God Father | Episode 10

578
سولوزو نے اطالوی میں کہنا شروع کیا۔ ’’تمہارے والد کے ساتھ جو کچھ ہوا، مجھے اس پر افسوس ہے لیکن تمہیں یہ ضرور سمجھ لینا چاہئے کہ یہ خالص کاروباری معاملہ ہے۔ تمہارے والد نے مستقبل کے راستے میں رُکاوٹ بننے کی کوشش کی تھی۔ میں اس کے پاس جو تجویز لے کر گیا تھا وہ مستقبل کے کاروبار کی تھی اور اس میں ہم سب کے لئے لاکھوں ڈالر کا فائدہ تھا۔ مجھے معلوم تھا، تمہارے والد کا انکار میرے لئے رُکاوٹیں کھڑی کرے گا۔ بظاہر انہوں نے یہی کہا تھا کہ میں جو چاہوں، کروں، وہ میرے کاروبار سے کوئی واسطہ رکھنا نہیں چاہتے لیکن مجھے اندیشہ تھا کہ ان کے یہ کہنے کے باوجود مجھے دُشواریاں پیش آئیں گی۔ اس لئے وہ سب کچھ ہوگیا جو ناگزیر نظر آ رہا تھا۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ مجھے ٹے ٹیگ لیا فیملی کی علی الاعلان حمایت اور باقی ’’فیملی‘‘ کی خاموش حمایت حاصل ہے لیکن میں کم از کم اس وقت تک صلح اور اَمن چاہتا ہوں جب تک تمہارے والد صحت یاب ہو کر خود فیصلے کرنے کے قابل نہیں ہو جاتے۔‘‘
’’اور مجھے ضمانت چاہئے کہ اس دوران میرے والد کی جان لینے کی مزید کوششیں نہیں کی جائیں گی۔‘‘ مائیکل بولا۔ اس نے محسوس کیا کہ سولوزو مزید دائو آزمانے کے لئے صرف چند دن کی مہلت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
’’تم مجھے کچھ زیادہ ہی عزت دے رہے ہو، جو اس قابل سمجھ رہے ہو ورنہ اس وقت درحقیقت میں خود اپنی جان بچانے کے لئے چھپتا پھر رہا ہوں۔‘‘ سولوزو بولا۔
مزید کچھ دیر اسی قسم کی باتیں ہوتی رہیں۔ پھر مائیکل نے اپنے چہرے پر بے چینی کے تاثرات پیدا کرنے کی کوشش کی اور پہلو بدلتے ہوئے بولا۔ ’’میں کافی دیر سے واش روم جانے کی ضرورت محسوس کر رہا ہوں، اگر تمہیں کوئی اعتراض نہ ہو تو؟‘‘
سولوزو نے شک بھری نظروں سے اس کے چہرے کا جائزہ لیا اور ایک بار پھر اس کی تلاشی لینے کے لئے اس کے جسم کے بعض حصوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ تب کلس تیکھے لہجے میں بولا۔ ’’میں اس کی تفصیلی تلاشی لے چکا ہوں اور میں اس کام میں اَناڑی نہیں ہوں۔ میں نے ڈیوٹی کے دوران ہزاروں بدمعاشوں کی تلاشی لی ہے۔‘‘
اس کے باوجود سولوزو نے دُوسری میز پر بیٹھے ہوئے شخص کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کر کے واش روم کے بارے میں پوچھا۔ اس آدمی نے آنکھوں کے اشارے سے جو جواب دیا، اس کا مفہوم غالباً یہی تھا کہ وہ واش روم کو چیک کر چکا ہے، وہاں کوئی چھپا ہوا نہیں ہے۔
آخر سولوزو نے گویا بادل ناخواستہ مائیکل کو واش روم جانے کی اجازت دیتے ہوئے کہا۔ ’’زیادہ دیر مت لگانا۔‘‘
مائیکل جب واش روم میں پہنچا تو اسے سچ مچ اس سے استفادہ کرنے کی حاجت محسوس ہونے لگی تھی۔ فارغ ہو کر اس نے فلش کی ٹنکی کے پیچھے ہاتھ ڈالا تو اسے وہاں گن کی موجودگی کا احساس ہوا۔ وہ ٹنکی کے پیچھے چپکی ہوئی تھی۔ اس نے گن نکال کر پتلون کی بیلٹ میں اُڑس لی اور اُوپر کوٹ کے بٹن لگا لئے۔ پھر اس نے ہاتھ دھوئے اور بال بھی تھوڑے سے گیلے کر لئے۔ گن پر تو اسے اُنگلیوں کے نشانات ثبت ہونے کی فکر نہیں تھی۔ اس نے واش بیسن کی ٹونٹی وغیرہ پر سے اپنی اُنگلیوں کے نشانات صاف کر دیئے اور واپس روانہ ہوا۔
سولوزو کا رُخ واش روم کی طرف ہی تھا اور وہ پوری طرح چوکنا نظر آ رہا تھا۔ دُوسری میز پر موجود شخص بھی اس دوران گویا سخت اعصابی تنائو کا شکار رہا تھا۔
مائیکل میز کے قریب پہنچ کر گویا سکون کی سانس لیتے ہوئے بولا۔ ’’اب میں آرام سے بات کر سکتا ہوں۔‘‘
سولوزو نے بھی سکون کی سانس لی اور دُوسری میز پر موجود آدمی بھی کچھ مطمئن نظر آنے لگا۔ کھانا آ چکا تھا اور کیپٹن کلس کھانے میں مصروف ہو چکا تھا۔ اس کے لئے گویا صورت حال ذرا بھی تشویش ناک نہیں تھی۔ مائیکل دوبارہ بیٹھ گیا۔ مینزا نے تو اسے ہدایت کی تھی کہ وہ واش روم سے واپس آتے ہی دونوں آدمیوں کو شوٹ کر دے لیکن اس کی چھٹی حس نے اسے خبردار کیا تھا کہ وہ لمحہ اس کام کے لئے موزوں نہیں۔ اگر وہ اس وقت ایسی کوشش کرتا تو شاید خود مارا جاتا۔ اس وقت سولوزو اور دُوسری میز پر موجود نگران، دونوں ہی شکار پر نکلے ہوئے کسی درندے کی طرح چوکنا تھے۔ اس نے ان دونوں کے اعصاب ذرا ڈھیلے پڑ جانے اور ان کے ذرا مطمئن ہو جانے کا انتظار کرنا
بہتر سمجھا۔
سولوزو، مائیکل کی طرف جھک کر دوبارہ بات شروع کر چکا تھا لیکن مائیکل ایک لفظ بھی نہیں سن رہا تھا۔ اس کا سینے سے نیچے کا حصہ میز کی آڑ میں تھا۔ وہ اپنا ہاتھ نیچے رکھتے ہوئے کوٹ کا بٹن کھول چکا تھا اور اس کا ہاتھ گن کے دستے پر پہنچ چکا تھا۔ اس کے کانوں میں نہ جانے کہاں سے شائیں شائیں کی سی آوازیں آ رہی تھیں۔
اس وقت ویٹر ان کی میز کے قریب آ چکا تھا اور سولوزو نے اس سے بات کرنے کے لئے گردن موڑ لی تھی۔ مائیکل میز کو دھکیلتے ہوئے اچانک اُٹھ کھڑا ہوا۔ اسی لمحے گن اس کی بیلٹ سے نکل کر اس کے ہاتھ میں آ چکی تھی اور اس کی چھوٹی سی نالی سولوزو کے سر کو تقریباً چھو رہی تھی۔ سولوزو نے اضطراری طور پر پیچھے ہٹنے کی کوشش کی لیکن اس وقت تک مائیکل ٹریگر دبا چکا تھا۔
گولی اس کی کنپٹی میں گھس کر دُوسری طرف سے نکلی تو ادھر خاصا بڑا بدنما سوراخ نمودار ہوگیا۔ خون کے چھینٹے اُڑ کر ویٹر کے یونیفارم پر پڑے اور دہشت سے اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ مائیکل نے محسوس کر لیا کہ سولوزو کے لئے ایک گولی کافی تھی۔
