Ghalat Rah | Episode 1

329
ہوش آنے پر مقبول کو اپنے سر میں درد سا محسوس ہوا۔ وہ چند ثانیوں تک خالی الدماغی کی سی کیفیت میں مبتلا رہا۔ جسم میں بھی اسے دُکھن کا احساس ہوا۔ اس نے دو ایک بار اپنا سر جھٹک کر کچھ یاد کرنے کی کوشش کی کہ پتا چلے آخر اس کے ساتھ ہوا کیا تھا، لیکن وہ کچھ یاد نہیں کر پا رہا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ اسے یاد آنے لگا۔
شائستہ سے اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ وہ دونوں ہنی مون کے لیے مری آئے تھے۔ دونوں بہت خوش تھے۔ کافی شاپ میں ایک اَجنبی ان سے ملا تھا اور پھر… اسے لگا وہ کچھ بھول رہا ہے۔ دوبارہ دماغ پر زور دیا۔ بدقّت تمام اس نے آنکھ کھولی تھی اور ایک لڑکی کا دُھندلا سا چہرہ اپنے اُوپر جھکا دیکھا۔
’’شکر ہے تمہیں ہوش آ گیا۔‘‘ لڑکی نے کہا۔
مقبول کے جسم میں ایک بار پھر درد کی لہریں اُبھریں۔ اس کے حلق سے بے ساختہ کراہ نما سی چیخ نکلی اور وہ دوبارہ دُنیا و مافیہا سے بے خبر ہوگیا۔
اس بار اس کا شعور بیدار ہوا تو اس کی آنکھیں نہیں کھلیں، لیکن باتیں کرنے کی آوازیں اس کی سماعت سے ٹکرانے لگیں۔
’’میں اسے کوئی مسکّن دوا دے دوں گا۔ صبح جب یہ بیدار ہوگا تو بالکل ٹھیک ہوگا۔‘‘ ایک مانوس سی مردانہ آواز نے کہا۔ پھر اس کے سر کو چھوا گیا جہاں ٹیسیں اُٹھ رہی تھیں۔
’’اس کا سر، کار کے دروازے سے ٹکرا گیا تھا۔‘‘ ایک زنانہ آواز نے کہا۔
یہ آواز مقبول کے لیے اَجنبی تھی۔ پھر اسے سہارا دے کر سیڑھیوں پر چڑھایا جانے لگا تو اس نے آنکھیں کھولیں۔ اس کے سامنے جانا پہچانا، وسیع و عریض سفید مکان تھا جس کے پورچ میں اس کی کار موجود تھی اور سامنے دروازے میں آنٹی عشرت کھڑی تھیں۔
’’ارے…! یہ مقبول کو کیا ہوا؟ یہ ایسی حالت میں کیوں ہے؟‘‘ آنٹی عشرت نے پوچھا۔
’’خطرے کی بات نہیں۔ یہ جلد ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘ مقبول نے اپنے دائیں طرف وہی مانوس مردانہ آواز سُنی۔
پھر بائیں طرف سے اَجنبی نسوانی آواز آئی۔ ’’میں شائستہ ہوں۔‘‘
’’شائستہ…؟ کون شائستہ؟‘‘ آنٹی عشرت نے پوچھا۔
’’اوہ…! کیا مقبول نے آپ کو میرے متعلق اطلاع نہیں دی؟‘‘
اس سے آگے مقبول کچھ نہ سن سکا۔ اس کا ذہن ایک بار پھر اندھیرے میں ڈُوب گیا، لیکن اس بار اندھیرا زیادہ گہرا نہ تھا۔ جب یہ دُھندلکا چھٹا تو اس نے اپنے آپ کو بیڈروم میں پایا۔
’’مقبول!‘‘ قریب سے پھر وہی مہربان سی نسوانی آواز اُبھری۔ اس نے مڑ کر آواز کی طرف دیکھا اور اس کی نظر ایک اَجنبی لڑکی پر پڑی۔ اس کے بال شائستہ ہی کی طرح گہرے سیاہ تھے۔ مقبول نے اس سے پہلے کبھی اس لڑکی کو نہیں دیکھا تھا۔
اس نے شائستہ کی تلاش میں دُوسری طرف نظر گھمائی تو اسے اپنا فیملی ڈاکٹر ارسلان بیگ قریب کھڑا نظر آیا۔ وہ تقریباً پچاس کے پیٹے میں تھا اور مقبول اسے بچپن سے اپنے گھر میں آتے دیکھتا رہا تھا۔
’’یہ کیا ہو رہا ہے ڈاکٹر ارسلان؟ تم یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘ مقبول نے پوچھا۔
’’گھبرائو مت مقبول! تمہاری بیوی نے کل مجھے تمہاری طبیعت خراب ہونے کی اطلاع دی تھی اور میں تمہارے ہوٹل پہنچ گیا تھا اور تب ہی سے میں تمہارے ساتھ ہوں۔ آج ہم تمہیں گھر لے آئے ہیں۔‘‘
’’ہم کون؟ شائستہ کہاں گئی؟‘‘
’’میں یہاں بیٹھی ہوں ڈیئر!‘‘ لڑکی نے ملائمت سے کہا۔
’’تم پاگل ہو، میری بیوی شائستہ کہاں ہے؟‘‘ مقبول اُٹھ بیٹھا۔
’’میں تمہاری شائستہ ہوں ڈارلنگ!‘‘ لڑکی نے ملائمت سے کہا۔
’’یہ میری بیوی نہیں ہے ڈاکٹر صاحب!‘‘ اس نے ڈاکٹر ارسلان بیگ کی طرف مڑ کر کہا۔ وہ اس کا فیملی ڈاکٹر تھا اور مقبول کو توقع تھی کہ وہ اس کی بات سمجھنے کی کوشش کرے گا لیکن اس کی آنکھوں سے یوں ترحم جھانک رہا تھا گویا اسے مقبول کی حالت دیکھ کر افسوس ہو رہا ہو۔
مسئلہ یہ تھا کہ ڈاکٹر ارسلان نے بھی شائستہ کو نہیں دیکھا تھا۔ اس لیے اُسے شائستہ سمجھ لینے میں اس کا بھی کوئی قصور نہیں تھا۔
