God Father | Episode 6

671
ہیگن کو جس گاڑی میں بٹھایا گیا تھا، اس میں اس کے ساتھ ڈرائیور سمیت چار آدمی تھے۔ اسے پچھلی سیٹ پر ان دونوں افراد کے درمیان بٹھایا گیا تھا جو فٹ پاتھ پر اس کے عقب میں آن کھڑے ہوئے تھے سولوزو اگلی سیٹ پر ڈرائیور کے ساتھ بیٹھا تھا۔
ہیگن کے دائیں طرف بیٹھے ہوئے آدمی نے ہاتھ بڑھا کر ہیگن کا ہیٹ اس کے چہرے پر اس طرح جھکا دیا کہ وہ راستے نہ دیکھ سکے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے خبردار بھی کیا۔ ’’اپنے جسم کے کسی حصے کو جنبش نہ دینا۔‘‘
سفر زیادہ طویل نہیں تھا صرف بیس منٹ بعد گاڑی ایک جگہ جا رُکی۔ ہیگن کو جب گاڑی سے اتارا گیا تو وہ اس علاقے کو پہچان نہیں سکا کیونکہ اندھیرا گہرا ہوچکا تھا۔ وہ لوگ اسے تہہ خانے میں واقع ایک اپارٹمنٹ میں لے گئے اور اسے ایک غیر آرام دہ ڈائننگ چیئر پر بٹھا دیا گیا۔ سولوزو اس کے مقابل کچن ٹیبل کے دوسری طرف بیٹھ گیا۔ اس کا چہرہ اس وقت کسی گدھ سے مشابہہ دکھائی دے رہا تھا۔
’’تمہیں خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔‘‘ وہ بولا۔ ’’مجھے معلوم ہے تم ’’فیملی‘‘ کیلئے لڑنے والے لوگوں میں سے نہیں ہو بلکہ ان کیلئے صرف ذہنی، زبانی اور دفتری طور پر خدمات انجام دیتے ہو۔ میں تم سے صرف رابطے کے آدمی والا کام لینا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں تم ان کا بھی کچھ بھلا کردو اور میرا بھی۔‘‘
ہیگن نے ایک سگریٹ سلگا کر اپنے ہونٹوں میں دبائی۔ اس کے ہاتھ میں خفیف سی لرزش تھی۔ اسے چینی کے ایک کپ میں ڈرنک دی گئی جس سے اس کے اعصاب کچھ قابو میں آئے۔
’’تمہارا باس مرچکا ہے۔‘‘ سولوزو مزید بولا لیکن اسے صرف اتنا ہی کہہ کر رکنا پڑا کیونکہ ہیگن نے یہ سنتے ہی رونا شروع کردیا تھا۔ آنسو اس کے رخساروں پر بہنے لگے۔
چند لمحے کے توقف کے بعد سولوزو نے سلسلۂ کلام جوڑا۔ ’’میرے آدمیوں نے اسے اس کے آفس کے سامنے سڑک پر مار دیا ہے۔ یہ خبر ملتے ہی میں نے تمہیں اٹھوا لیا۔ اب تمہیں میرے اور سنی کارلیون کے درمیان جنگ چھڑنے سے روکنی ہے ورنہ ظاہر ہے دونوں فریقوں کو نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔‘‘
ہیگن نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ اس وقت جس صدمے سے دوچار تھا، اس کی شدت پر خود بھی حیران تھا۔ اس کا یہ صدمہ موت کے خوف پر بھی غالب آگیا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ تپتے صحرا میں اس کے سر سے کوئی سائبان ہٹ گیا تھا اور وہ دنیا میں تنہا رہ گیا تھا۔
سولوزو نے ایک بار پھر بولنا شروع کردیا۔ ’’میں جب ہیروئن کے دھندے میں شراکت کی تجویز لے کر ڈون کے پاس گیا تھا تو سنی نے اس میں زبردست دلچسپی لی تھی اور یہ اس کی عقلمندی تھی کیونکہ ہیروئن آنے والے زمانے کی چیز ہے۔ جو لوگ آج اس کام میں ہاتھ ڈالیں گے، کل وہی سب سے زیادہ فائدے میں رہیں گے۔ اس میں اتنی دولت ہے کہ اس کا کاروبار کرنے والے دو سال کے اندر اندر نہ جانے کہاں سے کہاں ہوں گے۔ ڈون پرانے زمانے کا، پرانے خیالات کا آدمی تھا۔ اس کا دور گزر چکا تھا لیکن ابھی اسے خود اس بات کا احساس نہیں ہوسکا تھا۔ اب وہ اس دنیا سے جا چکا ہے اور کوئی طاقت اسے واپس نہیں لا سکتی۔ تمہیں سنی کو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ اب اس مسئلے پر لڑتے رہنا اور خونریزی کے ذریعے اپنی طاقت ضائع کرتے رہنا، حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ میں اب سنی کو نئے سرے سے معاہدے کی پیشکش کرنا چاہتا ہوں اور میری خواہش ہے کہ تم اسے اس معاہدے کو قبول کرنے پر آمادہ کرو۔‘‘
ہیگن بولا۔ ’’تمہاری یہ کوشش فضول ہے۔ تم نے جو کچھ کیا ہے، اس کے جواب میں سنی اپنی پوری طاقت جمع کرکے تم پر حملہ کرے گا۔‘‘
سولوزو بے تابی سے بولا۔ ’’یہ اس کا ابتدائی ردعمل ہوگا۔ اسی معاملے میں تم اسے سمجھانے کی کوشش کرو گے۔ تم اسے حقیقت پسندانہ انداز میں سوچنے پر آمادہ کرو گے۔ ’’ٹے ٹیگ لیا فیملی‘‘ اپنی پوری طاقت اور وسائل کے ساتھ میری پشت پناہی کررہی ہے۔ نیویارک کی اس طرح کی دوسری تمام ’’فیملیز‘‘ بھی اس بات کی حامی ہوں گی اور اس کیلئے پوری پوری عملی کوشش کریں گی کہ ہمارے درمیان بڑے پیمانے پر لڑائی نہ چھڑنے پائے کیونکہ ہماری لڑائی سے ان کے مفادات اور کاروبار کو بھی نقصان پہنچے گا۔ اگر سنی میری پیشکش قبول کرلے گا تو کوئی ہماری طرف توجہ نہیں دے گا۔ حتیٰ کہ ڈون کے پرانے دوست بھی اس معاملے
سے لاتعلق رہیں گے اور سب امن و امان سے اپنے اپنے کام دھندوں میں لگے رہیں گے۔‘‘
ہیگن سر جھکائے، اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے انہیں گھورتا رہا۔ اس بار اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔
سولوزو نے گویا اسے قائل کرنے کی کوشش جاری رکھی۔ ’’ڈون اب سٹھیا گیا تھا اور غلطیاں کرنے لگا تھا۔ اب تم یہی دیکھ لو کہ میں نے کتنی آسانی سے اسے مروا دیا۔ ماضی میں شاید یہ ممکن نہ ہوتا۔ دوسری ’’فیملیز‘‘ نے اب اس پر اعتماد کرنا اور اس کی پروا کرنی چھوڑ دی تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس نے قوم پرستی اور وطن پرستی کے پرانے اصولوں کو بھی چھوڑنا شروع کردیا تھا۔ اس نے تمہیں اپنا وکیل بنا دیا جبکہ تم سسلی کے تو کیا اطالوی بھی نہیں ہو۔ اگر ہمارے درمیان پورے وسائل کے ساتھ جنگ چھڑ گئی تو کارلیون فیملی کچلی جائے گی جس سے مجھ سمیت سب کا نقصان ہوگا۔ مجھے رقم سے بھی زیادہ ان لوگوں کے سیاسی اثر رسوخ کی ضرورت ہے۔ اس لئے تم سنی سے بات کرو۔ اسے اچھی طرح سمجھائو۔ اس کے لڑاکوں اور سپہ سالار کو اچھی طرح سمجھائو۔ اس طرح ہم بہت ساری غیرضروری خونریزی سے بچ سکتے ہیں۔‘‘
