Dosri Choot | Episode 2

533
’’امی نے پھنسا دیا مجھے کہ ایک ہی بیٹی ہے۔ بڑھیا اکیلی تھوڑی رہے گی۔ بیٹی سے کہے گی میرے پاس آکر رہو۔ مگر تمہاری ماں کو تو لالچ نے مار رکھا ہے۔ بیٹی بے شک کرایے کے مکان میں رہے، اپنا مکان کرایے داروں سے خالی نہیں کروا رہی بڑھیا۔‘‘
میں نے سٹپٹا کر اسے دیکھا۔ وہ قطعی سنجیدہ دکھائی دیتا تھا۔
’’اٹھ!‘‘ اب اس نے کڑک کر کہا۔
’’پلیز !‘‘ میں گڑگڑائی۔
’’کچھ نہیں…ایک لفظ نہیں سنوں گا۔‘‘ اس نے میرا بازو پکڑ کر زور سے کھینچا۔ ’’اب فیصلہ ہوگا۔‘‘
’’زبیر … پلیز!‘‘ میں گھگھیائی۔
’’سیدھی طرح چلتی ہے یا بلائوں تیری ماں کو کہ آکر اپنا گند لے جائے۔‘‘
مجھے سخت ذلت محسوس ہوئی۔ میں نے التجا کی۔ ’’ایسا ظلم مت کرو زبیر… میری امی تو صدمے سے مر جائیں گی۔‘‘
’’اچھا ہے مر جائے… وہ اسی لائق ہے۔‘‘
’’میں تم سے محبت کرتی ہوں زبیر۔‘‘
وہ منہ اٹھا کر ہنسا۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے حقارت سے بولا۔ ’’نہیں چاہیے مجھے تمہاری محبت! میں تم سے نفرت کرتا ہوں۔‘‘
میرے دل پر شدید ضرب پڑی۔
ابھی میں اس چوٹ سے سنبھل نہ پائی تھی کہ اس نے میرا دل دولخت کردیا۔ ’’میں نے تمہیں طلاق دی… میں نے تمہیں طلاق دی… میں نے تمہیں طلاق دی۔‘‘
میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔
میری سماعت گہرے سناٹوں میں ڈوب گئی۔
میں اس اندھیرے اور سناٹے سے بہ دقّت تمام نکلی۔ میں نے زبیر کی والدہ کو کہتے سنا۔ ’’اب اس وقت کہاں جائو گے تم … صبح چھوڑ آنا اسے۔‘‘
’’نہیں!‘‘ میں ہذیانی انداز میں چلائی۔ ’’مجھے ابھی جانا ہے۔‘‘ میں بلک بلک کر رونے لگی۔ مجھے امی کی ضرورت محسوس ہورہی تھی۔ میں ان کی آغوش میں دبک کر رونا چاہتی تھی۔
زبیر مجھے امی کے گھر کے دروازے پر چھوڑ کر چلا گیا۔ میت کی تدفین کے بعد بھی لوگ کچھ دیر تو مدفون کے سرہانے ٹھہرتے ہیں مگر زبیر نے انتہائی سفاکی دکھائی۔
رات گئے دروازے پر دستک سن کر امی نے دروازہ کھولا تو مجھے کھڑے دیکھ کر ہڑبڑا گئیں۔ وہ گھبرا کر بولیں۔ ’’عفاف… تو… اس وقت!‘‘ امی کی آنکھیں پھٹی ہوئی تھیں۔
میں امی کے گلے سے لگ کر دھاڑیں مار مار کر ایسے روئی کہ پڑوسیوں نے بھی اپنے گھروں کے دروازے کھول دیے۔
٭…٭…٭
صدمہ شدید تھا۔ مجھے یوں لگتا جیسے میں بے روح ہوگئی تھی۔ اگرچہ شادی کے بعد زبیر نے مجھے کوئی خاص راحت نہ دی تھی مگر مجھے اس سے محبت ہوگئی تھی۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ اتنی بے رحمی دکھائے گا۔ کھڑے کھڑے اس نے میرے قدموں تلے سے زمین کھینچ لی تھی۔ مجھے بے سائبان کردیا تھا۔
زبیر کی طرف سے طلاق نامہ ملا تو اس میں لکھا تھا۔ مہر معجّل تھا جو شادی کی رات ہی ادا کردیا گیا تھا۔ میں اس جھوٹ پر حیران رہ گئی۔ مہر واقعی معجّل تھا مگر شادی کی رات ادا کیا گیا تھا نہ بعد میں کبھی۔ جہیز کی واپسی ہوئی تو زبیر اور اس کے گھر والوں نے میرے جہیز کی تمام قابل ذکر چیزیں دبا لیں۔ زیور کی واپسی کا تقاضا کیا گیا تو جواب ملا کیسا زیور، کہاں کا زیور؟ بیوہ غریب عورت نے بیٹی کو دیا ہی کیا ہوگا جو ماں، بیٹی واپسی کا مطالبہ کررہی ہیں۔
کچھ دن بیچ کے لوگوں کے ذریعے بات چیت چلتی رہی لیکن وہ جہیز میں دیے جانے والے زیورات اور دیگر قیمتی سامان کی واپسی سے انکاری رہے۔ ناچار مجھے انصاف کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔
تقریباً ساڑھے تین سال میں عدالت کے چکر لگاتی رہی۔ نہایت صبر آزما دور تھا۔ پیشی والے دن میں صبح سویرے عدالت پہنچ جاتی۔ اپنے وکیل کے منشی کو اپنی حاضری سے آگاہ کرتی۔ وکیل کا انتظار کرتی۔ اپنی باری آنے پر جج کے سامنے پیش ہوتی۔ زبیر شاذ ہی عدالت آتا۔ اس کا وکیل بھی کبھی آتا، کبھی نہ آتا۔ عدالت نہایت سرسری سی کارروائی کرکے اگلی پیشی کی تاریخ مقرر کردیتی۔