’’میں نے تمہیں ایک ماہ پہلے خبردار کیا تھا۔‘‘ ڈاکٹر ارسلان نے سخت لہجے میں کہا۔ ’’کہ… تمہیں آرام کی ضرورت ہے، مگر تم نے میری بات پر دھیان نہیں دیا۔ فی الحال تم ہلکے سے نروس بریک ڈائون سے گزرے ہو۔ سفر پر روانہ ہوتے وقت تم نے کہا تھا کہ اس بار واپسی پر شاید تمہارے ساتھ ایک دُلہن بھی ہو تو میں اسے مذاق سمجھا تھا۔ دُلہن تو تم ساتھ لے آئے ہو مگر یادداشت کا کچھ حصہ نہ جانے کہاں چھوڑ آئے ہو۔ بہرحال… اب تم صرف آرام کرو، کل کسی وقت مجھ سے مل لینا۔‘‘
مقبول نے ایک بار پھر لڑکی کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر ارسلان کو اس کے شائستہ ہونے میں کوئی شبہ نہ تھا اور وہ اس سلسلے میں کچھ سننے کو بھی تیار نہ تھا۔ یوں سردست، اس کے خیالات میں تبدیلی لانے کی کوشش بے سُود تھی۔
دفعتاً لڑکی اُٹھ کھڑی ہوئی اور اپنا فیشن ایبل لباس دُرست کرتے ہوئے بولی۔ ’’میں نیچے جا رہی ہوں ڈیئر! میری ضرورت پڑے تو آواز دے لینا۔‘‘
مقبول بھی یہی چاہتا تھا کہ وہ کچھ دیر کے لیے یہاں سے چلی جائے تاکہ وہ کھل کر اس کے بارے میں ڈاکٹر ارسلان کو بتا سکے، مگر اس کے جاتے ہی مقبول سے پہلے ڈاکٹر بول پڑا۔ ’’فکر مت کرو مقبول! جلد ہی تمہیں ہر چیز یاد آ جائے گی۔ تمہاری بیوی تمہیں بتائے گی کہ تم کیا کیا اول فول بکتے رہے ہو۔‘‘
’’ڈاکٹر! وہ میری بیوی نہیں ہے۔‘‘ اس نے سخت لہجے میں کہا۔
’’تم نے بہت بے پروائی سے وقت گزارہ ہے۔‘‘ ڈاکٹر اس کی بات پر دھیان دیے بغیر بدستور اپنی کہے جا رہا تھا۔ ’’تم سفر کرتے رہے۔ شائستہ نے مجھے بتایا کہ سفر کے دوران بھی تم کام کرتے رہے۔ اب صرف آرام کرو تاکہ تمہارے اعصاب پر اس کا اچھا اثر پڑے۔‘‘
مقبول گدّے تیار کرنے والی ایک فیکٹری کا مالک تھا اور اپنی دانست میں دو ہفتے پہلے مال کی مارکیٹنگ کے سلسلے میں سفر پر روانہ ہوا تھا، لیکن ڈاکٹر نے اسے بتایا کہ اسے گھر سے نکلے ہوئے تین ہفتے ہو چکے ہیں۔
’’کیا جہاں آراء کو معلوم ہے کہ تم نے شادی کرلی ہے؟‘‘ ڈاکٹر ارسلان نے پوچھا۔
جہاں آراء ایک خوبصورت لڑکی تھی جس سے ماضی قریب میں مقبول کا شادی کرنے کا ارادہ تھا۔
’’نہیں۔‘‘ مقبول کا جواب تھا۔
’’اسے صدمہ ضرور ہوگا۔ بہرحال، اب شائستہ کا خیال رکھنا تمہارا فرض ہے۔‘‘ کہتے ہوئے ڈاکٹر ارسلان نے اپنا میڈیکل بیگ اُٹھایا اور رُخصت ہوگیا۔
اس کے جانے کے کچھ دیر بعد مقبول نے باتھ روم جا کر اپنے چہرے پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارے اور آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا۔ اسے جانے کیوں اپنے آپ سے خوف آنے لگا۔ اس کے چہرے پر درماندگی اور پریشاں حالی نقش تھی۔
’’مقبول ڈیئر! تمہاری طبیعت اب ٹھیک ہے نا…؟‘‘ اس نے اپنی خواب گاہ میں لڑکی کی آواز سُنی۔ اس نے جلدی سے چہرہ خشک کیا اور کپڑے دُرست کر کے باہر آگیا۔
وہ اس کے بستر کی پٹی پر بیٹھی تھی۔ مقبول اس کے سامنے جا کر کھڑا ہوا اور ایک ٹک اسے دیکھنے لگا۔ پھر بولا۔ ’’تم کون ہو…؟ میری بیوی کہاں ہے؟‘‘
’’خدا کے لیے مقبول! عقل کی بات کرو۔‘‘
مقبول نے اس کے دونوں بازو پکڑے اور جھٹکے سے اسے سیدھا کھڑا کر دیا۔ لڑکی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ برقرار رہی۔ مقبول نے اس کی کلائی کو مروڑتے ہوئے پوچھا۔ ’’تم نے خرم کو اپنے متعلق کیا بتایا ہے؟‘‘
’’اوہ مقبول! میری کلائی چھوڑو، درد ہو رہا ہے۔‘‘ وہ کراہی۔
مقبول نے اسے پلنگ پر دھکا دے دیا اور وہ اپنا لباس دُرست کرنے لگی۔ اس کے جسم پر شائستہ کا لباس موجود تھا اور حد تو یہ تھی کہ اس نے خوشبو بھی وہی لگائی ہوئی تھی جو شائستہ استعمال کرتی تھی۔
مقبول اسے چھوڑ کر دیوار گیر الماری کی طرف بڑھا۔ الماری کھول کر اس نے اندر جھانکا۔ اس کا اور شائستہ کا سوٹ کیس جو سفر میں ان کے ساتھ تھے، الماری میں موجود تھے۔ مقبول نے بے تابی سے شائستہ کا سوٹ کیس کھولا اور چیزیں اُلٹ پلٹ کر دیکھنے لگا۔ تمام ملبوسات اور دیگر سامان شائستہ کا ہی تھا۔ ان کا نکاح نامہ بھی سوٹ کیس میں موجود تھا۔
مقبول کو یاد تھا کہ شائستہ نے اس سرٹیفکیٹ کو فریم کرانے کے لیے اپنی ایک عجیب خواہش کا اظہار کیا تھا اور جب انہوں نے ہوٹل مرگلہ میں کمرہ لیا تھا تو شائستہ نے یہ سرٹیفکیٹ سنگھار میز کے آئینے کےفریم میں ایک کونے میں پھنسا دیا تھا۔
