Friday, July 12, 2024

Duniya He Badal Gaye | Teen Auratien Teen Kahaniyan

یہ آج سے چالیس برس قبل کا ذکر ہے کہ ایک چھوٹے سے قصبے میں ہماری چھ بیگھے زمین تھی۔ ہم چند بھیڑ بکریوں اور بیلوں کی ایک جوڑی کے طفیل خوشحال زندگی بسر کر رہے تھے۔ ہماری زمین اگرچہ تھوڑی تھی مگر سال بھر کا اناج تو اس کی کوکھ سے ہمیں مل ہی جاتا تھا۔
ابا اور چاچا میں خوب بنی ہوئی تھی۔ اس طرح ماں اور چاچی بھی مل جل کر ایک ہی چولہے اور چکی میں پیستی اور پکاتی تھیں۔ میں ان دنوں دس برس کی تھی۔ چاچا کے چار بچے اور ہم پانچ بہن بھائی تھے۔ ایک ہی گھر کی چھت تلے پرورش پائی تھی ۔ اس لئے آپس میں بڑی محبت تھی۔
ایک دن میں سارے گائوں میں گڑ کے لڈو بانٹنے گئی کیونکہ ماموں بورڈ میں اول آئے تھے۔ یہ بڑی حیرت کی بات تھی کہ ایک دیہاتی لڑکا جو کھدر کی دھوتی اور موٹی ململ کا کرتا زیب تن کرتا تھا۔ سارا دن ڈھورڈنگر ہانکتا تھا اور جس کے پیروں میں چپل بھی نہ ہوتی تھی، وہ بورڈ میں فرسٹ آیا تھا۔
بات یہ تھی کہ ان دنوں لوگ بے غرض دوسروں کے کام آتے تھے اور ان کی معاونت میں خلوص بھی ہوتا تھا۔ ہمارے گائوں کی مسجد کے امام صاحب میٹرک پاس تھے۔ وہ بہت نیک آدمی تھے۔ نانا نے ماموں کو انہی کے پاس پڑھنے کے لئے بٹھایا تھا۔ انہوں نے چند دنوں میں ہی اندازہ لگالیا کہ اس لڑکے کو پڑھنے سے لگائو ہے تو نانا کو مشورہ دیا کہ لڑکے کو مدرسے میں ڈال دو۔ نانا نے کہا۔ اس کو سبق کون یاد کرائے گا؟
اس کا میرا ذمہ ہوگا۔ امام صاحب نے وعدہ کیا… پھر انہوں نے یہ وعدہ اس طرح نباہ دیا کہ وہ شام کو روزانہ ایک گھنٹے ماموں کو خود پڑھاتے تھے۔ امام صاحب انگریزوں کے زمانے کے پڑھے ہوئے تھے۔ انہوں نے شہر کے اسکول میں پڑھا تھا لہٰذا وہ آج کے ایم اے پاس لڑکوں سے زیادہ قابل تھے، فرفر انگریزی بول سکتے تھے اور ریاضی میں تو امام صاحب کا کوئی مدمقابل نہ تھا۔
امام صاحب کی محنت اور خلوص کے علاوہ بلاشبہ ماموں بھی خداداد ذہانت کے مالک تھے۔ مدرسے سے واپس آکر وہ ڈھورڈنگروں کو ہانکتے تھے۔ جانور ان کے پاس بھاگے آتے تھے اور ان کے پیچھے پیچھے یوں چلتے تھے جیسے کسی نے ان کو محبت کے ان دیکھے رشتے میں باندھ رکھا ہو۔
ماموں نے میٹرک پاس کرلیا۔ پھر وہ شہر کے کالج میں پڑھنے چلے گئے۔ اب وہ صاف کپڑے پہنتے تھے۔ دھوتی کی جگہ کوٹ پتلون نے لے لی۔ جب گائوں آتے گائوں کے سارے میلے کچیلے ننگ دھڑنگ بچے ان کے گرد اکٹھے ہوجاتے اور حیرت سے ماموں کو یوں دیکھتے جیسے وہ کسی اور جہان کی مخلوق ہوں۔
