Facebook, Twitter Aur Bangi Baba

87
مرد حضرات کے چہروں پر بھی ہوائیاں اُڑ رہی تھیں، باس سے تازہ تازہ ڈانٹ پڑی تھی۔ فیس بک نے پالیسی بدل دی تھی، سوشل میڈیا میں اچانک تبدیلی کے باعث نیوز چینل کی ویب سائٹ کا ٹریفک پڑوسی ملک بھارت کی سوچ کی طرح دن بہ دن گرتا جارہا تھا۔
ڈانٹ سننے کے بعد دماغ کوآرام دینے کی اشد ضرورت تھی۔ تاکہ ٹریفک کو بہتر بنانے کیلئے مستقبل کی حکمت عملی پلان کی جاسکے۔
ذہن کو ری فریش کرنے کیلئے ہم جیسے مفلوک الحال ملازموں کی پہلی ترجیح اشرف المشروبات یعنی چائے ہوتی ہے۔ اب پلاننگ کیلئے ایک عدد ساتھی کی ضرورت محسوس ہوئی کہ مشورہ کرنے سے ہی بہترین نتائج حاصل ہوتے ہیں۔
ویسے تو بحیثیت عاقل انسان مجھے ستاروں کی چال جیسی بکواسیات پر بالکل یقین نہیں، لیکن شاید اس وقت میرے ستارے گردش میں نہیں رقص کی محفل میں تھے کہ میں نے مشورے کیلئے اس شخص کا انتخاب کیا جس کی زبان نائی کی قینچی اور ‘سینٹر فریش’ ٹافی کے اشتہار میں لپلپانے والی زبان سے زیادہ تیز چلتی ہے۔
موصوف کا شانہ تھپتھپایا، چائے بریک کا مخصوص اشارہ کیا اور دونوں پٹھان کے ہوٹل کی جانب چل پڑے، پہنچ کر دو کٹ کا آرڈر دیا، ویب سائٹ کا ٹریفک، فیس بُک لائکس اور شئیرز میں کمی کی گمبھیر صورت حال پر سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ مختلف آئیڈ یاز پر سوچ بچار کی گئی۔ کچھ سمجھ نہ آیا۔
چسکیوں کی سُرر سُرر کے ساتھ مباحثہ و مشورہ جاری تھا، لیکن نتائج غیر مطمئن تھے۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ اب اگر آپ شہر قائد کے باسی ہیں تو آپ اس افواہ سے بھی واقف ہوں گے کہ پٹھان چائے میں افیم ملاتے ہیں تاکہ کسٹمرز کو لت میں مبتلا کرکے انہیں مستقل گاہک بنایا جاسکے۔
شاید اس فواہ میں کچھ صداقت تھی کیونکہ اس وقت مقابل بیٹھے میرے ساتھی کو وہ آئیڈیا آیا جو کسی نشے کی حالت میں ہی دیا جاسکتا ہے۔ موصوف نے پیشانی سہلاتے ہوئے لب کشائی کی اور گویا ہوئے کہ کیوں نہ ہم ویب ٹریفک اور فیس بک کی بدترین صورتحال سےنمٹنے کیلئے کسی عامل یا پیر فقیر سے رابطہ کریں۔
چھدری مونچھوں کے پیچھے نیم نمایاں زنانہ ہونٹوں سے جب یہ الفاظ سننے کو ملے تو جناب کی دماغی صحت پر شبہ گزرا۔ انہوں نے جب حیرت اور غیر یقینی کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ اپنا چہرا تکتے پایا تو سمجھے میں ان کے اس ناخلف خیال میں دلچسپی رکھتا ہوں اور پوری توجہ کے ساتھ سُن رہا ہوں۔ تو انہوں نے اپنی کسی دور کی خالہ کی بیٹی کا قصہ سنانا شروع کیا کہ کس طرح انہوں نے اپنی پسند کے لڑکے سے شادی کیلئے عامل سے رابطہ کیا اور آج ‘محبوب ان کے قدموں میں’ ہے۔
اوّل تو میں نے بحیثیت مسلمان ان کے اس خیال سے اختلاف کیا، لیکن چونکہ میرا بھی مزاج بچکانہ اور ذہنیت میں مسخری ہے اور باس کا ڈنڈا بھی سر پر منڈلاتا محسوس ہوا تو مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق سوچا کیوں نہ اس آئیڈیا پر عمل کر کے دیکھا جائے۔ کیونکہ آٹھ سے چار کی ڈیوٹی کے بعد بھی فراغت اور بوریت کے باعث دن گزارنا مشکل ہوتا ہے۔ سوچا چلو اسی بہانے اپنے ساتھی کی اصلاح بھی ہوجائے گی۔
مجھے جادو پر مکمل یقین تھا کہ یہ حقیقی ہے کیونکہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے خود اس کا ذکر کیا ہے، لیکن مجھے ان ڈھونگیوں پر یقین نہ تھا جو عوام کو دھوکہ دے کر لوٹتے ہیں۔