’’میں اپنی سی کوشش کروں گا۔‘‘ آخر ہیگن نے جواب دیا۔ ’’لیکن میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ سنی غصے کا بہت تیز اور ٹیڑھے دماغ کا آدمی ہے اور اس سے بھی زیادہ تمہیں براسی کی فکر کرنی چاہئے۔ اگر میں تمہاری جگہ ہوتا تو سنی سے پہلے براسی کے بارے میں تشویش زدہ ہوتا۔‘‘
’’براسی کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو۔‘‘ سولوزو اطمینان سے بولا۔ ’’تم صرف سنی اور اس کے دونوں بھائیوں کو سنبھالو۔ سنو! تم انہیں سمجھانے کے سلسلے میں دلائل دیتے وقت یہ بھی بتا سکتے ہو کہ اگر میں چاہتا تو آج ڈون کے ساتھ ساتھ فریڈ کو بھی ہلاک کیا جاسکتا تھا۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ وہ بھی نشانے پر تھا اور ایک آسان ٹارگٹ تھا لیکن میں نے اپنے آدمیوں کو سختی سے حکم دے رکھا تھا کہ فریڈ کو گولی نہ ماری جائے۔ میں سنی کو ضرورت سے زیادہ صدمہ پہنچانا یا ضرورت سے زیادہ غصہ دلانا نہیں چاہتا تھا۔ تم انہیں بتا سکتے ہو کہ فریڈ صرف میری وجہ سے زندہ ہے۔‘‘
اب ہیگن کے ذہن نے کام کرنا شروع کردیا تھا۔ اسے یقین ہوچلا تھا کہ سولوزو اسے ہلاک کرنا یا یرغمال بنانا نہیں چاہتا۔ اس احساس سے اس کا وہ خوف دور ہوگیا جس نے اب تک اس کے دل، دماغ اور اعصاب کو جکڑ رکھا تھا۔ اسے یہ سوچ کر شرم بھی محسوس ہوئی کہ موت کا خوف اس پر اس حد تک غالب آگیا تھا۔
سولوزو گہری نظروں سے اس کا جائزہ لے رہا تھا۔ وہ گویا اس کی کیفیت اور اس کے احساسات کو سمجھ رہا تھا۔ ہیگن نے اس کی باتوں پر غور کرنا شروع کیا۔ سولوزو یقیناً ایک وکیل، ایک لائق اور قابل آدمی… اور ’’فیملی‘‘ سے تعلق رکھنے والے ایک ذمہ دار شخص کی حیثیت سے اس سے یہ توقع کررہا تھا کہ وہ اس کے موقف کو اچھے اور متاثر کن انداز میں سنی کے سامنے پیش کرسکے گا اور شاید اسے قائل کرسکے گا۔
اب غوروخوض کرتے وقت ہیگن کو احساس ہوا کہ اس کی توقعات کچھ غلط بھی نہیں تھیں اور اس کا مؤقف بھی اس قابل تھا کہ اس پر توجہ دی جاتی۔ کارلیون اور ’’ٹے ٹیگ لیا فیملی‘‘ کے درمیان جنگ کو بہرحال روکنا ہی سب کے مفاد میں تھا۔ اس متوقع جنگ سے ہر حال میں گریز ضروری تھا۔ ڈون اگر مر چکا تھا تو اب کارلیون فیملی کو اس صدمے کو برداشت کرلینا چاہئے تھا اور بہت سے مزید صدمات کو دعوت نہیں دینی چاہئے تھی۔ کم ازکم فی الحال انہیں سولوزو کی پیشکش قبول کرلینی چاہئے تھی۔ بعد میں اگر وہ ضروری سمجھتے تو کوئی مناسب موقع دیکھ کر سولوزو کو اس کے کئے کی سزا دے سکتے تھے۔
ہیگن نے سر اٹھایا تو اسے یوں لگا جیسے سولوزو اس کے یہ خیالات بھی پڑھ رہا تھا۔ وہ مسکرا رہا تھا۔ اسی لمحے ایک اور خیال بھی ہیگن کے ذہن میں بجلی کے کوندے کی طرح لپکا۔ آخر سولوزو، براسی کے بارے میں کیوں فکرمند نہیں تھا؟ وہ اس کی طرف سے اتنا بے پروا کیوں دکھائی دے رہا تھا جبکہ براسی سے اس جیسے آدمی کو بھی بہرحال خوف زدہ ہونا چاہئے تھا۔ براسی کوئی معمولی آدمی یا نچلے درجے کا بدمعاش نہیں تھا۔ وہ ایک ایسا آدمی تھا جس کا صرف نام سن کر بدمعاشوں کی رگوں میں بھی لہو سرد ہونے لگتا تھا۔
کہیں براسی بک تو نہیں گیا تھا؟ کہیں اس نے ان لوگوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ تو نہیں کرلیا تھا؟ بہرحال یہ
وقت اس قسم کے معموں پر غور کرنے کا نہیں تھا۔ اسے جلد ازجلد کارلیون فیملی کے محفوظ قلعے میں واپس پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے تھی۔
’’میں اپنی سی پوری کوشش کروں گا۔‘‘ وہ سولوزو سے مخاطب ہوا۔ ’’میرا خیال ہے تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔ تمہاری بات میں وزن اور معقولیت ہے۔ شاید ڈون کی روح بھی یہی چاہ رہی ہوکہ ہم تمہاری تجویز پر عمل کریں۔‘‘
سولوزو نے طمانیت سے سر ہلایا اور بولا۔ ’’بالکل ٹھیک! مجھے خونریزی پسند نہیں ہے۔ میں ایک کاروباری آدمی ہوں۔ جنگجوئی کی طرف مجبوراً آتا ہوں۔ خونریزی سب کو بہت مہنگی پڑتی ہے۔‘‘
اسی لمحے فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ ہیگن کے عقب میں بیٹھا ہوا آدمی فون سننے کیلئے اٹھ گیا۔ اس نے ریسیور اٹھایا۔ چند لمحے کچھ سنتا رہا پھر تیکھے لہجے میں بولا۔ ’’ٹھیک ہے، میں اسے بتا دیتا ہوں۔‘‘
اس نے فون بند کیا پھر سولوزو کے قریب آکر اس کے کان میں کچھ کہا۔ ہیگن نے دیکھا کہ اس کی سرگوشی سن کر سولوزو کے چہرے پر زردی نمودار ہوگئی تھی لیکن اس کی آنکھوں میں گویا غیظ و غضب کی چنگاریوں کو ہوا ملنے لگی تھی۔ وہ پرخیال انداز میں ہیگن کی طرف دیکھنے لگا۔ اس کی نظریں بدل گئی تھیں۔ ہیگن کے جسم میں خوف کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔ اسے گویا کسی غیبی قوت نے احساس دلایا کہ شاید اب اسے آزاد نہ کیا جائے۔ شاید کوئی ایسی بات ہوچکی تھی جس کی وجہ سے اب اسے ہلاک کیا جاسکتا تھا۔
آخر سولوزو بول اٹھا۔ ’’ڈون ابھی زندہ ہے…! پانچ گولیاں اس کمبخت بڈھے کے جسم میں پیوست ہوئیں، اس کے باوجود وہ نہیں مرا۔‘‘ پھر اس نے کندھے جھٹکے اور خاص طور پر ہیگن سے مخاطب ہوا۔ ’’یہ تمہاری بھی بدقسمتی ہے اور میری بھی…!‘‘
٭…٭…٭
مائیکل کارلیون جب لانگ بیچ کی اس سڑک پر پہنچا جس پر فیملی کے آٹھ حویلی نما مکانات تھے تو اس نے دیکھا کہ ان مکانوں کی طرف جانے والے راستے کا تنگ دہانہ ایک موٹی زنجیر کے ذریعے بند کردیا گیا تھا۔ تمام مکانوں پر نصب فلڈ لائٹس روشن تھیں اور گھروں کے سامنے دن کی طرح روشنی تھی۔ اس روشنی میں ان مکانوں کے سامنے آٹھ دس کاریں کھڑی نظر آرہی تھیں۔
