Drama | Complete Urdu Story

557
Drama | Complete Urdu Story
نادیہ کی ضد اور مسلسل اصرار نے فاروق کو مجبور کردیا۔ اس نے نادیہ کا ساتھ دینے پر آمادگی ظاہر کردی۔ نادیہ دراصل ایک ڈراما کرنا چاہتی تھی۔ اس کا ذہن نت نئی شرارتیں سوچتا رہتا تھا۔ جب اس نے اپنا منصوبہ فاروق کے سامنے رکھا تو اس نے اس قسم کے مذاق کی مخالفت کی تھی لیکن نادیہ اپنی بات منوا کر رہی۔ پھر باہم مشورے کے بعد اتوار کا دن طے کیا گیا۔ اس روز انہیں ایک ’’ڈراما‘‘ کرنا تھا۔ جب اسکرپٹ اور ڈائیلاگز پر کام شروع ہوا تو اس دوران دونوں کا ہنستے ہنستے برا حال ہوگیا۔
یہ ڈراما انہیں اپنے لان میں کرنا تھا جس کے ایک طرف گیراج بنا ہوا تھا۔ گیراج کے ساتھ ہی دوسری جانب ایک مکان تھا، جس کی بالائی منزل کے کچن کی کھڑکی اس گیراج کی طرف کھلتی تھی۔ کوئی بھی شخص کچن میں بیٹھ کر ان کے لان کا جائزہ لے سکتا تھا۔ دراصل نادیہ اور فاروق اپنا وہ ڈراما رعنا کو دکھانا چاہتے تھے۔ رعنا ان کی پڑوسن تھی، جس کے بارے میں انہیں یقین تھا کہ وہ اپنی عادت کے مطابق کچن کی کھڑکی سے سب کچھ غور سے دیکھے گی۔
نادیہ اور فاروق کی شادی کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ دونوں جوان اور خوبصورت تھے۔ کسی بھی نئے شادی شدہ جوڑے کی طرح دونوں کے جذبات میں شدت اور والہانہ پن تھا۔ نادیہ، حسین ہونے کے ساتھ ساتھ شریر اور کھلنڈری سی لڑکی تھی جبکہ فاروق قدرے سنجیدہ اور متین نوجوان تھا لیکن نادیہ کی نت نئی شرارتوں میں شریک ہو کر اسے خوشی ہوتی تھی۔
وہ حال ہی میں اس مکان میں کرائے دار کی حیثیت سے منتقل ہوئے تھے۔ وہ نوبیاہتا تھے اور تنہائی چاہتے تھے لیکن ان کی پڑوسن نے انہیں عاجز کر رکھا تھا۔ وہ ہر وقت ان کی ٹوہ میں رہتی تھی۔ وہ دونوں اس کی اس عادت سے نالاں تھے۔ آخرکار تنگ آ کر نادیہ کے ذہن میں ترکیب آئی کہ ایک ڈراما کھیلا جائے۔
آج اتوار کا دن تھا اور وہ دونوں اپنے منصوبے پر عمل کرنے کے لئے تیار تھے۔ نادیہ کو یقین تھا کہ اس طرح انہیں رعنا کی تاک جھانک اور نگرانی سے ہمیشہ کے لئے نجات مل جائے گی۔ رعنا ایک بیوہ اور بے اولاد عورت تھی۔ اس نے اپنے مکان کا نچلا پورشن ایک فیملی کو کرائے پر دے رکھا تھا اور خود بالائی منزل پر رہتی تھی۔
٭ … ٭ … ٭
’’نادیہ!‘‘ فاروق دھاڑا۔ ’’میں کہتا ہوں واپس آ جائو۔‘‘
اس مکالمے کے ساتھ ڈراما شروع ہوا۔
نادیہ لان عبور کرکے تیزی سے گیراج کے باہر کھڑی ہوئی کار کی طرف بڑھی۔ ’’نہیں…‘‘ وہ بھی جواباً چیخی۔ ’’میں تمہاری روز روز کی بک بک سے تنگ آ گئی ہوں۔ میں یہاں سے جا رہی ہوں اور کبھی واپس نہیں آئوں گی۔‘‘
’’نادیہ، میں کہتا ہوں واپس آ جائو ورنہ…‘‘
’’ورنہ کیا…؟‘‘ نادیہ نے بھی پوری قوت سے چلا کر کہا۔ ’’تم کیا کر لو گے؟‘‘ وہ پائوں پٹختی ہوئی کار کی طرف بڑھی۔
وہ دونوں پوری قوت سے چلا رہے تھے۔ اگر ان کی پڑوسن کچن میں نہیں بھی تھی تو یہ آوازیں سن کر فوراً وہاں آگئی ہوگی۔ نادیہ کو ذرا سی مہلت دے کر فاروق تیزی سے اس کی طرف دوڑا۔ پھر اس نے نادیہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔ نادیہ نے شدید مزاحمت کی اداکاری کی لیکن فاروق اسے کھینچتا ہوا گھر کی طرف لے جانے لگا۔ اس دوران دونوں چیخ چیخ کر ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے رہے۔
گھر میں داخل ہونے کے بعد بھی وہ کچھ دیر تک ایک دوسرے پر چیختے چلاتے رہے۔ پھر نادیہ نے ہنس کر فاروق کی طرف دیکھا اور ایک لمبی چیخ مار کر خاموش ہوگئی۔ تھوڑی دیر کے بعد فاروق اپنے بازوئوں پر نادیہ کو اٹھائے اس طرح باہر نکلا کہ اس کی گردن ڈھلکی ہوئی اور بال بکھرے ہوئے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہ فاروق کی کسی ضرب سے بے ہوش ہوگئی ہو۔
فاروق اسے اٹھائے کار کی طرف بڑھ رہا تھا۔ قریب پہنچ کر نادیہ نے ہوش میں آنے کی اداکاری کی اور بری طرح سے ہاتھ پائوں مارنے لگی۔ وہ خود کو فاروق کی گرفت سے چھڑا کر لڑکھڑاتے قدموں سے مکان کی طرف واپس جانے لگی۔ فاروق دوڑتا ہوا گیراج کی طرف گیا اور جب واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک لمبی سی لوہے کی سلاخ تھی۔ اس نے دوڑ کر نادیہ کو لان میں جا لیا اور بالوں سے پکڑ کر بڑی بے دردی سے گھاس پر گرا دیا… پھر اس نے سلاخ والا ہاتھ بلند کیا اور اسے نادیہ کے سر پر مارنے کی اداکاری کی۔
نادیہ چیخ کر گھاس پر تڑپنے لگی پھر ایک جھٹکے کے ساتھ اس کا جسم ساکت ہوگیا۔ فاروق نے جھک کر اس کے سینے پر کان رکھ دیا۔ وہ اس کے دل کی دھڑکن سننے کی اداکاری کر رہا تھا۔ پھر اس نے کھڑے ہو کر آستین سے اپنا چہرہ خشک کیا اور احتیاط سے چاروں طرف دیکھتا ہوا گاڑی کی طرف بڑھا۔ اس نے کار کی ڈکی کھولی اور نادیہ کو اپنی بانہوں میں اٹھا لیا۔
نادیہ نے چپکے سے آنکھیں کھول کر اپنے شوہر کی طرف دیکھا اور دھیرے سے بولی۔ ’’تم نے میرے بال بڑی زور سے کھینچتے تھے۔ بہت درد ہو رہا ہے۔‘‘
