Dosri Choot | Episode 3

1134
مجھے اس سے ہمدردی محسوس ہونے لگی۔ میں نے پوچھا۔ ’’اور بچّے؟‘‘
’’بچّے! ہاں ان سے میرا گہرا تعلق ہے۔ اگر آپ کو بچوں پر اعتراض ہے تو میری مجبوری۔ میں ان سے تعلق توڑ سکتا ہوں نہ ان سے اپنی محبت ختم کر سکتا ہوں۔ نہ ان کی کفالت سے آنکھیں پھیر سکتا ہوں۔ وہ میری ذمّے داری ہیں اور رہیں گے۔‘‘
’’کتنے بڑے ہیں؟‘‘
’’سب سے بڑا بیٹا یونیورسٹی جاتا ہے پھر دو بیٹیاں اور ایک بیٹا کالج میں پڑھ رہے ہیں۔ چار چھوٹے اسکول میں مختلف کلاسوں میں زیر تعلیم ہیں۔‘‘
’’سب والدہ کے پاس ہیں؟‘‘
’’ظاہر ہے۔ دس کنال پر گھر ہے۔ بچّے اپنی ماں اور میرے والدین کے ساتھ رہتے ہیں۔ میرے والد اپنے علاقے کے بڑے زمیندار تھے اب تو خیر زیادہ تر اراضی فروخت کر چکے ہیں مگر گائوں میں اب بھی بڑی عزت ہے اور ان کی وجہ سے ان کی اولاد کی بھی۔‘‘
’’بہن بھائی ہیں آپ کے؟‘‘
’’الحمد للہ … مگر انہیں میرے بیوی بچوں اور گھر سے کچھ لینا دینا نہیں۔ ان کے ماشاء اللہ اپنے گھر اور گھرداری ہے۔ بیوی سے انڈر اسٹینڈنگ نہ ہونے کی وجہ سے میں نوجوانی میں گائوں سے شہر آ گیا تھا۔ یہیں نوکری کی۔ تعلیم میں اضافہ کیا۔ نوکری کے ساتھ پڑھتا بھی رہا۔ شہر میں کچھ کرنے کو نہیں تھا، اس لیے تعلیم میں دل لگا لیا، اس کا فائدہ یہ ہوا کہ الحمد للہ آج اچھی جاب ہے، عزت ہے۔‘‘
’’گھر تو جاتے ہوں گے؟‘‘
’’ظاہر ہے… گھر اس لیے جاتا ہوں کہ بوڑھے ماں باپ ہیں۔ بچّے ہیں۔ صرف بیوی ہوتی تو شاید نہ جاتا۔‘‘
’’تعلق تو ہوگا؟‘‘
’’مجبوراً۔‘‘
’’ایک ذاتی سوال۔‘‘ میں نے قدرے جھجکتے ہوئے کہا۔
’’جو پوچھنا چاہتی ہیں بلاتکلف پوچھیے۔‘‘
’’اتنے عرصے بعد دُوسری شادی کا خیال کیوں آیا؟‘‘
’’بہت عرصے سے تھا… مناسب وقت کا منتظر تھا۔‘‘
’’مناسب وقت سے مراد؟‘‘
’’بچوں کے سمجھدار ہونے کا انتظار، تاکہ وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ان کی ماں کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ اب وہ دیکھ اور سمجھ چکے ہیں کہ ان کی ماں اور باپ میں کتنا فرق ہے۔‘‘
’’کیا چھوٹے بچّے یہ بات سمجھ سکیں گے؟‘‘
’’بڑے بہن بھائی انہیں سمجھائیں گے۔‘‘
’’اب آخری سوال؟‘‘
’’جی فرمائیں۔‘‘
’’بیوی ایک ہی ہے نا؟‘‘ مجھے خود معلوم نہ تھا کہ میں نے یہ سوال کیوں کیا۔
اس نے بے ساختہ چونک کر مجھے دیکھا۔ پھر ہنسا اور چند لمحوں کے بعد مجھے گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولا۔ ’’اسلام چار شادیوں کی اجازت دیتا ہے۔‘‘
’’آپ مرد حضرات صرف اسی معاملے میں تعداد کی اجازت پر اتنے شاد کیوں ہوتے ہیں؟‘‘
’’عورت کو اپنانے سے بڑی خوشی اور کیا ہو سکتی ہے ہم مردوں کے لیے۔‘‘
’’نہیں… یہ مت کہیے… آپ لوگ تو عورت کو چھوڑ کر بھی بہت خوش ہوتے ہیں… بہادری محسوس کرتے ہیں۔‘‘ زبیر نے جس بے رحمی اور بیدردی سے مجھ سے اپنا رشتہ توڑا تھا اس کی یاد تلخی بن کر میرے لہجے میں اُتر آئی تھی۔
وہ سمجھ گیا۔
’’اپنے اپنے تجربے کی بات ہے۔ مرد وہ بھی ہوتے ہیں جو ایک بار کسی عورت سے اپنا رشتہ جوڑنے کے بعد ساری زندگی میری طرح نبھاتے ہیں۔ دُوسری شادی کا اِرادہ ضرور ہے مگر پہلی کو چھوڑنے کا ہرگز نہیں… اس سے میری ذہنی ہم آہنگی نہ ہو سکی، یہ علیحدہ بات ہے مگر میں آخری سانس تک اس رشتے کو نبھانا چاہتا ہوں۔ وہ بے چاری کہاں جائے گی؟‘‘
میرے دل نے کہا جو مرد ایک ناپسندیدہ عورت سے اتنا با وفا ہو سکتا ہے وہ اگر اپنی پسند کی عورت سے رشتہ استوار کرے گا تو اسے اس سے زیادہ خلوص سے نبھائے گا۔
کچھ دیر کو دونوں خاموش ہوگئے۔ پھر اس نے اس خاموشی کو توڑا۔ ’’جی تو میرے لیے کیا حکم ہے؟‘‘
’’باقی بات آپ امّی سے کر لیجیے۔‘‘
’’گویا آپ کی طرف سے سگنل گرین ہے۔‘‘
’’اسے ریڈ ہونے سے بچانا اب آپ پر منحصر ہے۔‘‘
وہ زور سے ہنسا۔
٭…٭…٭