اس لئے فیصلہ ہوا کہ ڈیوٹی پوری کرکے کسی عالم بنگالی ٹائپ کے شخص کا رُخ کریں گے۔ چار بجے سامان سمیٹا اور دیوار پر لگے ایک عامل کے اشتہار پر لکھے پتے کی جانب نکل پڑے۔ مطلوبہ جگہ پہنچے، ایک کچی بستی تھی خستہ حال مکان کے دروازے پر پردہ پڑا تھا، اگر بتی کی تیز مہک نتھنوں میں گھس کر کان سے نکل رہی تھی، اندر اندھیرا تھا جا بجا دئے جل رہے تھے، عجیب پُراسرار سا ماحول تھا۔
ایک لُنگی بردار نیم برہنہ شخص آنکھیں بند کئے بیٹھا تھا، ہمارے اندر قدم رکھتے ہی آنکھیں بند کئے بولا ‘آؤ آؤ۔۔۔ تمہارا ہی انتظار تھا’۔ ہمارے عقل سے پیدل ساتھی فوراً مرعوب ہوگئے، جبکہ میں وہ سی سی ٹی وی دیکھ چکا تھا جو گھر کے باہر لگا ہوا تھا۔ بابا جی نے آنکھوں کو نیم وا کر کے بیٹھنے کا اشارہ کیا، منہ ہی منہ میں کچھ بدبدائے اور چاروں طرف پھونک مار کر پوری آنکھیں کھول دیں اور استفسار کیا ‘بتاؤ کیا مسئلہ ہے’۔
میں نے لب کشائی کی اور کہا کہ محترم اگر آپ کو ہمارے آنے کا پیشگی علم تھا تو یہ بھی پتا ہوگا کہ مسئلہ کیا ہے۔ اتنا سُننا تھا کہ باب کی پیلی آنکھیں لال ہوگئیں اور دھاڑ کر ہمیں گُستاخ کے لقب سے نوازا۔ مجھے کوئی فرق نہ پڑا کہ بچپن سے ہی والدین و اساتذہ سے یہ سُنتے آئے ہیں۔ البتہ ہمارے ساتھی نے معذرت طلب کی اور مسئلہ بیان کرنے لگا ۔ اس دوران میں کسی بھٹکے الّو کی طرح گردن گھما گھما کر اردگرد کا جائزہ لینے لگا۔
باباجی نے پوری بات سُنی، ایک لفظ نہ کہا، کورا کاغذ اُٹھایا، ایک پُرانے طرز کے بانس سے بنے قلم کو لال سیاہی میں ڈُبویا اور آڑی ترچھی لکیریں بنانے لگے۔ مجھ سے رہا نہ گیا فوراً بول پڑا ‘ بابا جی، زیرو بچپن سے میں لیتا ہوں اس لئے اب بھی میرا ہوگا’۔ بابا جی نے چونک کر گردن اٹھائی اور کچھ نا سمجھنے والی سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا۔ ہمارے ساتھی نے بھی چونک کر گردن گھمائی اور پوچھا ‘کیا کہہ رہے ہو؟’
بابا جی ‘کٹّم زیرو’ کھیلنا چاہتے ہیں نا ہمارے ساتھ؟ میں نے جواب میں اُلٹا سوال داغا اور بابا کی طرف دیکھا۔ بابا جی، جو کالی رنگت کے ساتھ غصے میں لال ہوکر جامنی شیڈ دے رہے تھے۔ چیخ کر بولے ‘نا سمجھ!!! ہم زائچہ نکال رہے ہیں’۔ آواز میں کچھ ایسا رعب تھا کہ میں نے مزید کچھ نہ کہنے میں ہی عافیت جانی۔
بابا جی نے زائچہ مکمل کیا، ہوا میں ہاتھ گھمانے لگے، میں نے بھی اپنی گُدّی پر ہاتھ مارا اور بابا سے پوچھ بیٹھا آپ کو بھی مچھر تنگ کررہے ہیں؟ مورٹین کی جلیبی لگا لیا کریں۔ گو کہ مشورہ مخلصانہ تھا، لیکن بابا جی کے تلووں سے لگ کر سر پر بجھی اور دھاڑ کر مجھے بھسم کرنے کی دھمکی دی۔ دوست کی التجا پر میں نے ایک بار پھر یہ سوچ کر خاموشی اختیار کرلی کہ شاید وہ اتنے قیمتی دوست سے محروم نہیں ہونا چاہتا۔
میرے چہرے پر مسکراہٹ، بابا کے چہرے پر غصہ اور میرے ساتھی کے چہرے پر خوف نمایاں تھا۔ بابا جی اب مجھ سے بالکل مخاطب نہیں تھے، انہوں نے میرے توہم پرست ہمنوا سے تکلم جاری رکھتے ہوئے کرخت لہجے میں اُسے آس دلائی کہ اس کا کام ہو جائے گا، ٹریفک آسمان کی بلندیوں کو چھوئے گا ، لاکھوں کی تعداد میں لائکس ہوں گے، لوگ چار چار بار ایک ہی چیز شئیر کریں گے اور ہم لاکھوں میں کھیلیں گے۔ لیکن اس کیلئے انہیں قبرستان میں اماوس کی رات ایک عدد چلّہ کاٹنا پڑے گا تاکہ موکل اور جنات اس کام میں ہماری مدد کرسکیں۔ جس کیلئے کچھ چیزیں درکار ہوں گی۔ بابا جی کی بتائی گئی چلّے میں استعمال ہونے والی چیزوں کی فہرست میں کانا الّو، کالی مرغی، سندور، سیاہ و سفید رنگت کی بھیڑ کا گوشت اور دیسی گھی کے دو مرتبان شامل تھے۔ ساتھ ہی 30 ہزار کی خطیر رقم کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ اگر ان چیزوں کا انتظام نہیں کرسکتے تو انہیں پچاس ہزار دے دئے جائیں وہ خود انتظام کرلیں گے۔