’’خاموش پڑی رہو ورنہ سارے کئے کرائے پر پانی پھر جائے گا۔‘‘ وہ ہونٹ بھینچ کر سرگوشی میں بولا۔ اس سے اپنی ہنسی پر قابو پانا مشکل ہو رہا تھا۔ ’’ویسے بھی یہ تمہارا منصوبہ تھا، اب بھگتو۔‘‘
نادیہ نے شوخ نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔ فاروق نے اسے ڈکی کے اندر ڈال دیا اور ڈکی بند کرکے اس میں تالا لگا دیا۔
فاروق گاڑی اسٹارٹ کرتے وقت سوچ رہا تھا کہ اب ان کی پڑوسن پولیس کو فون کرنے کے لئے دوڑ چکی ہوگی۔ تھوڑی دیر کے بعد اس کی گاڑی تیزی سے سڑک پر دوڑ رہی تھی۔ فاروق اب تک اس ڈرامے سے بہت لطف اندوز ہوتا رہا تھا لیکن اپنے گھر سے کچھ فاصلے پر آ کر اسے شرمندگی سی ہونے لگی۔ اس نے سوچا کہ انہیں اپنی نیک دل پڑوسن کے ساتھ ایسا ظالمانہ مذاق نہیں کرنا چاہئے تھا۔ نادیہ کے ساتھ وہ خود بھی بچہ بن گیا تھا۔
یہ حقیقت تھی کہ ان کی پڑوسن رعنا بھوت بن کر ان کے سر پر سوار ہوگئی تھی… لیکن انہیں یہ مسئلہ کسی اور طریقے سے حل کرنا چاہئے تھا۔ اب فاروق کو اپنے کئے پر ندامت محسوس ہو رہی تھی۔
یہ علاقہ ان کے لئے بالکل نیا تھا۔ یہاں ان کا کوئی دوست رشتے دار نہیں تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب ان کی پڑوسن رعنا نے پہلے ہی دن ان کے گھر آنا جانا شروع کیا تو انہیں بہت اچھا لگا تھا۔ اس کی عمر چالیس برس کے لگ بھگ تھی۔ عام سی شکل و صورت کی رعنا بہت دھیمے اور میٹھے لہجے میں بات کرتی تھی۔ اس کی گفتگو میں اپنائیت ہوتی تھی۔ رفتہ رفتہ وہ ان کے قریب آگئی۔ یہاں تک کہ وہ ان کے ساتھ کھانا کھانے لگی۔ اس کا زیادہ تر وقت انہی کے گھر میں گزرنے لگا۔ شروع میں سامان کی سیٹنگ اور گھر کی آرائش وغیرہ کے لئے اس نے فرنیچر اور کھڑکیوں کے پردوں وغیرہ کی خریداری کے سلسلے میں نادیہ کی بہت مدد کی تھی۔
جب وہ اپنا نیا مکان مکمل طور پر سیٹ کرچکے تو انہیں رعنا کے تعاون اور مدد کی ضرورت نہیں رہی تھی لیکن سادہ لوح رعنا کی آمد و رفت میں کمی نہ آئی۔ وہ بدستور اپنا زیادہ تر وقت ان کے ہاں گزارتی رہی۔ اس کی ہر وقت کی موجودگی نادیہ اور فاروق کو بری لگنے لگی۔ وہ دونوں بہت کوفت محسوس کرتے۔ انہی دنوں انہیں رعنا کی اس بری عادت کا علم ہوا کہ وہ دونوں میاں بیوی کی ٹوہ میں لگی رہتی تھی، یعنی نگرانی کرتی تھی۔ اس انکشاف کے بعد وہ خود کو اس کے سامنے شرمندہ شرمندہ سا محسوس کرتے۔
رعنا وقت بے وقت ان کی خبر گیری بھی کرتی رہتی تھی۔ ایک دن اس نے اپنے گھر میں بیٹھے بیٹھے صبح سویرے نادیہ کے موبائل پر فون کیا۔ وہ پوچھنے لگی۔ ’’کیا رات تم دونوں میں سے کسی کی طبیعت خراب تھی؟‘‘
’’نہیں تو…‘‘ نادیہ نے جواب دیا۔ وہ رعنا کی بات سمجھ ہی نہیں پائی تھی۔ اس پر نیند کا غلبہ تھا اور وہ پوری طرح بیدار نہیں ہوئی تھی۔ ’’لیکن آپ یہ کیوں پوچھ رہی ہیں؟‘‘
’’میں نے رات کو دو بجے تمہارے غسل خانے کی بتی جلی ہوئی دیکھی تھی۔‘‘ رعنا نے کہا اور نادیہ دانت پیس کر رہ گئی۔
ایک دن اس نے بڑی سادگی سے پوچھا۔ ’’رات تم دونوں کہاں گئے تھے۔ بہت دیر سے لوٹے تھے۔‘‘
’’ہم پکچر دیکھنے گئے تھے۔‘‘ نادیہ نے قدرے بے رخی سے جواب دیا۔
’’اتنی رات گئے تک باہر رہنا ٹھیک نہیں ہے۔ شہر کے حالات سے تم لوگ واقف ہو…‘‘ پھر اس نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا۔ ’’پھر تم دونوں خاصی دیر تک باتیں کرتے رہے۔ رات کو دیر تک جاگتے رہنے سے طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔ رات آرام کے لئے ہوتی ہے۔ صبح تم دونوں کو آفس بھی جانا ہوتا ہے۔‘‘
کبھی وہ ٹھیک کھانے کے وقت آ دھمکتی۔ ’’واہ… بڑی عمدہ خوشبو آ رہی ہے۔‘‘ وہ کہتی۔ ’’فاروق! تم خوش نصیب ہو۔ نادیہ بہت اچھے اور لذیذ کھانے بناتی ہے۔ خاص طور پر اس کے ہاتھ کی پکائی ہوئی بریانی کا تو جواب نہیں۔ اس کی خوشبو مجھے اپنے گھر سے کھینچ لاتی ہے۔‘‘
پھر وہ کرسی گھسیٹ کر کھانے کی میز پر ان کے ساتھ بیٹھ جاتی۔
وہ دونوں اندر ہی اندر پیچ و تاب کھاتے رہتے لیکن کر بھی کیا سکتے تھے، سوائے صبر کے۔ رعنا انہیں کچھ روز پہلے تک بہت اچھی لگتی تھی لیکن اب معاملہ اس کے برعکس تھا لیکن وہ اس سے کس طرح کہہ سکتے تھے کہ اب انہیں اس کی ضرورت نہیں ہے اور وہ تنہائی چاہتے ہیں۔ بہرحال انہوں نے اشاروں کنایوں میں رعنا کو سمجھانے کی کوشش کی تھی، لیکن نادیہ نے دیکھا کہ وہ اشاروں کی زبان نہیں سمجھ رہی تو تنگ آ کر اس نے اوچھی حرکتیں شروع کردیں۔ کئی بار ایسا ہوا کہ انہوں نے رعنا سے بچنے کے لئے دروازہ ہی نہیں کھولا اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ وہ گھر پر موجود نہیں ہیں۔ ایسے مواقع پر انہیں یہ خیال بھی نہیں رہتا تھا کہ ان کی گاڑی باہر کھڑی ہوئی ہے۔
رعنا بے چاری کافی دیر تک کال بیل بجاتی رہتی پھر تھک کر اداس اداس واپس چلی جاتی۔ اس کے جانے کے فوراً بعد فاروق یا نادیہ کے موبائل فون پر رعنا کی کال آتی۔
’’آج میں نے بریانی پکائی تھی اور تم لوگوں کے لئے لائی تھی۔‘‘ وہ کہتی۔ ’’دروازے کے سامنے ٹرے رکھی ہے اسے اٹھا لو، کہیں کوئی بلی اسے خراب نہ کردے۔‘‘
