Gawahi – Last Episode

510
غفار بیگ کے چہرے پر غم کی پرچھائیاں رقصاں تھیں اس نے غمزدہ لہجے میں کہا۔ ’’چھپانے کے لئے میرے پاس کیا ہے انسپکٹر صاحب! ذلت و رسوائی میری تقدیر تھی اس سے زیادہ ذلت اور رسوائی کیا ہوسکتی ہے کہ میری شریکِ حیات نے میرے خلاف گواہی دی۔‘‘
’’میں اس کی وجہ جاننا چاہتا ہوں۔‘‘ شاہ میر نے کہا۔
٭…٭…٭
ریحانہ اور اس کے چھوٹے بھائی غفار کی عمروں میں دس سال کا فرق تھا، دونوں کی محبتیں ایک دوسرے کے لئے وقف تھیں کیونکہ ان کے درمیان اور کوئی بہن بھائی نہیں تھا۔ اچھی خوشحال زندگی تھی، چار افراد پر مشتمل اس کھاتے پیتے گھرانے کا سربراہ فیاض بیگ ایک پرائیویٹ فرم میں اچھے عہدے پر فائز تھا اور زندگی پرسکون گزر رہی تھی۔
ریحانہ نے بی اے کرلیا تو ماں باپ نے بیٹی کی شادی کے بارے میں سوچا اور رشتوں کے لئے نگاہ دوڑائی ریحانہ سادہ طبیعت کی سلیقہ شعار لڑکی تھی، خوبصورت بھی تھی، رشتے کی تلاش زیادہ نہ کرنی پڑی اور ایک اچھے دولت مند گھرانے کے لڑکے مرزا مختار بیگ کو ریحانہ کے لئے پسند کرلیا گیا۔ یہ گھرانہ ہر لحاظ سے اچھا تھا، چھوٹا سا خاندان تھا، مختار احمد کی والدہ کا انتقال ہوچکا تھا، دو بھائی اور والد تھے، چھوٹا بھائی اختیار بیگ، مختار سے آٹھ سال چھوٹا تھا، گھر داری خاندان کی ایک بیوہ خاتون نے سنبھالی ہوئی تھی۔ مختار بیگ کے والد نے اپنی زندگی میں ہی اپنی جائداد اور دولت کے دو حصے کرکے دونوں بھائیوں میں تقسیم کردیئے تھے تاکہ ان کی موت کے بعد کوئی تنازع نہ رہے۔ دونوں اپنے کاروبار الگ الگ کرتے تھے اور بڑی چاہت سے ساتھ رہتے تھے۔
ریحانہ کو اس گھر میں آکر بہت سکون ملا تھا، عزت اور محبت کرنے والے لوگ تھے۔ سسر باپ کی طرح مہربان اور شفیق، دیور اختیار بیگ بے پناہ عزت اور محبت کرنے والا، بھابی کو بڑی بہن کا درجہ دیا تھا اس نے اور سب سے اچھا مختار بیگ تھا جو بیوی پر جان دیتا تھا۔
ریحانہ کو ماں باپ کے گھر جیسا سکون ملا تھا، چنانچہ جواب میں وہ بھی ان سب کو بہت چاہتی تھی، مختار اور ریحانہ کی شادی کے ایک سال کے بعد مختار کے والد کا انتقال ہوگیا۔ اس محبت بھرے گھرانے کے لئے یہ بہت بڑا صدمہ تھا کہ ماں کی محبت سے محروم ہونے کے بعد یہ باپ کی شفقت سے بھی محروم ہوگئے تھے، اب صرف وہ بیوہ خاتون رہ گئی تھیں، جنہیں یہ سب خالہ جان کہتے تھے لیکن خالہ جان بھی کچھ عرصے کے بعد ایسی بیمار ہوئیں کہ پھر کھڑی نہ ہوسکیں۔ اس طرح یہ دونوں بزرگ رخصت ہوگئے۔ اب گھر کی بڑی صرف ریحانہ تھی، سب کچھ اسی کے شانوں پر آگیا تھا وہ اس گھر کی مالک و مختار تھی۔
اختیار بیگ بھائی سے آٹھ سال چھوٹا تھا لیکن بڑے بھائی کا فرمانبردار اور بھابی پر جان نچھاور کرنے والا ان کا گھر بہت شاندار تھا، وہ ساتھ ہی رہتے تھے لیکن جہاندیدہ باپ نے دانشمندی سے کام لے کر وہ امکانات ختم کردیئے تھے جو کبھی تنازع کا باعث بن سکتے تھے۔ گھر کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، دونوں کا کاروبار بھی الگ الگ تھا اور کوئی ایسی بات نہیں چھوڑی تھی جو کسی خلش کا باعث بن سکے۔
ریحانہ کو اب اختیار بیگ کی شادی کی فکر تھی، وہ اس کے لئے بڑی بہن کی طرح سوچتی تھی، اس نے اختیار بیگ سے بات کی لیکن وہ اس کے لئے تیار نہیں تھا۔ وہ کہتا تھا کہ وہ ابھی شادی کے چکر میں نہیں پڑنا چاہتا، ابھی وہ آزاد زندگی گزارنا چاہتا ہے۔
اختیار بیگ اپنی مرضی کا مالک تھا۔ باہر کی دنیا میں وہ کیا کرتا ہے، کس سے اس کی دوستی ہے، اس بارے میں کسی کو نہیں معلوم تھا اور نہ ہی کسی نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی تھی، سب اپنی دنیا میں مگن تھے۔ مختار بیگ کی دلی آرزو تھی کہ وہ باپ بن جائے لیکن یہ ابھی قدرت کو منظور نہیں تھا۔ ریحانہ بھی اولاد کی خواہشمند تھی، اکثر اختیار بیگ بھی بھابی سے مطالبہ کرتا تھا کہ وہ چچا بننا چاہتا ہے یہ لوگ اس سے یہ رشتہ کیوں چھینے بیٹھے ہیں۔ ایک دن مختار نے ہی کہا۔
’’ریحانہ! اب مجھے واقعی تشویش ہونے لگی ہے، چار سال سے زیادہ گزر چکے ہیں ہماری شادی کو لیکن ہم اولاد سے محروم ہیں۔ میری ایک خواہش ہے…!‘‘
’’کیا…؟‘‘
’’تم اپنا طبی معائنہ کرائو ہمارے گھر میں تو کوئی بزرگ خاتون نہیں ہیں جو اس سلسلے میں تمہاری مدد کرسکیں، تم اپنی امی کے ساتھ کسی لیڈی ڈاکٹر کے پاس چلی جائو۔‘‘
ریحانہ تیار ہوگئی۔ اس نے اپنا معائنہ کرایا، قابل لیڈی ڈاکٹر نے بتا دیا کہ اس کے اندر ماں بننے کی صلاحیت نہیں ہے۔ ریحانہ پر یہ خبر بجلی بن کر گری تھی، اس کی والدہ بھی پریشان ہوگئیں لیکن ماں نے اسے سمجھایا کہ مختار بیگ کو یہ بات کبھی نہ بتائے، ورنہ وہ دوسری شادی بھی کرسکتا ہے، اس سے کہے کہ لیڈی ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ بس جب اللہ کی مرضی ہوگی، اولاد ہوجائے گی۔
لیکن ماں بیٹی کی یہ باتیں غفار بیگ نے سن لیں، اسے بھی بہت افسوس ہوا باپ کے انتقال کے بعد وہی سب کچھ سنبھالے ہوئے تھا لیکن بڑی بہن کے اس کرب کا کوئی علاج نہیں تھا، البتہ آسمانوں سے اس کا علاج ہوگیا۔ اس دن شدید طوفانی بارش ہوئی تھی، سارا شہر جل تھل ہوگیا تھا۔ مختار بیگ اپنی گاڑی میں ڈرائیور کے ساتھ جارہا تھا کہ ایک آئل ٹینکر سے اس کی کار کا ایکسیڈنٹ ہوگیا۔
حادثہ انتہائی شدید تھا، مختار بیگ کو انتہائی نازک حال میں اسپتال میں ہوش آیا تھا، سارا گھر اس کے گرد جمع تھا لیکن اس کے ہوش و حواس قائم تھے، اس نے خواہش ظاہر کی کہ اس کے وکیل کو بلایا جائے۔ وکیل نصیرالدین شاہ سے فوری طور پر وصیت نامہ تیار کرایا گیا جس میں اس نے اپنی تمام دولت، جائداد اور کاروبار اپنی بیوی ریحانہ بیگم کے نام کردی۔ خاندانی وکیل نے پورے گواہوں کی موجودگی میں وصیت نامے کی تکمیل کردی۔