آنے والا جمعہ میرے نکاح کا دِن مقرر ہوگیا۔ امّی کو کچھ زیادہ ہی جلدی تھی۔ میں اس عجلت پر معترض ہوئی تو امّی نے کہا۔ ’’دیر کیوں کی جائے۔ آدمی کا ارادہ بدلتے دیر نہیں لگتی۔ اگر اس کا ارادہ بدل گیا تو؟‘‘
’’تو قیامت نہیں آ جائے گی۔‘‘ میں نے کہا۔
’’میں ایک قیامت سے گزر چکی ہوں۔ دُوسری کو بھگتنے کی ہمت نہیں ہے مجھ میں۔‘‘
پہلی قیامت سے امّی کی مراد زبیر کی طرف سے مجھے طلاق تھی، جس کی دُکھن میں بھی نہ بھول سکتی تھی۔
’’دفتر سے چھٹی لے لینا۔‘‘ امّی نے مجھے ہدایت کی۔
’’آپ نے اس سے معاملات بھی طے کئے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’کیسے معاملات؟‘‘
’’مہر، نان و نفقہ، کوئی ضمانت، مجھے رکھے گا کہاں؟‘‘
’’مہر شرعی ہوگا اور …!‘‘
’’شرعی مہر کی آڑ میں یہ مرد عورتوں کے ساتھ اکثر زیادتی کر جاتے ہیں۔‘‘ میں نے امّی کی بات کاٹی۔ ’’مہر اس کی حیثیت کے مطابق رکھوائیں۔‘‘
’’اس سے کیا فرق پڑے گا۔‘‘
’’فرق پڑے گا امّی۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’زبیر سے شادی کے وقت اگر آپ نے پچیس ہزار کی بجائے پانچ لاکھ لکھوایا ہوتا تو وہ اور اس کی ماں اتنی آسانی سے مجھے اپنے گھر سے نکالنے کی ہمت نہ کرتے۔‘‘
’’وہ کمینے تھے۔‘‘
’’نہ آپ نے اس سے نان و نفقہ لکھوایا۔ اس کمبخت نے کبھی دو روپے میرے ہاتھ میں نہیں دیے۔ ماں اس سے بھی زیادہ خسیس تھی۔‘‘
’’بیٹا جن کی نیت ہی خراب ہو ان سے لکھوائو یا نہ لکھوائو کوئی فرق نہیں پڑتا، اچھا مرد لکھوائے بنا ہی عورت کے نان و نفقہ کا خیال رکھتا ہے۔‘‘
’’بہرحال آپ اس سے ضرور لکھوایئے گا۔‘‘
’’وہ کہہ رہا تھا گھر والوں کو جو ماہانہ خرچ بھجواتا ہوں اس کے بعد باقی سب آپ کی بیٹی کا ہوگا… پھر بھلا میں کیوں لکھوانے کی بات کرتی۔‘‘
’’اور کوئی سیکورٹی۔‘‘
’’ارے میری بچی… ہماری سب سے بڑی سیکورٹی اُوپر بیٹھی ہے۔‘‘ امّی نے اپنی اُنگلی اُوپر اُٹھائی۔ ’’اس سے بڑی سیکورٹی کیا ہوگی بھلا۔ اُوپر والا جو کرے گا اچھا ہی کرے گا۔‘‘
’’رکھے گا کہاں مجھے؟‘‘
’’یہی تو سب سے اچھی بات ہے کہ وہ تجھے کہیں اور نہیں لے جائے گا۔ اسی گھر میں رکھے گا… میں نے اس سے یہ سوال کیا تھا کہ تجھے رکھے گا کہاں؟ کہنے لگا اسی گھر میں… بولا آپ میرے لیے ماں کی طرح ہیں۔ ماں کو اکیلا چھوڑ کر کوئی بیٹا اس سے الگ رہ سکتا ہے۔ کم از کم میرا ضمیر تو یہ گوارا نہیں کرتا۔ عفاف سے نکاح کے بعد میں اسے آپ کے ساتھ ہی رکھوں گا… جیسے اب رہ رہا ہوں ایسے ہی رہتا رہوں گا… میں خوش ہوگئی کہ چلو، مجھ سے دُور نہیں جائے گی… ارے بیٹا مجھ اندھی کی تو ایک ہی تو لاٹھی ہے۔‘‘
مجھے بھی اطمینان ہوا کہ میں امّی کے پاس ہی رہوں گی۔ جب سے یہ سلسلہ چھڑا تھا مجھے یہی فکر لگی ہوئی تھی کہ امّی اکیلی رہ جائیں گی مگر اب میری یہ فکر دُور ہوگئی تھی۔
٭…٭…٭
امّی نے قریبی رشتے داروں کو مطلع کر دیا کہ جمعہ کو میرا نکاح ہونے جا رہا ہے۔ مجھے یقین تھا رشتے داروں میں کافی چہ میگوئیاں ہوئی ہوں گی۔ ان سب نے یہی سوچا ہوگا کہ کرایے دار سے میرا چکر چل گیا ہوگا جو نکاح پر منتج ہونے جا رہا تھا۔ میں نے اپنے دل کی یہ بات امّی کو بتائی تو وہ بولیں۔ ’’جو سوچتے ہیں، سوچنے دو۔ مجھے کسی کی پروا نہیں۔ اتنے دنوں سے تو اُجڑی ہوئی بیٹھی ہے، کسی نے تیرے بارے میں کچھ سوچا۔ اپنوں میں تیری عمر کے رشتے بھی ہیں۔ کسی کی بیوی مر چکی، کسی نے طلاق دے دی۔ کوئی کنوارا بھی ہے، کبھی کسی نے یہ سوچا کہ خاندان کی ایک لڑکی بیٹھی ہوئی ہے، اسے بسانے کی سوچیں۔ جب انہیں ہماری پروا نہیں تو ہم کیوں ان کی چہ میگوئیوں کے بارے میں فکرمند ہوں۔ باتیں بناتے ہیں بنائیں مجھے پروا نہیں اور تجھے بھی نہیں ہونی چاہیے۔ نکاح کی اطلاع بھی میں نے اس لیے کی کہ اس موقع پر خاندان والوں کا شریک ہونا ضروری تھا۔‘‘