مجھ سے برداشت نہ ہوا اور ایک بار پھر میں قطع کلامی کرتے ہوئے بول پڑا کہ بابا جی جو سامان آپ نے مانگا ہے اس سے لگتا ہے کہ آپ چلہ نہیں بلکہ کانے اُلّوکے ہاتھوں مطلب پنجوں سندورسے کالی مُرغی کی مانگ بھروا کر اُسے رخصت کرنا چاہتے ہیں۔ مانا کہ ہمارے معاشرے میں سانولی رنگت کی لڑکیوں کے رشتے مشکل سے ملتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ گھر کی لکشمی کو کسی بھی لنگڑے، لولے، اندھے، کانے سے بیاہ دیا جائے؟
اتنا سُننا تھا کہ بابا جی کے صبر کا پیمانہ چھلک پڑا، آؤ دیکھا نہ تاؤ، پاس پڑا تانبے کا پیالہ اُٹھا کر میری طرف پھینکا، جسے میں نے ہوا میں ہی کینچ کرلیا۔ اگر میری جگہ کرکٹر عمر اکمل ہوتے تو یقیناً ان کی پیشانی پر آلو بن جانا تھا۔ بابا جی کی جارحیت دیکھ کر ہم دونوں نے ہی وہاں سے کھسکنے میں عافیت جانی اور دو چھلانگوں میں بابا کے حجرے سے باہر ہوگئے۔ پشت پر بابا کی مغلظات بھری چیخیں سنائی دے رہی تھیں۔
دوسرے دن ہم اُسی ہوٹل پر بیٹھے تھے، ویب سائٹ کا ٹریفک اب بھی ویسا ہی تھا، کچھ نہ بدلا تھا۔ لیکن مجھے اس آرٹیکل کا کنٹینٹ مل چکا تھا، جو شاید ٹریفک کو آسمان کی بلندیوں پر تو نہ پہنچائے، ہمیں لاکھوں میں نہ کھلائے، فیس بک کی بدلتی پالیسی کو ہمارے حق میں نہ کرے، لیکن ویب سائٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی میں ایک دو ہزار روپے کا اضافہ ضرور کردے گا۔
اب آتے ہیں مدعے کی بات پر۔ بنگالی بابا، پیر بابا، عامل شاید پُرانے زمانے میں کچھ مؤثر ہوتے ہوں، لیکن آج کے دور میں یہ صرف معصوم لوگوں کو دھوکہ دینے اور جھوٹی آس دلا کر پیسے بٹورنے کا زریعہ بن چکے ہیں۔ مجھے سمجھ آیا کہ ویب سائٹ کے ٹریفک کیلئے کسی عامل بنگالی کی نہیں، صرف اچھے مواد، مؤثر اسٹریٹیجی اور قارئین کو بہترین ٹائمنگ پر اسٹوری فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی عامل کا موکل بہترین لکھاری، ویب ڈیویلپر، آئی ٹی ماہر یا سوشل میڈیا ایکسپرٹ نہیں ہوتا کہ ٹریفک میں بہتری لاسکے۔
اسی طرح اگر آپ کو محبوب قدموں میں چاہئیے تو اُسے محبت سے رام کیجئے، نافرمان اولاد کی اذیت سے بچنا چاہتے ہیں تو بچپن سے ہی ان کی تربیت اچھی کریں، کاروبار اور آمدنی میں ترقی چاہتے ہیں تو محنت کریں، تجربہ کار لوگوں سے مشورہ کریں اور ایمانداری سے اللہ پر بھروسہ رکھ کر کام کریں۔ آپ مایوس نہیں ہوں گے۔ دانش مند اور تعلیم یافتہ لوگوں کی صحبت اپنائیں، اس سے عقل پر پڑے پردے اُٹھ جاتے ہیں اور روشن سوچیں اچھے آئیڈیاز میں تبدیل ہوکر آپ کو تراشتی ہیں۔ اگر لوگ ان تمام چیزوں پر عمل کرنے لگیں تو یقین کیجئے کہ ان دھوکے بازوں کا کاروبار ٹھپ ہو جائے گا ، دیواروں کو بدنما بنانے والے عاملوں کے یہ اشتہار آہستہ آہستہ ختم ہوجائیں گے۔ بس ہمیں اور آپ کو کھلے دماغ سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
SHARE