God Father | Episode 7

592
آخر ہیگن ہی کی آواز نے کمرے کا سکوت توڑا۔ وہ ٹھہری ٹھہری آواز میں بولا۔ ’’مجھے معلوم ہے، میں جو کچھ کہوں گا، تم اس پر عمل نہیں کرو گے۔ لیکن اگر تم میری دیانتدارانہ رائے طلب کر رہے ہو تو وہ میں دے دیتا ہوں۔ اگرخدانخواستہ ڈون کا انتقال ہو جاتا ہے تو میرا خیال ہے کہ تمہیں سچ مچ منشیات کے دھندے کے سلسلے میں سولوزو سے شراکت داری کر لینی چاہئے کیونکہ ڈون کارلیون کے بعد ’’فیملی‘‘ کا سیاسی اَثر رسوخ اور نیویارک کی دوسری ’’فیملیز‘‘ سے تعلقات آدھے رہ جائیں گے۔ شاید حالات کو پرسکون رکھنے اور بڑے پیمانے پر جھگڑے سے بچنے کیلئے دوسری ’’فیملیز‘‘ سولوزو اور ٹے ٹیگ لیا فیملی سے تعاون بھی شروع کر دیں۔ میری رائے میں تو ڈون کے انتقال کی صورت میں تمہیں معاہدہ کر لینا چاہئے اور اس کے بعد انتظار کرنا چاہئے کہ وقت اور حالات کیا صورت اختیار کرتے ہیں۔ مستقبل شاید خود ہی بتا دے کہ اس کے بعد تمہیں کیا قدم اُٹھانا چاہئے۔‘‘
سنی کے چہرے پر برہمی نمودار ہوگئی۔ وہ گویا اپنا شدید غصہ ضبط کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولا۔ ’’یہ بات تم اتنی آسانی سے اس لئے کہہ سکتے ہو کہ جو شخص پانچ گولیاں کھا کر اسپتال میں پڑا موت اور زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے وہ تمہارا باپ نہیں ہے۔‘‘
’’میں نے ہر موقع پر اپنے آپ کو ڈون کے بیٹوں جیسا ہی ثابت کیا ہے۔‘‘ ہیگن جلدی سے بولا۔ ’’یہ میں اپنی پیشہ ورانہ رائے دے رہا تھا لیکن اگر تم میری ذاتی رائے معلوم کرنا چاہتے ہو تو میں بتا دوں کہ اس وقت میرا دل چاہ رہا ہے کہ ان تمام کمینوں کو اپنے ہاتھوں سے موت کے گھاٹ اُتاروں جو ڈون پر حملے میں ملوث ہیں۔‘‘ اس کے لہجے میں جذبات کی ایسی شدت اور خلوص نیت کا ایسا تاثر تھا کہ سنی فوراً ہی شرمندہ ہوگیا۔
’’میرا یہ مطلب نہیں تھا ہیگن!‘‘ سنی کا لہجہ معذرت خواہانہ ہوگیا۔ ’’میں تمہارے خلوص پر شک نہیں کر رہا تھا۔‘‘
لیکن درحقیقت سنی دل میں سوچ رہا تھا کہ خون کے رشتے بہرحال خون کے رشتے تھے، باقی رشتے ان کے سامنے ہیچ تھے۔ وہ چند لمحے پُرخیال انداز میں خاموش رہنے کے بعد بولا۔ ’’ٹھیک ہے ہم اس وقت تک انتظار کر لیتے ہیں جب تک پاپا ہدایات دینے کے قابل نہیں ہو جاتے۔ میرا خیال ہے اس وقت تک تم بھی ’’فیملی‘‘ کے مکانوں تک ہی محدود رہو۔ خطرہ مول لینے کی ضرورت نہیں۔‘‘ پھر اس نے مائیکل کو مخاطب کیا۔ ’’تم بھی محتاط رہنا۔ ویسے تو میرے خیال میں تمہاری ذات کو سولوزو سے بھی کوئی خطرہ نہیں۔ وہ تمہیں ’’فیملی‘‘ کا بے ضرر فرد سمجھ کر تمہاری طرف توجہ نہیں دیں گے۔ ویسے بھی سولوزو ابھی تک یہی بتانے کی کوشش کر رہا ہے کہ یہ ذاتی انتقام کی لڑائی یا خاندانی جھگڑا نہیں ہے، اس کے باوجود احتیاط ضروری ہے۔‘‘ پھر وہ ٹیسو سے مخاطب ہوا۔ ’’تم اپنے آدمیوں کو ریزرو میں رکھو اور ان سے کہو کہ شہر میں گھوم کر سن گن لینے کی کوشش کرتے رہیں۔‘‘ اس کے بعد اس نے مینزا کو مخاطب کیا۔ ’’تم پہلے گیٹو والا معاملہ نمٹا لو۔ پھر تم ان مکانات میں ٹیسو کے آدمیوں کی جگہ اپنے آدمی لگا دینا۔ اسپتال میں بہرحال ٹیسو ہی کے آدمی رہیں گے۔‘‘
پھر وہ ہیگن سے مخاطب ہوا۔ ’’صبح تم سب سے پہلا کام یہ کرنا کہ فون یا پھر قاصد کے ذریعے سولوزو اور ٹے ٹیگ لیا فیملی سے مذاکرات شروع کر دینا اور مائیکل! تم کل مینزا کے دو آدمیوں کو ساتھ لے کر براسی کے گھر جانا اور اس کی واپسی کا انتظار کرنا یا پھر یہ معلوم کرنے کی کوشش کرنا کہ آخر اس کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ وہ کہاں غائب ہے؟ اگر اس نے پاپا پر حملے کی خبر سن لی ہوتی تو اب تک وہ بھوکے درندے کی طرح سولوزو کی تلاش میں نکل چکا ہوتا۔ مجھے یقین نہیں ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر بک سکتا ہے یا ڈون سے غدّاری کر سکتا ہے۔‘‘
اس موقعے پر ہیگن نے ہچکچاتے ہوئے مداخلت کی۔ ’’میرا خیال ہے تم اس قسم کا کوئی کام مائیکل کے سپرد نہ کرو۔‘‘
سنی نے اس کا یہ مشورہ بھی فوراً ہی مان لیا اور دوبارہ مائیکل کو مخاطب کیا۔ ’’ٹھیک ہے تم گھر میں ہی رہو اور ٹیلیفون کرنے اور سننے کی ذمے داری سنبھالے رکھو۔ یہ کام زیادہ اہم ہے۔‘‘