بدھ کو امّی نے میرے ہونے والے شوہر، آصف زمان کو حسب روایت نکاح کے کپڑوں اور دیگر چیزوں کے لیے اپنی حیثیت سے بڑھ کر زائد رقم دی کہ وہ اپنی پسند سے کپڑے، جوتے اور دیگر اشیاء خرید لے۔ حسب روایت اسے بھی میرے لیے کپڑے، جوتے، زیورات اور دیگر اشیاء خریدنا تھیں۔ یا پھر پیسے دے دیتا کہ اپنی پسند سے خریداری کرلیں مگر اس نے امّی سے کہا۔ ’’عفاف کو میں نکاح کے بعد اپنے ساتھ لے جا کر اس کی مرضی سے شاپنگ کروائوں گا۔ فی الحال آپ کچھ بندوبست کرلیں۔‘‘
امّی نے مجھے اپنے ہمراہ بازار لے جا کر دو سلے سلائے کامدار جوڑے اور جوتے دلوانے کے ساتھ میک اَپ کا کچھ سامان بھی لے دیا۔ زیورات میرے پاس کافی تھے۔ مزید خریدنے کی ضرورت نہ تھی۔ پھر بھی امّی نے مجھے ایک طلائی لاکٹ اور ٹاپس دلوا دیے۔
جمعے کو قریبی رشتے داروں اور چند ہمسایوں کی موجودگی میں آصف سے میرا نکاح ہوگیا۔ اس کی جانب سے چند دوست تقریب میں شریک ہوئے۔ اپنے گھر والوں کو اس نے لا علم رکھا۔ امّی نے تقریب کے شرکاء کی خاطر تواضع اپنی استطاعت سے بڑھ کر کی، امّی خوش تھیں کہ میں، ان کی اُجڑی ہوئی اکلوتی بیٹی دوبارہ زندگی کے بندھن میں بندھ گئی تھی۔
نکاح کے بعد رُخصت ہو کر میں اپنے ہی گھر کی زیریں منزل پر جہاں آصف امّی کے کرایے دار کی حیثیت سے رہ رہا تھا آگئی۔ امّی نے میرا وہ سارا سامان جو انہوں نے زبیر سے شادی کے وقت مجھے جہیز میں دیا تھا مزید کچھ نئے سامان کے ساتھ پہلے ہی نچلی منزل پر پہنچا دیا تھا۔
اگلے دن گھر ہی میں ولیمہ ہوا جس میں ہمارے قریبی رشتے دار اور چند قریبی ہمسائے شریک ہوئے۔ آصف کے ایما پر ولیمے کا کھانا بھی امّی نے تیار کروایا، اور ادائیگی بھی خود ہی کی۔ خیال تھا کہ آصف ولیمے کی دعوت کے اخراجات امّی کو بعد میں ادا کر دے گا مگر اس نے سانس تک نہ لی۔ بھولے سے امّی سے یہ تک نہ پوچھا کہ کتنے پیسے خرچ ہوئے۔ بے شرم بن کر مجھے خود اس سے کہنا پڑا۔ ’’امّی سے پوچھ تو لیں کہ ولیمے کے کھانے پر کتنے پیسے لگے۔‘‘
’’جلدی کیا ہے پوچھ لوں گا۔‘‘ اس نے ٹالنے والے انداز میں کہا پھر یکایک نہایت گرمجوشی سے بولا۔ ’’فی الحال تو تم ہنی مون پر چلنے کی تیاری کرو، میں نے آفس سے چھٹی لے رکھی ہے۔‘‘
’’کہاں جا رہے ہیں ہم ہنی مون پر؟‘‘
’’مری۔‘‘
’’مری تو میں کئی بار جا چکی ہوں۔‘‘ میں نے کہا۔
’’تو کیا دبئی جائو گی۔‘‘ اس نے کچھ عجیب سی نگاہوں سے مجھے دیکھا۔
’’ہائے۔ دبئی لے چلیں تو کیا ہی بات ہے۔ وہیں سے مجھے شادی کی شاپنگ بھی کروا دیجیے گا۔‘‘ میں جو اس کے ساتھ گزرے پچھلے تین چار دن کے خمار میں تھی، لاڈ سے بولی۔
’’وہ جو میرے آٹھ بچوں کی ماں ہے شادی کے بعد اس نے مجھ سے صرف آئس کریم کھلانے کی فرمائش کی تھی۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
مجھے جیسے جھٹکا سا لگا۔ میں بھول گئی تھی کہ وہ صرف میرا نہیں تھا۔ مجھ سے پہلے اس کی زندگی میں ایک اور عورت بھی تھی جو اس کے آٹھ بچوں کی ماں بھی تھی۔
’’مری!‘‘ وہ میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا۔ ’’چلو گی نا؟‘‘
میں نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلا دیا۔ اس کے سوا چارہ ہی نہ تھا۔
٭…٭…٭
مری میں ہنی مون چار دنوں پر مشتمل تھا۔ ہمارا قیام ایک ہوٹل میں تھا۔ زیادہ وقت ہوٹل کے کمرے ہی میں گزرا۔ میں جب اس سے باہر چلنے کو کہتی۔ وہ اپنے جذباتی رومانوی مکالموں سے مجھے زیر کر دیتا۔
’’باہر جا کر کیا کرو گی۔ یہ دن پھر نہیں آئیں گے۔ زندگی میں اتنا خوش کبھی نہیں رہا میں جتنا تمہارے ساتھ ہوں۔‘‘
میں ہوائوں میں اُڑنے لگتی۔ اپنی اہمیت مزید تسلیم کرانے کو کہتی۔ ’’اور وہ آپ کے آٹھ بچوں کی ماں؟‘‘
’’چھوڑو یار کس جاہل عورت کا ذکر کرتی ہو جس کے پاس بیٹھنے کو جی نہ چاہے۔ جس سے بات کر کے بندے کا دِل دماغ دونوں خراب ہو جائیں… جہنم گزاری ہے میں نے اس کے ساتھ۔‘‘
