Ghum Ashna Tha Dil | Teen Auratien Teen Kahaniyan

646
سچ ہے زندگی پھولوں کی سیج نہیں ہے، کہتے ہیں کہ خوشیاں منتوں، مرادوں سے نصیب ہوتی ہیں مگر غم بن مانگے آتے ہیں۔ خوشیوں بھرے دن جہاں پر لگا کر اڑ جاتے ہیں، وہاں غم جانے کا نام نہیں لیتے۔ میرا دل بچپن سے غم آشنا تھا، ایک ماں، باپ کی اولاد ہونے کے باوجود ہر ایک کی قسمت الگ الگ تھی، آپا اور میں ایک آنگن میں پلیں بڑھیں۔ آپا صورت شکل میں مجھ سے کم مگر قسمت کی دھنی تھیں۔ والدین کا پیار جی بھر کے انہیں ملا، جبکہ مجھے بات بے بات نکمی اور کام چور کہا جاتا تھا، ان کو ستائش اور مجھے جھڑکیاں ملتی تھیں، حالانکہ وہ حکم چلاتیں اور میں کام کرتی رہتی تھی۔ وقت گزرتا رہا اور ہم دونوں بہنیں ہنستی، روتی، لڑتی جھگڑتی بڑی ہو گئیں۔
ان دنوں والد صاحب خوشحال تھے، صاحب حیثیت تھے۔ آپا کا رشتہ ایک مال دار گھرانے سے آ گیا۔ لڑکا خوبصورت، پڑھا لکھا اور آفیسر تھا۔ ایسا رشتہ کون ٹھکراتا ہے۔ آپا وسیم بھائی کی دلہن بن کر رخصت ہو گئیں۔ سسرال امیر کبیر تھا، وہاں جاتے ہی آپا کی عید ہو گئی۔ پہلے ہی دولت کی ریل پیل تھی، آپا کے قدم رکھتے ہی دولہا بھائی کی ترقی ہو گئی، سسرال کے کاروبار میں چار چاند لگ گئے اور دولت چھپر پھاڑ کر برسنے لگی۔ آپا سونے میں پیلی ہو گئیں۔ جب میکے آتیں بڑی سی گاڑی میں، ہم سب ان کی قسمت پر رشک کرتے۔ کہنے کو ہم سگی بہنیں تھیں مگر ہمارے مزاجوں میں اتنا فرق تھا جیسے دریا کے دو کنارے ہوتے ہیں۔ میں حساس اور وہ بے نیاز بلکہ بے حس کہوں تو بے جا نہ ہو گا۔ آپا کی شادی کے دو سال بعد ابا جان وفات پا گئے۔ وہ گھر کے واحد کفیل تھے۔ جب کفیل نہ رہے تو خوشحالی ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ حالات بد سے بدتر ہوتے گئے۔ امی کے کاندھوں پر سارا بوجھ آپڑا۔ میں بن بیاہی تھی اور دونوں بھائی ابھی چھوٹے تھے، وہ پڑھ رہے تھے۔ اللہ بھلا کرے ماموں کا، ان برے دنوں میں وہ ساتھ نہ دیتے تو ہمارے گھر کا چولہا بھی نہ جلتا۔
آپا تین بچوں کی ماں بن چکی تھیں، مگر اب بھی باقاعدگی سے میکے آتیں اور ہم سے اپنے چھوٹے بچوں کی خدمت لیتیں۔ آپا اپنی خوشیوں میں مست تھیں، اپنے خوابوں میں گم تھیں، کسی کے دکھ سکھ سے انہیں کچھ علاقہ نہ تھا۔ نت نئے ملبوسات اور زیورات سے لدی پھندی ہمارے یہاں جتنے دن چاہتیں قیام کرتیں۔ اچھا کھاتیں خوب ہنستیں۔ ہم بھی بجھے ہوئے دلوں کے اندھیرے دل میں دبا کر ان کے ساتھ ہنستے۔ ہم ان کے بچوں کے لئے کھانا بناتے، ان کو نہلاتے، کھانا کھلاتے اور وہ لمبی تان کر سوئی رہتیں۔
امی کو ان کے لئے کئی بار پاس پڑوس سے قرض لینا پڑتا۔ آپا کو کبھی خیال نہ آیا کہ ماں اب بیوہ ہوچکی ہے، بھائی چھوٹے ہیں اور کمانے والا کوئی نہیں ہے تو پھر یہ مرغیاں روسٹ کر کے میرے بچوں کے آگے کیسے رکھتی ہیں، ان کی گزر بسر ابا کے مرحوم ہو جانے کے بعد کس طرح ہو رہی ہے، انہوں نے کبھی جھوٹے منہ نہ پوچھا، اماں تمہیں کچھ چاہئے؟ جبکہ ان کا پرس ہر وقت نوٹوں سے بھرا ہوتا، مگر ہمارے لئے کبھی اس پرس کا منہ نہ کھلا۔