میں نہایت مایوس و مضطرب کمرئہ عدالت سے باہر نکل آتی اور یہ سوچتی ہوئی گھر واپس لوٹتی کہ ہمارے عدالتی نظام نے انصاف کے حصول کو کس قدر مشکل اور صبر آزما بنا رکھا ہے۔ وہ مقدمہ جس کا فوری فیصلہ ہونے میں کوئی قباحت اور طوالت نہ ہونی چاہیے تھی، محض ناقص نظام کے باعث شیطان کی آنت کی طرح طوالت اختیار کئے جارہا تھا۔
میں نے اس دوران زندگی کی یکسانیت سے تنگ آکر ملازمت کرلی تھی۔ ملازمت کے دو بڑے فائدے تھے۔ اوّل مصروفیت، دوم خودکفالت۔ میں امی پر زیادہ بوجھ نہیں بننا چاہتی تھی۔ شادی سے پہلے کی بات اور تھی۔ طلاق کے بعد امی کے گھر واپس آنے پر میں خود کو امی پر ایک اضافی بوجھ سمجھنے لگی تھی۔ اس احساس سے نجات کے لیے میں نے خودکفیل ہونا ضروری جانا تھا۔
مہر کی ادائیگی، جہیز کے قیمتی سامان اور زیورات کی واپسی کے سلسلے میں زبیر اور اس کی والدہ نے عدالت کو گمراہ کرنے کے لیے اتنے جھوٹ بولے کہ لوگ الٹا مجھی کو جھوٹا سمجھنے لگے۔
امی بھی پریشان ہوگئیں۔ انہوں نے مجھ سے کہا۔ ’’بیٹا! جھوٹوں کے آگے سچا رو پڑتا ہے۔ دفع کرو سامان اور زیور کو! اپنا صدقہ سمجھ لو۔ عدالت کے چکر چھوڑو۔ کہہ دو ان سے کہ میرا اور تمہارا حساب اللہ کے ہاں ہوگا۔‘‘
’’وہ بے ضمیر لوگ ہیں امی۔ ایسے لوگوں کو خوف خدا ہوتا ہے اور نہ آخرت کا ڈر۔ میں مقدور بھر ان سے لڑوں گی۔‘‘
’’آئے دن عدالت میں پیشی بھگتنے کے لیے کھڑی رہتی ہو۔ آخر کب تک یہ سلسلہ چلے گا۔‘‘
’’دعا کریں۔‘‘
’’دن، رات دعا کرتی ہوں۔‘‘
’’بے حیا تمام چیزوں سے مکرے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں ہم نے سارا جہیز واپس کردیا تھا۔‘‘ میں نے دانت پیسے۔
’’میں اب ہر ایک سے یہ کہتی ہوں کہ بیٹی کو جہیز دو تو ایک ایک شے کی فہرست بنائو۔ سسرال والوں کے اس پر دستخط لو۔ ایک کاپی انہیں دو، ایک اپنے پاس رکھو۔ ان بدبختوں نے تو اپنا کام پکا کیا۔ جو چیزیں واپس بھجوائیں، ان کی فہرست بنا کر میرے دستخط بھی لے لیے۔ میں دکھیاری بھی سادہ تھی، سوچے سمجھے بنا دستخط کردیے اور زبانی کلامی ان سے کہا کہ باقی سامان اور زیور بھی واپس کریں۔ مجھے کیا پتا تھا کہ نیت خراب ہے، صاف مکر گئے کہ اور کچھ ہے ہی نہیں۔‘‘
’’اور آپ کی دستخط شدہ فہرست عدالت میں پیش کرکے کہہ دیا جو سامان تھا، واپس کردیا۔ اگر کچھ اور ہوتا تو بھلا یہ دستخط کیوں کرتیں۔‘‘
’’خدا کی مار ان بے ایمانوں، جھوٹوں پر۔‘‘ امی نے تڑپ کر بددعا دی۔
عدالت سے پھر اگلی تاریخ مل گئی۔
اس روز عدالت سے واپس جاتے ہوئے میرا دل بے تحاشا دکھتا رہا۔ کتنی اکیلی مجبور اور بے بس ہوگئی تھی میں۔ اب تو امی سے بھی اپنی پریشانی اور دکھ کا اظہار کرتے شرم آتی کہ کیا کہیں گی۔ شادی کے بعد بھی ان پر بوجھ بنی ہوئی ہے۔
بار بار میری آنکھوں کے کنارے بھیگتے رہے۔ میں دل ہی دل میں اللہ سے اپنی بے بسی کی فریاد کرتی رہی۔ زیور اور جہیز کا وہ سامان جو زبیر اور اس کی والدہ نے دبا کر رکھ لیا تھا، میں اس کے بغیر مر نہ جاتی جو مقدمہ لڑنا ضروری تھا۔ بس مجھے ضد ہوگئی تھی۔ یہ کیا کہ زبیر نے مجھے بلا قصور طلاق بھی دے دی اور میری چیزوں پر بھی قبضہ کرکے بیٹھ گیا تھا۔ میں اس کے حلق میں ہاتھ ڈال کر اپنی چیزیں نکلوانا چاہتی تھی مگر سست اور طویل عدالتی کارروائی نے مجھے پسپائی پر مجبور کردیا تھا۔
قدرت کے کھیل نرالے…! اس روز اللہ رب العزت نے میرے دل سے نکلی آہ سن لی۔
اگلی پیشی سے چند دن قبل زبیر کا ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ وہ اور اس کا ایک دوست موٹر سائیکل پر کہیں جارہے تھے کہ موٹر سائیکل ایک تیز رفتار مسافر وین سے ٹکرا گئی۔ زبیر کا دوست جائے حادثہ پر ہی چل بسا جبکہ زبیر کو سر اور چہرے پر شدید چوٹیں آئیں۔ اس کا چہرہ جس پر وہ بہت مغرور اور متکبر رہا کرتا تھا، جابجا مجروح ہوا اور گہرے زخموں کے باعث ٹانکے لگانے پڑے۔ سر کی چوٹ بھی شدید تھی تاہم وہ ہوش میں رہا۔
