Thursday, February 22, 2024

Duhri Saza

نویں جماعت اچھے نمبروں سے پاس کر لی تو امی ابو بہت خوش ہوئے کیونکہ ان کو امید نہ تھی کہ میں پاس بھی ہو جائوں گی۔ مجھ کو نئی کلاس میں جانے کی بہت خوشی تھی۔ مزید یہ کہ امی نے چھٹیوں میں ماموں جان کے ساتھ گائوں بھیجنے کا وعدہ کیا تھا لیکن یہ وعدہ اچھے نمبروں کے ساتھ مشروط تھا۔ کچھ وجوہ کی بنا پر امی اپنے میکے نہیں جاتی تھیں۔ میں اپنے ہوش سنبھالنے کے بعد پہلی دفعہ جارہی تھی، تبھی پھولے نہ سماتی تھی۔ چھٹیاں ہوتے ہی ماموں لینے آ گئے اور ہم گانوں روانہ ہو گئے۔ دوران سفر تمام راستہ سوچتی جارہی تھی کہ وہاں کے لوگ کتنے سادہ ہوں گے جب کہ میں خود بھی سیدھی سادی لڑکی تھی۔ ان دنوں دنیا کے نشیب و فراز کو اچھی طرح نہیں سمجھتی تھی۔ یہاں کے لوگ واقعی بہت سادہ تھے۔ دیہاتی لڑکیاں آن واحد میں اکٹھی ہو گئیں اور انہوں نے میرے گرد گھیرا ڈال دیا جیسے میں کوئی آسمان سے اتری اپسرا
ہوں۔
میں بہت خوش تھی۔ ان سادہ لوح لڑکیوں میں ایک بہت اچھی لگی۔ اس کی شوخیاں دل موہ لینے والی تھیں حالانکہ میں سنجیدہ اور سکون پسند تھی، پھر بھی وہ شوخ میرے دل کو بھا گئی تاہم ایک بات میں نے محسوس کی کہ یہ لڑکی خدیجہ کھل کر نہیں ہنستی تھی اور جب ہنستی تو اس کی ہنسی میں اداسی جھلکتی تھی۔ خدیجہ میں جانے کیا بات تھی کہ میری اس کی دوستی منٹوں میں ہو گئی جب کہ میں شہری اور وہ کلی طور پر دیہاتی لڑکی تھی۔ دیگر دیہاتی لڑکیوں کی مانند اس میں اجڑ پن بالکل نہیں تھا۔ چند دنوں میں ہی اس کے ساتھ دوستی اتنی ہو گئی کہ اب ہم اکٹھی باہر جانے لگیں۔

باہر نکل کر مجھ کو احساس ہوا کہ یہاں کے لوگ خدیجہ کو اچھا نہیں سمجھتے۔ وہ اس سے بے رخی سے بات کرتے اور کسی کارویہ تو بھر پور اہانت بھرا ہوتا تھا۔ اس کے گھر گئی، وہاں بھی اس کے ساتھ ایسا سلوک تھا۔ ایک بڑا بھائی جمال تھا اور ایک چھوٹی بہن تھی جس کا نام نازو تھا۔ وہ ایک اچھی فیملی تھی۔ اس کے باوجود خدیجہ وہاں خوش نہیں تھی، بس ایک نازو تھی جو اپنی بہن سے پیار کرتی تھی اور اس کا خیال رکھتی تھی۔ جب ماموں کو پتا چلا کہ میری دوستی اس لڑکی سے ہو گئی ہے تو ان کو برا لگا اور انہوں نے میرا اس کے ساتھ میل جول بند کرا دیا۔ میں پریشان ہو گئی۔ آخر ایسی کیا بات ہے کہ یہ لوگ اس بیچاری کو اتنا برا سمجھتے ہیں۔ایک دن دوپہر کے وقت نازو میرے پاس آئی۔ اس وقت نانی باہر تھیں اور نانا کھیتوں پر تھے ، میں اور ممانی گھر پر تھیں۔ نازو کو کمرے میں لے آئی اور اصرار کیا کہ تم اپنی بہن کے بارے میں بتائو کیا معاملہ ہے ؟ تب وہ یوں گویا ہوئی۔