جیسے ان کا احساس مر گیا تھا۔ میکے میں آ کر آرام فرمانے اور بس اپنے حلوے مانڈے سے کام تھا۔ میں امی سے کہتی۔ اتنا قرض چڑھ گیا ہے کب اور کہاں سے اتارو گی۔ ماموں تو اتنی مدد کرتے ہیں کہ ہماری دال، روٹی پوری ہو جائے، آپا کو احساس نہیں۔ امی جواب دیتیں۔ مائرہ تم نہیں جانتیں جو میں سمجھتی اور جانتی ہوں۔ میرا داماد امیر آدمی ہے، اپنی غربت کے داغ اس سے چھپا لوں تو اسی میں عزت ہے۔ عزت کا چہرہ عیاں ہو جانے سے تمہارے لئے کسی اچھے گھرانے کا رشتہ نہ آئے گا۔
امی کا خیال تھا کہ دولہا بھائی اپنے جیسے کسی افسر کا رشتہ میرے لئے تلاش کریں گے لہٰذا اپنے حالات ان سے چھپانے چاہئیں۔ آدمی آدمی کے پیچھے بھاگتا ہے اور کچھ نہیں ملتا، الٹا عزت کم ہوتی ہے، اپنی نظروں میں اور دوسروں کی نظروں میں بھی۔ اگر اتنا سر وہ اپنے اللہ کے سامنے جھکائے تو اس کے دن ضرور پھر جائیں، مگر امی کی سمجھ میں یہ بات نہ آتی۔ وہ اپنے اللہ کے آگے دامن مراد پھیلانے کی بجائے بیٹی اور داماد کے سامنے دامن پھیلانے کا تصور باندھ کر ان کی خوشنودی میں لگی رہتیں۔ انہوں نے ہمارے حصے کا کھانا بھی ان کے پیٹ میں اتارا مگر انہوں نے کھا، پی کر یہی جانا کہ یہ ہمارا حق تھا۔
آپا جب آتیں امی ان سے منت سماجت کرتیں کہ تم بڑی بہن ہو اور اچھے گھر کی بہو ہو چھوٹی بہن کے رشتے کی فکر تمہیں کرنی ہے۔ جی امی آپ فکر نہ کریں، ہم ضرور کچھ نہ کچھ کریں گے۔ وہ جواب دیتیں اور چلی جاتیں۔
ان دنوں معمولی روزگار والے لڑکوں کے رشتے میرے لئے آئے، مگر اماں نے انکار کر دیا کہ اس کی بہن آپ ہی کوئی اعلیٰ رشتہ ڈھونڈ کر لائے گی۔ ظاہر ہے ایک بیٹی دولت مند گھر کی بہو تھی تو ماں کو یہی چاہ تھی کہ دوسری بھی امیر گھرانے میں جائے۔
آپا یوں ہی میکے آتی جاتی رہیں اور والدہ ان کی طرف میرے رشتے کے لئے آس بھری نگاہوں سے دیکھتی رہیں، مگر ان تلوں میں تیل تھا ہی نہیں۔ ایک دن ایسا آیا کہ میرے سر میں چاندی اتر آئی اور ماں مایوس ہو بیٹھیں۔ اب میری ماں کو یقین ہو گیا کہ مائرہ کو قطعی رشتہ کرانے میں دلچسپی نہیں ہے۔ مجھے تو پہلے سے پتا تھا مگر ماں کی آنکھوں پر عرصے تک خوش فہمی کی پٹی بندھی رہی تھی۔ اب اماں نے پاس پڑوس میں کہہ سن کر ایک رشتہ ڈھونڈ نکالا۔ لڑکا میرا ہم عمر اور معمولی ملازم تھا۔ جلدی میں اسی کے ساتھ بیاہ دیا اور میں صبر شکر کے ساتھ اپنے گھر رخصت ہو کر آ گئی۔
ایک وقت تھا کہ آپا کی زندگی کو آئیڈیل جان کر بہن اور اس کے شوہر کی پوجا کرتی تھی، شاید ان کی وساطت سے مجھے بھی ان کے جیسا گھر اور زندگی نصیب ہوجائے، میں بھی کسی شاندار کوٹھی میں بہو بن کر جا رہوں اور پھر شادی کے بعد بڑی سی گاڑی میں گہنے پاتوں سے لدی پھندی میکے کی دہلیز پر اتروں۔ مگر یہ میری خام خیالی تھی کہ یہ اپنی اپنی قسمت ہوتی ہے۔ ایک ہی ماں باپ کے بچے ہوتے ہیں مگر ہر کسی کی تقدیر جدا جدا ہوتی ہے۔
