Douat Nay Dil Badal Deye | Teen Auratien Teen Kahaniyan

936
امی اور ماموں میں بے حد محبت تھی۔ لوگ ان بہن بھائی کی محبت کی مثال دیا کرتے تھے مگر دولت کے ناگ نے ان کی بے مثال محبت کو ڈس لیا۔ پہلے ہم لوگ غریب تھے اور ماموں خوشحال تھے۔ ہم ملتان اور وہ دوسرے شہر میں رہا کرتے تھے۔ ہر سال جب چھٹیاں ہوتیں تو ہم ماموں کے گھر گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے چلے جاتے تھے۔
ماموں کی دو بیٹیاں تھیں۔ ندا اور نائرہ۔ ندا میرے بھائی کو پسند کرتی تھی۔ سلیمان بھی اس کا شیدائی تھا۔ امی کہتی تھیں۔ سلیمان جلدی سے پڑھ لکھ کر کچھ بن جا، تو میں ندا سے تیری شادی کردوں۔ ندا میری ماں سے بھی بہت پیار کرتی تھی جب ہم ان کے گھر جاتے پھپھو… پھپھو کہتے اس کی زبان سوکھتی تھی۔ سارا وقت امی کی خاطر داری میں لگی رہتی۔ جب تک میری ماں کھانا نہ کھالیتیں وہ لقمہ نہ لیتی۔
ندا بہت خوبصورت اور اچھے اخلاق کی لڑکی تھی۔ میری اس سے دوستی تھی۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے اپنے دل کا حال کہہ دیا کرتی تھیں۔ میں اسے ’’بھابی‘‘ کہہ کر چھیڑتی تو شرما جاتی ۔ میں اس دن کے انتظار میں تھی کہ کب وہ سلیمان کی دلہن بن کر ہمارے گھر آئے اور میں ’’بھابی‘‘ کہہ کر سب سے اس کا تعارف کروائوں کہ دیکھو میرے بھائی کی دلہن کتنی حسین ہے۔
جب سلیمان نے ایف ایس سی کیا تو امی نے اس کی منگنی ندا سے کردی، اب تو رشتہ پکّا ہوگیا تھا۔ سلیمان بھائی پھولے نہ سماتے تھے کہ جسے چاہتے تھے وہ اسی کو پانے جارہے تھے۔ انہی دنوں ابو جان کی پروموشن ہوئی اور پھر ان کو بیرون ِ ملک جانے کا چانس مل گیا۔ دو سال میں دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے دن پھر گئے۔ گھر میں دولت کی ریل پیل ہوگئی۔ ابو ایک بڑے بزنس مین کے منیجر تھے۔ اسی شخص کے طفیل یہ امیر ہوئے تھے۔ ابو سے وہ کیا کام لیتے تھے، یہ ہم نہیں جانتے لیکن اب ہم دولتمندوں میں شمار ہونے لگے تھے۔ جلد ہی گھر بھی بدل لیا۔ چھوٹے علاقے کا ٹوٹا پھوٹا گھر فروخت ہوجانے کے بعد ہم ایک پوش علاقے کی کوٹھی میں منتقل ہوگئے۔
کہتے ہیں سدا وقت ایک سا نہیں رہتا۔ اِدھر ابو کی قسمت جاگی تو اُدھر ماموں جان کی قسمت کا ستارہ ڈوب گیا۔ گھاٹا ہی نہیں آیا، کاروبار ہی ختم ہوگیا۔ اچانک مارکیٹ میں آگ بھڑک گئی، بہت سی دکانوں کو اس آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ماموں جان کی دکان بھی جل کر خاکستر ہوگئی۔ بہن پر اچھے اور بھائی پر برے دن آگئے۔ یہ وہی ماموں تھے جو ہمارے ناز نخرے اٹھاتے۔ امی حالات کی تنگی کا رونا روتیں تو انہیں بغیر گنے نوٹوں کی گڈیاں اٹھاکر دے دیا کرتے تھے۔ آج ہاتھ پر ہاتھ دھرے گھر بیٹھ گئے تھے۔ دکان میں لاکھوں کا سامان تھا جو راکھ ہوگیا تھا۔ ان کی ہمت ٹوٹ گئی۔ دل کو ایسا صدمہ لگا کہ عرصے تک دوبارہ کاروبار جمانے کی ہمت نہ ہوئی۔