مختار بیگ اپنے کام کی تکمیل کرکے دنیا سے رخصت ہوگیا لیکن وہ ریحانہ بیگم کو ویران کرگیا۔ ان کی زندگی میں تاریکیوں کے سوا کچھ نہیں رہا۔ اختیار بیگ اور دوسرے لوگ بھی سکتے میں رہ گئے تھے لیکن کون کیا کرسکتا تھا۔ وکیل صاحب نے وصیت نامے کے مطابق مختار بیگ کے تمام اثاثے ریحانہ بیگم کے نام کردیئے جس میں مکان کا وہ حصہ بھی شامل تھا جس میں ریحانہ شوہر کے ساتھ رہتی تھی۔ ریحانہ نے عدت پوری کی اور پھر اپنی بیوہ ماں کے پاس چلی گئی، اس نے مختار بیگ کی ساری جائداد فروخت کردی۔ اختیار بیگ نے پیشکش کی کہ مکان کا وہ حصہ اس کے ہاتھ فروخت کردیا جائے تو ریحانہ تیار ہوگئی۔
اختیار بیگ کو دکھ کا احساس ہوا۔ اس کا خیال تھا کہ بھابی مکان کے اس حصے کو بخوشی اسے دے دے گی اور اس سے کچھ نہیں لے گی کیونکہ بھائی نے اپنا سب کچھ تو اسے دے دیا ہے یہ بات اسے ناگوار گزری تھی لیکن اس نے اظہار نہیں کیا بلکہ پیشکش کی کہ بھابی ان کے ساتھ ہی رہے وہ دل سے اس کی خدمت کریں گے لیکن ریحانہ نے یہ پیشکش قبول نہیں کی۔
غفار بیگ بہن کی بیوگی سے اداس ضرور تھا لیکن زندگی انہی حادثات کا نام ہے وہ اپنی مصروفیات میں رہتا تھا، البتہ دونوں ماں بیٹیاں خاصی متاثر تھیں اور ان کے مزاج میں تبدیلیاں پیدا ہوگئی تھیں۔ ماں تو بیمار رہنے لگی تھی اور ریحانہ بہت چڑچڑی ہوگئی تھی۔
پھر جب غفار بیگ کا نیا مکان تیار ہوا تو وہ اس میں منتقل ہوگئے لیکن یہاں آتے ہی غفار بیگ کی والدہ کا انتقال ہوگیا اور اب گھر میں صرف دو افراد رہ گئے۔ غفار بیگ نے بہن کی دلجوئی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی، لیکن ریحانہ کا مزاج بدستور بگڑا ہی رہتا تھا۔ پھر اس نے اپنی پسند سے غفار بیگ کی شادی ایک اچھے گھرانے کی لڑکی نگہت سے کردی۔ نگہت ایک تعلیم یافتہ اور تیز و طرار لڑکی تھی، اسے کچھ ہی دن کے بعد اندازہ ہوگیا کہ گھر پر ریحانہ کی حکمرانی ہے اور غفار بیگ اس کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی ہے۔
پھر چھوٹے چھوٹے ناخوشگوار واقعات ہونے لگے۔ نگہت آزادی چاہتی تھی، اس کی بہت سی سہیلیاں، دوستیں تھیں، جن میں سے کئی نے ان کی شادی کی دعوتیں کی تھیں، لیکن ان دعوتوں میں ریحانہ بیگم سب سے پہلے جانے کے لئے تیار ہوجاتی تھیں، یہ بات بھی نگہت کو ناگوار گزری تھی۔
ریحانہ بیگم ہر بات میں ٹانگ اڑاتی تھیں، چھوٹے چھوٹے واقعات ہوتے رہتے تھے، مثلاً نگہت نے کہا۔ ’’آج ہم باہر کھانا کھائیں گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے، میں باجی سے کہہ دیتا ہوں تیار ہوجائیں۔‘‘ غفار نے حسبِ عادت کہا۔
’’کیوں… ہم اکیلے نہیں جاسکتے؟‘‘
’’ان کے بغیر…؟‘‘ غفار حیرت سے بولا اور نگہت خون کے گھونٹ پی کر خاموش ہوگئی۔ ریحانہ بیگم سے کہا گیا تو انہوں نے انکار کردیا۔
’’نہیں، موسم دیکھ رہے ہو، بادل تیار کھڑے ہیں، بارش ہوگئی تو کیا ہوگا۔ ذرا سی بارش سے سڑکیں جل تھل ہوجاتی ہیں۔ مختار بیگ بھی بارش ہی کا شکار ہوئے تھے، آج کوئی کہیں نہیں جائے گا۔‘‘
’’قبرستان میں بھی ہمیں باجی کے ساتھ ہی جانا ہوگا۔‘‘ نگہت نے نفرت بھرے لہجے میں کہا۔
’’کیسی باتیں کررہی ہو باجی ہماری ماں کی طرح ہیں۔‘‘
’’آپ کی، میری نہیں۔‘‘ نگہت نے کہا۔ اس دن نگہت نے کھانا بھی نہیں کھایا، اس کا موڈ بہت خراب تھا، جسے ریحانہ بیگم نے بھی محسوس کرلیا اور انہوں نے بہت تلخ لہجے میں کہا۔
’’اس کا دماغ زیادہ خراب ہوگیا ہے، اسے قابو میں رکھو، ورنہ یہ تمہارے سر پر چڑھ کر ناچے گی، کون سے رئیس خاندان سے آئی ہے۔ ہونہہ ہوٹلوں میں کھانے کھائے جائیں گے، لوگ اوقات بھول جاتے ہیں۔‘‘
اسی طرح کے بے شمار واقعات جن کی وجہ سے نگہت کو احساس ہوگیا کہ اس گھر میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور سارے گھر پر ریحانہ بیگم کی حکمرانی ہے، کوئی کام ان کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔
’’کیا ہورہا ہے میرے ساتھ، کیا حیثیت ہے اس گھر میں میری!‘‘ ایک بار اس نے بپھرے لہجے میں کہا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ غفار نے الجھے ہوئے انداز میں پوچھا۔
’’کیا نہیں ہوا پورے گھر پر ریحانہ باجی کا قبضہ ہے۔‘‘
’’کیسی باتیں کرتی ہو وہ ہماری بزرگ ہیں جو کہتی ہیں ہمارے بھلے کے لئے کہتی ہیں۔‘‘
’’تم موم کے گڈے ہو سمجھے، کچھ کرنا ہوگا مجھے، یہ سب کچھ میں برداشت نہیں کرسکتی۔‘‘ اور پھر نگہت نے زبان کھول دی۔ لیکن ریحانہ بیگم ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھیں۔ انہوں نے نگہت کی ایک نہ چلنے دی، اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ غفار بیگ کا سر ہمیشہ ریحانہ بیگم کے سامنے جھکا رہتا تھا۔ وہ صرف ان کی زبان بولتا تھا اور بعض اوقات نگہت کے ساتھ سخت بھی ہوجاتا تھا۔ ابتدا میں تو نگہت نے شوہر کی سخت گوئی برداشت کی، لیکن پھر اس نے اس سے بھی زبان کھول دی۔
’’آپ نے باجی کے لئے مجھ سے شادی کی تھی، کیا حیثیت دی ہے آپ نے مجھے شادی کے بعد…؟‘‘
’’دیکھو، سمجھنے کی کوشش کرو ان کا ہمارے سوا کون ہے۔‘‘
’’اچھی طرح سمجھ رہی ہوں اور اب آپ کو بھی سمجھانا پڑے گا۔‘‘ نگہت نے کہا۔
ایک دن تینوں کہیں جانے کی تیاری کررہے تھے۔ تیار ہوکر باہر نکلے تو نگہت نے شوہر کے ہاتھ سے گاڑی کی چابی اچک لی اور ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی۔ ریحانہ بیگم پچھلی سیٹ پر بیٹھی تھیں۔
’’اوے یہ کیا…؟‘‘ غفار بیگ حیرت سے بولے۔
’’بیٹھو!‘‘ نگہت نے سرد لہجے میں کہا۔
’’مگر…؟‘‘
’’میں نے ڈرائیونگ سیکھی ہوئی ہے… چلو بیٹھو۔‘‘ نگہت نے گاڑی اسٹارٹ کردی اور غفار بیگ بادل نخواستہ بیٹھ گیا۔ نگہت نے کار آگے بڑھا دی۔
’’کیا ہورہا ہے یہ، غفار تو کھلونا بن گیا ہے اس کے ہاتھوں، گاڑی روک اور مجھے اتار دے، پھر جو دل چاہے کرنا۔‘‘ پیچھے سے ریحانہ بیگم کی چیخیں سنائی دیں اور نگہت نے ایکسیلیٹر اور دبا دیا۔