شادی کے بعد کچھ دنوں تک دل بھاری رہا۔ شوہر کا معمولی سا گھر تھا، دونوں وقت دال، سبزی پر گزارہ ہوتا، گوشت ہفتہ پندرہ دن بعد کبھی پکتا ورنہ اچار، چٹنی سے بھی وقت پاس ہو جاتا تھا۔ آپا کے گھر کی طرح نہ ہر شے کی فراوانی تھی اور نہ ان جیسے ٹھاٹھ تھے۔ یہاں پر ملازم تھے اور نہ ڈرائیور، مالی تھے، سارا کام خود اپنے ہاتھوں سے کرنا پڑتا تھا۔ وہاں روز دعوتیں ہوتیں، ہلا گلا رہتا اور یہاں جھاڑو پھری ہوئی تھی۔
ان دنوں عجب سی الجھن رہتی تھی۔ میں اور رفیع آپا کے گھر جاتے اور واپس آتے تو ڈسٹرب ہوتے۔ اسی قلق میں کئی دنوں تک چپ رہتی کہ میرے پاس کیا ہے اور رفیع میرے قلق کو محسوس کر کے افسردہ ہو جاتے۔ کہتے تم رنجیدہ نہ ہوا کرو۔ اللہ نے چاہا تو ہمارے دن بھی پھریں گے اور یہ سب کچھ تمہارے پاس بھی ہو گا جو آج تمہاری بہن کے پاس ہے۔
ان کی ایسی باتوں سے دل اور جلتا تھا۔ میں شاکر ہی تھی کہ صبر کرکے ان حالات میں گزارہ کر رہی تھی۔ کوئی فرمائش کرتی اور نہ گھر کو سجانے کو کوئی سامان لا سکتی تھی۔ جانتی تھی کہ میرے خاوند کی تنخواہ اتنی قلیل ہے کہ بس پیٹ بھر کھانا کھا سکتے ہیں۔ کوٹھی بنوا سکتے ہیں اور نہ کار خرید سکتے ہیں۔ اپنی قسمت سے سمجھوتا کرنا ہی تھا سو کر لیا۔ دو وقت کی روٹی پر قناعت کر لی اور زیادہ کی چاہ کو دل میں دفن کر دیا۔ صد شکر رفیع اچھے انسان تھے، وہ قبول صورت تھے مگر ان کے حسن سلوک نے میرا دل جیت لیا۔
انسان اپنی محرومیوں سے سمجھوتا کر لیتا ہے، اپنے خوابوں کو بھی دفن کر دیتا ہے مگر جو امتیازی سلوک معاشرہ ہم سے کرتا ہے وہ برداشت کرنا بڑے حوصلے کا کام ہے۔ آپا جب اپنے تینوں بچوں کے ساتھ میکے آیا کرتی تھیں تو اماں دوڑی دوڑی ان کے بچوں کا استقبال کرتیں اور واری صدقے ہوجاتیں۔ قرض لے کر روسٹ پلائو بنتے تھے اور اب میں جب اپنے بچوں کے ہمراہ جاتی تو ماں دل چھوٹا کر لیتیں۔ بھائیوں کی زبان پر ایسے فقرے ہوتے، کیا روز روز آجاتی ہو اپنی فوج کے ساتھ، ہمارے حالات کا احساس نہیں ہے تمہیں، اپنے گھر میں دل لگائو۔ حالانکہ میرے بھی تین بچے تھے مگر ماں کا کہنا تھا بیٹیاں اپنے گھروں میں بھلی لگتی ہیں۔
ایک میکے کی بات نہیں سب ہی رشتے دار آپا کے دیوانے تھے۔ ان کی دعوتیں کرتے تھے۔ چھوٹے موٹے کام نکلوانے کو بالآخر افسر ہی کام آتے ہیں۔ میکے میں جو سلوک میرے بچوں کے ساتھ ہوتا وہ آپا کے بچوں سے مختلف ہوتا۔ انہیں ہم پر واضح برتری حاصل تھی۔ آخر ایک دن میرے بچوں کو احساس ہو گیا کہ ان کو نانی اماں کے گھر نہیں جانا چاہئے۔ وہ باشعور ہو گئے تھے اور احساس کمتری ان کو ستانے لگا تھا۔
انسان کب تک اپنے خوابوں کے پیچھے بھاگ سکتا ہے۔ محرومیاں اگر خوشیاں چھین لیتی ہیں تو کچھ دے بھی جاتی ہیں۔ مجھے اور میرے بچوں کو احساس محرومی نے عزت نفس کا سرمایہ عطا کیا۔ بچوں نے اپنے گھر میں دل لگا لیا۔ یہی بات اچھی تھی کہ اس طرح مجھے سکون مل گیا۔ دل و جان سے میرے بچوں نے پڑھائی میں جی لگایا۔ ہم نے آپا کے گھر جانا ترک کیا اور امی کے پاس بھی بلا ضرورت جانا ختم کیا۔