مائیکل نے قدرے خفت محسوس کی لیکن اس نے سعادت مندی سے سر ہلا دیا۔ وہ ایک بار پھر براسی کا نمبر ملا کر
ریسیور کان سے لگا کر بیٹھ گیا۔ پہلے کی طرح اب بھی دُوسری طرف گھنٹی بج رہی تھی لیکن کوئی فون نہیں اُٹھا رہا تھا۔
٭…٭…٭
مینزا اس روز بمشکل چند گھنٹے سو سکا تھا اور اس دوران بھی اسے نیند صحیح طور پر نہیں آئی تھی۔ اُٹھنے کے بعد اس نے اپنے لئے ناشتہ تیار کیا۔ ناشتے سے فارغ ہو کر وہ شب خوابی کے لباس میں ہی مضطربانہ انداز میں کمرے میں ٹہلنے لگا۔ وہ سنی کے حکم پر عملدرآمد کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ سنی نے کہا تھا کہ گیٹو کا ’’بندوبست‘‘ جلد از جلد کر دیا جائے۔ اس کا مطلب تھا کہ یہ کام آج ہی ہو جانا چاہئے تھا۔
غیرارادی طور پر وہ گیٹو کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اس کا تعلق سسلی کے ایک خاندان سے تھا اور وہ ڈون کے بچوں کے ساتھ کھیل کود کر بڑا ہوا تھا۔ مائیکل کے ساتھ تو وہ کچھ عرصہ اسکول بھی گیا تھا۔ اس نے ’’فیملی‘‘ کیلئے بڑے خلوص سے کام کر کے اس میں اپنی جگہ بنائی تھی۔ اسے اپنے کاموں کا معقول معاوضہ ملتا تھا۔ مینزا کو معلوم تھا کہ اس آمدنی کے علاوہ کبھی کبھی چھوٹی موٹی لوٹ مار سے بھی رقم حاصل کر لیتا تھا۔
اس قسم کی حرکتیں ’’فیملی‘‘ کے اُصولوں کے خلاف تھیں لیکن مینزا یہ سوچ کر ان حرکتوں کو نظرانداز کر دیتا تھا کہ سرکش گھوڑا لگام ڈالے جانے کے بعد بھی کچھ دیر تک گھڑ سوار کے اشاروں کے خلاف زور آزمائی کرتا ہے۔ مینزا کو اُمید تھی کہ جب گیٹو پر زیادہ خوشحالی آئے گی تو وہ یہ حرکتیں چھوڑ دے گا۔ اس کی ان حرکتوں کی وجہ سے کبھی مینزا، فیملی یا خود گیٹو کو کسی مصیبت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔
مینزا کو اس بات پر حیرت نہیں تھی کہ اتنا پرانا نمک خوار اور وفادار اس طرح بک گیا تھا اور غدّاری کر بیٹھا تھا۔ مینزا کو اس کا ’’بندوبست‘‘ کرنے کے سلسلے میں بھی کسی قسم کا افسوس یا پریشانی نہیں تھی۔ البتہ دو سوال اسے پریشان کر رہے تھے۔ ایک یہ کہ گیٹو کو ٹھکانے لگانے کی ذمے داری وہ کس کے سپرد کرے؟ دُوسرے یہ کہ گیٹو کا متبادل کون ہوگا؟ گیٹو بہرحال ایک اہم آدمی تھا۔
اس نے گیٹو کے متبادل کے طور پر کئی ناموں پر غور کیا لیکن کسی نہ کسی وجہ سے وہ ہر نام کو دل ہی دل میں مسترد کر تا چلا گیا۔ آخرکار اس کے ذہن میں لیمپون نامی ایک نوجوان کا خیال آیا اور اس کے دل نے اس کے حق میں فیصلہ دے دیا۔
لیمپون کو دوسری عالمی جنگ کے زمانے میں فوج میں بھرتی ہونا پڑا تھا اور وہ کچھ اس طرح زخمی ہوگیا تھا کہ جنگ ختم ہونے سے پہلے ہی اسے فوج سے سبکدوش کر دیا گیا تھا۔ صحت یاب ہونے کے بعد بھی اس کی ٹانگ میں ہلکی سی لنگڑاہٹ برقرار رہی تھی لیکن اس کی یہ کمزوری اس کی مصروفیات میں رُکاوٹ نہیں بنی تھی۔ وہ ایک مستعد، طاقتور اور ’’فیملی‘‘ کے مطلب کا نوجوان تھا۔ گیٹو سے کچھ نچلے درجے پر وہ ’’فیملی‘‘ کیلئے عمدگی سے خدمات انجام دیتا آ رہا تھا۔
اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ جسم، ہتھیار اور طاقت کے ساتھ ساتھ ذہن استعمال کرنا بھی جانتا تھا۔ ہر آزمائش کی صورت میں زبان بند رکھنے کی خوبی بھی اس میں موجود تھی۔ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو اگر کبھی پولیس کے ہتھے چڑھ جاتے تو ان کے تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود ’’فیملی‘‘ کے خلاف زبان نہیں کھول سکتے تھے۔
مینزا نے اس کے بارے میں اچھی طرح غور کیا اور اس فیصلے پر قائم رہا کہ لیمپون اب ’’ترقی‘‘ کا مستحق تھا۔ اسے گیٹو کی جگہ دی جا سکتی تھی۔ یہ سوچنے کے بعد اسے کچھ اطمینان ہوا۔ اس نے گیٹو کو ہدایت کی کہ وہ تین بجے اپنی کار میں اسے لینے آ جائے۔ دو بجے مینزا نے لیمپون کا نمبر ملایا۔ اُس نے فون پر اپنا نام بتائے بغیر کہا۔ ’’تمہارے لئے ایک کام نکل آیا ہے۔ میری طرف آ جائو۔‘‘
لیمپون نے اس کی آواز فوراً پہچان لی۔ اس نے کوئی سوال نہیں کیا۔ اس اچانک پروگرام پر کوئی حیل حجت نہیں کی۔ اس میں ایک اچھے کارکن کی تمام خوبیاں موجود تھیں۔ مینزا نے فون بند کر دیا۔
