Ghana Ali : Aik Haseena

1526
غنا علی کو آپ نے ٹی وی سیریل ’’سن یارا‘‘ میں تانیہ جیسی سفاک لڑکی کے رول میں دیکھا ہوگا۔ ’’سویرا‘‘ نام کی شرمیلی سی لڑکی کا ٹائٹل رول کرتے دیکھا ہوگا۔ یہ اور اس طرح کے دوسرے کئی کردار آپ نے اُنہیں نہایت خوبصورتی اور مہارت سے نباہتے دیکھا ہوگا۔ ’’رنگ ریزا‘‘ اور ’’مان جاؤ نا‘‘ جیسی فلموں میں کام کرنے کے تجربے سے بھی وہ گزر چکی ہیں جن میں ان کے مقابل منجھے ہوئے اداکار تھے لیکن غنا نے اپنے ہر ڈرامے اور فلم میں اپنے آپ کو نئے فنکاروں کی کھیپ میں سب سے نمایاں اور باصلاحیت فنکارہ تسلیم کرا لیا ہے۔ ہماری روایتی سی شوبز انڈسٹری میں وہ منفرد فنکارانہ صلاحیتوں کے سبب اپنی ایک الگ ہی پہچان لے کر اس منظرنامے پر اُبھری ہیں۔
غنا علی جو پہلے غنا طاہر کہلاتی تھیں، اُنہوں نے اپنے لیے مشکل راستے کا انتخاب کیا ہے۔ وہ ڈراموں یا فلموں میں روایتی قسم کی ہیروئن کے کردار نہیں کرتیں جو عام طور پر سگھڑ اور سلیقہ شعار قسم کی بیوی ہوتی ہے یا پھر پرانے، افسانوی انداز میں ہیرو کی محبت میں گرفتار ہوتی ہے۔ غنا زیادہ تر منفی اور اسی قسم کی لڑکیوں کے کردار کرتی ہیں جنہیں فلمی زبان میں ’’ویمپ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ وہ زیادہ تر ’’نسوانی ولن‘‘ ٹائپ کرداروں میں دکھائی دیتی ہیں اور اپنی شاندار اداکارانہ صلاحیتوں سے ان کرداروں میں جان ڈال دیتی ہیں۔ حالانکہ قدرت نے اُنہیں جیسے حسین چہرے سے نوازا ہے، وہ بھی چاہتیں تو روایتی ہیروئن کے کردار میں بے شمار دلوں پر قیامت ڈھا سکتی تھیں لیکن اُنہوں نے ایک مختلف راستہ منتخب کیا اور فنکاراؤں کے ہجوم میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔ وہ آپ کو اسکرین پر اپنے ہیرو کے لیے آنسو بہاتی دکھائی نہیں دیتیں بلکہ اپنی شاطرانہ چالوں سے ہیرو کو ہیروئن سے چھین کر لے جاتی ہیں۔
وہ محض حسین ہی نہیں، ذہین بھی ہیں۔ وہ اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ ہر کام قدرت کی منشاء کے مطابق ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے خوابوں کی تعبیریں پانے کیلئے مسلسل جدوجہد کرتے رہنے پر بھی یقین رکھتی ہیں۔ اپنے کرداروں میں نہایت تیز طرار، چالاک اور بے باک دکھائی دینے والی یہ منفرد اداکارہ اچھی بھلی، قانون کی تعلیم حاصل کرنا چاہ رہی تھی، لاء گریجویٹ بننے کا ارادہ رکھتی تھی لیکن اسی دوران اداکاری کا سلسلہ شروع ہوگیا اور اُنہوں نے تعلیم کو خیرباد کہہ کر اداکاری میں کیریئر بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ اے لیول کرتے ہی اُنہیں اداکاری کا شوق ہوگیا تھا اور اُنہیں یہ فن اچھا لگنے لگا تھا۔ چنانچہ اُنہوں نے اسی فن میں نام اور مقام بنانے کا عزم کرلیا۔
ہائی اسکول میں اپنے سینئرز سے انسپائریشن حاصل کرکے پہلے اُنہوں نے تھیٹر میں اپنی صلاحیتیں آزمائیں۔ اُنہوں نے بس ایک ہی ڈرامے کیلئے آڈیشن دیا۔ اس کے بعد تو یہ سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ اُنہوں نے آج تک پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ وہ لاء اکیڈمی میں داخلہ لے چکی تھیں اور قانون کی تعلیم حاصل کررہی تھیں لیکن روز بہ روز اس میں ان کی دلچسپی کم ہوتی چلی گئی اور وہ کلاس روم کے بجائے تھیٹر میں اپنے خوابوں کی تعبیریں تلاش کرتی دکھائی دیتیں۔ بڑی مشکلوں سے اُنہوں نے اپنے گھر والوں کو اس بات کا قائل کیا کہ اداکاری بھی کوئی معیوب کام نہیں ہے اور لڑکے ہی نہیں، لڑکیاں بھی اس میں اپنا کیریئر بنا سکتی ہیں۔ وہ ان دنوں لاہور میں رہتی تھیں لیکن جب کراچی سے اُنہیں کام کی زیادہ آفرز آنے لگیں تو اُنہوں نے کراچی شفٹ ہوجانا ہی بہتر سمجھا اور اب وہ یہیں رہائش پذیر ہیں۔ ان کے والدین اب بھی لاہور میں ہیں اور وہ ان سے ہمیشہ رابطے میں رہتی ہیں۔