اسی لمحے کیپٹن کلس نے سر اُٹھا کر سولوزو کی طرف دیکھا تھا۔ اسے یقیناً سولوزو کی آنکھوں میں زندگی کا چراغ بجھتا نظر آ گیا تھا۔ وہ کانٹے میں مچھلی کا ٹکڑا پھنسائے اسے منہ کی طرف لے جا رہا تھا لیکن اس کا ہاتھ ہوا میں ہی ساکت ہو گیا۔
یہ سارا منظر ایک دو سیکنڈ کا تھا لیکن مائیکل یہ سب کچھ سلوموشن میں دیکھ رہا تھا۔ اس نے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔ گن کا رُخ کلس کی طرف ہوا اور دُوسرا فائر ہوا۔ گولی اس کے حلق میں لگی۔ اس کے حلق سے کھانسی کی سی آواز اور پھر خون کا فوارہ برآمد ہوا۔ مائیکل اس فائر سے مطمئن نہیں ہوا۔ اس نے دُوسرا فائر کلس کی پیشانی پر عین اس کی آنکھوں کے درمیان کیا۔
مائیکل کو اپنی آنکھوں کے سامنے خون کی چادر پھیلی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ تیزی سے اس شخص کی طرف گھوما جو دُوسری میز پر بیٹھا تھا۔ وہ اپنی جگہ ساکت تھا اور اس کی آنکھیں پھیلی ہوئی تھیں۔ اسے گویا سکتہ ہوگیا تھا لیکن جونہی مائیکل نے اس کی طرف دیکھا اس نے جلدی سے اپنے دونوں ہاتھ میز پر رکھ دیئے۔ مائیکل نے اس پر گولی نہیں چلائی اور غیر محسوس انداز میں گن میز کے نیچے ڈال دی۔
ویٹر کے چہرے پر دہشت نقش ہو کر رہ گئی تھی اور وہ خواب کے سے عالم میں دھیرے دھیرے اُلٹے قدموں کچن کی طرف جا رہا تھا۔
سولوزو کرسی سے نیچے گرا تھا۔ اس کا مردہ جسم میز کے سہارے ٹک گیا تھا لیکن کلس کی بھاری بھرکم لاش آہستگی سے فرش پر جا گری تھی۔ مائیکل کو یقین تھا کہ اسے گن میز کے نیچے پھینکتے ویٹر نے دیکھا تھا اور نہ ہی دُوسری میز پر بیٹھے ہوئے آدمی نے۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا دروازے کی طرف چل دیا۔
وہ دروازہ کھول کر باہر آیا تو سامنے اسے سولوزو کی کار کھڑی دکھائی دی لیکن جو نوجوان اسے ڈرائیو کر کے لایا تھا، اس کا دُور دُور تک کہیں نام و نشان نہیں تھا۔ مائیکل تیزی سے دائیں ہاتھ سڑک کے کونے کی طرف بڑھا۔ ایک کار کی ہیڈلائٹ تیزی سے آن آف ہوئیں اور وہ اس کے قریب جا پہنچا۔ اس کا دروازہ فوراً ہی کھل گیا۔ وہ ایک پرانی سیڈان تھی جس کا انجن اسٹارٹ تھا۔ مائیکل پھرتی سے اس میں بیٹھ گیا اور کار ایک جھٹکے سے آگے بڑھ گئی۔ ڈرائیونگ سیٹ پر ٹیسو تھا۔ اس کا چہرہ پتھرایا ہوا سا لگ رہا تھا۔
’’کام ہوگیا؟‘‘ اس نے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔
’’ہاں… دونوں کا کام تمام ہوگیا۔‘‘ مائیکل نے جواب دیا۔
’’پکی بات ہے؟‘‘ ٹیسو نے تصدیق چاہی۔
’’میں نے ان کا بھیجا باہر آتے دیکھا ہے۔‘‘ مائیکل بولا۔
’’بہت خوب!‘‘ ٹیسو نے طمانیت سے سر ہلایا۔
کار میں مائیکل کے لئے لباس تبدیل کرنے کا انتظام تھا۔ بیس منٹ بعد وہ ایک مال بردار اطالوی بحری جہاز پر سوار ہو چکا تھا جو سسلی جا رہا تھا۔ دو گھنٹے بعد جہاز ساحل سے اتنی دُور جا چکا تھا کہ نیویارک کی روشنیاں مائیکل کو چراغوں کی طرح ٹمٹماتی دکھائی دینے لگی تھیں۔
اس احساس سے اس کی رگ و پے میں طمانیت کی لہر سی دوڑ رہی تھی کہ اس کے پیچھے، نیویارک میں نہ جانے کیسا ہنگامہ برپا ہوگا۔ کتنا خون خرابہ ہوگا مگر وہ وہاں نہیں ہوگا۔
اس کا جعلی پاسپورٹ، جعلی شناختی کاغذات وغیرہ ہیگن نے تیار کرا دیئے تھے جن کی رُو سے وہ اس وقت سسلی کا ایک ماہی گیر تھا۔ سسلی میں اسے
ایک مافیا چیف کا مہمان بن کر اس کے ہاں طویل قیام کرنا تھا۔
٭…٭…٭
سولوزو اور کیپٹن میک کلس کے قتل کے دُوسرے دن نیویارک کے تمام پولیس اسٹیشنز کے انچارج آفیسرز نے بدمعاشوں کی دُنیا میں یہ پیغام بھجوا دیا کہ جب تک کلس کا قاتل پکڑا نہیں جاتا، شہر میں کسی بھی پولیس اسٹیشن کی حدود میں کوئی غیر قانونی دھندا نہیں ہوگا۔ بہت سی ایسی جگہوں پر پولیس کی بھاری نفری نے چھاپے مارے اور سیکڑوں افراد کو گرفتار کرلیا، جہاں اس طرح کے دھندے ہوتے تھے۔ یوں زیر زمین دُنیا کی سرگرمیاں گویا یک لخت رُک گئیں۔
اسی شام دیگر ’’فیملیز‘‘ کا ایک مشترکہ قاصد کارلیون فیملی کے پاس پہنچا اور اس نے ان سے معلوم کیا کہ وہ کلس کے قاتل کو پولیس کے حوالے کرنے کے لئے تیار ہیں یا نہیں؟ کارلیون فیملی کی طرف سے اسے یہ جواب دے کر بھیجا گیا کہ اس معاملے سے ان کا کوئی تعلق نہیں، اس لئے انہیں اس فکر میں دُبلے ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
اس رات مال پر جہاں کارلیون فیملی کے گھر واقع تھے، ایک کار اس زنجیر کے پاس آ کر رُکی جو راستہ روکنے کے لئے لگائی جاتی تھی۔ اس کار سے مال پر ایک بم پھینکا گیا جس کے بعد کار تیزی سے فرار ہوگئی تاہم اس بم سے کوئی نقصان نہیں ہوا کیونکہ وہ گھبراہٹ زدہ انداز میں کسی خاص ہدف کے بغیر پھینکا گیا تھا۔ البتہ اسی رات چھوٹے سے ایک اطالوی ریسٹورنٹ میں سکون سے کھانا کھاتے ہوئے دو افراد کو گولی مار دی گئی۔ وہ دونوں کارلیون فیملی کے خاص نشانچی تھے۔
یوں نیویارک میں مافیائوں کی 1946ء کی مشہور زمانہ لڑائی شروع ہوئی، جس میں پانچ ’’فیملیز‘‘ ایک طرف تھیں اور صرف ایک ’’فیملی‘‘ دُوسری طرف۔
٭…٭…٭
ایک اُبھرتی ہوئی اداکارہ اس وقت جونی کے شاندار اور پرتعیش مکان میں اس کی مہمان تھی۔ جونی کو یقین تھا کہ اس کی وہ رات بہت خوبصورت اور یادگار ثابت ہوگی کیونکہ وہ تمام لوازمات موجود تھے جو کسی بھی رات کو یادگار بناتے ہیں۔
