Ghalat Rah – Episode 2

560
کمرے میں ایک عجیب سی بو پھیلی ہوئی تھی۔ وسط میں پتھر کا ایک چبوترا تھا جس پر شیشے کا ایک مستطیل کیس رکھا ہوا تھا اور اس کیس میں عورت کی لاش پڑی تھی جس کے کپڑے بھی تار تار تھے۔
پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق لڑکی کو مرنے سے پہلے زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا تھا۔ اس کے پورے جسم پر زخم اور خراشیں تھیں۔ کولہے کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، ناخن گوشت سے جدا تھے۔ جسم کے نازک حصوں کو انگاروں سے داغا گیا تھا۔ رپورٹ میں اور بھی بہت کچھ تھا مگر اس سے زیادہ سننے کی مقبول میں تاب نہ تھی، کیونکہ یہ لاش جس کی ادھ کھلی آنکھیں اب بھی مقبول کو تک رہی تھیں، شائستہ کی تھی۔
’’ہاں! یہ شائستہ ہے… میری شائستہ۔ میری محبوب بیوی…‘‘ مقبول شدتِ غم سے رو پڑا۔
مردہ خانہ، اسپتال کے ایک حصے میں واقع تھا۔ وہاں سے نکل کر وہ باہر ایک فٹ پاتھ پر آبیٹھا۔ اسے کسی چیز کا ہوش نہ تھا، بس مسخ شدہ لاش اس کے حواسوں پر چھا گئی تھی۔ کچھ دیر بعد اس نے خرم کو اپنے قریب کھڑا پایا۔
’’کیا اب بھی تم اس لڑکی کو گرفتار نہیں کرو گے جو میرے گھر بیٹھی ہے؟‘‘ مقبول نے پوچھا۔
’’یہ ثابت کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہوگیا ہے کہ وہ شائستہ نہیں ہے۔ تمہیں پہلے سے زیادہ بری صورتحال درپیش ہے۔‘‘ خرم نے جواب میں کہا۔
’’کیا تمہیں مجھ پر یقین نہیں؟‘‘ مقبول چلایا۔
’’میرے یقین کرنے یا نہ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘ خرم نے کہا۔ ’’آئو میں تمہیں گھر چھوڑ آئوں۔‘‘
واپسی کے مختصر سے سفر میں اپنے ذہن کی تمام تر کرب ناک کیفیات کے باوجود مقبول کو یہ اندازہ لگانے میں دقت نہ ہوئی کہ وہ بھی پولیس کی نظر میں مشکوک قرار پا چکا تھا۔ اس نے صفائی پیش کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہ کی۔
اپنے کمرے میں پہنچ کر وہ دیر تک مفلوج سی حالت میں بیڈ پر لیٹا رہا۔ پھر تنویمی حالت میں وہ اپنی میز کے قریب آیا، دراز کھولی اور مختلف چیزوں کو الٹ پلٹ کر نیچے سے ایک ریوالور نکالا۔ اس کا میگزین بھرا ہوا تھا۔ ’’کیا فائدہ اب اس کا؟‘‘ اس نے بددلی سے سوچا۔ ریوالور اس نے واپس رکھ دیا۔ پھر کمرے سے نکلا اور سیڑھیاں چڑھ کر خواب گاہ کے سامنے پہنچا۔ ایک جھٹکے سے اس نے دروازہ کھولا۔ وہ تکیے سے ٹیک لگائے محوِ خواب تھی۔
دروازے کی آواز سن کر وہ ہڑبڑا کر اٹھی اور مقبول کا چہرہ دیکھ کر وہ پہلی بار قدرے خوف زدہ نظر آئی۔
مقبول نے اس کے بال مٹھی میں جکڑ لیے اور جھٹکا دے کر بولا۔ ’’وہ مرچکی ہے خبیث عورت! وہ مر چکی ہے، جس کی تم نے جگہ لی ہے۔ اسے بے پناہ اذیتیں دے کر مارا گیا ہے۔ سنا تم نے؟‘‘ یہ کہتے ہوئے مقبول نے اسے بستر سے نیچے کھینچ لیا۔ ’’بچو گی تم بھی نہیں۔ تم جو کوئی بھی ہو، تمہارا انجام بھی دردناک ہوگا۔‘‘
’’چھوڑو مجھے! تم پاگل ہوگئے ہو۔‘‘ لڑکی چلائی۔ سناٹے میں اس کی آواز دور تک گونجتی محسوس ہوئی۔ پھر مقبول نے اپنے عقب میں دوڑتے قدموں کی آوازیں سنیں۔ وہ عشرت آنٹی تھیں۔
’’یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘ انہوں نے گھبرائے ہوئے انداز میں اندر جھانکا۔
’’کچھ نہیں۔‘‘ مقبول نے لڑکی کو پلنگ پر دھکیل دیا۔ وہ کمرے سے نکلنے ہی والا تھا کہ اس کے سیل فون کی گھنٹی بجی۔ اس نے اپنی جیب سے سیل نکال کر ہیلو کہا۔
’’مقبول؟‘‘ دوسری جانب سے جہاں آراء کی استفساریہ آواز آئی۔
’’ہاں! میں بول رہا ہوں۔‘‘ اس نے کہا۔
’’میں تم سے فوراً ملنا چاہتی ہوں۔ اس وقت میں نے غصے میں تم سے اچھا سلوک نہیں کیا تھا مگر میں ساری رات سو نہیں سکی۔ میں… میں تم سے ملنا چاہتی ہوں۔‘‘
مقبول نے ایک نظر عشرت آنٹی اور اس لڑکی کی طرف دیکھا۔ ’’میں تمہیں پھر فون کروں گا۔‘‘ کہتے ہوئے اس نے سیل آف کیا اور جیب میں رکھ لیا۔
’’میں چاہتی ہوں تم شائستہ سے اچھی طرح پیش آیا کرو۔‘‘ عشرت آنٹی نے کہا۔
مقبول نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ دوسرے کمرے میں آگیا۔ وہ ایک صوفے پر بیٹھا اور جیب سے موبائل نکال کر نبیل سے پوچھا۔ ’’کیا ہوا اس کارڈ کا؟‘‘