یہ وہ دن تھے جب سلیمان نے بی ایس سی اور ندا نے ایف اے پاس کرلیا تھا۔ ماموں چاہتے تھے کہ بیٹی کے فرض سے سبک دوش ہوجائیں لیکن اب والدہ اس موضوع کی طرف نہیں آتی تھیں۔ مجھے اور سلیمان ہم دونوں کو محسوس ہوا کہ ان کو دولت کی وجہ سے غرور آتا جارہا ہے… وہ غریبوں کو کمتر سمجھنے لگی تھیں۔ ملازموں سے سیدھے منہ بات نہیں کرتی تھیں کہ انہیں ان کی اوقات پر نہ رکھو تو سر چڑھ جاتے ہیں۔ امی کی باتیں سُن کر مجھے حیرت ہوتی تھی کہ ان کو کیا ہوگیا ہے جبکہ انہوں نے غربت بھی دیکھی ہے۔ حیرت اور زیادہ ہوتی جب وہ ماموں کے فون آنے پر مجھ سے کہہ دیتیں کہ انہیں کہو کہ راشدہ سو رہی ہے۔ حالانکہ پہلے یہی تھیں کہ روز ماموں ممانی کو فون کرنا ان کے معمول میں شامل تھا۔
ماموں ہمارے گھر کم ہی آتے تھے، ان کو اندازہ نہ ہوسکا کہ بہن اتنی بدل گئی ہے۔ ایک دن انہوں نے امی کو خط لکھا کہ اب ندا نے ایف اے کرلیا ہے۔ یہی طے تھا کہ دونوں بچے تعلیم مکمل کرلیں تو شادی کردیں گے۔ اب تمہارا کیا ارادہ ہے؟ میری ماں نے اپنے بھائی کو جواب میں تحریر کیا کہ ہمیں سلیمان کو بیاہنے کی جلدی نہیں ہے۔ آپ ندا کا رشتہ جہاں چاہے کردیں۔ اس جواب سے ماموں کے دل کو ٹھیس پہنچی۔ وہ سمجھ گئے کہ بہن نے ندا کا رشتہ لینے کا ارادہ بدل لیا ہے ورنہ ایسا سخت جواب نہ بھجواتیں۔ ندانے مجھے فون پر بتایا کہ پھپھو کا ایسا جواب آیا ہے۔ ابو پریشان ہیں۔ معاملہ کیا ہے… میں اسے کیسے بتاتی کہ سگے بہن بھائی کے درمیان دولت کی دیوار حائل ہوگئی ہے۔ میں نے کہا۔ندا اب تم ذہنی طور پر تیار رہو، ممکن ہے امی جان بھائی کو اعلیٰ تعلیم کی خاطر لندن بھجوادیں۔وہ بولی۔ نہیں عظمیٰ مجھے نہیں لگتا یہ وجہ ہے۔ دال میں کچھ کالا ہے تو پلیز بتادو کیا سلیمان منع کررہا ہے یا خود پھپھو نے کوئی اور لڑکی دیکھ لی ہے۔
میں کیا جواب دیتی۔ ان سوالات کا، خود میرے پاس جواب نہ تھا۔ پھر پتا چلا کہ ماموں نے فون پر بات کی تو امی نے نہایت بے رخی سے ان سے کلام کیا۔ وہ بجھ کر رہ گئے۔ ندا بھی سُن رہی تھی، ممانی کو بتایا کہ بہن نے ہماری بیٹی کا رشتہ لینے سے انکار کردیا ہے۔
ندا نے مجھے رات گئے فون کیا اور رو رو کر فریاد کی کہ کیا واقعی پھپھو کا دل اتنا سخت ہوگیا ہے یا دولت نے انہیں بدل دیا ہے۔ کیا وہ اس لیے ہم سے ناتا توڑ رہی ہیں کہ ابو کی دکان جلنے کے باعث کاروبار ختم ہوگیا ہے اور ہم غریب ہوگئے ہیں۔ تم سلیمان سے پوچھو وہ کیا کہتا ہے۔ میں نے جب سلیمان کو بتایا کہ امی نے ماموں کو اس طرح جواب دیا ہے تو وہ بہت پریشان ہوا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ میں نے تسلی دی بھائی پریشان نہ ہوں اللہ نے چاہا تو تمہیں اور ندا کو خوشیاں ضرور ملیں گی۔ ندا مجھے میسج کرتی جو بھائی کے نام ہوتے۔ وہ پڑھ کر اُداس ہوجاتا۔ جب وہ لکھتی کہ تمہاری امی کے انکار سے دل ٹوٹ گیا ہے اور میں راتوں کو لحاف میں منہ چھپاکر روتی ہوں۔