لڑکی کا نام شیرون تھا۔ وہ بے پناہ خوبصورت تھی اور قیامت خیز سراپے کی مالک تھی مگر اس جیسی ہزاروں لڑکیاں ہالی وڈ میں معمولی سا مقام حاصل کرنے کے لئے ہاتھ پائوں مار رہی تھیں۔ ان میں سے وہ اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتی تھیں جنہیں جونی جیسے آدمی کا سہارا میسر آ جاتا تھا جو انہیں آگے بڑھنے میں کچھ نہ کچھ مدد دے سکتا تھا۔ شیرون بھی جونی کی نظر التفات پا کر بہت خوش معلوم ہوتی تھی اور آج جب موقع مناسب دیکھ کر جونی نے اس کے ساتھ یادگار وقت گزارنے کا اہتمام کیا تو اسے اُمید تھی کہ شیرون کی خود سپردگی دیدنی ہوگی۔
مگر اس وقت اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا جب شیرون نے اس کی خواہشوں کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ اس کی وجہ اس نے نہایت سادگی سے یہ بتائی کہ اس حوالے سے وہ اس کے ذوق جمال پر پورا نہیں اُترتا تھا۔ جونی کے جذبات ٹھنڈے پڑ گئے اور پھر شیرون رُخصت ہوگئی۔ جونی کی زندگی میں ایسا واقعہ کبھی پیش نہیں آیا تھا۔
اس نے اپنے آپ کو بیحد تنہا اور وحشت زدہ محسوس کیا۔ ایک عجیب سی بدمزگی اس کے حواس پر چھائی ہوئی تھی۔ وہ کسی کے پاس بیٹھنے اور کسی سے باتیں کرنے کی شدید ضرورت محسوس کر رہا تھا۔ آخر وہ اپنی سابقہ بیوی جینی کے گھر جانے کے لئے نکل کھڑا ہوا۔ یکایک اسے اپنی دونوں بچیوں کی یاد بھی ستانے لگی تھی۔ جانے سے پہلے اس نے فون کر کے جینی کو اپنی آمد کی اطلاع دے دی تھی اور اس نے خوش دلی سے اپنے ہاں آنے کی اجازت دے دی تھی۔ البتہ یہ بتا دیا تھا کہ بچیاں اس وقت سو چکی ہیں۔
ایک گھنٹے بعد اس نے بیورلے ہلز میں اس مکان کے سامنے کار روکی جو کبھی اس کا گھر ہوا کرتا تھا مگر جینی سے علیحدگی کے بعد اس نے دیگر بہت سی چیزوں کے ساتھ وہ بھی اسے دے دیا تھا۔ جینی دروازے پر اس کی منتظر تھی۔ وہ ایک خوش شکل مگر قدرے عام سی اطالوی عورت تھی جو شاید اپنے شوہر سے طلاق کے بعد بھی اس سے بے وفائی کا تصور نہیں کر سکتی تھی۔
اس نے جونی کو اندر لیونگ روم میں بٹھایا اور اس کے لئے کافی اور بسکٹ لے آئی۔ وہ کافی پی چکا تو جینی بولی۔ ’’صوفے پر لیٹ جائو… تم تھکے ہوئے لگ رہے ہو۔‘‘
’’شاید اب میں زیادہ تر ایسا ہی لگا کروں گا۔‘‘ وہ کوٹ اُتار کر اور ٹائی ڈھیلی کر کے صوفے پر نیم دراز ہوتے ہوئے بولا۔ ’’پینتیس سال کی عمر میں، میں گنجا ہو نے لگا ہوں اور میرا
پیٹ باہر آنے لگا ہے۔ میری جو فلم آج ہی مکمل ہوئی ہے، اس سے میں آس لگائے بیٹھا ہوں کہ شاید اس کے ذریعے مجھے دُوسرا جنم مل جائے۔ اگر میری یہ آس بھی پوری نہ ہوئی تو بس میری کہانی ختم سمجھو۔ ہالی وڈ میں انسان پینتیس سال کی عمر میں سو سال کی زندگی گزار لیتا ہے۔‘‘
’’اور درحقیقت تمہاری سمجھ میں صحیح طور پر یہی نہیں آ سکا کہ تم زندگی سے کیا چاہتے ہو؟‘‘ جینی گہری سنجیدگی سے بولی۔
وہ دونوں کافی دیر تک اسی طرح کی باتیں کرتے رہے۔ جینی ایک عام سی عورت ہونے کے باوجود اس وقت اچھی لگ رہی تھی۔ وہ نکھری نکھری، ترو تازہ اور صاف ستھری دکھائی دے رہی تھی تاہم جونی نے اس دوران اسے چھونے کی کوشش نہیں کی۔ اسے معلوم تھا کہ جینی اس کی اجازت نہیں دے گی۔ طلاق کے بعد سے اس نے اپنے اور اس کے درمیان حد قائم رکھی تھی۔ اس نے دُوسری شادی بھی نہیں کی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ بچیوں کی اصل ولدیت برقرار رکھنا چاہتی تھی۔ انہیں اس سے محروم کرنا نہیں چاہتی تھی۔ جونی کو یقین تھا کہ جینی نے ابھی تک کسی اور مرد سے مراسم استوار نہیں کئے تھے۔ اس نے گویا باقی زندگی اسی طرح گزارنے کا تہیہ کر رکھا تھا جس طرح اس وقت گزر رہی تھی۔
اچانک اندر فون کی گھنٹی بج اُٹھی۔ جینی فون سننے چلی گئی اور جب وہ واپس آئی تو اس کے چہرے پر قدرے حیرت تھی۔ وہ جونی سے مخاطب ہوئی۔ ’’تمہارا فون ہے… ٹام ہیگن بول رہا ہے۔‘‘
اس وقت تک ڈون کارلیون پر فائرنگ کا واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔ جونی نے اندر جا کر فون سنا تو ہیگن بولا۔ ’’سنا ہے تمہاری فلم ختم ہوگئی ہے۔ ڈون نے مجھے فوراً تم سے ملنے اور تمہارے مستقبل کے سلسلے میں کچھ منصوبے بنانے کا حکم دیا ہے۔ میں کل صبح لاس اینجلس پہنچ رہا ہوں۔ کیا تم ایئرپورٹ آ سکتے ہو؟ میں کل رات ہی واپس روانہ ہو جائوں گا۔ اس لئے تمہیں اپنی رات کی مصروفیات ملتوی کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔‘‘
’’میں ایئرپورٹ آ جائوں گا۔‘‘ جونی بولا۔ ’’تمہاری فلائٹ کتنے بجے پہنچے گی؟‘‘
’’گیارہ بجے۔‘‘ ہیگن نے بتایا۔ ’’تمہیں زیادہ تکلفات میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ اپنے کسی آدمی کو اندر ایئرپورٹ پر بھیج دینا۔ خود باہر گاڑی میں بیٹھے رہنا۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ جونی نے کہا۔
فون بند کر کے وہ لیونگ روم میں واپس پہنچا تو جینی نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ جونی بولا۔ ’’پہلے گاڈ فادر نے نہ جانے کس طرح مجھے اس فلم میں کام دلایا۔ اب وہ میری بہتری کے لئے کچھ اور منصوبے بنا رہا ہے۔ آج کل وہ مجھ پر بہت مہربان ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ ایک بار پھر صوفے پر ڈھیر ہوگیا۔
جینی بولی۔ ’’تم بہت تھکے ہوئے لگ رہے ہو۔ گھر جانے کے بجائے یہیں گیسٹ روم میں سو جائو۔ اتنی رات گئے طویل ڈرائیونگ کرنے اور بڑے سے گھر میں اکیلے رہنے سے بچ جائو گے۔ صبح ناشتہ بچیوں کے ساتھ کر لینا۔‘‘ پھر جیسے اسے کچھ خیال آیا اور وہ تجسس سے بولی۔ ’’تمہاری دُوسری بیوی تو بہت مصروف رہتی ہے اور ان دنوں وہ زیادہ تر تم سے الگ رہنا ہی پسند کرتی ہے۔ تمہیں اتنے بڑے گھر میں تنہائی کا احساس نہیں ہوتا؟‘‘