جس زنجیر کے ذریعے داخلی راستے کے تنگ دہانے کو بند کیا گیا تھا، اس سے ٹیک لگائے دو آدمی کھڑے تھے جنہیں مائیکل نہیں پہچانتا تھا۔ ان میں سے ایک نے پوچھا۔ ’’کون ہو تم؟‘‘ اس کا لہجہ بروکلین والوں جیسا تھا۔
مائیکل نے اپنا تعارف کرایا۔ اسی اثناء میں قریب ترین مکان سے ایک شخص نکل آیا۔ اس نے قریب ہوکر مائیکل کا چہرہ غور سے دیکھا اور گویا تصدیق کی۔ ’’ہاں… یہ ڈون کا سب سے چھوٹا بیٹا ہے۔ میں اسے اندر لے جاتا ہوں۔‘‘
ان دونوں آدمیوں نے چند سیکنڈ کیلئے زنجیر ہٹا دی اور مائیکل تیسرے شخص کے ساتھ اپنے باپ کے مکان تک پہنچا۔ وہاں دو آدمی اور گیٹ پر تعینات تھے۔ انہوں نے انہیں دیکھ کر کوئی سوال کئے بغیر اندر جانے دیا۔
مائیکل کو گھر میں جابجا ایسے آدمی دکھائی دیئے جن کے چہرے اس کیلئے اجنبی تھے۔ وہ ان سے صحیح طور پو واقف ہونا تو درکنار، صورت آشنا بھی نہیں تھا۔ البتہ جب وہ لانگ روم میں پہنچا تو اسے ایک صوفے پر ہیگن کی بیوی ٹیریسا بیٹھی دکھائی دی۔ وہ مضطربانہ انداز میں سگریٹ پی رہی تھی۔ صوفے کے دوسرے سرے پر بھاری بھرکم مینزا بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے سے کسی قسم کے تاثرات کا اظہار نہیں ہورہا تھا تاہم اس کی پیشانی اور رخساروں پر پسینہ تھا اور وہ ایک سگار کے کش لے رہا تھا۔
مینزا نے اٹھ کر ہاتھ ملتے ہوئے اس سے بات شروع کی تو اس کا انداز تسلی دینے کا سا تھا۔ ’’پریشان نہ ہونا۔ تمہارے پاپا بالکل ٹھیک ہو جائیں گے۔ تمہاری ماما اسپتال میں ان کے پاس ہیں۔‘‘
گیٹو بھی وہاں موجود تھا۔ اس نے بھی اٹھ کر مائیکل سے ہاتھ ملایا۔ مائیکل نے گہری نظر سے اس کا جائزہ لیا۔ اسے معلوم تھا کہ گیٹو اس کے باپ کا باڈی گارڈ تھا لیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ آج وقوع کے وقت وہ طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے گھر پر تھا۔ تاہم اس نے گیٹو کے سوکھے ہوئے چہرے پر تنائو کی کیفیت محسوس کرلی۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں تھی۔
گیٹو کے بارے میں تاثر یہی تھا کہ وہ انتہائی پھرتیلا، مستعد اور ذمہ دار آدمی تھا۔ اگر کوئی مشکل کام بھی اس کے ذمہ لگایا جاتا تھا تو وہ اسے آسانی سے انجام دیتا تھا اور اس میں کوئی پیچیدگی پیدا نہیں


دیتا تھا لیکن آج وہ اپنا اہم ترین فریضہ انجام دینے میں ناکام رہا تھا چنانچہ اگر اس کے چہرے سے اضطراب اور تنائو عیاں تھا تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں تھی۔
مائیکل کو طویل و عریض کمرے میں اور بھی کئی افراد نظر آئے مگر وہ انہیں نہیں پہچانتا تھا۔ وہ مینزا کے آدمی نہیں تھے۔ مائیکل بہرحال ایک ذہین نوجوان تھا۔ کمرے کی صورتحال سے اسے یہ اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی کہ گیٹو اور مینزا کو مشتبہ سمجھا جارہا تھا۔
مائیکل یہی سمجھ رہا تھا کہ گیٹو جائے واردات پر موجود رہا ہوگا اس لئے اس نے گیٹو سے پوچھا۔ ’’فریڈ کی حالت کیسی ہے، وہ ٹھیک تو ہے نا؟‘‘
گیٹو کے بجائے مینزا نے جواب دیا۔ ’’ڈاکٹر نے اسے انجکشن لگایا ہے، وہ سو رہا ہے۔‘‘
مائیکل نے ہیگن کی بیوی کے قریب پہنچ کر تسلی دینے کے انداز میں اس کا کندھا تھپتھپایا۔ وہ دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ اچھی طرح پیش آتے تھے۔ مائیکل بولا۔ ’’فکر مت کرو۔ ہیگن خیریت سے واپس آجائے گا۔ کیا تمہاری سنی سے بات ہوئی ہے؟‘‘
ٹیریسا نے نفی میں سر ہلایا۔ وہ ایک دبلی پتلی، نازک اندام اور خوبصورت عورت تھی۔ اس وقت خاصی خوف زدہ نظر آرہی تھی۔ مائیکل نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے صوفے سے اٹھایا اور اپنے ساتھ اس کمرے میں لے گیا جسے ہیگن اور ڈون آفس کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
وہاں سنی میز کے عقب میں ریوالونگ چیئر پر نیم دراز تھا۔ اس کے ایک ہاتھ میں رائٹنگ پیڈ اور دوسرے میں پنسل تھی۔ سنی کے علاوہ وہاں صرف ایک شخص موجود تھا۔ مائیکل اسے پہچانتا تھا۔ وہ ٹیسو تھا۔ وہ بروکلین میں رہتا تھا اور اس کی حیثیت ڈون کیلئے متبادل سپہ سالار کی سی تھی۔ اسے دیکھ کر مائیکل سمجھ گیا کہ گھر میں موجود لوگ دراصل اس کے آدمی تھے اور اس وقت آٹھ مکانوں پر مشتمل اس رہائشی گوشے کی حفاظت کی ذمہ داری انہوں نے ہی سنبھالی ہوئی تھی۔ ٹیسو کے ہاتھ میں بھی ایک پیڈ اور پنسل تھی۔
سنی نے جب مائیکل اور ٹیریسا کو کمرے میں دیکھا تو اٹھا اور میز کے عقب سے نکل آیا۔ اس نے بھی ٹیریسا کے ہاتھ تھپک کر اسے تسلی دی۔ ’’پریشان مت ہو ٹیریسا! ہیگن خیریت سے ہے۔ وہ لوگ اصل میں اس کی زبانی صرف اپنی تجاویز وغیرہ بھجوانا چاہتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے وہ صرف ہمارا وکیل ہے۔ کوئی لڑنے والا آدمی نہیں ہے۔ اس لئے وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ کم ازکم اتنی عقل تو انہیں ہوگی۔ اسے گزند پہنچانے کی کوئی تُک نہیں بنتی۔‘‘
اس کے بعد اس نے مائیکل کو گلے لگا کر اس کا گال چوما جس پر مائیکل کو کچھ حیرت ہوئی کیونکہ بچپن سے لے کر مائیکل کے خاصا بڑا ہوجانے کے بعد بھی سنی موقع بے موقع اس کی پٹائی کرتا آیا تھا۔
’’خدا کا شکر ہے، تم خیریت سے یہاں پہنچ گئے۔‘‘ سنی بولا۔ ’’ماما کو پاپا کے بارے میں بتانے کے بعد انہیں تمہارے متعلق کوئی بری خبر سنانے کی مجھ میں ہمت نہیں تھی۔‘‘
’’ماما کی حالت کیسی ہے؟‘‘ مائیکل نے پوچھا۔