میلے کپڑوں اور گرد آلود جسموں کی پروا کئے بغیر ماموں ان کو لپٹا لیتے اور گود میں اٹھا کر پیار کرتے جس سے ان کے اجلے کپڑے بھی گرد آلود ہوجاتے تھے۔
ہم بھی پہلے عام دیہاتی بچوں جیسے ہی تھے۔ میلے کچیلے کپڑے اور ہاتھ پائوں مٹی سے بھرے ہوئے لیکن پھر رفتہ رفتہ ماموں کی وجہ سے ہم صاف ستھرے رہنے لگے۔ ہم نے اجلے کپڑے پہننا ماموں سے ہی سیکھا تھا۔ ان دنوں دادا بیمار ہوگئے۔ انہوں نے مرنے سے پہلے میری بہن فاطمہ کا نکاح میرے چاچا کے بیٹے طارق سے کردیا۔
طارق مزاج کا تیز تھا، اس کی میری بہن سے نہ بنی۔ دادا کے مرنے کے بعد ان جھگڑوں میں ہمارے گھروں میں نفاق پیدا ہوگیا۔ میری بہن روٹھ کر اپنے گھر آگئی اور میرے چاچا کی بیٹی جس کا نکاح بدلے میں میرے بھائی سے ہوا تھا وہ روٹھ کر اپنے باپ کے گھر چلی گئی۔
میکے تو دونوں کے ایک ہی گھر میں تھے۔ صحن ایک تھا، چار دیواری ایک تھی مگر کمرے الگ الگ تھے۔ ان معاملات کے بگڑنے اور دادا کے فوت ہوجانے کے بعد ہم میں اتفاق نہ رہا اور تلخیوں نے جنم لے لیا تو اب صحن کے بیچ دیوار کھڑی ہوگئی۔ چاچی اور ماں کی چکی اور چولہا بھی الگ الگ ہوگئے۔
میری بھابی بڑی تیز طرار تھی، لیکن اس کو بھائی سے لگائو تھا لہٰذا وہ اس سے الگ نہیں ہونا چاہتی تھی۔ مجبوری نے اس کو بھیا سے جدا کر رکھا تھا۔ بھائی بھی اس کے بغیر نہ رہتا تھا۔ ماں نے ماموں سے کہا۔ فاضل کسی طور مانتا نہیں، رات کو جب سب سو جاتے ہیں یہ اقراء سے ملتا ہے۔ چھپ چھپ کر بیوی سے ملنے کی تو کوئی سزا نہیں ہے اس کو باز نہیں رکھ سکتے۔ یہ پھر اقراء کو لے کر آگیا تو اس کے چاچا کے غیظ و غضب کا مقابلہ نہ کرسکیں گے۔ تو ایسا کر اس کو شہر لے جا، جب تک کہ کیس کا کوئی فیصلہ نہیں ہوجاتا۔
ماموں میرے بھائی کو بہلا پھسلا کر شہر لے گئے۔ اور وہاں اپنے استاد کے گھر اس کو مالی رکھوادیا۔
کیس کا فیصلہ بھی ہوگیا۔ اقراء کو بھائی نے طلاق دی اور فاطمہ کو طارق نے طلاق دے دی۔ ابا اور چاچا کے راستے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے الگ ہوگئے۔ جنم جنم سے محبت جو گھٹی میں پڑی تھی وہ خون کے رشتوں سے جدا ہوگئی۔ اولاد کی خاطر سب نے اپنے منہ ایک دوسرے سے پھیرلئے۔ چاچا نے گھر اور زمین فروخت کردی۔ ابا نے بھی سوچا کہ میں بھی مکان اور زمین بیچ کر شہر چلا جاتا ہوں۔ نفرت کے ساتھ ایک جگہ رہنے سے جدا ہوجانا اچھا ہوتا ہے۔
انہیں دنوں ماموں کی تعلیم مکمل ہوگئی اور ساتھ ہی نوکری بھی مل گئی۔ ان دنوں لائق طالب علموں کو ملازمتیں ڈھونڈنی نہیں پڑتی تھیں، بلکہ ملازمتیں خود ان کو ڈھونڈتی تھیں۔