مجھے اس حادثے کی خبر پیشی کی مقررہ تاریخ عدالت جانے پر ملی۔ زبیر کی والدہ اپنے وکیل کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئی اور اس نے زار و قطار روتے ہوئے عدالت کے سامنے اعتراف کیا کہ میرے زیورات اور جہیز کی کچھ قیمتی چیزیں زبیر اور اس کی تحویل میں تھیں اور وہ انہیں واپس کرنے کو تیار تھی۔ اس نے بھری عدالت میں ہاتھ جوڑ کر مجھ سے کہا۔ ’’زبیر کو معاف کردو۔‘‘
میں چپ رہی۔ اپنے قاتل کو معاف کردینا، اتنا آسان تو نہیں ہوتا۔
٭…٭…٭
زندگی ایک خاموش ڈگر پر چل رہی تھی۔ گھر کا نچلا حصہ کرایے پر اٹھا ہوا تھا۔ بالائی منزل پر ہم ماں، بیٹی یکسانیت کی زندگی گزار رہے تھے۔ میں صبح دفتر چلی جاتی، شام کو چھ سات بجے واپسی ہوتی۔ امی دن بھر گھر کے دھندوں میں مصروف رہتیں۔ مارکیٹ گھر سے چند منٹ کی مسافت پر تھی۔ سودا سلف کی ضرورت ہوتی تو امی خود ہی مارکیٹ چلی جاتیں۔ کبھی اکیلی، کبھی کسی پڑوسن یا کرایے دار کے کسی بچے یا خاتون کے ہمراہ۔
محلے دار ہم ماں، بیٹی کا بہت خیال رکھتے تھے۔ ہماری کسی بھی ضرورت میں فوراً مدد کے لیے کھڑے ہوجاتے۔ گھر کی زیریں منزل پر کرایے دار اکثر نہیں مگر تبدیل ہوتے رہتے تھے۔ تبدیلی کی بڑی وجہ گھر کی نچلی منزل کا قدرے نشیب میں واقع ہونا تھا۔ برسات کے موسم میں نچلی منزل میں پانی کھڑا ہوجاتا جس کی نکاسی خاصی مشکل ہوتی۔ نشیب میں ہونے کے باعث ٹوائلٹ کے اوورفلو کرجانے کا مسئلہ بھی رہتا۔ سو کرایے داروں کو جیسے ہی کوئی بہتر مکان مل جاتا، وہ ہمارا گھر چھوڑ جاتے۔ لیکن کرایے کے مکانوں کی قلت اور گنجان آبادی کے باعث جلد ہی نئے کرایے دار آجاتے۔ وسط شہر میں واقع ہونے کے باعث ہمارے علاقے کو بہت سی ایسی سہولتیں میسر تھیں جن کے باعث متوسط طبقے کے لوگ یہاں رہنا پسند کرتے۔
میں صبح کی گئی، شام کو گھر لوٹتی تو امی میری منتظر ہوتیں۔ کھانا تیار ہوتا۔ عموماً ہم ماں، بیٹی مغرب کے بعد رات کا کھانا کھا لیتے۔ امی کو کبھی کھانا نہ بھی کھانا ہوتا تو وہ میرے کھانا کھاتے وقت نزدیک بیٹھی دن بھر کی روداد سناتی رہتیں۔ جس دن کوئی رشتے دار ملنے کے لیے آتا، امی اس کے بارے میں بڑی تفصیل کے ساتھ بتاتیں۔ مجھے دیکھتے ہوئے امی کی آنکھوں میں ہمدردی، تفکر اور کبھی کبھی ہلکی سی نمی کا احساس بھی ہوتا۔ میں جانتی تھی میرا گھر اجڑنے کا دکھ گہرا گھائو بن کر ان کے دل میں اترا ہوا ہے۔
’’تمہاری مجھے بہت فکر رہتی ہے۔‘‘ وہ اکثر کہتیں۔
’’نہ کیا کریں فکر۔‘‘ میں انہیں تسلی دیتی۔
’’کل جب میں نہیں ہوں گی تو تم کس کے سہارے رہو گی۔‘‘
’’ایسی باتیں کیوں کرتی ہیں۔‘‘
’’موت تو برحق ہے… ماں، باپ سدا کس کے بیٹھے رہے ہیں، جو میں بیٹھی رہوں گی۔‘‘
’’اللہ میاں کو معلوم ہے کہ مجھے آپ کی ضرورت ہے۔ وہ پہلے مجھے بلائے گا اپنے پاس۔‘‘
’’ہشت…!‘‘ امی آنکھیں دکھاتیں۔ ’’ماں کو بددعا دیتے شرم نہیں آتی۔‘‘
’’بددعا کیوں؟‘‘
’’کسی ماں کے لیے اس سے بڑی بددعا کیا ہوسکتی ہے کہ وہ بیٹھی رہ جائے اور اولاد اس کی نظروں کے سامنے چلی جائے۔‘‘
’’اللہ میاں کو پتا ہے نا کہ آپ کے بعد میں اکیلی نہیں رہ سکتی۔‘‘
’’تو کیا کوئی بھی عورت اکیلی نہیں رہ سکتی… دن، رات دعا مانگتی ہوں کہ تیرا گھر بس جائے۔‘‘
’’گھر بسنا قسمت میں ہوتا تو اجڑتا کیوں امی۔‘‘ میری آواز بھرّا گئی۔
’’زندگی میں بڑے بڑے حادثے ہوجاتے ہیں میری بچی… مایوس نہیں ہونا چاہیے… مایوسی کفر ہے۔‘‘
امی کو کیسے بتاتی میں کہ اس حادثے نے تو مجھ سے جینے کی امنگ ہی چھین لی ہے۔ میں بے روح سی زندگی جی رہی تھی۔ گھر سے باہر نکلتی تو ساتھ ساتھ چلتے اور گاڑیوں میں پہلو بہ پہلو بیٹھے مرد و زن کو دیکھ کر میرے دل میں ہوک اٹھنے لگتی۔
زبیر کے ساتھ میں نے کوئی یادگار وقت نہیں گزارہ تھا مگر گزارہ تو تھا۔ اس گزرے وقت کی بھولی بسری یادیں اب بھی میرے دل میں چٹکیاں لیتی تھیں۔ اس کا نام اپنے نام سے نتھی ہونے کی وجہ سے مجھے تحفظ کا احساس ہوتا تھا۔ عجیب رشتہ تھا۔ زبیر کی تمام تر بے رخی، لاپروائی اور خود غرضی کے باوجود مجھے اس کے ہونے سے اپنی ذات بڑی معتبر لگتی تھی۔ اب تو اندر، باہر عدم تحفظ اور بے اعتباری کا احساس موجزن رہتا۔
