God Father | Episode 5

572
سولوزو کو اگر ڈون کے جواب سے مایوسی ہوئی تھی تو اس نے اس کا کوئی خاص اظہار نہیں کیا تھا۔ بس اس کی ایک آنکھ ایک لمحے کے لئے پھڑکی تھی۔ پھر اس نے ہیگن اور سنی کی طرف یوں دیکھا جیسے اسے امید ہو کہ وہ اس کی حمایت میں بولیں گے۔ پھر جیسے اسے کوئی خیال آیا۔ وہ دوبارہ ڈون کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولا۔ ’’کہیں تمہیں یہ خطرہ تو نہیںکہ تمہارے دو ملین ڈالر ڈوب جائیں گے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ ڈون نے سرد لہجے میں جواب دیا۔
سولوزو بولا۔ ’’ اس کے باوجود اگر تم چاہو گے تو ٹے ٹیگ لیا فیملی تمہاری رقم کے تحفظ کی ضمانت دے دے گی۔‘‘
اس موقع پر سنی نے گویا ایک سنگین غلطی کی۔ وہ پر اشتیا ق لہجے میں بول اٹھا۔ ’’کیا واقعی ٹے ٹیگ لیا فیملی رقم کے بارے میں ضمانت دے دے گی اور اس کے بدلے میں ہم سے کچھ نہیں مانگے گی؟‘‘
گفتگو میں سنی کی اس طرح مداخلت پر ہیگن کا دل ڈوب گیا۔ اس نے ڈون کے چہرے پر انتہائی سرد مہری نمودار ہوتے دیکھی۔ اس نے سخت نظروںسے بیٹے کو گھورا اور وہ گویا اپنی جگہ سن ہو کر رہ گیا۔ سولوزو کے چہرے پر طمانیت ابھر آئی۔ اس نے گویا ڈون کے مضبوط قلعے میں کوئی شگاف دریافت کرلیا تھا۔ سنی نے گویا ایک خاندانی قانون، ایک نہایت اہم اصول کی خلاف ورزی کی تھی۔ ڈون جس کام کے لئے انکار کرچکا تھا، سنی نے اس کے بارے میں دلچسپی اور اشتیاق کا اظہار کردیا تھا۔
اس بار ڈون بولا تو اس کا انداز گویا بات چیت ختم کرنے کا سا تھا۔ ’’آج کل کے نوجوان لالچی ہیں اور انہیں بات کرنے کا سلیقہ بھی نہیں ہے۔ وہ خاندانی اصولوں اور وضعداری کا بھی خیال نہیں رکھتے۔ بڑوں کی بات میں دخل دینے لگتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ میں اپنے بچوں کے بارے میں بڑا جذباتی رہا ہوں اور میں نے خود ہی اپنے لاڈ پیار سے انہیں بگاڑ دیا ہے۔ اس کا اندازہ تمہیں ہو ہی گیا ہوگا۔ بہر حال میرا انکار حتمی ہے تاہم میں تمہارے کاروبار کی کامیابی کے لئے دعا گو ہوں۔ اس کاروبار کا میرے کسی کاروبار سے کوئی ٹکرائو نہیں ہے۔ اس لیے ہمارے درمیان کوئی ناخوشگوار صورت حال پیدا ہونے کا اندیشہ نہیں ہے مجھے افسوس ہے کہ میں تمہیں مایوس کن جواب دے رہا ہوں۔‘‘
سولوزو اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے جھک کر ڈون کو تعظیم دی۔ اس کا چہرہ سپاٹ تھا۔ ہیگن اسے باہر اس کی کار تک چھوڑنے گیا۔ اس نے جب ہیگن کو خدا حافظ کہا، اس وقت بھی اس کا چہرہ ہر تاثر سے عاری تھا۔
ہیگن جب کمرے میں واپس پہنچا تو ڈون نے اس کی طرف دیکھے بغیر پوچھا۔ ’’ اس شخص کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘
’’وہ بہر حال سسلی کا ہے۔‘‘ ہیگن نے گویا ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کیا۔
ڈون نے پرخیال انداز میں سر ہلایا پھر وہ بیٹے کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے نرم لہجے میں بولا۔ ’’سین ٹینو! فیملی سے باہر کسی آدمی پر کبھی یہ ظاہر نہ ہونے دو کہ کسی معاملے کے بارے میں تم دل میں کیا سوچ رہے ہو۔ باہر کے کسی آدمی کو کبھی اپنے اندر کاحال جاننے کا موقع مت دو۔ میرا خیال ہے آج کل تم جس نوجوان لڑکی کے چکر میں پڑے ہوئے ہو، اس کی وجہ سے تمہارا دماغ صحیح طرح کام کرنے کے قابل نہیں رہا۔ ان بیہودہ حرکتوں کی طرف سے توجہ ہٹائو اور ذرا کاروبار کی طرف دھیان دو اور اب میری نظروں سے دور ہوجائو۔‘‘
ڈون کی بات سن کر سنی کے چہر ے پر پہلے حیرت اور پھر خجالت کے آثار نمودار ہوئے ۔ شاید اس کے وہم وگمان میں بھی نہیںتھا کہ اس کا باپ اس کی ان حرکتوںسے واقف ہوگا جو وہ اپنی دانست میں بہت چھپا کر کررہا تھا اور ہیگن کے خیال میں اگر سنی اس خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ اس کی حرکات ڈون سے چھپی رہ سکتی ہیں تو اس کی یہ سوچ نہایت بچکانہ تھی۔ اس کے علاوہ شاید اسے اس بات کا بھی صحیح طور پر اندازہ نہیںتھا کہ اس نے سولوزو کے سامنے پر اشتیاق انداز میں زبان کھول کر کتنی سنگین غلطی کی تھی۔
جب سنی کمرے سے چلا گیا تو ڈون نے اشارے سے مشروب کا گلاس طلب کیا پھر ہیگن کو ہدایت کی۔ ’’براسی کو پیغام دے دو کہ وہ ا ٓج مجھ سے ملاقات کرے۔‘‘
٭…٭…٭
تین ماہ بعد کا ذکر ہے۔
ہیگن اپنے دفتر میں کاغذی کارروائی مکمل کرنے میں مصروف تھا۔ کرسمس قریب تھا اور اسے اپنی بیوی اور بچوں کیلئے کرسمس کی شاپنگ کرنے جانا تھا۔ وہ جلدی جلدی کام نمٹانے کی کوشش کررہا
تھا لیکن ایک ٹیلی فون کال نے اس کے کام میں خلل ڈال دیا۔ اس کی سیکرٹری نے بتایا کہ جونی کارلیون کا فون ہے۔ اسے فون ریسیو کرنا ہی پڑا۔
جونی لاس اینجلس سے بول رہا تھا اور اس کی آواز سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ بے پناہ خوش تھا۔ اس نے بتایا کہ فلم کی شوٹنگ تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ صرف چھوٹے موٹے کام باقی تھے جن کی وجہ سے ابھی بھی اسے کچھ دن ساحلی علاقے میں رہنا تھا تاہم وہ کرسمس پر ڈون کے لئے کوئی زبردست تحفہ بھیجنے کا ارادہ رکھتاتھا۔
’’تحفہ ایسا زبردست ہوگا کہ پاپا کی آنکھیں حیرت اور خوشی سے پھیل جائیں گی۔‘‘ جونی نے جوش و خروش سے کہا۔
’’ایسی کیا چیز ہوگی بھئی؟‘‘ ہیگن نے تحمل اور ملائمت سے پوچھا۔ وہ جونی کو یہ تاثر نہیں دینا چاہتا تھا کہ اس وقت وہ بہت عجلت میں تھا۔
