Friday, May 24, 2024

Ehsan Kay badle Beta Diya | Teen Auratien Teen Kahaniyan

مجھے نہیں معلوم کب ہمارے بڑوں نے میری منگنی منظور سے کردی۔ میں اس وقت بہت چھوٹی تھی۔ اتنا یاد ہے کہ کچھ رشتے دار عورتیں آئی تھیں اور مجھے ماں نے نہلا دھلا کر نئے کپڑے پہنائے تھے۔ وہ عورتیں مٹھائی لائی تھیں اور میں مٹھائی کے ٹوکرے کو دیکھ کر خوش ہوئی تھی کہ اب ڈھیر ساری مٹھائی کھانے کو ملے گی۔ منظور امی کے کزن کا بیٹا تھا۔ اکثر ہمارے گھر آتا، اسے دیکھ کر انجانی سی خوشی ہوتی تھی۔ وہ ماں سے باتیں کرتے ہوئے مجھے کن انکھیوں سے دیکھتا جاتا تھا۔ میں سوچتی کہ میرا منگیتر کتنا خوبصورت ہے۔ ایسا حسین ساتھی تو خوش نصیب لڑکیوں کو ملتا ہے۔
وقت گزرتا رہا۔ منظور نے ایف ایس سی کرلیا اور ایک ادارے میں منتخب ہوکر پڑھنے چلا گیا۔ چار سال بعد کورس کرکے واپس آیا تو اسے ملازمت مل چکی تھی۔ وہ دن بھی آگیا جس کا مجھے اور منظور کو شدت سے انتظار تھا۔ ہماری شادی ہونے جارہی تھی، ہم بہت مسرور تھے کیونکہ جس طرح میں اسے چاہتی تھی وہ بھی مجھے پسند کرتا تھا۔
یہ خوشی تقدیر میں نہ تھی۔ شادی سے چند روز قبل جب معاملات طے ہونے لگے تو نکاح کی کچھ شرائط پر جھگڑا ہوگیا۔ منظور کے والدین جہیز تو چاہتے تھے لیکن حق مہر کی رقم بہت کم لکھوا رہے تھے، جبکہ میرے والد نے یہ شرط رکھی کہ بے شک حق مہر کم رکھا جائے۔ لیکن میں اپنی بیٹی کے مستقبل کا تحفظ چاہتا ہوں، اس کے لئے لڑکے والوں کو پانچ مرلے کا پلاٹ میری بچی کے نام کرنا ہوگا تبھی نکاح ہوگا۔ اس بات کو منظور کے والد نے نامنظور کردیا جس پر والد صاحب نے رشتہ توڑنے کی دھمکی دی، جسے انہوں نے اپنی اہانت سمجھا اور وہ سچ مچ رشتہ توڑ کر چلے گئے۔ سب سے زیادہ صدمہ مجھے اور منظور کو ہوا کیونکہ ہم سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔ میں کئی دنوں تک روتی رہی تھی۔ کھانا پینا ترک ہوگیا۔ آخرکار حقیقت سے سمجھوتہ کرنا پڑا۔ منظور بھی دل برداشتہ ہوکر ملاز مت پر چلا گیا۔
منگنی ختم ہوئے چھ ماہ ہوئے تھے کہ میرے لئے ایک خوشحال گھرانے سے رشتہ آگیا۔ یہ رشتہ والد صاحب کے دوست کے توسط سے آیا تھا۔ انکل ظفر نے ابا سے مسعود کی بہت تعریفیں کیں اور باور کرایا کہ خاندان بھی اچھا ہے۔ یوں میری شادی مسعود سے طے کردی گئی۔ اس دم جتنی تکلیف سے گزری بتا نہیں سکتی۔ کیونکہ منظور کے ساتھ چودہ برس تک منگنی رہی تھی۔ بچپن سے اس حسین رشتے سے وابستہ تھی۔ وہ میرے خیالوں میں بس چکا تھا۔ سوچتی تھی کہ جانے کیوں ہمارے بزرگ بچپن میں رشتے طے کردیتے ہیں، جبکہ آنے والے وقت کا پتا نہیں ہوتا۔ صدمہ بچوں کو سہنا پڑتا ہے۔ بہرحال… خدا کو یہی منظور تھا ورنہ عین وقت پر برسوں کا رشتہ کیوں ٹوٹتا۔