’’روکو… روکو نگہت! گاڑی روکو۔‘‘ غفار بیگ نے سرد لہجے میں کہا۔ لیکن نگہت نے گاڑی نہیں روکی۔ ریحانہ اور غفار دونوں اسے برابھلا کہنے لگے، پھر ایک بھری پری جگہ نگہت نے اچانک گاڑی روکی، نیچے اتری اور ایک آٹو رکشہ میں جا بیٹھی۔ اس نے رکشے والے کو کوئی پتا بتا دیا اور رکشہ چل پڑا، غفار اور ریحانہ دیکھتے رہ گئے۔
پھر کہیں اور جانے کے بجائے وہ گھر واپس چل پڑے۔ گھر آئے تو نگہت اپنے کمرے میں موجود تھی۔ اس نے دروازہ اندر سے بند کیا ہوا تھا۔ یہ رنجش کئی دن تک قائم رہی۔ غفار بیگ نے ریحانہ بیگم کا مؤقف اسے بتایا۔
’’ان کا کہنا ہے کہ عورتیں گاڑی چلاتی اچھی نہیں لگتیں، وہ مرد عجیب لگتے ہیں، جو عورتوں کے برابر بیٹھے ہوتے ہیں اور عورتیں گاڑیاں چلاتی ہیں اور پھر ڈرائیونگ سے خوف باجی کی کمزوری ہے، کیونکہ مختار بھائی کار ایکسیڈنٹ کا ہی شکار ہوئے تھے۔‘‘
’’اس وقت ریحانہ باجی کار چلا رہی تھیں؟‘‘ نگہت نے طنزیہ کہا۔
واقعات اسی طرح ہوتے رہے نگہت بری طرح بیزار ہوچکی تھی، وہ اب اکثر گھر سے نکل جاتی تھی اور اپنی دوستوں کے ہاں چلی جاتی تھی، جبکہ غفار جانتا تھا کہ حالات بگڑتے ہی جارہے ہیں۔ نگہت نے کئی بار کہا کہ وہ فیصلہ کرلے کہ ریحانہ کے ساتھ رہے یا اس کے ساتھ…! اس کے جواب میں غفار کہتا۔
’’ذرا سوچو نگہت! باجی کا ہمارے علاوہ کون ہے، ان کی دولت جائداد سب کچھ ہماری ہے، اگر آج ہم ان کا مزاج برداشت کرلیں تو کیا حرج ہے۔‘‘
’’تو ٹھیک ہے، وہ دولت، جائداد ہمارے نام کردیں اور خود اللہ اللہ کریں، کیوں اس دولت پر سانپ بنی بیٹھی ہیں؟‘‘
اس وقت تک ریحانہ بیگم نے ساری دولت اور جائداد غفار بیگ کے نام کردی تھی اور اس کی گفٹ ڈیڈ اسے دے دی تھی، لیکن اس نے اسے لینے سے انکار کردیا تھا، چنانچہ وہ گفٹ ڈیڈ انہی کے پاس تھی، البتہ اس نے نگہت سے اس کا تذکرہ جان بوجھ کر نہیں کیا تھا کیونکہ عورت کی فطرت جانتا تھا، اسے معلوم تھا کہ اس کے بعد نگہت اور کھل کے کھیلے گی۔
یہ حالات جوں کے توں رہے، انسپکٹر صاحب! بظاہر نگہت نے کبھی یہ نہیں ظاہر کیا کہ وہ میرے خلاف اس حد تک جاسکتی ہے کہ عدالت آکر یہ جھوٹی اور من گھڑت کہانی سنائے اور میرے لئے موت کا سامان بن جائے۔
غفار بیگ نے پوری کہانی سنائی اور شاہ میر گردن ہلانے لگا۔
٭…٭…٭
شاہ میر کی آنکھوں میں گہری سوچ کے آثار نظر آرہے تھے۔ صفورا اور زمان شاہ بھی خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ کچھ دیر کے بعد شاہ میر نے کہا۔
’’قتل کیا گیا ہے، ایک انسان کو، معمولی بات نہیں ہے۔ ایک زندگی لے لی گئی ہے، خون کا بدلہ خون ہے۔ خونی کو گرفت میں آنا چاہئے۔ میں اسے پھانسی کے پھندے تک لائے بغیر نہیں رہوں گا، خواہ وہ کوئی ہو۔‘‘
’’آپ کے خیال میں قاتل غفار بیگ نہیں ہے؟‘‘ صفورا نے پوچھا۔
’’بظاہر… میرا مشاہدہ یہی کہتا ہے اور یہ بھی کہتا ہوں میں کہ کیس کی تفتیش اب تک اس گہرائی سے نہیں کی گئی ہے، جس سے کی جانی چاہئے تھی۔ غفار بیگ نے مجھے جو کہانی سنائی ہے، اس کی رو سے کئی اہم نکتے ہیں جن پر غور ہی نہیں کیا گیا۔‘‘
’’مثلاً…!‘‘ صفورا نے فوراً پوچھا۔
’’وہ گفٹ ڈیڈ، جو سامنے آچکی ہے۔ وجہ قتل وہ دولت نہیں ہے، جس کے لئے غفار بیگ اپنی بہن کو قتل کرتا کیونکہ وہ تو اس کے پاس آچکی تھی۔‘‘
’’جی…!‘‘
’’لیکن دراصل وہی دولت قتل کی وجہ ہوسکتی ہے۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ صفورا حیرت سے بولی۔ شاہ میر کی بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی تھی۔
’’ہاں وہ دولت جس کا طلبگار کوئی اور ہوسکتا ہے اور اس جنون میں کہ اسے اس دولت سے محروم کردیا گیا، اس نے ریحانہ کو ہلاک کردیا اور الزام غفار کے سر لگا دیا کہ اسے بھی بہن کے قتل میں موت کی سزا ہوجائے… اور… اور…!‘‘ شاہ میر خاموش ہوگیا لیکن صفورا کے چہرے پر اضطراب نمایاں ہوگیا۔
’’اوہ…اوہ… اس کا مطلب ہے…!‘‘ وہ بولی لیکن شاہ میر نے مسکرا کر ہاتھ اٹھا دیا۔
’’نہیں مس صفورا! اتنی جلدی مطلب نہیں نکالیں۔ پہلے غور کریں، ویسے پوائنٹس بہت سے ہیں۔ میں آپ کو بتائوں، نگہت جو شادی کے فوراً بعد سے اپنے سسرال کے ماحول سے بیزار تھی، اسے ریحانہ کی وجہ سے کبھی آزاد زندگی نہیں ملی تھی، جس سے اس کے دل میں ریحانہ کے خلاف نفرت اگتی رہی، لیکن اس کے پاس اس نفرت کو نکالنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، اندرونی طور پر وہ غفار بیگ سے بھی بیزار ہوچکی تھی، جو بقول اس کے موم کا پتلا تھا اور اپنی بہن کا غلام تھا، پھر ریحانہ قتل ہوگئی اور اس کے قتل کے الزام میں غفار بیگ پکڑا گیا۔ اس پر مقدمہ چلا لیکن اس مقدمے کے دوران اس نے کوئی مداخلت نہیں کی۔ اس قتل کی عینی گواہ کی حیثیت سے وہ اس وقت پیش نہیں ہوئی، غفار بیگ رہا ہوگیا، یہ بات نگہت کے لئے باعث سکون ہونی چاہئے تھی، کیونکہ اس کے راستے کا کانٹا ریحانہ اس کے اور اس کے شوہر کے درمیان سے نکل گئی، اسے چوروں نے ہلاک کیا ہو یا کسی اور نے، فرض کرو اس کے بیان کے مطابق غفار بیگ نے ہی اپنی بہن کو قتل کیا ہو تو اس کے لئے تو یہ بات قابل اطمینان تھی کہ اب غفار بیگ سو فیصدی اس کے حصے میں ہے تو پھر اس نے یہ قدم کیوں اٹھایا… اب ہم دوسرے کردار کی بات کرتے ہیں، یعنی اختیار بیگ…! یہ بات واضح نہیں ہوسکی کہ اختیار بیگ کو غفار سے کیا پرخاش ہوسکتی ہے، لیکن اسے غفار بیگ سے شدید پرخاش ہے۔ اس نے پہلے بھی کوشش کی کہ غفار کو ریحانہ کے قتل کا مجرم قرار دے کر اسے موت کی سزا دلوائے، اس میں ناکام رہ کر اس نے دوبارہ بھرپور کوشش کی اور آخرکار اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا لیکن… اس کی اس جدوجہد کا مقصد کیا تھا…؟ اگر دولت تو… وہ اب بھی اس کے ہاتھ نہیں آسکتی، کیونکہ نہ تو وہ تمام کی تمام نگہت کو منتقل ہوسکتی ہے نہ ہی اسے مل سکتی ہے۔‘‘
’’اوہ! آپ کا مطلب ہے…!‘‘ صفورا نے چونک کر کہا۔
’’نہیں ابھی نہیں… ابھی نہیں… ہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ دونوں کردار مشکوک ہیں، اختیار بیگ نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر غفار بیگ کے گھر کے حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کی بیوی کو اس کے خلاف استعمال کیا، لیکن کیوں…؟ اس کا پتا لگانا ہے۔‘‘