مقبول گھٹنوں کے بل بیٹھا اس سرٹیفکیٹ کو گھور رہا تھا۔ مجھے پولیس کے پاس جانا چاہیے۔ میرے ساتھ کوئی بڑا فراڈ ہوا ہے۔ اس نے سوچا، لیکن پھر اسے خیال آیا کہ وہ پولیس کو کیا بتائے گا۔ اس نے لڑکی کی طرف دیکھا۔ وہ اُس کی جانب دیکھ رہی تھی۔ مقبول کو اپنی جانب متوجہ پا کر وہ محبت سے بولی۔ ’’مقبول! اب تمہاری طبیعت کیسی ہے؟ تمہیں آخر ہو کیا گیا ہے؟ میرے قریب کیوں نہیں آتے۔‘‘
’’شٹ اَپ!‘‘ مقبول چلّایا۔
’’غصہ تھوک دو اور اپنی یادداشت بحال کرنے کی کوشش کرو۔‘‘
’’کچھ نہیں ہوا مجھے۔‘‘ وہ جھلّا کر بولا۔ ’’میری یادداشت بالکل ٹھیک ہے۔‘‘
لڑکی عشوہ طرازیوں پر اُترنے لگی تو مقبول غصّے سے پائوں پٹختا ہوا باتھ روم میں چلا گیا۔ دروازہ مقفل کر کے گہری گہری سانسیں لینے لگا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟
شائستہ نامی وہ اَجنبی لڑکی ثابت کرنے کی کوشش ہی نہیں کر رہی تھی کہ وہ شائستہ ہے بلکہ بڑے اعتماد کے ساتھ ایسا طرزِ عمل اختیار کیے ہوئے تھی کہ اسے کچھ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اسے وہ سب معلوم تھا جو صرف شائستہ کو ہی ’’معلوم‘‘ ہونا چاہیے تھا۔
مقبول ابھی شائستہ کی دلکش باتیں، اس کی معصوم ادائیں کچھ نہیں بھولا تھا اور یہ سب یاد کر کے اس کے دل پر چھریاں سی چل رہی تھیں۔ شائستہ کہاں تھی؟ اس پر کیا بیتی تھی؟ اسے اس سلسلے میں کچھ کرنا چاہیے، لیکن کیا؟ پولیس کے پاس جانے کے لیے اس کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھا۔
اچانک اسے ہوٹل منیجر شہباز کا خیال آیا، اس نے شائستہ کو دیکھا تھا اور ان دونوں کو کمرہ بھی اسی نے دیا تھا۔ یقیناً اس سے کچھ مدد مل سکتی تھی۔ ہوٹل تک کار میں ایک گھنٹے کا سفر تھا۔
وہ نہایا، دھویا، شیو بنایا اور کپڑے پہن کر بیڈروم میں آیا۔ لڑکی جا چکی تھی۔ جوتے اور موزے پہنتے وقت اسے ایک بات اور یاد آئی۔ نبیل اور اس کی بیوی ثمینہ، شائستہ کے بہترین دوستوں میں سے تھے۔ مقبول نے شائستہ کی خواہش پر اپنی شادی کا انٹرنیٹ پر ایک خوبصورت کارڈ بنایا تھا۔ اس کا کلر پرنٹ نکال کر شائستہ نے اپنے ہاتھ سے مختصر سی شاعرانہ طرز کی تحریر لکھی تھی اور اس نے مقبول سے بھی دو ایک سطریں لکھوائی تھیں۔ وہ کارڈ اس نے مال روڈ کے ایک ڈاک خانے سے ان دونوں میاں بیوی کو بھیج دیا تھا۔
مقبول سوچ رہا تھا کہ یہی تحریر شائستہ کے وجود کی نشانی تھی۔ اگر وہ یہ تحریر حاصل کر لیتا اور اس کا موازنہ اس اَجنبی اور فراڈی لڑکی کی تحریر سے کرتا جو اس کی بیوی بنی بیٹھی تھی تو شاید مسئلہ حل کرنے میں کوئی مدد مل سکتی۔ لیکن اس کے باوجود پولیس سے مدد لینا بھی اَزبس ضروری تھا اور اس کے لیے اس کے ذہن میں خرم کا نام اُبھرا تھا۔ وہ اس کا گہرا دوست تو نہیں تھا تاہم… میل جول کسی حد تک دوستانہ ہی تھا۔ خرم خفیہ پولیس میں انسپکٹر تھا۔ تاہم اس نے پہلے نبیل سے رابطہ کرنے کا سوچا۔ اس نے جوتوں کے بند باندھ کر نبیل کو فون کیا۔ دُوسری جانب بیل جاتی رہی، کسی نے ریسیو نہ کیا۔ اس نے سلسلہ منقطع کر دیا۔ پھر اسے خیال آیا کہ انسپکٹر خرم سے بات کرے۔ لیکن سردست اس نے اس سے بات کرنے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔
وہ بیڈروم سے نکل کر نیچے آیا۔ عشرت آنٹی بھی آئی ہوئی تھیں۔ وہ اور بہروپیا لڑکی کچن ٹیبل کے پاس بیٹھی تھیں اور ٹیبل پر پڑے چائے کے برتن بتا رہے تھے کہ وہ خاصی دیر سے گپ شپ کر رہی ہیں۔ آنٹی عشرت اس لڑکی سے خاصی خوش معلوم ہوتی تھیں۔
عشرت آنٹی اس کے باپ کی بہن تھیں۔ ورثے میں انہیں خاصی دولت ملی تھی لیکن انہوں نے چالیس سال کی عمر تک پہنچ کر بھی شادی نہیں کی تھی۔
مقبول اپنے باپ کی وفات کے بعد سے ان کے ساتھ گھر میں رہ رہا تھا۔ وہ بڑے ٹھنڈے دماغ کی خاتون تھیں لیکن ایک بار جو خیال ذہن میں بیٹھ جاتا تھا، اسے مٹانا تقریباً ناممکن ہوتا تھا۔ وہ غالباً یقین کر چکی تھیں کہ یہ لڑکی شائستہ ہے اور مقبول اس سے شادی کر چکا ہے۔ اب یہ خیال ان کے ذہن سے نکالنا بے حد مشکل تھا۔
اس نے فریبی لڑکی کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھا اور عشرت آنٹی سے کہا۔ ’’میں تھوڑی دیر کے لیے باہر جا رہا ہوں۔‘‘