’’میں نے ثمینہ سے پوچھا تھا۔‘‘ نبیل بولا۔ ’’وہ کہہ رہی تھی کہ وہ کارڈ پنکی کو پسند آگیا تھا۔ اسی نے اسے سنبھال کر رکھا ہے۔‘‘ اس کی بات سنتے ہی مقبول نے یہ کہہ کر رابطہ منقطع کردیا کہ وہ ابھی تھوڑی دیر میں وہاں پہنچ رہا ہے۔ وہ کھڑا ہوگیا۔ اچانک اسے دروازے پر کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ اسے لگا جیسے کوئی دروازے کے پیچھے لگا اس کی باتیں سن رہا تھا۔ اس نے ایک دم آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو اسے لڑکی جاتی نظر آئی۔ اس نے پُرسوچ انداز میں اپنے ہونٹ بھینچ لیے۔
پنکی، نبیل اور ثمینہ کی سات سالہ بیٹی تھی۔ مقبول کو تشویش ہوچلی تھی کہ بچی نے کارڈ پھاڑ نہ دیا ہو لہٰذا جب وہ نبیل کے ہاں پہنچا تو اس کی بیوی ثمینہ نے شادی کی مبارکباد دی لیکن اس نے محض اس کا شکریہ ادا کرکے گھبرائے ہوئے انداز میں نبیل سے پوچھا۔ ’’کیا تم نے پنکی سے وہ کارڈ لے لیا؟‘‘
’’بات کیا ہے؟ تم اتنے گھبرائے ہوئے کیوں یار…؟‘‘ نبیل نے پوچھا۔
’’میں بتا نہیں سکتا۔ میں ایک مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔‘‘ اس نے بے تابی سے کہا۔ ’’پنکی کہاں ہے؟‘‘
’’وہ تو اسکول جا چکی ہے۔‘‘ نبیل نے جواب دیا۔
’’اوہ خدایا!‘‘ مقبول نے سر تھام لیا۔ ’’جلدی تیار ہوکر میرے ساتھ چلو۔ مجھے ہر حال میں وہ کارڈ چاہیے۔‘‘
ثمینہ نے بتایا تھا کہ پنکی اس کارڈ کو اپنے اسکول بیگ میں رکھتی ہے۔
نبیل اور مقبول دونوں اسکول پہنچے تو بچیوں کو لان میں پی ٹی کروائی جارہی تھی۔ نبیل کی درخواست پر نگراں استانی نے انہیں بمشکل اندر آنے دیا۔
پنکی انہیں دیکھ کر دوڑتی ہوئی ان کے پاس آئی۔ ’’ہیلو انکل! ہیلو پاپا!‘‘
مقبول گھٹنوں کے بل بیٹھ کر بولا۔ ’’پنکی بیٹی! وہ میرا کارڈ کہاں ہے؟‘‘ پنکی سہم گئی۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ شاید اس سے کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہے۔
’’بتائو پنکی! وہ کارڈ کہاں ہے؟‘‘ نبیل نے اسے سوچتے دیکھ کر پوچھا۔
’’وہ… تو مجھ سے ایک آدمی نے لے لیا۔ اس نے مجھے ٹافی دی تھی۔‘‘ وہ منہ بسورنے لگی۔ مقبول کے تیوروں سے ڈر گئی تھی۔
’’کک… کون تھا وہ آدمی…؟ اس کا حلیہ کیسا تھا؟‘‘ مقبول نے ڈوبتے دل سے پوچھا۔ پنکی باقاعدہ رونے لگی۔ نگراں استانی نے انہیں ہدایت کی کہ وہ بچی کو پریشان نہ کریں اور باہر چلے جائیں۔
باہر آکر نبیل نے کہا۔ ’’حیرت ہے کہ وہ شخص پنکی سے کارڈ لینے میں کیونکر کامیاب ہوا کیونکہ پنکی اسے تمہاری نشانی سمجھ کر خاص طور سے اٹھائے پھر رہی تھی۔ ثمینہ نے مجھے بتایا ہے کہ وہ یہ کہہ کر کارڈ لائی تھی کہ اپنی سہیلیوں کو دکھائے گی۔‘‘
مقبول نے کوئی جواب نہ دیا اور کار ڈرائیو کرنے لگا۔ اس میں بولنے کی بھی سکت نہیں رہی تھی۔ اس واقعے کا ایک ہی جواز اس کی سمجھ میں آرہا تھا کہ جب وہ ٹیلیفون پر نبیل سے بات کررہا تھا تو اسے دروازے پر کچھ شبہ ہوا تھا اور جب اس نے اسے کھول کر دیکھا تو اس نے لڑکی کو ایک طرف جاتے دیکھا تھا۔
اب اس کی سمجھ میں آیا کہ اس لڑکی نے فون پر اس کی گفتگو سن لی تھی۔ پل کے پل اسے احساس ہونے لگا کہ اس کے گرد کوئی جال بُنا جارہا ہے۔
نبیل کو ڈراپ کرکے جب وہ اپنے گھر پہنچا تو اس نے لان میں جہاں آراء کو کھڑے دیکھا۔ جہاں آراء نے اسے دیکھ کر اپنا ہاتھ ہلایا اور اس کی طرف بڑھی۔
’’تم اندر کیوں نہیں بیٹھیں؟‘‘ مقبول نے کار سے اترتے ہوئے پوچھا۔
’’میں تم سے تنہائی میں باتیں کرنا چاہتی تھی۔ ویسے میں تمہاری بیوی سے ملی ہوں۔ بڑی خوبصورت لڑکی ہے۔‘‘ جہاں آراء کے لہجے میں رقابت کا کوئی شائبہ تک نہ تھا۔ اس نے مزید کہا۔ ’’میں نے آنٹی عشرت کی بھی مزاج پرسی کی ہے۔ وہ بے چاری خاصی بیمار ہیں۔‘‘
مقبول نے یہ سن کر خاصی تشویش محسوس کی۔ وہ ٹہلتے ٹہلتے عقبی پورچ کی طرف نکل آئے۔
’’تم آخر اتنے پریشان کیوں ہو مقبول؟‘‘ جہاں آراء نے اس کے چہرے سے مترشح ہوتی مضطرب الحالی بھانپ لی تھی۔
مقبول نے جہاں آراء کو بتایا کہ اس پر کیا بیت چکی ہے۔
’’تم بتائو مجھے کیا کرنا چاہیے؟‘‘ مقبول نے گلوگیر سی آواز میں پوچھا۔