مری میں قیام کے چوتھے اور آخری دن وہ مجھے ساتھ لے کر ہوٹل سے باہر نکلا۔
’’ویسے ایک بات ہے مری جتنی مرتبہ بھی گھوم لو جب آئو اچھا لگتا ہے۔‘‘ میں نے مال پر اس کے ساتھ گھومتے ہوئے کہا۔
’’ایک گھر بنادوں تمہارے لیے یہاں؟‘‘ اس نے کہا۔
’’اوہ!‘‘ میں چلتے چلتے تھم گئی۔ ’’یہ تو آپ نے میرے دل کی بات کہہ دی۔ میرے دور پار کے ایک چچا ہیں انہوں نے مری میں اپنا گھر بنا رکھا ہے۔ ان کی فیملی گرمیاں یہیں گزارتی ہے۔ یہاں ان کی ہینڈی کرافٹس اور آرٹیفیشل جیولری کی کئی دکانیں بھی ہیں۔ سیزن میں خوب کماتے ہیں وہ۔‘‘
’’اگلی بار جب یہاں آئے تو تم جگہ پسند کر لینا میں گھر بنوا دوں گا۔ پھر تم بھی اپنے چچا کی طرح گرمیاں یہاں گزارہ کرنا… آئی لو یو۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
مال پر میں نے کچھ شاپنگ کرنی چاہی تو وہ بولا۔ ’’چھوڑو یار یہ بھی کوئی جگہ ہے شاپنگ کرنے کی۔‘‘
’’آپ نے مجھے شادی کی بھی شاپنگ نہیں کروائی۔‘‘ میں نے گلہ کیا۔
’’کرا دوں گا۔ کرا دوں گا۔‘‘
’’کب کرائیں گے؟‘‘
’’دبئی سے شاپنگ کروائوں گا تمہیں۔‘‘
’’سچ!‘‘ میں اُچھل پڑی۔ ’’کب؟‘‘
’’جب فرصت ملی۔‘‘
’’اور فرصت کب ملے گی؟‘‘
’’جب کمپنی دے گی؟‘‘
’’کمپنی کب دے گی؟‘‘
’’دس دن کی چھٹی گزار کر جا رہا ہوں۔ اب چھٹی ذرا دیر ہی سے ملے گی۔ میں تو یہ سوچتا ہوں کہ اب تمہارے بغیر آفس میں میرا دل کیسے لگے گا عفاف۔‘‘
میں نے اپنا سر اس کے بازو سے لگاتے ہوئے سرشاری کے عالم میں کہا۔ ’’یہ دن میری زندگی کے یادگار ترین دن ہیں۔‘‘
’’کیا پہلی شادی سے بھی زیادہ؟‘‘ اس نے سوال کیا۔
میں نے ہڑبڑا کر اسے دیکھا۔ ’’کیا مطلب؟‘‘
’’مطلب یہ کہ… ایسے دن تو ایک بار پہلے بھی تمہاری زندگی میں آ چکے ہیں۔‘‘ وہ کچھ چبھتی ہوئی نگاہوں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔
’’میں ان دنوں کو یاد نہیں رکھنا چاہتی۔‘‘ میں نے ناگواری سے کہا۔
’’میں بھی یہی چاہتا ہوں۔‘‘ اس نے اپنا بازو میرے شانوں پر دراز کر دیا اور سرگوشی میں بولا۔ ’’میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ تم سب کچھ بھول جائو۔ صرف مجھے یاد رکھو۔‘‘
’’میرے پاس دُوسرا کوئی آپشن ہی نہیں، سوائے آپ کو یاد رکھنے کے۔‘‘
’’امّی کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘ وہ مسکرایا۔
’’اوہ! میری ماں بہت معصوم، بے ضرر اور میری ہر خوشی میں خوش ہونے والی عورت ہیں۔‘‘
’’مجھے اندازہ ہے۔‘‘
’’کیسے؟‘‘
’’وہ جب بھی تمہاری بات کرتی ہیں ان کی آنکھوں میں ناقابل بیان چمک آ جاتی ہے۔ مجھے اندازہ ہے کہ وہ تم سے بہت پیار کرتی ہیں۔ تمہاری خاطر اپنی ہر شے قربان کر سکتی ہیں۔‘‘
’’ہر شے!‘‘ میں نے تائید میں سر ہلایا۔ ’’واقعی وہ مجھ سے بہت محبت کرتی ہیں۔‘‘ پھر میں نے دھیرے سے کہا۔ ’’آصف! میں بھی… میں بھی ماں بننے کے لیے زیادہ انتظار نہیں کروں گی۔‘‘
’’انتظار تو کرنا پڑے گا۔‘‘
’’کیوں؟‘‘ میں چونکی۔
’’جب تک میں تم سے اپنی شادی اپنے گھر والوں پر ظاہر نہیں کر دیتا۔ ہم اس بارے میں محتاط رہیں گے۔‘‘
’’میں پہلے ہی لیٹ ہو چکی ہوں۔‘‘
’’کوئی بات نہیں… تھوڑا لیٹ اور سہی… ویسے بھی میرے بچّے تو ہیں نا۔‘‘
’’میرے تو نہیں۔‘‘
’’تم سمجھو گی تو وہ بھی تمہارے ہی ہوں گے۔ ارے یار پلے پلائے بچّے کسے ملتے ہیں بھلا۔‘‘
’’میں اپنا بچہ چاہتی ہوں۔‘‘
’’اتنی بے تابی مت دکھائو۔‘‘