’’میں گھر میں رہتا ہی بہت کم ہوں۔‘‘ جونی نے جواب دیا۔
’’اوہ…! اس کا مطلب ہے کہ تمہارے معمولات اب بھی نہیں بدلے!‘‘ جینی شدید مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔ پھر ایک لمحے کے توقف سے اس نے پوچھا۔ ’’اگر تم گیسٹ روم میں نہ سونا چاہو تو میں دُوسرے بیڈروم میں تمہارے سونے کا انتظام کر دوں؟‘‘
’’کیا میں تمہارے بیڈروم میں نہیں سو سکتا؟‘‘ جونی نے پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘ جینی نے دھیمے لیکن مضبوط لہجے میں جواب دیا۔
دُوسری صبح وہ سو کر اُٹھا تو جینی اس کے لئے ناشتہ تیار کر چکی تھی۔ جونی نے دن کی پہلی سگریٹ سلگائی تو اس کی دونوں نوعمر بیٹیاں ناشتے کی ٹرالی دھکیلتی اور مسکراتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئیں۔ گول مٹول سے گالوں والی دونوں بچیاں اتنی خوبصورت اور معصوم تھیں کہ ان پر نظر پڑتے ہی جونی کے دل کو جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا۔ وہ پھولوں کی طرح شگفتہ اور نکھری نکھری دکھائی دے رہی تھیں۔
جونی نے سگریٹ بجھایا اور دونوں بازو پھیلا دیئے۔ وہ اس کے سینے سے آ لگیں۔ ان کے وجود سے دھیمی دھیمی مہک اُٹھ رہی تھی۔ جونی کی شیو بڑھی ہوئی تھی۔ وہ اپنے گال ان کے گالوں کے ساتھ رگڑنے لگا تو وہ زور زور سے ہنسنے کے ساتھ ہلکی ہلکی چیخیں


مارنے لگیں۔ اس طرح ان کی چیخیں نکلوانا جونی کا محبوب مشغلہ تھا۔
پھر جینی بھی آ گئی اور وہ چاروں مل کر ناشتہ کرنے لگے۔ جونی باتیں کرتے کرتے بچیوں کو دیکھتا تو اس کے دل میں عجیب سے خیالات سر اُٹھانے لگتے۔ وہ اب اتنی چھوٹی نہیں رہی تھیں۔ وہ محسوس کرتا تھا کہ دونوں دیکھتے ہی دیکھتے جوان ہو جائیں گی اور ہالی وڈ کے نہ جانے کتنے نوجوان لفنگے ان کے پیچھے لگ جائیں گے۔ یہ خیال اسے بہت ہولناک محسوس ہوتا تھا۔
ناشتے سے فارغ ہو کر وہ پہلے اپنے گھر پہنچا جہاں اس کا پبلک ریلیشنز ایجنٹ اور سیکرٹری کرائے کی ایک دُوسری کار میں اس کے منتظر تھے۔ اس نے انہیں فون کر کے بتا دیا تھا کہ ایک اہم شخصیت کو ریسیو کرنے ایئرپورٹ جانا ہے۔ اس کی دُوسری بیوی مارگوٹ ایشئن اس وقت بھی گھر پر نہیں تھی۔ ان کے درمیان طلاق کی کارروائی شروع ہو چکی تھی اور وہ تقریباً علیحدہ ہو چکے تھے۔
وہ جب ہیگن کو ایئرپورٹ سے لے آیا اور انہیں لیونگ روم میں تنہائی میں بیٹھنے کا موقع ملا تو باتیں شروع ہوئیں۔ ہیگن نے پوچھا۔ ’’تمہاری جو فلم مکمل ہوئی ہے، اس میں اگر اپنی اداکاری پر تمہیں اکیڈمی ایوارڈ مل جائے تو کیا اس سے تمہیں کوئی فائدہ ہوگا؟‘‘
’’کیوں نہیں۔‘‘ جونی حسرت آمیز سے انداز میں گہری سانس لے کر بولا۔ ’’ایک اداکار اگر مر بھی رہا ہو تو اکیڈمی ایوارڈ اسے کم از کم دس سال کے لئے دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کر دیتا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ ہیگن قدرے بے پروائی سے بولا۔ ’’تمہارے گاڈ فادر نے کہا ہے کہ وہ تمہیں اکیڈمی ایوارڈ دِلوانے کی کوشش کریں گے لیکن ظاہر ہے، تم اس پر تکیہ نہیں کر سکتے۔ بطور سنگر اور بطور ایکٹر بھی اب تم اپنے مستقبل سے زیادہ اُمیدیں وابستہ نہیں کر سکتے۔ اس لئے گاڈ فادر کا کہنا ہے کہ تم خود فلمیں بنانا شروع کر دو۔ وہ ان فلموں کے لئے سرمایہ کاری کریں گے۔ سرمائے کے بارے میں تمہیں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔ اتنا عرصہ فلم انڈسٹری میں رہ کر یقیناً تم نے بہت کچھ سیکھا ہوگا۔ کیا ہم اُمید رکھیں کہ تم کامیاب فلمیں بنا سکتے ہو؟‘‘
’’کیوں نہیں۔‘‘ جونی اعتماد سے بولا۔ ’’ہر کام کے لئے ان لوگوں کی خدمات حاصل کی جائیں جو اس کام کے ماہر ہوں جن کا نام اور مقام اُونچا ہو تو پھر عام طور پر ناکامی نہیں ہوتی لیکن بڑے پیمانے پر فلمسازی اور خاص طور پر ایک ساتھ تین چار فلمیں شروع کرنا کروڑوں ڈالر کا کام ہے۔‘‘
’’تم سرمائے کی فکر مت کرو۔ جب ڈون نے یہ کہہ دیا تو سمجھو بات ختم ہوگئی۔‘‘ ہیگن نے ہاتھ ہلایا۔
جونی کے دل میں پھلجھڑیاں سی پھوٹنے لگیں۔ ڈون اگر فلموں میں سرمایہ کاری کے لئے تیار ہو چکا تھا تو اس کی مدد اور پشت پناہی جونی کو ہالی وڈ کے بادشاہوں کی صف میں کھڑا کر سکتی تھی۔
اس نے ہیگن کو رُخصت کرنے کے بعد اسی شام سے فلم لائن کے خاص خاص لوگوں سے رابطہ شروع کر دیا۔ اب اگر اسے ڈون کی مدد میسر آ گئی تھی تو وہ بہت سنجیدگی اور سمجھداری سے فلمسازی کے میدان میں اُترنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنے لڑکپن کے گلوکار ساتھی نینو کو بھی شاندار معاوضے پر ہالی وڈ بلوانے کا فیصلہ کیا۔ اسے معلوم تھا کہ ڈون کو اس کے اس اقدام پر خوشی ہوگی۔ وہ جب ڈون کی بیٹی کی شادی پر نیویارک گیا تھا تو اس نے محسوس کیا تھا کہ ڈون کو یہ بات اچھی نہیں لگی تھی کہ اس نے ہالی وڈ میں کامیاب زندگی گزارنے کے دوران اپنے بچپن اور لڑکپن کے ساتھی نینو کو فراموش کئے رکھا تھا اور اس کا ہاتھ تھام کر اسے آگے لانے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی۔