ایک دن اس نے میسج کیا کہ گھر والے میرا رشتہ طے کررہے ہیں۔ تم جلدی پھپھو کو راضی کر کے ہمارے گھر لے آئو۔ امی سخت حکمران تھیں۔ بھلا میری کیا اوقات کہ انہیں مجبور کرتی۔ باتوں باتوں میں ذکر کیا کہ ماموں ندا کا رشتہ کہیں اور طے کرنے لگے ہیں آپ کیوں نہیں انہیں روکتیں کہ ہمیں سلیمان کے لئے اس کا رشتہ لینا ہے۔ جواب دیا ان کا کاروبار ختم ہوگیا ہے۔ اب وہ بیٹی کو عزت سے بیاہنے کے لائق نہیں رہے۔ ہمیں بھی معاشرے میں اپنی پوزیشن بنانی ہے۔ میں اپنے بیٹے کا رشتہ کسی اونچے گھرانے میں کروں گی کہ لوگ رشک سے دیکھتے رہ جائیں۔
ندا کی کسی اور جگہ منگنی ہوگئی۔ سلیمان کا دل ٹوٹ گیا۔ اس نے پڑھائی چھوڑ دی اور گھر بیٹھ گیا کہ بس اب اور نہیں پڑھنا۔ابو اسے بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ آفس لے جانے لگے۔ ندا کی اچھی قسمت تھی۔ بہت امیر گھر کا رشتہ آیا۔ لڑکا بھی تعلیم یافتہ اور صورت میں اس کے ہم پلّہ تھا۔امی کو ماموں نے بیٹی کی شادی کا کارڈ بھجوایا۔ والد نے مجبور کیا کہ جائو… شادی میں شرکت کرلو۔ انہیں برسوں آسرے میں رکھ کر انکار کیا۔ میں نہیں جائوں گی۔ یہ ٹھیک نہیں۔ یوں اپنوں کو نہیں چھوڑ دیتے، پیسہ آنی جانی شے ہے۔
ابو والدہ کو ہمراہ لاہور لے گئے۔ ندا کی شادی میں شرکت کی۔ وہ دلہن بنی اتنی خوبصورت لگ رہی تھی کہ ایک لمحے کو امی بھی اسے دیکھتی رہ گئیں۔ اسے جب رخصتی کے وقت گلے لگایا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ تب شاید لمحے بھر کے لئے میری ماں کو افسوس ہوا۔ سلیمان بھائی تو شادی میں نہ گئے مگر کافی دنوں تک پریشان رہے۔ کچھ عرصے بعد امی نے اس کا رشتہ ایک امیر اور ماڈرن گھرانے میں طے کردیا۔ شادی بھی دھوم دھام سے کی۔ روپیہ پانی کی طرح بہایا۔ اُدھر سے بھی ٹرکوں میں جہیز آیا کہ میری ماں اس سامان کو دیکھ کر پھولی نہ سماتی تھیں۔
اس لڑکی کا نام مہروز تھا۔ وہ خوبصورت تھی۔ اس کے شادی کے جوڑے پر کئی لاکھ خرچہ آیا تھا جو اس کی والدہ نے ایک مشہور فیشن ڈیزائنر سے بنوایا تھا۔ جب ہم بارات لے کر گئے تو شادی کے دن لڑکی والوں کا کسی سے جھگڑا ہوگیا۔ ہم حیران تھے کہ دلہن والوں کے گھر یہ کیا معاملہ ہوگیا ہے۔ بہر حال انہوں نے جلدی جلدی لڑکی کو رخصت کیا اور ہمیں علم نہ ہوسکا کہ وہاں کیا معاملہ تھا۔
سلیمان نے ماں باپ کی رضا پر سر جھکادیا۔ وہ ایک با لحاظ اور فرمانبردار بیٹا تھا۔ شادی کی رات جب دلہن کے کمرے میں گیا، دلہن نے خود کلام کرکے استقبال کیا اور گھونگھٹ اٹھانے کی دولہا کو زحمت نہ دی۔ وہ یوں گویا ہوئی کہ سلیمان آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔ اس کے لئے پہلے سے سوری کرلیتی ہوں۔ بات یہ ہے کہ میں آپ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی، پہلے سے شادی شدہ ہوں۔ آپ کو دھوکا دینا نہیں چاہتی۔ آپ دنیا والوں کے سامنے صبح ہی مجھے طلاق دے دیں ورنہ جگ ہنسائی ہوگی۔