’’ٹھیک ہے۔ وہ ہمت اور جرأت سے حالات کا سامنا کررہی ہیں۔ وہ اور میں ان حالات سے پہلے بھی گزر چکے ہیں۔ تم اس وقت چھوٹے تھے۔ تمہیں حالات کی سنگینی کا اس وقت زیادہ اندازہ نہیں تھا اور اس کے بعد کافی طویل عرصہ سکون اور آرام سے گزر گیا۔‘‘ پھر ایک لمحے کے توقف سے وہ بولا۔ ’’ماما اسپتال میں ہیں، امید ہے پاپا بچ جائیں گے۔ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔‘‘
’’کیا خیال ہے… ہم بھی اسپتال نہ چلیں؟‘‘ مائیکل بولا۔
سنی نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔ ’’جب تک یہ معاملہ نمٹ نہ جائے، میں گھر سے کہیں نہیں جاسکتا۔‘‘
اس دوران فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ سنی فون سننے لگا۔ اس کی توجہ بٹ جانے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مائیکل میز پر پڑے اس چھوٹے سے رائٹنگ پیڈ پر نظر دوڑانے لگا جس پر سنی کچھ لکھ رہا تھا۔ اس پر فہرست کے سے انداز میں سات افراد کے نام لکھے ہوئے تھے۔ ان میں پہلے تین نام سولوزو، فلپس ٹے ٹیگ لیا اور جون ٹے ٹیگ لیا کے تھے۔ مائیکل کیلئے اس کا مطلب سمجھنا مشکل نہیں تھا۔ اس احساس سے اسے جھٹکا سا لگا کہ جس وقت وہ کمرے میں داخل ہوا اس وقت سنی اور ٹیسو ان افراد کے ناموں کی فہرست بنا رہے تھے جنہیں قتل کیا جانا تھا۔
سنی نے فون بند کرنے کے بعد مائیکل اور ٹیریسا کو مخاطب کیا۔ ’’اگر تم دونوں دوسرے کمرے میں جاکر بیٹھ جائو تو بہتر ہوگا۔ میں اور ٹیسو
ایک ضروری کام مکمل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔‘‘
’’یہ… ابھی جو فون کال آئی تھی، کیا یہ ہیگن کے بارے میں تھی؟‘‘ ٹیریسا نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔ اس نے سنی کے سامنے باہمت نظر آنے کی کوشش کی تھی لیکن اس کی یہ کوشش ناکام رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
سنی اس کے کندھے پر بازو رکھ کر اسے دروازے کی طرف لے جاتے ہوئے بولا۔ ’’تم اس کے بارے میں ذرا بھی فکر نہ کرو۔ وہ بالکل ٹھیک ہے۔ تم لیونگ روم میں بیٹھ کر انتظار کرو۔ جیسے ہی مجھے اس کے بارے میں کوئی اطلاع ملے گی، میں تمہیں بتا دوں گا۔‘‘
مائیکل اب بھی حیرت سے اپنے بھائی سنی اور اس کے بلوائے ہوئے اس خاص آدمی ٹیسو کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ وہ کتنے اطمینان سے بیٹھے متوقع مقتولین کی فہرست بنا رہے تھے۔ ان کا انداز کچھ ایسا ہی تھا جیسے کسی کاروباری میٹنگ کا ایجنڈا تیار کررہے ہوں۔ مائیکل کمرے سے باہر جانے کے بجائے ایک صوفے پر بیٹھ گیا۔
سنی نے ٹیریسا کو لیونگ روم میں بھیج دیا۔ دروازہ بند کرکے وہ مائیکل کی طرف مڑا اور بولا۔ ’’اگر تم یہیں بیٹھنے پر تلے ہوئے ہو تو شاید تمہیں کچھ ایسی باتیں سننا پڑیں جو تمہیں پسند نہ آئیں۔‘‘
’’شاید میں تمہاری کوئی مدد کرسکوں۔‘‘ مائیکل سگریٹ سلگانے کے بعد بولا۔
’’نہیں… تم میری کوئی مدد نہیں کرسکتے۔‘‘ سنی نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔ ’’اگر تم اس قسم کے معاملات میں ملوث ہوئے اور پاپا کو پتا چلا تو وہ ناراض ہوں گے۔‘‘
مائیکل برہمی سے تقریباً چلاتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔ ’’وہ تمہارے ہی نہیں میرے بھی پاپا ہیں۔ کیا میں ان کے کسی کام نہیں آسکتا؟ ضروری نہیں ہے کہ میں باہر نکلوں اور لوگوں کو قتل کرتا پھروں مگر میں کسی نہ کسی کام ضرور آسکتا ہوں۔ مجھ سے بچوں جیسا سلوک کرنا بند کرو۔ میں دوسری عالمگیر جنگ میں حصہ لے چکا ہوں۔ خود بھی گولی کھا چکا ہوں اور کئی جاپانیوں کو ہلاک کرچکا ہوں۔ مجھے جنگ میں بہادری دکھانے پر تمغے مل چکے ہیں۔ تمہارا خیال ہے کہ میں تمہیں قتل و غارت گری کرتے دیکھ کر خوف سے بے ہوش ہوجائوں گا؟‘‘
سنی اس کی برہمی کے جواب میں مربیانہ انداز میں مسکرا دیا اور تحمل سے بولا۔ ’’اچھا ٹھیک ہے۔ فی الحال تو تم صرف فون اٹینڈ کرو۔ ابھی میں فیصلہ نہیں کرسکتا کہ تم کس کام آسکتے ہو۔‘‘
پھر وہ ٹیسو کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولا۔ ’’ابھی جو فون آیا تھا، اس سے کچھ ضروری معلومات حاصل ہوئی ہیں۔‘‘ دوسرے ہی لمحے اس کا رخ دوبارہ مائیکل کی طرف ہوگیا اور وہ اس سے مخاطب ہوا۔ ’’کسی نے غداری کی ہے اور دشمن کو ایسا موقع فراہم کرنے میں مدد دی ہے جب پاپا کو آسانی سے نشانہ بنایا جاسکتا تھا۔ وہ مینزا بھی ہوسکتا تھا اور گیٹو بھی۔ گیٹو نے عین آج ہی اپنے آپ کو بیمار قرار دیتے ہوئے چھٹی کرلی تھی اور وہ گھر پر تھا۔ مجھے اب صحیح جواب معلوم ہوچکا ہے کہ دونوں میں سے غداری کس نے کی ہے مگر تم چونکہ بہت عقلمند اور اسمارٹ بننے کی کوشش کررہے ہو اس لئے میں تم سے پوچھ رہا ہوں، بتائو تمہارے خیال میں ان دونوں میں سے کس نے غداری کی ہے؟ کون سولوزو کے ہاتھ بکا ہے؟‘‘
مائیکل دوبارہ صوفے پر بیٹھ گیا اور اس نے گہری سانس لے کر اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیا۔ وہ سکون سے تمام ضروری پہلوئوں پر غور کرنے لگا۔ مینزا کی حیثیت ’’فیملی‘‘ میں اولین سپہ سالار کی سی تھی۔ وہ اور ڈون برسوں سے گہرے دوست بھی تھے۔ ڈون کی بدولت مینزا لکھ پتی ہوچکا تھا۔ گزشتہ بیس برسوں میں اسے دولت کے ساتھ ساتھ ’’فیملی‘‘ میں بے پناہ اہمیت بھی حاصل ہوچکی تھی۔ غداری کے عوض اسے مزید کچھ دولت ہی مل سکتی تھی۔ تاہم اس امکان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا تھا کہ مزید دولت پر اس کی نیت خراب ہوسکتی تھی۔ انسان بہرحال لالچی ہوتا ہے۔