ایسے میں فاروق کو ہمیشہ اپنے طرز عمل پر افسوس ہوتا۔ وہ نادیہ سے کہتا کہ ہمیں رعنا کو کھانے کی دعوت دینی چاہئے لیکن نادیہ صاف انکار کردیتی۔ پھر دیر تک وہ اس موضوع پر بحث کرتے رہتے۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ ان کی پڑوسن ان سے بہت محبت کرنے لگی تھی، چونکہ وہ تنہا زندگی گزار رہی تھی اس لئے خلوص و محبت کی تلاش میں رہنا ایک فطری امر تھا۔
آخرکار ایک دن انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ اس
سلسلے میں کچھ نہ کچھ کرنا ہی پڑے گا۔
’’فاروق!‘‘ نادیہ بولی۔ ’’تم نے محسوس کیا کہ ہماری پڑوسن ہماری زندگی میں تلخیاں گھول رہی ہے۔ اس نے ہمارا ذہنی سکون غارت کردیا ہے۔ وہ ہماری تنہائی کی دشمن ہے۔‘‘
’’لیکن وہ دل کی بہت اچھی ہے۔‘‘ فاروق نے کہا۔
’’یہی تو مشکل ہے۔‘‘ نادیہ نے گہرا سانس لے کر کہا۔ ’’اگر وہ اتنی اچھی نہ ہوتی تو ہم اس سے صاف کہہ سکتے تھے کہ ہمیں اپنے گھر میں اس کا آنا جانا پسند نہیں ہے۔‘‘
’’وہ ہمیں بہت پسند کرتی ہے۔‘‘
’’میرا خیال ہے کہ اس کی وجہ محض اس کی تنہائی ہے۔‘‘ نادیہ نے جواب دیا۔ پھر وہ سوچتے ہوئے بولی۔ ’’ہمیں کچھ ایسا کرنا ہوگا کہ جس کے نتیجے میں وہ ہم سے نفرت کرنے لگے۔‘‘
دونوں کافی دیر تک سوچتے رہے لیکن ان کے ذہن میں ایسی کوئی بات نہیں آئی جس پر عمل کر کے وہ رعنا کو خود سے بدظن کرسکیں۔ رعنا ایسی عورت تھی ہی نہیں جو کسی کی بات کا برا منائے۔ وہ ہر بات پر مسکراتی رہتی تھی۔ اس میں قوتِ برداشت بہت زیادہ تھی۔ آخرکار نادیہ کے ذہن میں ڈراما کرنے کا خیال آیا۔
’’کیا تمہیں یقین ہے کہ اس طرح رعنا بیگم سے ہماری جان چھوٹ جائے گی۔‘‘ فاروق نے پوچھا۔
’’سو فیصد!‘‘ نادیہ نے یقین سے کہا۔ پھر وہ اسے اپنے منصوبے سے آگاہ کرنے لگی۔
فاروق کو اب حیرت ہو رہی تھی کہ آخر وہ کس طرح نادیہ کا ساتھ دینے پر آمادہ ہوگیا تھا۔ یہ منصوبہ بلاشبہ قابل نفرت تھا۔ ایک محبت کرنے والی عورت کو اس طرح بے وقوف بنانا اس کی نظر میں انتہائی گری ہوئی حرکت تھی۔ نادیہ کا منصوبہ یہ تھا کہ فاروق ایک گھریلو جھگڑے میں اس کے ساتھ مارپیٹ کرے گا اور غصے میں اچانک لگنے والی ضرب سے گویا اس کی جان لے لے گا۔ رعنا اپنی آنکھوں سے قتل کا وہ منظر دیکھے گی اور پولیس کو ضرور اطلاع کرے گی۔ جب پولیس ان کے گھر آئے گی تو فاروق تعجب کے ساتھ اس واقعے سے لاعلمی ظاہر کرے گا۔ پھر تھوڑی ہی دیر بعد نادیہ گھر میں داخل ہوگی۔ ایسی صورت میں ان کی پڑوسن پولیس کے سامنے کیا وضاحت پیش کرے گی۔ ممکن ہے پولیس کے ساتھ ’’مذاق‘‘ کرنے کے جرم میں اسے ہرجانہ دے کر ان سے اپنی جان چھڑانی پڑے شاید وہ یہ بھی سمجھ جائے کہ اسے بے وقوف بنایا گیا ہے۔ اس طرح یقیناً اس ضرورت سے زیادہ ’’محبت‘‘ کرنے والی عورت سے ان کی جان ہمیشہ کے لئے چھوٹ جاتی۔
فاروق منصوبے کے مطابق تیزی سے مصروف سڑکوں سے گزرتا ہوا قدرے سنسان علاقے کی طرف جا رہا تھا۔ انہوں نے پہلے ہی ایک ایسی سڑک کا انتخاب کرلیا تھا جہاں ٹریفک اور لوگوں کی آمد و رفت نہ ہونے کے برابر تھی۔ وہاں فاروق کو گاڑی روک کر نادیہ کو ڈکی سے باہر نکالنا تھا۔ ظاہر ہے یہ کام کسی ایسی جگہ انجام دیا جاسکتا تھا جہاں دیکھے جانے کا خدشہ نہ ہو، ورنہ لوگ انہیں عجیب نظروں سے دیکھتے۔ ممکن ہے کوئی تجسس پسند شخص ان کی اس حرکت کا سبب معلوم کرنے کے لئے سوالات بھی کرتا۔
فاروق اپنے خیالوں میں اس طرح ڈوبا ہوا تھا کہ وہ اس موڑ سے گزرتا چلا گیا جہاں سے اسے سنسان گلی میں جا کر نادیہ کو ڈکی سے باہر نکالنا تھا۔ جیسے ہی اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا، اس نے پوری قوت سے بریک لگائے۔ وہ اناج کی بوریوں سے بھرے ہوئے اس ٹرک سے بے خبر تھا جو اس کے پیچھے آ رہا تھا۔ اس نے جیسے ہی بریک لگا کر گاڑی روکی، ٹرک پوری رفتار سے اس کی گاڑی سے ٹکرایا۔ فاروق کا سر ونڈ اسکرین سے جا ٹکرایا اور اسٹیئرنگ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ اس کی کار ایک جھٹکے سے اچھلی اور سڑک سے اتر کر دور تک گھسٹتی چلی گئی۔ کئی منٹ تک فاروق کا سر چکراتا رہا۔ جب اس کے حواس کچھ درست ہوئے تو اس نے اپنے جسم کو ٹٹول کر دیکھا۔ اسے کوئی خاص چوٹ نہیں آئی تھی۔ اس نے دروازہ کھول کر باہر نکلنے کی کوشش کی۔ کسی نے سہارا دے کر گاڑی سے اترنے میں اس کی مدد کی۔ وہ ٹرک کا ڈرائیور تھا۔
’’تم ٹھیک ہے صاب؟‘‘ اس نے پوچھا۔ اس کے لہجے سے تشویش، گھبراہٹ اور خوف نمایاں تھا۔
’’ہاں… مم… میں ٹھیک ہوں۔‘‘ فاروق نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ پھر گھوم کر گاڑی کے نقصان کا جائزہ لینے لگا۔ ٹرک کی زبردست ٹکر سے گاڑی کا پچھلا حصہ بری طرح پچک گیا تھا۔ ڈکی کی حالت دیکھ کر فاروق کا سانس رک گیا۔ اچانک اسے اپنی بیوی کا خیال آیا۔ وہ شاک کے باعث وقتی طور پر اسے فراموش کر بیٹھا تھا۔ یکایک اس کا چہرہ خوف اور دہشت سے سفید پڑگیا۔