٭…٭…٭
ڈیڑھ سال تک ہمارے کرایے دار رہنے کے بعد پرانے کرایے دار اپنے نوتعمیر ذاتی گھر میں منتقل ہوگئے تھے اور ان کی جگہ نیا کرایے دار آگیا تھا۔ درمیانی عمر کا چھڑا مرد جو ایک ملٹی نیشنل ادارے میں افسر تھا۔ اس کے بال، بچے کسی دور افتادہ گائوں میں رہتے تھے۔
وہ ملازمت کی خاطر اکیلا شہر میں مقیم تھا۔ پہلے اس کی تعیناتی کسی اور شہر میں تھی۔ حال ہی میں نئی تعیناتی ہمارے شہر میں ہوئی تھی۔ مکان کی تلاش میں وہ ہمارے گھر آ پہنچا تھا۔ وہ ایک کمرے میں بھی گزارہ کرسکتا تھا مگر پوسٹ بڑی تھی سو، اسے دو تین کمروں پر مشتمل مکان کی ضرورت تھی تاکہ ایک کمرا وہ بطور ڈرائنگ روم اور دوسرا سونے کے لیے استعمال کرسکے۔ گھر کی نچلی منزل میں تین کمرے تھے۔ اسے گاڑی کھڑی کرنے کے لیے پورچ کی سہولت بھی درکار تھی جو اسے مل گئی۔
امی خوش ہوئیں کہ اس نے کرایہ بھی کم کروانے کی کوشش نہیں کی اور فیملی کی کھپ بھی نہیں تھی۔ اکیلا آدمی تھا جس سے ملنے کے لیے مہمان البتہ آتے جاتے رہتے تھے۔
صبح دفتر جانے اور دفتر سے واپسی پر مجھے بالائی منزل سے گھر کی زیریں منزل پر اترنا چڑھنا پڑتا تھا۔ صبح امی مجھے گھر کے گیٹ تک چھوڑنے آتیں اور میری واپسی پر زینہ اتر کر میرے لیے گیٹ کھولتیں۔
صبح کے وقت نئے کرایے دار کا بھی اپنی ملازمت پر جانے کا تقریباً وہی وقت ہوتا۔ امی اور میں نیچے اترتیں تو وہ کبھی تیار ہوکر گھر کے اندر سے پورچ میں آرہا ہوتا یا اپنی گاڑی اسٹارٹ کر رہا ہوتا۔ فضا تیز خوشبو سے مہک رہی ہوتی۔ وہ ایک وجیہ، خوش وضع اور خوش پوش شخص تھا۔
امی کو دیکھتے ہی نہایت تپاک سے سلام کرتا اور حال چال پوچھتا۔ سلام اس طرح کرتا جیسے مجھے بھی کر رہا ہو۔ مجھے اچٹتی نظر سے دیکھنے پر اکتفا کرتا۔ امی گرمجوشی سے اس کے سلام کا جواب دیتیں۔ حال چال پوچھنے پر اس کا شکریہ ادا کرتیں اور اس کی خیریت بھی دریافت کرتیں۔ میں اپنے دفتر جانے کے لیے پیدل بس اسٹاپ کی طرف جارہی ہوتی تو اس کی گاڑی بارہا میرے نزدیک سے گزرتی مگر اس نے کبھی مجھے لفٹ کی پیشکش نہیں کی۔ یہ مجھے اس کی شرافت کی دلیل لگی۔
امی اس سے اتنی خوش تھیں کہ جب گھر میں کچھ اچھا پکتا تو اسے دینا نہ بھولتیں۔ ’’بے چارہ پردیسی ہے۔ گھر کے کھانے کو ترس گیا ہوگا۔‘‘ امی نہایت ہمدردی کا اظہار کرتیں۔
’’باہر کا کھانا کھا کھا کے اسے چٹخارے کی لت پڑ گئی ہوگی۔‘‘ میں کہتی۔
’’ارے بیٹا باہر کتنے ہی چٹخارے ہوں، گھر کے کھانے کا مزا ہی کچھ اور ہوتا ہے۔‘‘
’’عادت بگاڑ دیں گی اس کی… ابھی تو آپ خود دیتی ہیں اس پر ترس کھا کر، کل وہ خود مانگا کرے گا۔‘‘
’’ہوگا تو دے دیں گے… کسی کو دینے سے کمی تھوڑی آتی ہے۔‘‘
’’کیوں نہیں آتی۔ جو سالن ہم دو دن استعمال کرسکتے ہیں، ایک ہی دن میں ختم ہوجاتا ہے۔ اتنا بڑا پیالہ بھر کر آپ اسے جو دے آتی ہیں۔‘‘
’’انسان کو اپنا دل بڑا رکھنا چاہیے۔‘‘
بالآخر مجھی کو چپ ہونا پڑتا۔
پھر ایک روز امی نے بتایا۔ ’’آج وہ پوچھ رہا تھا۔‘‘
’’کیا؟‘‘ میں چونکی۔
’’گھر میں اور کوئی کیوں نہیں نظر آتا؟‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’بھئی وہ ہم دونوں کو ہی دیکھتا ہے نا۔‘‘
’’تو پھر… اسے مطلب؟‘‘
’’اپنی سنا رہا تھا کہ ماں، باپ نے جلدی شادی کردی۔ بیوی پھوپھی کی بیٹی ہے۔ نری اَن پڑھ۔ اس نے بس زبردستی گزارہ کیا۔ شادی کے بعد پڑھتا بھی رہا، نوکریاں بھی کرتا رہا۔ اپنی محنت سے بڑی پوسٹ پر پہنچا۔ بیوی، بچوں کو گائوں میں بڑا سا گھر بنا کر دے رکھا ہے۔ ماں، باپ زندہ ہیں۔ وہ بہو اور اس کے بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ لگتا نہیں مگر بتا رہا تھا بڑا بیٹا بائیس سال کا ہے۔ اس سے چھوٹے سات اور ہیں جو یونیورسٹی، کالج اور اسکول میں پڑھ رہے ہیں۔‘‘