یہ بھی ممکن تھا کہ ڈون کے ساتھ طویل رفاقت کے دوران کبھی اس کی دل آزاری ہوئی ہو جس کا اس نے اس طرح بدلہ لیا ہو۔ یہ بھی ممکن تھا کہ اس نے ٹھنڈے دل والے کسی بزنس مین کی طرح سوچا ہو اور اندازہ لگایا ہو کہ آخرکار متوقع جنگ میں سولوزو جیت جائے گا اس لئے اس شخص کا ساتھ چھوڑ دینا چاہئے تھا جس کے ہارنے کا امکان تھا۔
مائیکل نے ان تمام پہلوئوں پر سوچا لیکن پھر اس نے دل ہی دل میں ایسے تمام امکانات کو مسترد کردیا۔ اس کا دل کہہ رہا تھا کہ مینزا غدار نہیں ہوسکتا تھا۔ پھر اس نے
قدرے افسردگی سے سوچا کہ شاید اس کا دل اس لئے مینزا کو غدار تسلیم نہیں کررہا تھا کہ وہ بچپن سے اس سے مانوس رہا تھا۔ وہ اسے قتل ہوتے دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔ مائیکل جب چھوٹا تھا تو مینزا اس کے ساتھ بڑی شفقت اور محبت سے پیش آتا۔ اس کیلئے کھلونے اور دوسرے تحفے لے کر آتا تھا اور جن دنوں ڈون زیادہ مصروف ہوتا، ان دنوں مینزا ہی اس کے ساتھ گھومتا، پھرتا، کھیلتا، کودتا اور اس کا دل بہلاتا تھا لیکن مائیکل نے محسوس کیا کہ ان تمام باتوں سے قطع نظر اس کا دل اور اس کا ذہن دونوں مینزا کو غدار تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں تھے۔
پھر اس نے گیٹو کے بارے میں غور کیا۔ وہ ابھی زیادہ خوشحال نہیں تھا۔ گو کہ وہ بھی ’’فیملی‘‘ کے نظام میں خاصی تیزی سے اوپر آیا تھا لیکن یہاں زیادہ اونچا اور نمایاں مقام حاصل کرنے میں کافی وقت لگتا تھا۔ بہت دھیرے دھیرے جاکر آپ ’’فیملی‘‘ کا اہم حصہ بنتے تھے۔ شاید گیٹو کو دولت اور طاقت دونوں چیزیں حاصل کرنے کی جلدی ہو۔ آج کل بیشتر نوجوانوں کو اس معاملے میں جلدی ہی ہوتی تھی مگر پھر مائیکل کو یہ بھی یاد آیا کہ چھٹے گریڈ میں وہ دونوں ساتھ پڑھتے تھے اور ان دنوں گیٹو اس کا اچھا خاصا دوست بن گیا تھا۔ اسے احساس ہوا کہ وہ سزا کے طور پر گیٹو کو بھی موت کے منہ میں جاتے نہیں دیکھ سکتا۔
آخر اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔ ’’نہیں، ان دونوں میں سے کوئی غدار نہیں ہوسکتا۔‘‘
یہ رائے اس نے محض اس لئے دی تھی کہ وہ سن چکا تھا کہ سنی کو صحیح جواب تو معلوم ہو ہی چکا تھا۔ اب اس کی رائے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا لیکن اگر اس کی رائے پر فیصلے کا دارومدار ہوتا تو مینزا کے مقابلے میں وہ بہرحال گیٹو کے خلاف ووٹ دیتا۔ وہ گیٹو کو قدرے آسانی سے مشتبہ اور مشکوک سمجھ سکتا تھا۔
سنی خفیف سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔ ’’تمہیں شاید دونوں ہی کے خلاف سوچنے میں دشواری پیش آرہی ہے۔ بہرحال تمہاری اطلاع کیلئے بتا رہا ہوں، غداری گیٹو نے کی ہے، مینزا نے نہیں۔‘‘
تب ٹیسو نے گویا اطمینان کی سانس لی اور ایک لمحے پرخیال انداز میں خاموش رہنے کے بعد بولا۔ ’’تو پھر میں اپنے آدمیوں کو کل واپس بھیج دوں؟‘‘
’’کل نہیں… پرسوں۔‘‘ سنی نے جواب دیا۔ ’’میں نہیں چاہتا کہ پرسوں تک اس بارے میں کسی کو کچھ معلوم ہو۔‘‘ پھر ایک لمحے کے توقف کے بعد بولا۔ ’’اب مجھے اپنے بھائی سے کچھ نجی باتیں کرنی ہیں۔ کیا تم لیونگ روم میں جاکر بیٹھ سکتے ہو؟ ہم اپنی فہرست بعد میں مکمل کرلیں گے، اس سلسلے میں تم اور مینزا مل جل کر کام کرو گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ ٹیسو نے کہا اور اٹھ کر باہر چلا گیا۔
اس کے جانے کے بعد مائیکل نے سنی سے پوچھا۔ ’’تم یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو کہ گیٹو ہی غدار ہے؟‘‘
’’ٹیلیفون کمپنی میں ہمارے آدمی موجود ہیں۔ انہوں نے مینزا اور گیٹو کی پچھلے تین ماہ کی کالز چیک کرکے ہمیں رپورٹ دی ہے۔ انہوں نے ان کے ہاں سے کی جانے والی اور انہیں موصول ہونے والی تمام کالز کا ریکارڈ چیک کیا ہے۔ اس مہینے میں تین مرتبہ گیٹو طبیعت خراب ہونے کا عذر کرکے گھر پر رہا۔ ان تینوں دنوں میں اسے اس بلڈنگ کے سامنے واقع ایک پبلک بوتھ سے فون کیا گیا تھا جس میں پاپا کا آفس ہے۔ آج بھی اسے اسی پبلک فون سے ایک کال موصول ہوئی تھی۔ وہ لوگ چیک کررہے تھے کہ کیا گیٹو پاپا کے ساتھ دفتر سے باہر آئے گا یا اس کی جگہ کوئی اور آدمی پاپا کے ساتھ ہوگا۔ وجہ خواہ کچھ بھی ہو لیکن بہرحال ان تینوں دنوں میں گیٹو کا بیمار ہونا اور انہی تینوں دنوں میں اسے ایک مخصوص پبلک فون سے کال موصول ہونا، اسے غدار ثابت کرنے کیلئے کافی ہے۔‘‘ سنی نے ایک لمحے کے لئے خاموش ہوکر کندھے جھٹکے پھر بولا۔ ’’یہ بھی اچھا ہی ہے کہ گیٹو غدار ثابت ہوا۔ مینزا کی تو مجھے آنے والے دنوں میں اشد ضرورت پڑے گی۔‘‘
’’کیا وسیع پیمانے پر لڑائی شروع ہونے والی ہے؟‘‘ مائیکل نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔
سنی کی آنکھوں میں سختی اور سفاکی آگئی۔ ’’میرا ارادہ تو یہی ہے۔ میں صرف ہیگن کی واپسی کا انتظار کررہا ہوں۔ البتہ اس دوران اگر پاپا کو ہوش آگیا اور انہوں نے مجھے کوئی دوسرا لائحہ عمل اختیار کرنے کیلئے کہا تو پھر میں ان کا حکم مانوں گا۔‘‘
’’تم اس وقت کا انتظار کیوں نہیں کرلیتے جب پاپا تمہیں حکم دینے کے قابل ہوجائیں؟‘‘
مائیکل بولا۔
سنی نے آنکھیں سکیڑ کر ناپسندیدگی سے اس کی طرف دیکھا اور بولا۔ ’’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ تمہیں جنگ میں تمغے کس طرح مل گئے بے وقوف لڑکے! ہماری ’’فیملی‘‘ کے سربراہ ہمارے باپ پر فائرنگ کی گئی ہے۔ ان کی نیت یقینی طور پر انہیں ہلاک کرنے کی تھی۔ یہ تو ایک اتفاق اور پاپا کی خوش قسمتی یا پھر ان کی سخت جانی ہے کہ وہ بچ گئے۔ یہ بہت بڑا چیلنج ہے، ہمیں گھسیٹ کر حالت جنگ میں لایا گیا ہے۔ اس قسم کی صورتحال میں غیر معینہ عرصے کیلئے چپ ہوکر نہیں بیٹھا جاسکتا۔ اگر مجھے ہیگن کی واپسی کا انتظار نہ ہوتا تو اب تک ہم جوابی کارروائی کرچکے ہوتے اور اب مجھے اندیشہ محسوس ہورہا ہے کہ شاید وہ ہیگن کو رہا نہ کریں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘ مائیکل نے حیرت سے پوچھا۔