ایک بار پھر میری ماں گائوں میں گڑ کے لڈو بانٹنے نکلی۔ ماموں کی شہر میں نوکری جو ہوگئی تھی۔ انہی دنوں ایک ایسا واقعہ ہوگیا جس نے ہم سب کو لرزا کر رکھ دیا۔
بے شک عدالتوں سے ہمارے بزرگوں نے اپنے بچوں کی طلاقیں کرالی تھیں مگر اقراء میں میرے بھائی کا دل ابھی تک اٹکا ہوا تھا۔ والدین کے مجبور کرنے پر اپنی بیوی کو طلاق دی تھی مگر اس کو اپنے دل سے نہیں نکال سکا تھا۔
بابا اور چاچا نے زمین اور مکان بیچ دیا۔ چاچا دوسری جگہ غیرآباد زمین لے کر بس گیا اور ابا نے شہر جانے کو سامان باندھ لیا۔ کیونکہ اب ہمارے ماموں کی نوکری پکی ہوگئی تھی اور اس کو رہنے کے لئے سرکاری کوارٹر بھی مل گیا تھا۔
جس دن ہم شہر جانے کی تیاری کررہے تھے، فاضل آخری بار اقراء کا دیدار کرنے کنویں کی جانب گیا۔ وہ کنویں پر اس وقت پانی بھرنے جاتی تھی۔ فاضل کا خیال تھا اس کو دیکھ کر اقراء اوڑھنی میں منہ چھپا کر رونے لگے گی۔ اور التجا کرے گی کہ خدا کے واسطے اس گائوں کو اور مجھے چھوڑ کر کہیں نہ جائو۔ میں تیری بنتی کرتی ہوں کم از کم اپنے دیدار سے محروم نہ کرو۔
لیکن ایسا کچھ نہیں تھا وہاں، بلکہ اقراء تو گائوں کے ایک اور جوان سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی۔ اس نے فاضل کو دیکھا مگر پروا نہ کی جس سے بھائی کے دل میں آگ بھڑک اٹھی اور وہ محبت کے جو جذبات من میں چھپا کر گیا تھا، نفرت کے لاوے میں تبدیل ہوگئے۔
وہ بھاگا ہوا گھر آیا، کلہاڑی صحن میں ہی پڑی تھی جس سے ابا روز لکڑیاں کاٹا کرتا تھا۔ وہ کلہاڑی پر ایسے جھپٹا جیسے چیل ماس پر جھپٹا مارتی ہے۔ اس کو دیوانہ وار گھر سے بھاگتے دیکھ کر ماں کا ماتھا ٹھنک گیا۔ وہ بھی واویلا کرتی اس کے پیچھے بھاگی مگر وہ جوان قدموں کا ساتھ کہاں دے سکتی تھی۔ آناً فاناً اس نے اقراء کو جالیا، جو پانی کا بھرا ہوا گھڑا سر پر رکھے مزے سے پگڈنڈی پر چلتی جارہی تھی۔ بھائی نے کلہاڑی کا وار اس کے سر پر کیا تو گھڑا دو ٹکڑے ہوکر اِدھر اُدھر گرا۔ پانی کے ساتھ اقراء لہو میں نہاگئی اور لڑکھڑاتی ہوئی نہر میں جا گری۔
ماں کے واویلا کرنے سے ابا کے بھی کان کھڑے ہوچکے تھے۔ جو بیلوں کو تھان پر باندھ رہا تھا۔ وہ بھی ماں کے پیچھے بھاگا تھا۔ اس نے بھائی کو پیچھے سے جا کر اپنے بازئووں کی گرفت میں تھام لیا اور چلایا۔ یہ کیا کر رہا ہے او کملا… ابا کی پھرتی اور مضبوطی نے بھائی کو اقرار پر دوسروار نہ کرنے دیا… وہ مرنے سے تو بچ گئی، مگر اس کے سر میں گہرا زخم آیا۔ اگر اس کے سر پرگھڑا نہ رکھا ہوتا تو یقینا اس کا سر دو ٹکڑے ہو جاتا۔