اسے کیا پتا تھا کہ میں چھوٹے بچوں کی کتنی شیدائی تھی۔ زبیر سے شادی کے بعد میرے ہاں اگر ایک بچہ بھی ہو جاتا تو میں ہر گز دُوسری شادی پر آمادہ نہ ہوتی۔ سچ یہ تھا کہ میں نے دوبارہ شادی بھی اپنی اس محرومی کے ازالے کے لیے کی تھی۔ میں ماں بننا چاہتی تھی۔ دُوسری عورتوں کی گود میں بچہ دیکھ کر میرے دل میں ہوک سی اُٹھتی تھی۔ میرا جی چاہتا کوئی مجھے بھی امّی یا ممّا کہے۔ میں اسے اپنے سینے سے لگائوں۔ اسے چوموں، سنواروں اور اپنا سب کچھ اسے سونپ دوں جیسے میری ماں نے کیا تھا۔ میرے مرحوم باپ نے ان کے اور میرے لیے جو واحد اثاثہ، مکان چھوڑا تھا۔ زبیر سے میری طلاق کے بعد اپنے حصے سے دستبردار ہو کر وہ مجھے اس اثاثے کی واحد مالک بنا چکی تھیں۔ مجھے اولاد کی ضرورت تھی… شاید اس لیے کہ اپنے اور امّی کے بے لوث تعلق سے میں نے یہ جانا تھا کہ ماں اور اولاد سے مضبوط، کھرا اور بے لوث رشتہ دُوسرا کوئی نہیں ہوتا۔ میں اس رشتے میں بندھنا چاہتی تھی۔ یہ میری زندگی کی اوّلین آرزو بن چکی تھی۔
٭…٭…٭
مری میں قیام کے دوران آصف نے مجھے اپنے اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ میں محفوظ اپنے والدین، بیوی بچوں اور دیگر احباب و اقارب کی تصاویر اور ویڈیوز دکھائیں۔
’’یہ امّی ابو۔‘‘
’’یہ تمہاری دُشمن جاں۔‘‘
’’یہ میرے بچّے۔‘‘
’’یہ میری سب سے بڑی خالا۔‘‘
’’یہ دُوسری خالائیں… یہ درمیانی اور یہ سب سے چھوٹی… امّی سمیت چار بہنیں ہیں۔ پانچ تھیں ایک فوت ہوگئیں۔‘‘
’’یہ میرے ماموں، مامی اور ان کے بچّے۔‘‘
’’تایا جی اور ان کی فیملی۔‘‘
’’چھوٹی پھوپھی اور ان کے میاں… لاولد ہیں بے چارے۔‘‘
’’یہ میری بڑی پھپھو، ان کا بیٹا، بہو اور دو بیٹیاں… بڑی پھوپھی کے میاں مر چکے ہیں… بڑی پھوپھی میری ساس بھی ہیں۔‘‘
وہ مجھے ایک ایک تصویر کے بارے میں بتاتا جا رہا تھا۔
’’یہ کون ہے؟‘‘ میں نے فیملی گروپ میں کھڑی اور گود میں ایک چھوٹا سا بچہ اُٹھائے غیرمعمولی خوبصورت لڑکی کی تصویر پر اُنگلی دھرتے ہوئے پوچھا۔
’’یہ… یہ ہمارے… ہمارے گھر میں کام کرتی تھی۔‘‘ اس نے کچھ ہچکچاتے ہوئے بتایا۔ ’’اب اس کی جگہ دُوسری ملازمہ آگئی ہے۔‘‘
’’اور اس کی گود میں بچہ؟‘‘
’’اس کا اپنا بچہ ہے۔‘‘
میرے دل میں ہوک سی اُٹھی۔
’’کاش! اے کاش!‘‘ مجھے اپنے دل میں چبھن سی محسوس ہو رہی تھی۔ وہی لڑکی دو تین اور تصویروں میں بھی موجود تھی۔ کہیں دوپٹہ سر پر جمائے، کہیں اپنے لمبے بالوں کی چوٹی سینے پر سانپ کی طرح لہرائے… مسکراتی ہوئی… پراعتماد… وہ کہیں سے بھی ملازمہ نہیں لگتی تھی۔
٭…٭…٭
ملازمت کبھی میرا شوق نہیں رہی تھی۔ زبیر سے طلاق کے بعد میں نے کچھ اپنا دھیان بٹانے اور کچھ امّی پر بوجھ نہ بننے کی خاطر ملازمت کر لی تھی۔ حقیقت یہ تھی کہ ملازمت کے لیے گھر سے باہر نکل کر میں نے بہت کچھ سیکھا تھا۔ مجھ میں اعتماد آیا تھا۔ دُکھ برداشت کرنے اور اپنے آنسو پینے کی ہمت پیدا ہوئی تھی۔
گھر سے باہر نکل کر دُوسری عورتوں کے حالات دیکھنے کے بعد مجھے یہ احساس ہوا تھا کہ میں واحد دُکھی اور واحد مطلقہ عورت نہیں ہوں۔ ہر عورت کے دل میں کوئی نہ کوئی دُکھ، کوئی نہ کوئی روگ موجود تھا۔ مردوں کی بے رحمی کی شکار مطلقہ عورتیں بھی بہت تھیں جو بے قصور ہوتے ہوئے بھی دُنیا والوں سے نظریں چرائے رکھتیں۔ ایسی عورتوں کی بھی کمی نہ تھی جن کی طلاق ان کے بچوں کے لیے بھی مسلسل اذیت، سزا اور غیر یقینی مستقبل کا باعث بن گئی تھی۔ یقیناً بعض عورتیں ایسی بھی تھیں جن کے اعمال و اشغال دیکھ کر یہ احساس ہوتا تھا کہ وہ مرد بہت عقلمند تھے جنہوں نے ایسی فضول اور بے ہودہ عورتوں سے اپنا پیچھا چھڑا لیا مگر مطلقہ عورتوں کی اکثریت مرد گزیدہ تھی۔ بہرحال ملازمت کے لیے گھر سے باہر نکل کر میں نے اپنے دُکھ کا احساس کم ہونے اور اعتماد سے جینے کا گُر پایا تھا۔ مگر اب مجھے ملازمت کی ضرورت نہ رہی تھی۔
ہنی مون سے واپسی پر میں نے پہلے امّی سے مشورہ کیا۔ پھر آصف سے بات کی۔ ’’میں سوچ رہی ہوں جاب چھوڑ دوں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘ وہ چونکا۔
’’ضرورت جو نہیں رہی۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’جاب میں اس لیے کر رہی تھی کہ امّی پر زیادہ بوجھ نہ بنوں۔‘‘
’’ہاں تو اب کیا ہوا؟‘‘
’’اب ماشاء اللہ آپ ہیں نا میرا بوجھ اُٹھانے کو۔‘‘