سنی نے ایک بار پھر اس کی طرف اسی طرح دیکھا جیسے کوئی بزرگ کسی بے وقوف بچے کی طرف دیکھتا ہے۔ پھر وہ گویا حتی الامکان تحمل سے کام لینے کی کوشش کرتے ہوئے اسے سمجھانے کے انداز میں بولا۔ ’’انہوں نے یہ سمجھ کر ہیگن کو اغوا کیا تھا کہ پاپا پر قاتلانہ حملہ کامیاب ہوچکا ہے اور وہ مر چکے ہیں جس کے بعد وہ مجھ سے اپنے معاہدے کے سلسلے میں نئے سرے سے بات کریں گے۔ اس سلسلے میں ہیگن رابطے کا آدمی ہوگا۔ وہ ہم دونوں کے درمیان پل کا کام کرے گا اور ہمیں معاہدے کی میز پر بٹھائے گا۔ اب جبکہ انہیں معلوم ہوچکا ہے کہ پاپا زندہ ہیں تو انہیں یہ بھی یقین ہوچکا ہوگا کہ میں پاپا کی زندگی میں ان کے ساتھ معاہدہ نہیں کرسکتا۔ گو کہ یہ بھی محض ان کی خوش فہمی تھی کہ پاپا کی موت کی صورت میں، میں لالچ، مصلحت یا حقیقت پسندی کے تحت ان کی پیشکش قبول کرلوں گا لیکن… بہرحال اب ان کی یہ خوش فہمی دور ہوچکی ہے۔ اس صورتحال میں ہیگن ان کیلئے کام کا آدمی نہیں رہا۔ وہ ان کیلئے بے مصرف ہوچکا ہے۔ وہ چاہیں تو اسے رہا بھی کرسکتے ہیں اور چاہیں تو ٹھکانے بھی لگا سکتے ہیں۔ اس کا انحصار سولوزو کی موجودہ ذہنی حالت پر ہے۔ اگر وہ اسے مار دیتے ہیں تو یہ گویا ان کی طرف سے اپنے چیلنج کو مزید سنگین بنانے کی علامت ہوگی۔ اس طرح وہ گویا ہمیں پیغام دینے کی کوشش کریں گے کہ وہ ہمیں پوری طرح کچل ڈالنے کا ارادہ کرچکے ہیں۔‘‘
مائیکل نے گہری نظر سے بھائی کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا۔ ’’سولوزو کو یہ امید کیونکر ہوئی کہ تم اس کے ساتھ اپنے طور پر معاہدہ کرسکتے ہو؟‘‘
سنی کے چہرے پر خجالت کی سرخی نمودار ہوگئی۔ ایک لمحے وہ خاموش رہا۔ پھر دھیمی آواز میں بولا۔ ’’چند ماہ پہلے ہماری ایک میٹنگ ہوئی تھی۔ سولوزو منشیات کے دھندے میں ہمیں شریک کرنے کی تجویز لے کر ہمارے پاس آیا تھا۔ پاپا نے اس کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کردیا تھا لیکن مجھ سے غلطی ہوئی کہ میں بیچ میں بول پڑا جس سے کچھ ایسا تاثر پیدا ہوا جیسے میں ذاتی طور پر اس کی پیشکش میں دلچسپی لے رہا ہوں۔ یہ اس کی غلط فہمی تھی۔ مجھ سے تھوڑی سی بکواس ضرور ہوگئی تھی لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ میں پاپا کے حکم یا ان کی مرضی اور پسند سے ہٹ کر کوئی کام کرسکتا ہوں۔ پاپا نے ہمیں بچپن سے یہی تربیت دی ہے کہ اگر فیملی میں کوئی اختلاف رائے ہو تب بھی باہر کے آدمی کو اس کا پتا نہیں چلنا چاہئے۔‘‘ ایک گہری سانس لے کر سنی نے بات جاری رکھی۔ ’’سولوزو نامی اس گدھے نے سوچا ہوگا کہ پاپا کو راستے سے ہٹانے کے بعد وہ میرا تعاون حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ اگر میں اس کے ساتھ دلی طور پر شریک نہیں ہونا چاہوں تب بھی شاید حالات کے تحت مجبور ہوجائوں گا کیونکہ پاپا کے قتل کے بعد ویسے ہی ’’فیملی‘‘ کی طاقت آدھی رہ جائے گی اور میرے لئے معاملات کو سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔ لہٰذا یوں سمجھو کہ اس نے پاپا کو قتل کرانے کا کام ایک کاروباری ضرورت سمجھ کر انجام دیا ہے۔ یہ اس کی ذاتی دشمنی یا انتقام وغیرہ کا شاخسانہ نہیں ہے۔ اپنی دانست میں یہ اس نے ایک خالص کاروباری قدم اٹھایا ہے اور ایسا کرنے کی ہمت اسے صرف اس لئے ہوئی ہے کہ ٹے ٹیگ لیا فیملی اس کی پشت پر ہے۔ اگر میں اس سے پارٹنر شپ کرلوں تب بھی وہ مجھ سے محتاط ہی رہے گا اور بیچ میں ایک مناسب فاصلہ رکھے گا تاکہ میں کبھی موقع پا کر اس سے انتقام لینے کی کوشش نہ کروں۔ اس کے علاوہ اس صورت میں دوسری ’’فیملیز‘‘ بھی ہمیشہ یہ کوشش جاری رکھیں گی کہ ہمارے


درمیان جنگ نہ چھڑنے پائے۔‘‘
’’خدانخواستہ اگر پاپا اس حملے میں مر گئے ہوتے تو اس پیشکش کے سلسلے میں تمہارا ردعمل کیا ہوتا؟‘‘ مائیکل نے جاننا چاہا۔
’’میں تب بھی سولوزو کو ہلاک کراتا۔ اسے بہرحال اپنی اس حرکت کی سزا کے طور پر موت کا شکار ہونا ہے۔ اسے تم مردہ ہی شمار کرو۔ میں اسے یہ سزا دے کر رہوں گا خوہ اس کے لئے مجھے نیویارک میں موجود اپنے جیسی پانچوں ’’فیملیز‘‘ سے جنگ کرنی پڑے اور ٹے ٹیگ لیا فیملی کا تو بہرحال اب صفایا ہونا ہی ہے۔ خواہ اس کوشش میں ہم سب مارے جائیں اور ہمارے تمام وسائل ٹھکانے لگ جائیں۔‘‘
مائیکل نرمی سے بولا۔ ’’اگر پاپا تمہاری جگہ ہوتے تو وہ اس صورتحال سے اس طرح نہ نمٹتے۔‘‘
سنی غصیلے انداز میں ہاتھ کو حرکت دیتے ہوئے بولا۔ ’’مجھے معلوم ہے میں پاپا جیسا انسان نہیں ہوں۔ مجھ میں ان جیسی عادات اور خصوصیات نہیں ہیں لیکن میں تمہیں بتا دوں اور اس بات کی گواہی پاپا بھی دیں گے کہ جب معاملہ عملی قدم اٹھانے اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا ہوتا ہے تو میں اپنی اہلیت ثابت کردیتا ہوں۔ میں احمق نہیں ہوں، مجھے اس قسم کے حالات سے نمٹنے کا سلیقہ بھی ہے اور تجربہ بھی۔ میں نے انیس سال کی عمر میں ہی اپنے آپ کو ’’فیملی‘‘ کے خاص معاملات میں شریک ہونے کا اہل ثابت کردیا تھا اور پچھلی مرتبہ جب ’’فیملی‘‘ کو جنگ کا سامنا کرنا پڑا تھا تو میں پاپا کیلئے ایک اہم مددگار ثابت ہوا تھا۔ اس لئے میں اب بھی اس قسم کی صورتحال سے خوف زدہ یا پریشان نہیں ہوں۔ ’’فیملی‘‘ کے پاس ان حالات سے نمٹنے کے تمام وسائل موجود ہیں بس مجھے براسی کی کمی محسوس ہورہی ہے۔ کاش! کسی طرح اس سے رابطہ ہوجائے۔‘‘