سائرہ باجی، یہ خدیجہ آپی ، اماں باوا کا کہنا نہیں سنتی تھی۔ اماں منع کرتی تھیں کہ پلیا سے اس طرف مت جایا کرو وہ ہمارا علاقہ نہیں ہے بلکہ سرکاری علاقے میں آتا ہے، وہاں ایک ڈاک بنگلہ ہے جس میں سرکاری آفیسر آکر ٹھہرتے ہیں۔ یہ پھر بھی ادھر چلی جاتی تھیں۔ گائوں والے اپنی بیٹیوں کو ڈاک بنگلوں کی طرف کبھی نہیں جانے دیتے۔ مگر کیوں ؟ میں نے پوچھا۔ اس لئے کہ ادھر جانے سے کبھی کبھی بربادی کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ ایک بار یہ اکیلی اس طرف گئیں۔ ڈاک بنگلہ اکثر خالی پڑا رہتا تھا۔ چوکیدار تبھی صفائی کرتا جب وہاں کوئی افسر بابو آ کر ٹھہرتا۔ بنگلے کے احاطے میں جامن ، بیر اور آم کے درخت ہیں۔ شہتوت بھی لگے ہیں۔ یہ ان کو توڑنے کے لالچ میں جاتیں۔ کئی بار مجھے بھی بہلا کر ساتھ لے لیا کرتیں۔ اماں نے مجھ کو بہت ڈانٹا کہ تو اس کے ساتھ مت جایا کر ، جب تو نہ جائے گی تو یہ بھی اکیلی جانے سے ڈرے گی مگر ہماری بہن بڑی نڈر ہے، یہ موقع ملتے اکیلی جا نکلتی۔ایک روز یہ وہاں گئیں تو ایک افسر آیا ہوا تھا، اس نے ان کو باتوں میں لگا لیا اور دوبارہ آنے کا وعدہ لیا۔ جامن توڑنے کے بہانے یہ روز چوری چھپے اس سے باتیں کرنے جانے لگیں۔ ایک دن چوکیدار نے دیکھ لیا، بنگلے کے باغ میں بابو سے باتیں کرتے ، وہ خانساماں بھی تھا۔ اس نے کچن کی کھڑکی سے ان کو دیکھا تھا مگر افسر کے ڈر سے خاموش رہا۔ افسر نے ان کو تحفے بھی دیئے اور شادی کا وعدہ کیا ، کہا کہ میں دوبارہ آئوں گا تو بارات لے کر آئوں گا۔ یہ باتیں بابا چوکیدار نے سن لیں اور اس نے ابا کو کہا کہ خدیجہ کو اس طرف مت بھیجا کرو۔ ابا نے سمجھا کہ ویسے ہی کہا ہے۔ انہوں نے کوئی خاص توجہ نہ دی۔