’’آپ کو اتنی تفصیل سننے کی کیا ضرورت تھی۔‘‘
’’اپنی بتانے کے لیے پہلے اس کی سننا ضروری تھی۔ میں نے بھی اپنی سنا دی۔‘‘
’’اور آپ کے خیال میں اس نے آپ کی بات کا اعتبار کرلیا ہوگا۔‘‘ میں نے امی کو ٹیڑھی نظروں سے دیکھا۔
’’کیوں نہ کیا ہوگا… میں کوئی جھوٹی ہوں۔‘‘
’’پیشانی پر نہیں لکھا ہوتا کسی کے کہ یہ جھوٹا ہے یا سچا۔‘‘
’’اس نے میرا اعتبار کیا ہوگا۔‘‘ امی وثوق سے بولیں۔ ’’آخر میں نے بھی تو اعتبار کیا اس کی باتوں پر۔‘‘
’’کون سی باتیں؟‘‘ میں پھر چونکی۔
’’بیوی سے بالکل نہیں بنتی اس کی۔ کہہ رہا تھا بچوں کی خاطر گھر میں ڈال رکھا ہے۔ جاہل، گنوار اور پھوہڑ ہے۔ کسی کے سامنے لانے کے لائق نہیں ہے۔‘‘
’’کیسا بدتمیز آدمی ہے، غیروں کے سامنے بیوی کی برائی کرتا ہے۔‘‘
’’کہہ رہا تھا ماں سمجھ کر آپ سے دل کی بات کررہا ہوں۔‘‘
’’ماں سمجھ کر! خود تو جیسے چوزہ ہے نا… پچاس سے تو کیا کم ہوگا۔‘‘ میں نے ناگواری سے کہا۔
’’چھیالیس بتا رہا تھا اپنی عمر… اگر پچاس کا بھی ہے تو میں بھی تو پکی عمر کی ہوں۔‘‘
’’عمر کے اتنے فرق سے کوئی عورت کسی آدمی کی ماں نہیں بن جاتی… بڑی بہن کہہ دیتا۔‘‘
’’ارے چھوڑو تم کس بحث میں پڑ گئیں۔‘‘ امی جھلّا کر بولیں۔ ’’مجھے تو کوئی بڈھا بھی اماں جی بولے تو اچھا لگتا ہے۔‘‘
’’عورتیں تو خواہ مخواہ بدنام ہیں، مردوں کو چھوٹا بننے کا زیادہ شوق ہوتا ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’اچھا خیر… بہت بڑا گھر بنا کر دے رکھا ہے اس نے اپنے ماں، باپ اور بیوی، بچوں کو… لاکھ سے زیادہ تنخواہ ہے اس کی۔‘‘
’’ہمیں کیا… لاکھ ہو یا دو لاکھ… ہمیں تو اپنے مکان کے کرایے سے مطلب ہے۔‘‘
’’ہاں وقت پر دیتا ہے… کھرا آدمی ہے۔‘‘
’’کھرے، کھوٹے کا برتنے پر پتا چلتا ہے امی۔‘‘
’’چاول کی دیگ کا ایک ہی دانہ دیکھا جاتا ہے۔ جو آدمی ہمیں وقت پر کرایہ دیتا ہے، نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا، نماز کی پابندی کرتا ہے، وہ کھوٹا نہیں ہوسکتا۔‘‘
’’دفع کریں امی… ہم خواہ مخواہ اس کے بارے میں بات کرکے اپنا وقت کیوں ضائع کررہے ہیں۔‘‘
’’صبح کی گئی شام کو لوٹتی ہے تو۔‘‘
’’یہ تو بہت پرانی بات ہوگئی۔‘‘ امی کو دلگرفتہ ہوتے دیکھ کر میں نے اپنی مسکراہٹ سے انہیں دلاسا دینے کی کوشش کی۔
’’تمام دن تیری ہی طرف دھیان لگا رہتا ہے میرا۔ یہ سوچ سوچ کر جی کٹتا رہتا ہے کہ تیری عمر کی لڑکیاں گھروں میں بیٹھی راج کررہی ہیں اور تو صبح کندھے پر بیگ لٹکا کر نکل جاتی ہے۔ شام کو کسی مزدور کی طرح تھکی ہاری گھر واپس آتی ہے۔‘‘
’’شکر کریں امی کہ مجھے جاب ملی ہوئی ہے… ایسی بھی ہیں بے چاریاں جو دن بھر جاب کی تلاش میں دھکے کھاتی پھرتی ہیں اور کبھی کبھی غلط ہاتھوں میں پڑ جاتی ہیں۔‘‘
’’اللہ سارے جہان کی بچیوں کو اپنی عافیت میں رکھے… ہر دوست، دشمن کی بیٹی کا نصیب اچھا کرے۔‘‘
٭…٭…٭
چند ہی دن گزرے تھے کہ امی نے مجھے بتایا۔ وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہے۔
’’آپ سے کس نے کہا؟‘‘ میں نے چونک کر پوچھا۔
’’اس نے خود بتایا مجھے۔‘‘
’’حیرت ہے۔ بیوی موجود، آٹھ بچوں کا باپ پھر دوسری شادی کا شوق۔‘‘
’’اس کا حق ہے۔ مرد کا ایک عورت سے دل نہ ملے تو اسے دوسری کرنے کا حق ہے۔‘‘
’’بشرطیکہ دونوں کے ساتھ عدل کرسکے۔‘‘
’’بات بات پر قرآن کا حوالہ دیتا ہے۔ اسے پتا نہ ہوگا کیا؟‘‘
’’ضرور پتا ہونا چاہیے۔‘‘
’’بیوی اس کے مطلب کی نہیں تو اس کا حق ہے کہ اپنی پسند کی شادی کرے۔ وہ کہتا ہے ایسی عورت ہو جو اس کے ساتھ چل سکے۔ وہ بڑا افسر ہے۔ بڑی بڑی جگہوں پر جاتا ہے۔ پارٹیاں وارٹیاں ہوتی ہیں۔ سب افسر اپنی بیویوں کو لاتے ہیں۔ یہ بے چارہ تنہا جاتا ہے۔ بیوی اس لائق ہی نہیں کہ ساتھ لے جائی جاسکے۔ اسی لیے اسے گائوں میں چھوڑ رکھا ہے۔ کہتا ہے تنہا رہتے رہتے عاجز آچکا ہوں۔ پارٹیوں میں جاتا ہوں تو لوگ پوچھتے ہیں آپ کی بیگم…؟ میں کبھی کچھ بہانہ بناتا ہوں، کبھی کچھ! مگر اب میں نے سوچ لیا ہے روز روز بہانے بنانے سے بہتر ہے کہ میں کسی پڑھی لکھی لڑکی سے دوسری شادی کرلوں۔‘‘