’’اس سلسلے میں ہمیں کہاں سے آغاز کرنا ہوگا سر…!‘‘ زمان شاہ نے لب کشائی کی۔
’’ہاں… نمبر ایک۔ یہ معلوم کرنا ہے کہ وقوع والی رات نگہت گھر میں تھی یا نہیں…! جس خالہ کے ہاں وہ گئی تھی، وہاں سے یہ معلوم کرنا ہے کہ حقیقت میں وہ کب وہاں پہنچی تھی۔ نمبر دو اختیار بیگ کے بارے میں مکمل تفصیلات درکار ہیں، یہی وہ دو کردار ہمارے سامنے ہیں ان پر بھرپور توجہ دینی ہوگی، خاص طور سے اس کے ملازمین، ڈرائیور وغیرہ اس کا انتظام میں کرلوں گا۔‘‘
٭…٭…٭
ناظم حسین اس خبر کو سن کر اچھل پڑے تھے۔ انہوں نے دو تین جگہوں سے اس کی تصدیق کی اور پھر بار روم میں طارق مفتی کو جا پکڑا۔
’’مبارک مفتی صاحب! آپ نے ابھی تک غفار بیگ کے سلسلے میں ہمت نہیں ہاری اور اس کے کیس کو سپریم کورٹ تک پہنچا دیا۔‘‘
’’آپ جیسے قابل فخر وکیلوں کے مدمقابل آنا بھی بڑے اعزاز کی بات ہے سر…! میں اس موقع کو کیسے گنوا سکتا تھا۔‘‘ طارق مفتی نے نیاز مندی سے جواب دیا۔
’’کمال ہے۔ لوگوں کو جیتنے سے دلچسپی ہوتی ہے، آپ کو ہارنے کا شوق ہے لیکن ایسا نہ کرتے تو اچھا تھا، آپ پر ہارنے والے وکیل کی چھاپ لگ جائے گی۔‘‘
’’یہ بھی تو کہا جائے گا کہ طارق مفتی ہارا بھی تو کسی معمولی وکیل سے نہیں بلکہ ناظم حسین جیسے عظیم بیرسٹر سے!‘‘
’’لگتا ہے آپ کے جن نے کوئی کارنامہ سرانجام دیا ہے، خیر آیئے دو دو ہاتھ کرتے ہیں۔‘‘ ناظم حسین نے کہا اور طارق مفتی نے نیاز مندی سے سر خم کردیا۔
شاہ میر نے طارق مفتی کے ساتھ کئی میٹنگز کی تھیں اس کیس کے ایک ایک پہلو پر بات کی تھی، اس کی اسپیشل فورس زمان شاہ اور صفورا نے بھی اس سلسلے میں خاصی تگ و دو کرکے انتہائی قیمتی معلومات حاصل کی تھیں اور ایک مضبوط کیس تیار کرلیا تھا، جبکہ ناظم حسین صاحب اپنی دانست میں اس کیس کو جیت کر اپنا کام ختم کرچکے تھے۔ انہوں نے مجرم کو کیفرکردار تک پہنچا دیا تھا اور دوسرے کاموں میں مصروف ہوگئے تھے، چنانچہ ایک بار پھر ایک کیس کے استغاثہ کے طور پر آنا ان کے لئے ایک ناخوشگوار عمل تھا، کمرۂ عدالت میں انہوں نے خشمگیں نگاہوں سے طارق مفتی کو دیکھا تھا۔
جج صاحب کی اجازت سے کیس کا آغاز ہوگیا۔ طارق مفتی نے گواہوں کے کٹہرے میں کھڑی ہوئی نگہت غفار سے پوچھا۔ ’’جی مسز غفار! آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ اس رات اپنے گھر میں موجود تھیں اور آپ نے اپنی آنکھوں سے اپنے شوہر غفار بیگ کو اپنی بڑی بہن ثریا کو قتل کرتے دیکھا۔‘‘
’’جی… جی ہاں!‘‘ نگہت نہ جانے کیوں ہکلا سی گئی۔
’’میں نے آپ کو مسز غفار کہا اور غفار کو آپ کا شوہر! آپ کو ناگوار تو نہیں گزرا؟‘‘
’’جی؟‘‘ نگہت کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا تھا۔
’’وہ زندہ ہے اور آپ نے اس سے طلاق بھی نہیں لی، ایسی شکل میں آپ اختیار بیگ سے شادی کیسے کرسکتی ہیں، آپ نے اور اختیار بیگ نے اس بارے میں نہیں سوچا؟‘‘
’’جی…؟‘‘ نگہت کی آنکھیں پھیل گئیں، اس کا منہ کھل گیا، اس نے جلدی سے کٹہرے کو پکڑ لیا۔ ایسا لگا جیسے وہ چکر کھا کر گر پڑے گی۔ اس کی یہ حالت نمایاں ہوئی تو ناظم حسین نے اچھل کر کہا۔
’’آبجکشن مائی لارڈ! یہ کیسا سوال ہے وکیل صفائی گواہ کو نروس کررہے ہیں، انہیں ڈرامائی سوالات سے روکا جائے۔‘‘
’’ہرگز نہیں جناب والا! یہ ایک انسان کے قتل کا اور ایک بے گناہ کے سزا پانے کا معاملہ ہے، ہمیں سچائی اور انصاف کو تلاش کرنا ہے، یہ ایک بے گناہ کو بچانے کا معاملہ ہے، جسے ایک گھنائونی سازش کرکے سزا دلوائی گئی ہے۔‘‘ طارق مفتی نے پرزور لہجے میں کہا۔
’’اعتراض مسترد کیا جاتا ہے، آپ سوالات جاری رکھیں۔‘‘ جج صاحب نے کہا۔
’’شکریہ جناب والا!‘‘ طارق مفتی پھر نگہت کی طرف متوجہ ہوگیا۔
نگہت کے حوصلے پست ہونے لگے۔ اس کے پورے بدن نے پسینہ چھوڑ دیا تھا، اس کی زبان لڑکھڑا رہی تھی اور طارق مفتی اس سے تابڑتوڑ سوالات کررہا تھا۔
٭…٭…٭
اختیار بیگ نے شادی نہیں کی تھی، اس کی وجوہات تھیں کم عمری میں ہی اس نے انٹر کرنے کے بعد پڑھائی چھوڑ دی تھی۔ باپ سے اس نے کہہ دیا تھا کہ وہ اب کاروبار میں حصہ لینا چاہتا ہے، چنانچہ بحالت مجبوری باپ نے اسے علیحدہ کاروبار کرا دیا۔ بڑے بیٹے کی نسبت چھوٹا بیٹا بہت سرکش تھا، باپ جانتا تھا لیکن اختیار بیگ بہت چالاک تھا، اس نے کاروبار بڑی خوش اسلوبی سے سنبھال لیا۔ اس کے علاوہ اس کے مشاغل بھی مختلف تھے۔ وہ عیاش فطرت تھا، اپنی عیاشیوں کو بھی اس نے بڑی ذہانت سے جاری رکھا تھا، وہ شریف خاندانوں کی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور متمول لڑکیوں کے ساتھ فلرٹ کرتا اور انہیں دھوکے دیتا، ان سے شادی کے وعدے کرتا اور پھر غائب ہوجاتا۔ کاروبار بھی اس نے شاندار پیمانے پر پھیلا لیا تھا اور اپنی سماجی حیثیت بھی بنائی تھی، جس کی بنا پر اعلیٰ خاندانوں تک اس کی رسائی ہوجاتی تھی۔
پھر ایک لڑکی سے اس کی دوستی ہوئی۔ یہ ماڈلنگ کرتی تھی، بہت خوبصورت اور تیزطرار تھی، اسی تیزی کی وجہ سے وہ مکمل طور پر اس کے جال میں نہیں پھنسی لیکن وہ اختیار بیگ سے محبت کرنے لگی تھی۔ اختیار بیگ نے دوستی آگے بڑھانے کا ارادہ کیا تو اس نے اس سے شادی کا مطالبہ کردیا۔ اختیار بیگ بھلا اس سے شادی کیا کرتا۔ اس نے اس لڑکی نویدہ سے کترانا شروع کردیا۔ یہ بات نویدہ کو بہت ناگوار گزری اور اس نے اختیار بیگ کے بارے میں چھان بین شروع کردی۔
