Monday, July 4, 2022

Es Dosti Per Naaz Hai

الوشہ میرے چچا کی بیٹی تھی۔ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولادتھی۔ بہت حسین اور ہنس مکھ……. جب گیارہ برس کی ہوئی تب اللہ تعالی نے اس کو ایک پیارا سا بھائی عطا کیا۔۔۔۔۔ جس دن فیصل پیدا ہوا، الوشہ کی خوشی دیکھنے والی تھی ، وہ تو پھولے نہیں سماتی تھی۔
جو بچہ عرصہ تک گھر میں تنہا رہے اور کوئی ساتھی نہ ہو، اس کو اپنے ہم عمروں کے ساتھ کھیلنے کی بڑی حسرت ہوتی ہے۔ الوشہ کی پرورش میں چچا اورچاچی نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا تھا تاہم چھوٹے بہن بھائی کی کمی نے اس کو محرومی کا شکار کر دیا۔
جب فیصل آیا گویا ان کے گھر میں بہارنو نے قدم رکھا، اب گھر کی خوشیاں دوبالا ہوئیں ۔ الوشہ اپنے ننھے منے بھائی سے بے حد پیار کرتی تھی۔ ہر وقت اس کو گود میں لئے رہتی تھی۔ اس کے بچپن تک ہم ان لوگوں کے ساتھ رہے، لہذا پل پل کی خبرتھی لیکن جب ابو نے انگلینڈ شفٹ ہونے کا سوچا تو جدائی کے خیال سے میں بہت افسردہ ہوئی ۔ ایک میں ہی اس کی واحد سہیلی تھی۔
ہم انگلینڈ میں بیس برس رہے اور جب اتنی مدت بعد میں اپنی اس کزن سے ملی تو وہ بالکل بدل چکی تھی۔ میں نے حیرت سے کہا۔
الوشہ تم وہ نہیں لگتی ہو جیسا میں نے چھوڑا تھا۔ آخرایسے کیا تغیرات زمانہ رہے کہ وقت نے تم کو اتنا بدل ڈالا ہے۔ اس نے جو بتایا۔ اب اس کی زبانی سنئیے۔
رفیعہ….. تم جانتی ہو کہ ابو مجھ سے کتنا پیار کرتے تھے۔ وہ لاڈ پیار کے ساتھ ساتھ یہ بھی چاہتے تھے کہ میں پڑھوں لکھوں جبکہ ان دنوں لڑکیوں کے لئے پڑھائی کو ہمارے خاندان میں غیر ضروری سمجھا جا تا تھا۔
جن دنوں میں چھٹی کلاس میں تھی۔ تم ہی میری واحد دوست تھیں۔ جب تم چلی گئیں، میں بہت اداس رہتی تھی۔ کلاس کی لڑکیاں عجیب تھیں ۔وہ میرے مزاج کی نہ تھیں۔ مجھے ایک بھی سمجھ نہ سکی۔ تبھی میں نے اپنی کلاس کے لڑکوں سے دوستی کر لی۔ یہ دونوں مجھ کو سمجھتے تھے۔ میری ان کے ساتھ خوب بنی۔ ایک کا نام امجد تھا اور دوسرا ساجد تھا جو میری خالہ کا بیٹا تھا۔
بی اے تک ہم نے ساتھ پڑھا۔ ان کے ہوتے پھر مجھ کو کسی دوست کی ضرورت نہ رہی۔ بغیر اس حقیقت کو سمجھے کہ میں لڑکی ہوں اور وہ لڑکے ہیں- بطور اچھے انسانوں کے ہماری خوب نبھتی تھی چونکہ وہ اچھے اطوار کے مالک تھے۔ امی ابو نے بھی کوئی اعتراض نہ کیا جب چاہتے مجھ سے ملنے گھر آجاتے۔ والدین نے روک ٹوک بھی نہ کی ، وہ جانتے تھے کہ میرے یہ دونوں دوست بہت اچھے کردار کے مالک ہیں۔