مسعود سے شادی ہوگئی، میں افسردہ خاطر بیاہ کر ان کے گھر آگئی۔ انکل ظفر نے صحیح کہا تھا واقعی یہ لوگ بہت اچھے اور خاندانی تھے، روپے پیسے کی بھی کمی نہ تھی لیکن دل خستہ کو جو صدمہ لگا تھا وہ جلد بھولنے والا نہ تھا۔ میں روز اول سے اپنے خاوند سے برگشتہ اور اکھڑی اکھڑی رہنے لگی۔ شوہر نے ہی نہیں ساس نندوں نے بھی بہت پیار دیا مگر میں اپنا غم نہ بھلا سکی۔
شادی کے آٹھ برس روتے دھوتے گزر گئے۔ مگر میری گود ہری نہ ہوسکی۔ اولاد ہو جاتی تو شاید شوہر اور گھر سے دل لگا لیتی۔ مسعود نے بھی میری بے زاری کو محسوس کرلیا کیونکہ اس کے حسن سلوک کے باوجود بات بات پر ان سے الجھتی اور جھگڑے کا جواز بنا کر میکے آ بیٹھتی تھی۔ امی ہی نہیں سانس نندیں، سسر دیور سبھی سمجھاتے تھے، کسی کی بات کا دل پر اثر نہ ہوتا، بلکہ اور چڑ جاتی۔ مجھے اقرارہے کہ جس قدر مجھ سے مسعود پیارکرتے تھے، شاید ہی کسی خاوند نے اپنی بیوی سے کیا ہوگا مگر میں ان کی محبت اور چاہت کا جواب محبت سے نہ دے سکی۔ بالآخر ایک روز معمولی سی بات پر جب میرے منہ سے یہ الفاظ ادا ہوئے کہ مجھے آزاد کردو میں تمہارے ساتھ خوش نہیں رہ سکتی تو مسعود صدمے سے نڈھال ہوگیا۔ فریحہ اگر تم واقعی میرے ساتھ ناخوش ہو اور آزاد ہونا چاہتی ہو تو میں تمہیں آزاد کرتا ہوں تاکہ تمہاری خوشی پوری ہوجائے، یوں ہمارے درمیان طلاق ہوگئی اور میں والدین کے گھر آگئی۔
والد صاحب اس وقت بہ قیدِ حیات تھے۔ والدہ نے مجھے بہت برا بھلا کہا۔ تو میں نے جواب دیا کہ یہ سب آپ لوگوں ہی کی وجہ سے ہوا ہے کیونکہ آپ نے میری منگنی بچپن میں کرکے میرے خیالات کو اسیر کیا اور پھر عین شادی سے ہفتہ پہلے رشتہ توڑ کر میرا دل زخمی کر ڈالا۔ والدہ کو میرے دکھ کا احساس تھا لیکن اب کچھ نہ کرسکتی تھیں، کیونکہ وہ وقت تو ہاتھ سے نکل چکا تھا جس طرح تیر کمان سے نکلتا ہے تو واپس نہیں آتا… منظور کی شادی اس کی چچازاد ثریا سے ہوگئی۔
ہماری راہیں علیحدہ ہوچکی تھیں۔ سچ تو یہ ہے کہ میں نے اس خیال سے مسعود سے آزاد ہونے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا تھا کہ منظور سے ملوں گی اس سے شادی کروں گی۔ اس کے ساتھ شادی کی خواہش باقی رہی تھی اور نہ کسی اور سے۔