’’یہ میں ابھی نہیں بتا سکتا۔‘‘ جونی مسرور لہجے میں بولا۔ ’’اس طرح تو تجسس ختم ہوجائے گا اورکرسمس کے تحفے کا آدھا لطف تجسس میں ہوتا ہے۔‘‘
ہیگن نے نرمی سے گفتگو کو مختصر کرتے ہوئے آخر فون بند کیا اور دوبارہ کام کی طرف متوجہ ہوگیا مگر دس منٹ بعد اس کی سیکرٹری نے اسے ایک اور ضروری فون کال کی اطلاع دی۔
اس بار ڈون کی بیٹی کونی بول رہی تھی۔ ہیگن گہری سانس لے کر رہ گیا۔ شادی کے بعد سے کونی کی زندگی کچھ زیادہ خوشگوار معلوم نہیں ہوتی تھی اور اس کا رونا دھونا اکثر ہیگن ہی کو سننا پڑتا تھا۔ اس کا شوہر اس کے لئے مستقل دردسر معلوم ہوتا تھا اور وہ ہیگن سے اس کی شکایتیں کرتی رہتی تھی۔ اکثر وہ تین چار دن کے لئے ماں کے پاس رہنے آجاتی تھی۔
اس کا شوہر کارلورزی خاصا نکھٹو معلوم ہوتا تھا۔ شادی کے بعد اسے ایک معقول کاروبار کرکے دیا گیا تھا لیکن اس نے جلد ہی اس کا بیڑا غرق کردیا تھا۔ وہ ہر وقت سسرال سے پیسہ بٹورنے کی فکر میں رہتا تھا۔ کمانے کی فکر کئے بغیر پیسہ اینٹھنے کی اس کی عادت ویسے تو شادی کی رات ہی ظاہرہوگئی تھی۔ پہلی رات ہی اس نے کونی سے وہ سارے لفافے چھین لئے تھے جن میں مہمانوں نے رقوم رکھ کر اسے تحفے کے طور پر پیش کی تھیں۔ کونی نے وہ لفافے اس کے حوالے کرنے کے سلسلے میں مزاحمت کی تھی تو رزی نے گھونسا مار کر اس کی آنکھ پر نیل ڈال دیا تھا۔
اس میں وہ تمام بری عادتیں موجود تھیں جو اکثر نکھٹو شوہروںمیں ہوتی ہیں۔ وہ نہ صرف کونی کو مارتا پیٹتا تھا بلکہ اس کا پیسہ بے دردی سے لٹاتا بھی تھا۔ وہ خوب شراب پیتا تھا اور آوارہ عورتوں کے پاس جاتا تھا۔ کونی نے ابھی تک یہ سب باتیں فیملی کو نہیں بتائی تھیں لیکن ہیگن کو بتاتی رہتی تھی اور اسے ہدایت کرتی رہتی تھی کہ فی الحال وہ یہ باتیں اپنے تک ہی رکھے۔ شاید آج بھی وہ اسی قسم کا کوئی رونا رونا چاہتی تھی لیکن جب ہیگن نے فون سنا تو اسے خوشگوار سی حیرت ہوئی کہ کونی ایسی کوئی بات نہیں کررہی تھی۔ شاید اسے کوئی تازہ مسئلہ درپیش ہی نہیں تھا یا پھر وہ کرسمس کی آمد کی خوشی میں اس قسم کی پریشانیوں کو بھول گئی تھی۔ وہ خوب چہک رہی تھی اور اس نے ہیگن سے صرف یہ مشورہ کرنے کے لئے فون کیا تھا کہ کرسمس پر وہ اپنے باپ اور بھائیوں کو کیا تحفے بھیجے؟ ہیگن نے کچھ مشورے دیئے جو سب کے سب اس نے مسترد کردیئے تاہم اس نے جلد ہی ہیگن کی جان چھوڑدی۔
ہیگن کو اس کے بعد بھی کام ختم کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔ ایک بار پھر فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ اس نے گہری سانس لے کر کاغذات ایک طرف رکھ دیئے۔ فون پر مائیکل تھا۔ مائیکل کو ہیگن کافی حد تک پسند کرتا تھا اور اس کا فون سنتے ہوئے اسے کبھی کوفت نہیں ہوتی تھی۔
’’ہیگن! میں کل کار میں سڑک کے راستے نیویارک پہنچ رہا ہوں۔ ’کے‘ میرے ساتھ ہوگی۔‘‘ مائیکل نے اسے اطلاع دی۔ ’’میں کرسمس سے پہلے پاپا سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں۔ کیا وہ کل رات گھر پر ہوںگے؟‘‘
’’یقیناً!‘‘ ہیگن نے جواب دیا۔’’کرسمس تک ان کا شہر سے باہر کہیں جانے کا پروگرام نہیں ہے۔ اگرگئے تو کرسمس کے بعد ہی جائیں گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ مائیکل نے گویا مطمئن ہو کر مزیدکوئی بات کئے بغیر فون بند کردیا۔
ہیگن نے بچا کھچا کام آئندہ روز پر اٹھا رکھا اور آفس سے نکل کھڑا ہوا۔ جس سپر مارکیٹ میں وہ شاپنگ کرنا چاہتا تھا وہ اس کے آفس والی بلڈنگ سے زیادہ دور نہیں تھی، اس لئے وہ پیدل ہی اس طرف چل پڑا۔
ابھی وہ زیادہ آ گے نہیں گیا تھا کہ کسی طرف سے
ایک شخص اچانک نمودار ہو کر اس کے راستے میں حائل ہوگیا۔ ہیگن کو رکنا پڑا اور یہ دیکھ کر اسے قدرے حیرت ہوئی کہ وہ شخص سولوزو تھا۔
وہ ہیگن کا بازو تھامتے ہوئے نیچی آواز میں بولا۔’’خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔‘‘
اسی اثنا میں فٹ پاتھ کے ساتھ لگ کر کھڑی ہوئی ایک کار کے دروازے کھل گئے اور سولوزو اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔ ’’اس میں بیٹھ جائو۔‘‘
ہیگن نے ایک جھٹکے سے اپنا بازو چھڑالیا۔ اس وقت تک اسے خطرے کا احساس نہیں ہوا تھا۔
’’ابھی میں ذرا جلدی میں ہوں۔ اس وقت میں کسی قسم کی بات نہیں کرسکتا۔‘‘ اس نے کہا لیکن اسی لمحے عقب سے دو آدمی گویا اس کے سر پر آن کھڑے ہوئے۔ ان کے کھڑے ہونے کے انداز نے ہیگن کو بہت کچھ سمجھادیا۔ اسے یکایک اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی محسوس ہوئی۔
’’گاڑی میں بیٹھ جائو۔‘‘ سولوزو نرمی سے بولا۔ ’’اگر ہمارا مقصد تمہیں ہلا ک کرنا ہوتا تو اب تک تم ہلاک ہوچکے ہوتے۔ مجھ پر بھروسا کرو۔‘‘
ہیگن کو اس پر بھروسا تو خیر کیا کرنا تھا لیکن وہ خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گیا۔
٭…٭…٭
مائیکل نے ہیگن سے جھوٹ بولا تھا کہ وہ آئندہ روز نیویارک پہنچے گا۔ درحقیقت وہ اس وقت نیویارک ہی میں تھا اور کے ایڈمز کے ساتھ ایک ہوٹل میں مقیم تھا جو ہیگن کے آفس سے بمشکل ایک میل دور تھا۔
اس نے جب ہیگن سے بات کرنے کے بعد فون بند کیا تو ’کے‘ اپنی سگریٹ بجھاتے ہوئے بولی۔ ’’مائیکل! تم تو جھوٹ بھی خاصی صفائی سے بول لیتے ہو!‘‘