’’پولیس۔‘‘ جہاں آراء نے کہنا چاہا۔
’’پولیس نہیں۔ اب تو انسپکٹر خرم بھی شک کرنے لگا ہے۔‘‘
’’سچی بات یہ ہے کہ مقبول! خود میری بھی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ تمہیں کیا مشورہ دوں لیکن اگر میں تمہارے لیے کچھ کرسکتی ہوں تو بتائو؟‘‘
’’میرے لیے کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔‘‘ مقبول نے اداسی سے کہا۔
اس کے جانے کے بعد مقبول نے ڈاکٹر ارسلان بیگ کی طرف جانے کا ارادہ کیا۔ ایک تو اسے آنٹی عشرت کے متعلق اطلاع دینا چاہتا تھا، دوسرے اسے توقع تھی کہ شاید اس سے کوئی بات معلوم ہوسکے۔
’’وہ پولیس آفیسر خرم مجھ سے ملنے آیا تھا۔‘‘ ڈاکٹر ارسلان نے اسے دیکھتے ہی کہا۔ ’’اس نے مجھے سمندر سے ملنے والی لاش کے متعلق بتایا کہ تم نے اسے شائستہ کی حیثیت سے شناخت کیا ہے۔ دیکھو مقبول! تم اس قسم کی حرکتوں سے اپنی الجھنوں میں اضافہ کررہے ہو اور اپنے اعصاب پر بوجھ بڑھا رہے ہو۔ تمہیں پہلے ہی آرام کی ضرورت ہے۔‘‘
’’تم اس کی فکر نہ کرو۔‘‘ مقبول نے کہا۔
’’کیوں نہ کروں؟ میں تمہارا ڈاکٹر ہوں اور تمہاری صحت کا خیال رکھنا میری ذمہ داری ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ تمہارے ساتھ کیا حادثہ پیش آیا تھا لیکن اتنا مجھے یقین ہے کہ وہی لڑکی شائستہ ہے جو تمہارے گھر میں موجود ہے۔‘‘
مقبول کو اس خیال سے ایک عجیب بے بسی کا احساس ہوا کہ اب تک اس کی بات پر سوائے جہاں آراء کے کسی نے یقین نہیں کیا تھا۔
’’فی الحال میں تمہیں صرف اتنا بتانے آیا ہوں۔‘‘ اس نے قدرے بیزاری سے کہا۔ ’’کہ آنٹی عشرت کی طبیعت خاصی خراب ہے۔‘‘
’’میں اولین فرصت میں انہیں دیکھنے آئوں گا۔‘‘ ارسلان نے تشویش کا اظہار کیے بغیر کہا۔
مقبول واپسی کے لیے مڑ گیا۔ پورچ میں پہنچ کر اس نے دیکھا کہ اس کی کار کے اسٹیئرنگ پر خرم بیٹھا تھا اور اس کے عقب میں ایک پولیس کار کھڑی تھی جس میں ایک باوردی سپاہی موجود تھا۔
’’مقبول! تمہیں تھوڑی دیر کے لیے میرے ساتھ چلنا ہوگا۔ ہمارے ایک سینئر آفیسر چوہدری پرویز تم سے بات کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ خرم نے اسے بتایا۔
مقبول نے کوئی جواب نہ دیا اور اس کے ساتھ پولیس ہیڈ کوارٹر آگیا۔ چوہدری پرویز بھاری بھرکم جسم کا مالک تھا۔ شکل سے وہ ایک سخت گیر آفیسر لگتا تھا مگر اس کی آواز میں قدرے ملائمت تھی۔
’’اس مردہ لڑکی کو اب تک صرف آپ نے شناخت کیا ہے مقبول صاحب!‘‘ چوہدری پرویز نے کہا۔ ’’آپ کا اس کے ساتھ کیا رشتہ تھا؟‘‘
’’میں خرم کو سب بتا چکا ہوں۔‘‘ مقبول نے قدرے برہمی سے کہا۔ ’’وہ میری بیوی تھی۔‘‘
’’کل دوپہر تم کہاں تھے؟‘‘ چوہدری پرویز نے پوچھا۔
’’مجھے نہیں معلوم، میں بے ہوش تھا اور میرے خیال میں مجھے میری بیوی کے پاس ہونا چاہیے تھا۔‘‘ مقبول نے جواب دیا۔
’’تم نے جو کہانی خرم کو سنائی ہے، نہایت احمقانہ ہے۔ تم تسلیم کیوں نہیں کرتے کہ تمہاری بیوی تمہارے گھر میں موجود ہے؟‘‘ پرویز نے کہا۔
’’احمقانہ ہو یا عقلمندانہ، اپنی کہانی کے بارے میں، میں ہی بہتر جان سکتا ہوں کہ وہ صحیح ہے یا غلط…‘‘
چوہدری پرویز چند لمحے اسے گھورتا رہا، پھر بولا۔ ’’تم جاسکتے ہو۔‘‘
مقبول اٹھ کر باہر چلا گیا۔ وہ حیران تھا کہ آخر اسے یہاں کیوں بلایا گیا تھا۔ کیا واقعی پرویز کا مقصد اس سے صرف دو تین سوالات کرنا تھا؟ ابھی وہ کار میں بیٹھ ہی رہا تھا کہ خرم بھی باہر آگیا۔
’’میں تمہارے ساتھ ہی چلوں گا۔‘‘ اس نے اپنی کار کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔ ’’میں تمہاری بیوی… میرا مطلب ہے اس لڑکی سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ اس کار میں جا بیٹھا جس کی ڈرائیونگ سیٹ پر باوردی سپاہی موجود تھا اور دونوں کاریں آگے پیچھے مقبول کے گھر کی طرف روانہ ہوگئیں۔
گھر پہنچ کر مقبول نے دیکھا کہ لڑکی کچن میں تھی اور کچھ پی رہی تھی۔ مقبول کو دیکھ کر اس نے گلاس رکھ دیا اور مسکرا کر اس کے قریب آئی۔
’’آنٹی عشرت کی طبیعت اب کیسی ہے؟‘‘ اس نے کھردرے لہجے میں پوچھا۔