جو قسمت میں لکھا تھا ہوگیا۔ لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ ایک بار پھر قدرت مجھے منظور سے ملا دے گی۔ ایک روز جبکہ میں بخار میں تپ رہی تھی والدہ نے کہا کہ سڑک پار اسپتال ہے جاکر ڈاکٹر سے دوا لے آئو۔ وہ کمر کے درد سے چارپائی پر پڑی تھیں اور ہل جل نہیں سکتی تھیں۔ ناچار میں اکیلی ڈاکٹر کے کلینک گئی اور وہاں بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگی۔ اچانک ہی کسی نے مجھے پکارا اوپر دیکھا تو منظور تھا۔ پوچھا… خیریت تو ہے یہاں کیسے بیٹھی ہو؟
بخار ہے دوا لینے آئی ہوں۔ وہ میرے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گیا اور باتیں شروع کردیں۔ اس نے کہا کہ جیسا تمہیں صدمہ ہوا ہوگا ویسا ہی مجھے بھی ہوا تھا۔ ابھی تک تم کو بھلا نہیں پایا۔ تمہاری خاطر تمہارے گھر آیا کرتا تھا۔ ہمارے دلوں میں بچپن سے یہ خیال ڈالا گیا کہ ہم منگیتر ہیں، ہماری شادی ہوگی اور پھر میرے اور تمہارے باپ نے آپس میں جھگڑا کرکے ’’انا‘‘ کا مسئلہ بنا لیا۔
جو بیت گئی سو بیت گئی۔ اب تم اپنی بیوی بچوں میں خوش ہو مگر میں تو اجڑ گئی ہوں۔ یہ کہتے ہوئے آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔ منظور کو میرے حالات سن کر بہت دکھ ہوا اس نے کہا کہ میں تم سے شادی کرنے کا آرزو مند ہوں اگر تمہیں منظور ہوتو ہم کورٹ میرج کرسکتے ہیں مگریہ شادی فی الحال راز رکھنا ہوگی۔ کیونکہ میری بیوی ثریا کو جانتی ہو وہ بہت تیز مزاج ہے، جبکہ میری چار بیٹیاں ہیں، اگر اسے خبر ہوگئی تو طلاق لینے سے بھی نہیں چوکے گی۔ تب میری بچیوں کا کیا ہوگا۔
مجھے بھی سہارا چاہئے تھا۔ میں اس کی مجبوری سمجھ گئی۔ میں نے کہا کہ ابو کو خدا سلامت رکھے لیکن ان کے بعد میرا کیا ہوگا۔ میں اس بارے میں سوچوں گی۔ میں نے کافی سوچا، دل نے منظور کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ میں نے اس کی پیشکش قبول کرلی، کیونکہ مسعود سے طلاق کے بعد بہت پریشان تھی۔ ماں باپ بھی مجھے ہی اس امر کا دوشی ٹھہراتے تھے۔ اس روز کے بعد دو تین بار ہم ملے اور پھر ہم نے خفیہ شادی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ میری عدت کو گزرے ہفتہ ہوا تھا۔ میں نے منظور کے ہمراہ جاکر کورٹ میرج کرلی۔ اس واقعہ کا آخر دم تک والد صاحب کو علم نہ ہوا کیونکہ وہ چار ماہ بعد اللہ کو پیارے ہوگئے۔
والد صاحب کا ڈر تھا کہ وہ اس شادی پر سب سے زیادہ غم زدہ ہوں گے اور اپنی اہانت محسوس کریں گے، میں نے منظور سے کہا کہ اب تم میری والدہ کو بتادو کہ ہم نے شادی کرلی ہے، وہ خود رشتے داروں کو سمجھا لیں گی اور معاملات کو سنبھال لیں گی، اس طرح کم از کم مجھے چھپ کر تم سے نہیں ملنا پڑے گا۔ میرے پاس یہ گھر خالی پڑا ہے۔ اور ہم اپنے ہی گھر میں سکون سے مل لیتے ہیں، پھر تم کواس راز کے افشا کرنے کی کیا جلدی ہے۔ میں ایک اہم ڈیوٹی پر جارہا ہوں۔ واپس آکر سوچتا ہوں، یہ مسئلہ کیسے حل کرنا ہے تاکہ میری بیوی بچے اور سسرال متاثر نہ ہوں۔ میں نے منظور کا کہا مان لیا اور وہ اپنی کمپنی کی طرف سے بیرون ملک چلا گیا۔ امید تھی کہ جلد لوٹ آئے گا مگر اس کا اپنے گھر والوں سے بھی رابطہ منقطع ہوگیا۔ سب کو تشویش تھی اور میں سب سے زیادہ پریشان تھی کہ میرا پائوں بھاری ہوچکا تھا اور میں نے منظور سے شادی کو ابھی تک راز میں رکھا ہوا تھا۔ جبکہ منظور ایسے وقت میں بیرون ملک بھیجا گیا تھا جہاں پہلے سے حالات بہت خراب تھے اور جنگ چھڑی ہوئی تھی۔
اب بچے کی پیدائش کے دن قریب آرہے تھے اور میں سخت پریشان تھی۔ ماں نے میری پریشانی کو بھانپ لیا۔ سوالات کئے تو میں نے انہیں بتا دیا کہ منظور سے کورٹ میرج کی ہے، اس شادی کو میں نے ابو کے ڈر اور منظور نے اپنے سسرالی رشتے داروں کے خوف سے راز رکھا تھا۔ ہم سمجھ رہے تھے کہ بہت جلد حالات سازگار ہوجائیں گے توسب کو بتادیں گے لیکن منظور کے لاپتا ہوجانے سے اب میں بہت مصیبت میں آچکی ہوں۔ والدہ نے سر پکڑ لیا بولیں۔ اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے مجھ سے تو پوچھ لیا ہوتا۔ اب تم ہی نہیں میں بھی مصیبت میں ہوں۔ یہ راز، کب تک راز رہے گا جبکہ رسوائی ہمارے در پر دستک دینے والی ہے۔
انہوں نے اسی وقت سواری منگوائی اور منظور کے گھر چلی گئیں، وہاں بھی اس کی گمشدگی کی وجہ سے سب پریشان تھے۔ اس کی بیوی روتی تھی کہ جس ملک میں جنگ ہورہی تھی وہاں منظور کو ڈیوٹی کی خاطر بھیجا گیا، اس کے کچھ دوستوں سے پتا کرایا ہے، وہ یہی کہتے ہیں کہ جنگ میں کام آگیا ہے۔ والدہ کے ہوش اڑ گئے۔ انہوں نے گھر آکر مجھے لعنت ملامت کی۔ کچھ نہ سوجھا تو ماں نے میرے پہلے شوہر کو فون کردیا کہ مسعود جلدی آئو میں مصیبت میں ہوں اور تمہارے سوا کسی سے حال نہیں کہہ سکتی۔ اس نے کہا۔ خالہ پریشان نہ ہوں۔ آپ کی بیٹی سے رشتہ ٹوٹا ہے آپ سے نہیں۔ میں فوراً پہنچ رہا ہوں۔
واقعی مسعود ایک گھنٹے میں آ پہنچے۔ امی نے اپنے سابقہ داماد کو ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور کہا۔ بیٹا، جوکہوں اس کا برا مت ماننا۔ مدد نہ کرسکو تو بھی… میرا تم سے کوئی گلہ نہیں ہوگا۔ پھر امی نے تمام صورت حال سے مسعود کو آگاہ کیا اور درخواست کی کہ منظور تو اس کے گھر والوں کے مطابق جنگ میں کام آگیا ہے، جبکہ فریحہ کی شادی ابھی تک راز ہے۔ اگرتم میری خاطر اس کے بچے کو اپنی ولدیت دے دو تو خاندان اور برادری میں ہم منہ دکھانے لائق رہ جائیں گے۔ بے شک تم اس بچے کو مت اپنانا۔ مسعود نے کچھ دیرسوچا۔ اسے مجھ سے اب بھی محبت تھی وہ میری رسوائی نہ چاہتا تھا لہٰذا اس نے ہامی بھرلی اور کہا۔ آپ کی بیٹی سے کوئی واسطہ نہ ہوگا لیکن آپ کے نواسے سے رہے گا۔