’’کیا واقعی براسی اتنا ہی خطرناک ہے جتنا اسے سمجھا جاتا ہے؟‘‘ مائیکل نے تجسس سے پوچھا۔
’’خطرات کے میدان میں وہ اپنی مثال آپ ہے۔‘‘ سنی بولا۔ ’’میں ٹے ٹیگ لیا فیملی کے تین آدمیوں کے قتل کی ذمہ داری اسے سونپنا چاہتا ہوں۔ میں نے سوچا ہے سولوزو کا کام میں خود تمام کروں گا۔‘‘
مائیکل نے بے چینی سے صوفے پر پہلو بدلا۔ سنی کو اس طرح باتیں کرتے سن کر اس کے جسم میں سرد سی لہریں دوڑ رہی تھیں۔ وہ دل ہی دل میں اس بات پر خدا کا شکر بھی ادا کررہا تھا کہ اس قسم کے کاموں میں اسے نہیں گھسیٹا جارہا تھا۔ اسے اگر کرنے بھی تھے تو بے ضرر قسم کے کام ہی کرنے تھے۔
اس لمحے انہیں لیونگ روم سے کسی عورت کی چیخ سنائی دی۔ وہ ہیگن کی بیوی ٹیریسا کی آواز معلوم ہوتی تھی۔
’’خدا خیر کرے…!‘‘ مائیکل نے دل ہی دل میں کہا۔
دونوں بھائی اٹھ کر دروازے پر پہنچے۔ باہر جاکر انہوں نے لیونگ روم میں جھانکا۔ وہاں موجود تمام افراد کھڑے ہوئے تھے۔ صوفے کے قریب ہیگن اپنی بیوی کے ساتھ کھڑا تھا اور اسے تسلیاں دے رہا تھا۔ وہ غالباً اس وقت کمرے میں داخل ہوا تھا جب ٹیریسا نے حیرت اور خوشی سے چیخ ماری تھی۔ اب وہ سسکیاں لے لے کر رو رہی تھی اور ہیگن کے چہرے پر قدرے شرمساری تھی۔ وہ گویا اپنی بیوی کی جذباتیت کے اس مظاہرے پر معذرت خواہ تھا۔
سبھی نے غالباً یہ دیکھ کر قدرے طمانیت کی سانس لی تھی کہ ہیگن زندہ سلامت اور بخیر و عافیت لوٹ آیا تھا۔ اس نے مائیکل کو دیکھا تو اپنی بیوی کو آہستگی سے دوبارہ صوفے پر بٹھا دیا اور بولا۔ ’’تمہیں اس موقع پر یہاں دیکھ کر خوشی ہورہی ہے مائیکل!‘‘
پھر وہ پلٹ کر اپنی روتی ہوئی بیوی کی طرف دیکھے بغیر دونوں بھائیوں کے ساتھ آفس میں آگیا۔ مائیکل قدرے فخر سے یہ سوچے بغیر نہ رہ سکا کہ ہیگن کے انداز و اطوار میں بھی بہرحال ڈون کی تربیت کا رنگ جھلکتا تھا۔ پھر اسے خیال آیا کہ ڈون کی تربیت کا رنگ تو سنی کی شخصیت میں بھی موجود تھا اور وہ خود بھی اس سے مکمل طور پر بچا ہوا نہیں تھا۔
٭…٭…٭
صبح کے چار بجے تک سنی، ہیگن، مائیکل، مینزا اور ٹیسو اسی کمرے میں موجود تھے جو آفس کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ ٹیریسا کو گھر بھیج دیا گیا تھا جو برابر میں ہی واقع تھا۔ گیٹو اس وقت بھی لیونگ روم میں منتظر انداز میں بیٹھا تھا۔ وہ اس حقیقت سے بے خبر تھا کہ اس کے بارے میں ٹیسو کے آدمیوں کو ہدایات دی جا چکی ہیں کہ اسے گھر سے باہر کہیں جانے دیا جائے اور نہ ہی نظر سے اوجھل ہونے دیا جائے۔
ہیگن نے سولوزو سے ہونے والی تمام گفتگو سنی کے گوش گزار کردی تھی اور اسے
سمجھا دیا تھا کہ سولوزو کیا چاہتا تھا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ سولوزو کو جب اطلاع ملی کہ ڈون مرا نہیں تو اسے سولوزو کی آنکھوں میں اپنے لئے سزائے موت کا حکم صاف لکھا دکھائی دیا لیکن ہیگن نے وکیلوں والے مخصوص مدلل اندازگفتگو سے دھیرے دھیرے اس کے ذہن سے یہ خیال نکالا تھا۔
’’خدا کی پناہ…!‘‘ ہیگن نے جھرجھری سی لے کر کہا۔ ’’اگر مجھے سپریم کورٹ میں اپنی جاں بخشی کی اپیل کے سلسلے میں اپنی وکالت کرنی پڑے تب بھی شاید میں ججوں کو اتنے بہتر انداز میں قائل کرنے کی کوشش نہ کرسکوں جتنی میں نے اس خبیث سولوزو کے سامنے کی۔ میں نے اسے بتایا کہ اگر ڈون زندہ بچ گیا تب بھی میںتمہیں اس کا معاہدہ قبول کرنے پر آمادہ کرسکتا ہوں۔‘‘ وہ معذرت خواہانہ انداز میں سنی کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرایا۔ ’’میں نے اسے یقین دلایا کہ تم میری بات ٹال نہیں سکتے کیونکہ تم سے میری اسکول کے زمانے سے دوستی چلی آرہی ہے اور دیکھو میری یہ بات سن کر میرے بارے میں بدگمان نہ ہونا اور نہ ہی غصے میں آنا۔ میں نے اسے یہ تاثر بھی دیا کہ ڈون پر قاتلانہ حملے کی وجہ سے تم اتنے جذباتی نہیں ہو گے جتنا اسے اندیشہ ہے۔ اللہ مجھے معاف کرے، مجھے اس کمینے کو قائل کرنے کیلئے بہت جھوٹ بولنا پڑا اور اس جھوٹ کو سچ کی طرح پُر تاثیر بھی بنانا پڑا۔ وہ باتیں بھی کرنا پڑیں جن کا میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔‘‘
سنی نے بے پروائی سے ہاتھ ہلایا جیسے ان باتوں کی اس کی نظر میں کوئی اہمیت نہ ہو۔ وہ ہیگن کی مجبوری اور مصلحت کوشی کو اچھی طرح سمجھتا ہو۔ اس کے خیال میں یہ بات زیادہ اہم تھی کہ ہیگن ان لوگوں کے شکنجے سے زندہ سلامت نکل آنے میں کامیاب ہوگیا تھا اور یوں ان کے خیالات، توقعات اور سوچوں کی ایک صحیح اور حقیقی تصویر سامنے آگئی تھی۔ مائیکل فون کے قریب بیٹھا اپنے بھائی اور ہیگن کے چہروں کا گہری نظر سے مشاہدہ کررہا تھا۔
’’ہمیں کام کی بات کرنی چاہئے۔‘‘ سنی بولا۔ ’’ہمیں اب اپنی حکمت عملی تیار کرنی ہے، منصوبے بنانے ہیں۔‘‘ وہ مینزا سے مخاطب ہوا۔ ’’میں نے اور ٹیسو نے باہمی مشورے سے کچھ ناموں کی فہرست بنائی ہے۔ تم ذرا ٹیسو سے وہ فہرست لے کر اس پر ایک نظر ڈال لو۔‘‘
مائیکل نے کہا۔ ’’اگر ہم یہاں حکمت عملی تیار کرنے اور منصوبے بنانے کیلئے بیٹھے ہیں تو پھر فریڈ کو بھی یہاں ہونا چاہئے۔‘‘