’’آئو صاب! میں آپ کو کسی اسپتال لے چلتا ہوں۔‘‘ ٹرک ڈرائیور نے اس کی بدلتی ہوئی کیفیت کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’شاید آپ کو اندر کی چوٹ آئی ہے۔‘‘
فاروق اسے کیسے بتاتا کہ اسے کوئی اندرونی چوٹ نہیں آئی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ اس کا ذہن ابھی تک کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں ہوا تھا۔
’’تمہیں سامنے کچھ نظر نہیں آتا۔‘‘ فاروق نے سلگتی نگاہوں سے ڈرائیور کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’اندھادھند گاڑی چلاتے ہو اور سامنے والے کو روند کر رکھ دیتے ہو۔‘‘
’’ہمارا کیا غلطی صاب!‘‘ ڈرائیور گھگھیایا۔ ’’آپ نے سیدھی سڑک پر چلتے چلتے اچانک بریک لگایا جس کا کوئی وجہ بھی نئیں تھا۔ آپ کے سامنے کوئی نئیں آیا، کوئی گاڑی نئیں تھا۔ پھر بھی آپ نے ایسا خطرناک بریک لگایا…‘‘ اس نے اپنے مخصوص لہجے میں کہا۔
فاروق نے ہونٹ بھینچ کر ڈکی کی طرف یکھا۔ اندر سے کسی قسم کی آواز نہیں آ رہی تھی۔ وہ بے بسی کے عالم میں کانپنے لگا۔ اب وہ جلد از جلد وہاں سے جانا چاہتا تھا تاکہ ڈکی کھول کر نادیہ کو دیکھ سکے۔ ظاہر ہے وہ ٹرک ڈرائیور کے سامنے اسے نہیں کھول سکتا تھا۔ وہ یہ کس طرح ثابت کرتا کہ اس حادثے سے پہلے نادیہ ڈکی میں زندہ سلامت موجود تھی۔ ڈکی کی حالت دیکھتے ہوئے اسے نادیہ کے زندہ رہنے کی ایک فیصد بھی امید نہیں رہی تھی۔ اگر وہ زندہ ہوتی تو یہ ایک معجزہ ہی ہوتا۔
’’صاب! ہم آپ کی گاڑی ری پیئر کرا دے گا۔‘‘ ٹرک ڈرائیور نے عاجزی سے کہا اور ایک کارڈ اس کی طرف بڑھایا۔ ’’یہ ٹرک اس کمپنی کا ہے۔ آپ کی گاڑی پر جتنا بھی خرچا آئے گا وہ کمپنی دے گا۔‘‘
’’نہیں… میں خود ہی اپنی گاڑی ٹھیک کروالوں گا۔‘‘ فاروق نے مضطربانہ لہجے میں کہا۔ ’’تمہارے ٹرک کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا؟
’’میرے ٹرک کو بلڈوزر بھی ٹکر مارے گا تو اس کا کچھ نہیں بگڑے گا۔‘‘ اب ٹرک ڈرائیور نے دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ فاروق کے مفاہمانہ رویے نے اسے حوصلہ دیا تھا اور اس کا خوف زائل ہوگیا تھا۔
فاروق نے چندھیائی ہوئی آنکھوں سے ٹرک کی طرف دیکھا۔ واقعی بھاری بھرکم ٹرک کا کچھ نہیں بگڑا تھا۔ ’’تم جا سکتے ہو۔‘‘ اس نے ٹرک ڈرائیور سے کہا اور اپنی گاڑی میں جا بیٹھا۔ وہ علاقہ گوکہ سنسان تھا لیکن وقفے وقفے سے گزرنے والی گاڑیاں وہاں رکنے لگی تھیں اور حادثے والی جگہ کے قریب لوگ بھی جمع ہونے لگے تھے۔ فاروق نے گاڑی اسٹارٹ کی اور اسے سڑک سے اتار کر ایک گلی میں لے آیا۔ کافی آگے جا کر اس نے اردگرد کا جائزہ لے کر گاڑی روکی اور جب وہ ڈکی کا تالا کھولنے لگا تو چابی اس کی لرزتی ہوئی انگلیوں سے پھسل کر گر پڑی۔ اس نے چابی اٹھائی اور دوبارہ ڈکی کھولنے کی کوشش کی۔ اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا۔
ڈکی کے اندر نادیہ کا چہرہ دیکھ کر وہ دھک سے رہ گیا۔ وہ اس کے ساکت بدن کا غیرفطری انداز دیکھ کر سمجھ گیا کہ نادیہ اب ہر قسم کی مدد سے بے نیاز ہو چکی ہے۔ اس نے نادیہ کو چھو کر دیکھا اور اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔ نادیہ کے ہونٹوں سے خون کی ایک لکیر نکل کر گردن سے ہوتی ہوئی فرش پر گر رہی تھی۔ ڈکی میں بچھے ہوئے قالین کا ایک حصہ سرخ ہو رہا تھا۔ اس کے نتھنوں سے بھی خون کی بوندیں ٹپک رہی تھیں۔ فاروق نہ جانے کتنی دیر آنسو بہاتا ہوا نادیہ کو دیکھتا رہا۔ وقت کی رفتار گویا رک گئی تھی۔ اسے ہر چیز غیر فطری محسوس ہو رہی تھی۔ اپنا وجود، گاڑی، نادیہ کی لاش… اسے یہ سب کچھ خواب معلوم ہو رہا تھا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ ان کی ہنستی بستی جنت اچانک اس طرح اجڑ جائے گی، البتہ اس کے سامنے کا ہولناک منظر اسے حقیقت کا احساس دلا رہا تھا کہ اس کی خوبصورت جیون ساتھی ہمیشہ کے لئے اس کا ساتھ چھوڑ گئی ہے۔
’’نن… نادیہ…! یہ ہے تمہارے ڈرامے کا المیہ انجام۔‘‘ وہ سرگوشی میں گویا مردہ نادیہ سے مخاطب ہوا۔ ڈرامے کا خیال آتے ہی اس کے ذہن میں دوسرے اندیشوں نے یلغار کردی۔ اس نے رعنا کو دکھانے کے لئے محض اداکاری کی تھی۔ وہ ایک لمحے کے لئے بھی یہ نہیں سوچ سکتا تھا کہ رعنا نے یہ ’’ڈراما‘‘ نہیں دیکھا ہوگا بلکہ عین ممکن ہے کہ اب تک پولیس اس کے گھر پہنچ چکی ہوگی۔ رعنا نے پولیس کے سامنے تفصیل سے قتل کا منظر بیان کیا ہوگا… اور اب پولیس اس کے گھر پر اس کی واپسی کا انتظار کر رہی ہوگی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پولیس نے شہر کے مختلف تھانوں میں اس کے فرار کی اطلاع پہنچا دی ہو۔