یہ ایک انہونی بات تھی مگر ہوگئی۔ گھر جاکر مسعود نے بتادیا کہ جب فریحہ کو میں نے طلاق دی اس کا پائوں بھاری تھا جس کا ہم دونوں کو علم نہ تھا لیکن اب خالہ جی نے بلا کر بتایا ہے۔ منظور کی والدہ نے کہا۔ اگر وہ ہمارا خون ہے تو ہم ضرور اس کے وارث بنیں گے۔ تم فریحہ کی ماں سے کہو بے فکر ہوجائے۔ بچے کا خرچہ بھی ہم دیں گے اگر وہ ہمیں بچے سے ملنے سے نہ روکیں تو۔
وہ نہیں روکیں گے۔ مسعود نے گھر والوں کو یقین دلایا کیونکہ اس نے ابھی دوسری شادی نہ کی تھی اور میری طلاق کے وقت وہ سخت پریشان تھا۔ اس کے والدین اور گھر والے تو آٹھ برس تک ہماری اولاد کی آرزو میں تڑپتے رہے تھے، اس نے یہ راز اپنے گھر والوں سے چھپا لیا کہ میں کسی اور سے کورٹ میرج کرچکی ہوں۔
میرے گھر ایک بیٹے نے جنم لیا۔ جس کا اصل باپ لاپتا تھا اور سوتیلا باپ اس کا وارث بن گیا صرف میرے سر پر عزت کا سائبان ڈالنے اور مجھے رسوائی سے بچانے کے لئے کیونکہ میں پہلے بھی اس کی عزت رہ چکی تھی۔ مجھے منظور کے شہید ہوجانے کا شدید غم تھا۔ جس نے کہاتھا کہ حوصلہ رکھنا میں جلد لوٹ کر آئوں گا، جانے وہ کس گھڑی گھر سے نکلا تھا کہ دیار غیر میں دشمنوں کے ہاتھوں جان ہارگیا اور اس کے ایک ساتھی نے اس کے گھر والوں کو اس کی وفات کی اطلاع دے دی تھی۔
میں ہر روز ریڈیو اور اخبار میں شہید ہوجانے والوں کے نام سنتی تھی اورروتی تھی، سوچتی کاش منظور کے جانے سے پہلے ہم اپنی شادی کے بارے میں سب کو بتا دیتے تو آج میری اولاد اپنے حقیقی باپ کے نام سے محروم نہ ہوتی۔ میں شروع سے بزدل تھی۔ شاید اسی باعث اس کا کہا مانتی رہی اور دوسری شادی کوراز رکھا۔ شادی کے کاغذات بھی منظور کے پاس تھے۔ جانے اس نے کہاں رکھے تھے۔
مسعود سے طلاق اور منظور سے نکاح ثانی میں بہت کم وقفہ تھا۔ تبھی یہ بات چھپ گئی۔ فیروز کو جنم دینے کے بعد میں نے نہیں بلکہ ماں نے یہ مشہور کردیا کہ میری بیٹی نے مسعود سے طلاق کے بعد اس کے بچے کو جنم دیا ہے اور بچے کے ددھیال میں مٹھائی بھی بھجوائی تو میرے سابقہ ساس سسر بچے کو دیکھنے آگئے۔ کچھ رقم بھی اسے دے گئے۔ کسی کو ہم نے ہوا نہ لگنے دی کہ میری دوسری شادی منظور سے ہوئی تھی۔