آپس کا معاملہ تھا، پھر لڑکی بھی بچ گئی تھی۔ ماموں جی اتفاق سے آئے ہوئے تھے، وہ اس کو اسی وقت سرکاری گاڑی پر شہر کے اسپتال لے آئے۔ پھر گائوں والوں نے سمجھا بجھا کر معاملہ رفع دفع کرالیا۔ راضی نامہ ہوگیاتو ہم ماموں کے پاس شہر میں آبسے۔
شہر آ کر پتا چلا کہ یہاں کی زندگی تو اور بھی کٹھن ہے۔ ایک آدمی کی تنخواہ پر گزارا نہیں تھا۔ اکیلا ماموں کمانے والا اور ہم آٹھ آدمی کھانے والے ۔ مجبوراً ماں ایک قریبی گھر میں کام پر جانے لگی۔
فاضل بھائی جوان تھا، مگر کوئی کام نہیں کرتا تھا۔ وہ ذہنی انتشار کا شکار تھا۔ فاطمہ طلاق یافتہ تھی۔ پھر وہ یوں بھی ایک دیہاتی ان پڑھ لڑکی تھی۔ شہر میں اس کا رشتہ ملنا مشکل تھا۔ فاطمہ کے بعد میرا نمبر تھا اور دونوں بھائی ابھی چھوٹے تھے، وہ کہیں کام کرنے کے لائق نہ تھے۔
شہر میں کافی مشقت سے وقت ہماری ماں نے گزارا، کیونکہ ابا کو ہل چلانا آتا تھا یا پھر حقہ گڑگڑانا۔ ایک کام چھوٹ گیا مگر دوسرا مشغلہ جاری رہا۔ وہ حقہ گڑگڑاتا تھا اور ماں اس کے لئے تمباکو کی فکر میں گھلتی جاتی تھی۔
ہمارے پڑوس میں جو لوگ رہتے تھے ان کے دو لڑکے سعودی عرب گئے ہوئے تھے۔ وہاں وہ ڈرائیور تھے۔ دو آدمیوں کی کمائی تھی تو گھر بھی سدھرتا جا رہا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کے حالات بدل گئے اور خوشحالی نے ان کا گھر خوشیوں سے بھر دیا۔
ماں بڑی حسرت سے پڑوسی کے گھر کو دیکھتی، جہاں پہلے کچے کوٹھے تھے پھر پکی چار دیواری بلند ہو گئی۔ وہ ان کی منتیں کرنے لگی، میرے بیٹے کو ویزا دلا دو یہ بھی وہاں سے کچھ کما کر بھیجے گا تو ہمارے دن پھر جائیں گے۔
انہی دنوں گائوں سے خالہ آ گئیں۔ اس کی نند سے ماموں کی منگنی ہوچکی تھی۔ وہ شادی کی تاریخ مانگنے آئی تھیں۔ ماموں بھی گھر بسانا چاہتے لہٰذا ماں نے تاریخ دے دی اور جو کچھ پونجی زمین بیچنے کے بعد چھپا رہی تھی، ماموں کی شادی پر خرچ ہوگئی۔
بڑے چائو سے ہم مامی کو بیاہ کر لائے تھے، مگر اس نے تو آتے ہی تباہی مچا دی۔ ماموں کو لے کر الگ ہوگئی۔ ماموں نے قریب ہی ایک کچی آبادی میں ہمیں کرائے پر چھوٹا سا مکان لے دیا۔ گھر کے سکون کی خاطر اس مکان کا کرایہ ماموں ہی دیتے تھے۔
اب ہم پر انتہائی برے دن آ گئے۔ ماموں کی کمائی پر تو مامی قابض تھی۔ ہمیں چوری چھپے وہ تھوڑا بہت خرچہ دے جاتا تھا، جس سے ایک وقت کی روٹی پوری نہیں ہوتی تھی۔ ابا نے ساری عمر زمین پر ہل چلایا تھا۔ محنت مزدوری کرنے کو عار سمجھتے تھے۔
کسی کے آگے چاکر ی کرنے کو نیچ کام جانتے تھے۔ ایک ماں کے برتن مانجھنے سے تو گھر
چل نہیں سکتا تھا۔