’’لڑکی سے!‘‘ میں نے طنزاً کہا۔ ’’اس عمر میں بھی اسے لڑکی سے شادی کی تمنا ہے… کون دے گا اس پچاس سال کے آدمی کو لڑکی۔‘‘
’’بہتیری مل جائیں گی۔‘‘ امی نے وثوق سے کہا۔
’’مل جائیں گی تو کرلے۔‘‘ میں نے بے نیازی سے کہا۔
’’کرے گا… اس کے انداز سے لگ رہا تھا ضرور کرے گا۔‘‘
’’آپ کو پھر نیا کرایے دار ڈھونڈنا پڑے گا۔‘‘
’’نہیں نہیں… کہہ رہا تھا بارہ سال سے میں اس شہر میں کرایے کے مکانوں میں رہ رہا ہوں۔ جتنا خوش اور پرسکون میں آپ کے گھر میں ہوں، کہیں اور نہیں رہا۔ ہمارے شہر میں آنے سے پہلے آٹھ دس سال دوسرے شہر میں رہا اور اس سے پہلے کئی سال لاہور اور جہلم میں بھی گزار آیا ہے۔ جہاں بے چارے کا تبادلہ ہوگیا، وہیں اسے جانا پڑا۔ بتا رہا تھا چھوٹی سی نوکری تھی۔ ساتھ پڑھتا بھی رہا، ترقی کرتے کرتے افسر بن گیا۔‘‘
’’آپ کو تو اس نے اپنی تمام سوانح عمری ہی سنا ڈالی۔‘‘
’’کہتا ہے آپ مجھے ماں جیسی لگتی ہیں۔‘‘ امی نے خوش ہوکر بتایا۔
’’آپ اس کے ننھا بننے پر خوش ہوتی رہیں، مجھے تو غصہ آتا ہے۔‘‘
کوئی ہفتہ عشرہ بعد ہی امی نے مجھ سے وہ بات کہی جس نے مجھے ہڑبڑا دیا۔ اس نے مجھ سے شادی کرنے کا پیغام دیا تھا امی کو!
میں نے انکار کیا مگر امی میرے پیچھے ہی پڑ گئیں۔ پیار، خوشامد، غصہ، دھمکی… میرے انکار کو اقرار میں بدلوانے کے لیے امی نے ہر ممکن حربہ آزمایا اور آخری حربے کے طور پر اپنی قسم دے بیٹھیں۔
’’تو میرا مرا منہ دیکھے، اگر اپنی ضد نہ چھوڑے تو۔‘‘ امی کی آنکھوں میں آنسو اُمڈے ہوئے تھے۔
’’کیوں مجھے دوبارہ آزمائش میں ڈالنا چاہتی ہیں آپ!‘‘ میں نے امی سے کہا۔
’’آزمائش میں تو خود میں پڑی ہوئی ہوں۔ مر گئی تو روح بھی تیری فکر میں بھٹکتی پھرے گی۔‘‘
’’میں خوش ہوں امی۔‘‘
’’مگر میں خوش نہیں ہوں… عورت تنہا زندگی نہیں گزار سکتی۔‘‘
’’آپ نے گزاری کہ نہیں۔‘‘
’’میرے پاس تو تو تھی۔‘‘ امی نے مجھے پہلے لاجواب پھر اپنے اگلے جملے سے دکھی کردیا۔ ’’تجھے کیا پتا کیسے گزاری میں نے۔‘‘
میں نے چونک کر امی کو دیکھا۔
’’بس! اللہ تھا جس نے عزت بچائے رکھی۔‘‘
میں چاہنے کے باوجود امی سے کچھ نہ پوچھ پائی۔ ان کی آنکھوں میں نمی تیرتی دیکھ کر زبیر کی بے مہری یاد آگئی۔
یہ ایک آنسو جو میری پلکوں پہ آکے ٹھہر گیا ہے
اس ایک آنسو میں میری زندگی کی داستان رقم ہے
’’مجھے سوچنے دیں۔‘‘ میں نے امی سے مہلت مانگی۔
’’مگر جلدی۔‘‘ امی کے لہجے میں بیتابی تھی۔ ’’ایسا نہ ہو کہ وہ کہیں اور کرلے۔‘‘
’’کرتا ہے تو کرلے… یہ تو مانتی ہیں نا آپ کہ تقدیر کے فیصلے اوپر لکھے جاتے ہیں۔‘‘ امی نے آہستگی سے اثبات میں سر ہلایا۔
دو تین دن بعد… اور… ان دو تین دنوں میں امی نے بلا مبالغہ دس بارہ مرتبہ مجھ سے پوچھا۔ ’’سوچ لیا تو نے؟‘‘
ہر بار میرا جواب نفی میں پاکر امی برا سا منہ بناتیں۔ بالآخر میں نے کہا۔ ’’میں اس سے خود بات کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’کیا! کیا بات کرے گی تو؟‘‘ امی نے مجھے قدرے ناگواری سے دیکھا۔
’’جو بات کروں گی، وہ آپ کو اس سے بات کرنے کے بعد بتا دوں گی۔‘‘ میں نے امی سے کہا۔
’’ابھی کیوں نہیں؟‘‘ امی نے مجھے ٹیڑھی نظروں سے دیکھا۔
’’کیونکہ ابھی مجھے خود بھی معلوم نہیں کہ میں اس سے کیا بات کروں گی۔‘‘
’’پاگل ہوگئی ہے کیا؟‘‘ امی نے مجھے گھورا۔
’’آپ نے قصہ ہی پاگل کردینے والا چھیڑا ہے۔‘‘
امی کے چہرے پر ہمدردانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ ’’تجھے جو بات کرنی ہے، مجھے بتا دے، میں کرلوں گی۔‘‘
’’میں نے آپ سے کہا نا ابھی مجھے خود معلوم نہیں کہ کیا بات کروں گی؟‘‘
’’اچھی لگے گی تو خود اس سے بات کرتی؟‘‘ امی معترض ہوئیں۔