میرے بیٹے کا جنم ایک نرس کے گھر پر ہوا۔ جسے امی نے منہ بولی بیٹی بنایا ہوا تھا۔ لہٰذا تاریخ پیدائش میں تین چار ماہ کا رد و بدل بھی ہوگیا۔ مسعود کی برادری میں فیروز کو اس کا بیٹا تسلیم کرلیا گیا کیونکہ خود مسعود نے اپنے منہ سے یہ بات کہی تھی۔ ان کی ماں نے مجھ سے لکھوالیا کہ جب یہ بچہ بڑا ہوگا تم اسے ہمارے حوالے کردوگی۔ مرتا کیا نہ کرتا اس وقت میں نے اور امی نے ان کی یہ بات مان لی کہ ہاں ہم بچہ گیارہ سال بعد آپ کو دے دیں گے۔ یوں فیروز کے نام کے ساتھ اس کے باپ کے نام کے آگے مسعود کا نام درج ہوگیا، جبکہ ان کی کوئی اولاد ہی نہ تھی۔ اس کارروائی کے بعد مسعود کوسعودی عربیہ میں ایک کمپنی میں ملازمت مل گئی تو وہ وہاں چلے گئے۔ طلاق کی کارروائی دوبارہ برقرار رکھی گئی کیونکہ اب مسعود مجھے پھرسے اپنانے پر راضی نہ تھے۔
دو سال گزر گئے سب کو یقین ہوگیا کہ منظور جنگ کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں لیکن ایک دن جبکہ میں اسکول میں پڑھانے جارہی تھی، منظور اچانک آگئے۔ میں انہیں زندہ دیکھ کر حیران تھی۔ خوش بھی تھی مگر خوفزدہ بھی کہ اب بچے کے بارے میں کیا حکمت عملی اپنائوں گی، جبکہ مسعود اور اس کے گھر والے اس کو اپنا مان چکے تھے۔
میں نے منظور پر تمام صورت حال واضح کردی اور گلہ بھی کیا کہ آپ نے شادی کو راز میں رکھنے پر مجھے سختی سے مجبور کیا تھا۔ اگر آپ ایسا نہ کرتے تو میری والدہ مسعود کے سامنے التجا کرکے انہیں مدد کے لئے نہ کہتیں۔ اب آپ ان لوگوں سے یہ کہیں گے کہ یہ آپ کا وارث نہیں ہے بلکہ مسعود کا نور نظر ہے۔ منظور نے بتایا کہ میں جنگ کا ایندھن نہیں بنا تھا بلکہ مجھے وہاں دشمن نے قید کرلیا تھا۔ اب کسی طور جنگی قیدیوں میں سے کچھ کو رہائی ملی ہے۔ وہاں ہمیں لکھنے یا گھروالوں سے رابطہ کرنے کی سہولت نہ تھی اور میرے جس دوست نے میرے گھروالوں کو وفات کی اطلاع دی تھی اسے کسی نے غلط بتایا تھا کہ میں جنگ میں کام آگیا ہوں، حالانکہ میں زخمی ہوا تھا، زندگی تھی کہ بچ گیا۔
منظور کی اب بھی وہی کیفیت تھی کہ وہ پہلی بیوی اور بچوں پر ہرگز اس امر کو آشکار کرنا نہ چاہتا تھا کہ میری اور اس کی شادی کی بات عام ہو… امی کو بھی اس نے منالیا کہ مناسب موقع آجانے دیجئے ورنہ یہ لوگ مجھ پر دبائو ڈال کر فریحہ کی طلاق کروا دیں گے۔ فیروز کے بارے میں اسے پریشانی تو ہوئی پھر جانے کیا سوچ کر خاموش ہورہا۔ کیونکہ اس کے غیرحقیقی ددھیال والے اس کے ساتھ پیارکرتے تھے۔ اسے ہفتے میں ایک دو دن کے لئے میری سابقہ ساس گھر لے جاتی تھیں بچہ ان سے بہت مانوس تھا۔