اپنی فیملی سے اُنہیں بے پناہ محبت ہے اور وہ گھر کے ہر فرد کی تعریفیں کرتی نہیں تھکتیں۔ خاص طور پر اپنی بڑی بہن کی تو وہ بہت ہی گرویدہ ہیں۔ اُنہیں اپنی رہنما اور استاد کا درجہ بھی دیتی ہیں۔ جتنی محبت اُنہیں اپنی فیملی سے ملی ہے، ان کی خواہش ہے کہ جو بھی ان کا جیون ساتھی بنے، اس سے بھی اُنہیں اتنی ہی محبت ملے اور وہ اتنا ہی سچا، کھرا اور مخلص ہو جتنی غنا خود ہیں۔ اپنے مستقبل کے ساتھی سے وہ جو توقعات رکھتی ہیں، ان کا بلاجھجک اظہار کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں۔ ’’ضروری نہیں ہے کہ اس کے پاس دولت ہو یا وہ معاشرے میں کوئی اہم مقام رکھتا ہو۔ بس وہ میری، میرے والدین اور گھر والوں کی عزت کرے۔ محبت کرنے والا ہو اور میں اس کے ساتھ سکون کی زندگی گزار سکوں۔ میں نہیں چاہوں گی کہ اس کے ساتھ پارٹیوں میں جاؤں یا ہماری زندگی میں ہلا گلا ہو۔‘‘
شادی کے بعد وہ اداکاری ترک نہیں کرنا چاہتیں کیونکہ یہ فن ان کی پہلی محبت ہے۔ تاہم اگر اُنہیں اپنا جیون ساتھی اپنی توقعات پر پورا اُترتا دکھائی دے تو اس پر بھی سمجھوتا ہوسکتا ہے، وہ اسے مسئلہ یا تنازع نہیں بنائیں گی لیکن سردست ان کی پوری توجہ بہرحال، صرف اور صرف اداکاری پر ہے۔ اُنہوں نے جن دو فلموں میں کام کیا ہے، وہ بہت زیادہ کامیاب نہیں رہیں لیکن غنا نے ہمت نہیں ہاری ہے۔ بڑی اسکرین پر آنے اور فلم میں کام کرنے کا ان کا شوق اور جذبہ برقرار ہے۔ سننے میں آیا ہے کہ ان کی اگلی فلم ’’کاف کنگنا‘‘ ہوگی جس میں وہ بظاہر تو گلی محلے کی ایک عام سی لڑکی ’’گلناز‘‘ کے رول میں ہوں گی لیکن یہ لڑکی اپنے محبوب کے بارے میں بڑی Possessiveہے۔ اس فلم میں غنا ان کرداروں سے بالکل مختلف نظر آئیں گی جو اُنہوں نے اب تک کیے ہیں۔
شوبز انڈسٹری کے بارے میں بہت سے لوگوں کی رائے اب بھی اچھی نہیں ہے لیکن غنا کا کہنا ہے کہ کوئی بھی انسان اس فیلڈ میں اپنی اقدار، تہذیب اور عزت و شرافت کو اپنا سب سے قیمتی سرمایہ سمجھتے ہوئے اپنا نام اور مقام بنانے کی جدوجہد کرسکتا ہے اور کامیاب ہوسکتا ہے۔ آپ سے ڈرامے یا فلم میں کوئی کردار رائٹر یا ڈائریکٹر کراتا ہے اور وہ کردار کچھ بھی ہوسکتا ہے لیکن حقیقی زندگی میں آپ اپنا کردار کیا رکھنا چاہتے ہیں، یہ خود آپ پر منحصر ہے۔
غنا نے اداکاری شروع کرنے سے پہلے اپنے سراپا کو بھی بہت بدلا ہے۔ اُنہوں نے اپنا وزن بہت کم کیا ہے۔ اُنہیں احساس تھا کہ شوبز میں انسان کو اسمارٹ اور ایکٹو نظر آنا چاہیے کیونکہ پرستار اپنے پسندیدہ فنکاروں سے انسپائریشن حاصل کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں ایک فنکار کو اپنے ناظرین کے لیے رول ماڈل بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ غنا جتنی باصلاحیت اور یکسوئی سے کام کرنے والی فنکارہ دکھائی دیتی ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ شوبز کی دنیا میں بہت آگے تک جائیں گی۔