Ehmaq Por (Part 1)

498
کسی ملک پر ایک نہایت نیک اور رحمدل بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ بادشاہ بڑا سخی اور دیانت دار تھا۔ ہر کسی کے ساتھ بلا امتیاز انصاف کرتا تھا۔ اسے بادشاہت کرتے ہوئے تیس سال ہو چکے تھے۔ مگر کیا مجال جو ملک میں کسی بھی شخص کو تکلیف پہنچی ہو اور اس نے اس تکلیف کا سدباب نہ کیا ہو۔ پیارے بچو! اس بادشاہ کے ملک میں ایک گائوں ایسا بھی تھا، جہاں کا ہر چھوٹا بڑا سب عقل سے پیدل اور حد سے زیادہ بے وقوف و احمق مشہور تھا۔ یہ رات کو جب سوتے تو اپنے پائوں آسمان کی طرف اونچے کر کے کسی شہتیر یا دیوار سے باندھ لیتے تھے۔ ان کے خیال میں کہیں سونے میں ناگہانی آسمان گرے گا تو یہ اُسے اپنے پیروں پر روک لیں گے۔ اکثر اوقات اپنے جوتے ہاتھوں میں لے کر چلتے کہ یہ گھس جائیں گے۔ ان کی حرکتوں اور احمقانہ عادتوں کی وجہ سے سارے ملک میں لوگ ان کا مذاق اڑاتے تھے اور ان کے گائوں کا نا م احمق پور رکھ دیا گیا تھا۔ یعنی احمق لوگوں کا شہر یا رہنے کی جگہ۔ بادشاہ اس گائوں کے لوگوں کی عادات اور احمق پن سے فکر مند اور پشیمان رہتا تھا۔
ایک روز کا واقعہ ہے کہ حسب معمول بادشاہ اپنے دربار میں بیٹھا تھا کہ پہرے داروں نے بادشاہ کو آ کر اطلاع دی۔ ’’عالی جاہ… گائوں احمق پور کے کچھ لوگ آپ سے ملاقات کی اجازت چاہتے ہیں۔‘‘
’’ہیں …کیا کہا، احمق پور۔‘‘ بادشاہ نے چونکتے ہوئے کہا۔ ’’یا اللہ خیر۔ یہ احمق لوگ کیوں کر ملاقات کرنے آئے ہیں؟‘‘
’’عالی جاہ… وہ آپ سے ملاقات پر بتانے کا کہہ رہے ہیں۔‘‘ بادشاہ نے وزیر سے فکر انگیز لہجے میں پوچھا۔ ’’کیا خیال ہے، ان سے ملاقات کی جائے یا نہیں۔‘‘
وزیر نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’حضور والا۔ آپ کا دربار تو تمام عوام الناس کیلئے کھلا ہوا ہے تو یہ بے چارے اتنی دور سے چل کر آئے ہیں تو آپ کی شان یہ ہے کہ ان کو بھی ملاقات کا موقع دیا جائے۔‘‘
اجازت ملنے کے بعد احمق پور کے لوگوں کو بادشاہ کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ بادشاہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ ’’ہاں بھئی دوستو! کس سلسلے میں تشریف لائے ہیں؟‘‘
عالی جاہ! عرصہ ہوا آپ نے ہمارے گائوں کا دورہ نہیں کیا، حالانکہ آپ ہر سال دو ماہ تک ملک کے ہر شہر اور گائوں کا دورہ کرتے ہیں۔ ہم بھی آپ کی وفادار رعایا ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہمارا بادشاہ بنایا ہے۔ جس طرح آپ کی اطاعت اور حکم بجا لانا ہمارا فرض اولین ہے۔ ہم ناچیز لوگ بھی آپ سے یہی امید رکھتے ہیں کہ آپ کی نگاہ کرم تمام رعایا پر ہونی چاہئے۔‘‘
بادشاہ نے کہا۔ ’’بالکل، بالکل! ہمارے لئے اپنے ملک کے چھوٹے بڑے، امیر و غریب سب برابر ہیں۔ اگر تمہیں کوئی شکایت یا خواہش ہے تو تمہارے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔‘‘
وفد کے لیڈر نے کہا۔ ’’حضورِ والا! شکایت نہیں بلکہ خواہش ہے کہ آ پ ہمارے گائوں کا بھی ضرور دورہ کریں تاکہ ہمارا احساس کمتری دور ہو جائے۔‘‘
بادشاہ نے وزیر کی طرف منہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’کیا خیال ہے؟ مابدولت کیا دیکھ رہے ہیں۔ یہ احمق پور کے لوگ تو کافی بدلے ہوئے اور باشعور معلوم ہو رہے ہیں۔‘‘
وفد کے لیڈر نے بادشاہ کی گفتگو سنتے ہوئے کہا۔ ’’عالی جاہ! ہم اب وہ پندرہ بیس سالوں پہلے والے احمق نہیں رہے بلکہ پڑھ لکھ کر باشعور اور باصلاحیت ہو چکے ہیں۔ ہم اب نئی نسل کے نوجوان ہیں، اب ہم احمق نہیںہیں، عقل مند اور ذہین لوگ ہیں۔ آپ جب تشریف لائیں گے تو ہماری تبدیلی اور زبردست ترقی دیکھ کر یقیناً خوش ہوں گے۔‘‘ وزیر نے بادشاہ سے زور دے کر کہا۔ ’’عالی جاہ مجھے بھی یقین ہو چلا ہے کہ احمق پور کی یہ نئی نسل پرانی نسل سے بالکل مختلف ہے۔ ان کی گفتگو، ان کا طرزِ ملاقات بہت مہذب معلوم ہو رہا ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ ان کو مایوس نہ کیا جائے اور ان کی دعوت قبول کر لی جائے۔‘‘
بادشاہ نے کہا۔ ’’تم جانو! مجھے تو اب بھی شک ہے۔‘‘
نہیں عالی جاہ! ’’مجھے یقین ہے کہ ہماری غلطی ہو گی، جو ہم ان کو مایوس کریں گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ بادشاہ نے وفد سے کہا۔ ’’دوستو! ہمیں تمہاری دعوت منظور ہے۔‘‘ احمق پور کا وفد بڑا خوش ہوا اور بادشاہ سلامت زندہ باد، وزیر زندہ باد کے نعرے لگاتا ہوا خوشی خوشی رُخصت ہو گیا۔
مقررہ تاریخ کو بادشاہ اور وزیراعظم کچھ شاہی سپاہیوں کے ہمراہ


احمق پور کے دورے پر پہنچ گئے۔ احمق پور کے لوگوں نے بادشاہ اور وزیر کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ پورے گائوں کو دُلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ ایک جشن کا سا سماں تھا۔ (جاری ہے)