منظور کا خیال تھا کہ اتنے سال بعد بچے کی ولدیت کا دعوے دار ہوا یا اس کا نام تبدیل کرایا تب بھی رسوائی ہوگی۔ لوگ بچے کو بھی احسن نظروں سے نہ دیکھیں گے کیونکہ ہماری شادی ابھی تک تسلیم شدہ نہ تھی۔ راز راز ہی رہ گیا۔ منظور نے برادری میں اپنی کورٹ میرج کا ذکر نہ کیا۔ اب فیروز اسکول جانے لگا تھا۔ مسعود بھی سعودی عربیہ سے لوٹ آئے۔ وہ کافی کچھ کما کر لائے تھے۔ ان کی والدہ کا اصرار بڑھنے لگا کہ پوتا معاہدے کی رو سے اب ان کے حوالے ہونا چاہئے۔ فیروز انہی لوگوں کو اپنا سب کچھ سمجھتا تھا جو اسے محبت، پیار، کھلونے اور تحفے لے کر دیتے تھے۔ وہ مجھ سے زیادہ انہیں چاہتا تھا۔
مسعود کی والدہ، والد اس کی بہنیں بھائی سبھی کی آنکھوں کا تارا بن چکا تھا۔ میں منع کرتی کہ اب زیادہ ادھرجانے کی ضد مت کرو تو وہ جھگڑ پڑتا کہ ماں کیوں نہ جائوں خون کا رشتہ ہے۔ مسعود تو بہت عرصے ملک سے باہر رہے تھے۔ واپس آگئے تو انہوں نے بھی فیروز سے محبت بھرے سلوک کا اظہار کیا۔ اور اس پر ظاہر نہیں ہونے دیا کہ وہ ان کا بیٹا نہیں ہے لیکن عجب بات ہوئی کہ جب فیروز بارہ سال کا ہوگیا تو منظور کی پہلی بیوی رضائے الٰہی سے وفات پا گئی۔
اب منظور نے کہا کہ میں اپنی اور تمہاری شادی کا راز کھولتا ہوں اور تمہیں اپنے گھرلے جاتا ہوں کیونکہ میری بچیوں کو ماں کی ضرورت ہے اور میں اب مسعود سے بھی اپنا بچہ واپس لے لوں گا۔ لیکن بچے کا کیا ہوگا میرے بیٹے کو بہت صدمہ ہوگا اور وہ تمہیں ہرگز قبول نہ کرے گا۔ ابھی تو تم اس کے ٹیوٹر بن کر سامنے آتے ہو اور وہ تمہیں اپنا ٹیچرہی سمجھتا ہے، جب ایسی بات کہو گے تو صدمے میں آجائے گا ممکن ہے تم سے نفرت کرنے لگے اور گھر میں تمہارا آنا بھی برداشت نہ کرے۔ اب تم ٹیوشن پڑھانے کے بہانے آتے ہو اور اکثر اس کے سو جانے کے بعد رہ بھی جاتے ہو۔ پھر یہ مسئلہ فساد بنے گا۔ کیونکہ وہ مسعود اور ان کے گھروالوں کے پاس جانے سے رکنے والا نہیں ہے۔ منظور نے میری بات نہ مانی اور ایک روز مسعود سے خود رابطہ کرلیا۔ اس سے ملے اور خوب روئے۔
میرا اور تمہارا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ میں نے فریحہ کو طلاق دی اس نے پھر تم سے شادی کی۔ میں خالہ کوروتا نہ دیکھ سکا اور تمہیں مرحوم سمجھ کر اس بچے کی سرپرستی قبول کرلی۔ اب معاملہ فیروز کا ہے، میں اسے صدمے سے دوچار نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی اپنے والدین کو جو اسے اپنا وارث اپنا سب کچھ سمجھتے ہیں۔ اگر تمہیں اتنی ہی تکلیف ہے تو لکھوا دو بچے کے نام کے آگے اپنا نام۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں کیونکہ کورٹ میرج کے پیپرز تمہارے پاس ہیں، تمہارے دعوے کو کون جھٹلا سکتا ہے۔ مسعود نے کہا۔ کچھ سوچ کر منظور واپس آگئے۔ مجھے کہنے لگے کہ بیٹے کو ہم انہی کے پاس رہنے دیتے ہیں مسعود نیک شخص ہے مگر اس کے ماں باپ بہن بھائی ضرور مسئلہ کھڑا کریں گے، تب بھی ہماری اور ہمارے بچے کی خواری ہوگی، لہٰذا فیروزکو صدمہ نہیں پہنچانا چاہئے۔