’’یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ رعنا نے واقعی یہ ڈراما نہ دیکھا ہو۔‘‘ اس کے ذہن میں خیال ابھرا۔ اس نے ڈکی بند کی اور آہستہ آہستہ گاڑی چلاتا ہوا گھر کی طرف چل دیا۔ اس پر عجیب سی کیفیت طاری تھی۔ اس نے خود کو مکمل طور پر قسمت اور حالات کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اگر گھر پر پولیس اس کی منتظر ہوگی تو وہ پوری روداد سنا کر خود کو گرفتاری کے لئے پیش کردے گا۔ اس نے دل ہی دل میں فیصلہ کرلیا کہ خواہ اس کی کہانی پر یقین کیا جائے یا نہ کیا جائے، وہ سب کچھ صاف صاف بتا دے گا۔
وہ تمام راستے خود کو پولیس کا سامنا کرنے کے لئے تیار کرتا رہا۔
جب وہ گھر پہنچا تو وہاں اسے کوئی غیر معمولی بات نظر نہیں آئی۔ وہاں کوئی نہیں تھا۔ اسے ذہنی طور پر ایک زبردست جھٹکا لگا۔ وہ پورے راستے یہی سوچتا رہا تھا کہ اسے پولیس کو قائل کرنے کے لئے کیا کیا جتن کرنے ہوں گے… ان کے تشدد سے بچنے کے لئے شاید اچھی خاصی رقم بھی خرچ کرنی پڑے گی۔ وکیل کا انتظام کرنا ہوگا جو اس کو بے گناہ ثابت کرنے کے لئے عدالت میں اس کا دفاع کرے گا۔ پولیس سب سے پہلے نادیہ کی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے بھجوائے گی… پھر اسے تھانے لے جا کر لاک اپ میں بند کردیا جائے گا… مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ وہ پریشانی، غم و اندوہ کے ساتھ ساتھ الجھن کا بھی شکار ہوگیا۔ اس نے گاڑی گیراج میں بند کرکے گیراج کے دروازے پر تالا ڈال دیا۔

نادیہ کی لاش ہنوز ڈکی میں تھی۔
پورے گھر پر قبرستان جیسا سناٹا طاری تھا۔ خالی مکان اسے کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا۔ پھر وہ گویا تن بہ تقدیر ہو کر بیٹھ گیا اور سگریٹ پر سگریٹ پھونکتا رہا۔ رفتہ رفتہ اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کام کرنے لگی۔ اسے گمان ہونے لگا کہ شاید رعنا نے کچھ نہیں دیکھا۔ حالات اس قدر خوفناک نہیں تھے جتنا وہ تصور کر رہا تھا۔ کسی طرح نادیہ کی لاش سے چھٹکارا پا کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جاسکتا تھا۔ اب وہ رات کی تاریکی پھیلنے کا انتظار کرنے لگا۔
شام کے سائے بڑھنے لگے۔ رفتہ رفتہ تاریکی چھانے لگی۔ جب اچانک کال بیل بجی تو فاروق بری طرح سے اچھل پڑا۔ اس نے اٹھ کر لائٹ جلائی اور لڑکھڑاتے قدموں سے دروازے کی طرف بڑھا۔ اس کے سامنے رعنا کھڑی تھی۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ اور ہاتھوں میں کھانے کی ٹرے تھی۔
’’کل ہی میں نے ’شاہی دسترخوان‘ نامی کتاب خریدی تھی۔‘‘ اس نے حسب معمول مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’اور آج میں نے اس میں درج چند ترکیبوں پر عمل کر ڈالا ہے۔ تم یہ کھانا کھا کر اپنی رائے دو کہ میں کس حد تک کامیاب رہی ہوں۔‘‘
فاروق نے فوراً محسوس کر لیا کہ رعنا کے الفاظ موجودہ حالات سے قطعاً مطابقت نہیں رکھتے۔
’’تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ رعنا نے اسے گم صم سا دیکھ کر محبت اور اپنائیت سے پوچھا۔
’’نہیں…‘‘ اس نے مختصر جواب دیا۔ اب اس میں جھوٹ بولنے کی صلاحیت نہیں رہی تھی۔ وہ خود کو بہت ٹوٹا پھوٹا محسوس کر رہا تھا۔
’’تم نے دوپہر میں بھی کچھ نہیں کھایا ہوگا؟‘‘
’’نہیں…‘‘
’’زندہ رہنے کے لئے کھانا بہت ضروری ہے…‘‘ رعنا نے کہا۔ ’’کیا تم مجھے اندر آنے کو نہیں کہوگے؟‘‘
’’ہوں… ہاں…‘‘ وہ گڑبڑا گیا۔ وہ غیرارادی طور پر دروازے میں اس کا راستہ روکے کھڑا تھا۔ وہ تھکے تھکے سے انداز میں ایک طرف ہوگیا۔ رعنا اندر داخل ہوگئی۔ وہ سیدھی کچن میں گئی۔ فاروق برتنوں کی کھنکھاہٹ سنتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد رعنا نے کھانا میز پر لگا دیا۔ فاروق خاموشی سے کھانے کی میز پر بیٹھ گیا۔ رعنا اس کے سامنے بیٹھی تھی۔ اس دوران رعنا نے ایک مرتبہ بھی اس سے نادیہ کی غیر موجودگی کے بارے میں سوال نہیں کیا۔
’’رعنا!‘‘ فاروق نے کچھ کہنے کی کوشش کی۔
’’پہلے ٹھیک سے کھانا کھائو، پھر بولنا۔‘‘
اس نے بریانی کا چمچہ منہ میں لیا لیکن اس کے لئے اسے حلق سے اتارنا مشکل ہوگیا۔
’’رعنا…! تم یہ سب کچھ کیوں کر رہی ہو؟‘‘
’’کسی کو تو تمہاری دیکھ بھال کرنی ہی پڑے گی نا۔‘‘
’’نادیہ چلی گئی… ہمیشہ کے لئے۔‘‘ فاروق نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
’’مجھے معلوم ہے۔‘‘
’’تمہیں معلوم ہے…!‘‘ فاروق کے ہونٹوں سے لرزتی ہوئی سرگوشی نما آواز نکلی۔ پھر ان دونوں کی نظریں ملیں۔ فاروق کو ایسا محسوس ہوا جیسے رعنا کی آنکھیں اسے کوئی خاص پیغام دے رہی ہیں۔
’’تم کھانا تو کھائو۔ تم نے ہاتھ کیوں روک دیا؟‘‘ رعنا نے کہا۔
’’مجھے بھوک نہیں ہے۔‘‘
’’ہاں… ایسے میں بھوک مر جاتی ہے۔‘‘ رعنا نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا۔ ’’بہرحال تمہیں کچھ نہ کچھ ضرور کھانا چاہئے۔‘‘
رعنا کو حالات کی سنگینی کا قطعاً احساس نہیں تھا۔ وہ اس طرح باتیں کر رہی تھی جیسے کچھ بھی غیر معمولی نہیں ہوا۔ فاروق نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔ ’’تم سمجھتی کیوں نہیں… نادیہ ہمیشہ کے لئے چلی گئی ہے… وہ مر چکی ہے۔‘‘
’’میں جانتی ہوں۔‘‘ رعنا نے کہا۔ ’’میں نے سب کچھ دیکھا تھا۔‘‘