’’وہ مسلسل بے ہوشی کی سی کیفیت میں ہیں۔ میں نے ڈاکٹر ارسلان کو فون کردیا ہے۔ وہ آتے ہوں گے۔‘‘ اس نے یہ بتاتے ہوئے بھی اٹھلانا ضروری سمجھا۔
’’ایک پولیس آفیسر تم سے کچھ سوالات کرنا چاہتا ہے۔‘‘ مقبول نے بے رخی سے کہا۔ ’’ڈرائنگ روم میں چلو۔‘‘
لڑکی کے چہرے پر ذرّہ بھر بھی خوف نظر نہ آیا۔ وہ بڑے اطمینان سے مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے اس کے پیچھے ڈرائنگ روم میں آگئی۔
’’میں مسز مقبول ہوں آفیسر! فرمایئے ہم آپ کی کیا خدمت کرسکتے ہیں؟‘‘ اس نے مقبول کے برابر ہی صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
خرم خوش اخلاقی سے بولا۔ ’’میرا نام انسپکٹر خرم ہے۔ میں مقبول کا دوست بھی ہوں۔‘‘
’’میرے شوہر کی طبیعت آج کل ناساز ہے۔‘‘ لڑکی نے کہا۔ ’’یہ ایک ڈاکٹر کے زیرِ علاج ہیں۔‘‘
’’مجھے معلوم ہے۔‘‘ خرم نے کہا۔ ’’مسز مقبول! آپ کا نام کیا ہے؟‘‘
’’شائستہ خان! کیا آپ کو مقبول نے نہیں بتایا؟‘‘ اس نے بڑے اعتماد سے کہا۔
’’معاف کرنا میں ابھی آیا۔‘‘ اچانک مقبول نے اٹھتے ہوئے کہا۔ اسے کوئی بات یاد آگئی تھی۔ وہ جلدی سے کچن میں آیا۔ وہ گلاس اب بھی کچن ٹیبل پر رکھا تھا جس میں لڑکی پانی پی رہی تھی۔ مقبول نے ایک نیپکن کی مدد سے اسے اٹھایا اور بسکٹوں کا ایک ڈبا خالی کرکے اس میں ڈالا اور عقبی دروازے سے باہر نکل گیا۔
خرم کی پولیس کار میں اسٹیئرنگ پر باوردی سپاہی مستعد بیٹھا تھا۔ مقبول نے ڈبا اس کی طرف بڑھاتے ہوئے عجلت میں کہا۔ ’’اسے رکھ لو۔ جب تمہارا آفیسر واپس آئے تو اسے دے دینا۔ حفاظت سے رکھنا، یہ انہی کی ہدایت ہے۔‘‘
’’یہ کیا ہے؟‘‘ سپاہی نے تشکیک بھری نظروں سے اسے گھورا۔
’’گلاس ہے کانچ کا۔‘‘ مقبول نے جلدی سے ڈبے کا ڈھکن کھول کر اسے دکھاتے ہوئے کہا۔ ’’اس پر فنگر پرنٹس ہیں۔ کہا نا تمہارے آفیسر کو سب معلوم ہے۔‘‘
سپاہی نے بادل نخواستہ ڈبا لے کر گلوو کمپارٹمنٹ میں رکھ لیا۔ مقبول اسی راستے سے رہائشی کمرے میں واپس آگیا۔ خرم اور لڑکی بے تکلفی سے باتیں کررہے تھے۔ مقبول کو دیکھ کر وہ خاموش ہوگئے۔ مقبول نے محسوس کیا کہ لڑکی، انسپکٹر خرم کو متاثر کرچکی ہے۔
’’ہاں! تو میں کہہ رہا تھا کہ ہمیں ایک نامعلوم لڑکی کی لاش ملی ہے۔‘‘ خرم نے کہا۔ صاف معلوم ہوتا تھا کہ اس نے بات بدل دی ہے۔
’’میں اسے شناخت کرچکا ہوں۔‘‘ مقبول نے لقمہ دیا۔
خرم نے اس کی بات پر دھیان نہیں دیا اور لڑکی پر نظریں جمائے ہوئے آگے بولا۔ ’’میں آپ کو یہ بتا دینا بہتر سمجھتا ہوں مسز مقبول کہ آپ کے شوہر کی پوزیشن اس وقت سنگین حد تک مشکوک ہے۔‘‘
’’اوہ…! یہ تو بہت بُری خبر ہے۔‘‘ لڑکی نے خوف کا مظاہرہ کیا۔
’’پھر تم مجھے حوالات میں کیوں نہیں ڈال دیتے؟‘‘ مقبول نے تلخ لہجے میں کہا۔
خرم نے اسے کوئی جواب نہ دیا اور اپنی کیپ اٹھاتے ہوئے کہا۔ ’’اب میں چلتا ہوں مسز مقبول!‘‘
اس کے جانے کے چند لمحوں بعد مقبول نے باہر کار اسٹارٹ ہونے کی آواز سنی۔ وہ لڑکی کی طرف پلٹا۔ وہ صوفے پر بیٹھی اس کی طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔
’’تم نے اسے کیا بتایا ہے؟‘‘ مقبول نے پوچھا۔
لڑکی نے کوئی جواب نہ دیا بس اس کی طرف دیکھ کر مسکراتی رہی۔ مقبول نے ایک قدم اس کی طرف بڑھایا۔
پھر کچھ سوچ کر رک گیا۔ کئی لمحے تک وہ کھڑا اسے گھورتا رہا۔ پھر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا تاکہ آنٹی عشرت کو دیکھنے اوپر جاسکے۔ اپنی پریشانیوں میں پھنس کر وہ ان کی مزاج پرسی بھی نہ کرسکا تھا۔
٭…٭…٭
اس رات بہت دیر تک وہ اپنے کمرے میں ٹہلتا رہا اور حالات کی کڑیاں ملانے کی کوشش کرتا رہا۔ اس کی پریشانیوں میں اب ایک پریشانی کا اور اضافہ ہوگیا تھا اور وہ تھی آنٹی عشرت کی بیماری…! وہ کبھی بیمار نہیں پڑی تھیں۔ وہ ایک صحت مند اور باہمت عورت تھیں۔ اچانک ان کا بستر سے لگ جانا، مقبول کو خالی از علت معلوم نہیں ہو رہا تھا۔