مسعود کے سعودی عربیہ سے آجانے کے بعد اس کے والدین فیروز کو لے جانے کا تقاضا کرنے لگے۔ مجبور ہوکر میں نے اسے ان لوگوں کو لے جانے دیا کہ خود فیروز یہی چاہتا تھا۔
بیٹے کی جدائی مجھے شاق گزرنے لگی اور منظور نے بھی مجھ سے نکاح کا راز کھول دیا۔ مسعود کے والدین نے فیروز کو ہمارے گھر آنے سے روک دیا۔ میں بیٹے کی جدائی برداشت کرلیتی لیکن فیروز کو کبھی صدمہ نہ پہنچاتی۔ تاہم اسے اس عورت نے ایک روز بتادیا کہ جس کے گھر اس کا جنم ہوا تھا کہ تم مسعود کے بیٹے نہیں بلکہ منظور کے بیٹے ہو جسے تم اپنا ٹیوٹر سمجھتے ہو اور ٹیوشن پڑھتے ہو… یہ خوفناک بات سن کر میرے بچے کا رنگ فق ہوگیا۔ تمہاری ماں نہ جانے کیوں اخلاقی جرأت سے کام نہیں لیتی… اور اپنی جھوٹی عزت بچانے کی خاطر تمہیں سگے باپ کی شفقت اور وراثت سے محروم کر رکھا ہے۔
یہ انکشاف نہ تھا میرے معصوم بچے پر اس سفاک عورت نے بم گرا دیا تھا۔ وہ ذہنی طور پر بہت زیادہ ڈسٹرب ہوگیا۔ ادھر اب میں منظور کے گھر آباد ہونے پر مجبور تھی کہ اس نے برادری والوں کو اپنے اور میرے نکاح سے باخبر کردیا تھا۔ میری جو دلی کیفیت اپنے بیٹے کو روتے دیکھ کر ہوئی وہ بیان سے باہر ہے، وہ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوگیا تھا۔ میرا جی چاہتا تھا کہ اس سے معافی مانگوں اسے گلے لگائوں مگروہ مجھے پرے دھکیل دیتا تھا۔ اس نے کہا میرا کیا قصور ہے، کیا اب جاکر اپنے سوتیلے باپ اور دادا، دادی سے یہ کہوں کہ میں تمہارا کچھ نہیں… بارہ تیرہ سال کے اس پیار کو کیسے بھلا دوں جو انہوں نے مجھے اپنی اولاد سمجھ کر دیا ہے۔
فیروز مجھے چھوڑ کر دوبارہ مسعود کے گھر چلا گیا مگر وہاں بھی اسے چین نہ ملا وہ بیمار پڑ گیا۔ بالآخر اس نے فیصلہ کیا کہ مسعود کا بیٹا ہی بن کر رہے گا۔ اور جن لوگوں نے محبت دی جن کو دادا، دادی، پھپھو، تایا، چچا کے رشتوں سے پکارتا ہے ان کی محبت نہیں ٹھکرائے گا۔ فیروز نے مجھے فون کر کے آگاہ کیا کہ وہ اب کبھی میرے پاس نہیں آئے گا، میں اسے بھلا دوں۔ اس نے کہا جس شخص نے اتنے سال جدائی میں گزار دئیے۔ اسے کہو کہ اب بھی مجھ سے دوررہے کیونکہ میں پپا (مسعود) اور ان کے گھروالوں کو نہیں چھوڑنا چاہتا، جو مجھے اپنا کہہ کر سینے سے لگاتے ہیں۔ بالآخر میں نے اور منظور نے مسعود اور ان کے گھر والوں کے احسان کا بدلہ انہیں اپنا بیٹا دے کر اتار دیا کیونکہ فیروز کی خوشی اسی میں تھی۔ اس نے مجھ سے ملنا ترک کیا اور میں نے دل پر صبر کا پتھر رکھ لیا۔ (ف… ملتان)

Latest Posts

Related POSTS