جب بی اے کے پرچے ہو رہے تھے۔۔۔۔ اصغر انکل لندن سے آۓ اور اپنے بیٹے رمیز کے لئے میرا رشتہ مانگ لیا۔ مجھ سے امی نے پوچھا – جیسی آپ لوگوں کی مرضی ….. میں نے جواب دیا کیونکہ دوستی اپنی جگہ لیکن میرے دل میں کسی کی محبت نہیں تھی ،اسلئے کہیں بھی شادی میرے لئے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ یوں بھی میں والدین کی مرضی سے شادی کرنا چاہتی تھی تا کہ عمر بھر ان کی دعائیں میرے ساتھ رہیں۔
بی اے کے امتحان ختم ہو گئے تو ایک ماہ بعد ہی میری منگنی کی تیاریاں ہونے لگیں۔ اصغر انکل ابو کے بچپن کے دوست تھے، لہذا انہوں نے ان کے بیٹے رمیز کو دیکھا تک نہیں اور میری منگنی دھوم دھام سے کر دی۔
منگنی میں خاندان کے لوگ ، رشتے دار اور ابو کے دوست، ملنے والے بھی مدعو تھے لیکن میں نے صرف امجد اور ساجد کو بلایا تھا، ان کے سوا میرا کوئی اور دوست تھا تو وہ تم تھیں لیکن تم بہت دورتھیں ۔ میں اپنی منگنی کے دن خوشی تھی۔ سامنے رمیز کی تصویر رکھی ہوئی تھی ۔ وہ تصویر میں خوبصورت لگ رہا تھا اور بہت دلفریبی سے مسکرا رہا تھا۔ اس کے والدین موجود تھے مگر اس کو چھٹی نہ ملی تھی، لہذا وہ لندن میں تھا۔ میں بار بار رمیز کی تصویر کی طرف دیکھتی تھی اور مسکرا دیتی تھی ۔ سوچتی تھی تصویر اتنی دلکش ہے، خود جانے کتنا دلکش ہوگا۔
اس روز میں خوش تھی لیکن مجھے جلد ہی احساس ہو گیا کہ میری اس خوشی کو میرے دونوں دوست پوری طرح شیئر نہیں کر رہے، وہ خوش نہیں لگ رہے تھے۔ امجد اور ساجد کے چہرے پر اداس مسکراہٹ تھی۔ صاف ظاہر ہورہا تھا کہ اس پر مسرت موقع پر غمزدہ وافسردہ ہیں۔ مجھے انہیں دیکھ کر بے حد غصہ آیا کہ یہ کیوں خوش نہیں ہیں ۔ اگر ان کو میری خوشیوں کا خیال نہیں تو کم از کم زمانے کے لئے ہی دل کھول کر ہنسیں تا کہ کسی کو یہ احساس نہ ہو کہ ان کو میری منگنی شاق گزررہی ہے۔
بھری محفل میں دو چار بار میں نے ان کو شکایتی نظروں سے ضرور دیکھا لیکن اپنا موڑ خراب نہیں کیا کیونکہ محفل میں آۓ باقی مہمانوں کا بھی مجھ کو پاس تھا۔ خیر یہ تقریب احسن طریقے سے تمام ہوگئی، بعد میں میں نے اپنے دونوں دوستوں کی کھنچائی کی کہ تم لوگوں نے ایسا موڈ کیوں بناۓ رکھا تھا جیسے میری میت پر آۓ ہو۔ وہ چپ رہے شاید ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہ تھا۔
اب گھر میں شادی کی تیاریاں ہونے لگیں کیونکہ دو ماہ بعد شادی کی تاریخ رکھ دی گئی تھی۔ امی اور میرے روزانہ بازار کے چکر لگ رہے تھے۔ وقت کم تھا اور کام بہت تھے۔ ہم اپنی خوشی میں مگن تھے کہ وقت تیزی سے گزرتا جارہا تھا اور ٹائم گزرنے کا احساس بھی نہ ہورہا تھا۔