بھائی کی زندگی میں اختیار بیگ ریحانہ بیگم کا بھابی کی حیثیت سے بڑا احترام کرتا تھا۔ بھائی کی موت کے بعد بھی اس نے چاہا کہ بھابی ساتھ میں رہے لیکن ریحانہ بیگم نے بڑی غیریت کا برتائو کیا اور عدت پوری ہوتے ہی اپنے بھائی کے پاس چلی گئیں۔ وہ جائداد وغیرہ کا ایک ایک کاغذ ساتھ لے گئی تھیں اور وہ تمام قیمتی اشیاء بھی جن میں سے بیشتر مختار بیگ نے انہیں دی تھیں۔ سونے پر سہاگہ کہ انہوں نے مکان کے آدھے حصے کی قیمت بھی بخوشی لے لی تھی، جبکہ اختیار بیگ کا خیال تھا کہ وہ اس مکان کی قیمت کبھی نہیں لیں گی۔ ان کے اس عمل سے اختیار بیگ کا دل بری طرح کھٹا ہوگیا اور اس نے ریحانہ بیگم کے گھر جانے سے گریز کیا۔ میں ایک بار ان کے بلانے پر ان کے گھر گیا، وہ بھی غفار بیگ کی شادی پر… پھر غفار بیگ اپنے نئے گھر میں شفٹ ہوگیا اور اس طرح ساتھ آٹھ ماہ گزر گئے، پھر ایک دن اسے انکم ٹیکس کے سلسلے میں کچھ ضرورت
پیش آئی تو ریحانہ کے پاس جانا پڑا۔ ریحانہ، غفار بیگ کے ساتھ نئے گھر میں شفٹ ہوچکی تھی، وہاں ریحانہ سے پہلے اس کی ملاقات نگہت سے ہوئی، جس نے خوشدلی سے اس کا خیرمقدم کیا تھا۔
’’آپ نے مجھے پہچانا تو نہیں ہوگا کیونکہ اتفاق سے آپ کی شادی کے بعد کبھی ادھر آنا نہیں ہوا۔‘‘ اختیار بیگ نے نگہت سے کہا۔
’’میں بہت اچھی طرح آپ کو پہچانتی ہوں۔‘‘ نگہت نے دلکش مسکراہٹ سے کہا۔
’’ارے… کیسے؟‘‘
’’ریحانہ باجی کے پاس بہت سے البم ہیں، ان میں آپ کی تصویریں بھی ہیں، ریحانہ باجی نے بتایا تھا کہ آپ ان کے دیور ہیں۔‘‘
’’کاش ہمارے پاس بھی کوئی البم ہوتا جس میں آپ کی تصویر ہوتی۔‘‘ اختیار بیگ نے کہا اور نگہت چونک پڑی۔
’’میں سمجھی نہیں!‘‘
’’ایں… ارے…!‘‘ اختیار بیگ نے بھی چونکنے کی اداکاری کی۔ لیکن بات آگے نہیں بڑھی کیونکہ ریحانہ آگئی تھی۔
’’میں چائے کا انتظام کرتی ہوں۔‘‘ نگہت نے کہا اور باہر چلی گئی۔
چائے آگئی اور اختیار بیگ چائے کے دوران اپنی وہ تمام صلاحیتیں استعمال کرتا رہا جو وہ اپنی پسند کی خواتین پر صرف کرکے انہیں متاثر کرلیا کرتا تھا، اس کے جانے کے بعد نگہت نے سوچا کہ یہ شخص بہت دلچسپ شخصیت کا مالک ہے۔
نگہت اپنے ماحول سے خوش نہیں تھی، اس لئے اب وہ زیادہ وقت باہر اپنی دوست لڑکیوں کے ساتھ گزارتی تھی۔ اختیار بیگ سے ملاقات کے چوتھے دن … کی بات ہے کہ وہ اپنی ایک دوست کے ہاں جانے کے لئے نکلی وہ زیادہ تر آٹو استعمال کرتی تھی، اس دن بھی وہ رکشے کے انتظار میں کھڑی تھی کہ اختیار بیگ کی کار اس کے قریب آکر رک گئی۔
’’کمال ہے نگہت صاحبہ! کبھی کبھی کتنی عجیب باتیں ہوجاتی ہیں، آیئے بیٹھئے آپ جہاں جارہی ہیں، میں آپ کو ڈراپ کردوں گا۔ آیئے پلیز! میرے خیال میں مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں پیش آئے گی کہ میں ایک شریف آدمی ہوں اور دور کے ہی سہی ہمارے درمیان کچھ رشتے ہیں۔‘‘
اس کے انداز میں اتنا اعتماد تھا کہ نگہت اس کے ساتھ بیٹھنے سے انکار نہ کرسکی۔ چند لمحوں کے لئے اسے عجیب لگا تھا لیکن اختیار کی آواز ابھری۔ ’’میں اکثر ادھر سے گزرتا ہوں، یہ میرے آفس جانے کا راستہ ہے، پہلے میں نے کبھی اس راستے پر غور نہیں کیا تھا لیکن آج ادھر سے گزرتے ہوئے آپ مجھے یاد آئیں اور میں اسی وقت آپ کو کھڑے دیکھ کر حیران رہ گیا۔ ہے نا عجیب بات…! ویسے ایک بات پوچھوں؟‘‘
’’جی…!‘‘
’’آپ کے پاس کار موجود ہے آپ آٹو کے انتظار میں کیوں کھڑی تھیں؟‘‘
’’میرے پاس نہیں ہے۔‘‘ نگہت کے منہ سے نکلا۔
’’جی…؟ لیکن میرے خیال میں… اوہ کیا غفار صاحب نے کار فروخت کردی؟‘‘
’’نہیں ان کے پاس ہے، انہی کے استعمال میں رہتی ہے۔‘‘
’’آپ کو ڈرائیونگ آتی ہے؟‘‘
’’اپنے گھر میں گاڑی میں ہی چلاتی تھی، یہاں ریحانہ باجی کو عورتوں کا گاڑی چلانا پسند نہیں۔‘‘
’’کتنی فرسودہ بات ہے اگر جلدی نہ ہو تو ایک کپ کافی پئیں؟‘‘
’’دو کپ… ایک میں ایک آپ!‘‘ نگہت نے خوشگوار موڈ میں کہا۔
کافی کے دوران بہت سی باتیں ہوئیں۔ اختیار نے پیشکش کی کہ وہ اس کی کار ڈرائیو کیا کرے اور نگہت نے منظور کرلیا۔ دونوں کی طویل ملاقاتیں شروع ہوگئیں جو گھر سے باہر ہوتی تھیں۔ نگہت نے اپنے سارے درد اختیار کے سامنے رکھ دیئے اور اختیار نے اس سے بے پناہ ہمدردی کا اظہار کیا۔ نگہت، اختیار کی عادی ہوتی چلی گئی۔ ان کی خفیہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہوگیا۔ اختیار بیگ نے جان لیا کہ نگہت اندر سے بہت دکھی ہے اور بڑی آسانی سے اس کے دام میں پھنس سکتی ہے، وہ اس سے بڑی ہمدردی کا اظہار کرتا تھا، ایک دن اختیار بیگ نے کہا۔
’’کیسی عجیب بات اور کتنا تضاد ہے میرے بھائی تو بھابی کے اشاروں پر چلتے تھے، بھابی بے حد خود غرض ہیں کہ آپ کو انہوں نے وہ مقام نہیں دیا جس کی آپ مستحق تھیں، آپ یقین کریں ان کی خودغرضی بے مثال ہے، بھائی نے کروڑوں کی دولت ان کے نام کردی لیکن بھابی نے اس گھر کی قیمت بھی وصول کرلی، جس میں ہم رہتے ہیں۔‘‘
’’وہ اس دولت پر قبضہ جمائے بیٹھی ہے اور راج کررہی ہے لیکن وہ کچھ بھی کرے، میری جان چھوڑ دے۔‘‘ نگہت نے بیزاری سے کہا۔
’’بہت مشکل ہے نگہت! ایسے لوگوں کی عمریں بھی طویل ہوتی ہیں جو دوسروں کے لئے تکلیف دہ ہوتے ہیں۔‘‘
’’صرف تکلیف دہ کہنا کافی نہیں ہے، عذاب جان کہیں۔‘‘ نگہت نے نفرت بھرے لہجے میں کہا۔
’’لیکن مجھے ایک بات پر حیرت ہے وہ یہ کہ غفار کس قسم کا آدمی ہے، آپ اس کی بیوی ہیں، اول تو اس نے اپنی بہن کو گھر لا کر پورے گھر پر مسلط کردیا ہے، دوسری بات یہ کہ وہ اپنی بیوی کے بارے میں نہیں سوچتا کہ وہ ایک باندی کی طرح زندگی گزار رہی ہے۔‘‘
نگہت کی آنکھوں میں آنسو آگئے، اس نے گلوگیر لہجے میں کہا۔ ’’آپ اسے آدمی کہتے ہیں، پتھر کی دیوار کی طرح ہے وہ… بے تاثر کوئی جذبہ نہیں ہے، اس کے دل میں، بس بہن کا غلام ہے بلکہ غلاموں سے بھی بدتر!‘‘
’’پلیز آپ روئیں نہیں، میرے دل کو صدمہ ہوتا ہے، آپ کے سلسلے میں میری کیفیت عجیب ہوگئی ہے۔ آپ خوش ہوتی ہیں تو خوشی ہوتی ہے اور جب آپ کی تکلیفوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو دل بری طرح اداس ہوجاتا ہے۔‘‘
نگہت نے اسے غور سے دیکھا پھر افسردہ لہجے میں بولی۔ ’’اکثر ایسا ہوتا ہے جہاں دل ملتا ہے، وہاں قربتیں نہیں ہوتیں اور جہاں قربتیں ہوتی ہیں وہاں دیواریں ہوتی ہیں، ایک بات پوچھوں آپ سے…؟‘‘