’’اس وقت تو تمہاری وجہ سے ہی جھوٹ بولنا پڑا ہے۔‘‘ مائیکل اپنا بازو اس کے گرد حمائل کرتے ہوئے بولا۔ ’’اگر میں بتادیتا کہ اس وقت ہم دونوں نیویارک میں ہی ہیں تو ہمیں اسی وقت پاپا کے گھر جانا پڑتا۔ پھر ہم باہر کھانا کھا سکتے تھے نہ تھیٹر دیکھنے یا گھومنے پھرنے جاسکتے تھے۔ میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ پاپا کی کچھ اخلاقی اقدار ہیں۔ ان کے گھر میں کوئی لڑکا لڑکی شادی سے پہلے ایک کمرے میں نہیں سو سکتے۔ ہم پر بھی آج ہی اس قسم کی پابندیاں لاگو ہوجاتیں۔ اب ہم کم از کم ایک رات اور آزادی سے گزار لیں گے۔‘‘
مائیکل محسوس کرتا تھا کہ ’کے‘ اس کے خوابوں کی لڑکی تھی۔ اسے اپنی زندگی میں ایسی ہی ساتھی کی ضرورت تھی۔ اس کا سراپا، اس کی عادتیں اور اس کے انداز و اطوار اس کی گرمجوشی، سبھی کچھ مائیکل کو پسند تھا۔ ان کا ارادہ تھا کہ وہ کرسمس کے ہفتے کے دوران ہی سٹی ہال جا کر سادگی سے شادی کرلیں گے۔ تاہم مائیکل نے ’کے‘ کو بتادیا تھا کہ وہ اپنے باپ کو شادی کے بارے میں ضرور بتادے گا۔
اسے امید تھی کہ اس کا باپ اس شادی پر اعتراض نہیں کرے گا البتہ اگر مائیکل رازداری سے شادی کرتا اور ڈون کارلیون کو بعد میں پتا چلتا تو وہ یقیناً بہت برا مناتا اور اس کے احساسات مجروح ہوتے۔ ’کے‘ کا ارادہ تھاکہ وہ اپنے والدین کو شادی کے بعد شادی کے بارے میں بتائے گی۔ اسے اس بات کی پروا نہیں تھی کہ اس کے والدین مائیکل کو پسند کریںگے یا نہیں۔
مائیکل کو احساس تھا کہ یہ شادی اسے اس کی ’’فیملی‘‘ سے کچھ اور دور کردے گی لیکن وہ اپنی پسند کے سامنے مجبور تھا۔ ابھی ان دونوں کو تعلیم بھی مکمل کرنی تھی لیکن انہیں امید تھی کہ شادی ان کی تعلیم کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔
اس رات انہوںنے کھانا باہر کھایا۔ تھیٹر گئے۔ ایک دوسرے کی رفاقت میں انہوںنے بہت خوشی خوشی وقت گزارہ۔ جب وہ ہوٹل واپس پہنچے تو لابی میں مائیکل نے نیوز اسٹینڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’تم ذرا وہاں سے شام کے اخبارات لے آئو میں اس وقت تک ریسپشن سے کمرے کی چابی لیتا ہوں۔‘‘
استقبالیہ کائونٹر پر کافی لوگ موجود تھے اور کائونٹر کلرک ایک ہی تھا۔ مائیکل کو چابی لینے میں کچھ دیر لگ گئی۔ چابی لینے کے بعد اس نے ادھر ادھر دیکھا تو ا سے احساس ہوا کہ ’کے‘ ابھی تک نیوز اسٹینڈ پر ہی کھڑی تھی۔ اس کے ہاتھوںمیں ایک اخبار تھا اور وہ یک ٹک اسی کو دیکھے جارہی تھی۔
مائیکل اس کے قریب پہنچا تو اس نے سر اٹھاکر مائیکل کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
’’اوہ… مائیک… مائیک…!‘‘ وہ گلوگیر آواز میں صرف اتنا ہی کہہ سکی۔ اس کی آواز گویا اس کا ساتھ چھوڑ گئی۔
مائیکل نے اس کے ہاتھ سے اخبار لے لیا۔ سب سے پہلے اس کی نظر جس چیز پر پڑی، وہ اس کے باپ کی بڑی سی


تھی جو اخبار کے پہلے صفحے پر، بالائی حصے میں نمایاں انداز میں چھپی ہوئی تھی۔ تصویر میں ڈون کارلیون سڑک پر پڑا دکھائی دے رہاتھا اور اس کے سر کے گرد بہت سا خون پھیلا ہوا تھا۔ ایک شخص اس کے قریب بیٹھا بچوں کی طرح رو رہا تھا، وہ مائیکل کا بھائی فریڈ تھا۔
مائیکل کو یوں لگا جیسے یک لخت اس کا خون اس کی رگوں میں جم گیا ہو۔ وہ خود بھی نہیں جان سکا کہ اس کی یہ کیفیت دکھ سے تھی۔ خوف سے یا پھر غیظ و غضب سے؟
دوسرے ہی لمحے اس نے خود کوسنبھالا اور ’کے‘ کو بازو سے تھام کر لفٹ کی طرف لے گیا۔ اوپر اپنے کمرے میں پہنچ کر اس نے بیڈ کے کنارے پر بیٹھ کر اخبار کھولا۔ شہ سرخی تھی۔
’’ڈون کارلیون کو گولی مار دی گئی۔ مبینہ گینگ لیڈر شدید زخمی۔ پولیس کی بھاری نفری کی حفاظت میں ڈون کا آپریشن، گینگ و ار کا خدشہ…‘‘
مائیکل کو اپنی ٹانگوںمیں نقاہت محسوس ہورہی تھی لیکن وہ حوصلہ مجتمع کرکے ’کے‘ سے مخاطب ہوا۔ ’’خدا کا شکر ہے پاپا زندہ ہیں، جن کتوں نے بھی ان پر حملہ کیا ہے وہ بہرحال انہیں ہلاک کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔‘‘
پھر مائیکل نے پوری خبر پڑھی۔ اس کے باپ پر حملہ شام پانچ بجے کے قریب ہوا تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ جس وقت مائیکل عیش و نشاط کی گھڑیاں گزار رہا تھا۔ باہر رومان پرور ماحول میں کھانا کھا رہا تھا۔ تھیٹر سے لطف اندوز ہورہا تھا۔ اس دوران اس کے باپ پر فائرنگ ہوچکی تھی اور وہ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھا۔ ایک قسم کے احساس جرم سے مائیکل کا دل مر جانے کو چاہا۔
’’کیا ہم اسپتال چلیں؟‘‘ ’کے‘ نے پوچھا۔
مائیکل نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔’’پہلے میں گھر فون کرتا ہوں۔ جن لوگوں نے اتنا بڑا قدم اٹھایا ہے، لگتا ہے ان کے دماغ ٹھکانے پر نہیں ہیں۔ اور اب جبکہ انہیںمعلوم ہوچکا ہوگا کہ پاپا مرے نہیں، بچ گئے ہیں تو وہ اور بھی زیادہ دیوانگی کے عالم میں کوئی بھی قدم اٹھا سکتے ہیں۔ پہلے میں تازہ ترین صورتحال معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔‘‘
لانگ بیچ پر واقع اس کے گھر کے دونوں ٹیلی فون بزی تھے۔ مائیکل مسلسل نمبر ملانے کی کوشش کرتا رہا اور مسلسل اسے دونوں نمبروں سے انگیج کی ٹون سنائی دیتی رہی تاہم اس نے کوشش جاری رکھی اور آخر کار بیس منٹ بعد سلسلہ مل ہی گیا۔
’’یس…؟‘‘ دوسری طرف سے سنائی دینے والی آواز سنی کی تھی۔ اس کے لہجے میں تنائو تھا۔
’’سنی…ٖ! یہ میں ہوں۔‘‘ مائیکل بولا۔