’’فیملی‘‘ کے مکانات پر مشتمل علاقے سے وہ ٹیسو کے آدمیوں کو ہٹا کر اپنے آدمی تعینات کر چکا تھا۔ اب اسے تھوڑا سا وقت میسر تھا۔ وہ اس دوران اپنی کیڈلک کو دھونے اور چمکانے کے ارادے سے گیراج میں چلا گیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اپنی اس پسندیدہ گاڑی کو دھونے اور چمکانے کے دوران وہ زیادہ یکسوئی سے اپنے مسائل کے بارے میں سوچ بچار کرنے میں کامیاب رہتا تھا۔
اسے یاد
کہ جب وہ چھوٹا تھا اور اٹلی کے ایک گائوں میں تھا تو اس کا باپ بھی سوچ بچار کی ضرورت محسوس کرتا تھا تو اپنے گدھے کی ’’جھاڑ پونچھ‘‘ اور مالش کرنے لگتا تھا۔ وقت وقت کی بات تھی۔ اس کے باپ کے پاس سواری کے لئے گدھا تھا۔ مینزا کے پاس کیڈلک تھی۔
کیڈلک کی صفائی کے دوران وہ گیٹو کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ گیٹو سے ہوشیار رہنے کی بھی ضرورت تھی۔ وہ کسی درندے سے کم نہیں تھا۔ خطرے کی بو محسوس کر سکتا تھا۔ جب اسے ڈون کے گھر سے مینزا کے ساتھ رُخصت کر دیا گیا تھا تو اس نے غالباً یہی سمجھا کہ ان دونوں کی شخصیت کو شکوک و شبہات سے بالاتر قرار دیا جا چکا ہے۔
البتہ اب مینزا اندیشہ محسوس کر رہا تھا کہ گیٹو جب اسے لینے آئے گا اور اس کے ساتھ لیمپون کو دیکھے گا تو کہیں بدک تو نہیں جائے گا؟ مینزا نے محسوس کیا کہ لیمپون کو ساتھ رکھنے کے لئے کوئی جواز گھڑنا ضروری تھا۔ یہ بہرحال زندگی اور موت کے معاملات تھے۔
ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ مینزا کو ہدایت کی گئی تھی کہ گیٹو کی لاش دریافت ہو جانی چاہئے ورنہ مینزا تو کسی کو ہلاک کرنے کے بعد اس کی لاش غائب کر دینا زیادہ بہتر سمجھتا تھا۔ ایسی کئی ’’محفوظ‘‘ جگہیں موجود تھیں جہاں لاشیں غائب کی جا سکتی تھیں۔ گیٹو کی لاش کو کہیں سرعام چھوڑنے میں دو بڑی مصلحتیں کارفرما تھیں۔
اس طرح ایک تو ان کارندوں کو عبرت ہوتی جن میں غدّاری کے جراثیم موجود تھے اور جو مستقبل میں آستین کے سانپ بننے کی کوشش کر سکتے تھے۔ دوسرے سولوزو کو اندازہ ہو جاتا کہ ڈون فیملی نے اپنی صفوں میں غدار کتنی جلدی تلاش کرلیا اور اس کے سلسلے میں کسی قسم کی نرمی یا درگزر سے کام نہیں لیا۔ یعنی ’’فیملی‘‘ کے لوگ ابھی تو عقل و ذہانت سے محروم ہوئے تھے اور نہ ہی ان کے اُصولوں میں کوئی لچک پیدا ہوئی تھی۔ ڈون جتنی آسانی سے گولیوں کا نشانہ بن گیا تھا، اس سے ’’فیملی‘‘ کی کچھ کمزوری ظاہر ہوئی تھی لیکن جلدی ایک غدار کو تلاش کر کے اور عبرتناک سزا دے کر اس تاثر کی تلافی کی جا سکتی تھی۔
آخر مینزا کو بیک وقت گیٹو اور لیمپون کو ساتھ لے کر روانہ ہونے کے لئے ایک بہانہ اور جواز سوجھ گیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ گیٹو کو بتائے گا کہ وہ لوگ کوئی مناسب اپارٹمنٹ تلاش کرنے کی مہم پر جا رہے ہیں۔ ’’فیملی‘‘ کے خاص لوگوں پر اگر کوئی بُرا وقت آن پڑتا تھا یا ہنگامی حالات درپیش ہوتے تھے تو وہ کچھ عرصے کے لئے روپوش بھی ہو جاتے تھے۔
اس مقصد کے لئے کسی دُورافتادہ اور گمنام جگہ پر اپارٹمنٹ کرائے پر لئے جاتے جہاں کئی کئی افراد اس طرح رہتے تھے کہ دُوسروں کی نظر میں کم سے کم آئیں۔ وہ عام طور پر فرش پر گدے بچھا کر سوتے تھے اور خانہ بدوشوں کے سے انداز میں روز و شب بسر کرتے تھے۔ ضرورت محسوس کرنے پر اپارٹمنٹ جلدی جلدی تبدیل بھی کئے جاتے تھے۔ ان لوگوں کی اصطلاح میں اسے ’’خانہ بدوشی کا زمانہ‘‘ کہا جاتا تھا۔
مینزا نے سوچ لیا کہ وہ گیٹو کو بتائے گا کہ ’’فیملی‘‘ خطرہ محسوس کر رہی تھی۔ شاید اسے ’’خانہ بدوشی‘‘ کے دن گزارنے کی ضرورت پیش آ جائے۔ اس مقصد کے لئے کم از کم ایک اپارٹمنٹ کا بندوبست پہلے سے کرنا تھا۔ وہ لوگ اسی مشن پر جا رہے تھے اور لیمپون کو اسی مقصد کے تحت ساتھ لیا گیا تھا۔ اس کی نظر میں چند ’’محفوظ‘‘ اپارٹمنٹ تھے۔ مینزا کو اُمید تھی کہ اس جواز سے گیٹو مطمئن ہو جائے گا۔