’’جی…!‘‘
’’آپ نے اب تک شادی کیوں نہیں کی؟‘‘
’’وقت بیشک بدل گیا ہے نگہت! لیکن معاشرے کی فرسودگی ابھی تک نہیں بدلی۔‘‘
’’مطلب…؟‘‘
’’ہمارے معاشرے میں ابھی تک لڑکے اور لڑکیوں کے لئے دوسرے لوگ رشتے طے کرتے ہیں، میرے سلسلے میں بیشک ایسا نہیں ہے لیکن میری نگاہ کسی پر جمی ہی نہیں۔‘‘
’’کیوں…؟‘‘
’’بس تقدیر کے کھیل ہیں جو لڑکی میری بیوی ہونی چاہئے تھی وہ کسی اور کی ہوچکی ہے۔‘‘
’’اوہو! وہ کون ہے؟‘‘ نگہت نے پوچھا۔
’’تم…!‘‘ اختیار بیگ نے جذباتی لہجے میں کہا اور نگہت کا ہاتھ پکڑ لیا۔ نگہت پر عجیب سی بے خودی طاری ہوگئی اس کے لئے یہ تجربہ نیا تھا۔ اختیار، ایک بااختیار انسان جو اپنی بڑی بہن کا غلام نہیں ہے جو اس سے محبت کرتا ہے۔ اس نے اختیار کے شانے سے سر ٹکا دیا۔
’’اب کیا کریں اختیار! اب تو ہم کچھ بھی نہیں کرسکتے۔‘‘ وہ درد بھرے لہجے میں بولی۔
’’سب کچھ کرسکتے ہیں ہماری محبت سب کچھ کرسکتی ہے۔‘‘
’’مگر… میں غفار بیگ کی بیوی ہوں۔‘‘
’’نام نہاد بیوی… تم نہ مجبور ہو نہ بے بس! میں تمہارے ساتھ ہوں، ہم سوچ بھی سکتے ہیں کر بھی سکتے ہیں۔‘‘
’’اگر تم سوچ رہے ہو کہ غفار مجھے طلاق دے دے گا تو وہ کبھی ایسا نہیں کرے گا، میں اسے جانتی ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے لیکن راستے بند ہوں تو انہیں کھولنا پڑتا ہے کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کو زندہ درگور کردے۔‘‘
’’پھر ہم کیا کریں؟ کیا عدالت…!‘‘
’’نہیں… کچھ اور۔‘‘
’’ایں… اور کیا؟‘‘
’’اپنی محبت کی کامیابی کے لئے وہ سب کچھ جو ہمیں یکجا کردے۔‘‘
’’مجھے بتائو تو سہی!‘‘
’’ریحانہ میری بھابی تھی، بڑی بہن سمجھتا تھا اسے، اس کے ہر حکم پر سر جھکا دیتا تھا لیکن اس نے مجھے کچھ نہ سمجھا اور میرا دل ٹوٹ گیا بھائی کی موت کے بعد بھی …… اسے کہا کہ یہ گھر اب بھی اس کا ہے، ہم پر حکومت کرے لیکن وہ ہمیں غیر قرار دے کر چلی گئی۔ اپنے بھائی کے علاوہ اس نے کبھی کسی کو کچھ نہیں سمجھا، تمہارے ساتھ بھی وہ غیروں کا سلوک کرتی ہے، جب تک وہ زندہ ہے، تمہارے سینے پر سانپ بنی بیٹھی رہے گی، تمہیں میرے لئے، اپنے لئے کچھ کرنا ہوگا نگہت! ورنہ ہمیں یونہی گھٹ گھٹ کر مر جانا ہوگا، اب میں بھی تمہارے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔‘‘
’’تو مجھے بتائو میں کیا کروں؟‘‘
’’ہمت ہے کچھ کرنے کی؟‘‘
’’ہاں… اگر تم نہ ملتے تو شاید اسی طرح میری زندگی کی شام ہوجاتی لیکن اب میں جینا چاہتی ہوں، تمہارے ساتھ!‘‘ دونوں نے الفاظی تکلف ختم کردیا تھا اور آپ سے تم پر آگئے تھے۔
اختیار بیگ اسے اپنے منصوبے کے بارے میں بتانے لگا اور نگہت کے چہرے کے رنگ بدلتے رہے۔ ’’میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میں نے جو کہا ہے اسے تم آنکھیں بند کرکے مان لو، بلکہ سوچ لو، غور کرلو، پھر فیصلہ کرنا کل ہم اسی جگہ ملیں گے۔‘‘
نگہت نے سوچا غور کیا، اسے وہ زندگی نہیں ملی جو وہ چاہتی تھی۔ غفار برا انسان نہیں تھا، وہ نگہت کو چاہتا بھی تھا لیکن بہن کو وہ بہت بڑا درجہ دیتا تھا، اس کے ہر حکم کو حرف آخر سمجھتا تھا مگر شاید وہ غلط تھا، کیونکہ ہر کردار کا ایک مقام ہوتا ہے اور ان کے درمیان توازن قائم رکھنا پڑتا ہے۔ بہت اچھے انسان کی غلط سوچیں اور عمل بھی کبھی کبھی معاشرے میں بڑے المیئے جنم دیتے ہیں، نگہت کو احساس ہورہا تھا کہ جو محبت اور اعتماد اسے اپنے شوہر سے ملنا چاہئے تھا، وہ کہیں اور سے مل رہا ہے۔ اختیار بیگ ہی وہ شخص ہے جسے اس کی زندگی کا ساتھی بننا چاہئے تھا، دوسرے دن وہ اختیار بیگ کے پاس پہنچ گئی۔
’’کسی کو علم ہے کہ تم اس طرح مجھ سے ملتی ہو؟‘‘ اختیار بیگ نے پوچھا۔
’’اول تو نہیں ہے اور اگر ہو بھی جائے تو مجھے اس کی پروا نہیں ہے۔‘‘
’’نہیں… ہر بڑے کام میں احتیاط بنیادی حیثیت رکھتی ہے، کیا سوچا تم نے میرے منصوبے کے بارے میں؟‘‘
’’میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں سوچ کر…!‘‘
’’نہیں ہمت شرط ہوتی ہے اس کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔‘‘
’’ہاں میں جانتی ہوں۔‘‘
’’ہم ایک تیر سے دو شکار کریں گے، تمہیں ریحانہ کے عذاب سے نجات مل جائے گی اور غفار بیگ کو بہن کے قتل کے جرم میں سزائے موت یا عمر قید ہوجائے گی ایسی صورت میں تمہیں آزادی حاصل ہوجائے گی۔ عمر قید کی صورت میں تم بآسانی اس سے عدالت کے ذریعے خلع لے سکتی ہو لیکن اس سے پہلے تمہیں ریحانہ کی دولت پر قبضہ جمانا ہوگا، اس کی ترکیب بھی میں تمہیں بتائوں گا، بس پھر ہم شادی کرلیں گے۔‘‘
’’لیکن یہ منصوبہ بہت طویل ہے تم مجھے سیشن کورٹ ہی میں کیوں نہیں پیش کردیتے، میرا مطلب ہے یہ سب کچھ کرنے کے بعد!‘‘
’’ٹھنڈا کرکے کھانا چاہئے نگہت بی بی! میرا منصوبہ دوسری صورت میں ہی شاندار طریقے سے کامیاب ہوسکتا ہے، بس یوں سمجھ لو دوسرے سیشن میں اگر تم نے ہائیکورٹ میں وکیل صفائی کو بھگت لیا تو بیڑا پار ہے۔‘‘
’’میں تمہیں سچ بتائوں، مجھے ان دونوں بہن بھائی سے کوئی ہمدردی نہیں ہے، خاص طور سے اس عورت سے جس نے مجھے گھر کی ایک ملازمہ بنا کر رکھ دیا ہے، اس گھر میں میری کوئی اوقات نہیں ہے۔‘‘
’’اپنا گھر تو تمہیں مجھ سے شادی کے بعد ملے گا۔‘‘
٭…٭…٭
نگہت نے اختیار بیگ کی ڈائریکشن میں کام شروع کردیا، سب سے پہلے اسے سب سے اہم کام کرنا تھا، یعنی ریحانہ کے کمرے کی گرل کے اسکریو ڈھیلے کرنے کا کام…! ایک گرل کا انتخاب کرکے اس نے اپنا کام شروع کردیا، وہ بڑی احتیاط سے آہستہ آہستہ اپنا کام کررہی تھی۔ اس کام میں اسے ایک ہفتہ لگ گیا۔ اسکریو بہت ٹائٹ تھے، اسے ان پر سخت محنت کرنی پڑتی تھی۔ آخرکار اس نے یہ کام مکمل کرلیا اور اختیار بیگ کی ہدایت کے مطابق وہاں سے ہر طرح کے نشانات صاف کردیئے۔ اپنی اس کامیابی کی اطلاع اس نے اختیار بیگ کو دی تو اس نے پہلا سوال یہی کیا۔
’’کسی چیز پر تمہاری انگلیوں کے نشانات تو نہیں ملیں گے؟‘‘