’’اوہ!‘‘ سنی کے لہجے میں اطمینان جھلک آیا۔ ’’تم کہاں تھے؟ ہم تمہارے بارے میں سخت پریشان تھے۔ میں نے تمہاری تلاش میں اس قصبے کی طرف آدمی بھی روانہ کردیئے تھے جہاں تمہارا کالج اور ہوسٹل ہے۔‘‘
’’پاپا کیسے ہیں؟ وہ کتنے زخمی ہوئے ہیں؟‘‘ مائیکل نے بے تابی سے پوچھا۔
’’بہت بری طرح زخمی ہوئے ہیں۔انہیں پانچ گولیاں لگی ہیں… لیکن…بہرحال… وہ سخت جان آدمی ہیں۔‘‘ سنی کے لہجے میں فخر تھا۔ ’’ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ بچ جائیں گے۔ دیکھو میں زیادہ لمبی بات نہیں کرسکتا۔ میں بہت مصروف ہوں اور فون کو بھی زیادہ دیر انگیج نہیں رکھا جاسکتا۔ کالز مسلسل آرہی ہیں۔ یہ بتائو تم ہو کہاں؟‘‘
’’میں نیویارک میںہی ہوں۔ کیا ہیگن نے تمہیں نہیں بتایا کہ میں بذریعہ کار یہاں آرہا تھا؟‘‘ مائیکل بولا۔
’’نہیں۔‘‘ سنی کی آواز کچھ نیچی ہوگئی۔ ’’ہیگن ہمیں یہ اطلاع نہیں دے سکا کیونکہ اسے اغوا کرلیا گیا ہے۔ اسی لئے میں تمہاری طرف سے بھی فکرمند تھا۔ ہیگن کی بیوی یہاں موجود ہے اسے معلوم ہے کہ ہیگن کو کس نے اغو ا کیا ہے اور نہ ہی پولیس کو اس سلسلے میں کچھ معلوم ہے۔ میں چاہتا بھی نہیں ہوں کہ انہیںکچھ معلوم ہو۔ جن لوگوں نے یہ سب کچھ کیا ان کے شاید دماغ خراب ہوگئے ہیں۔ بس تم فوراً گھر آجائو اور اپنی زبان بند رکھنا… اوکے؟‘‘
’’اوکے۔‘‘ مائیکل نے کہا۔ ’’کیا تمہیںمعلوم ہے یہ کن لوگوں کی حرکت ہے؟‘‘
’’یقیناً۔‘‘ سنی نے جواب دیا۔ ’’براسی اس وقت کہیں گیا ہوا ہے۔ اسے واپس آجانے دو۔ جن لوگوں نے یہ حرکت کی ہے ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچے گا۔‘‘
’’میں ایک گھنٹے تک پہنچ رہا ہوں ٹیکسی میں۔ ‘‘ مائیکل نے کہا اور فون بند کردیا۔
اخبارات کو آئے کم از کم تین گھنٹے گزر چکے تھے۔ مائیکل کو یقین تھا کہ اس دوران یہ خبر کئی ریڈیو اسٹیشنز سے بھی نشر ہوچکی ہوگی۔ براسی جہاں بھی
; تک یہ خبر پہنچ جانی چاہئے تھی۔ کیا اس نے ابھی تک خبر نہیں سنی؟ یہ ممکن نہیں تھا اگر اس نے خبر سن لی تھی تو وہ اب تک کہاں غائب تھا؟
ہیگن اس وقت جہاں موجود تھا، وہاں اس کے دماغ میں بھی یہی سوال گونج رہا تھا اور یہی سوال اس وقت لانگ بیچ پرواقع حویلی نما مکان میں بیٹھے سنی کو تشویش میں مبتلا کررہا تھا۔
٭…٭…٭
اس شام پونے پانچ بجے تک ڈون کارلیون اپنے دفتر میں کچھ کاغذات کا جائزہ لینے کے بعد گویا دفتری کاموں سے فارغ ہوچکا تھا۔ یہ کاغذات اسے زیتون کا تیل امپورٹ کرنے والی اس کی اپنی کمپنی کے مینجر نے بھجوائے تھے۔ ڈون کا دفتر شہرکے مرکزی اور کاروباری علاقے کی ایک بلڈنگ میں تھا۔
ڈون نے اٹھ کر کوٹ پہنا اور جانے کے لئے تیار ہوگیا۔ دوسری میز پر فریڈ اپنے چہرے کے سامنے اخبار پھیلائے بیٹھا تھا۔ ڈون آہستگی سے اس کے کندھے پر ہاتھ مار کر بولا۔ ’’گیٹو سے کہو، گاڑی نکالے… ہمیں گھر جانا ہے۔‘‘
’’گاڑی مجھے خود ہی نکالنی پڑے گی۔ گیٹو نہیں آیا ہے۔‘‘ فریڈ نے بتایا۔ ’’اسے پھر ٹھنڈ لگ گئی ہے… فلو ہوگیا ہے وہ گھر پر آرام کررہاہے۔‘‘
ڈون نے ایک لمحے کچھ سوچا اور کہا۔ ’’اس مہینے میں گیٹو کو تیسری مرتبہ فلو ہوا ہے۔ میرا خیال ہے ہمیں کوئی زیادہ صحت مند آدمی تلا ش کرنا چاہئے جو گیٹو کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالے اور کم بیمار ہوا کرے۔ تم ہیگن سے اس سلسلے میں بات کرو۔‘‘
’’گیٹو اچھا نوجوان ہے۔ میرا خیال ہے وہ بہانے بازی نہیں کرتا۔‘‘ فریڈ نے گیٹو کی طرف داری کرتے ہوئے کہا۔ ’’کبھی کبھار اس کی جگہ مجھے گاڑی چلانی پڑ جاتی ہے تو اس سے مجھے کوئی زحمت نہیں ہوتی۔‘‘
فریڈ باہر چلا گیا۔ ڈون چلتے چلتے ہیگن کو فون کرنے رک گیا مگر ہیگن کے دفتر میں کسی نے فون نہیں اٹھایا۔ پھر ڈون نے اپنے گھر کے اس کمرے میں فون کیا جسے ہیگن دفتر کے طور پر استعمال کرتا تھا اور جہاں ڈون بھی اس کے ساتھ بیٹھ کر مختلف معاملات پر تبادلہ خیال کرتا تھا یا کاروباری ملاقاتیں کرتا تھا۔ اس کمرے میں بھی کسی نے فون نہیں اٹھایا۔ اس کا مطلب تھا کہ ہیگن وہاں بھی نہیں پہنچا تھا۔
ڈون نے قدرے ناگواری محسوس کرتے ہوئے نیچے جھانکا اس کا بیٹا فریڈ پارکنگ لاٹ سے گاڑی نکال لایاتھا اور سڑک کے دوسری طرف اس سے ٹیک لگائے ڈون کے انتظار میں کھڑا تھا۔ ڈون کا دفتر دوسری منزل پر تھا وہ سیڑھیوں کے راستے ہی نیچے چل دیا۔
سردی کے باعث باہر سرشام ہی سرمئی دھندلاہٹ پھیلنے لگی تھی۔ تاہم کرسمس کی شاپنگ کرنے والے کافی تعداد میں ادھر ادھر آتے جاتے دکھائی دے رہے تھے۔ فریڈ دونوں ہاتھ بغلوں میں دبائے بڑی سی بیوک سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ اس نے سڑک کے دوسری طرف سے باپ کو بلڈنگ کے دروازے سے باہر آتے دیکھا تو دروازہ کھول کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا اور انجن اسٹارٹ کردیا۔
ڈون فٹ پاتھ سے اتر کر سڑک عبور کرنے ہی لگا تھا کہ اس کے عقب میں بلڈنگ کی اوٹ سے دو آدمی نمودار ہوئے۔ وہ گہرے رنگوں کے اوورکوٹ پہنے ہوئے تھے اور ان کے ہیٹ اس طرح جھکے ہوئے تھے کہ چہرے نظر نہیں آرہے تھے۔ حالانکہ وہ ڈون کے عقب میں تھے مگر ڈون کو گویا اس کی چھٹی حس نے ان کے بارے میں خبردار کردیا۔ اس نے گردن گھما کر ان کی طرف دیکھا اور اسی لمحے گویا اسے معلوم ہوگیا کہ کیا ہونے والا تھا۔
’’فریڈ…فریڈ…!‘‘وہ چیختے ہوئے گاڑی کی طرف دوڑا۔ اس کی جسامت اور عمرکو دیکھتے ہوئے اس کی پھرتی حیرت انگیز تھی۔