لیمپون جلد ہی آن پہنچا اور مینزا نے اسے سمجھا دیا کہ صورت حال کیا تھی۔ انہیں کیا کرنا تھا اور کس طرح کرنا تھا۔ اپنی ’’ترقی‘‘ کی نوید سن کر لیمپون کے چہرے پر چمک آ گئی اور اس نے مینزا کا شکریہ ادا کیا۔ مینزا اسے اپنے ساتھ تہہ خانے کے ایک کمرے میں لے گیا جہاں اس نے دیوار گیر تجوری سے ایک ریوالور نکالا اور لیمپون کے سپرد کرتے ہوئے کہا۔ ’’یہ استعمال کرنا۔ یہ گن بالکل محفوظ ہے۔ اس کے بارے میں کوئی سراغ نہیں لگایا جا سکتا۔‘‘ ایک لمحے کے توقف کے بعد اس نے مزید ہدایات دیتے ہوئے کہا۔ ’’کام ختم کرنے کے بعد یہ گن گاڑی میں گیٹو کے پاس ہی چھوڑ دینا۔ اس مشن سے فارغ ہوتے ہی بیوی بچوں کو لے کر فلوریڈا چلے جانا۔ وہاں خوب آرام اور تفریح کرنا۔ میامی بیچ پر فیملی کا اپنا ہوٹل موجود ہے۔ اسی میں ٹھہرنا تا کہ میں ضرورت کے وقت آسانی سے تم سے رابطہ کر سکوں۔ فی الحال اخراجات کیلئے اپنی رقم
استعمال کرنا۔ بعد میں سب کچھ، بھاری بونس سمیت مل جائے گا۔ تمہیں معلوم ہے فی الحال ’’فیملی‘‘ ذرا بحران میں پھنسی ہوئی ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر توجہ دینے کا کسی کے پاس وقت نہیں ہے۔‘‘
چند منٹ بعد مینزا کی بیوی نے اطلاع دی کہ گیٹو آ گیا ہے اور ڈرائیو وے میں گاڑی میں بیٹھا ہے۔
مینزا گھر سے نکل آیا۔ لیمپون اس کے پیچھے پیچھے تھا۔ مینزا دروازہ کھول کر گھڑی دیکھتے ہوئے گیٹو کے برابر جا بیٹھا۔ اس نے گیٹو کو دیکھ کر گرمجوشی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ گرمجوشی کا مظاہرہ بھی اسے شک میں مبتلا کر سکتا تھا۔
جب لیمپون پچھلا دروازہ کھول کر گیٹو کے عقب میں بیٹھا تو گیٹو ذرا چونکا۔ مینزا نے فوراً اپنی کہانی شروع کر دی۔ ’’بھئی وہ، سنی کچھ خوفزدہ لگ رہا ہے۔ اس نے ابھی سے اپنے آدمیوں کے لئے خانہ بدوشی کا زمانہ گزارنے کے لئے اپارٹمنٹ تلاش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔‘‘ اس نے اپنے لہجے سے کچھ ایسا تاثر دیا تھا جیسے اسے سنی کے اس حکم پر عملدرآمد ناگوار گزر رہا ہو۔ ’’تمہاری نظر میں کوئی موزوں اپارٹمنٹ ہے؟‘‘
گیٹو کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ وہ دِل ہی دِل میں خوش ہو رہا تھا کہ اتنے اہم اور خفیہ مشن پر اسے ساتھ لے جایا جا رہا تھا۔ وہ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ ایسے اہم اور خفیہ ٹھکانے کا پتا سولوزو کو فراہم کر کے وہ کتنا بڑا انعام حاصل کر سکتا تھا؟
لیمپون اس دوران عدم دلچسپی سے کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ اس کا چہرہ بے تاثر تھا۔ وہ اپنا کردار عمدگی سے ادا کر رہا تھا۔
’’مجھے اس کے بارے میں سوچنا پڑے گا۔‘‘ گیٹو نے جواب دیا۔
’’ٹھیک ہے ڈرائیونگ کے دوران ہی سوچتے رہو۔ مجھے آج نیویارک بھی جانا ہے۔‘‘ مینزا بولا۔
وہ شہر کی طرف روانہ ہوگئے۔ خاصی دیر سفر جاری رہا۔ راستے میں مینزا نے بظاہر اپارٹمنٹ کی تلاش میں اِدھر اُدھر کافی وقت ضائع کیا۔ آخر کار وہ لانگ بیچ کی طرف روانہ ہوئے۔
راستے میں ایک ویران سی جگہ دیکھ کر مینزا نے گیٹو سے کہا۔ ’’ذرا یہاں گاڑی روکنا میں کوئی مناسب جگہ دیکھ کر…‘‘ اس نے چھوٹی اُنگلی اُٹھا کر مخصوص اشارے سے گیٹو کو بتایا کہ اسے حاجت ہو رہی تھی۔ یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ وہ پرانے ساتھی تھے اور مینزا پہلے بھی کئی مرتبہ دورانِ سفر ایسی درخواست کر چکا تھا۔
گیٹو نے گاڑی کچے میں اُتار کر روک دی اور مینزا اُتر کر جھاڑیوں کی طرف چلا گیا۔ اس دوران اس نے اچھی طرح گرد و پیش کا جائزہ لیا۔ دُور تک ویرانی تھی۔ واپس آتے ہوئے اس نے لیمپون کو ’’گرین سگنل‘‘ دے دیا۔ بند گاڑی میں دھماکا گونجا۔ گیٹو کو گویا آگے کی طرف زوردار جھٹکا لگا اور وہ اسٹیئرنگ وہیل پر اوندھا ہونے کے بعد ساکت ہوگیا۔ اس کی آدھی کھوپڑی غائب ہو چکی تھی۔
لیمپون فوراً ہی گاڑی سے اُتر آیا۔ گن ابھی تک اس کے ہاتھ میں تھی۔ مینزا نے پہلے اسے گن گاڑی میں ہی چھوڑنے کی ہدایت کی تھی لیکن اب اسے ایک اور مناسب جگہ نظر آ گئی تو اس نے لیمپون کو گن وہاں پھینکنے کی ہدایت کر دی۔ وہ بڑا سا ایک دلدلی گڑھا تھا۔ اس میں کچھ تلاش کرنا تقریباً ناممکن تھا۔ گن اس میں غائب ہوگئی۔
تھوڑے فاصلے پر ایک دوسری خالی کار موجود تھی۔ وہ دونوں اس میں بیٹھے اور تیز رفتاری سے روانہ ہوگئے۔ اس وقت شام کا اندھیرا پھیلنے لگا تھا۔