جونی فلمسازی کے منصوبے پر بہت تیزی سے کام شروع کر چکا تھا اور نینو کو بھی لاس اینجلس بلا چکا تھا جب اسے ڈون پر فائرنگ والے واقعے کی اطلاع ملی۔ اس نے نیویارک فون کیا اور ڈون کے پاس پہنچنے کا ارادہ ظاہر کیا مگر سنی نے اسے سمجھایا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ ڈون شدید زخمی حالت میں اسپتال میں داخل تھا۔ اس سے ملنا یا بات کرنا ممکن نہیں تھا۔ اس لئے بہتر یہی تھا کہ وہ بعد میں کبھی آتا اور فی الحال اپنی توجہ کاموں پر رکھتا۔
جونی نے اس کا مشورہ قبول کرلیا۔ اس احساس سے اس پر مایوسی چھانے لگی تھی کہ شاید ڈون پر فائرنگ کے واقعے کے بعد اس کا فلموں میں سرمایہ کاری کا منصوبہ دھرا کا دھرا رہ جائے مگر پھر ہیگن نے اسے فون کر کے تسلی دی کہ ایسا کوئی امکان نہیں۔ ڈون
طرف سے جو کاروباری منصوبہ شروع کر دیا جاتا تھا، وہ جاری رہتا تھا خواہ حالات کچھ بھی ہوں، البتہ اب اتنی تبدیلی ضرور آئے گی کہ جونی کو بیک وقت تین چار فلمیں شروع کرنے کے بجائے ایک وقت میں ایک فلم بنانی ہوگی۔ جونی کے لئے یہ بھی غنیمت تھا۔
٭…٭…٭
ڈون کارلیون کا اصل نام ویٹو اینڈولینی تھا۔ کارلیون اصل میں سسلی میں واقع اس چھوٹے سے گائوں کا نام تھا جہاں وہ پیدا ہوا اور جہاں اسے بارہ سال کی عمر تک رہنا نصیب ہوا۔ ڈون کا لقب بھی اس نے بعد میں اختیار کیا جس کا مطلب ’’کنبے یا خاندان کا سربراہ‘‘ تھا۔
حالات نے گویا ویٹو کو بارہ سال کی عمر میں ہی ایک مکمل، جوان اور سمجھ دار مرد بنا دیا تھا۔ وہ اُنیسویں صدی کا اختتام تھا اور سسلی میں اس وقت مافیا کی متوازی حکومت قائم تھی بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ مافیا درحقیقت حکومت سے زیادہ طاقتور تھی۔
ویٹو کا باپ ایک طاقتور اور تند مزاج آدمی تھا۔ اس کا مافیا کے ایک مقامی چیف سے اختلاف ہوگیا اور اس نے نہ صرف اس کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا بلکہ سرعام اس سے جھگڑا ہونے کے بعد اسے موقع پر ہی قتل کر دیا۔ ایک ہفتے بعد اس کی اپنی لاش بھی سڑک پہ پڑی پائی گئی جو اس بندوق کی گولیوں سے چھلنی تھی جسے مقامی زبان میں ’’لیوپارا‘‘ کہا جاتا تھا۔
اس کے بعد مافیا کے آدمی بارہ سالہ ویٹو کو بھی قتل کرنے پہنچ گئے۔ ان کے خیال میں یہ خاصی سمجھداری کی عمر تھی اور اس عمر کے بچّے کے ذہن میں یہ خیال مضبوطی سے جڑ پکڑ سکتا تھا کہ اس کے باپ کو قتل کیا گیا تھا، چنانچہ اسے بڑے ہو کر اس کا انتقام لینا ہے۔ اس لئے مافیا کے آدمیوں نے بارہ سالہ ویٹو کو بھی قتل کرنا ضروری سمجھا لیکن ویٹو کی خوش قسمتی تھی کہ وہ ان کے ہتھے نہیں چڑھ سکا۔
اس کی ماں نے اسے چند دن اپنے کچھ رشتے داروں کے ہاں چھپائے رکھا۔ پھر اپنے جاننے والوں کے ہاں امریکا بھیج دیا۔ یوں اس کی جان بچ گئی۔ امریکا میں جس خاندان نے اسے پناہ دی، انہی کا لڑکا ڈین ڈو بعد میں اس کا قانونی مشیر بنا تھا۔ اس کے انتقال کے بعد ٹام ہیگن نے اس کی جگہ سنبھالی تھی۔
ویٹو کی ماں نے اسے ہدایت کی تھی کہ امریکا جا کر وہ اپنا نام بھی تبدیل کرلے۔ چنانچہ اس نے اپنا نام اپنے آبائی گائوں کے نام پر ’’کارلیون‘‘ رکھ لیا تھا۔ یہ اپنے گائوں سے اس کی جذباتی وابستگی کی علامت تھی۔ درحقیقت یہ اس کی جذباتیت کی واحد علامت تھی ورنہ وہ لڑکپن سے ہی جذباتی اور تندمزاج نہیں تھا۔ شاید قدرت نے اسے پیدائشی طور پر باپ کے بالکل برعکس بنایا تھا یا پھر شاید اس کے لاشعور میں کہیں یہ خیال پنہاں تھا کہ اشتعال اور تندمزاج نے ہی اس کے باپ کی جان لی تھی۔ اس لئے اسے آئندہ زندگی میں اس سے پرہیز کرنا ہے۔
نیویارک میں اس نے جس اطالوی گھرانے کے ساتھ قیام کیا، انہی کے گروسری اسٹور میں ملازمت کرلی۔ اٹھارہ سال کی عمر میں اس کی ایک سولہ سالہ لڑکی سے شادی ہوگئی۔ وہ لڑکی بھی حال ہی میں سسلی سے ہجرت کر کے نیویارک پہنچی تھی۔ عمر تو اس کی صرف سولہ سال تھی لیکن وہ گھرداری میں پوری طرح ماہر تھی۔
شادی کے بعد ویٹو نے اسٹور سے کچھ ہی دُور ایک علاقے میں چھوٹا سا فلیٹ کرائے پر لے کر اپنا الگ گھر بسا لیا۔ اس علاقے میں بیشتر آبادی اطالویوں ہی کی تھی جن کی عورتیں اکثر عمارتوں کی سیڑھیوں پر بیٹھی باتیں کرتی نظر آتی تھیں۔ دو سال بعد ویٹو جس نے اب اپنا نام کارلیون رکھ لیا تھا، کے ہاں پہلی اولاد ہوئی۔ وہ اس کا بیٹا سین ٹینو عرف سنی تھا۔
اب اس علاقے میں فانوکچی نامی ایک اطالوی بھی رہتا تھا جو عموماً ذرا مہنگے قسم کے سوٹ اور عمدہ ہیٹ پہنے دکھائی دیتا تھا۔ وہ مضبوط جسم کا ایک خونخوار سا آدمی تھا اور اس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ مافیا کا نمائندہ ہے۔ وہ علاقے کے بہت سے دُکانداروں اور مکینوں سے بھتہ لیتا تھا۔ بیشتر لوگ اس سے ڈرتے تھے۔ اس کا شکار زیادہ تر ایسے ہی لوگ ہوتے تھے ورنہ علاقے میں بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جو خود چھوٹے موٹے بدمعاشوں سے کم نہیں تھے اور لڑائی جھگڑے سے گھبراتے نہیں تھے۔ فانوکچی ان سے نہیں اُلجھتا تھا۔
غیرقانونی تارکین وطن اور دُوسرے لوگ جو چھپ کر چھوٹے موٹے غیرقانونی دھندے کرتے تھے، فانوکچی ان سے بھی کچھ نہ کچھ حصہ وصول کرتا تھا۔ کارلیون جس فیملی کے ساتھ
تھا اور جن کے اسٹور پر کام کرتا تھا، وہ بھی اسے تھوڑی سی رقم بھتے کے طور پر دینے میں عافیت محسوس کرتے تھے حالانکہ ان کے بیٹے ڈین ڈو نے کئی بار ان سے کہا تھا کہ وہ ایسا نہ کریں اور فانوکچی کا معاملہ اس پر چھوڑ دیں، وہ اس کا بندوبست کر دے گا لیکن والدین کوئی جھگڑا کھڑا کرنے کی نسبت تھوڑی سی رقم دے کر جان چھڑانے میں عافیت محسوس کرتے تھے۔