اس کا چہرہ پھیکا پڑ گیا۔ جھینپی جھینپی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔ ’’ہاں ہاں میں تو ہوں مگر تم گھر بیٹھ کر کیا کرو گی؟‘‘
’’عورت کے لیے گھر کے کام کچھ کم ہوتے ہیں۔ اپنے گھر کو سجائوں گی۔ آپ کے لیے اچھے اچھے کھانے پکایا کروں گی۔ آپ کے کپڑے دھوئوں گی۔ پیار سے استری کروں گی۔ آپ کی واپسی کا انتظار کیا کروں گی۔ شام کو ہم گھومنے باہر جایا کریں گے اور رات کو کھانے کے بعد لمبی چہل قدمی کرتے ہوئے ڈھیر ساری باتیں کریں گے۔‘‘
’’یہ سارے کام تو جاب جاری رکھتے ہوئے بھی کئے جا سکتے ہیں۔‘‘ اس نے کہا۔
’’مجھ میں اتنا اسٹیمنا نہیں ہے۔‘‘
’’اسٹیمنا بنانے سے بنتا ہے۔ بے شمار عورتیں ہیں جو جاب بھی کرتی ہیں اور گھرداری بھی۔‘‘
’’سوری! میں ایک وقت میں دو محاذوں پر لڑنے والی سپاہن نہیں۔‘‘
’’یہ سپاہن کیا ہوتا ہے؟‘‘
’’ہوتا نہیں ہوتی ہے…سپاہی کی مؤنث سپاہن ہی ہوگی نا۔‘‘
’’میرا خیال نہیں کہ لغت میں ایسا کوئی لفظ ہے۔‘‘
’’اچھا خیر… میں جاب چھوڑ رہی ہوں۔‘‘
’’ذرا سیٹ ہو جائو پھر چھوڑ دینا۔‘‘ وہ رسان بھرے لہجے میں بولا۔
’’سیٹ ہو تو گئی ہوں… زندگی نئے سرے سے شروع ہوگئی ہے۔ میں مکمل طور پر ایک گھردار عورت بن کر اس زندگی کو انجوائے کرنا چاہتی ہوں۔ ملازمت کا مجھے ویسے بھی کبھی شوق نہیں رہا۔ میرا بس چلے تو ملازمت کرتی تمام عورتوں کو گھر بٹھا دوں۔ اِدھر گھر میں غلامی اُدھر دفتر میں جی حضوری… توبہ بڑی مشکل ہوتی ہے جاب کرنے والی عورتوں کو۔‘‘
’’کچھ دن چھٹی لے لو… اگر بور ہونے لگو تو ڈیوٹی پر چلی جانا۔ مسلسل گھر میں بیٹھ کر بھی بندہ بیزار ہو جاتا ہے۔‘‘ اس نے یہ نہیں کہا کہ اگر گھر بیٹھ کر بور نہ ہو تو جاب چھوڑ دینا۔ میں ایک بار مرنے کے بعد دوبارہ جی اُٹھنے سے ایسی سرشار تھی کہ میں نے غور نہیں کیا۔ اس کی بات میرے دل کو لگی۔
اس نے دفتر جانا شروع کر دیا اور میں نے شادی کے لیے دفتر سے لی جانے والی چھٹی مزید بڑھانے کے لیے درخواست بھجوا دی۔ سرکاری ملازمت تو تھی نہیں، انتظامیہ چھٹی نہ بھی بڑھاتی تو میں ملازمت چھوڑ دینے کے لیے تیار تھی مگر میری اچھی کارکردگی کے باعث دفتر کی انتظامیہ نے میری چھٹی میں اضافے کی درخواست منظور کرلی لیکن بلاتنخواہ! مجھے پروا نہ تھی۔ میں اب ایک افسر کی بیوی تھی۔
ہنی مون سے واپسی کے بعد کچھ دن ہم دونوں کا کھانا پینا امّی کے ساتھ ہی رہا۔ پھر میں نے آصف سے کہا۔ ’’گھر کا سودا سلف لے آئیں تاکہ میں اپنا کھانا خود پکانا شروع کروں۔ آخر کب تک ہم امّی کے مہمان بنے رہیں گے۔‘‘
’’مجھے شک ہے کہ تم اپنی امّی کی طرح کا مزیدار کھانا نہیں پکا سکو گی۔‘‘ اس نے کہا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ میں چونکی۔
’’بھئی میں تمہاری امّی کے ہاتھ کے مزیدار کھانوں اور صبح ناشتے میں نرم گرم پراٹھوں کا عادی ہوگیا ہوں۔ چلنے دو جیسے چل رہا ہے۔‘‘
’’ہم دو افراد ہیں۔ کھانے پینے کا اچھا خاصا خرچا ہوتا ہے۔ آخر کب تک ایسے چلے گا… امّی بے چاری کا گھر کے کرایے کے علاوہ دُوسرا کوئی ذریعہ آمدن بھی نہیں۔ ویسے بھی وہ بیمار رہتی ہیں۔ آخر کتنے دن پکا کر کھلائیں گی ہمیں۔‘‘
’’تم ہاتھ بٹا دیا کرو نا ان کا… گھر میں فارغ ہی تو ہوتی ہو۔‘‘
’’صرف ہاتھ بٹانے کا مسئلہ نہیں اخراجات کا مسئلہ بھی ہے۔ یا پھر سودا سلف ہم اپنے ذمہ لیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے… لے لو۔‘‘ اس نے لاپروائی سے شانے اُچکائے۔
’’لائیں۔‘‘ میں نے ہاتھ اس کے سامنے پھیلایا۔ ’’پیسے دیں۔‘‘
’’تم خود دو نا۔‘‘
’’میں کہاں سے دوں؟‘‘ میں نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
’’جاب کر رہی تھیں کچھ تو سیونگ کر رکھی ہو گی تم نے۔‘‘
میں اس کا منہ تکنے لگی۔ اس کی بات سُن کر مجھے جھٹکا لگا تھا۔
’’ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟‘‘