٭…٭…٭
ڈون پر قاتلانہ حملے سے ایک روز پہلے رات گئے ڈون کا سب سے زیادہ وفادار اور سب سے زیادہ خطرناک آدمی لوکا براسی دُشمن سے ملنے جا رہا تھا۔
وہ پچھلے تین ماہ سے سولوزو کے آدمیوں سے رابطے میں تھا۔ وہ اپنے طور پر نہیں بلکہ ڈون کی ہدایت پر ایسا کر رہا تھا۔ تین ماہ پہلے اس نے ان نائٹ کلبوں میں جانا شروع کیا تھا جو ’’ٹے ٹیگ لیا فیملی‘‘ کی ملکیت تھے۔ ایسے ایک کلب کی ٹاپ کی کال گرل کی رفاقت خرید کر اس نے اپنے ایک خاص مشن کا آغاز کیا تھا۔
اس کال گرل کے ساتھ وقت گزاری کے دوران اس نے دبے دبے لفظوں میں یہ تاثر دیا تھا کہ وہ ڈون کارلیون فیملی کے ساتھ کچھ زیادہ خوش نہیں کیونکہ وہاں اسے اس کی خدمات کا مناسب صلہ نہیں مل رہا تھا اور اسے وہ اہمیت بھی نہیں دی جاتی تھی جس کا وہ مستحق تھا۔ بظاہر اس نے کچھ نشے کی ترنگ میں اور کچھ باتوں کی روانی میں غیرارادی طور پر دل کا غبار نکالا تھا۔
اس واقعے کے چند دن بعد اس نائٹ کلب کا منیجر برونو ٹے ٹیگ لیا خود ہی اس کی میز


آ کر اس سے مل بیٹھا۔ وہ ٹے ٹیگ لیا فیملی کے سربراہ کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا۔ وہ خود براہ راست عورتوں کے دھندے میں ملوث نہیں تھا لیکن اس کے نائٹ کلب میں جو لڑکیاں کورس کی صورت میں ڈانس کرتی تھیں، وہ گویا یہیں کال گرل بننے کی تربیت حاصل کرتی تھیں اور آگے بڑھ جاتی تھیں۔
برونو نے پہلی ملاقات میں ہی براسی سے کافی حد تک کھل کر بات چیت کی۔ اس نے براسی کو اپنی فیملی کے لئے کام کرنے کی پیشکش کر دی۔ ایک ماہ تک اس طرح کی باتیں چلتی رہیں۔ برونو اور براسی دونوں اپنا اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ براسی یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ اس کال گرل کی زلفوں کا اسیر ہو چکا ہے جو کلب سے وابستہ تھی۔ وہ بظاہر اس کی وجہ سے وہاں باقاعدگی سے آنے لگا تھا۔
برونو ایک ایسے بزنس مین کا کردار ادا کر رہا تھا جوکسی بڑی کمپنی کے ایگزیکٹو آفیسر کو توڑنے کی کوشش کر رہا تھا اور اسے بہتر مراعات وغیرہ کی پیشکش کر کے اپنے ہاں آنے کی دعوت دے رہا تھا۔
ایسی ایک ملاقات کے دوران براسی نے ظاہر کیا جیسے وہ تھوڑا سا ڈانواں ڈول ہو رہا ہے۔ اس موقع پر اس نے کہا۔ ’’لیکن ایک بات کان کھول کر سن لو۔ میں کبھی گاڈ فادر ڈون کارلیون کے مدمقابل کھڑا نہیں ہوں گا۔ صرف وہی ایک ایسا شخص ہے جس کی میں بہت عزت کرتا ہوں۔ اس کی طرف سے بس تھوڑا سا صدمہ اسی بات سے پہنچا ہے کہ اپنے بعد بھی وہ کاروبار میں بہرحال اپنے بیٹوں کو ہی آگے لائے گا۔ میری حیثیت یہی رہے گی جو اس وقت ہے۔ یعنی میری طویل خدمات کا کوئی خاص صلہ نہیں ملے گا۔ میرا خیال تھا کہ جب وہ کاروبار سے لاتعلق ہو گا، کم از کم اس وقت تو مجھے بھی اس کے کسی بیٹے کے برابر اہمیت حاصل ہوگی۔‘‘
برونو نئی نسل کا نمائندہ تھا۔ وہ براسی، ڈون، حتیٰ کہ خود اپنے باپ جیسے پرانے یا وضعدار لوگوں کو کچھ زیادہ عقلمند یا ذہین نہیں سمجھتا تھا۔ تاہم احتراماً ان کے سامنے خاموش رہتا تھا۔
اس موقع پر وہ بولا۔ ’’میرے والد کبھی تمہیں ڈون کے مقابل کھڑا کرنا یا تم سے اس کے خلاف کام لینا نہیں چاہیں گے۔ انہیں اس کی ضرورت ہی کیا ہے؟ یہ ایک دُوسرے سے سر پھوڑنے کا زمانہ نہیں ہے۔ سب ایک دوسرے کے ساتھ صلح صفائی سے رہتے ہیں اور اپنا اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔ یہ پرانا قبائلی دور نہیں ہے جب ہر وقت کسی نہ کسی کے ساتھ جنگ میں مصروف رہنے کے بہانے ڈھونڈے جاتے تھے۔ تمہارا معاملہ ایسا ہی ہوگا جیسے کوئی آدمی کسی کمپنی میں نوکری کرتے وقت زیادہ خوش نہیں ہے اور اسے کسی دوسری کمپنی میں اس سے کچھ بہتر نوکری ملتی ہے تو وہ وہاں چلا جاتا ہے…‘‘
براسی نے پُرخیال انداز میں آہستگی سے سر ہلایا اور خاموش رہا۔ برونو نے بغور اس کے چہرے کا جائزہ لیتے ہوئے بات جاری رکھی۔ ’’تم کہو تو میں اپنے والد کے کان میں بات ڈال دوں کہ تم بہتر مواقع کی تلاش میں ہو۔ ہم جیسے لوگوں کے کاروبار میں تم جیسے لوگوں کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔ ہمارا کوئی کاروبار آسان نہیں ہے۔ ہمارے معاملات کو ہموار انداز میں رواں دواں رکھنے کے لئے مضبوط اور سخت جان لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے بارے میں جب بھی تمہارا ذہن آمادہ ہو تو مجھے بتا دینا۔‘‘