’’نہیں جناب۔ آپ کی شاگرد اتنی کچی نہیں ہے۔‘‘ نگہت نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’میں جانتا ہوں۔‘‘ وہ مسکرایا۔
مقررہ وقت پر نگہت نے کہا۔ ’’خالہ سے ملے ہوئے مجھے بہت دن ہوگئے ہیں، میں جانا چاہتی ہوں۔‘‘
’’کب ارادہ ہے؟‘‘
’’بس ایک آدھ دن میں۔‘‘
’’اوہو…! کیسے جائو گی؟‘‘
’’جیسے جاتی ہوں تم کون سا مجھے کار میں چھوڑنے جاتے ہو، بس سے جائوں گی اور دو چار دن رہ کر آئوں گی۔‘‘
’’باجی کو بتایا ہے؟‘‘
’’فضول بکواس مت کرو۔کیا میں اس کی قیدی ہوں؟‘‘ نگہت نے غصے سے کہا اور غفار بیگ خاموش ہوگیا۔ تاہم اس نے اپنی کار میں نگہت کو بس اسٹیشن تک پہنچایا اور اسے بس میں بٹھا کر واپس آگیا، لیکن اس کے نگاہوں سے اوجھل ہوتے ہی نگہت بس سے اتر آئی اور وہاں پہنچ گئی، جہاں اختیار بیگ اپنی کار میں بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا۔ اختیار بیگ نے اس کے لئے ایک ہوٹل میں کمرا بک کرا لیا تھا، جہاں اپنے کام کی تکمیل کے بعد اسے قیام کرنا تھا اور دوسرے دن اسے خالہ کے ہاں جانا تھا۔
وہ ہوٹل کے کمرے میں وقت گزارتے رہے اور وقت مقررہ پر وہاں سے چل پڑے۔ اس وقت اندازے کے مطابق غفار بیگ اپنے کمرے میں سو رہا ہوگا، وہ گہری نیند سونے کا عادی تھا، چنانچہ نگہت نے ہاتھ ڈال کر گیٹ کھولا اور دونوں اندر داخل ہوگئے۔ گرل کو اس کی جگہ سے اتارنا مشکل کام نہیں تھا، چنانچہ وہ اس جگہ سے اندر داخل ہوگئے۔ ریحانہ بے سدھ سو رہی تھی۔ اختیار اس کے سر پر پہنچ گیا، پھر اس نے اس لمبے چاقو کا بھرپور وار اس کے دل کے مقام پر کیا جسے اس نے جیب سے نکال کر کھول لیا تھا۔ ریحانہ کا بدن بڑے زور سے اچھلا اور پھڑکنے لگا۔ اس کی آنکھیں کھل گئی تھیں اور وہ وحشت سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔ اسی وقت اختیار بیگ نے اس کے منہ کو ہاتھ سے دبا دیا تاکہ وہ چیخ نہ سکے۔
دوسری طرف نگہت نے اپنا کام شروع کردیا وہ کمرے کے سامان کو تتر بتر کرنے لگی تاکہ چوری کا تاثر دیا جاسکے، اس نے الماری بھی کھول لی تھی۔ یہ لوگ اپنا کام ختم کرکے فارغ ہوگئے۔ ریحانہ کا جسم ٹھنڈا پڑ گیا تھا، چنانچہ دونوں باہر نکل آئے اور کچھ دیر کے بعد واپس ہوٹل پہنچ گئے، جہاں انہوں نے رات گزاری پھر دوسرے دن اختیار بیگ نے نگہت کو بس اسٹاپ چھوڑا اور وہ خالہ کے گھر روانہ ہوگئی۔ اس طرح یہ منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچ گیا۔
لیکن تقدیر کا منصوبہ کچھ اور تھا، ایک اور کردار قدرت کی طرف سے باعمل تھا، یہ نویدہ تھی۔ وہ ماڈل لڑکی جو اختیار بیگ کے فریب محبت کا شکار ہوگئی تھی۔ اختیار بیگ نے اسے خوب چکر دیئے، پھر جب اس نے اس سے شادی کا مطالبہ شدت سے کیا تو اختیار بیگ رفوچکر ہوگیا لیکن نویدہ کے دل میں پیار کی آگ بھڑک رہی تھی۔ شوبز سے تعلق رکھتی تھی، تیز طرار تھی وسائل بھی تھے، چنانچہ اسے پتا چل گیا کہ اختیار بیگ ماہر شکاری ہے۔
’’تجھے شکار نہ کیا اختیار بیگ تو میرا نام بھی نویدہ نہیں۔‘‘ اس نے دل میں سوچا اور اختیار بیگ کے پیچھے لگ گئی۔ اس کے ذہن میں کوئی خاص منصوبہ نہیں تھا وہ اختیار بیگ کو اس کی اصل شکل دکھانا چاہتی تھی، یہ وہ دن تھے جب اختیار بیگ، نگہت کو اپنے جال میں پھانس چکا تھا اور دونوں خوب ایک دوسرے سے گھل مل گئے تھے۔ نویدہ نے ان کی بہت سی تصویریں بنائیں جن میں سے کچھ قابل اعتراض بھی تھیں۔ نویدہ اپنا کام جاری رکھے ہوئے تھی کہ اسے ایک بڑا پروجیکٹ مل گیا، بہت بڑی آرگنائزیشن کی پروڈکٹ تھی، جس کے اشتہار کے لئے اسے سائن کیا گیا تھا، تین بڑے ملکوں میں اس کی شوٹنگ ہونی تھی، لمبا کام تھا اور اسے کئی ماہ میں سرانجام پانا تھا، نویدہ نے کنٹریکٹ سائن کردیا۔
پارٹی نے تمام انتظامات مکمل کئے اور پھر روانگی کا دن طے پا گیا۔ نویدہ سارے ساز و سامان کے ساتھ پارٹی کے مہیا کئے ہوئے ہوٹل کے ایک کمرے میں منتقل ہوگئی۔ یہاں اس نے نگہت اور اختیار بیگ کو دیکھا جو اسی ہوٹل کے ایک کمرے میں مقیم تھے۔ نویدہ کے دل میں رقابت کا طوفان پھر امنڈ آیا۔ یہاں بھی اس نے اپنے قیمتی طاقتور کیمرے سے ان کی تصویریں بنائیں، پھر جب وہ باہر نکلے تو نویدہ ان کے پیچھے تھی۔ وہ اپنی کار میں یہاں آئی تھی اور چونکہ اسے دوسرے دن صبح ایئرپورٹ پہنچنا تھا، اس لئے اس کا ڈرائیور افضل خان باہر موجود تھا۔ افضل خان کے ساتھ اس نے اختیار بیگ اور نگہت کا تعاقب غفار بیگ کے گھر تک کیا، جہاں اختیار بیگ نے ایک جگہ کار روکی اور پیدل چل کر گھر تک پہنچے۔ نگہت نے باہر سے ہاتھ ڈال کر گیٹ کھولا اور دونوں اندر چلے گئے۔
’’بدکار… بے غیرت انسان!‘‘ اس نے دل میں سوچا، لیکن دونوں کا انداز کچھ پراسرار تھا۔ خاص طور سے یہ کہ اختیار بیگ نے اپنی گاڑی اس گھر سے اتنی دور کیوں چھوڑی تھی، وہ انتظار کرتی رہی، پھر کافی دیر کے بعد وہ واپس آگئے اور کار میں بیٹھ کر چل پڑے۔ وہ واپس ہوٹل میں آئے تھے۔ ان کی یہ بھاگ دوڑ نویدہ کی سمجھ میں نہیں آئی تھی، کیونکہ دونوں رات بھر اسی ہوٹل میں رہے تھے۔ نویدہ کو صبح چھ بجے ایئرپورٹ روانہ ہونا تھا، چنانچہ وہ اپنا ……تجسس ختم کرکے اپنے کام سے چل پڑی۔
پیرس، اسپین، روم کے حسین مقامات پر اپنے کام کی تکمیل کے دوران وہ سب کچھ بھول گئی، لیکن طویل عرصے کے بعد جب اس نے وطن کی سرزمین پر قدم رکھا تو اسے سب کچھ یاد آگیا اور اس کے دل کی نفرت پھر ابھر آئی۔
قدرت بہت سے راز کھولنے پر آمادہ تھی، چنانچہ اسے کچھ پرانے اخبارات پر نگاہ دوڑانے کا موقع ملا، یہ اخبارات مستقل آتے تھے کیونکہ ان میں اس کی اپنی تصاویر کسی پروڈکٹ کی پبلسٹی کے لئے چھپتی تھیں، تبھی اس کی نظریں ان خبروں پر پڑیں جن میں بہن کے قاتل کو ہائیکورٹ سے عمر قید کی سزا… ایسی خبریں بہت سی ہوتی ہیں لیکن ان میں نگہت کی تصویر دیکھ کر اس نے پہچان لیا کہ یہ وہی لڑکی ہے جو اختیار بیگ کے ساتھ نظر آئی تھی، آخری رات…!