اسے یاد تھا کہ ڈاکٹر ارسلان نے کہا تھا۔ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس نے آنٹی عشرت کو مسکن دوائیں دی تھیں۔ اس کا کہنا تھا کہ فی الحال عشرت کو صرف انہی کی ضرورت ہے تاکہ انہیں سکون مل سکے اور عشرت آنٹی مسلسل نیم غنودگی کی کیفیت میں تھیں۔ ادھر مقبول کو یہ بھی احساس تھا کہ اس کے گرد قانون کا گھیرا تنگ ہورہا ہے۔ سوچ سوچ کر اس کا دماغ سن ہونے لگا تھا۔ اس کی بے بسی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ شائستہ کے متعلق کچھ نہیں جانتا تھا اور اب تو اسے شبہ ہو چلا تھا کہ کیا واقعی شائستہ کا کوئی وجود تھا؟ یا ڈاکٹر ارسلان کا کہنا صحیح تھا کہ کام کی زیادتی اور اعصاب کی تھکن کے باعث وہ کچھ دیر کے لیے ہوش و حواس کھو بیٹھا تھا لیکن نہیں، شائستہ کا وجود ضرور تھا اور اس وجود کو اس نے مسخ حالت میں مردہ خانے میں پڑے دیکھا تھا۔ اسے جھرجھری سی آگئی۔ اسے اپنا دم گھٹتا محسوس ہونے لگا۔ وہ شدت سے تازہ ہوا کی ضرورت محسوس کررہا تھا۔ اس نے خاموشی سے دروازہ کھولا اور باہر آگیا۔
صاف آسمان پر مکمل زرد چاند دھیرے دھیرے محوِ سفر تھا۔ پورچ کی سیڑھیاں اتر کر اس نے گہری گہری سانسیں لیں اور عقبی باغیچے کی طرف چل دیا۔ آنٹی عشرت اور اس لڑکی کے کمرے کی کھڑکیوں میں روشنی نظر آرہی تھی۔
مقبول عمارت کے کونے سے آگے بڑھا تو یک لخت ٹھٹھک گیا۔ باغیچے میں اسے بے حس و حرکت انسانی پرچھائیں نظر آئی۔ مقبول نے دیکھا۔ وہ کوئی مرد تھا جو سر اٹھائے مکان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ مقبول سے کم از کم پندرہ فٹ کے فاصلے پر تھا اور چاندنی اتنی تیز نہیں تھی کہ مقبول اس کا چہرہ دیکھ سکتا۔ مقبول دبے قدموں اس کی طرف بڑھنے لگا۔ اچانک اس آدمی نے جھک کر لان سے کسی پھل کی گٹھلی اٹھائی اور اسے اوپر پھینکا۔ گٹھلی دیوار سے ٹکرا کر واپس لان میں آگری۔
مقبول اس کے قریب جا پہنچا۔ معاً اسے بھی مقبول کی موجودگی کا احساس ہوگیا۔ وہ تیزی سے پلٹا۔
’’کون ہو تم…؟‘‘ مقبول نے باآواز بلند کہا۔
اس شخص نے جواب دینے کی بجائے مقبول کے منہ پر گھونسا رسید کیا۔ ضرب خاصی زوردار تھی لیکن مقبول اسے برداشت کر گیا۔ اس نے اجنبی کو کمر سے پکڑ کر اٹھایا اور گھاس پر پٹخ دیا۔ اس کے سر پر ایک ٹوپی تھی جو اب بھی نہیں گری تھی اور اس کی وجہ سے مقبول اس کا چہرہ دیکھنے سے قاصر تھا۔
اجنبی پھرتی سے اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے مقبول کے پیٹ میں لات رسید کی۔ مقبول گر پڑا اور وہ شخص بھاگ نکلا۔ وہ پھرتی سے اٹھا اور اس کے پیچھے دوڑا۔ اس نے مقبول کو اپنے پیچھے آتے دیکھا۔
اچانک اسے زمین پر پڑی ایک کھرپی نظر آگئی۔ اس نے اٹھالی اور اپنے تعاقب میں آتے مقبول کی طرف پوری قوت سے پھینکی۔ کھرپی زور سے مقبول کی ہنسلی کی ہڈی سے ٹکرائی۔ وہ بے ساختہ ہلکی سی چیخ مار کر زمین پر بیٹھ گیا۔
کئی منٹ بعد جب وہ اٹھنے کے قابل ہوا تو اس شخص کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔ لڑکھڑاتے قدموں سے وہ واپس گھر میں آیا۔ اس نے انسپکٹر خرم کو فون کیا اور تازہ صورتِ حال سے آگاہ کیا۔
’’تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟‘‘ خرم نے ساری بات خاموشی سے سننے کے بعد کہا۔ اس کی آواز سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ سوتے میں اٹھا ہے۔
’’کچھ نہیں! میں صرف اتنا چاہتا تھا کہ یہ واقعہ تمہارے علم میں آجائے۔‘‘ مقبول نے کہا اور رابطہ منقطع کردیا۔ اس کی سوچوں کا دائرہ ایک بار پھر جہاں آراء کے نام پر مرکوز ہوگیا۔ صرف وہی ایک ہستی تھی جو اس کے کہے پر یقین کررہی تھی اور اس کے مسئلے کو سمجھ رہی تھی۔
بے چینی اور اضطراب ایک بار پھر گھر سے اسے باہر لے آیا اور وہ کار نکال کر جہاں آراء کے گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ جہاں آراء کے اپارٹمنٹ کی کھڑکیوں میں روشنی دیکھ کر اسے حیرت ہوئی۔ کیا وہ بتیاں جلا کر سو رہی تھی؟ لیکن دیر تک گھنٹی بجانے کے باوجود کوئی جواب نہ آیا۔ دروازہ مقفل تھا۔
’’جہاں آراء …‘‘ اس نے بے تابی سے پکارا اور ایک بار پھر گھنٹی کے بٹن پر ہاتھ رکھ دیا۔ کئی منٹ تک آوازیں دینے اور گھنٹی بجانے کے بعد بالآخر جہاں آراء کے سامنے والے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھلا اور ایک عورت نے خفگی آمیز لہجے میں کہا۔ ’’وہ شام سے باہر گئی ہوئی ہے۔ ابھی تک واپس نہیں آئی۔‘‘