’’بُری بات ہے مقبول!‘‘ عشرت آنٹی نے شفقت بھرے لہجے میں کہا۔ ’’تمہیں اب چند دن آرام کرنا چاہیے اور اپنا اور اپنی بیوی کا خیال رکھنا چاہیے۔ ڈاکٹر ارسلان بھی یہی کہہ کر گئے تھے۔ اگر تمہیں فیکٹری کی فکر ہے تو ملازم اسے سنبھال لیں گے۔‘‘
اس نے بحث فضول سمجھی اور خاموشی سے دروازے کی طرف چل دیا۔ کار اسٹارٹ کرتے وقت وہ بے بسی سے ہونٹ کاٹ رہا تھا۔ وہ پولیس کے پاس بھی نہیں جا سکتا تھا۔ اگر جاتا تو ان سے کیا کہتا کہ جناب! اس لڑکی کو روکئے، یہ زبردستی میری بیوی بن رہی ہے؟ اس کی بات میں کوئی وزن نہیں تھا اور کوئی ثبوت نہیں تھا کہ وہ اس کی بیوی نہیں ہے۔ انہی خیالوں میں اُلجھا ہوا وہ مرگلہ ہوٹل کی طرف سفر کرنے لگا۔
مقبول نے خاصی تیز رفتاری سے سفر کیا تھا اور پون گھنٹے میں وہ ہوٹل پہنچ گیا تھا۔ دوپہر ڈھل رہی تھی لیکن دُھوپ میں ابھی تک تمازت تھی۔ گاڑی پارکنگ لاٹ میں کھڑی کر کے وہ جھیل کے کنارے آ گیا۔ یہاں وہ شائستہ کے ساتھ اکثر آیا کرتا تھا۔ کنارے پر لکڑی کی بینچ تھی جہاں گھنٹوں وہ اور شائستہ بیٹھے باتیں کرتے رہتے تھے۔ اس کا ذہن دھیرے دھیرے بیتے دنوں کی آغوش میں ہلکورے لینے لگا۔
وہ مارکیٹنگ کے سلسلے میں لاہور سے پنڈی اور پھر اسلام آباد پہنچ گیا تھا۔ مری اس کا آخری اِسٹے تھا اور ہنی مون کا مقام بھی۔ اسے کاروبار کرنا، اچھا تو نہیں لگا مگر شائستہ نے کہا کہ کاروبار کا حرج بھی اچھا نہیں۔ اس لیے ایک پنتھ دو کاج نمٹا لینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ پھر یوں بھی ان کے فیملی ڈاکٹر نے اسے ہدایت کر رکھی تھی کہ وہ مسلسل کام کرتا رہا اور آرام و تفریح کے لیے بھی وقت نہ نکالا تو بالآخر اس کے اعصاب جواب دے جائیں گے۔ چنانچہ وہ اس طرف نکل آیا۔ اب اس نے تمام کاروباری تفکرات سے نجات حاصل کرلی تھی اور شائستہ کے ساتھ نئی زندگی کی خوشیاں منا رہا تھا کہ یہ سانحہ رُونما ہوا اور یوں اسے ایک نئی فکر اور پریشانی نے آن لیا۔
شائستہ کے بارے میں سوچتے ہوئے اس کے سینے میں ایک ٹیس سی اُٹھی اور وہ یادوں کے صحرا سے نکل آیا۔ اس کا جسم پسینے میں بھیگ رہا تھا۔ وہ ہوٹل کی طرف مڑا اور ڈائننگ لائونج سے گزر کر اندر پہنچا۔ ہوٹل کا منیجر شہباز، کیشئر کے کائونٹر پر کھڑا تھا۔ وہ مقبول کی طرف دیکھ کر چونکا۔
’’میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ مقبول نے کائونٹر پر جھک کر کہا۔ ’’ذرا باہر پورچ میں آئو گے؟‘‘
’’کیا بات ہے مقبول صاحب؟ خیریت تو ہے نا؟‘‘ کہتے ہوئے وہ کائونٹر کے پیچھے سے نکل آیا۔ ’’ویسے آپ کی طبیعت پہلے سے بہتر نظر آ رہی ہے۔‘‘
اس کے اس جملے پر مقبول چونکے بنا نہ رہ سکا۔ اس نے شہباز سے پوچھا۔ ’’اس سے تمہاری کیا مراد ہے کہ میری طبیعت پہلے سے بہتر نظر آ رہی ہے؟‘‘
’’میں بے حد صاف گو انسان ہوں مقبول صاحب!‘‘ وہ سنجیدگی سے بولا۔ ’’کبھی کبھی میرے ساتھ بھی ایسا ہو جاتا ہے جب میں نشے میں ہوتا ہوں۔‘‘
شہباز کی بات سن کر مقبول کو یقین ہوگیا کہ یہ شخص اس کے سامنے صرف جھوٹ بولے گا۔ اس نے کہا۔ ’’میں تم سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب میں اپنی بیوی کے ساتھ آیا تھا تو میری طبیعت کیسی تھی؟‘‘
’’بالکل ٹھیک تھی۔‘‘ شہباز نے جواب میں کہا۔
’’میں نے تمہیں اپنی بیوی سے ملوایا بھی تھا۔ بتائو کہ آج جب مجھے یہاں سے لے جایا گیا تو کیا میرے ساتھ وہی عورت تھی جسے میں نے تم سے ملوایا تھا؟‘‘ مقبول نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر پوچھا۔
وہ اس کی بات سن کر ہنسا اور مسکراتے ہوئے بولا۔ ’’ظاہر سی بات ہے۔ ویسے میری بیوی بھی اکثر مجھ پر الزام لگاتی ہے کہ میں اس وقت کسی دوسری عورت کے ساتھ تھا۔‘‘
مقبول کو یقین ہوگیا کہ اس شخص سے حقائق معلوم کرنے کی توقع فضول ہے۔ اس نے گھونسا اس کے چہرے کے سامنے لہراتے ہوئے کہا۔ ’’تمہیں کس نے جھوٹ بولنے کا معاوضہ دیا ہے؟‘‘
’’کیا بکواس ہے؟‘‘ شہباز کی پیشانی میں بل پڑ گئے۔
’’تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ میں کیا جاننا چاہتا ہوں۔‘‘ مقبول نے اس کا گریبان پکڑ لیا۔