ماں نے جا کر ماموں کے پڑوس میں اپنی بپتا سنائی ان دنوں ان کے دونوں ڈرائیور بیٹے آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا اگر فاضل ڈرائیوری سیکھ لے تو ہم کچھ نہ کچھ بندوبست کر دیں گے… ویزے کی رقم بعد میں ادا کرتا رہے گا۔ ماں نے ماموں سے منت سماجت کی اور انہوں نے فاضل کو ڈرائیونگ اسکول میں داخل کروا دیا، یوں بھائی نے ڈرائیونگ کا امتحان پاس کرلیا۔
پڑوسن کے لڑکوں نے وعدہ ا یفا کردیا اور بھائی کے لئے نہ صرف ویزا بھیجا بلکہ اپنے کفیل سے کہہ کر اس کی نوکری کا بندوبست بھی کر دیا۔
جس دن بھائی سعودی عرب روانہ ہو رہا تھا، ہمارے گھر عید کا سماں تھا۔ ماں نے پڑوسن کے برتن سال بھر تک دھوئے تھے تو بھائی کو ویزا ملا تھا۔ آج ہم بھی معزز ہو گئے تھے۔ مامی ہمارے لئے مٹھائی کا ڈبہ لائیں، ماموں نے دو دیگیں پلائو کی پکوا کر محلے میں بٹوائی تھیں کہ ان کا بھانجا کمانے کے لئے سعودی عرب جا رہا ہے۔
کسی گھر سے کسی نوجوان کا دیارِ غیر جا کر کمانا محلے والوں کی نظروں میں فخر کی بات ہوتی ہے۔ کیونکہ اس سے معیار زندگی بلند ہوتا ہے۔ ماں کو اس بات کا احساس تھا۔ اگرچہ وہ دیہاتی عورت تھی مگر چاہتی تھی کہ اب محلے کے غریب گھرانے اس کو عزت سے سلام کریں گے۔ تبھی وہ بھی پہلے سے زیادہ ہوشیار نظر آ رہی تھی۔ اور وہ ان سب محلے داروں کے چہروں کو غور سے دیکھ رہی تھی جو اس کو مبارکباد دینے آ رہے تھے کہ کہیں ان کے چہروں کے پیچھے کوئی لالچ تو نہیں۔
فاضل بھائی سعودی عرب چلے گئے۔ ان کا پہلا خط آیا تو ہم سب نے اس کو چوم لیا کیونکہ یہ ہماری غربت کو دور کرنے کا ایک پروانہ تھا۔ اس خط کے ساتھ ہم سب کے کتنے سارے خواب وابستہ تھے، یہ خط کیا تھا ہمارے لئے خوشیوں کا پیغام تھا۔
بھائی نے لکھا تھا جب میں پہلا ڈرافٹ بھیجوں گا تو اس سے سب گھر والے اپنے نئے کپڑے بنوائیں اور کچھ رقم خیرات بھی کرنا یہ میری تاکید ہے۔ دو ہزار کی رقم میری طر ف سے ماموں جی کو نذرانہ پیش کرنا۔ اب میں حرمین شریفین جا کر اس کے لئے بھی دعا کروں گا کہ خدا اس کو ترقی دے۔
فاضل کی دعا قبول ہو گئی۔ جلد ہی ماموں کی ترقی ہوگئی۔ مگر تنخواہ میں صرف چند روپوں کا ہی اضافہ ہوا۔ اب تو ماموں بھی رشک کرنے لگے کہ میں نے ناحق اتنا پڑھائی پر زور دیا، ایک معمولی ٹیچر ہی بن سکا جبکہ ڈرائیوری سیکھ کر دیار غیر کو جاتا تو آج ہزاروں کما رہا ہوتا …لیکن دیار غیر جا کر ہزاروں کمانا بھی تو آسان نہیں ہوتا۔ پھر روپیا بھی کسی کسی کو راس آتا ہے۔
بھائی نے پہلا ڈرافٹ بھیجا۔ ماں نے دو ہزار ماموں کو دیئے کہ ٹکٹ انہوں نے دیا تھا۔ کہنے لگی بھیا یہ پہلی قسط سمجھو …!
