Wednesday, November 30, 2022

Duaa Thi Koi

میں پورے تین مہینے بعد میکے رہنے آئی تھی وہ بھی سسرال کے حالات سے فرار حاصل کرنے کے لیے جتنا میرے میکے میں سکون تھا اتنی ہی بے سکونی میرے سسرال میں تھی۔ شاید سب لڑکیوں کو ایساہی لگتا ہے کہ ان کا میکہ جنت، سرال جہنم ہے لیکن مجھے شروع سے ایسا نہیں لگتا تھا یہ تو بس چند سالوں سے ایسا تھا اور میں اس کا سبب نہیں جان پارہی تھی۔
جب میری شادی ہوئی تھی امی تب حالات بہت مختلف تھے اور اب بہت مختلف ہو چکے ہیں ۔ایسا نہیں ہے کہ نعیم کی پے نہیں بڑھ رہی ۔ وہ تو ماشاء اللہ سے ہر سال بڑھتی ہے ۔ لیکن نہ جانے کیوں اب پوری نہیں پڑتی۔ پہلے تو ہمارا کھلا کھانا پینا، گھومنا پھرنا تھا۔ سکون اور خوشی حاصل تھی لیکن اب تو سب کچھ رخصت ہو چکا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اخراجات تو اتنے نہیں بڑھے لیکن پھر بھی با مشکل پورے ہورہے ہیں۔ حلال کمائی ہے اور حلال پر ہی خرچ ہوتی ہے پھر بھی نہ جانے کیوں …… مجھے ایسا لگتا ہے امی جیسے کسی نے تعویذ کرادیا ہے۔ تب ہی ہمارے گھر اتنی بے برکتی ہے۔
دل بھرا تھاتوامی سے دکھ سکھ کر لیا ۔ ہم بیاہی بیٹیوں کا مضبوط سہارا ما ئیں ہی تو ہوتی ہے۔ میرے میکے کے معاشی حالات ہمیشہ سسرال سے بہتر رہے تھے لیکن اب تو لگتا تھا کہ دن بدن میکہ ترقی اورسرال تنزلی کا سفر طے کر رہے ہیں۔
کسی کی دل آزاری تو نہیں ہوئی؟ کسی پرندے، جانور یا ملازم سے بدسلوکی؟ کہیں کسی کی بددعا تو نہیں لگ گئی بیٹا؟
امی بھنڈیاں دھورہی تھیں، پکانے کا کام اب خانساماں کیا کرتا تھا۔ امی کے اب آرام کے دن تھے کے ساری زندگی انہوں نے بہت کام کیا تھا۔ یہ سکون بھی کسی خوش نصیب کو ہی ملا کر تا تھا اور صد شکر کہ میری ماں ایسی خوش نصیب تھیں-
توبہ ہے امی- میں کیوں کسی کے ساتھ زیادتی کرنے لگی۔ الٹا گھر کے حالات کی وجہ سے تو میں نے صدقات دینے بھی زیادہ کر دیے ہیں لیکن پھر بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ صدقات بھی ہماری آفات کو روک کیوں نہیں پاتے۔
صبر کرو بیٹا پھر۔ وقت لگتا ہے حالات بدلنے میں ہمارا وقت دیکھو کیسا تھا اور پھر کیسے بدل گیا۔ میری زندگی سے سیکھو کہ کتنے سالوں کی تنگی کے بعد آسودگی ملی ہے۔ حالات چٹکی بجانے سے نہیں بدلا کرتے ۔ انتظار سے بدلا کرتے ہیں ۔ امی نے واقعی مشکل وقت دیکھا تھا شاید اسی لیے وہ اتنی عاجز اور نرم مزاج خاتون تھیں ۔
پتا نہیں کیسے وقت بدلا کرتا ہے اور آپ کا کیسے بدلا؟ میں سخت بیزار بیٹھی تھی۔ ہمارے وقت بدلنے میں تمہاری پھپھی کی دعاؤں کا بڑادخل ہے۔
امی- اب آپ بھی ابا کی زبان نہ بولیں ۔ وہ اپنی اور آپ کی محنت کا صلہ ماننے کے بجاۓ پھپھو کے سر سہرا باندھتے ہیں۔ اور اب آپ نے بھی دماغ میں یہی بات بٹھالی ہے ۔ منہ بسورتے میں نے سر جھٹکا- مجھے ابا کی اس عادت کا بخوبی پتا تھا اوریہ بات کبھی ہضم بھی نہ ہوتی تھی کہ خواہ خواہ بہن کوکریڈٹ دیتے رہتے ہیں۔ ابا کی زبانی پھپھو کی کہانی میں نے کئی بار بے دلی سے سنی تھی اور کبھی اس پر یقین نہیں کیا تھا۔