’’نشے نے تمہارا دماغ خراب کر دیا ہے۔ میرا گریبان چھوڑو، ورنہ میں پولیس کو بلا لوں گا۔‘‘ شہباز غصّے سے بولا۔
تمام تر غصّے کے باوجود مقبول کو اس حقیقت کا احساس ہوگیا کہ وہ اپنے طرزِ عمل سے اپنی اُلجھنوں میں اضافہ کرنے کے سوا کچھ نہیں کر رہا۔ احساس بے بسی سے اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اُس نے شہباز کا گریبان چھوڑ دیا اور تیز تیز قدم اُٹھاتا باہر آ گیا۔
کار میں وہ کئی لمحے تک اسٹیئرنگ پر ہاتھ رکھے بے حس و حرکت بیٹھا رہا، ’’شائستہ! میں تمہیں کہاں تلاش کروں؟‘‘ اس نے اپنے آپ سے کہا۔ ’’تم کوئی سپنا تو نہیں تھیں جو آنکھ کھلتے ہی ٹوٹ گیا؟‘‘
اس کے ذہن میں اَن گنت خیالات گڈمڈ ہو رہے تھے۔ اگر وہ اپنے دوست خرم کو یہ ساری کہانی سنائے تو کیا وہ یقین کر لے گا؟ کیا وہ اس سے دوستانہ ہمدردی محسوس کرتے ہوئے اس کی مدد کرے گا یا محض پولیس والوں کی طرح ٹھوس ثبوت کے بغیر اس کی باتوں کو دیوانے کی بڑ سمجھے گا؟ وہ پولیس انسپکٹر تھا۔ اپنے ذہن پر ان تمام اذیت ناک سوالوں کا بوجھ لیے وہ واپس روانہ ہوگیا۔
وہ بے حد نقاہت محسوس کر رہا تھا اور کار چلانے میں بھی اسے دقّت پیش آ رہی تھی۔ وہ پانچ بجے کے قریب شہر واپس پہنچا تو اسے احساس ہو رہا تھا کہ اکیلا اس مسئلے سے نہیں نمٹ سکتا تھا۔ اسے کسی کی مدد اور مشورے کی ضرورت تھی۔ وہ ایک کافی شاپ کے سامنے رُک گیا۔ ایک کپ کافی پی، اس کے بعد اس نے نبیل کو فون کیا مگر رابطہ نہ ہو سکا۔
ایک گھنٹہ گزارنے کے لیے وہ ایک ریستوران میں کھانا کھانے بیٹھ گیا۔ وہ غور کر رہا تھا کس طریقے سے وہ کسی کے سامنے اپنے مسئلے کی وضاحت کرسکتا ہے۔ کوئی عام آدمی اس لڑکی کو دیکھتا جو اس کی بیوی بنی بیٹھی ہے تو شاید یہی کہتا کہ اس کی بیوی اگر غائب ہوگئی ہے تو کیا ہوا۔ اس کے بدلے میں جو عورت ملی ہے اسے دیکھ کر شکر ادا کرنا چاہیے، لیکن ایک عام آدمی کو بھلا کیا معلوم تھا کہ شائستہ اس کے لیے کیا تھی۔ یہ سوچتے ہوئے اچانک اسے عجیب سا احساس ہوا کہ وہ شائستہ کے متعلق کچھ بھی تو نہیں جانتا۔ وہ کون تھی؟ کہاں رہتی تھی؟ کس خاندان سے اس کا تعلق تھا حتیٰ کہ اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اس کی عمر کتنی تھی؟ جب بھی باتوں باتوں میں کوئی ایسا پہلو آیا تھا تو شائستہ نے یہی کہا تھا۔ ’’آخر ان باتوں کی اہمیت کیا ہے؟ سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ میں تم سے محبت کرتی ہوں اور تم مجھ سے… جب میں تمہارے متعلق کچھ پوچھنا، جاننا نہیں چاہتی تو تم بھی مت پوچھو۔‘‘
شائستہ کے ساتھ گزارے ہوئے ایک ایک لمحے کی یاد اس کے ذہن میں رینگنے لگی۔ پھر اسے یاد آیا کہ انہوں نے چیڑ اور دیودار کے ایک اوپن ایئر ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر خوشیوں بھری شامیں گزاریں۔ پھر اسے ایک آدمی یاد آیا۔ وہ نہ جانے کس طرح ان کے چھوٹے سے جشنِ مسرت میں شامل ہوگیا تھا۔ اس نے بتایا تھا کہ اس کی شادی بھی چند دن پیشتر ہی ہوئی ہے اور اس کی بیوی کسی کام سے کہیں گئی ہے۔ اس کے چہرے پر سب سے نمایاں چیز اس کی بھنویں تھیں۔ نہایت غیر معمولی طور پر گھنی اور آپس میں ملی ہوئی بھنویں۔ شائستہ ایک دن اس کی فیکٹری میں جاب کے لیے آئی تھی اور پھر مقبول کے دل کو بھا گئی تھی۔
اچانک مقبول نے چونک کر گھڑی دیکھی۔ ایک گھنٹہ ہو چکا تھا۔ بالآخر اس نے انسپکٹر خرم سے بات کرنے کی ٹھانی۔ چنانچہ خرم سے فون پر رابطہ ہوتے ہی وہ بولا۔ ’’خرم! میں… میں ایک عجیب مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔‘‘ اس نے کہا۔ ’’مجھے تمہارے مشورے کی ضرورت ہے۔‘‘
’’کیا بات ہے؟‘‘ خرم نے محتاط لہجے میں پوچھا۔
’’میں تم سے ملنا چاہتا ہوں، کہیں باہر، دفتر میں نہیں۔‘‘ مقبول نے مضطربانہ لہجے میں کہا۔
’’میں دو گھنٹے بعد فارغ ہو جائوں گا۔ تم میرے گھر کے نزدیک ریسٹورنٹ میں آ جائو۔‘‘ خرم نے جواب دیا۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ مقبول نے کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا۔ لیکن انتظار کا عفریت یوں اس کے سامنے کھڑا تھا گویا اسے زندہ نہیں چھوڑے گا۔ یہ دو گھنٹے اسے دو صدیوں سے زیادہ طویل محسوس ہو رہے تھے۔ وہ پریشان ہونے لگا کہ یہ دو گھنٹے کیسے گزریں گے۔ پھر اسے جہاں آراء کا خیال آیا۔ کیوں نہ اتنی دیر میں وہ اس کے ہاں ہو آئے۔ جہاں آراء کے گھر کی طرف جاتے ہوئے اس کے دل میں خوابیدہ، بھولی بسری یادیں کسک دینے لگیں۔