’’تم نے دیکھا تھا…؟‘‘
’’ہاں…!‘‘ رعنا نے سر جھکا لیا۔ تم دونوں کا زبردست جھگڑا ہوا تھا۔ پھر تم اسے گھسیٹتے ہوئے لے گئے تھے۔‘‘
فاروق نے چکراتے ہوئے ذہن کے ساتھ سوچا کہ آخر رعنا چاہتی کیا ہے؟ اس نے میز پر رکھے ہوئے کھانے کی طرف اس طرح دیکھا جیسے اس میں زہر ملا ہوا ہو۔
’’تمہیں سب کچھ معلوم ہے؟‘‘ اس نے بمشکل پوچھا۔
’’ہاں، سب کچھ۔‘‘
’’رعنا! شاید تمہیں میری بات پر یقین نہ آئے۔‘‘ اس نے مدافعانہ لہجے میں کہا۔ ’’لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ ایک ڈراما تھا، محض ایک مذاق… اور کچھ نہیں۔ میرے اور نادیہ کے درمیان تم نے جو جھگڑا ہوتے ہوئے دیکھاتھا وہ حقیقی نہیں تھا۔ جب میں اس کے سر پر سلاخ مار رہا تھا تو وہ ہنس رہی تھی۔ تم قریب ہوتیں تو اس کی ہنسی خود سن سکتی تھیں۔ جب میں نے اسے ڈکی میں ڈالا تو وہ زندہ تھی اور شکایت کر رہی تھی کہ میں نے اس کے بال اس قدر زور سے کھینچے تھے کہ وہ سر میں درد محسوس کر رہی تھی لیکن پھر…‘‘
اس نے پوری تفصیل سے رعنا کو حادثے کا واقعہ سنا دیا۔ رعنا بے چینی سے پہلو بدلنے لگی۔ صاف ظاہر تھا کہ اس نے فاروق کی بیان کی ہوئی کہانی پر یقین نہیں کیا تھا۔
’’رعنا! میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ…‘‘
’’تمہیں قسم کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ رعنا نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ ’’اس وقت ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ہمارا آئندہ اقدام کیا ہونا چاہئے… کیا نادیہ کی لاش اب تک گاڑی میں موجود ہے؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’ٹھیک ہے…‘‘ رعنا نے سوچ میں ڈوبی ہوئی آواز میں کہا۔ ’’اب ہم دونوں مل کر اس واقعے کو حادثے کا رنگ دے سکتے ہیں۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ فاروق نے تھکے تھکے لہجے میں کہا۔ ’’اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ پولیس کو معلوم ہو جائے گا کہ نادیہ کی موت کو کتنے گھنٹے گزر چکے ہیں… اور تمہاری باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ تم نے اب تک میری بات پر یقین نہیں کیا۔ شاید تم اس حادثے کو حادثہ تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں ہو۔‘‘
’’میں اسے حادثہ کیسے تسلیم کرلوں فاروق!‘‘ رعنا نے کہا۔ ’’جب تم نے لوہے کی سلاخ سے نادیہ کے سر پر ضربیں لگائی تھیں تو یہ سارا منظر میں نے اپنے باورچی خانے کی کھڑکی سے صاف طور پر دیکھا تھا۔ تم بہت غصے میں تھے۔ ممکن ہے تم اسے محض دھمکانا چاہتے تھے… لیکن اس نے تمہیں مزید غصہ دلایا اور تم اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ ایسے میں تمہیں ان ضربات کے کاری ہونے کا بھی احساس نہیں رہا۔‘‘
رعنا ایک لمحے کے لئے خاموش ہوئی۔ فاروق ٹکٹکی باندھے اس کی طرف دیکھتا رہا۔ رعنا نے میز پر رکھے ہوئے گلاس سے دو گھونٹ پانی پیا اور سلسلہ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے بولی۔ ’’مجھے خدشہ تھا کہ ایک نہ ایک دن کوئی ناخوشگوار واقعہ ضرور پیش آئے گا… شاید نادیہ اصل معاملے کی تہہ تک پہنچ گئی تھی…‘‘
’’کک… کونسا معاملہ…؟‘‘
’’اب بنو مت…‘‘ رعنا نے شرمیلے انداز میں کہا۔ ’’میں نے پہلے ہی دن تمہاری آنکھوں میں اپنے لئے پسندیدگی کی جھلک محسوس کر لی تھی… تم بھی مجھے اچھے لگے تھے… میں تنہائیوں کا شکار تھی لیکن تمہیں دیکھ کر اور تمہاری نظروں میں اپنے لئے ایک خاص جذبے کو محسوس کرکے جیسے دوبارہ جی اٹھی تھی۔ میں یہاں صرف تمہاری خاطر آتی تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ نادیہ کو میرا آنا جانا ایک آنکھ نہیں بھاتا… لیکن تم نے ہمیشہ میرے ساتھ نرمی اور محبت کا سلوک کیا۔ میری بے وقت کی مداخلت کو تم نے ہمیشہ پسندیدگی کی نظر سے دیکھا، جبکہ نادیہ مجھے دیکھتے ہی تیوری چڑھا لیتی تھی۔
’’میں نے تم دونوں کی باتیں بھی سنی تھیں۔ تم مجھے کھانے پر مدعو کرنا چاہتے تھے… اپنے قریب دیکھنا چاہتے تھے لیکن ظاہر ہے یہ سب کچھ نادیہ کو کہاں گوارا ہوسکتا تھا۔ یہ فطری بات ہے… کوئی بیوی کیسے برداشت کرسکتی ہے کہ اس کا شوہر کسی دوسری عورت کو التفات کی نظر سے دیکھے۔ میں سمجھتی ہوں کہ تمہارے جھگڑے کی وجہ میں ہی تھی… لیکن میں یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ تم میری خاطر اتنا بڑا قدم اٹھا لو گے… میں کھڑکی میں بیٹھی سب کچھ دیکھ رہی تھی… میں وہ منظر کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔‘‘
رعنا عجیب سی بے خودی کے عالم میں بولتی چلی گئی۔ فاروق حیرت سے گنگ بیٹھا اس کی طرف دیکھتا رہا۔ اس پر آج یہ انکشاف ہوا کہ رعنا کسی نفسیاتی عارضے کا شکار ہے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ جواب میں کیا کہے۔ وہ ہنسنا چاہتا تھا لیکن ہنس بھی نہیں سکتا تھا۔ رعنا وہ باتیں کر رہی تھی جو اس کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھیں۔