’’ویسے تو خیر… میں جہاں ہوں، وہاں بھی ٹھیک ہی ہوں۔‘‘ براسی نے ظاہر کیا جیسے ابھی وہ کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے قاصر ہے۔ چنانچہ بات وہیں کی وہیں رہ گئی۔
درحقیقت اس کا مقصد ٹے ٹیگ لیا فیملی پر یہ ظاہر کرنا تھا کہ وہ لوگ منشیات کا جو کاروبار شروع کرنے جا رہے ہیں وہ اس کے بارے میں جانتا تھا اور اس سلسلے میں ایک فری لانسر کے طور پر اپنی خدمات پیش کر کے کچھ اضافی فائدہ اُٹھانا چاہتا تھا۔ اس طرح درحقیقت وہ سولوزو کے عزائم سے آگاہی حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ’’ڈون نے جس طرح سولوزو کی پیشکش مسترد کی تھی۔ کیا اس کے بعد سولوزو ڈون سے چھیڑ چھاڑ کا کوئی ارادہ رکھتا تھا؟‘‘
یہ سوال خود ڈون کے لئے بھی اہم تھا اور وہ براسی کے ذریعے اس کا جواب حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اگر یہ بات انہیں پہلے سے معلوم ہو جاتی تو وہ سولوزو سے نمٹنے کیلئے بہتر طور پر تیار رہ سکتے تھے لیکن دو ماہ تک جب سولوزو کی طرف سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں ہوا تو براسی نے ڈون کو یہی رپورٹ دی کہ سولوزو نے اس کے انکار کو دل پر نہیں لیا تھا۔ اس نے اس بات پر صبر کر لیا تھا اور اس کا انتقامی کارروائی کا کوئی
ارادہ نظر نہیں آتا تھا۔ تاہم ڈون نے براسی کو یہی ہدایت کی کہ وہ ان لوگوں کے نیٹ ورک میں گھسنے کی کوششیں جاری رکھے لیکن اس سلسلے میں زیادہ گرم جوشی یا اشتیاق نہ دکھائے۔ بس فارغ وقت میں ڈھیلے ڈھالے انداز میں کوشش کرتا رہے۔
ڈون پر فائرنگ سے ایک رات پہلے براسی نائٹ کلب گیا تو برونو فوراً ہی اس کی میز پر آن بیٹھا اور بولا۔ ’’میرا ایک دوست تم سے کچھ بات چیت کرنا چاہتا ہے۔‘‘
’’تو اسے لے آئو۔ میں تمہارے کسی بھی دوست سے بات چیت کے لئے تیار ہوں۔‘‘ براسی نے جواب دیا۔
’’نہیں وہ اس وقت یہاں نہیں آ سکتا۔ وہ تم سے ذرا رازداری سے ملاقات کرنا چاہتا ہے۔‘‘ برونو ٹے ٹیگ لیا نے کہا۔
’’کون ہے وہ؟‘‘ براسی نے دریافت کیا۔
’’بس، میرا ایک دوست ہے۔ وہ تمہارے سامنے کوئی اہم تجویز رکھنا چاہتا ہے۔ تمہیں کوئی پیشکش کرنا چاہتا ہے۔ کیا تم آدھی رات کے بعد یہاں اس سے ملنے آ سکتے ہو؟‘‘
’’یقیناً…‘‘ براسی بولا۔ ’’صحیح وقت اور صحیح جگہ بتا دو۔ میں آجائوں گا۔‘‘
برونو نے ایک لمحے سوچا پھر بولا۔ ’’کلب رات کے پچھلے پہر تقریباً چار بجے بند ہوتا ہے۔ تم اس وقت آ جائو جب ویٹرز سامان سمیٹ کر صفائی کر رہے ہوتے ہیں۔‘‘
براسی سوچے بغیر نہ رہ سکا کہ وہ لوگ اس کی عادات سے واقف ہو چکے تھے۔ شاید انہوں نے اس پر نظر رکھی ہو اور اس کے بارے میں معلومات جمع کی ہوں۔ وہ دن بھر سوتا تھا اور اس کی راتیں جاگتے ہوئے گزرتی تھیں۔ اس کے معمولات کچھ اسی قسم کے سانچے میں ڈھل چکے تھے۔
’’ٹھیک ہے، میں صبح چار بجے دوبارہ آ جائوں گا۔‘‘ اس نے جواب دیا۔
اس نے نائٹ کلب میں کچھ وقت پینے پلانے اور کچھ وقت اس مخصوص کال گرل کی رفاقت میں گزارہ پھر وہاں سے نکل آیا۔ باہر آ کر اس نے ٹیکسی پکڑی اور گھر آ گیا۔
وہ ایک بڑے اور آراستہ و پیراستہ اپارٹمنٹ کے آدھے حصے میں رہتا تھا۔ باقی آدھا حصہ ایک اطالوی فیملی کے پاس تھا۔ براسی کا اس فیملی سے کوئی خاص میل جول نہیں تھا لیکن اس نے مصلحت کے تحت ان کے ساتھ اپارٹمنٹ شیئر کیا ہوا تھا۔ اس طرح اس کے بارے میں تاثر ملتا تھا کہ وہ فیملی والا اور معزز آدمی ہے جبکہ اسے ان مسائل سے کوئی سروکار نہیں تھا جو فیملی والوں کو عموماً درپیش ہوتے ہیں۔ فیملی کے ساتھ اپارٹمنٹ شیئر کرنے کی وجہ سے اسے یہ خطرہ بھی کم محسوس ہوتا تھا کہ کبھی وہ اچانک گھر پہنچے تو کوئی گھات لگائے اس کے انتظار میں بیٹھا ہو۔
اسے یقین تھا کہ برونو اسے جس شخص سے ملوانا چاہ رہا تھا وہ سولوزو تھا۔ اگر معاملات صحیح انداز میں آگے بڑھتے تو اسے آسانی سے سولوزو کے عزائم کا اندازہ ہو سکتا تھا اور وہ اتنی اہم رپورٹ ’’کرسمس کے تحفے‘‘ کے طور پر ڈون کو پیش کر سکتا تھا۔