جہاں آراء کے ساتھ اس کا بچپن بیتا تھا۔ آغازِ شباب کی پہلی خوش گوار سنسنی خیز یاد بھی اس کے ساتھ وابستہ تھی۔ وہ اس کی فرسٹ کزن تھی۔ ماں باپ فوت ہو چکے تھے تو وہ دُور کی ایک رشتے کی خاتون کے ہاں رہنے لگی تھی۔ اسے ان بُرے وقتوں میں مقبول کے ساتھ کی اشد ضرورت تھی، پھر حالات کے روایتی تھپیڑوں نے انہیں دُور کر دیا۔
آج وہ گزرے لمحوں کی صلیب پاٹ کر جہاں آراء کے دَر پر آ پہنچا تھا۔ اس نے جھجکتے جھجکتے گھنٹی کا بٹن دبایا۔ دروازہ جہاں آراء نے ہی کھولا، کئی لمحوں تک وہ ساکت کھڑے ایک دُوسرے کو دیکھتے رہے۔
’’جہاں آراء!‘‘ بالآخر مقبول کے حلق سے پھنسی پھنسی سی آواز نکلی۔ ’’کیا میں چند منٹ کے لیے اندر آ سکتا ہوں؟‘‘ اس نے پوچھا۔ ’’وہ… مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے، میں تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں۔‘‘
’’اب کہنے کے لیے کیا رہ گیا ہے مقبول؟ میں تمہارا تصور ذہن سے نکال کر پھینک چکی ہوں۔‘‘ یہ الفاظ جہاں آراء نے کچھ اس انداز میں ادا کیے تھے جیسے ڈسٹ بن میں کوئی کچرا پھینکنے کی بات کر رہی ہو۔
’’تم نے آج مجھے فون کیا تھا؟‘‘ اچانک مقبول کو یاد آیا۔
’’بھول جائو اسے۔‘‘ جہاں آراء نے کہا۔
چند لمحے تک وہ سوگوار سی نظروں سے ایک دُوسرے کی طرف دیکھتے رہے پھر مقبول نے آہستگی سے کہا۔ ’’میں نے شادی کر لی ہے جہاں آراء!‘‘ کہتے ہوئے اس نے جہاں آراء کے چہرے پر بدستور اپنی نظریں جمائے رکھی تھیں۔ مگر جہاں آراء پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں ہوا، البتہ اس نے آہستگی سے دروازہ بند کرنا شروع کر دیا اور بہت مدھم آواز میں صرف اتنا کہا۔ ’’مبارک ہو۔‘‘
مقبول نے اسے روکنے کی کوشش کرنا چاہی تو وہ بولی۔ ’’میں بہت مصروف ہوں مقبول! مجھے کسی سے ملنے جانا ہے۔‘‘ پھر وہ پکارتا رہ گیا اور دروازہ بند ہوگیا۔
٭… ٭…٭
ریسٹورنٹ کے ایک بوتھ میں وہ دو کپ چائے پی چکا تو خرم وہاں پہنچ گیا۔ وہ سادہ لباس میں تھا۔ انہوں نے کافی پی، چند لمحے رسمی باتیں کیں، پھر خرم نے پوچھا۔ ’’تم کس لیے پریشان ہو؟‘‘
’’میری بات سن کر شاید تم یہی سمجھو کہ میرا ذہنی توازن ٹھیک نہیں۔‘‘ بالآخر اس نے تھکے سے لہجے میں کہا۔
’’تم بتائو تو سہی، فیصلہ بعد میں ہوگا۔‘‘ خرم نے کہا۔
مقبول نے اسے ساری کہانی سُنائی۔ مقبول کے خاموش ہونے پر خرم نے پوچھا۔ ’’ڈاکٹر ارسلان کیا کہتا ہے؟‘‘
’’وہ لڑکی کی بات پر یقین رکھتا ہے، میری بے ہوشی کے دوران لڑکی ہی نے اسے بلایا تھا۔ اسے وہ تمام معلومات حاصل ہیں جو شائستہ کو تھیں۔‘‘
’’کیا اس کی شکل و صورت بھی شائستہ سے ملتی ہے؟‘‘ خرم نے پوچھا۔
’’نہیں، سوائے اس کے کہ اس کے بال شائستہ ہی کی طرح گہرے سیاہ ہیں۔‘‘ مقبول نے جواب دیا۔
’’رنگے ہوئے تو نہیں ہیں؟‘‘ خرم نے پوچھا۔
’’میں کیسے کہہ سکتا ہوں۔ میں تو شائستہ کے بالوں کے بارے میں بھی یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتا۔ اس کی قربت میں مجھے دُنیا جہاں کی کسی چیز کا ہوش نہیں رہتا تھا۔ مجھے اس کے متعلق کسی قسم کی معلومات نہیں۔‘‘
مقبول نے کہا۔ ’’میں آج اس ہوٹل میں بھی گیا تھا لیکن منیجر شہباز نے اُلٹا میرا مذاق اُڑایا اور کہا میں اس وقت اپنی بیوی ہی کے ساتھ تھا، جب مجھے وہاں سے واپس لایا گیا۔‘‘
’’آخری منظر تمہیں کون سا یاد ہے؟‘‘ خرم نے پوچھا۔
’’میں اور شائستہ ہوٹل کے کافی ہال میں تھے تو ایک اَجنبی شخص وہاں آ بیٹھا۔ ہمیں بُرا تو لگا مگر اخلاقاً چپ رہے۔ پھر اچانک کیا ہوا کہ مجھے کچھ ہوش نہ رہا۔‘‘
’’کافی پینے کے دوران جو اَجنبی تمہارے ساتھ شریک ہوگیا تھا، اسے دوبارہ دیکھو گے تو پہچان لو گے؟‘‘ خرم نے پوچھا۔
’’یقیناً۔‘‘ مقبول نے جواب دیا۔