ایک ماہ بعد ہی افسر دوبارہ آیا۔ یہ دوبارہ ادھر جانے لگیں۔ کچھ گائوں کے لوگوں نے دیکھ لیا۔ انہوں نے افسر کو گائوں سے واپس بھیج دیا اور ابا کو آکر بتایا۔ اب میرے باوا کے کان کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے آپی کو خوب مارا۔ دھمکیاں دیں مگر وہ افسر جاتے جاتے آپی سے وعدہ کر گیا کہ میں ضرور آئوں گا، تم میرا انتظار کرنا۔ وه بابو تو چلا گیا ہماری بہن کی زندگی برباد ہو گئی۔ ایک سال تک وہ نہ آیا۔ یہ اس کی آس میں جیتی مرتی رہیں۔ دن رات اس کا انتظار کرتی تھیں، صرف مجھ سے ذکر کرتیں کیونکہ میں کسی سے آپی کی باتیں نہیں کہتی تھی۔
گھر والے ان کی شادی کرنا چاہتے تھے مگر یہ سنتی ہی نہ تھیں۔ اپنے منگیتر سے لڑتیں اور اس کو گھر آنے سے منع کرتیں جس پر تائی خفا ہو گئیں کہ ابھی سے یہ حال ہے ، جب بہو بنے گی تو کیا کرے گی۔ تائی اب طرح طرح کی باتیں بنانے لگیں، گائوں والے بھی بد ظن تھے ، یہی وجہ ہے کہ لوگ ان کو اچھا نہیں سمجھتے اور ان سے صحیح طرح سے بات نہیں کرتے۔ وہ آپی کو آوارہ لڑکی کہتے ہیں اور اپنی بیٹیوں کو ان سے ملنے سے روکتے ہیں۔ میں نے ناز و سے وعدہ کیا کہ میں اسے سمجھائوں گی۔ تین روز بعد میری ملاقات خدیجہ سے ہو گی۔ میں نے پوچھا کیا یہ سب صحیح ہے۔ وہ بولی۔ ہاں مجھے اس بابو کا انتظار ہے ، مگر تم کو کس نے بتایا ہے ؟ میں نے کہا تمہارا ما تھا د یکھ کر سارا حال پڑھ لیا ہے۔ جس نے بھی بتایا ہو تو اس بات کو چھو و لیکن میری مانو ، اپنے ماں باپ کی فرماں برداری کرو اور شادی کر لو۔ مجھے خالد پسند نہیں ہے۔ وہ دھوتی باندھتا ہے اور سر میں روز روز کڑوا تیل بہاتا ہے۔ ابھی ہم یہ باتیں کر رہے تھے کہ کنویں کی منڈیر پر خدیجہ سے باتیں کرتے دیکھ کرنانا خفا ہوئے اور گھر لے آئے۔

گھر آکر خوب ڈانٹا اور پھر مجھے اس وقت خالہ کے گائوں بھیج دیا۔ دو ہفتے کے بعد میں واپس آئی تو پتا چلا کہ خدیجہ کی شادی ہو رہی ہے۔ فوراً اس کی طرف گئی، وہ مجھے دیکھتے ہی زار و قطار رونے لگی۔ پوچھا، کیا ہوا ہے ؟ کہنے لگی۔ سائرہ تمہارے جانے کے بعد وہ آفیسر بابو آیا تھا، ابا کے ڈر سے میں ڈاک بنگلے کی طرف نہیں جا سکی۔ گھر والے میری شادی کر رہے ہیں مگر میں خالد کو دھوکا نہیں دینا چاہتی کیونکہ میرا دل اس افسر بابو کے ساتھ ہے، خالد سے کیسے پیار کر سکوں گی !

ابھی وہ یہ بات کر رہی تھی کہ گائوں کی بچی مٹھی میں کچھ دبا کر لائی اور خدیجہ سے کہا۔ یہ بابو نے دیا ہے۔ یہ کہہ کر وہ بھاگ گئی۔ اس وقت وہاں میرے اور خدیجہ کے سوا کوئی نہ تھا۔ خدیجہ پڑھی لکھی نہ تھی، اردو بھی ٹھیک طرح سے نہیں پڑھ سکتی تھی۔ بہر حال اس نے رقعہ میری طرف بڑھا کر کہا۔ تم ہی اس کو پڑھ دو۔ میں نے پرچہ کھول کر پڑھنا شروع کر دیا۔ خدیجہ ! رات کو اپنے چند جوڑے کپڑے اور زیورات لے کر آ جانا… ہم یہاں سے شہر جا کر شادی کر لیں گے۔“ یہ سن کر اس کی باچھیں کھل گئیں اور چہرہ خوشی سے گلنار ہو گیا۔ کہنے لگی۔ دیکھا، میرا دل گواہی دیتا تھا کہ شہری بابو مجھے بھولا نہیں ہے۔ وہ ضرور مجھ کو یہاں سے لے جائے گا۔ لمحہ بھر کو خوش ہوئی پھر افسردہ ہو گئی اور کہا، مجھ کو مشورہ دو میں کیا کروں ؟ اور میں نے اسے جو مشورہ دیا، میں آج بھی سوچتی ہوں تو کہتی ہوں کہ کاش میں ایسا نہ کرتی۔ میں نے اس سے کہا کہ تم چلی جائو۔ تمہیں تمہارا پیار بھی مل جائے گا اور تم خالد کو بھی دھوکا نہ دو گی۔ پھر میں گھر آ گئی۔ اگلی شام کو اس کا نکاح تھا اور پھر رخصتی مگر ہمارے گھر سے کوئی بھی اس کی شادی میں نہیں جارہا تھا۔ مجھے بہت بے چینی تھی مگر میں اس بارے میں اب صبح کے علاوہ کچھ معلوم نہیں کر سکتی تھی لہٰذا شام کے بعد سو گئی اور صبح جب میری آنکھ کھلی تو نانی، نانا سے کہہ رہی تھیں۔ جلدی کرو وہ لوگ تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ میں آنکھیں ملتی صحن کی طرف جانے لگی۔ تبھی ممانی نے کہا۔ مائرہ تم کو پتا ہے کہ خدیجہ کا قتل ہو گیا ہے۔