ان دونوں نامعلوم افراد کو شاید اس طرح بروقت اس کے خبردار ہوجانے اور اتنی تیزی سے بھاگ اٹھنے کی توقع نہیں تھی۔ انہوں نے عجلت میں اپنے ریوالور نکالے اور فائرنگ شروع کردی۔ ایک گولی ڈون کی کمر میں لگی جس نے اسے گویا مزید طاقت سے کار کی طرف دھکیل دیا۔ پھر دو گولیاں اس کے کولہوں پر لگیں جن کی وجہ سے وہ گر گیا اور سڑک پر لڑھکتا چلا گیا۔
اس وقت تک فریڈ گاڑی سے اترآیا تھا اور گاڑی کی آڑ میں کھڑا اس کے اوپر سے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ لیکن شاید فوری طور پراس کی سمجھ میں نہیںآیا تھا کہ کیا ہو رہا تھا۔ اس کی آنکھیں پھیلی ہوئی تھیں۔ اسی لمحے ان دونوں حملہ آوروں نے گویا ڈون کو یقینی طور پر ہلاک کرنے کیلئے مزید فائر کئے۔ دو گولیاں اور ڈون کے لگیں۔ ایک اس کے بازو کے گوشت میں اور دوسری پنڈلی میں پیوست ہوئی۔
ڈون کی خوش قسمتی
تھی کہ کوئی بھی گولی اس کے جسم کے کسی ایسے حصے میں نہیں لگی تھی کہ فوری طور پر اس کی موت واقع ہوجاتی لیکن اس کے زخموں سے خون تیزی سے بہہ رہا تھا۔ جہاںوہ گرا تھا وہاں خون کا تالاب سا بن گیا تھا۔ اس کا سر بھی اس کے اپنے ہی خون میں ٹکا ہوا تھا اور وہ ہوش و حواس کھو چکا تھا۔ وہ بیچ سڑک پر ساکت پڑا تھا۔
فریڈکو گویا سکتہ ہوگیا تھا۔ اس کے پاس ریوالور موجود تھا لیکن وہ اسے نکالنا بھول گیا تھا۔ حملہ آور چاہتے تو اسے بھی نشانہ بنا سکتے تھے لیکن شاید وہ بدحواس ہوگئے تھے۔ وہ بھاگ گئے اور سڑک کے کونے پر مڑ کر غائب ہوگئے۔
شاپنگ کرنے والے لوگ بھی بدحواس ہو کر ادھر ادھر بھاگ لئے تھے۔ جس کا جدھر منہ اٹھا تھا چلا گیا تھا۔ بعض نے عمارتوںاور ستونوں کی اوٹ میں پناہ لی تھی۔ بعض عمارتوں کے سامنے آمد و رفت کے لئے استعمال ہونے والے برآمدوںمیں لیٹ گئے تھے۔ چند لمحوں کے لئے ویرانی سی چھا گئی اور یوں لگا جیسے چوڑی سڑک پر اپنے ہی خون میں لتھڑے ہوئے ڈون اور اس کے سرہانے بیٹھے ہوئے اس کے بیٹے کے سوا وہاں کوئی نہیں تھا۔ چند لمحے پہلے جہاں کرسمس کی چہل پہل تھی وہاں اب سرد شام کا ملگجا اندھیرا گویا خاموشی کی زبان میں نوحہ کناں تھا۔
آخر کچھ لوگ ہمت کرکے آگے آئے اور فریڈ کو دلاسہ دینے لگے۔ اسی اثنا میں پولیس کار بھی آن پہنچی۔ ان کے پیچھے پیچھے ’’ڈیلی نیوز‘‘ کی گاڑی تھی جس سے فوٹو گرافر چھلانگ لگا کراترا اور اس نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر وہ تصویر بنائی جس نے کچھ ہی دیر بعد شام کے اخباروں اور ان کے ضمیموں میںشائع ہو کر شہر میں سنسنی پھیلادی۔ پریس، پولیس اور ریڈیو اسٹیشنزکی مزید گاڑیاں بھی چلی آرہی تھیں۔
٭…٭…٭
ڈون کارلیون پر فائرنگ کے آدھے گھنٹے بعد سنی کو پانچ فون کالز چند منٹ کے اندر اندر آئیں۔ پہلی کال پولیس کے سراغرساں جون فلپس کی تھی۔ اسی کی سربراہی میں پہلی پولیس کار جائے واردات پر پہنچی تھی۔ سراغرساں جون فلپس ’’فیملی‘‘ کا نمک خوار تھا۔ ان کے پے رول پر تھا۔
اس نے فون پر سنی کو اپنا نام بتائے بغیر کہا۔ ’’میری آواز پہچان رہے ہو؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ سنی نے قدرے بھاری آواز میں کہا۔ وہ اس وقت قیلولہ کرکے اٹھا تھا جب اس کی بیوی نے بتایا کہ اس کے لئے بہت ضروری ٹیلی فون کال ہے۔
فلپس بلا تمہید تیزی سے بولا۔ ’’تقریباً آدھا گھنٹہ پہلے تمہارے والد کو کسی نے ان کے آفس کے سامنے گولی ماردی ہے۔ وہ زندہ ہیں مگر بری طرح زخمی ہیں۔ انہیں فرنچ اسپتال لے جایا گیا ہے۔ تمہارے بھائی فریڈ کو پوچھ گچھ کے لئے چیلسی پولیس اسٹیشن لے جایا گیا ہے۔ امید ہے اسے ضروری سوالات کے بعد جلد ہی چھوڑ دیا جائے گا۔ تم اس کے پاس جائو تو اپنے ڈاکٹر کو ساتھ لے کرجانا۔ وہ شاک کی سی کیفیت میں ہے۔ میں اس وقت اسپتال جارہا ہوں۔ اگر تمہارے والد بولنے کے قابل ہوئے تو میں دوسرے آفیسرز کے ساتھ مل کر ان سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کروںگا اور تمہیں تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتا رہوں گا۔‘‘
سنی کی بیوی سینڈرا ٹیلی فون والی میز کے قریب ہی کھڑی تھی اور اپنے شوہر کے چہرے پر تغیر نمودار ہوتے دیکھ رہی تھی۔ سنی کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا اور آنکھیں اندرونی غیظ و غضب سے گویا سلگنے لگی تھیں۔
’’کیا بات ہے؟‘‘ سینڈرا نے سرگوشی میں پوچھا۔
سنی نے ہاتھ ہلا کر اسے دور ہٹنے کا اشارہ کیا پھر گھوم کر اس کی طرف پیٹھ کر تے ہوئے فون پر بولا۔ ’’تمہیں یقین ہے کہ وہ زندہ ہیں؟‘‘
’’ہاں…مجھے یقین ہے۔‘‘ دوسری طرف سے سراغرساں فلپس نے جواب دیا۔ ’’ان کا خون تو بہت ضائع ہوگیا ہے اور ظاہری حالت بھی کافی خراب نظر آرہی ہے لیکن میرا خیال ہے ان کی زندگی کو خطرہ لاحق نہیں ہے۔‘‘
’’شکریہ۔‘‘ سنی نے کہا اور فون بند کرکے کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہ کوشش کررہاتھا کہ کچھ دیر بے حس و حرکت بیٹھا رہے۔ اسے معلوم تھا کہ اس کی شخصیت کا سب سے خراب پہلو اس کا غصہ تھا اور اس وقت غصے یا اشتعال کی رو میں بہہ جانا مہلک ثابت ہوسکتا تھا۔ اسے جو کچھ بھی کرنا تھا اپنی عقل، حواس اور دماغ کو ٹھکانے پر رکھ کر کرنا تھا۔ ورنہ اس سے کوئی بھیانک غلطی سرزد ہوسکتی تھی اور اس وقت جبکہ ڈون اسپتال میں موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا تھا وہ کسی غلطی کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے۔
وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ اسے سب سے
ہیگن کو فون کرنا چاہئے تھا لیکن ابھی اس نے فون کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس کی گھنٹی بج اٹھی۔ اس نے ریسیور اٹھایا۔ دوسری طرف ایک بک میکر تھا جو ’’فیملی‘‘ کی سرپرستی میں کام کرتا تھا۔ اس کا ٹھکانہ ڈون کے آفس سے کچھ دور تھا۔ وہ گھوڑوں کی ریس کے سلسلے میں اپنے طور پر شرطیں بک کرنے کا کام کرتا تھا۔
اس نے سنی کو یہ اطلاع دینے کے لئے فون کیا تھا کہ ڈون کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا ہے۔ اس سے چند سوالات کرنے پر سنی کو اندازہ ہوا کہ اسے اس کے کسی مخبر نے یہ اطلاع دی تھی جو جائے وقوعہ کے زیادہ قریب نہیں پہنچ سکا تھا۔ اس نے دور سے سب کچھ دیکھا تھا۔
سنی نے بک میکر کو یہ بتا کر فون بند کردیا کہ اس کی فراہم کردہ اطلاع بے کار تھی، اسے زیادہ معتبر ذرائع سے صحیح خبر مل چکی تھی۔ ابھی سنی نے ریسیور رکھا ہی تھا کہ گھنٹی پھر بج اٹھی۔ اس بار دوسری طرف ’’ڈیلی نیوز‘‘ کا نمائندہ تھا۔ اس نے جونہی اپنا تعارف کرایا سنی نے فون بند کردیا۔ اس نے ہیگن کے گھر کا نمبر ملایا۔ اس کی بیوی نے بتایا کہ ہیگن ابھی گھر نہیں پہنچا لیکن رات کو کھانے کے وقت تک اس کی آمد متوقع تھی۔
’’وہ جیسے ہی گھر آئے… اس سے کہنا کہ فوراً مجھے فون کرے۔‘‘ سنی نے ہدایت کی اور فون بند کردیا۔
وہ ایک بار پھر صورتحال پر غور کرنے لگا۔ وہ فیصلہ کرنے کی کوشش کررہا تھا کہ اس قسم کی صورت میں ڈون کی تربیت کی روشنی میں اسے کیا کرنا چاہئے؟ اسے یہ یقین تھا کہ حملہ سولوزو نے کرایا تھا لیکن ڈون جتنی بڑی شخصیت پر حملہ کرنے کیلئے صرف سولوزو کی اپنی جرأت کافی نہیں ہوسکتی تھی۔ اس کے پیچھے یقینا کچھ اور طاقتور لوگ تھے اور اس اقدام میں سولوزو کو ان کی سرپرستی حاصل تھی۔
چوتھی بار فون کی گھنٹی بجی تو اس کے خیالات کا تسلسل ٹو ٹ گیا۔ اس نے ریسیور اٹھاکر ’’ہیلو‘‘ کہا۔
’’سینی ٹینو کارلیون…؟‘‘ دوسری طرف سے کسی نے اس کاپورا نام لے کر تصدیق چاہی۔
’’ہاں۔‘‘ سنی نے جواب دیا۔
تب دوسری طرف سے نہایت نرم لہجے میں کہا گیا۔ ’’ٹام ہیگن ہمارے قبضے میں ہے۔ تین گھنٹے بعد اسے چھوڑ دیا جائے گا۔ وہ تمہارے پاس ہماری ایک تجویز، ایک کاروباری پیشکش لے کر آئے گا۔ اس پر ٹھنڈے دل سے غور کرنا، اس کی بات سننے سے پہلے جلد بازی اور اشتعال میںکوئی قدم نہ اٹھانا۔ اس سے کوئی فائدہ نہیں صرف نقصان ہی ہوگا۔ جو ہوچکا اسے بدلا نہیں جاسکتا۔ اب ہم سب کو بھی فیصلہ کرنا ہوگا بہت سوچ سمجھ کر عقل اور تحمل سے کرنا ہوگا۔ تمہارا غصہ مشہور ہے لیکن اس غصے کو بے لگام چھوڑ دینے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔‘‘ بولنے والے کے لہجے میں خفیف سا استہزائیہ رنگ جھلک آیا۔ سنی کو شبہ ہورہا تھا کہ وہ سولوزو تھا جو آواز بدل کر بولنے کی کوشش کررہا تھا۔
’’ہیگن آکر جو کچھ تم سے کہے گا ہم اس کے جواب کا انتظار کریں گے۔‘‘ ایک لمحے کے توقف کے بعد دوسری طرف سے کہا گیا اور سلسلہ منقطع کردیا گیا۔ سنی نے گھڑی دیکھی اور ایک کاغذ پر اس کال کا ٹائم نوٹ کرلیا۔
اس کی بیوی پریشان ہو کر ایک بار پھر پوچھے بغیر نہیں رہ سکی۔ ’’سنی ! آخر بات کیا ہے؟‘‘
’’کسی نے پاپا کو گولی مار دی ہے۔‘‘ وہ پرسکون لہجے میں بولا۔
بیوی کی آنکھیں پھیلتے اور چہرے پردہشت کے آثار نمودار ہوتے دیکھ کر وہ جلدی سے بولا۔ ’’پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، وہ زندہ ہیں اور امید ہے فی الحال مزیدکوئی بری خبر سننے کو نہیں ملے گی۔‘‘
اس نے بیوی کو ہیگن کے اغوا کے با رے میں نہیں بتایا۔ اسی اثنا میں فون کی گھنٹی پانچویں مرتبہ بج اٹھی۔ سنی نے ریسیور اٹھایا اس بار دوسری طرف مینزا تھا۔ جذبات کی شدت کے باعث اس کی آواز کے ساتھ سانسوں کی خرخراہٹ بھی سنائی دے رہی تھی۔
’’کیا تم نے اپنے والد کے بارے میں خبر سن لی؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ہاں۔‘‘ سنی نے جواب دیا۔ ’’لیکن وہ زندہ ہیں۔‘‘
’’اوہ… خدا کا شکر ہے۔ ’’مینزا کے لہجے میں طمانیت آگئی۔ ’’میں نے تو سنا تھا کہ انہیں ہلاک کردیا گیا ہے۔‘‘
’’نہیں… وہ زندہ ہیں۔‘‘ سنی نے جواب دیا۔ وہ مینزا کے لہجے کے اتار چڑھائو پر بہت توجہ دے رہا تھا۔ پہلے مینزا کی تشویش اور پھر اس کی طمانیت سنی کو حقیقی ہی محسوس ہوئی تھی لیکن پھر بھی یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا تھا۔ مینزا جس قسم کی ذمہ داریاں انجام دیتا تھا ان میں اکثر اداکاری کی بھی ضرورت


ڑتی تھی جو وہ بڑی کامیابی سے کرلیتا تھا۔ سنی اس وقت نئے سرے سے اور بہت سوچ بچار کے بعد اپنے قریبی ساتھیوں کے بارے میں رائے قائم کرنا چاہتا تھا۔
’’تمہارے کندھوں پر بڑی بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے سنی! ‘‘ مینزا کہہ رہا تھا۔ ’’مجھے بتائو میں کیا کروں؟ میرے لیے کیا حکم ہے؟‘‘
’’پاپا کے گھر پہنچو اور گیٹو کو ساتھ لے کر آئو۔ ‘‘ سنی نے ہدایت کی۔
’’بس؟‘‘ مینزا نے قدرے حیرت سے کہا۔ ’’تمہارے گھر اور اسپتال پر نظر رکھنے کے لئے کچھ آدمی نہ بھیجوں؟‘‘
’’نہیں… میں صرف تم سے اور گیٹو سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘ سنی بولا۔
مینزا ایک لمحے خاموش رہا۔ شاید اس نے سنی کے لہجے میں شک کی پرچھائیں محسوس کرلی تھی۔ سنی اس کا یہ تاثر دور کرنے کے لئے جلدی سے بولا۔ ’’اس واقعے کے وقت گیٹو کہاں تھا؟ وہ کیا کررہا تھا؟‘‘
مینزا کے سانسوں کی خرخراہٹ اب تھم چکی تھی۔ وہ محتاط لہجے میں بولا۔ ’’گیٹو بیمار تھا۔ اسے فلو ہوگیا تھا۔ اس لئے وہ گھر پر تھا۔ اس مرتبہ موسم سرما کے دوران وہ کئی مرتبہ بیمار ہوا ہے۔‘‘
سنی چونک کر بولا۔ ’’پچھلے دو مہینوں کے دوران کتنی مرتبہ وہ گھر پر رہا ہے؟‘‘
’’تین یا چار مرتبہ۔‘‘ مینزا نے جواب دیا۔’’میں نے فریڈ سے کئی مرتبہ پوچھا کہ اگر وہ چاہے تو میں اس کے اور ڈون کے ساتھ رہنے کے لئے کسی دوسرے آدمی کی ڈیوٹی لگادوں لیکن فریڈ نے انکار کردیا۔ گیٹو کو ہٹانے کا کوئی خاص جواز بھی نظر نہیں آتا تھا۔ پچھلے دس سال سے وہ ہمارے ساتھ ٹھیک چل رہا تھا اور بھروسے کا آدمی ثابت ہوا تھا۔‘‘
’’ہاں… ٹھیک ہے… لیکن بہرحال تم پاپا کے گھر کی طرف آتے وقت راستے میں اسے بھی ساتھ لے لینا۔ خواہ اس کی طبیعت کتنی ہی خراب ہو، سمجھ گئے؟‘‘ جواب کا انتظار کئے بغیر اس نے فون بند کردیا۔
اس کی بیوی سینڈرا چپکے چپکے رو رہی تھی۔ وہ ایک لمحے اس کی طرف دیکھتا رہا۔ پھر کھردرے لہجے میں بولا۔ ’’اگر ہمارے آدمیوں میں سے کسی کا فون آئے تو اس سے کہنا کہ مجھے پاپا کے گھر ان کے خاص فون نمبر پر کال کرلے۔ اگر کوئی اور آدمی فون کرے تو تم اپنے آپ کو حالات سے بالکل بے خبر ظاہر کرنا۔ اگر ہیگن کی بیوی کا فون آئے تو اس سے کہنا کہ ہیگن شاید کافی دیر تک گھر نہ پہنچے وہ ایک ضروری کام سے گیا ہوا ہے، سمجھ گئیں؟‘‘
اس کی بیوی نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلادیا۔ وہ ایک لمحے وہیںکھڑا کچھ اور سوچتا رہا پھر دوبارہ بیوی سے مخاطب ہوا۔ ’’شاید ہمارے دو تین آدمی اس گھر میں آکر قیام کریں۔‘‘
سینڈرا کے چہرے پر خوف کے آثار نمودار ہوتے دیکھ کر وہ جلدی سے بولا۔ ’’تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں، وہ جس طرح کہیں اسی طرح کرنا۔ ان کے مشوروں اور ہدایات پر عمل کرنا۔ اگر تمہیں مجھ سے بات کرنے کی ضرورت پڑے تو پاپا کے خاص نمبر پر فون کرلینا لیکن صرف اسی وقت کرنا جب کوئی بہت ضرورت بات ہو اور ہاں فکرمند یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔‘‘
وہ گھر سے باہر آگیا۔ شام کا اندھیرا گہرا ہوگیا تھا اور دسمبر کی سرد ہوا چل رہی تھی۔ سنی کو گھر سے نکل کر سڑک پر قدم رکھتے وقت کوئی خوف محسوس نہیں ہوا۔ چھوٹی سی یہ سڑک گویا ان کے اپنے ہی گھروں کا ایک حصہ تھی۔ یہ سڑک ایک سرے کی طرف سے بند تھی اور دوسرا سرا داخلے کے ایک تنگ راستے کی طرح تھا۔ سڑک پر دونوں طرف نیم دائروں کی صورت میں ’’فیملی‘‘ ہی کے آٹھ طویل و عریض حویلی نما مکانات تھے۔ وہ سب کے سب ڈون کارلیون کی ملکیت تھے۔
بیرونی سرے کے دونوںطرف کے دو مکانوں میں نچلی منزلوں پر ’’فیملی‘‘ کیلئے کام کرنے والے وہ خاص خاص لوگ رہتے تھے جن کی اپنی کوئی فیملی نہیں تھی۔ بالائی منزلوں پر فیملی والے لوگ رہتے تھے۔ باقی چھ مکانوں میں سے ایک ہیگن اور اس کی فیملی کے لئے مخصوص تھا۔ ایک میں سنی رہتا تھا۔ ایک میں خود ڈون رہتا تھا۔ اس کا مکان دیگر مکانوں کے مقابلے میں کم نمایاں اور کم پرشکوہ تھا۔ باقی تین مکان ڈون نے کچھ مصلحتوں کے تحت اپنے بعض ریٹائرڈ دوستوں کو کرائے کے بغیر، اس وعدے پر دے رکھے تھے کہ ضرورت کے وقت وہ انہیں فوراً خالی کردیں گے۔ یوں یہ خاصا بڑا علاقہ گویا ڈون کا اپنا ایک قلعہ اپنا ایک حفاظتی حصار تھا جس میں گھسناکوئی آسان کام نہیں تھا۔ ان مکانوں پر فلڈ لائٹس لگی ہوئی تھیں جن کی وجہ سے یہاں رات میں بھی دن کا سا سماں رہتا تھا۔ یہاں کوئی
کر نہیں آسکتا تھا۔
سنی سڑک عبور کرکے اپنے باپ کے گھر کی طرف چلا گیا۔ گیٹ کے تالے کی ایک چابی اس کے پاس بھی رہتی تھی۔ وہ تالا کھول کر اندر جا پہنچا اور اونچی آواز میں بولا۔ ’’ماما آپ کہاں ہیں؟‘‘
اس کی ماں ایپرن باندھے کچن سے باہرآئی۔ کچن سے کھانا پکنے کی خوشبو آرہی تھی۔ سنی نے کچھ کہنے سے پہلے ماں کو بازو سے پکڑ کرکچن کے قریب پڑی ہوئی ایک کرسی پر بٹھادیا پھر وہ اپنے لہجے سے کسی قسم کا ہیجان ظاہر کئے بغیر بولا۔ ’’کچھ دیر پہلے مجھے فون پر اطلاع ملی ہے کہ پاپا اسپتال میں ہیں۔ وہ زخمی ہیں لیکن فکرمندہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ کپڑے بدل لیں، تیار ہوجائیں آپ کو اسپتال جانا ہے۔ میں آپ کے لئے چند منٹ میںگاڑی اور ڈرائیور کو بلوا رہا ہوں، اوکے؟‘‘
اس کی ماں ایک لمحے اس کی آنکھوںمیں آنکھیں ڈال کر دیکھتی رہی پھر پرسکون لہجے میں اطالوی میں بولی۔ ’’کیا اسے کسی نے گولی مار دی ہے؟‘‘
سنی نے اثبات میں سر ہلایا۔ اس کی ماں نے ایک لمحے کے لئے افسردہ سے انداز میں سر جھکا لیا۔ پھر وہ اٹھ کرکچن میں چلی گئی۔ سنی اس کے پیچھے پیچھے تھا۔ اس کی ماں نے چولہا بند کیا اور بیڈروم میں چلی گئی۔ سنی کو بھوک محسوس ہورہی تھی۔ اس نے وہیں کھڑے کھڑے ادھ پکے کھانے کے چند نوالے حلق سے اتارے اور اس کمرے میں آگیا جسے اس کا باپ آفس کے طور پر استعمال کرتا تھا۔ وہاں اس نے ایک مقفل دراز سے اپنے باپ کا خصوصی فون نکالا۔ ڈائریکٹری میں اس فون کا اندراج ایک فرضی نام اور فرضی پتے پر تھا۔ سب سے پہلے اس نے براسی کو فون کیا لیکن اس کے ہاں کسی نے فون نہیں اٹھایا۔