اس نے ان تاریخوں کے تمام اخبارات پڑھ ڈالے، اختیار بیگ کا نام بھی سامنے آیا جس نے یہ استغاثہ دائر کیا تھا اور نگہت کی …… کی گئی تھیں، جس نے ضمیر کی آواز پر شوہر کے خلاف گواہی دے کر اسے سزا دلوائی تھی۔
نویدہ تمام صورتحال سے آگاہ ہوگئی، وہی رات تھی جب اس نے ان دونوں کو ہوٹل میں دیکھا تھا۔ وہ اس تاریخ کو کیسے بھول سکتی تھی، جب وہ اپنے دورے پر روانہ ہوئی تھی۔
’’اومائی گاڈ! وہ دونوں اس عورت کو قتل کرنے کے لئے اس گھر میں گئے تھے اور وہ بدکار شخص قاتل بھی ہے، میں تجھے موت کی سزا دلوائے بغیر نہیں رہوں گی اختیار بیگ! تیرے برے دن میرے ہاتھوں لکھے تھے۔‘‘ اس نے سوچا۔
اس نے اس بارے میں افضل خان سے بات کی، افضل خان اس کا وفادار ملازم تھا اور نویدہ پر گزرے تمام لمحات سے واقف تھا۔
’’ممکن ہے تمہیں عدالت میں گواہی دینی پڑے۔‘‘
’’ہم دیں گے بی بی! ایک بے گناہ کو سزا ملی ہے اور گناہگار عیش کررہا ہے۔‘‘ افضل خان نے کہا۔ نویدہ نے تمام تیاریاں کیں، ان تمام تصویروں کے پرنٹ تیار کرائے جو اس نے بنائی تھیں، پھر اس نے اپنے ذرائع سے کام لے کر اس وکیل کے بارے میں معلومات حاصل کیں جو غفار بیگ کا وکیل صفائی تھا۔
٭…٭…٭
طارق مفتی نے نویدہ کو فوراً پہچان لیا۔ وہ اسے بہت سی کمرشلز میں دیکھ چکا تھا، اس کے علاوہ بہت سے ایسے ہورڈنگز بھی شہر میں جگہ جگہ نظر آتے تھے جن پر نویدہ کی تصویریں ہوتی تھیں۔
’’جی نویدہ صاحبہ! کیسے تشریف لانا ہوا؟‘‘
’’سر! آج کل آپ ایک کیس پر کام کررہے ہیں، ایک خاتون ریحانہ کے قتل کے کیس پر… میں اس سلسلے میں آپ کے پاس آئی ہوں۔‘‘
’’اوہ، مس نویدہ! آپ اس کیس کے بارے میں کیا جانتی ہیں؟‘‘ طارق مفتی نے چونک کرکہا اور نویدہ اسے تفصیل بتانے لگی۔ اس نے کم و کاست پوری تفصیل بتا دی۔ طارق کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا، اس سے شاندار کامیابی اور کیا حاصل ہوسکتی تھی، اس نے فوراً شاہ میر سے رابطہ قائم کیا اور اسے مختصراً تفصیل بتائی۔
’’تم نویدہ کو تھانے نہ لائو، میں تمہارے آفس آرہا ہوں۔‘‘ شاہ میر نے کہا اور کچھ دیر کے بعد وہ سادہ لباس میں صفورا کے ساتھ طارق مفتی کے آفس پہنچ گیا۔
نویدہ نے تحسین آمیز نظروں سے اس خوبصورت جوڑے کو دیکھا تھا اور اس بات پر حیرت ظاہر کی تھی کہ ان کا تعلق پولیس سے ہے۔ طارق مفتی کی فرمائش پر نویدہ نے پوری داستان دوبارہ سنائی اور شاہ میر مسکرانے لگا۔ پھر وہ بولا۔ ’’اسے کہتے ہیں کہ جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا…!‘‘ ہوٹل سے اختیار بیگ کے قیام کا ریکارڈ تاریخ کے ساتھ، افضل خان کی گواہی، سب سے بڑھ کر یہ تصویریں…! مبارک ہو مفتی صاحب! آپ نے ناظم حسین کو چاروں شانے چت کردیا۔‘‘
’’میں الہٰ دین کے چراغ کے جن کو عدالت آنے کی دعوت دیتا ہوں۔‘‘ طارق مفتی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
٭…٭…٭
’’جناب والا، جب ہائی کورٹ میں ملزم کی بیوی نے آکر اس کے خلاف گواہی دی تو ہم دنگ رہ گئے۔ کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑی اس بیان نے۔ لیکن دل نے تسلیم نہیں کیا کہ غفار بیگ بہن کا قاتل ہوسکتا ہے۔ البتہ اس بات پر شدید حیرت تھی کہ اختیار بیگ جو صرف مقتولہ کے شوہر کا بھائی تھا، مرنے والی کا اتنا ہمدرد کیوں بن گیا، جبکہ مرنے والی اس کا گھر تک چھوڑ آئی تھی۔ تحقیقات کی تو بہت سی حقیقیتیں آشکار ہوئیں۔ بات وہی دولت کی تھی جو غفار بیگ کو سزا کے بعد ان دونوں کے قبضے میں آنے والی تھی۔ ایک نکتہ سب سے اہم تھا، وہ یہ کہ نگہت اس رات اپنے گھر پر موجود تھی یا نہیں۔ سارا انحصار اس پر تھا۔ چونکہ تمام کام ایک مؤثر منصوبے کے تحت کئے گئے تھے، جیسا کہ جناب والا کو بتایا گیا ہے۔ اس لئے بڑی مشکل ہو رہی تھی۔ لیکن قدرت اصلیت سامنے لانا چاہتی تھی، اس نے نویدہ کو بھیج دیا۔ ہوٹل میں مرزا اختیار بیگ نے اپنے اصل نام سے ہی کمرہ حاصل کیا تھا، جس کی تصدیق ہوٹل کے ریکارڈ اورکاؤنٹر منیجر کی گواہی سے ہوتی ہے۔ نویدہ صاحب کے ڈرائیور افضل خاں کے بیان حلفی اور ان تصویروں سے ہوتی ہے…‘‘
اس کے بعد اختیار بیگ کو کٹہرے میں طلب کیا گیا اور طارق مفتی نے اس سے سوالات کئے تو وہ بالکل ہی نروس ہوگیا۔ یہی کیفیت نگہت کی تھی، وہ تو جرح کے درمیان رو ہی پڑی۔ آخر میں اس نے اعتراف کرلیا کہ سارا کھیل اختیار بیگ نے کھیلا تھا اور وہ اس کے کہنے پر اس کی آلہ کار بنی تھی۔
عدالت کا فیصلہ ہے کہ ملزم غفار بیگ پر مسماۃ ریحانہ بیگم کے قتل کا الزام ثابت نہیں ہوتا، اس لئے اسے باعزت بری کیا جاتا ہے…اس کے ساتھ ہی عدالت حکم دیتی ہے کہ مرزا اختیار بیگ اور نگہت غفار کو ریحانہ بیگم کے قتل کے الزام میں گرفتار کر کے ان پر قتل کا مقدمہ قائم کیا جائے اور اس کیس کی ازسرنو تفتیش کی جائے…‘‘ جج صاحب نے اپنا فیصلہ سنا دیا… یوں اصل مجرم بالآخر کیفرکردار کو پہنچ گئے اور قدرت کی جانب سے فراہم کردہ گواہی کے باعث غفار بیگ ایک ناکردہ جرم کی سزا پانے سے بچ گیا۔
(ختم شد)