میرے ہاتھ سے پانی کا برتن چھوٹ گیا۔ کیا کہا ممانی مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ دل کو دھچکا سا لگا۔ پہلے نانی ان کے گھر گئیں۔ کچھ دیر بعد میں بھی ممانی کے ہمراہ وہاں گئی تو نازو نے بتایا کہ آپی دلہن کے لباس میں تھی۔ نازو نے خود اس کے اصرار پر اس کو باہر تک پہنچایا تھا اور گھر سے تمام جمع پونجی بھی لے گئی تھی لیکن جب گھر میں اس کی غیر موجودگی کا پتا چلا تب بہت دیر ہو چکی تھی۔ جب بھائی اس کو ڈھونڈتا ڈاک بنگلے پہنچا تو وہ وہاں قابل اعتراض حالت میں ملی جبکہ زیور اور نقدی لے کر وہ افسر وہاں سے فرار ہو چکا تھا۔ خدیجہ کو اس نے نشہ آور کوئی شے پلا دی تھی۔

جمال بہن کو اس حال میں دیکھ کر غیرت سے آگ کا شعلہ بن گیا اور اس نے فوراً اپنی بہن کو قتل کر دیا اور خود تھانے پیش ہو گیا۔ ماں تو بین بھی نہ کر پا رہی تھی۔ وہ اوٹ پٹانگ باتیں کر رہی تھی۔ لگتا تھا پاگل ہو گئی ہے ، باپ بیچارہ سکتے میں آگیا۔ تب مجھ کو اپنی نا سمجھی اور عاقبت نااندیشی پر بڑا غصہ آیا کہ میں نے ہی خدیجہ کو مشورہ دیا تھا کہ وہاں چلی جائے۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ محبت کا یہ روپ بھی ہوتا ہے۔
میں نویں کی طالبہ تھی لوگوں کو سمجھنا اور زندگی کا تجربہ مجھے چھو کر بھی نہ گزرا تھا، بار بار خدیجہ کا معصوم چہرہ نگاہوں میں آتا تو آنکھوں سے آنسو ٹیکنے لگتے۔

وہ گائوں کی سیدھی سادی لڑکی تھی اور جس لٹیرے نے اس کو دھوکا دے کر لوٹا، اس رہزن نے یہ بھی نہ سوچا کہ گائوں میں گھر سے بھاگنے کی سزا لڑکیوں کو موت کی صورت میں ملتی ہے۔ جانے وہ کیسا پڑھا لکھا افسر تھا کہ اس نے اس معصوم کو لوٹا ہی نہیں، جان کا نذرانہ بھی لے گیا۔ وہ خود تو آرام سے روپوش ہو گیا اور گائوں والے بھی اس کی آفیسری کی وجہ سے اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے لیکن خدیجہ کے ساتھ ساتھ اس کے بھائی کو جیل کی آہنی سلاخوں کے پیچھے چکی پیسنا پڑی اور اس کے ماں باپ، بیٹی کی درد ناک موت پر خون کے آنسو رونے پر مجبور ہو گئے۔

خدیجہ کی سزا اسی دنیا میں اسے مل گئی یا اس جہان میں بھی ملے گی، یہ تو اللہ ہی جانے مگر مجھے یقین ہے اس دھو کے باز ہوس پرست آفیسر کو دہری سزا ملے گی، جس نے ایک معصوم کی دوشیزگی کو خاک میں ملا کر اپنا ہی نہیں سارے ملک کا دامن میلا کر دیا۔

Latest Posts

Related POSTS