’’سیونگ ہو بھی تو میری کفالت اب آپ کی ذمے داری ہے۔‘‘
’’یار! دقیانوسی باتیں مت کرو۔ یہ نیا زمانہ ہے۔ عورت کا خرچا مرد کے ذمے یہ پرانی بات ہوگئی۔ اب عورت مرد دونوں کو مل کر گھر کا نظام چلانا پڑتا ہے۔‘‘
’’میں کون سا کوئی کما رہی ہوں۔ بغیر تنخواہ چھٹی پر ہوں۔‘‘
’’اسی لیے کہہ رہا تھا جاب جاری رکھو۔ مجھے گھر بھی پیسے بھیجنے ہوتے ہیں۔ ماں باپ ہیں، بیوی بچّے ہیں۔ آٹھ بچوں کو پڑھانا کوئی کھیل تو نہیں۔ میری ساری
تنخواہ ادھر ہی چلی جاتی ہے۔‘‘
’’یہ تو آپ کو مجھ سے شادی کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔‘‘ میں حیرت زدہ تھی۔
’’ترس آتا تھا مجھے تم پر اور تمہاری امّی پر… اس لیے میں نے تم سے شادی کرلی۔‘‘ وہ بولا۔
توہین ذات سے میرا رواں رواں سُلگنے لگا۔
’’تو آپ نے ترس کھا کے مجھ سے شادی کی!‘‘
’’ہاں… اور اس پر تمہیں اور تمہاری امّی کو ساری زندگی میرا احسان مند رہنا چاہیے۔‘‘
’’مجھے پتا ہوتا کہ آپ مجھ پر ترس کھا کر شادی کر رہے ہیں تو میں ہرگز آپ سے شادی نہ کرتی۔‘‘
’’خیر اب تو کر چکی ہو۔‘‘ وہ مجھے استہزائیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے مسکرایا۔
میں نے امّی کو اس خیال سے یہ بات بتانی مناسب نہ سمجھی کہ انہیں صدمہ ہوگا۔ تاہم میں نے دفتر سے اپنی چھٹی منسوخ کرانے کا فیصلہ کرلیا۔ میں اتنی بے رحم اور بے ضمیر نہ تھی کہ اپنی کمزور اور عمر رسیدہ ماں پر مسلسل بوجھ بن جاتی۔ اس نے میرے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا۔ میں ناگواری کا اظہار کرنے سے قاصر تھی۔ ایک مرتبہ طلاق کا بھیانک صدمہ میرے لیے ایسا تلخ تجربہ تھا کہ دوبارہ میں ہر قیمت پر اس رشتے کا تحفظ چاہتی تھی۔
پہلی تاریخ آئی۔ دوسری، تیسری، چوتھی، حتیٰ کہ دس تاریخ بھی گزر گئی۔ اس نے امّی کو مکان کا کرایہ ادا نہیں کیا۔ بالآخر مجھی کو کہنا پڑا۔ ’’امّی کو کرایہ تو دے دیں۔‘‘
’’کیسا کرایہ؟‘‘ وہ انجان بن کر بولا۔
’’گھر کا۔‘‘
’’کیسی بات کرتی ہو۔ فیملی ممبر ہوں اب۔ تمہاری امّی کا بیٹا بن کر رہ رہا ہوں۔ کوئی بیٹا بھی ماں کو گھر کا کرایہ دیتا ہے… نہیں نہیں وہ برا مان جائیں گی۔‘‘
’’میں آپ سے پہلے بھی کہہ چکی ہوں، گھر کے کرایے کے علاوہ امّی کا کوئی اور آمدنی کا ذریعہ نہیں ہے۔ بیس پچیس دن سے وہ ہمیں کھلا رہی ہیں۔‘‘
’’تو کیا ہوا، داماد ہوں۔ دامادوں کے تو لوگ بہت نخرے اُٹھاتے ہیں۔‘‘ اس نے بے شرمی سے کہا۔
’’بہرحال گھر کا کرایہ تو امّی کو دینا پڑے گا آپ کو۔‘‘
’’کہاں سے دوں۔ مجھے گھر والوں کو خرچا بھیجنا پڑتا ہے۔ میرے اپنے بھی خرچے ہیں۔ روزانہ پانچ سات سو کا تو پٹرول ڈلواتا ہوں گاڑی میں۔‘‘
’’یہ میرا مسئلہ نہیں۔‘‘
’’اگر یہ تمہارا مسئلہ نہیں تو گھر کے کرایے کو بھی مسئلہ مت بنائو۔ تحفظ دے رکھا ہے میں نے تمہیں اور تمہاری ماں کو۔‘‘
میں صدمے کی کیفیت میں اس کا منہ دیکھنے لگی۔
’’جیسے چل رہا ہے چلنے دو۔‘‘ اس نے دو ٹوک لہجے میں فیصلہ سُنایا۔
میں تلملا کر رہ گئی۔ کیسا عذاب مول لے لیا تھا میں نے۔ اپنی بے بسی پر دل ہی دل میں کھولتے ہوئے بظاہر نہایت لجاجت سے کہا۔ ’’امّی بے چاری کہاں سے پورا کریں گی۔‘‘
’’اتنی ہی ہمدردی ہے امّی سے تو تم اپنے پاس سے دے دو۔‘‘ اس نے ڈھٹائی دکھائی۔
’’ظاہر ہے کچھ تو کروں گی۔‘‘
اگر میں ایک مرتبہ پہلے طلاق کے صدمے سے نہ گزر چکی ہوتی تو میں اس کی بے غیرتی اور ڈھٹائی پر اس سے اپنا رشتہ توڑ لینے کا فیصلہ کر لیتی، لیکن جس صدمے نے ایک بار پہلے میری رُوح تک کو گھائل کر دیا تھا، اس سے دوبارہ گزرنے کا خیال بھی رُوح فرسا تھا۔ بہرصورت مجھے اس اس رشتے کو سنبھال کر رکھنا تھا۔
جیسے تیسے میں نے تیرہ چودہ تاریخ تک امّی کے ہاتھ میں مکان کا کرایہ تھما دیا اور ساتھ ہی آصف کی طرف سے جھوٹ موٹ معذرت بھی کی کہ اس بار دھیان نہیں رہا کرایہ ادا کرنے میں دیر ہوگئی۔