جب شادی میں ایک ہفتہ رہ گیا۔ اچانک ایک روز فون کی گھنٹی بجی۔ میں قریب تھی لہذا فون اٹھالیا پوچھا کہ آپ کون ہیں، جواب ملا، بیٹی الوشہ میں آپ کا انکل اصغر بول رہا ہوں لندن سے… آپ کے ابو کہاں ہیں؟ میں نے کہا وہ اپنے کمرے میں ہیں۔ آپ ہولڈ کریں ابھی ان کو بلاتی ہوں۔ میں نے ابو کو بلایا۔ انہوں نے فون اٹھایا۔ میں دوسرے کمرے سے فون سن رہی تھی ۔ انکل کہہ رہے تھے۔ یارسعید میں تم سے اور بیٹی الوشہ سے بہت شرمندہ ہوں کیونکہ میرے بیٹے رمیز نے شادی سے انکار کر دیا ہے، وہ یہاں ہی کسی لڑکی کے ساتھ اپنی پسند سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ یہ کہہ کر انہوں نے فون بند کر دیا۔
میری شادی کے کارڈ تقسیم ہو چکے تھے ، سب کو پتہ چل چکا تھا کہ میری شادی رمیز سے ہورہی ہے۔ ابو کے دل پر تو قیامت گزرگئی اور وہ فون رکھتے ہی نیچے گر گئے ۔ امی اور میں فورا ان کو لے کر اسپتال بھاگے۔ ڈاکٹروں نے بہت جدوجہد کی۔ ابوزندہ تو بچ گئے مگر نئی زندگی ان کو ادھوری ملی ۔ ان کو فالج کا اٹیک ہو گیا تھا۔

ڈاکٹر زبیر نے جی جان سے ابو کی دیکھ بھال کی۔ وہ ہمارے فیملی ڈاکٹر بھی تھے۔ جب امجد کو خبر ملی وہ فورا ابوکو پوچھنے گھر آیا۔ تب اس کو پتہ چلا کہ میرے باپ پر کیا قیامت گزری ہے۔ شادی میں دودن باقی تھے ۔ کارڈ بٹ چکے تھے۔ ابو کہہ رہے تھے کہ سب کو اطلاع کر دو کہ شادی ملتوی ہوگئی ہے لیکن امجد نے کہا۔ انکل اگر آپ برا نہ مانیں ایک بات کہوں …. ضرور کہو۔ بابا جان نے جواب دیا۔
کچھ ہچکچاتے ہوۓ وہ گویا ہوا۔ انکل میں کالج کے زمانے سے الوشہ کو پسند کرتا ہوں۔ میرے انکل اور آنٹی چاہتے تھے کہ تعلیم مکمل ہوتو وہ رشتے کی بات کرنے آئیں مگر یہ تقدیر تھی کہ ہمارے درخواست کرنے سے قبل ہی آپ نے الوشہ کی قسمت کا فیصلہ کر دیا۔ ابو کے چہرے پر ایک اطمینان بخش مسکراہٹ آگئی۔ انہوں نے اشارے سے امجد کو اپنے بہت قریب کیا اور سر پر ہاتھ رکھا ، بولے مجھے منظور ہے۔ کارڈ بٹ گئے ہیں، اگر اتنی جلد تیاری ہوسکتی ہے تو پھر شادی ملتوی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، صرف دولہا کا نام تبدیل کرنا ہوگا۔
امجد کو میرے والد صاحب بچپن سے جانتے تھے کیونکہ اسکے انکل بھی ابو کے بہت اچھے دوست تھے۔ امجد خود ایک سمجھدار لائق اور ذمہ دارلڑکا تھا۔ اس کے چچا نے پالا پوسا تھا ۔ والدین عرصہ پہلے ایک حادثے میں گزر گئے تھے۔ وہ اپنے چچا کے ساتھ ان کے کاروبار میں شریک ہوگیا تھا اور بہت محنت سے بزنس کو سنبھال رہا تھا۔ امجد کا بچپن ابو کے سامنے گزرا تھا۔ گھر بھی زیادہ دور نہ تھا۔ میری اسکے ساتھ بچپن کی دوستی تھی ….. تبھی والد صاحب نے فورا حامی بھر لی۔ لہذا شادی کی تیاریاں جو رمیز کے لئے ہو رہی تھیں، اب ان کا رخ امجد کی طرف ہو گیا۔ یوں وقت مقررہ پر میں دلہن اور رمیز کی بجاۓ امجد دولہا بن گیا۔