اپنے بیڈروم میں پہنچ کر براسی نے بیڈ کے نیچے سے ایک ٹرنک نکالا اور اس میں سے ایک بلٹ پروف جیکٹ نکال کر کپڑوں کے نیچے پہن لی۔ اس نے ڈون کو فون کر کے آج کی متوقع ملاقات کے بارے میں بتانا چاہا لیکن پھر اسے خیال آیا کہ ڈون اس قسم کی باتیں فون پر کرنا پسند نہیں کرتا۔ ویسے بھی اس نے یہ مشن انتہائی خفیہ انداز میں اس کے سپرد کیا تھا۔ ہیگن اور ڈون کے بیٹوں تک کو اس کے بارے میں کچھ پتا نہیں تھا اور نہ ہی ڈون چاہتا تھا کہ انہیں پتا چلے۔ چنانچہ براسی نے فون کرنے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔ ویسے بھی معاملہ کچھ آگے بڑھنے اور کوئی کام کی بات معلوم ہونے کے بعد اسے رپورٹ دینا زیادہ اچھا معلوم ہوتا۔
براسی نے ریوالور بھی ساتھ لے لیا۔ یہ لائسنس والا ریوالور تھا اور اس کا لائسنس شاید شہر کا سب سے مہنگا لائسنس تھا۔ اسے حاصل کرنے کے لئے دس ہزار ڈالر رشوت دی گئی تھی تاہم اس کی وجہ سے براسی کو ذرا اطمینان رہتا تھا کہ کبھی راستے میں اچانک چیکنگ کے دوران پولیس اس کا ریوالور دیکھ بھی لیتی تو کوئی مسئلہ کھڑا نہ ہوتا۔
آج رات اس نے لائسنس والی گن اس لئے ساتھ لی تھی کہ فی الحال اسے اس کو استعمال کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔ اس کا خیال تھا کہ ابھی وہ صرف سولوزو کی بات سنے گا اور اگر ڈون کے بارے میں اس کے عزائم کچھ خطرناک نظر آئے پھر بھی آج رات اس کا کام تمام نہیں کرے گا بلکہ ڈون کو رپورٹ دینے کے بعد اس کے حکم کے مطابق قدم اُٹھائے گا۔ اگر سولوزو کا پتا صاف کرنے کا حکم ملا تو وہ اسے کسی ایسی گن سے ٹھکانے لگائے گا جس کا
سراغ لگانا ممکن نہ ہو۔
یہی سب کچھ سوچتا ہوا وہ وقت مقررہ سے کچھ پہلے دوبارہ نائٹ کلب جا پہنچا۔ اس وقت وہاں باہر دروازے پر ڈور مین بھی موجود نہیں تھا۔ ہیٹ اور اوورکوٹ وغیرہ سنبھالنے والی لڑکی بھی جا چکی تھی۔ اندر صرف برونو موجود تھا جو اسے کلب کے ایک گوشے میں واقع بار کی طرف لے گیا۔ وہاں اس وقت ویرانی تھی اور روشنی بھی کم تھی۔
براسی ایک اسٹول پر بیٹھ گیا اور برونو کسی بار ٹینڈر کی طرح کائونٹر کے عقب میں چلا گیا۔ اس نے براسی کے لئے ایک ڈرنک تیار کی مگر براسی نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ وہ پہلے ہی کافی پی چکا ہے۔ اس نے سگریٹ سلگا لی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ یہ بھی عین ممکن ہے، اس کا متوقع ملاقاتی سولوزو نہ ہو… مگر چند لمحے بعد اس نے کلب کے ایک اندھیرے گوشے سے سولوزو کو نمودار ہوتے دیکھا۔
سولوزو نے آ کر اس سے ہاتھ ملایا اور اس کے برابر والے اسٹول پر بیٹھ گیا۔ برونو نے ڈرنک اس کے سامنے رکھ دی۔ اس نے سر کے اشارے سے شکریہ ادا کیا اور براسی سے مخاطب ہوا۔ ’’کیا تم جانتے ہو، میں کون ہوں؟‘‘
براسی اثبات میں سر ہلاتے ہوئے مربیانہ انداز میں مسکرایا۔ اسے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی تھی کہ چوہا بل سے باہر آ گیا تھا۔ اس شخص کا کام تمام کرتے وقت اسے مزید خوشی ہوتی جو اپنے آپ کو بڑا خطرناک لڑاکا سمجھتا تھا۔
’’کیا تمہیں معلوم ہے، میں تم سے کیا فرمائش کرنے والا ہوں؟‘‘ سولوزو نے ایک اور سوال کیا۔
اس بار براسی نے نفی میں سر ہلایا۔
’’میرے پاس بڑے کاروبار کا ایک منصوبہ تیار ہے۔‘‘ سولوزو بولا۔ ’’اس میں اُوپر کی سطح کے لوگوں کیلئے بڑی دولت ہے۔ میں پہلی ہی کھیپ کی کامیابی سے منتقلی پر تمہیں کم از کم پچاس ہزار ڈالر کی تو گارنٹی دے سکتا ہوں۔ یہ صرف تمہارا حصہ ہوگا۔ میں ہیروئن کی بات کر رہا ہوں۔ آنے والا دور اسی کا ہے۔‘‘
’’تم نے مجھے کیوں بلوایا ہے؟‘‘ براسی نے انجان بنتے ہوئے سوال کیا۔ ’’کیا تم چاہتے ہو کہ میں اس سلسلے میں ڈون سے بات کروں؟‘‘