’’اچھی نہ لگنے کی کیا
بات؟‘‘
’’لڑکیاں کوئی خود بات کرتی ہیں۔‘‘
’’خیر! یوں تو لڑکیوں کے بات کرلینے میں بھی کوئی حرج نہیں… اور میں تو ایک طلاق یافتہ عورت ہوں۔ میرے براہ راست بات کرلینے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔‘‘
’’کتنے دن رہی تیری شادی!‘‘ امی نے مجھے ترس آمیز نگاہوں سے دیکھتے ہوئے دلسوز لہجے میں پوچھا۔
’’جتنے دن بھی سہی… اب کنواری لڑکی تو نہیں ہوں نا… شادی تو ہوئی۔‘‘ میرے لہجے میں دل گرفتگی سے زیادہ تلخی تھی۔
’’نہ ہوتی تو اچھا تھا… ایسی شادی سے تو لڑکی کنواری بھلی۔‘‘ امی بولیں۔
’’آپ پھر بھی دکھی ہوتیں میری پیاری ماں۔‘‘ میں نے امی کو اپنی مسکراہٹ سے بہلانے کی کوشش کی۔
’’ماں جو ہوں اس لیے۔‘‘
’’یعنی ماں ہونا مشکل!‘‘
’’بہت مشکل ہے میری بچی!‘‘
’’اچھا آپ زیادہ دکھی نہ ہوں۔‘‘ میں نے امی کے نزدیک ہوکر ان کے شانوں پر اپنا بازو دراز کرتے ہوئے مزید کہا۔ ’’میں اس سے براہ راست بات کروں گی اور اگر آپ اس میں کوئی عار سمجھتی ہیں تو میرے، آپ کے اور اس کے علاوہ چوتھے کسی فرد کو اس کی خبر نہیں ہوگی۔‘‘
امی نے مجھے شاکی نظروں سے دیکھا۔ ’’میں چپ رہ لوں گی، تو کسی کو نہیں بتائے گی مگر وہ تو چرچا کرسکتا ہے نا۔‘‘
’’اس کے سامنے رازداری کی شرط رکھ دیں گے نا۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ امی نے پھر مجھے شاکی نگاہوں سے دیکھا۔ ’’وہ تو جیسے بڑا سگا ہے نا ہمارا جو راز رکھے گا… دس کو بتائے گا۔‘‘
’’بتائے… ہمیں کیا فرق پڑتا ہے۔‘‘
’’کیوں نہیں پڑتا… پڑتا ہے۔‘‘ امی بگڑ کر بولیں۔ ’’عزیز، رشتے دار ہیں، محلے دار ہیں۔ انہیں منہ دکھانا ہوتا ہے۔ کسی کو بھنک مل گئی تو۔‘‘
’’فون پر تو بات کرسکتی ہوں؟‘‘
’’ضروری ہے۔‘‘
’’بہت ضروری۔‘‘
’’پوچھ لوں گی اس سے۔‘‘ امی نے دوسری طرف منہ پھیرتے ہوئے اپنی ناگواری کا اظہار کیا۔
امی کو جلدی تھی۔ انہوں نے اسی روز شام کو اس کی واپسی کے بعد اسے سالن پہنچانے کے بہانے اس سے بات کی۔ اس نے آمادگی ظاہر کی۔ امی نے مجھ سے کہا۔ ’’میں نے تمہارا نمبر دے دیا ہے۔ وہ خود فون کرلے گا۔ لڑکی پہل کرتی اچھی نہیں لگتی۔‘‘ میں جو امی کے رکھ رکھائو کی پہلے ہی قائل تھی، مزید مرعوب ہوگئی۔
وہ بھی شاید عجلت میں تھا۔ اسی رات ساڑھے دس بجے کے لگ بھگ میرے موبائل فون کی اسکرین پر ایک ناشناسا نمبر چمکا۔ میں نے کال ریسیو کی۔ اس نے سلام کیا۔ میں نے سلام کا جواب دیا۔
’’آصف بات کررہا ہوں… آپ کا کرایے دار!‘‘
’’فرمایئے؟‘‘
’’یہ تو مجھے کہنا چاہیے۔‘‘
’’میں سمجھی نہیں۔‘‘
’’بات تو آپ کرنا چاہ رہی تھیں نا… سو مجھے پوچھنا چاہیے… جی فرمایئے۔‘‘
’’آپ میرے آفس آسکتے ہیں۔ وہاں اطمینان سے بات ہوسکے گی۔‘‘
’’اطمینان سے تو اب بھی کی جاسکتی ہے۔‘‘
’’میں آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’آفس میں اطمینان سے بات ہوسکے گی؟ میرا مطلب ہے… مداخلت کے بغیر… وہاں تو آپ مصروف ہوتی ہوں گی۔‘‘
’’میرا علیحدہ کیبن ہے اور بھی جگہیں ہیں آفس میں جہاں بیٹھ کر بات کی جاسکتی ہے۔‘‘
’’اوکے… مجھے بتایئے کہاں ہے آپ کا آفس؟‘‘
میں نے اسے اپنے دفتر کا پتا بتایا۔
’’کب آئوں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’جب آپ کو آسانی ہو۔‘‘
’’اوکے!‘‘
اگلے ہی دن وہ میرے آفس میں موجود تھا۔ گھر میں آتے جاتے میرا اس سے سامنا ہوتا رہا تھا مگر میں نے اس پر نظر پڑتے ہی اپنی نظر کو واپس پلٹا لیا تھا۔ کبھی غور سے دیکھنے کو اچھا سمجھا تھا نہ اس کی ضرورت محسوس کی تھی۔
دفتر آنے پر جب وہ میری میز کے دوسری جانب میرے روبرو بیٹھا تو اسے نزدیک سے دیکھنے کا پہلا اتفاق ہوا۔
وہ خاصا ہینڈسم تھا۔ گورا چٹا اور عمر حد سے حد چھیالیس یا اس سے کچھ زائد۔ بہرحال اگر اس نے امی کو اپنی عمر چالیس بیالیس بتائی ہوتی تو اعتبار کیا جاسکتا تھا۔