’’کچھ اندازہ ہے کہاں گئی ہوگی؟‘‘ مقبول نے پوچھا۔
’’کہیں بھی جانے کے لیے ایک جوان لڑکی کے لیے اس شہر میں بہت سی جگہیں ہیں۔‘‘ طنزیہ انداز میں یہ کہتے ہوئے عورت نے دروازہ بند کردیا۔
مقبول نے ایک ریسٹورنٹ میں رک کر چائے پی اور سوچنے لگا کہ وہ آخر کہاں گئی ہوگی؟ ذہن میں اس نئے سوال کی اذیت لیے وہ دوبارہ کار میں بیٹھا تو ہنسلی کی ہڈی کا درد جاگ اٹھا تھا۔ اس نے واپس گھر جانے کا قصد کیا۔
گھر کے صدر دروازے میں داخل ہوکر وہ کار، پورچ میں لے جارہا تھا کہ ہیڈ لائٹس کی روشنی میں لان کی باڑ کے قریب ایک چھوٹی سی چیز پر نظر پڑی۔ مقبول نے غیر ارادی طور پر بریک لگایا۔ کار کی بتیاں روشن رہنے دیں اور نیچے اتر آیا۔
اس نے وہ چیز اٹھا کر دیکھی تو اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ ایک زنانہ جوتا تھا اور مقبول کو اچھی طرح یاد تھا کہ جہاں آراء جب اس سے ملنے آئی تھی تو اس نے یہی جوتا پہن رکھا تھا۔ مقبول نے اس کا دوسرا پیر تلاش کرنے کے لیے ادھر ادھر چکر لگایا مگر وہ وہاں نہیں تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ جہاں آراء اس کی عدم موجودگی میں یہاں آئی تھی اور اس کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آچکا تھا۔
جوتا ہاتھ میں لیے وہ اپنے کمرے میں آیا۔ یہاں ایک اور حیرت اس کی منتظر تھی۔ اس کی میز کی درازیں الٹ پلٹ پڑی تھیں اور کاغذات اِدھر اُدھر بکھرے ہوئے تھے۔ سیاہی کی ایک دوات اُلٹی پڑی تھی۔ مقبول کی سمجھ میں نہ آیا کہ یہاں کسی کو کس چیز کی تلاش ہوسکتی تھی۔ یہاں تو کوئی اہم چیز موجود نہیں تھی اور نہ ہی وہ درازوں میں پیسے وغیرہ رکھتا تھا۔
وہ اسی طرح الٹے قدموں کمرے سے نکلا اور سیڑھیاں چڑھ کر خواب گاہ کی طرف چل دیا جہاں لڑکی سو رہی تھی۔ اس وقت سپیدہِ سحر ہوچکا تھا۔ اس نے جب کمرے کا دروازہ کھولا تو وہ جاگ رہی تھی۔ مقبول کو دیکھ کر اس نے بالوں میں انگلیاں پھیریں اور انگڑائی لیتے ہوئے کہا۔ ’’یہ آنے کا وقت ہے؟ ساری رات گزار کر اب آرہے ہو؟‘‘
مقبول خاموشی سے اس کے قریب جاکھڑا ہوا اور جوتا اس کی آنکھوں کے سامنے کرتے ہوئے بولا۔ ’’یہ دیکھ رہی ہو؟‘‘
’’ہاں! اچھا ہے لیکن میں اس کی جوڑی لینا پسند کروں گی۔‘‘ اس نے حیرت ظاہر کیے بغیر کہا۔
’’اتنی انجان نہ بنو۔‘‘ مقبول نے غرا کر ایک ہاتھ سے اس کی گردن پکڑ لی۔ ’’کیا تمہیں معلوم نہیں یہ کس کا ہے؟‘‘
’’یہ کیا حرکت ہے مقبول! چھوڑو میری گردن… مجھے بھلا کیا معلوم کہ یہ کس کا ہے؟‘‘ اس کی آنکھیں کسی قدر خوف سے پھیل گئیں اور وہ گردن چھڑانے کی کوشش کرنے لگی۔
’’میری میز کی تلاشی کس نے لی تھی؟‘‘
’’میں قسم کھاتی ہوں مقبول! مجھے نہیں معلوم، میں نے تمہارے کمرے کی کسی چیز کو چھوا تک نہیں۔‘‘ وہ اب کافی خوف زدہ نظر آرہی تھی اور اس کی کیفیت دیکھتے ہوئے مقبول کو محسوس ہوا کہ وہ جھوٹ نہیں بول رہی۔ مقبول نے اسے چھوڑ دیا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔
وہ نیچے آنٹی عشرت کے کمرے میں پہنچا تو وہ جاگ چکی تھیں۔ وہ نہایت کمزور اور مضمحل نظر آرہی تھیں۔ ایک ہی دن میں ان کی آنکھوں کے گرد حلقے پڑ گئے تھے۔
’’اب کیسی طبیعت ہے؟‘‘ مقبول نے پوچھا۔
’’اچھی نہیں ہے، کمزوری بہت ہے۔‘‘ عشرت نے جواب دیا۔
’’میرا جی تو نہیں چاہتا کہ تمہیں اس حال میں چھوڑ کر جائوں لیکن ایک مجبوری آ پڑی ہے۔‘‘ مقبول نے کہا۔ ’’میں ایک دن کے لیے شہر سے باہر جارہا ہوں۔ پولیس پوچھے تو کہنا کہ تمہیں کوئی علم نہیں اور میں یہیں کہیں شہر میں ہوں، ٹھیک ہے۔‘‘
’’لیکن تم جا کہاں رہے ہو مقبول…؟ خدارا مت جائو۔‘‘
’’اشد مجبوری ہے! ڈاکٹر ارسلان تمہارا خیال رکھے گا۔‘‘
ڈاکٹر ارسلان کے متعلق میں تمہیں ایک بات بتانا چاہتی ہوں جو میں اب تک تم سے چھپاتی آئی تھی۔‘‘ عشرت نے جھجکتے ہوئے کہا۔ ’’وہ ایک مدت سے میرے پیچھے پڑا ہوا ہے کہ میں اس سے شادی کرلوں۔ میں اسے ٹالتی رہی ہوں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اسے کیا جواب دوں؟ وہ کہتا ہے باقی تمام زندگی وہ میری نگہداشت کرے گا اور میری یہ بیماری دور ہوجائے گی۔‘‘