’’تم نے اس لئے پولیس کو اطلاع نہیں دی؟‘‘ آخرکار طویل خاموشی کے بعد فاروق نے گہرا سانس لے کر اس سے پوچھا۔
’’میں تمہارے خلاف بھلا کسی سے کچھ کہہ سکتی ہوں۔‘‘ رعنا نے میٹھی میٹھی نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، پھر پوچھا۔ ’’تم نے نادیہ کی لاش کے بارے میں کیا سوچا ہے؟‘‘
’’کچھ سمجھ میں نہیں آتا…‘‘
’’خیر، تم اس سلسلے میں بالکل فکر نہ کرو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔‘‘ رعنا نے آگے جھکتے ہوئے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔ ’’رات کچھ گہری ہو جائے تو ہم دونوں مل کر اس کی لاش یہیں لان میں دفن کردیں گے۔ اس کے والدین ملائیشیا میں رہتے ہیں نا…؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ فاروق نے دل میں اٹھنے والی ٹیس پر قابو پاتے ہوئے جواب دیا۔ ’’صرف والد اور ایک بھائی… اس کی والدہ کا انتقال تو بہت پہلے ہوگیا تھا۔‘‘
’’ہاں۔ نادیہ نے مجھے بتایا تھا۔‘‘ رعنا نے اٹھتے ہوئے کہا۔ ’’اس کے والد اور بھائی کو سنانے کے لئے بھی کوئی کہانی تیار کرنی پڑے گی لیکن یہ بعد کی بات ہے۔ فی الحال ہمیں نادیہ کی لاش سے چھٹکارا پانا ہے۔ پھر اس بارے میں بھی سوچیں گے۔‘‘
وہ برتن سمیٹ کر باورچی خانے میں چلی گئی۔
فاروق کا ذہن خیالات کے بھنور میں چکراتا رہا۔ وہ رعنا کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا تھا۔ اس کا ماضی، اس کی خواہشات، جذبات اور احساسات… اسے کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔ نہ جانے اس نے فاروق کے رویے کو التفات کیوں سمجھ لیا تھا۔ بہرحال اسے اس بات کا یقین ہو چلا تھا کہ وہ نفسیاتی مریضہ ہے اور خیالات کی دنیا میں رہنے والی ایک ایسی عورت ہے جو اپنے گرد خوش فہمی، خوش خیالی اور تصورات کا حصار قائم کئے رہتی ہے۔ فاروق کا ذہن اب تیزی سے کام کرنے لگا۔ اسے رعنا سے کسی طرح اپنی جان چھڑانی تھی۔ فی الحال اسے اس کی مدد کی ضرورت تھی۔ وہ جلد ہی یہ مکان چھوڑ کر جا سکتا تھا۔ وہ کرسی کے پشتے پر سر ٹکا کر خیالات کے بھنور میں ڈوبتا اور ابھرتا رہا۔
’’میں جا رہی ہوں۔‘‘ رعنا کی آواز نے اسے چونکا دیا۔ ’’میرا انتظار کرنا۔ میں گیارہ بجے کے بعد آئوں گی پھر مل کر لان میں گڑھا کھودیں گے… اور ہاں، وہ سلاخ کہاں ہے؟‘‘
’’یہیں کہیں ہوگی۔‘‘ اس
دیا۔
’’اسے تلاش کرو۔ اسے بھی نادیہ کی لاش کے ساتھ دفن کرنا ہوگا۔‘‘
’’اس کی کیا ضرورت ہے؟‘‘
’’تم سمجھتے کیوں نہیں فاروق!‘‘ رعنا نے تشویش سے کہا۔ وہ آلۂ قتل ہے۔ اسے ٹھکانے لگانا ضروری ہے۔‘‘
’’اف خدایا…!‘‘ فاروق کراہ کر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ ’’میں کتنی بار تم سے کہہ چکا ہوں کہ میں نے نادیہ کے سر پر سلاخ ماری ہی نہیں تھی۔ میں نے تو سلاخ مارنے کی اداکاری کی تھی۔ رعنا! کھڑکی سے تمہیں بے شک یہی نظر آیا ہوگا کہ میں نادیہ کے سر پر لوہے کی سلاخ مار رہا ہوں لیکن یہ صرف ڈراما تھا۔ یقین کرو رعنا! ہم دونوں نے مل کر ایک ڈراما تیار کیا تھا۔ یہ صرف تمہیں بے وقوف بنانے کے لئے… مم… میرا مطلب ہے… یہ سب کچھ ہم نے تم سے ایک دلچسپ مذاق کرنے کے لئے کیا تھا۔ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ یہ مذاق اس قدر ہولناک حادثے میں تبدیل ہو جائے گا۔‘‘
’’وہ مذاق… دلچسپ مذاق تم مجھے بے وقوف بنانے کے لئے کر رہے تھے۔‘‘ رعنا نے بے یقینی سے فاروق کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’آخر تم مجھے کیوں بے وقوف بنانا چاہتے تھے؟‘‘
’’نن… نہیں…‘‘ فاروق گڑبڑا گیا اور دل ہی دل میں خود کو ملامت کی کہ ایک غلط موقع پر انتہائی نامناسب لفظ اس کی زبان سے کیوں نکل گیا۔ ’’رعنا! میں بہت پریشان ہوں اور ایسے میں زبان سے الٹی سیدھی بات نکل ہی جاتی ہے۔ میرا مطلب تھا…‘‘
’’خیر، جانے دو ان باتوں کو۔‘‘ رعنا نے اس کی بات کاٹی۔ ’’صفائی پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں… مجھے کوئی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتا… تم بھی…‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ پھر اس نے گہری سانس لے کر کہا۔ ’’تم کیا بتانا چاہتے تھے؟‘‘
فاروق نے سوچا کہ بار بار جھوٹ بولنے سے بہتر ہے کہ وہ اسے سب کچھ صاف صاف بتا دے۔ اب رعنا سے کچھ چھپانا فضول تھا۔ اگر وہ خود کو ملوث کرکے قتل جیسے سنگین جرم میں اس کا ساتھ دینے کے لئے تیار تھی تو اسے حقائق بتانے میں کوئی ہرج نہیں تھا۔ اس سے ایک فائدہ اور بھی تھا۔ رعنا کو احساس ہو جاتا کہ وہ ان کے لئے کس قدر تکلیف کا باعث بنی ہوئی تھی۔ وہ مروت کی وجہ سے اس کا اظہار نہیں کر پاتے تھے۔
فاروق اپنی باتوں کا ردعمل رعنا کے چہرے پر نہیں دیکھ سکا۔ اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اس سے نظریں ملا کر بات کرسکتا۔ جب اس نے اپنی بات مکمل کی تو چند لمحوں تک کمرے میں سناٹا طاری رہا۔