بھائی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ وہ سمجھا کہ دلہن مذاق کررہی ہے یا اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہے، لیکن وہ مذاق نہیں کررہی تھی اور اپنے ہوش و حواس میں بھی تھی۔ سلیمان نے کہا۔ میرے والدین نے بہت دھوم دھام سے شادی کی ہے تو صبح طلاق دینے سے جگ ہنسائی ہوگی اور تماشہ بھی بنے گا۔ اگر ایسا کچھ معاملہ تھا تو تم پہلے ہی والدین کو بتا دیتیں۔ میں نے بتایا تھا وہ نہ مانے تو اب بھگتیں… میں کیا کروں، میں تو صبح چلی جائوں گی۔ ان کی طرف سے مجبور ہوکر سو چا کہ تم سے رحم کی درخواست کرلوں گی۔ تم پڑھے لکھے ہو اور یہ مسائل سمجھتے ہو، یقیناً میری بات سمجھو گے کیونکہ زبردستی تو گھر نہیں بستے۔ سلیمان سے تمام رات وہ اپنے محبوب کی باتیں کرتی رہی۔ تب وہ سمجھ گیا کہ یہ یہاں نہیں رہنے والی۔ زبردستی روکا تو بھی بھاگ جائے گی۔ صبح سلیمان نے امی کو بتایا کہ آپ کی پسندیدہ بہو یہ کہہ رہی ہے۔ اب بتایئے کہ میں کیا کروں۔ ہمارا گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا امی حواس باختہ ہوگئیں۔ ابو نے دلہن کے والد کو فون کیا۔ وہ میاں بیوی دوڑے آئے اور معافیاں مانگنے لگے کہ یہ ہماری اکلوتی اور لاڈلی بچی ہے، ذرا نا سمجھ ہے، آپ فکر نہ کریں۔ ہم سمجھا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی ہم مہروز کو تھوڑی دیر کے لئے ہمراہ اپنے گھر لے جاتے ہیں، دو گھنٹے بعد چھوڑ دیں گے۔ یہاں ولیمے کی تیاریاں تھیں۔ امی ابو نے بھائی سے کہا کہ تم بھی ان کے ساتھ جائو۔ سلیمان نہیں جانا چاہتا تھا، ماں باپ کے دبائو میں آکر چلا گیا۔
والدین کے گھر جاکر مہروز اپنے کمرے میں چلی گئی۔ کہا کہ لباس تبدیل کرنا ہے ابھی آتی ہوں۔ سلیمان اس کے والدین کے ساتھ ڈرائنگ روم میں بیٹھا تھا۔ آدھ گھنٹہ گزر گیا وہ نہ آئی۔ اس کی ماں، بیٹی کو دیکھنے اس کے کمرے میں گئی، وہ وہاں نہیں تھی۔ باری باری گھر کے تمام کمروں میں دیکھ لیا۔ دلہن غائب تھی۔ وہ جاتے ہوئے تمام زیور جو پہن رکھا تھا ساتھ لے گئی تھی۔ اس کے ماں باپ تمام رات اسے تلاش کرتے رہے۔ سلیمان اکیلا گھر لوٹ آیا۔ والد کو بتایا تو انہوں نے پولیس میں رپورٹ لکھوا دی کہ دلہن کو اس کے ماں باپ اپنے گھر لے گئے۔ وہ ولیمے پر بھی نہ پہنچی اور ہمارا سارا زیور بھی لے گئی ہے۔ ان لوگوں نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا ہے۔