کارلیون اپنے گرد و پیش کے یہ تمام حالات دیکھتا تھا لیکن خاموش اور لاتعلق رہتا تھا۔ وہ تمام واقعات اور کرداروں کا بھی مشاہدہ کرتا رہتا تھا لیکن کسی چیز پر کوئی تبصرہ نہیں کرتا تھا اور نہ ہی کسی معاملے میں اُلجھتا تھا۔ وہ بیحد کم گو نوجوان تھا اور اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔
ایک روز فانوکچی کو گلی میں تین نوجوانوں نے گھیر لیا اور اس کے گلے پر چاقو پھیر دیا۔ زخم اتنا گہرا نہیں تھا کہ فانوکچی مر جاتا۔ تاہم اس کا کافی خون بہہ گیا۔ چاقو اس کے گلے پر ایک کان سے دُوسرے کان تک پھیر دیا گیا تھا۔ وہ نوجوانوں کی گرفت سے نکل کر بھاگنے میں کامیاب ہوگیا۔
کارلیون نے یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اس نے فانوکچی کو اس عالم میں بھاگتے دیکھا کہ اس کے کٹے ہوئے گلے سے خون ٹپک رہا تھا ور اس عالم میں بھی شاید اسے فکر تھی کہ اس کا سوٹ خراب نہ ہو جائے۔ اس نے اپنا ہیٹ سر سے اُتار کر اپنے زخم کے نیچے کر لیا تھا اور اس سے پیالے کا کام لے رہا تھا۔ اس کے خون کے قطرے اس کے کپڑوں پر نہیں بلکہ اس کے ہیٹ میں ٹپک رہے تھے اور اسی حالت میں وہ بھاگا جا رہا تھا۔ کارلیون کو یہ منظر بہت عجیب لگا اور اس کے ذہن پر نقش ہو کر رہ گیا۔
تینوں لڑکوں نے اپنی دانست میں فانوکچی کو سبق سکھانے کے لئے یہ قدم اُٹھایا تھا لیکن فانوکچی کے حق میں یہ اور بھی اچھا ثابت ہوا۔ لڑکے کوئی پیشہ ور بدمعاش یا قاتل تو تھے نہیں، وہ بے چارے عام سے غریب گھرانوں کے جوشیلے لڑکے تھے جنہوں نے فانوکچی کی بھتہ خوری سے تنگ آ کر اَناڑی پن سے، اچانک یہ قدم اُٹھایا تھا۔ فانوکچی کا زخم جلد ہی ٹھیک ہوگیا اور اسی دوران ایک روز اس لڑکے کی لاش گندی گلی میں پائی گئی جس نے فانوکچی کے گلے پر چاقو پھیرا تھا۔ اسے گولی مار دی گئی تھی۔
باقی دونوں لڑکوں کے والدین نے فانوکچی سے ان کی جان بخشی کی اپیل کر دی۔ فانوکچی نے اس شرط پر اس کی جاں بخشی کی کہ بھتے کی رقم پہلے سے زیادہ کر دی جائے، مزید بہت سے لوگوں کے لئے بھی اس کے بھتے کے ریٹ پہلے سے بڑھ گئے تھے کیونکہ اب اس کی دہشت بھی پہلے سے بڑھ گئی تھی۔ کارلیون نے بدستور خاموشی اور لاتعلقی سے ان واقعات کا بھی مشاہدہ کیا۔ یہ شاید اس کی خوش قسمتی تھی کہ تارکین وطن اور نچلے درجے کے ان لوگوں کے درمیان اس علاقے میں رہتے ہوئے بھی ابھی تک اسے اس قسم کے کسی واقعے میں اُلجھنا نہیں پڑا تھا۔
پہلی جنگ عظیم کے دوران جب مارکیٹ سے دیگر بہت سی چیزوں کے ساتھ ساتھ درآمد شدہ زیتون کا تیل بھی غائب ہوگیا تو فانوکچی نے کسی نہ کسی طرح یہ چیزیں اٹلی سے منگوانا شروع کر دیں، وہ محدود پیمانے پر یہ کام کر رہا تھا اور اپنا بیشتر اسٹاک اسی اسٹور کو دے دیتا تھا جس پر کارلیون کام کر رہا تھا۔ ان چیزوں کے عوض وہ نہ صرف اسٹور میں حصے دار بن گیا بلکہ اس نے اپنا ایک آدمی بھی اسٹور میں ملازم رکھوا دیا جس کی وجہ سے کارلیون کو وہاں سے جواب مل گیا اور وہ بے روزگار ہوگیا۔
اس دوران کارلیون کے ہاں دُوسرا بیٹا فریڈریکو عرف فریڈ پیدا ہو چکا تھا۔ یعنی اس کی ذمّے داریوں اور اخراجات میں اضافہ ہوگیا تھا جبکہ ملازمت جاتی رہی تھی۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ اسٹور کے مالک نے کارلیون کو ملازمت سے جواب دے دیا تھا لیکن اس کا بیٹا ڈین ڈو اب بھی کارلیون کا قریبی دوست تھا۔ وہ خود اپنے باپ کے اس اقدام پر بہت ناخوش تھا۔ اس نے کارلیون کو پیشکش کی کہ وہ اس کے گھر پر راشن پہنچاتا رہے گا۔ خواہ اس کے لئے اسے اپنے ہی باپ کے اسٹور پر چوری کرنی پڑے لیکن کارلیون نے نہایت وقار اور متانت سے یہ پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ ایک خوددار انسان تھا۔ اسے اچھا نہیں لگا کہ اس کا دوست اس کی خاطر اپنے باپ کے اسٹور سے چوری کرے اور وہ چوری کی چیزیں قبول کرے۔
اس وقت سے کارلیون کے دل میں فانوکچی کے لئے نفرت سی بیٹھ گئی۔ دُوسرے لوگ فانوکچی کو دیکھ کر ڈرتے تھے لیکن کارلیون کے دل میں


کی لہر اُبھرتی تھی۔ وہ چونکہ اپنے جذبات کا اظہار نہیں کرتا تھا اس لئے اپنے غصّے کو بھی دل میں ہی دبائے رکھتا تھا۔ اس دوران اس نے ریلوے میں ملازمت کر لی لیکن جب جنگ ختم ہوئی تو یہ عالم ہوگیا کہ کارلیون اور اس جیسے دُوسرے بہت سے لوگ پورے مہینے مزدوروں کی طرح محنت مشقت کرتے تھے لیکن انہیں معاوضہ چند دن کا ملتا تھا۔
اس کے علاوہ ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ ریلوے یارڈ میں زیادہ تر آئرش اور امریکن ملازم تھے۔ وہ مزدوروں، تارکین وطن اور اس طرح کے دُوسرے معمولی درجے کے ملازموں کو بات بات پر گندی گالیاں دیتے تھے۔ ان کی باتیں سن کر کارلیون کا خون کھولتا تھا لیکن وہ اس موقع پر بھی اپنے جذبات دل میں ہی چھپائے رکھتا تھا۔ اب تو مجبوری بھی تھی۔ یہ معمولی سا ذریعۂ معاش بھی غنیمت لگتا تھا۔ ایسے موقعوں پر وہ یہی ظاہر کرتا تھا جیسے وہ انگریزی نہیں سمجھتا حالانکہ وہ بہت اچھی طرح سمجھتا تھا۔
ایک روز کارلیون اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ بیٹھا کھانا کھا رہا تھا کہ اندرونی کمرے کی کھڑکی پر دستک ہوئی۔ اس طرف فلیٹوں پر مشتمل دُوسری بلڈنگ تھی۔ دونوں عمارتوں کے درمیان ہوا کی آمد و رفت کے لئے تھوڑی سی جگہ چھوڑ دی گئی تھی۔ لوگ اس طرف بھی کھڑکیوں سے کچرا پھینک دیتے تھے جو نیچے جمع ہوتا رہتا تھا۔