نہیں بیٹا- اس بات میں صداقت بھی ہے۔ تمہارے ابا غلط نہیں کہتے، شروع میں ہمارے حالات تنگ تھے لیکن تمہاری پھپھی کے تو ہم سے بھی گئے گزرے تھے ۔ ہماری تو پھر بھی اچھی گزر بسر ہو جاتی تھی لیکن وہ بے چاری اکثر ایسے حالوں میں ہوتی کہ روٹی کو پانی میں ڈبو کر کھارہی ہوتی ۔ بھر ایک وقت کا کھانا ہوتا تو اگلے وقت فاقہ ۔ایسے میں تمہارے ابا ہی ان کے معاونت کرتے ۔اس وقت مجھے بڑا برا لگتا کہ ہمارے کون سے قارون کے خزانے ہیں کہ بہن کی مدد پرلٹاۓ جارہے ہیں لیکن پھر مجھے لگنے لگا کہ تمہارے ابا کی کم آمدنی میں بھی برکت ہوگئی۔
تمہارے ابا جب بھی فہمیدہ کی مٹھی میں چند نوٹ تھماتے ، وہ بھائی کے گلے لگ کر بہت روتی اور دعائیں دیا کرتی ۔ میں نے اب بھی زبان پر اٹھتے بیٹھتے ہمیشہ ہمارے گھرانے کے لیے دعائیں سنی ہیں۔ بس پھر تمہارے ابا ترقی کرتے چلے گئے۔ گھر میں خوشحالی داخل ہوتی گئی اور ہمارے دن پھر گئے ۔ تمہاری پھپھو اپنے بھائی کی ترقی پر شاید مجھ سے بھی زیادہ خوش ہوا کرتی تھیں۔ دن اس کے بھی بدلے لیکن جب بچے بڑے ہو گئے تو۔
اس نے زندگی کے کسی موڑ پر ہمیں دعائیں دینا ترک نہیں کیں۔ ایک بات تو مانا پڑے گی کہ وہ احسان فراموش نہیں ہے بدلے میں اور کچھ نہ دے سکی تو اٹھتے بیٹھتے دعائیں ہی دے دیتی ۔ آج کل کے دور میں کسی کے پاس کسی دوسرے کے لیے دعا کرنے کا بھی وقت نہیں ہے۔ اسی لیے تمہارے ابا کا ماننا ہے کہ انہیں فہمیدہ کی دعائیں لگی ہیں۔
امی کی بات پر مجھے لگا میں اس سرے تک پہنچ گئی ہوں جو میرے ہاتھ نہیں لگ رہا تھا۔
جب میری شادی ہوئی تھی تو نعیم ہمیشہ ازکی باجی کے آنے پر ان کے بچوں کو کچھ نہ کچھ دے دلا کر بھیجا کرتے تھے۔ موسم کی مناسبت سے کپڑے بنوا کر دیتے۔ فروٹ، دودھ ،سبنری بھجوادیتے ۔ گھر میں کچھ بنا تھا تو ان کے گھر بھی ضرور بھیجا جاتا تھا کیونکہ۔ ازکی باجی کے مالی حالات اچھے نہ تھے ۔ میں نے گھر کی اس روایت کو نعیم پر بہت زور ڈال کر بدلا تھا-
کیونکہ کمائی تو میرے شوہر کی تھی جو کسی اور پرلٹائی جا رہی تھی اور اپنے اندر پنپتے حسد کی وجہ سے میں نے نعیم کو منع کر دیا تھا کہ وہ اب اپنی فیملی کا سوچیں نا کہ ازکی باجی کا ۔
امی کی بات سن کر مجھے لگا کہ ہمارے ہاں سے برکت اس لیے اٹھ گئی تھی کیونکہ ہم نے ایک غریب بہن کا دانہ پانی بند کر دیا تھا۔ خود میں جب میکے آتی بھائی خوب دے دلا کر بھیجا کرتے کہ ابا نے ان کی تربیت میں بہنوں کو دینا شامل کیا تھا اور بھابھی بن کر میں نے یہ کیا کیا تھا؟
بھلا ادھر ادھر صدقات کرنے سے کئی گنا بہتر نہیں تھا کہ میں سب سے قریبی غریب رشتے کی مالی معاونت کر دیتی اوراز کی باجی سے زیادہ حق دار کون تھا بھلا؟
اپنی غلطی کا ادراک ہوتے ہی میں نے تہیہ کرلیا کہ اب پہلے کی طرح از کی باجی کے لیے میں سب کچھ خود کروں گی۔ کیونکہ ہر انسان کی طرح مجھے بھی ان خاموش دعاؤں کی ضرورت تھی جو کسی مجبور کے دل سے بے ساختہ نکلتی ہیں ۔ میں ٹھیک کہہ رہی ہوں نا ؟

Latest Posts

Related POSTS