رعنا نے گہری سانس لے کر خاموشی کو توڑا۔ ’’اچھا، اب میں چلتی ہوں۔ تم بھی تھوڑا سا آرام کرلو۔‘‘
وہ چلی گئی۔ فاروق صوفے پر دراز ہوگیا۔ وہ بہت تھکاوٹ محسوس کر رہا تھا۔ اس کا ذہن آج کے واقعے کو اب تک قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔ اس کے لئے یہ سوچ ہی بڑی تکلیف دہ تھی کہ نادیہ ہمیشہ کے لئے اس سے جدا ہو چکی ہے۔ اسے یہ خیال بھی بے چین کر رہا تھا کہ وہ نادیہ کے والد اور اس کے بھائی کا سامنا کیسے کر پائے گا۔ وہ انہیں نادیہ کے ’’غائب‘‘ ہونے کے بارے میں کیا کہانی سنائے گا۔ انہی خیالات کی یلغار میں اسے اونگھ سی آگئی۔ وہ کچھ دیر کے لئے غافل سا ہوگیا۔
اچانک کسی کے جھنجوڑنے پر اس کی آنکھ کھل گئی۔ کمرے کی بتی جل رہی تھی اور اس کے سامنے چند قدم کے فاصلے پر رعنا کھڑی تھی۔ اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر فاروق دہل گیا۔ رعنا کے ہاتھ میں ریوالور تھا اور اس کا رخ فاروق کے سر کی طرف تھا۔
’’رر… رعنا…!‘‘ فاروق حیرت اور دہشت سے ہکلا کر رہ گیا۔
’’سیدھے ہو کر بیٹھو اور یہ لو کاغذ قلم۔‘‘ رعنا نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔
’’لل… لیکن… کک… کاغذ قلم…؟‘‘
’’میں جو کہوں لکھتے جائو۔‘‘
’’کیا تم پاگل ہوگئی ہو رعنا؟‘‘ فاروق نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ وہ واقعی بہت خوفزدہ ہوگیا تھا۔ ریوالور سے زیادہ خوفناک رعنا کے چہرے کے تاثرات تھے۔
’’فضول باتیں مت کرو اور لکھو۔‘‘ رعنا نے کہا۔ ’’نادیہ تمہارے ساتھ بے وفائی کر رہی تھی۔ وہ چھپ چھپ کر کسی سے ملتی تھی۔ جب تم نے اس سے بازپرس کی تو وہ چیخنے چلانے لگی۔ تم نے مشتعل ہو کر اسے قتل کردیا۔ یہ بھی لکھو کہ اس کی لاش کہاں ہے… جلدی کرو۔‘‘
’’رعنا… یہ سب کچھ تم…‘‘
’’لکھو؟‘‘
فاروق نے لرزتے ہاتھوں سے قلم سنبھالا اور لکھنے لگا۔ پھر کاغذ رعنا کی طرف بڑھا دیا۔ اس نے جلدی سے اسے پڑھا اور مطمئن انداز میں مسکرائی۔ فاروق کو وہ مسکراہٹ بھی بڑی خوفناک محسوس ہوئی۔
’’خوب…!‘‘ فاروق کی سماعت سے رعنا کی آواز ٹکرائی۔ وہ کہہ رہی تھی۔ ’’یہ ریوالور جو تم دیکھ رہے ہو، تمہیں پتا ہے یہ کس کا ہے؟‘‘
’’شش… شاید… مم… میرا ہی ہے۔‘‘
’’شاید نہیں، یقیناً یہ تمہارا ہی ہے۔‘‘ وہ بولی۔ ’’اور میں اسی سے تمہیں گولی مارنے لگی ہوں۔‘‘
’’نن… نہیں… رر… رعنا… تم ایسا نہیں کرسکتیں۔‘‘ فاروق دہشت زدہ ہو کر بولا۔
’’کیوں؟ میں ایسا کیوں نہیں کرسکتیں۔‘‘ رعنا اس کی کیفیت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بولی۔ ’’تمہاری اس تحریر کی موجودگی میں پولیس اسی نتیجے پر پہنچے گی کہ پہلے تم نے اپنی بیوی کو قتل کیا پھر خودکشی کرلی۔‘‘
’’پپ… پہلے تم نے پولیس کو اطلاع نہیں دی… اور اب… یہ سب کچھ کیوں کر رہی ہو؟‘‘ فاروق نے وحشت زدہ لہجے میں پوچھا۔
’’اس کے ذمہ دار تم خود ہو فاروق! میں تو ہر طرح سے تمہاری مدد کرنا چاہتی تھی… لیکن تم نے میری خودداری اور انا کو ٹھیس پہنچائی۔ تمہاری ان باتوں نے مجھے گویا عرش سے لا کر فرش پر پٹخ دیا تھا کہ تمہارے دل میں میرے لئے کبھی وہ جذبہ پیدا نہیں ہوا جس کا میں تصور کرتی تھی… میں یہ بھی برداشت کر جاتی لیکن تمہیں مجھے بے وقوف بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے تھی۔ تم اندازہ ہی نہیں کرسکتے کہ مجھے یہ سن کر کس قدر صدمہ ہوا تھا کہ نادیہ کے ساتھ تم بھی اس ڈرامے میں شریک تھے۔ تم دونوں کا جھگڑا، ایک دوسرے پر چیخنا، پھر تمہارا بھاگ کر گیراج میں جانا اور مشتعل ہو کر آہنی سلاخ سے نادیہ کو ختم کر دینا… یہ سب کچھ اتنا حقیقی اور سنسنی خیز تھا کہ مجھے اس کے مصنوعی ہونے کا گمان تک نہ ہوسکا لیکن اب تم نے خود اعتراف کرلیا ہے… اب مجھے معلوم ہوگیا ہے کہ تمہاری نظر میں میری کیا اوقات تھی۔ تم مجھے بے وقوف بنانے کے لئے ڈراما کر رہے تھے… تمہیں… کم از کم تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔‘‘
اچانک کمرہ گولی کے دھماکے سے گونج اٹھا۔ ’’تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا فاروق!‘‘ رعنا کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ’’تم نے بہت غلط کیا… میں نے اپنے شوہر کو نہیں بخشا تھا، جس نے مجھے اندھیرے میں رکھ کر، مجھے بے وقوف بنا کر اپنی سیکرٹری کے ساتھ وقت گزارنے کی کوشش کی تھی۔‘‘
گولی فاروق کی کنپٹی پر لگی تھی۔ وہ فوراً مر گیا تھا۔ رعنا نے آگے بڑھ کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا اور ریوالور سے اپنی انگلیوں کے نشان صاف کرنے لگی۔ ’’عورت اپنی انا پر حملہ کبھی برداشت نہیں کرتی، مجھ جیسی عورت تو ہرگز نہیں۔‘‘ وہ بڑبڑا رہی تھی۔‘‘ میں تم سے محبت کرنے لگی تھی۔ میں تمہارے جرم پر پردہ ڈال کر ہمیشہ کے لئے تمہاری بن کر رہنا چاہتی تھی… میں سمجھتی تھی کہ تم بھی…‘‘
اس کی آواز بھرا گئی… وہ اپنی سسکیوں پر قابو پانے کی کوشش کرتی ہوئی پلٹی اور تقریباً دوڑتی ہوئی باہر نکل گئی۔
(ختم شد)