کارلیون نے کمرے میں جا کر کھڑکی کھولی اور باہر جھانکا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ دُوسری بلڈنگ کی کھڑکی سے اس کا شناسا اور پڑوسی، نوجوان مینزا جھانک رہا تھا۔ اسی نے ہاتھ بڑھا کر اس کی کھڑکی پر دستک دی تھی۔ اس کے ہاتھ میں سفید کپڑے کا ایک بنڈل تھا۔
’’دوست!‘‘ اس نے قدرے گھبراہٹ زدہ لہجے میں کہا۔ ’’یہ اپنے پاس رکھ لو۔ میں ایک دو دن میں لے لوں گا۔‘‘ وہ اس بنڈل کو کارلیون کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔
کارلیون نے غیرارادی انداز میں بنڈل تھام لیا۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ مینزا کسی مشکل میں تھا اور کارلیون نے اس موقع پر اس کے کام آنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔
اس نے بنڈل لے تو لیا لیکن کچن میں آ کر فوراً اسے کھول کر دیکھا۔ اس میں پلاسٹک کی شیٹ میں لپٹے ہوئے پانچ ریوالور تھے۔ اس نے جلدی سے انہیں دوبارہ لپیٹ کر اپنی الماری کے ایک خانے میں رکھ دیا۔ اسے بعد میں پتا چلا کہ مینزا کو پولیس پکڑ کر لے گئی تھی۔ شاید اس وقت پولیس اس کے دروازے پر دستک دے رہی تھی جب اس نے عقبی کمرے کی کھڑکی سے بنڈل کارلیون کو تھمایا تھا۔
کارلیون نے اس سلسلے میں کسی سے ایک لفظ نہیں کہا اور اس کی بیوی نے بھی پڑوسنوں سے بات چیت کے دوران اس بارے میں زبان نہیں کھولی۔ اسے اندیشہ تھا کہ اس چکر میں اس کا شوہر بھی پولیس کے ہتھے نہ چڑھ جائے۔
دو دن بعد مینزا گلی میں کارلیون کو نظر آیا۔ وہ پولیس سے جان چھڑا کر آ گیا تھا۔ اس نے ادھر اُدھر کی رسمی باتوں کے بعد سرسری لہجے میں کارلیون سے پوچھا۔ ’’میری امانت تمہارے پاس رکھی ہے نا…؟‘‘
کارلیون نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ وہ حتی الامکان کم بولتا تھا۔ وہ مینزا کو اپنے ساتھ اپنے فلیٹ میں لے آیا۔ مشروب سے اس کی تواضع کی اور الماری سے اس کا بنڈل نکال کر اس کے حوالے کیا۔ مینزا کے چہرے پر شکرگزاری کے تاثرات اُبھر آئے تاہم اس نے قدرے شک زدہ لہجے میں پوچھا۔ ’’تم نے اسے کھول کر دیکھا تھا؟‘‘
کارلیون کا چہرہ تاثرات سے عاری رہا۔ وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔ ’’جن چیزوں سے میرا کوئی تعلق نہ ہو، میں ان کی ٹوہ میں نہیں رہتا۔‘‘
مینزا کے چہرے پر اطمینان جھلک آیا۔ اس کے بعد جلد ہی وہ خاصے قریبی دوست بن گئے۔ چند روز بعد مینزا نے کارلیون کی بیوی سے کہا کہ وہ اسے ایک عمدہ اور قیمتی قالین تحفے میں دینا چاہتا ہے۔ اس نے کارلیون کو ساتھ لیا تاکہ وہ دونوں مل کر ایک جگہ سے وہ قالین اُٹھا لائیں۔
وہ قریبی علاقے کی ایک بلڈنگ میں پہنچے، وہ خاصے خوش حال لوگوں کا علاقہ تھا اور بلڈنگ بھی مہنگے اپارٹمنٹ پر مشتمل تھی۔ مینزا گرائونڈ فلور کے ایک اپارٹمنٹ کا تالا کھول کر اندر پہنچا۔ اپارٹمنٹ خالی معلوم ہوتا تھا۔ اس کے طویل و عریض ڈرائنگ روم میں فرنیچر نہیں تھا مگر فرش پر ایک نہایت عمدہ، نفیس اور دبیز قالین بچھا ہوا تھا جو کافی مہنگا معلوم ہوتا تھا۔
’’آئو، اس قالین کو لپیٹنے میں میری مدد کرو۔‘‘ مینزا نے
اطمینان سے کارلیون کو ہدایت کی۔
کارلیون اس کی فیاضی پر حیران رہ گیا کہ وہ اتنا قیمتی دکھائی دینے والا اُونی قالین اسے تحفے میں دے رہا تھا۔ دونوں نے مل کر اسے رول کیا اور اُٹھا لیا۔ ایک سرا مینزا اور دُوسرا کارلیون نے کندھے پر ٹکایا اور دروازے کی طرف بڑھے۔ اسی لمحے دروازے پر دستک ہوئی۔ مینزا نے فوراً قالین فرش پر ٹکا دیا اور کارلیون کو بھی ایسا ہی کرنے کا اشارہ کیا۔ پھر وہ جلدی سے کھڑکی پر پہنچا اور پردہ ذرا سا سرکا کر اس نے باہر جھانکا۔ باہر اسے نہ جانے کیا نظر آیا کہ اس نے فوراً اپنے بغلی ہولسٹر سے ایک ریوالور نکال لیا۔ اس لمحے کارلیون کو احساس ہوا کہ درحقیقت وہ کسی کے اپارٹمنٹ سے قالین چرا رہے تھے۔
دروازے پر ایک بار پھر دستک ہوئی اور کال بیل بھی بجائی گئی۔ اس بار کارلیون نے بھی آگے بڑھ کر کھڑکی سے آنکھ لگا کر دیکھا۔ باہر دروازے پر ایک باوردی پولیس والا کھڑا تھا۔ مینزا نے ہونٹوں پر اُنگلی رکھ کر کارلیون کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ پولیس والے نے ایک بار پھر بیل بجائی اور آخر مایوس ہو کر، کندھے اُچکا کر آگے چل دیا۔ غالباً اسے یقین ہوگیا تھا کہ اندر کوئی نہیں ہے۔
وہ گلی کے کونے پر مڑا ہی تھا کہ مینزا نے کارلیون کو دوبارہ قالین اُٹھانے کا اشارہ کیا۔ دونوں مل کر قالین اُٹھائے گلی میں آئے اور آدھے گھنٹے بعد وہ اسے کاٹ کر کارلیون کے فلیٹ کے لیونگ روم میں بچھا رہے تھے۔ اس فلیٹ میں وہ قالین دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر دو کمروں میں آ گیا۔ مینزا کے پاس قالین کاٹنے کے لئے اوزار بھی موجود تھے۔
وقت گزرتا گیا۔ حالات بد سے بدتر ہو رہے تھے۔ کارلیون مکمل طور پر بے روزگار تھا۔ اس کے فلیٹ میں قیمتی قالین بچھا ہوا تھا لیکن کھانے کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ فاقوں کی نوبت آ رہی تھی۔ قالین کو وہ چبا کر کھا نہیں سکتے تھے۔
ایک روز مینزا نے خاص طور پر آ کر اس سے ملاقات کی۔ اس کے ساتھ ہی اسی گلی کا ایک اور نوجوان ٹیسو بھی تھا۔ وہ بھی مینزا کی طرح تیز طرار، سخت جان اور کچھ بدمعاش سا دکھائی دیتا تھا مگر وہ دونوں کارلیون کی بہت عزت کرتے تھے اور اس بات سے بڑے متاثر ہوتے تھے کہ وہ انتہائی نامساعد حالات میں بھی نہایت صبر و تحمل، قناعت اور وقار سے گزارہ کرتا تھا۔ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا تھا اور نہ ہی حالات کا رونا روتا تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ ان دنوں کارلیون کے گھر میں فاقوں کی نوبت تھی۔