اگر رقم ہاتھ میں آ جائے تو ہزاروں خرچ ہوجاتے۔ لیکن پتا نہیں چلتا۔ ایک ماہ بعد رقم صاف ہوگئی۔ کچھ چھوٹے موٹے قرضے ماں نے کریانہ کے دکان دار وغیرہ کے چکائے، ہم نے چار دن بکرے کا گوشت پکایا اور خوب اچھا کھایا۔ غرض چار دن کی چاندنی اور پھر اندھیری رات، نئے جوڑے پہن کر اور عید منا کے ہم پہلے جیسے ہو بیٹھے۔
اگلے ماہ بھائی نے پھر ڈرافٹ روپوں کا بھیجا۔ ماں نے حسب وعدہ ماموں کو دو ہزار سے زیادہ نہ دیئے۔ وہ دے بھی نہ سکتی تھی کیونکہ ہم نے اخراجات بڑھا لئے تھے۔
بجلی کے میٹر کی درخواست منظور ہو گئی تھی۔ وہ خرچہ بھرنا تھا۔ ماں نے میونسپلٹی کے پائپ لائن سے پائپ جڑوا کر پانی گھرکے اندر پہنچانے کا انتظام کرا لیا تھا۔
ماموں ناراض ہو گئے تھے کہ جن سے قرضہ لیا تھا وہ روپے کی واپسی کا تقاضا کر رہے تھے۔ اور ان کی سبکی ہو رہی تھی۔
ان کی بات بھی ٹھیک تھی مگر ماں کو اب ان کی باتیں ٹھیک نہیں لگتی تھیں۔ برے دنوں میں ماموں ہی ان کے لئے سب کچھ تھے۔ آج بیٹا کمانے کے لائق ہوگیا تھا تو وہ کہتی تھی یہ لوگ میرے بیٹے کی کمائی کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ ہمیں اپنی پوری نہیں پڑتی ان کو کہاں سے دیں۔
پہلے لوگ ہمارے گھر نہیں آتے تھے، اب پاس پڑوس والے کھانوں کے خوان بھی بھیجنے لگے اور خود بھی آنے جانے لگے۔ ایک پولیس کے سپاہی کا رشتہ میرے لئے آگیا۔ جس کو ماں نے جھٹ پٹ منظور کرلیا کیونکہ جنہوں نے غریبی کا عذاب جھیلا ہو، ان کے لئے پولیس والے کی وردی کا وہی دبدبہ ہوتا ہے جو اپنے زمانے میں اکبر بادشاہ کا اس کی رعایا کے دلوں پر ہوتا تھا۔
سال بھر میں ہمارے حالات سدھرنا شروع ہوگئے۔ ماں نے چھت کی مرمت کرالی کہ پانی ٹپکتا تھا۔
ماموں سے جو قرضہ لیا تھا، وہ بھی ادا ہوگیا۔ کچھ میرا جہیز بنا مگر ابھی ادھورا تھا۔ بھائی نے خط لکھا تھا کہ میں بہت سی چیزیں اور کپڑے وغیرہ خود لیتا آئوں گا تم مت خریدنا۔
دونوں چھوٹے بھائی اسکول جانے لگے تھے۔ ابا اب گھر کے دروازے پر نیم کے درخت کے نیچے چارپائی ڈال کر سکون سے حقہ پینے لگے تھے۔ شام کو روز ہی محلے کے دو چار ان کی عمر کے لوگ بھی ساتھ آ بیٹھتے تھے اور گپ شپ لگاتے تھے۔ ابا کے چہرے کے تاثرات اور اجلے دھوتی کرتے سے گھر کی خوشحالی کا اظہار ہوتا تھا۔ ہم محلے میں معزز ہوتے جارہے تھے۔
پہلے گھر میں برتن نہیں تھے، بس مٹی کی ہانڈی المونیم کی کٹوریاں اور گلاس۔ اب کچھ اچھے برتن آگئے تھے۔ دو چار بستر بھی بن گئے تھے اور سب سے بڑی بات یہ کہ ماں کسی کے گھر پر کام کرنے بھی نہیں جاتی تھی۔
اس عید پر بھائی کو سعودی عرب گئے دو سال پورے ہورہے تھے کہ ان کا خط آگیا۔ لکھا تھا میں حج کرتے ہی روانہ ہوجائوں گا۔ خط ملتے ہی گھر میں بہار آگئی، ہم سب کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔
جس روز بھائی نے آنا تھا ہمیں شدت سے انتظار تھا اس دن کا۔ پندرہ دن پہلے سے گھر کی صفائی ہورہی تھی۔ تولیہ،گدا، چارپائی حتیٰ کہ گلاس اور پلیٹیں تک اماں نے بھائی کے لئے نئی نکال کر رکھیں کہ اسی کی کمائی سے تو یہ سب چیزیں گھر میں آئی تھیں۔
پھر جس دن بھائی نے آنا تھا اسی دن ٹیلی گرام آگیا، ہم سمجھے کہ اس کے آنے کا پیغام ہے۔ دوڑ کر چھوٹے نے تار بابو سے تار پکڑا اور اسے پڑھوانے کو ماں، ماموں کے گھر دوڑ گئی۔ لیکن تار پڑھتے ہی ماموں کا رنگ فق ہوگیا۔ ابھی ماں گھر نہیں پہنچی تھی کہ پڑوسن آگئی۔ ساتھ اس کا شوہر بھی تھا۔ وہ یہ بتانے آئے تھے کہ آپ کے بیٹے کے متعلق سعودی عرب سے فون آیا ہے اور یہ فون ان کے بیٹوں نے کیا تھا کہ رضائے الٰہی سے فاضل احمد فوت ہوگیا کیونکہ اس کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا جس میں اس کے ساتھ دو مسافر اور بھی ہلاک ہوگئے تھے۔ وہ مسافر حج کرنے کی غرض سے آئے تھے اور وہ بھی پاکستانی تھے۔
جس چاند نے ابھی چڑھنا تھا وہ کامل ہونے سے پہلے غروب ہوگیا۔ غربت کی سیاہ رات جاتے جاتے پھر لوٹ آئی۔ ماں محلہ میں سر اونچا کرکے چلنے لگی تھی۔ یہ فخر شاید خدا کو پسند نہیں آیا کہ ملک الموت نے ماں کا سر نیچا کردیا۔ اس کا لخت جگر چھین کر اس کو بے آسرا ہی نہیں بے دست و پا کر ڈالا۔
رنگین پایوں والی چارپائی بھیا کا انتظار ہی کرتی رہ گئی۔ اس پر لیٹنا بھائی کو نصیب نہ ہوسکا۔ ہم ان کا آخری دیدار تک نہ کرسکے کہ وہ ہم سے ہزاروں میل دور منوں مٹی تلے دفن کردئیے گئے۔ ہم میں سے کس کے پاس سکت تھی کہ ان کا تن مردہ لینے جاتا۔
میری منگنی ٹوٹ گئی۔ پولیس والے نے مجھ سے نہیں ایک ایسے بھائی کی بہن سے شادی کی خواہش کی تھی جو دیار غیر میں کما رہا تھا۔ جب بھائی نہ رہا تو کمائی بھی نہ رہی پھر یہ رشتہ کس بنیاد پر قائم رہتا۔
رفتہ رفتہ سب ہم سے دور ہوگئے۔ چند دنوں میں جو سماجی مقام بھائی کے ڈرافٹوں سے بنا تھا وہ ریت کا گھروندا ثابت ہوا۔ ماں پھر سے دوسروں کے گھروں میں جاکر برتن مانجھنے لگی۔ بھائیوں نے اسکول سے نام کٹوالیا۔
میرے بوڑھے باپ کے کپڑے پھر سے میلے ہوگئے اور اس نے نیم کے درخت تلے کچہری جمانا چھوڑ دیا ہے۔ جواں سال بیٹے کے بعد اس کو جینے کی آرزو نہیں رہی تھی۔
آہ! کاش میرا بھائی دیارِ غیر نہ جاتا وطن میں ہی کوئی محنت مزدوری کرلیتا۔ کاش ہم ایسی دولت کی شکل ہی نہ دیکھتے جو صرف چند دنوں کے لئے آئی تھی لیکن جس کی خاطر میرے بھائی نے ہم سے دائمی جدائی یوں مول لی کہ ہم ان کا آخری دیدار بھی نہ کرسکے۔
موت تو بہرحال انسان کو ہر جگہ آنی ہے لیکن ہمارے دکھ کو وہی سمجھ سکتے ہیں جن کے پیاروں کو دیار غیر میں اس قسم کے حادثات پیش آچکے ہیں۔
(ر۔ک … ملتان)

Latest Posts

Related POSTS