یہ سب تقدیر کے کھیل ہوتے ہیں، میں اب بھی خوش تھی جس دوست کی طرف دھیان نہ دیا تھا که یہ بھي جیون ساتھی ہوسکتا ہے، وہ اب میرا جیون ساتھی تھا۔
شادی کے بعد مجھے رمیز کے کھو جانے کا کوئی افسوس نہ ہوا کہ میں اس سے کبھی ملی تک بھی ۔ تاہم امجد مجھے پا کر نہال تھے۔ لگتا تھا دنیا جہان کی دولت ان کومل گئی ہے۔ اب کالج کی باتیں یاد آتیں۔ اکثر کہتے تھے۔ سنوالوشہ، ایک لڑکی ہے جو بہت خوبصورت ہے ، مجھے کو دل و جان سے پسند ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ مجھ کو اس کی تعریف کیلئے الفاظ نہیں ملتے۔ ایسا ہے کہ میں تم کو اس کا حلیہ بتا دیتا ہوں …… بڑی بڑی آنکھیں اور کھڑی ناک ، گلابی رنگت اور قد کاٹھ بے مثال…… بس یہ کہنا چاہئے حور ہے۔ تم جیسی بدشکل نہیں ہے اگر جلو نہیں تو اس سے میری شادی کرا دو۔ اس بات پر میں بگڑ جاتی کہ جاؤ میں نہیں ملتی تیری اس حور سے ۔ تم نے مجھے کیوں بدشکل کہا۔
اب امجد کہتے۔ تم ہی وہ حورتھیں جو مجھے مل گئیں ۔ خدا کا جتنا بھی شکر کروں، کم ہے ۔ جتنی وہ میری خوبصورتی کی تعریف کرتے تھے خود وہ اس سے کہیں زیادہ خوبصورت تھے۔ گورے چٹے لمبے چوڑے، سرخ وسفید۔ لوگ ہم کو دیکھ کر خوش ہوتے کہ کیسی مثالی جوڑی ہے- ایک سال شادی کا ہنسی خوشی یوں گزر گیا کہ پتہ ہی نہ چلا اور پھر شادی کی سالگرہ آ گئی، انہوں نے مجھے ڈنر پر لے جانے کا وعدہ کیا تھا، میں تیار ہوگئی۔ کہنے لگے آج بہت اچھی لگ رہی ہو، بالکل پہلے دن کی دلہن کی طرح۔ وہ مجھے ہوٹل لے گئے جہاں ساجد پہلے سے موجود تھے۔ الوشہ تم کو سرپرائز دینا چاہتا تھا۔ تو یہ رہا، وہ سرپرائز ۔ میں نے ساجد کو مدعو کر لیا تھا تم کو بتائے بغیر تا که دوست کو اچانک دیکھ کر زیادہ خوشی ہو۔ ساجد کو دیکھ کر میں خوش بھی ہوئی اور حیران بھی…..کیونکہ میری شادی پر ساجد آیا اور نہ بعد میں ملا۔ میں اکثر اس کو یاد کرتی مگر ساجد نے مصروفیت کا بہانہ بنا لیا تھا۔ آج جانے کیسے امجد کے اصرار پر آ گیا تھا۔ وہ میرے لئے تحفہ بھی لایا تھا۔