سنی تیزی سے بولا۔ ’’فریڈ اس وقت ہمارے کسی کام کا نہیں۔ وہ ابھی تک سکتے کی سی کیفیت میں ہے اور ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اسے مکمل آرام کی ضرورت ہے۔ مجھے توقع نہیں تھی کہ کسی بھی قسم کے حالات میں فریڈ کا یہ حال ہوجائے گا۔ میں اسے بہت سخت جان اور دلیر آدمی سمجھتا تھا شاید اس کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ کوئی پاپا پر گولیاں چلا کر انہیں ہلاک کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ وہ پاپا کو قطعی طور پر کوئی ناقابل شکست قسم کی چیز سمجھتا ہے۔ عقیدت اور خوش گمانی اپنی جگہ ہے۔ پاپا کے بارے میں عقیدت اور خوش گمانی تم میں اور مجھ میں بھی موجود ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم حقیقت پسند بھی ہیں۔ جو واقعہ رونما ہوچکا ہو، اسے ایک واقعے اور حقیقت کے طور پر قبول کرلینا چاہئے۔‘‘
ہیگن نے جلدی سے گویا بات آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ ’’ٹھیک ہے فریڈ کو فی الحال ہر معاملے سے لاتعلق رکھو اور سنی میرا خیال ہے جب تک یہ معاملہ کسی فیصلہ کن موڑ پر نہیں پہنچ جاتا، تب تک تم گھر میں ہی رہو۔ تم ایک طرح سے قلعہ بند ہوکر بیٹھ جائو۔ سولوزو کے بارے میں غلط فہمی میں نہ رہنا اور اسے کمتر نہ سمجھنا۔ وہ بڑی خطرناک چیز ہے۔ کیا تم نے اسپتال میں آدمی تعینات کردیئے ہیں؟‘‘
سنی اثبات میںسر ہلاتے ہوئے بولا۔ ’’پولیس نے اس وارڈ کو لاک کررکھا ہے جہاں پاپا داخل ہیں۔ ان کے علاوہ ہمارے اپنے آدمی بھی وہاں موجود ہیں۔‘‘ پھر وہ ایک لمحے کے توقف کے بعد بولا۔ ’’ناموں کی اس فہرست کے بارے میں کیا خیال ہے جو ہم نے تیار کی ہے؟‘‘
ہیگن نے ازسرنو اس فہرست پر نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔ ’’خدا کی پناہ سنی… تم تو اس معاملے کو خالص ذاتی انتقام کی شکل دے رہے ہو۔ اگر ڈون اس وقت فیصلہ کرنے کے قابل ہوتے تو وہ اسے ایک کاروباری جھگڑے کے طور پر لیتے۔ میرے خیال میں فتنے کی جڑ صرف سولوزو ہے۔ اس سے نجات حاصل کرلو۔ باقی سب خودبخود ٹھیک ہوجائے گا۔ سب سیدھے ہوجائیں گے۔ ٹے ٹیگ
فیملی کے لوگوں کو نشانہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
سنی نے مشورہ طلب انداز میں اپنے دونوں سپہ سالاروں یعنی مینزا اور ٹیسو کی طرف دیکھا۔ ٹیسو کندھے اچکاتے ہوئے بولا۔ ’’معاملہ ذرا پیچیدہ ہے، میرے لئے کوئی رائے دینا مشکل ہے۔ مجھے جو حکم ملے گا، میں اس پر عمل کروں گا۔‘‘
مینزا نے زبان بند رکھی۔ سنی اس سے مخاطب ہوا۔ ’’ایک کام تو تمہیں بہرحال کرنا ہے۔ اس کے بارے میں کسی تبادلہ خیال کی ضرورت نہیں اور وہ یہ کہ میں گیٹو کو یہاں دیکھنا نہیں چاہتا۔ اس کا تم فوراً ’’بندوبست‘‘ کردو۔ اپنی فہرست میں اس کا نام سب سے اوپر لکھ لو۔‘‘
مینزا نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
ہیگن بولا۔ ’’براسی کے بارے میں کیا خبر ہے؟ میں نے دیکھا تھا کہ سولوزو اس کے سلسلے میں ذرا بھی تشویش میں مبتلا نہیں تھا اور یہ بات مجھے تشویش میں مبتلا کررہی ہے۔ اگر براسی بھی بک گیا ہوگا اور غداری پر آمادہ ہوچکا ہوگا تو ہمارے لئے واقعی سنگین مسئلہ پیدا ہوجائے گا۔ سب سے پہلے ہمیں اس کے بارے میں معلوم ہونا چاہئے۔ کیا کوئی اس سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوا ہے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ سنی نے جواب دیا۔ ’’میں رات بھر اسے فون کرتا رہا ہوں۔ کوئی جواب نہیں ملا۔ شاید وہ کسی خفیہ ٹھکانے میں موجود عیاشی میں مشغول ہو۔‘‘
’’ایسا نہیں ہوسکتا۔‘‘ ہیگن وثوق سے بولا۔ ’’وہ کسی کے ٹھکانے پر رات نہیں گزارتا۔ وہ اگر کسی کے ہاں جاتا بھی ہے تو اپنا مطلب نکالنے کے بعد گھر واپس آجاتا ہے۔‘‘ پھر اس نے مائیکل کو مخاطب کیا۔ ’’تم ہر پندرہ منٹ بعد اس کے گھر فون کرتے رہو شاید کسی وقت جواب مل جائے۔‘‘
سنی بے تابی سے ہیگن سے مخاطب ہوا۔ ’’تم وکیل ہو، مشورہ دو کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے؟‘‘
ہیگن نے مشروب کی ایک بوتل کھولتے ہوئے کہا۔ ’’میرے خیال میں تو تمہیں اس وقت تک سولوزو کو مذاکرات میں الجھائے رکھنا چاہئے جب تک تمہارے پاپا معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے کے قابل نہیں ہوجاتے۔ اس دوران اگر تمہیں کوئی معاہدہ بھی کرنا پڑ جاتا ہے تو کرلو۔ جونہی تمہارے پاپا ٹھیک ہوں گے، وہ کسی بھی دوسری ’’فیملی‘‘ سے تصادم کے بغیر معاملات کو سلجھانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔‘‘
’’تمہارا خیال ہے کہ میں اس خبیث سولوزو سے نہیں نمٹ سکتا؟‘‘ سنی غصے سے بولا۔
ہیگن اس سے نظر چرائے بغیر بولا۔ ’’سنی! مجھے یقین ہے کہ تم اسے سبق سکھا سکتے ہو، شکست دے سکتے ہو اور ٹھکانے بھی لگا سکتے ہو۔ ہماری ’’فیملی‘‘ کے پاس طاقت کی کمی نہیں ہے۔ مینزا اور ٹیسو تمہارے ساتھ ہیں اور تمہارے اشارے پر ایک ہزار فائٹرز کا بھی بندوبست کرسکتے ہیں لیکن لڑائی اگر زیادہ بڑے پیمانے پر پھیل گئی تو پوری مشرقی ساحلی پٹی پر تباہی پھیل جائے گی اور اس کیلئے باقی ’’فیملیز‘‘ ہمیں مورد الزام ٹھہرائیں گی۔ یعنی دوسرے لفظوں میں خواہ مخواہ ہمارے دشمنوں میں اضافہ ہوجائے گا۔ تمہارے پاپا اس قسم کا طریقہ کار اختیار کرنے کے قائل نہیں ہیں۔‘‘
سنی چند لمحے خاموش رہا۔ مائیکل کے خیال میں وہ بات چیت اور صلاح مشورے میں کافی صبر و تحمل کا مظاہرہ کررہا تھا۔ آخر سنی نے ٹھہرے ٹھہرے لہجے میں ہیگن کو مخاطب کیا۔ ’’اور اگر خدانخواستہ پاپا جانبر نہیں ہوتے، ان کا انتقال ہوجاتا ہے تو پھر تمہارے خیال میں مجھے کیا کرنا چاہئے؟‘‘
ہیگن خاموش رہا۔ اس کے چہرے پر سنجیدگی گہری ہوگئی۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ خوب سوچ سمجھ کر نہایت محتاط انداز میں جواب دینا چاہتا ہے۔
کمرے میں گہرا سکوت طاری ہوگیا۔ (جاری ہے)