اس روز وہ دونوں پہلی بار اس کے سامنے کھلے۔ انہوں نے کارلیون کو بتایا کہ ان کا تعلق ایک گروہ سے تھا جو خاص طور پر ریشمی ملبوسات سے لدے ہوئے ٹرک لوٹتا تھا جو فیکٹریوں سے روانہ ہوتے تھے اس کام میں خطرہ کم تھا۔ ان ٹرکوں کے ڈرائیور بے چارے مزدور پیشہ قسم کے لوگ ہوتے تھے۔ ریوالور دیکھتے ہی وہ سعادت مندی سے ٹرک سے اُتر کر فٹ پاتھ پر اوندھے لیٹ جاتے تھے۔ مینزا اور ٹیسو ٹرک چلا کر ایک گودام پر لے جاتے تھے۔ گودام کا مالک بھی اس دھندے میں شریک تھا۔ خالی ٹرک بعد میں کہیں چھوڑ دیا جاتا تھا۔
زیادہ تر مال کوڑیوں کے دام ایک تھوک فروش کو دے دیا جاتا اور کچھ مال ایسے لوگوں میں تقسیم کر دیا جاتا جو گلی گلی، دروازوں پر جا کر سستے داموں اسے بیچ دیتے تھے۔ قیمت بہت کم ہونے کی وجہ سے ملبوسات جلدی بک جاتے تھے۔ فروخت کے لئے زیادہ تر ایسے علاقے منتخب کئے جاتے جہاں اطالوی آباد تھے۔ وہ ویسے بھی مہنگی چیزیں خریدنے کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے لیکن مہنگے ملبوسات انہیں نہایت سستے داموں مل جاتے تھے تو وہ جلدی سے لے لیتے تھے اور اس بات کا چرچا بھی نہیں کرتے تھے۔
مینزا اور ٹیسو کو اس دھندے سے اچھی خاصی کمائی ہو جاتی تھی۔ ان دنوں انہیں ٹرک چلانے کے لئے ایک معاون کی ضرورت تھی۔ کارلیون جس زمانے میں اسٹور پر ملازمت کر رہا تھا۔ ان دنوں ان کا باربرداری کا ٹرک بھی چلاتا رہا تھا۔ وہ ڈرائیونگ میں ماہر تھا۔ وہ 1919ء کا زمانہ تھا اور ان دنوں ڈرائیونگ جاننے والے لوگ کم ہی ملتے تھے۔
مجبوری کے تحت، اور بادل نخواستہ کارلیون نے ان کی پیشکش قبول کرلی۔ پیشکش اپنی جگہ پرکشش تھی۔ اسے بتایا گیا تھا کہ ایک واردات میں اس کے حصے میں ایک ہزار ڈالر آ جایا کریں گے۔ اس زمانے میں یہ خاصی بڑی رقم تھی۔
کام بھی کارلیون کو کچھ زیادہ مشکل محسوس نہیں ہوا۔ گو اس
; میں مینزا اور ٹیسو نہایت ناقص منصوبہ بندی کے ساتھ، افراتفری اور بے وقوفانہ انداز میں واردات کرتے تھے تاہم کارلیون ان کی بے خوفی اور خود اعتمادی دیکھ کر ضرور متاثر ہوا۔ کارلیون نے انہیں واردات کے سلسلے میں کوئی مشورہ دینے کی کوشش نہیں کی حالانکہ اس کے خیال میں طریقۂ واردات اور مال کو ٹھکانے لگانے کے سلسلے میں کئی خامیاں دُور کر کے کچھ زیادہ رقم کمائی جا سکتی تھی لیکن اس نے اپنے خیالات کو اپنی ذات تک ہی محدود رکھا۔ پہلی واردات میں اس کے حصے میں ایک ہزار کے بجائے سات سو ڈالر آئے لیکن اس کے لئے وہ بھی کافی تھے۔ وہ یہ رقم پا کر بہت خوش تھا۔
دُوسرے روز اسے گلی میں فانوکچی نے روک لیا۔ اس کے گلے پر اب زخم کا نشان، پھانسی کے پھندے کے نشان کی طرح نظر آتا تھا جس کی وجہ سے اس کی شخصیت پہلے سے زیادہ خطرناک دکھائی دینے لگی تھی۔ وہ اس نشان کو چھپانے کی کوشش بھی نہیں کرتا تھا۔
’’کیا حال ہے نوجوان؟‘‘ وہ سسلی والوں کے مخصوص لہجے اور بھاری آواز میں بولا۔ ’’میں نے سنا ہے تم اور تمہارے دونوں دوست آج کل خاصے خوشحال ہو رہے ہیں لیکن تم لوگ میرا خیال نہیں رکھ رہے۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ آخر یہ میرا علاقہ ہے۔ یہاں کے لوگ ہی مجھے بھول جائیں گے تو پھر اور کون یاد رکھے گا؟ مجھے بھی تو اپنی چونچ گیلی کرنے کا موقع ملنا چاہئے نا۔‘‘
یہ اس نے ایک مخصوص محاورہ استعمال کیا تھا جو عموماً مافیا کے لوگ استعمال کرتے تھے۔ مراد اس کی یہ تھی کہ لوٹ کے مال میں میرا بھی حصہ ہونا چاہئے۔ کارلیون نے اپنی عادت کے مطابق فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ منتظر تھا کہ فانوکچی کچھ اور واضح طور پر اپنا مدعا بیان کرے۔
فانوکچی نے ایک ریشمی رُومال سے اپنے چہرے سے پسینہ پونچھا اور پھر یوں کوٹ کے بٹن کھولے گویا جسم کوہوا لگوانا چاہ رہا ہو لیکن درحقیقت اس طرح کارلیون کو بغلی ہولسٹر کی جھلک دکھانا مقصود تھی جس میں ریوالور نظر آ رہا تھا۔
پھر وہ اپنے چہرے کے سامنے رُومال لہراتے ہوئے بے پروائی سے بولا۔ ’’چلو… ایسا کرو… تم مجھے پانچ سو ڈالر دے دینا۔ میں یہ بھول جائوں گا کہ تم نے مجھے نظرانداز کر کے میری توہین کی تھی۔ مجھے معلوم ہے نوجوانوں سے ایسی گستاخیاں ہوتی رہتی ہیں۔ وہ نئے دھندے شروع کرتے ہیں تو مجھ جیسے سینئر اور خاص لوگوں کا خیال رکھنا بھول جاتے ہیں۔ میں اس بات کا زیادہ برا نہیں مناتا اور پہلے انہیں نرمی اور محبت سے یاددہانی کرا دیتا ہوں۔‘‘
کارلیون اب بھی خاموش تھا البتہ وہ اب فانوکچی کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے مسکرا دیا۔ وہ کوئی قدآور یا جسیم نوجوان نہیں تھا لیکن اس کا جسم گٹھا ہوا اور مضبوط تھا۔ اس کے چہرے کی گہری سنجیدگی اور متانت بھی دیکھنے والے کو متاثر کرتی تھی لیکن جب وہ اس خاص انداز میں کسی کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے دھیرے سے مسکراتا تو سامنے والا مضطرب ہو جاتا تھا، اور اس کے جسم میں خفیف مگر سرد سی لہر دوڑ جاتی تھی۔
اس وقت بھی شاید یہی ہوا۔ فانوکچی نے مضطربانہ انداز میں اپنا وزن ایک پائوں سے دُوسرے پائوں پر منتقل کیا۔ کارلیون اب بھی خاموش تھا۔ (جاری ہے)