’’کیسی ہیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’الحمدللہ! اچھی ہوں۔‘‘
’’ذومعنی بات کہہ گئیں۔‘‘ وہ دھیرے سے مسکرایا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ میں چونکی۔
’’واقعی اچھی ہیں آپ!‘‘
’’میرا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا۔ آئی ایم فائن۔‘‘
’’خیر جو بھی مطلب ہو… کمان سے ایک بار نکلا تیر واپس نہیں آتا۔‘‘ وہ مسکرایا۔
’’آپ چائے پئیں گے؟‘‘
’’نو تھینکس… میں دیہاتی آدمی ہوں، چائے زیادہ نہیں پیتا۔‘‘
’’لسی تو میں آفر کر نہیں سکتی۔‘‘
وہ دھیرے سے ہنسا۔ ’’اچھا نشانہ لیتی ہیں۔‘‘ اس کی ہنسی میں سبھائو اور نگاہوں میں خمار تھا۔ مجھے وہ خاصا مہذب اور خوش کلام آدمی لگا۔ خوش پوش بھی… اس نے بے شکن قمیص، شلوار اور واسکٹ پہن رکھی تھی۔ اس کے وجود سے اٹھتے خوشبو کے جھونکے بتا رہے تھے کہ اس نے کوئی قیمتی خوشبو لگا رکھی ہے۔ اس کے بال نہایت سلیقے سے آراستہ تھے اور بالوں میں غیر معمولی چمک تھی۔
وہ دھیرے سے کھنکھارا اور اطراف کا جائزہ لیتے ہوئے بولا۔ ’’کب سے جاب کررہی ہیں آپ یہاں؟‘‘
’’چوتھا سال ہے۔‘‘
’’آئی سی… بائی دے وے کیا پے کرتے ہیں یہ لوگ آپ کو۔‘‘
’’گزارہ ہوجاتا ہے۔‘‘
’’اوکے!‘‘ اس نے میری تنخواہ جاننے پر اصرار نہیں کیا۔ ’’میں یونہی پوچھ رہا تھا… صرف یہ اندازہ کرنے کے لیے کہ ہمارے اور دوسرے اداروں کی تنخواہوں میں کتنا فرق ہے۔ ہمارے ادارے میں آپ ہی کی طرح کمپیوٹر پر کام کرتی خاتون کی تنخواہ ساٹھ، ستر ہزار ہے۔‘‘
مجھے اوّل احساسِ کمتری پھر احساسِ طمانیت نے آلیا۔ اچھا ہوا جو میں نے اسے اپنی تنخواہ نہیں بتائی تھی۔ مجھے صبح سے شام تک کام کرنے کے ماہانہ تیس ہزار روپے ملتے تھے۔
وہ پھر دھیرے سے کھنکھارا اور چوکنا ہوکر بیٹھتے ہوئے بولا۔ ’’آمدم برسر مطلب۔‘‘ اس کے ہونٹوں پر دھیمی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ ’’ویسے یہ ہے کتنی عجیب سی بات کہ مجھے اب تک آپ کا اصل نام معلوم نہیں۔ آپ کی امی سے بھی جب بات ہوئی، انہوں نے آپ کا نک نیم ہی لیا… گڈو کہتی ہیں نا وہ آپ کو۔‘‘
میں جھینپ گئی اور میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ گڈو کتنا دقیانوسی سا نک نیم تھا حالانکہ باقی سب نے میرا نک نیم عفی رکھا ہوا تھا۔
’’پوچھ سکتا ہوں آپ کا نام؟‘‘
’’عفاف… عفاف طاہر۔‘‘
’’اوکے!‘‘ اس نے پل بھر کو توقف کیا۔ ’’فرمایئے کیوں طلب کیا گیا ہوں میں؟‘‘
مجھے اس کے سوال کا جواب دینا مشکل لگا۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کیا کہوں۔ پھر میں نے سرا تلاش کر ہی لیا۔ ’’آپ نے امی سے جو بات کی ہے، میں اسی سلسلے میں بات کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’جی، جی! فرمایئے۔‘‘
’’آپ یہ تو جانتے ہیں نا کہ میں… میں مطلقہ ہوں؟‘‘
’’آپ کی امی نے بتایا تھا۔‘‘
’’پھر بھی!‘‘
’’پھر بھی کا مطلب؟‘‘
’’پھر بھی مجھ سے… میرا مطلب ہے…‘‘
’’میں آپ کے کہے بغیر آپ کی نامکمل بات کا مطلب سمجھ گیا ہوں۔ طلاق شدہ ہونے کا یہ مطلب تو نہیں کہ مطلقہ خاتون طلاق کو اپنی زندگی کا آخری حرف سمجھ لے اور دوسرے بھی اسے شجر ممنوع سمجھنے لگیں۔ دین بیوہ اور مطلقہ عورت سے رشتۂ مناکحت قائم کرنے کو پسندیدہ قرار دیتا ہے۔ الحمدللہ میں دین کا علم رکھتا ہوں۔‘‘
’’لیکن آپ خود بھی تو شادی شدہ ہیں۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ اس نے چونک کر مجھے دیکھا۔ ’’اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ مجھے شرف قبولیت بخشتی ہیں یا نہیں۔‘‘
’’آپ کی بیوی… بچے؟‘‘
’’بیوی سے میرا تعلق بہت واجبی سا ہے… اب نہیں ہمیشہ سے… خاندان کی تھی لہٰذا نہ چاہتے ہوئے بھی گزارہ کرنا پڑا۔ شادی کے باوجود تنہائی کا احساس رہا۔ میرے اور اس کے درمیان کوئی انڈر اسٹینڈنگ تھی ہی نہیں۔ وہ مشرق، میں مغرب۔ ریل کی دو متوازی پٹریاں جو ساتھ تو چلتی ہیں لیکن ملتی کبھی نہیں۔‘‘ (جاری ہے)