’’رہنے دو۔ داماد سے کرایہ لیتی کیا اچھی لگوں گی۔‘‘ امّی نے کہا۔
میں جانتی تھی امّی مروّتاً ایسا کہہ رہی تھیں۔ میں نے زبردستی پیسے ان کی مٹھی میں دبا دیے۔ امّی بے چاری جھینپ سی گئیں۔ پھر بڑی رازداری سے بولیں۔ ’’تجھے بھی کچھ دیا اس نے؟‘‘
’’ہاں ہاں دے رہے تھے مگر میں نے کہا۔ مجھے ابھی ضرورت نہیں۔‘‘ میں نے امّی کو مطمئن کرنے کو کہا۔
’’ضرورت کیوں نہیں۔ نہ اس نے تجھے نئے کپڑے بنا کر دیے نہ کوئی زیور چڑھایا پیسے لے لیتی۔‘‘
’’وہ کہہ رہے تھے آفس سے کچھ فرصت ملے تو دبئی لے جاکر شاپنگ کرائیں گے۔‘‘
’’اچھا اچھا۔‘‘ امّی خوش ہوگئیں۔ ’’ہاں بھئی افسروں کو فرصت ملنا ہی تو مسئلہ ہوتا ہے۔‘‘
’’اور ہاں امّی اب آپ کی طرف سے ہماری مہمانداری ختم ہو جانی چاہیے بلکہ آئندہ آپ کا کھانا پینا بھی ہمارے ساتھ ہی ہوگا۔‘‘ میں نے امّی سے کہا۔
’’نہیں بیٹا… میں بیٹی داماد کے ٹکڑوں پر نہیں پڑوں گی اور تو بھلا صبح کو دفتر گئی شام کو گھر لوٹتی ہے۔ تیرے پاس کھانا پکانے کا ٹائم کہاں ہوگا۔ خواہ مخواہ تو نے دوبارہ نوکری کا روگ پال لیا۔ چین سے گھر بیٹھتی۔‘‘
’’گھر میں بور ہو جاتی تھی امّی۔‘‘ میں نے بات بنائی۔
’’کھانا میں بنا دیا کروں گی۔ دن بھر ہوتا ہی کیا ہے کرنے کو میرے پاس۔ پکانے ریندھنے میں کچھ دھیان بٹ جاتا ہے ہاتھ پائوں بھی چلتے ہیں۔‘‘
’’ایک شرط پر۔‘‘
’’وہ کیا؟‘‘ امّی میرا منہ دیکھنے لگیں۔
’’سودا سلف ہم لا کر دیں گے۔‘‘ تکلم کا صیغہ ’’ہم‘‘ میں نے امّی کے اطمینان کو استعمال کیا تھا۔ سودا سلف تو واحد متکلم یعنی مجھی کو لا کر دینا تھا۔ امّی کو دوبارہ صدمے سے بچائے رکھنے کی میں حتی المقدور کوشش کر رہی تھی۔
٭…٭…٭
دفتر سے تنخواہ ملنے پر میں نے راشن لا کر گھر کی بالائی منزل پر امّی کے کچن میں پہنچا دیا۔ گوشت، سبزی اور پھل بھی ہفتے بھر کے لیے فریج میں ذخیرہ کر دیئے۔ ضرورتاً گاہے گاہے تازہ گوشت، سبزی، پھل اور دیگر اشیاء لانے کا عندیہ بھی دبی زبان سے امّی پر ظاہر کر دیا تاکہ وہ کھانے پینے کا سامان استعمال کرنے میں محتاط نہ رہیں۔ سودا سلف بازار سے لانے کے سلسلے میں آصف نے گاڑی میں مجھے بازار لے جانے اور لانے کی سہولت فراہم کی جو گویا اس کی طرف سے مجھ پر احسان تھا۔
میرے ننھیالی اور ددھیالی رشتے داروں میں آصف کی وجیہ شخصیت، تعلیم اور عہدے کے چرچے ہو رہے تھے۔ امّی کہتیں۔ ’’سارے رشتے دار تیری قسمت پر رشک کررہے ہیں کہ اتنا اچھا شوہر مل گیا۔‘‘
میں مسکرا کر رہ گئی۔
’’زرینہ آئی تھی۔ کافی دیر رہی۔ کہہ رہی تھی آپا تمہاری کوئی نیکی کام آ گئی جو عفاف کے لیے پہلے سے بھی اچھا رشتہ مل گیا۔‘‘ امّی نے ایک روز دفتر سے میری واپسی پر مجھے بتایا۔
آصف گھر آنے والے ہمارے تمام رشتے داروں سے بہت اچھی طرح ملتا، خوش خلقی سے پیش آتا۔ بزرگوں کو احترام دیتا۔ جوانوں کے ساتھ ہنسی مذاق اور ان کی عمومی دلچسپیوں کی باتیں کرتا۔ بچوں سے نہایت محبت اور شفقت کا سلوک کرتا۔ سب اس سے بہت خوش تھے۔
ماموں ایک دن مجھ سے کہنے لگے۔ ’’عفاف بیٹا! اللہ نے بہت عنایت کی ہے تم پر۔ اس عنایت پر اللہ کی ہمیشہ شکر گزار رہنا اور اس عنایت کی قدر بھی کرنا۔‘‘ پھر دبی زبان سے بولے۔ ’’پہلے کی طرح نہ ہو۔‘‘
مجھے یوں لگا جیسے ماموں مجھے قصوروار سمجھتے ہوئے دوبارہ غلطی نہ دُہرانے کی تلقین کر رہے تھے۔
’’سمجھ رہی ہو نا؟‘‘ ماموں نے کہا۔
’’جی ماموں!‘‘ میں نے دھیرے سے جواب دیا۔
چند قریبی رشتے داروں نے ہمیں دعوت پر بھی بلایا۔ صبح جب میں دفتر جانے کے لیے آصف کی گاڑی میں اگلی نشست پر ان کے ساتھ بیٹھ کر گھر سے نکلتی تو ہمسایہ خواتین اپنے گھروں کے دروازوں، کھڑکیوں اور چوباروں سے جھانکنے لگتیں، ان کی آنکھوں سے رشک چھلکتا دکھائی دیتا۔ حقیقت میں ہی جانتی تھی۔
(جاری ہے)