پولیس ان کے والدین کے گھر گئی، انہوں نے کہا کہ ہمیں علم نہیں ہے لڑکی کس وقت اور کیسے نکلی۔ ہمیں شک ہے کہ وہ فلاں جگہ نہ ہو۔ پولیس وہاں گئی تو ان لوگوں نے کہا کہ وہ یہاں نہیں آئی اور ہمارا لڑکا بھی موجود نہیں ہے۔ ہم اس بارے میں اور کچھ نہیں جانتے۔ لڑکے کے دوستوں کا پتا لے کر پولیس نے ان سے پوچھ گچھ کی تو ایک دوست نے بتایا کہ فلاں جگہ ہوسکتے ہیں۔ وہاں چھاپہ مارا تو مہروز موجود تھی۔ مگر اس کا محبوب موجود نہ تھا۔ اسے پولیس والے تھانے لائے۔ اس نے بتایا کہ تھوڑی دیر پہلے اس کا دوست فراز موجود تھا وہ کھانا لانے کا کہہ کر گیا تھا۔ زیورات اور نقدی بھی اسے رکھوا دی ہے۔ وہ لڑکا بھاگ نکلا اور لاڈلی بیگم دھرلی گئیں۔ ماں باپ نے جاکر خلاصی کرائی۔ موٹی رقم بھری اور بیٹی کو گھر لے آئے…ادھر امی سخت پریشان تھیں۔ لاکھوں کا زیور جو بہو کو بڑے ارمانوں سے چڑھایا تھا وہ غارت ہوا اور عزت بھی گئی۔
سارے خاندان میں بھت اُڑی کہ ولیمے والے دن بہو بھاگ گئی۔ اب میری ماں کو ہوش آیا بلکہ مہروز نے ان کی عقل ٹھکانے لگادی۔ دنیا میں بدنامی ہوگئی۔ وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں۔ زمانے میں جگ ہنسائی ہوئی۔ سلیمان نے طلاق کے کاغذات پر دستخط کرکے ابو کے حوالے کیے اور میری ماں روتے ہوئے کہتی تھیں کہ بھائی غریب کی ہائے لگی ہے۔ ندا کی آہ عرش تک گئی ہے۔ مجھ سے بڑی بھول ہوگئی۔ ظاہری شو شا پر مر مِٹی اور اپنوں کو دھتکار دیا۔ اللہ کی ناراضگی اسی کو کہتے ہیں۔ ہائے کاش ایسا نہ کرتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ ماموں کو علم ہوا تو ممانی کو ساتھ لے کر آئے۔ دونوں میاں بیوی نے امی کو تسلی دی اور کہا کہ بہن ہم نے آپ کی محبت کھوئی ہمیں بہت دکھ ہوا مگر آپ نے عزت کھوئی اس کا اور زیادہ دکھ ہے۔ امی ماموں کے گلے لگ کر بہت روئی تھیں۔ کہا کہ غلطی ہوچکی اے کاش تم ندا کی شادی کرنے میں جلدی نہ کرتے تو آج پھر سے اس کا ہاتھ مانگ لیتی۔ اب چھوٹی کا رشتہ دے دو۔ مگر سلیمان نے نائرہ سے شادی کرنے سے انکار کردیا کیونکہ اس طرح وہ ندا کا سامنا نہ کر پاتا۔ اس کے بعد سلیمان کا دل ایسا ٹوٹا کہ وہ مزید تعلیم کا بہانہ کر کے بیرونِ ملک چلا گیا اور کئی سال تک نہ لوٹا۔ امی اسے یاد کرتی تھیں اور تڑپتی تھیں، کہتی تھیں کوئی میری ساری دولت لے لے مگر بیٹا واپس لے آئے۔
سلیمان کو آٹھ برس بعد بالآخر گھر کی یاد آگئی۔ وہ چند دن کے لئے آیا اور سب سے مل کر واپس چلا گیا۔ امی کو نہیں بتایا مگر مجھے اور ابو کو پتا ہے کہ اس نے امریکہ میں ایک گوری سے شادی کرلی تھی، اس سے بھی نہ نبھی اب وہاں تنہا رہتا ہے۔ دوبارہ شادی نہیں کی۔ دعا کرتی ہوں کہ اللہ میری ماں کو صبر دے جو دن رات بیٹے کو یاد کرکے روتی ہیں یا پھر سلیمان کے دل کو موم کردے اور وہ واپس وطن لوٹ آئے۔ اس کے بہن بھائی ماں باپ اسے یاد کر کے افسردہ ہوجاتے ہیں۔ ندا اپنے گھر خوش ہے۔ سنا یہی ہے خدا کرے خوش ہو۔ ہم اس سے ملتے نہیں ہیں کیونکہ وہ ہم سے ملنے سے قاصر ہے۔ (ک۔ ش…ملتان)