تب سنی نے ایک اور خاص آدمی کو فون کیا۔ اس کا نام ٹیسو تھا اور وہ بروکلین میں رہتا تھا۔ اس کی حیثیت ڈون کے متبادل سپہ سالارکی سی تھی۔ اصل ’’سپہ سالار‘‘ تو براسی ہی تھا لیکن نہ جانے کیا بات تھی کہ اس اہم موقع پر وہ دستیاب نہیں تھا۔ ویسے تو ’’فیملی‘‘ کے لئے مینزا کے فرائض بھی کچھ اسی قسم کے تھے لیکن فی الحال سنی مینزا سے کوئی اہم کام لینے سے گریز کررہا تھا۔
سنی نے ٹیسو کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ پھر اسے بھروسے کے پچاس آدمیوں کا بندوبست کرنے کی ہدایت کی۔ ان سے کچھ کو اسپتال میں داخل ڈون کے گرد حفاطتی حصار قائم کرنے کے لئے جانا تھا اور کچھ کو لانگ بیچ والے گھروں کی حفاظت کے لئے آنا تھا۔
’’کیا دشمنوں نے مینزا کو بھی ہلاک کردیا ہے؟‘‘ ٹیسو نے پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘ سنی نے جواب دیا۔ ’’لیکن میں فی الحال اس کے آدمیوں سے کام نہیں لینا چاہتا اس لئے میں اس کا ذکرنہیں کررہا ہوں۔‘‘
ٹیسو اس کا مطلب فوراً سمجھ گیا اور ایک لمحے کی خاموشی کے بعد بولا۔ ’’ میں تمہیں وہی نصیحت کرنا چاہوں گا جو ایسے کسی موقع پر تمہارا باپ بھی تمہیں کرتا۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ نتائج اخذ کرنے میں جلد بازی نہ کرنا مجھے یقین ہے کہ مینزا غدار نہیں ہوسکتا وہ ہمیں دھوکا نہیں دے سکتا۔‘‘
’’نصیحت کا شکریہ۔‘‘ سنی بولا۔ ’’خیال تو میرا بھی یہی ہے لیکن میں صرف احتیاط برت رہا ہوں اور ہاں میرا سب سے چھوٹا بھائی مائیکل نیو ہمپشائر کے قصبے ہینوور میں کالج میں پڑھتا ہے اور ہوسٹل میں رہتا ہے۔ کچھ آدمی اسے حفاظت سے لانے کے لئے بھی بھیج دو۔ کہیں یہ آگ زیادہ دور تک نہ پھیل جائے۔ میں مائیکل کو فون کرکے بتا دوںگا کہ ہمارے آدمی اسے لینے آئیں گے تاکہ وہ انہیں دیکھ کر پریشان نہ ہوجائے۔ میں ہر پہلو سے محتاط رہنے کی کوشش کررہاہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے… کوئی فکر نہ کرو… میں تمام انتظامات کرتے ہی تمہارے پاپا والے گھر پر پہنچ رہا ہوں۔ میرے آدمیوں کو تو تم پہچان ہی لو گے؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ سنی نے جواب دیا اور فون بند کردیا۔
پھر اس نے ایک اور مقفل دراز سے چمڑے کی نیلی جلد والی ایک نوٹ بک نکالی۔ یہ ایک خاص نوٹ بک تھی۔ اس میں ان تمام افراد کے نام اور فون نمبر درج تھے جنہیں کسی مخصوص تاریخ پر ’’فیملی‘‘ کی طرف سے کوئی مخصوص رقم ’’نذرانے‘‘ کے طور پر جاتی تھی اور وہ ضرورت پڑنے پر اپنے کام اور شعبے کی مناسبت سے ’’فیملی‘‘ سے تعاون کرتے تھے۔ اس میں حروف تہجی کی مناسبت سے ترتیب وار نام درج تھے۔
سنی اس نوٹ بک کے صفحات پلٹتا رہا اور پھر ’’فیرل‘‘ نام پر اس کی نظر رک گئی۔ اس نام کے آگے جو اندراجات تھے، ان سے ظاہر ہوتا تھا کہ اسے ہر کرسمس
کی شام پانچ ہزار ڈالر بھیجے جاتے تھے۔
سنی نے اس کا نمبر ملایا اور رابطہ ہونے پر بولا۔ ’’فیرل! میں سنی کارلیون بول رہاہوں۔ مجھے تمہاری تھوڑی سی مدد کی ضرورت ہے۔ معاملہ بہت اہم ہے۔ میں تمہیںدو فون نمبر دے رہا ہوں۔ مجھے ریکارڈ چیک کرکے بتائو کہ پچھلے تین مہینوں کے دوران ان نمبروں پر کہاں کہاں سے کالز آئی ہیں اور کہاں کہاں کالز کی گئی ہیں۔‘‘
اس نے فیرل کومینزا اور گیٹو کے فون نمبر نوٹ کرائے پھر کہا۔ ’’یہ کام اگر آج آدھی رات سے پہلے ہوجائے تو کرسمس کی شام تمہیں مزید ایک بونس بھی ملے گا۔‘‘
اس کے بعد اس نے براسی سے رابطہ کرنے کی ایک اور کوشش کی لیکن اس بار بھی دوسری طرف کسی نے فون نہیں اٹھایا۔ اب اسے براسی کے بارے میں تشویش ہونے لگی لیکن اسے بہت سی دوسری چیزوں کے بارے میں غور کرنا تھا اس لئے اس نے براسی کے خیال کو ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کی۔ اسے امید تھی کہ ڈون پر فائرنگ کی خبر جونہی براسی تک پہنچے گی وہ اس کے پاس دوڑا آئے گا۔
اس نے ریوالونگ چیئر کے پشتے سے ٹیک لگا کر اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیا اور آنکھیں بند کرلیں تاکہ اس کا اعصابی تنائو کچھ کم ہوسکے لیکن اس طرح اسے یکسوئی سے سوچنے کاموقع ملا تو گویا اسے صحیح معنوں میں پہلی بار احساس ہواکہ صورتحال کتنی سنگین تھی۔
اسے معلوم تھا کہ ایک گھنٹے کے اندر اندر گھر ’’فیملی‘‘ کے لوگوں سے بھر جائے گا اور اسے ان سب کو بتانا پڑے گا کہ کسے کیا کرنا ہے۔ پچھلے دس سال سکون سے گزرنے کے بعد ایک بار پھر ’’فیملی‘‘ کو ایک سنگین چیلنج کا سامنا تھا۔ ایک بار پھر ’’فیملی‘‘ کی طاقت کو للکارا گیا تھا۔
نیویارک میں ان جیسی پانچ طاقتور ’’فیملیز‘‘ تھیں اور ان میں سے کم از کم کسی ایک کی پشت پناہی کے بغیر سولوزو اتنا بڑا قدم اٹھانے کی جرأت نہیں کرسکتا اور وہ ’’ٹے ٹیگ لیا فیملی‘‘ ہی ہوسکتی تھی۔ اس کا مطلب تھا کہ دونوں ’’فیملیز‘‘ کے درمیان پورے وسائل اور پوری طاقت کے ساتھ جنگ شروع ہوتی یا پھر سولوزوکی تجویز کردہ شرائط پر کوئی معاہدہ کیا جاتا۔
سنی سفاکانہ انداز میں مسکرادیا۔ مکار سولوزو نے کاری وار کیا تھا لیکن اس کی بدقسمتی تھی کہ ڈون ہلاک نہیں ہوا تھا۔ سولوزو اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں سے نمٹنے کیلئے تو براسی ہی کافی تھا لیکن تشویش کی بات یہی تھی کہ براسی کہاں تھا؟
یہ سوال ایک بار پھر سنی کے ذہن میں گویا ڈنک مارنے لگا۔
(جاری ہے)