’’تمہارے جذبات کیا ہیں، تم اس سے محبت کرتی ہو؟‘‘ مقبول نے پوچھا۔
’’محبت اور شادی کے چکر کی قائل نہیں ہوں۔ میں تنہا زندگی گزارنے کی عادی ہوں اور تنہا ہی رہنا چاہتی ہوں۔‘‘ عشرت نے منہ بنا کر کہا۔
’’بہرحال پہلے تم صحت یاب ہوجائو پھر اس مسئلے پر غور کریں گے۔‘‘ مقبول کمرے سے نکل آیا۔ ہال میں آکر اس نے خرم کو فون کیا اور اسے اطلاع دی کہ جہاں آراء کا ایک جوتا اسے لان کے قریب پڑا ملا ہے۔
پوری بات سن کر خرم نے محض شکریہ کہہ کر فون بند کردیا۔ اس نے کوئی تبصرہ نہیں کیا اور نہ ہی کچھ پوچھا۔ مقبول نے محسوس کیا کہ مختصر گفتگو کے دوران خرم کا لہجہ کچھ پوشیدہ سا تھا۔ مقبول نے جوتا میز پر چھوڑا اور باہر آگیا۔ ایک بار پھر وہ اقبال گارڈن کے سفر پر روانہ ہوگیا۔ وہ اس مبہم سی امید کے سہارے جارہا تھا کہ شاید شائستہ کے متعلق کسی طرح معلومات حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے۔
اقبال گارڈن پہنچنے تک اس کا ذہن پھوڑے کی طرح دکھنے لگا۔ ایک ڈرگ اسٹور سے اس نے اسپرین کی کئی گولیاں لے کر اکٹھی نگل لیں۔ سر درد کچھ کم ہوا تو اس نے سوچا کہ اپنی جدوجہد کا آغاز کہاں سے کرے؟
اقبال گارڈن ایک مختصر سا ہل اسٹیشن تھا لیکن حیرت کی بات تھی کہ اسے یہ علم نہیں تھا کہ شائستہ کہاں رہتی تھی اور نہ ہی وہ ایسے کسی فرد سے واقف تھا جو شائستہ سے واقف ہو لیکن جب شائستہ اس کے ساتھ تھی، اس وقت اسے یہ بات عجیب معلوم نہیں ہوئی تھی۔ اس نے ثمربار ریسٹورنٹ سے اپنی جدوجہد کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا۔
جب وہ ریسٹورنٹ میں پہنچا تو دل کے زخم گویا جاگ اٹھے۔ ہر چیز جوں کی توں تھی۔ فرق یہ تھا کہ آج شائستہ اس کے ساتھ نہیں تھی۔ ریسٹورنٹ میں آج لوگ کم تھے۔ کائونٹر پر موجود ہیڈ ویٹر ٹی وی دیکھنے میں محو تھا۔
’’مجھے پہچانتے ہو؟‘‘ مقبول نے اس کے قریب پہنچ کر کہا۔
’’نہیں!‘‘ اس نے مقبول کی طرف دیکھے بغیر کہا۔
’’میں نے یہاں خاصا وقت گزارہ ہے۔‘‘ مقبول نے کہا۔
’’پھر میں کیا کروں؟‘‘ وہ اب بھی ٹی وی کی طرف متوجہ تھا۔
’’مجھے تمہاری تھوڑی سی مدد کی ضرورت ہے۔‘‘ مقبول نے کہا۔
’’یہ اپنی مدد آپ کا زمانہ ہے۔‘‘ ہیڈ ویٹر کوئی منہ چڑھا ملازم تھا اور غالباً پرانا بھی۔
’’اب مجھے معلوم ہوگیا ہے کہ یہ ریسٹورنٹ اکثر و بیشتر خالی کیوں رہتا ہے۔‘‘ مقبول نے کہا۔ ’’یہاں تم جیسا بدمزاج ہیڈ ویٹر جو موجود ہے۔‘‘
’’تم باہر جاکر کوئی خوش مزاج آدمی تلاش کرو اور خوش مزاج وہی ہوگا جسے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوگی۔‘‘ ہیڈ ویٹر نے جواب دیا۔
’’تمہاری پریشانی کیا ہے؟‘‘ مقبول نے قدرے دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا۔
’’تم پہلے اپنی پریشانیاں دور کرو پھر آکر مجھ سے پوچھنا۔‘‘
’’کیوں نہ تم میری طرف سے کافی پی اور ہم چند باتیں کرکے دل کا بوجھ ہلکا کرلیں۔‘‘ مقبول نے مسکرا کر کہا۔
’’شکریہ!‘‘ ہیڈ ویٹر کا لہجہ اب بھی خشک تھا لیکن اس نے اس کی پیشکش قبول کرلی۔
کافی ختم ہونے تک مقبول اس سے اِدھر اُدھر کی باتیں کرتا رہا۔ پھر اس نے پوچھا۔ ’’اب بتائو تمہیں کیا دکھ ہے؟‘‘
’’میں اپنی بیوی پر مرتا تھا اور وہ بھی دل و جان سے مجھے چاہتی تھی۔ میں نے اسے خوش رکھنے کے لیے دن، رات ایک کرکے پیسہ کمایا۔‘‘ ہیڈ ویٹر نے بدستور ٹی وی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’ہمارے اپارٹمنٹ میں کچھ مرمت کا کام ہورہا تھا۔ بجلی کے کچھ نئے کنکشن لگ رہے تھے، کچھ کی مرمت ہورہی تھی۔ بس غلطی سے میری بیوی نے ایک ننگے تار کو چھو لیا، وہ اسی وقت ختم ہوگئی۔‘‘ اتنا بتا کر وہ خاموش ہوگیا۔
’’اوہ…! یہ تو واقعی دکھ کی بات ہے۔‘‘ مقبول نے اظہار تاسف کیا۔ ’’پھر تم نے کیا کیا؟‘‘
’’میں کیا کرتا، اسی کرب میں مبتلا ہوں۔‘‘ اس نے جواب دیا اور پھر مقبول سے پوچھا۔ ’’اب تم بتائو تمہیں کیا پریشانی ہے؟‘‘
’’تمہیں یاد ہوگا میں یہاں ایک لڑکی کے ساتھ آیا تھا۔ سیاہ گھنے اور گھنگھریالے بالوں والی ایک خوبصورت لڑکی! کیا تمہیں اس کا نام معلوم ہے؟‘‘ مقبول نے پوچھا۔
’’تم اس کے ساتھ آئے تھے، تمہیں اس کا نام نہیں معلوم؟‘‘