میں نے کہا۔ ساجد کہاں گئے ہوۓ تھے کہ پھر نہیں آئے اور میں تم سے ناراض ہوں ۔ اس لئے تحفہ نہ لوں گی ۔ بولا ، گاؤں چلا گیا تھا۔اماں بیمارتھیں نا….. چھوٹی بہن کی شادی کرنی تھی بس انہی چکروں میں پھنسا رہا۔ خالہ جان اب کیسی ہیں اور کیا ہوگئی گڑیا کی شادی …..؟ میں نے پوچھا۔ ہاں ہوگئی….. اماں بھی ٹھیک ہیں اور تم کو بہت یادکرتی ہیں۔ اب گاؤں جاؤ تو ان کو ضرور لے کر آنا ، میں نے وعدہ لیا۔ ڈنر کے بعد ہم لوگ گھومتے رہے۔ اور جب تھک گئے تو ساجد کو خدا حافظ کہا اور گھر آگئے ۔ صبح ناشتہ کیا اور پھر گفٹ کھولا ۔ بالکل ویسی ہی ساڑھی تھی جیسی امجد میرے لئے لاۓ تھے۔ میں حیران رہ گئی اور بولی ۔ امجد ہے نا کتنی عجیب بات کر تم دونوں کی پسند ایک ہی ہے کہ ایسی ہی ساڑھی تم بھی لائے ہو۔ بولے ۔ ہاں واقعی ہماری پسند ایک ہے۔
میرے شریک زندگی اپنے آفس چلے گئے ۔ ان کو گئے ابھی تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ فون آیا۔ آفس کے پاس ایک بلڈنگ میں بم دھماکا ہوگیا ہے اور۔۔۔۔۔۔ پر….. میری دنیا اجڑ گئی ، اس دھماکے کی زد میں میرا سہاگ بھی آ گیا اور ہم ان کی لاش بھی نہ پاسکے۔ لوگ ان کے جسم کے ٹکڑے ڈھونڈتے رہ گئے ۔اس بدنصیبی کی میں متحمل نہ ہوسکی تھی ۔ خبر سنتے ہی بے ہوش ہوگئی۔ ساجد آیا اور میں اسپتال میں بے ہوش پڑی تھی۔ بڑی مشکل سے ہوش دلایا گیا۔ مگر مجھ پر سکتہ طاری تھا۔ امی ابو رلانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن
میری آنکھ میں ایک بھی آ نسونہیں تھا۔ ساجد مجھ سے باتیں کرنے لگا۔ اسکول اور کالج کے زمانے کی باتیں، امجد کی کہی ہوئی باتیں ۔۔۔ تبھی یکدم میں رونے لگی ۔اب آنسو مسلسل میری آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔
ادھر ابو کی طبیعت زیادہ خراب ہوگئی اور وہ بھی اسپتال میں داخل کرا دیئے گئے ۔ پھر ایک ہفتہ میں ہی وہ اپنے خالق حقیقی کے پاس چلے گئے کہ میری بیوگی کا صدمہ نہیں سہہ سکے۔

ساجد نے مجھے اور امی کو سنبھالا ۔ میرا علاج کرایا۔ تندہی سے میری عیادت کرتے رہے۔ میں کھاتی تھی اور نہ کچھ پیتی تھی ،ہنستی بولتی بھی نہ تھی اور اب روتی بھی نہ تھی۔ جب ابو کو لے جا رہے تھےمجھے چہرہ دکھایا گیا تب میں زور زور سے رونے لگی۔ ایک دکھ کیا کم تھا کہ ابو کا زخم بھی جگر پر خنجر کی طرح لگا یہ ایسے وقت میں اگر ساجد سہارا نہ بنتے تو میں اور امی غم سے پاگل ہو جاتے۔
امجد اور ابو کے چلے جانے سے ہم بہت تنہا ہوگئے تھے۔ چپ چپ رہنے لکی تبھی گاؤں سے خالہ آگئیں اور ہمارے گھر رہنے لگیں۔ تھوڑے سے جو اختلافات تھے، ان حادثات پر وہ ختم ہو گئے ۔اب وہ ساجد کا گھر بسانا چاہتی تھیں ساتھ ہی میرا اور اپنی بہن کا دکھ بھی بانٹنا چاہتی تھیں لیکن اپنے دل کی بات کہنے سے ڈرتی تھیں ۔ بالآخر ساجد نے امی سے ذکر کیا۔ امی نے مجھ سے بات کی۔ میں نے انکار کر دیا مگر خالہ اور امی نے رات دن مجھ کو سمجھانا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ امی نے کہا۔ اگر تم حامی نہ بھروگی تو میں زبردستی تیری شادی ساجد سے کرادوں گی ۔ تمہارے بھائی کو اس دنیا میں بھائی کا سہارا چاہئے اور مجھے بیٹے کا۔ ساجد سے بڑھ کر ہمارا اور کوئی اپنا اور مخلص نہ ہوگا۔ آخر کار مجھے ہاں کہنی پڑی کہ ان دنوں میرا چھوٹا بھائی ملک سے باہر تھا۔
ایک بار پھر مجھے دلہن بننا پڑا۔ ساجد کے جذبات کی پاسداری کے لئے ۔ میں نے سنگھار بھی کیا۔ بنی سنوری اور دلہن بنی ۔ لیکن میں امجد کو نہیں بھلا پا رہی تھی۔ میں نے بہت کوشش کی کہ ساجد کوخوش رکھوں کیونکہ وہ بھی مجھ سے اتنی ہی محبت کر تے تھے جتنی کہ امجد نے کی تھی۔ دونوں کی ایک ہی پسند تھی اور وہ میں تھی لیکن دونوں با حوصلہ، باکردار اور وضع دار تھے کہ انہوں نے بھی اپنے جذبات کا مجھ سے شادی سے قبل اظہار نہیں کیا تھا۔
ساجد نے میرا بہت خیال رکھا۔ یہاں تک کہ ایک بار پھر مجھ کواپنی محبت کی طاقت سے زندہ کر دیا۔ پہلے میں خود کو ساجد کے ہوتے بھی اکیلا محسوس کرتی تھی اور چپ چپ رہتی تھی ۔ رفتہ رفتہ خالہ جان اور ان کے اس لائق بیٹے کی محبت پا کر پہلے جیسی الوشہ ہوگئی ۔
چند دن خوشی کے دیکھ کر امی بیمار پڑ گئیں، کافی علاج ہوا۔ آخر کار کینسر کی بیماری تشخیص ہوئی ۔ایک بار پھر غم کے پہاڑ نے مجھ سے ٹکرانا تھا۔ خالہ اور ساجد نہ ہوتے تو میں امی سے پہلے مرگئی ہوتی۔ شکر ہے کہ وہ میرے ساتھ تھے تو میں اس قیامت کو بھی سہہ گئی۔ امی جان کا دو سال علاج ہوا۔ جان لیوا حالات تھے ان کی آخری دنوں کی تکلیف دیکھی نہ جاتی تھی۔ آخر کار وہ گھڑی آ پہنچی اور امی ختم ہوگئیں۔ ان دنوں فیصل لندن میں تھا۔ وہ امی کا آخری دیدار نہ کر سکا کہ یہ پردیس بری بلا ہے۔ اپنے صورت دیکھنے کو ترستے رہ جاتے ہیں اور پھر بغیر دیدار اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔
آج میں اور ساجد خوش و خرم زندگی گزارر ہے ہیں ۔ خالہ جان ماں کی طرح ہیں۔ ان کے ہوتے امی کا غم آدھا رہ گیا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ وہ صرف ساس نہیں خالہ اور ماں بھی ہیں ورنہ میں کیا کرتی ؟ میرے تین بچے ہیں ۔ رفعیہ تم جانتی ہو کہ بچے خدا کی کتنی بڑی نعمت ہوتے ہیں۔ اگر یہ نہ ہوں تو جینے کی امنگ بھی نہ رہے۔ اگر بچے نہ ہوں تو اس دنیا کی خوبصورتی بھی نہ ہو۔ لگتا ہے اس دنیا کو اللہ تعالی نے پیارے پیارے بچوں ہی کی خاطر تخلیق کیا ہے۔ ان کے ہوتے اب مجھے کوئی غم نہیں ہے۔ دعا کرتی ہوں، خدا ان کو لائق کرے اور اچھا انسان بنائے-

Latest Posts

Related POSTS