
’’ہاں… ابھی… اسی وقت۔‘‘
’’لیکن کیوں؟‘‘
’’یہ تو تمہیں میری ماں سے زبان چلاتے ہوئے سوچنا چاہیے تھا۔‘‘
’’میں نے کوئی زبان وبان نہیں چلائی۔‘‘
’’اُٹھتی ہے یا دوں ایک اور۔‘‘ اس نے پھر ہاتھ اُٹھایا اور تو تکار شروع کر دی۔
’’میرا قصور تو بتائیں۔‘‘ میری آنکھیں بھر آئیں۔
’’تیرا قصور یہ ہے کہ تو میرے قابل نہیں تھی… میں ہیرو ہوں تو زیرو۔‘‘
’’قابل نہیں تھی تو کیوں کی مجھ سے شادی؟‘‘ میں اندوہ گیں لہجے میں بولی۔ (جاری ہے)