’’انتہائی عجیب معاملہ ہے۔‘‘ خرم نے قدرے اُلجھ کر کہا۔ ’’شائستہ کو کوئی ضرور جانتا ہوگا۔ ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ ایک انسان کا وجود ہو لیکن وہ کسی کے علم میں آئے بغیر ناپید ہو جائے، بہر کیف… میرے لیے زیادہ پریشان کن مسئلہ اسے تلاش کرنا نہیں بلکہ یہ معلوم کرنا ہے کہ یہ دُوسری لڑکی کون ہے؟‘‘
مقبول خاموش رہا۔
’’دُوسری پریشان کن بات یہ ہے کہ اگر شائستہ کا واقعی کوئی وجود تھا اور کسی نے اسے غائب کر دیا ہے تو وہ کب تک اسے چھپائے رکھے گا؟ اگر وہ اسے چھوڑے گا تو حقیقت سامنے آ جائے گی۔‘‘ مقبول کی ریڑھ کی ہڈّی میں سرد سی لہر دوڑ گئی۔ اس نکتے پر تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا۔
’’تم اس لڑکی کی اُنگلیوں کے نشانات مجھے فراہم کر سکتے ہو؟ گلاس اس مقصد کے لیے موزوں رہے گا۔ جس گلاس میں وہ پانی وغیرہ پی رہی ہو وہ تم کسی طرح غائب کرلینا۔‘‘ خرم اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے بولا۔ ’’میں دراصل دیکھنا چاہتا ہوں کہ اس کا کوئی پولیس ریکارڈ تو موجود نہیں۔ اب میں چلتا ہوں۔‘‘
’’تم اس کی رپورٹ درج کرو گے؟‘‘ مقبول نے پوچھا۔
’’میں سوچوں گا۔‘‘ کہتے ہوئے خرم اُٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ پھر گویا اسے کچھ یاد آیا تو بولا۔ ’’تم نے ذکر کیا ہے کہ تم نے اپنے دوست نبیل کو خط بھی لکھا تھا۔ جس میں چند سطریں تمہاری بیوی نے بھی لکھی تھیں، اگر کسی طرح وہ خط مل جائے تو کچھ مدد مل سکتی ہے۔‘‘
’’میں ابھی نبیل کے ہاں جائوں گا۔‘‘ مقبول نے کہا۔
’’ٹھیک ہے، میں ایک دو روز بعد تم سے ملوں گا۔‘‘ انسپکٹر خرم نے کہا اور رُخصت ہو گیا۔
اس کے جانے کے چند منٹ بعد مقبول بھی اُٹھا اور نبیل کے گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ نبیل کے گھر کا دروازہ مقفل تھا۔ مایوسی اور شکستگی نے اسے نڈھال سا کر دیا۔ پورچ سے نکل کر وہ اپنی کار کی طرف واپس آیا اور گھر کی طرف چل دیا۔ کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد اسے احساس ہوا کہ اس کا تعاقب کیا جا رہا ہے۔
مقبول کے ذہن پر چھائے ہوئے اضمحلال اور خوف کی جگہ اب ایک طرح کے جوش نے لے لی۔ اس احساس سے اسے اطمینان ہوا کہ اب تک وہ محض واہموں میں مبتلا نہیں تھا بلکہ اس کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی کوئی نہ کوئی توجیہ ضرور موجود تھی۔ ان کی تہ میں کسی کا کوئی مقصد کارفرما تھا۔
اب اسے اپنے تعاقب میں آنے والی کار کے ڈرائیور کا چہرہ ہر قیمت پر دیکھنا تھا۔ وہ تیز رفتاری سے کار دوڑاتا رہا، پھر ایک جگہ اس نے یک لخت بریک لگا دیا۔
اس کی کار کی رفتار آہستہ ہوگئی۔ دُوسری کار اسی رفتار سے آئی اور اس کے برابر سے نکل گئی۔ کوشش کے باوجود وہ ڈرائیور کا چہرہ یا کار نمبر نہیں دیکھ سکا لیکن اسے ایسی جھلک نظر آئی تھی کہ ڈرائیور کی بھنویں بے حد گھنی تھیں۔ وہ کار پرانے ماڈل کی تھی۔
مقبول نے اس کا تعاقب شروع کر دیا۔ دُوسری کار پرانی ہونے کے باوجود تیز رفتاری سے جا رہی تھی۔ اب وہ شہر سے باہر نکل آئے تھے اور ان کی کاریں اندھیری سڑک پر دوڑ رہی تھیں۔ مقبول نے بے خوفی کے ساتھ تعاقب جاری رکھا۔ یوں اس کےذہن پر ایک ہی دُھن سوار تھی کہ کسی طرح اس کار والے کا چہرہ دیکھ لے۔
مقبول کی نظریں اس کی عقبی سرخ بتیوں پر جمی ہوئی تھیں۔ ایک مقام پر پہنچ کر یہ بتیاں اچانک اس کی نظروں سے اوجھل ہوگئیں۔ وہ اندازاً جب اس جگہ پہنچا تو اس کے سامنے ایک دوراہا تھا اور اس کار کی سرخ بتیاں دونوں سمت کہیں نظر نہیں آ رہی تھیں۔
مقبول نے فیصلہ قسمت پر چھوڑتے ہوئے کار دائیں ہاتھ والی سڑک پر موڑ لی اور تیز رفتاری سے چل پڑا۔
ایک میل دُور جا کر اسے احساس ہوا کہ وہ دھوکا کھا گیا ہے۔ اس سڑک پر کہیں بھی وہ کار موجود نہیں تھی۔ اس شخص نے دوراہے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے یقیناً ذرا پہلے ہی عقبی بتیاں بجھا لی تھیں۔ اس لیے مقبول کو اندازہ نہیں ہو سکا تھا کہ وہ کس طرف مڑا ہے۔ اب دُوسری سڑک پر جانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ وہ واپس روانہ ہوگیا۔
گھر آکر وہ سیدھا اپنے کمرے میں گھس گیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دُور تھی۔ تھوڑی دیر بعد عشرت آنٹی اس کے کمرے میں آ گئیں۔