وقت نے کروٹ لی۔ بھائی بڑے ہو گئے۔ انہوں نے محنت کی اور پھر اپنا جنرل اسٹور کھول لیا۔ مالی حالات سنبھل گئے تو ان کی شادیاں ہوگئیں اور وہ اپنی زندگی میں مگن ہو گئے۔
میرے میاں کی قربانیاں رنگ لے آئیں۔ میں نے بھی اپنے شوہر اور گھر سے دل لگا لیا تھا۔ بچوں کو ہم نے باور کرایا کہ اب تم نے محنت کرنی ہے، پڑھنا ہے اور کچھ بن کر دکھانا ہے۔ بچوں نے دن، رات پڑھائی میں دل لگا لیا۔ کامیابی نے ان کے قدم چومے۔ ایک دن ایسا آیا میرے تینوں بچوں نے ٹاپ کیا اور مقابلے کے امتحان میں نمایاں پوزیشن سے کامیاب ہوئے۔
میرے بہنوئی کی اعلیٰ افسری نے جو اثرات ہمارے خاندان پر چھوڑے تھے یہ اس کا پہلا مثبت ردعمل تھا کہ آپا کے شوہر کے ٹھاٹھ باٹ دیکھ کر محنت کے راستے پر نکل گئے تھے۔ بالآخر آفیسر ہو گئے۔ مدت بعد مجھے بھی وہی ٹھاٹھ باٹ نصیب ہو گیا جو بڑی بہن کو اس کے خاوند کی بہ دولت نصیب ہوا تھا، وہ لیکن بچوں کے معاملے میں خوش بخت ثابت نہ ہوئیں۔ عیش و آرام نے ان کی اولاد کو سست بنا دیا۔ ان کے دلوں میں لگن کا وہ چراغ روشن نہ ہوا جو غربت نے میرے بچوں کے دلوں میں روشن کیا تھا۔
آج میرے پاس شاندار کوٹھی ہے، گاڑی ہے اور اولاد اعلیٰ عہدوں پر فائز ہے اور کسی شے کی کمی نہیں ہے۔ میکے اور سسرال والے آگے پیچھے پھرتے ہیں جیسے کبھی رشتے دار آپا کے آگے پیچھے گھومتے تھے، مگر افسوس کہ میری بہن کے بخت کو زوال آ چکا ہے۔ شوہر کا انتقال ہوا تو موروثی دولت ان کے چھ بھائیوں میں بٹ گئی۔ آپا کے پاس کار، کوٹھی تو ہے مگر پہلے جیسے ٹھاٹھ نہیں رہے ہیں کہ ٹھاٹھ باٹ تو مرد کی سلامتی سے ہوتے ہیں۔
میں اب بڑے اعتماد کے ساتھ رشتے داروں کے درمیان اٹھتی بیٹھتی ہوں کیونکہ اللہ پاک نے عزت دی ہے اور اب میری باری ہے۔ وہی بڑی بہن جس کو کبھی ہماری غربت کا احساس نہ ہوتا تھا اب ان کو ہمارے گزرے دنوں کی محرومیوں کا احساس ہوتا ہے۔ کہتی ہیں۔ مائرہ واقعی مجھ سے غفلت ہوئی ہے۔ اپنی خوشیوں میں کھو گئی تھی۔ اپنوں کے دکھوں کا احساس نہ رہا تھا۔
کوئی بات نہیں آپا…انسان کو اس وقت تک کسی کے دکھ کا احساس نہیں ہوتا جب تک اس کا اپنا دل غم آشنا نہ ہو جائے۔ تب ہی میں اس بات پر یقین رکھتی ہوں کہ اللہ پاک نے انسان کے لئے خوشیوں کے ساتھ غموں اور محرومیوں کو بھی لازم و ملزوم بنایا ہے۔ جب تک کسی کو کانٹا نہ چبھے اسے کیا خبر ہو گی کہ درد کیا ہوتا ہے۔ جب تک کسی پر مفلسی نہ آئے اسے کیوں کر علم ہو گا کہ فاقے کی اذیت کیسی بری شے ہوتی ہے۔
اس دنیا میں ہر شے کے معنی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے کوئی شے بے مقصد نہیں بنائی۔ بے شک اس رب العزت کی بنائی ہوئی کائنات کا یہ سارا نظام بے نقص اور مکمل ہے، مگر یہ انسان ہی ہے جو اس کی مصلحتوں کو نہیں سمجھتا۔
(ش۔ع…کراچی)