’’میں تم سے پوچھ رہا ہوں۔‘‘ مقبول نے کہا۔
’’تمہارا تعلق پولیس سے ہے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ مقبول نے نفی میں اپنا سر ہلایا اور اس کی تسلی کے لیے اپنا پرس نکالا اور اسے کھول کر اپنا شناختی کارڈ دکھایا۔
’’اس کا نام نیلم تھا۔‘‘ ہیڈ ویٹر نے کہا۔ ’’مجھے صرف اتنا ہی پتا ہے۔ اگر تم اس کے متعلق کچھ اور جاننا چاہتے ہو تو میں تمہیں اس کی ایک سہیلی کا ایڈریس بتا دیتا ہوں۔‘‘
’’بتائو۔‘‘ مقبول نے جلدی سے کہا۔
’’ٹھہرو۔‘‘ ہیڈ ویٹر دیوار میں نصب ٹیلیفون کی طرف بڑھا اور اس نے کوئی نمبر ڈائل کیا اور اتنی نیچی آواز میں گفتگو کی کہ مقبول کچھ نہ سن سکا۔ پھر ریسیور ہک میں لٹکا کر وہ مڑا اور مقبول کو ایڈریس بتاتے ہوئے بولا۔ ’’اس پتے پر پہنچ کر نبیلہ کا پوچھ لینا۔‘‘
مقبول ادائیگی کرکے باہر آگیا۔
مطلوبہ اپارٹمنٹ پر پہنچ کر اس نے گھنٹی بجائی تو ایک لڑکی دروازے پر آئی۔
’’مجھے نبیلہ سے ملنا ہے۔‘‘ مقبول نے کہا۔
’’میں ہی نبیلہ ہوں۔ کیا تمہیں کیفے ثمربار کے ہیڈ ویٹر ’منیر‘ نے بھیجا ہے؟‘‘
’’ہاں!‘‘ مقبول نے فوراً اپنے سر کو اثباتی جنبش دی۔
’’معافی چاہتی ہوں میں آپ کو اندر آنے کے لیے نہیں کہہ سکتی۔ آپ نے کچھ پوچھنا ہے؟‘‘
’’جی ہاں!‘‘
’’جلدی پوچھ لیں، میں زیادہ وقت بھی نہیں دے سکتی۔‘‘
’’میں ایک لڑکی کو تلاش کررہا ہوں۔ بقول منیر اس کا نام نیلم ہے لیکن میں اسے شائستہ کے نام سے جانتا ہوں۔ اس کے بال گھنے، سیاہ اور قدرے گھنگھریالے تھے۔ اگر تم مجھے اس کے بارے میں بتا دو تو بڑی مہربانی…!‘‘
’’شائستہ اب یہاں نہیں رہتی۔ اس نے شادی کرلی تھی۔‘‘ نبیلہ نے بات کاٹ کر کہا۔ ’’بس! اس سے زیادہ میں نہیں جانتی۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے دروازہ بند کردیا۔
مقبول نے ایک گہری سانس خارج کی اور اپنی کار میں بیٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔
وہ پریشانی کے عالم میں دیوانوں کی طرح کار چلا رہا تھا اور اس کا ذہن گویا دکھ اور کرب سے ریزہ ریزہ ہورہا تھا۔ اسے نبیلہ سے پوری امید تھی کہ وہ شائستہ یا اس اجنبی فراڈی لڑکی کے بارے میں اسے ضرور کچھ نہ کچھ بتا سکے گی مگر ایسا نہ ہوا۔
گھر پہنچ کر اس نے سب سے پہلے انسپکٹر خرم کو فون کیا۔ خرم نے کہا۔ ’’تم کہاں غائب تھے؟ میں نے تم سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔‘‘
’’میں اقبال گارڈن گیا تھا اور مجھے ایک نئی بات معلوم ہوئی ہے کہ شائستہ کا ایک نام نیلم بھی تھا۔‘‘ اس نے بتایا۔
’’مجھے تمہاری کہانی کی تصدیق کرنی پڑے گی۔‘‘ خرم نے کہا۔
’’کیا میرا یہ کہنا کافی نہیں کہ یہ سب کچھ سچ ہے۔‘‘ مقبول نے کہا۔
’’پھر بھی مجھے تمہارے بیان کی تصدیق تو کرنی پڑے گی۔‘‘ خرم نے کہا۔
’’جہنم میں جائو۔‘‘ مقبول نے یہ کہہ کر رابطہ منقطع کردیا۔
پھر وہ آنٹی عشرت کے کمرے میں پہنچا اور اس نے انہیں عجیب کیفیت میں پایا۔ وہ بے ہوش معلوم ہوتی تھیں، لیکن ان کی آنکھیں اَدھ کھلی تھیں اور ہونٹ یوں آہستہ آہستہ ہل رہے تھے جیسے وہ کچھ کہنا چاہتی ہوں۔
’’آنٹی… آنٹی…!‘‘ مقبول نے بے تابی سے پکارا۔
ان کے ہونٹ کچھ اور لرزے لیکن آواز اب بھی نہ نکلی۔
’’میں ڈاکٹر ارسلان کو فون کرتا ہوں۔‘‘ مقبول نے کہا۔
ڈاکٹر ارسلان بیگ، آنٹی عشرت کے متعلق اطلاع ملنے کے بیس منٹ بعد پہنچا۔ اس نے آنٹی عشرت کا معائنہ کیا اور تلخ لہجے میں کہا۔ ’’یہ بالکل ٹھیک ہیں۔ میں نے تمہیں پہلے بھی کہا تھا کہ ان کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔‘‘
’’لیکن ان سے تو بولا بھی نہیں جارہا۔‘‘ مقبول نے کہا۔
’’یہ نیند کی دوا کا اثر ہے جو میں نے انہیں دی ہے۔ میں ڈاکٹر ہوں اور میں ان کے بارے میں بہتر جانتا ہوں۔‘‘ ڈاکٹر ارسلان نے یہ کہتے ہوئے برہمی سے مقبول کی طرف دیکھا۔ ’’اور تم ان کا خیال رکھنے کی ذمہ داری مجھ پر چھوڑ دو۔‘‘
’’میں معذرت خواہ ہوں۔ میں ان کی حالت دیکھ کر بوکھلا گیا تھا۔ اس لیے میں نے آپ کو فون کردیا تھا۔‘‘ مقبول نے کہا۔
پھر اس نے بستر پر پڑی آنٹی عشرت کی طرف دیکھا جو اب بھی مُردوں کی طرح پڑی تھیں۔ صرف ان کے پپوٹوں میں خفیف سی لرزش تھی۔
(جاری ہے)