’’تم یہاں لیٹے ہو؟ اُوپر خواب گاہ میں اپنی بیوی کے پاس کیوں نہیں جاتے؟‘‘ آنٹی عشرت نے مشفقانہ برہمی سے کہا۔
’’میں یہیں ٹھیک ہوں آنٹی!‘‘ اس نے کھردرے لہجے میں کہا۔ ’’براہ کرم مجھے کسی کام کے لیے مجبور نہ کیا جائے۔‘‘
عشرت آنٹی نے مجروح نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ پھر ایک شیشی اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولیں۔ ’’ڈاکٹر ارسلان بیگ یہ دے گیا تھا کہ اگر نیند نہ آئے تو ایک دو گولیاں لے لینا۔‘‘
مقبول نے شیشی لے کر لاپروائی سے تپائی پر رکھ دی۔
عشرت آنٹی کے جانے کے بعد وہ بہت دیر تک کھلی آنکھوں سے چھت کو گھورتا رہا پھر کچھ سوچ کر اس نے فون اُٹھایا۔
نبیل کا نمبر پنچ کر کے اس نے کئی لمحے تک موبائل کان سے لگائے رکھا۔ آخر دُوسری طرف سے نبیل کی آواز سنائی دی۔ وہ شاید نیند سے اُٹھا تھا۔ مقبول نے اس نا وقت زحمت پر معذرت کی اور بولا۔ ’’نبیل! میں نے چند روز قبل تمہیں اپنا شادی کارڈ بھیجا تھا۔ جس میں میری اور شائستہ کی لکھی ہوئی چند سطریں تھیں، کیا تم مجھے وہ کارڈ واپس دے سکتے ہو؟‘‘
’’کیوں؟‘‘ نبیل نے حیرت سے کہا۔
’’سردست میں نہیں بتا سکتا لیکن مجھے وہ کارڈ بہرحال واپس چاہیے۔‘‘
’’میں دیکھتا ہوں، وہ موجود ہے یا نہیں، ہولڈ کرو۔‘‘ نبیل نے کہا۔
پھر مقبول نے کچھ فاصلے پر کاغذات کی پھڑپھڑاہٹ سنی، چند لمحوں بعد دوبارہ نبیل کی آواز آئی۔ ’’لفافہ موجود ہے لیکن کارڈ معلوم نہیں کہاں ہے۔ صبح ثمینہ اُٹھے گی تو میں اس سے پوچھ کر بتائوں گا۔‘‘
’’بہت بہتر۔‘‘ کہتے ہوئے مقبول نے رابطہ منقطع کر دیا۔ وہ دیر تک پریشان کن سوچوں کے بھنور میں گھرا رہا اور پھر نجانے کب خوابوں کی وادی میں اُتر گیا۔
اس نے دیکھا کہ کسی انجانے مقام پر ہوائوں سے لہراتے حریری پردوں کی اوٹ سے شائستہ اسے بلا رہی ہے۔ وہ بے تابانہ انداز میں اُٹھا اور دوڑتا ہوا اس کے پاس جا پہنچا۔ شائستہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ اس کی بے مہری و تغافل کا شکوہ کر رہی تھی۔ اور وہ اسے بتا رہا تھا کہ اس کی تلاش میں وہ کہاں کہاں کی خاک چھانتا رہا ہے۔ ابھی کیف و نشاط کی منزل کی ابتدا ہی ہوئی تھی کہ اچانک اسے ہوش آ گیا۔ مدہوش اور بے چین سی آنکھوں سے اس نے دیکھا کہ وہ اپنے کمرے میں لیٹا تھا۔ وہ آسائشیں، وہ خواب، وہ حریری پردے، ریشمی بستر سب غائب ہو چکا تھا۔ لیکن شائستہ اس کے پہلو میں تھی۔
اس نے بدحواسی کے عالم میں اُسے دیکھا اور بیڈ سے نیچے کود پڑا۔
وہ شائستہ نہیں، بلکہ شائستہ ہونے کی دعویدار تھی جو آسودگی سے آنکھیں بند کیے لیٹی تھی۔ مقبول کے جسم سے سرد ہوا کا جھونکا ٹکرایا تو اس نے گھوم کر دیکھا۔ کمرے کی کھڑکی کھلی تھی اور وہ اَجنبی لڑکی یقیناً اسی راستے سے اندر آگئی تھی۔ اس نے بیدردی سے بال پکڑ کر اسے اُٹھا لیا اور دروازہ کھول کر اسے باہر دھکا دیا۔ دروازہ اور کھڑکی بند کر کے وہ دوبارہ بیڈ پر لیٹا اور خاموشی سے چھت کو گھورنے لگا۔ لڑکی نے کئی بار دروازہ کھٹکھٹایا پھر خاموش ہو کر اُوپر خواب گاہ میں چلی گئی۔
مقبول کو افسوس ہو رہا تھا کہ لڑکی اس کی غفلت سے فائدہ اُٹھانا چاہتی تھی اور اس بنیاد پر آئندہ اسے بلیک میل بھی کر سکتی تھی۔
نہ جانے کتنی دیر تک وہ یونہی لیٹا رہا۔ دفعتاً کال بیل کی ایسی مختصر سی آواز اُبھری جیسے کسی نے بٹن چھوکر ہاتھ ہٹا لیا ہو۔ مقبول نے گھڑی دیکھی، پونے چار بج رہے تھے۔ وہ اُٹھا اور کھڑکی کھول کر باہر جھانکنے لگا۔ پورچ میں ایک کار کھڑی نظر آئی۔ وہ دروازے پر پہنچا تو انسپکٹر خرم کو سامنے کھڑا پایا۔
’’مجھے اُمید تھی کہ تم جاگ رہے ہو گے، اسی لیے میں نے گھنٹی کا بٹن صرف چھوا تھا۔‘‘ خرم نے کہا۔ ’’کپڑے پہن لو، تمہیں تھوڑی دیر کے لیے میرے ساتھ چلنا ہوگا۔‘‘
’’بات کیا ہے؟‘‘ مقبول نے سرگوشی نما لہجے میں پوچھا۔
’’کوئی خاص نہیں۔‘‘ خرم نے کہا۔ ’’زمان ٹائون کے پبلک پارک کی جھیل میں ایک لڑکی کی لاش ملی ہے جو تمہیں دکھانی ہے، شاید تم اسے پہچان سکو، کیونکہ اس کے بال گہرے سیاہ ہیں۔‘‘ (جاری ہے)