سولوزو دانت پیس کر بولا۔ ’’تمہارے ڈون سے میں پہلے ہی بات کر چکا ہوں۔ وہ اس دھندے میں باکل ہاتھ نہیں ڈالنا چاہتا۔ بہرحال، میرے لئے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں اس کے تعاون کے بغیر بھی اپنے منصوبوں پر عمل کر سکتا ہوں تاہم مجھے اس سارے آپریشن کی نگرانی اور اس کی حفاظت کے لئے ایک مضبوط اور طاقتور آدمی کی ضرورت ہے جو اس قسم کے کاموں کو مکمل کرانا اور راستے میں آنے والی رُکاوٹوں کو دُور کرنا جانتا ہو۔ مجھے پتا چلا ہے کہ تم اپنی ’’فیملی‘‘ کے لئے خدمات تو بدستور انجام دے رہے ہو لیکن کچھ زیادہ خوش نہیں ہو۔ تم چاہو تو اِدھر سے اُدھر ہو سکتے ہو۔‘‘
’’دیکھنا پڑے گا۔‘‘ براسی نے کندھے اُچکائے۔ ’’اگر پیشکش اچھی ہو تو سوچا جا سکتا ہے۔‘‘
سولوزو گہری نظر سے اس کے چہرے کا جائزہ لے رہا تھا۔ پھر وہ گویا دل ہی دل میں کسی فیصلے پر پہنچتے ہوئے بولا۔ ’’تم چند دن میری پیشکش پر غور کر لو۔ پھر ہم دوبارہ بات کر لیں گے۔‘‘
اس نے مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھایا لیکن براسی نے ظاہر کیا کہ اس نے سولوزو کو ہاتھ بڑھاتے نہیں دیکھا۔ وہ اس دوران دوسری سگریٹ سلگانے لگا۔ برونو نے اس کی سگریٹ سلگانے کیلئے لائٹر روشن کیا تھا۔ اس دوران براسی کافی حد تک مطمئن ہو چکا تھا کہ اسے کسی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا نہیں ہے۔ وہ گویا کسی حد تک اپنے آپ کو ڈھیلا چھوڑ چکا تھا۔
اچانک برونو نے ایک عجیب حرکت کی۔ اس نے لائٹر کائونٹر پر ہی گرا دیا۔ براسی کا ہاتھ کائونٹر پر ٹکا ہوا تھا۔ اچانک ہی برونو کے ہاتھ میں نہ جانے کہاں سے ایک خنجر آ گیا اور براسی کے اس ہاتھ میں پیوست ہوگیا جو کائونٹر پر ٹکا ہوا تھا۔ ہاتھ سے گزر کر خنجر کائونٹر میں گڑ گیا۔ براسی کا ہاتھ کائونٹر سے چپک کر رہ گیا۔
اس کے باوجود براسی شاید اپنا ہاتھ چر جانے کی پروا کئے بغیر اسے کائونٹر سے کھینچ لیتا مگر ہوا یہ کہ برونو نے اس کا وہ بازو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ اس کا دُوسرا بازو اسی لمحے سولوزو نے اس سے بھی زیادہ مضبوطی سے پکڑ لیا۔ تاہم براسی ایک طاقتور آدمی تھا۔ وہ اس حالت میں بھی ان کے قابو میں آنے والا نہیں تھا۔ عین ممکن تھا کہ وہ ایک ہاتھ میں خنجر پیوست ہونے کے باوجود اپنے آپ کو ان کی گرفت سے چھڑا لیتا مگر اسی اثنا میں ایک شخص اس کے عقب میں نمودار
اور اس نے براسی کی گردن میں نائیلون کے باریک تار کا پھندا ڈال دیا جو تیزی سے تنگ ہوتا چلا گیا۔
براسی کی آنکھیں حلقوں سے باہر آ گئیں۔ اس کے چہرے اور گردن کی رگیں اس بُری طرح پھول گئیں کہ اس حصے پر گویا ایک جال سا اُبھر آیا۔ پھندا ڈالنے والے شخص نے اتنی پھرتی اور طاقت سے اسے کسا کہ نائیلون کا تار گویا براسی کی گردن میں اُتر گیا۔ چند سیکنڈ بعد وہ تار نظر ہی نہیں آ رہا تھا۔ براسی کا چہرہ نیلا پڑ گیا۔
جلد ہی اس کی مزاحمت دم توڑ گئی اور ہاتھ پائوں ڈھیلے پڑنے لگے۔ اس کے دائیں بائیں برونو اور سولوزو یوں دلچسپی سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے جیسے سائنس لیبارٹری میں نو عمر طالب علم اپنے کئے ہوئے تجربے کے نتائج کا مشاہدہ کر رہے ہوں۔
دھیرے دھیرے براسی کی ٹانگیں مڑ گئیں اور وہ فرش کی طرف گرتا چلا گیا۔ برونو اور سولوزو نے اس کے بازو چھوڑ دیئے مگر پیچھے سے اس کی گردن میں پھنڈا ڈالنے والے شخص نے نائیلون کی ڈوری اس وقت تک نہیں چھوڑی جب تک براسی کو فرش پر گر کر ساکت ہوئے چند لمحے نہیں گزر گئے۔ جب اسے یقین ہوگیا کہ براسی مر چکا ہے تب وہ پھندے کی ڈوری چھوڑ کر سیدھا ہوگیا۔
’’میں چاہتا ہوں کہ اس کی لاش دریافت نہ ہو سکے۔‘‘ سولوزو نے پُرسکون لہجے میں کہا اور گھوم کر نپے تلے قدم اُٹھاتا اندھیرے میں غائب ہوگیا۔
٭…٭…٭
جس شام ڈون پر فائرنگ ہوئی، اس سے اگلا دن اس کی فیملی کیلئے بے پناہ مصروفیت کا دن تھا۔ مائیکل فون پر مصروف رہا اور ضروری پیغامات سنی کو دیتا رہا۔ ہیگن کسی ایسے آدمی کی تلاش میں رہا جس کے ذریعے سولوزو کے ساتھ میٹنگ کے انتظامات کئے جا سکیں اور جس کی شخصیت اس کام کے سلسلے میں دونوں پارٹیوں کے لئے قابل قبول ہو۔ اب کوئی اور ہی آدمی ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں پارٹیوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھا سکتا تھا۔
ایسا لگتا تھا کہ سولوزو اب بہت محتاط ہوگیا تھا۔ وہ کہیں روپوش تھا۔ پیش منظر سے بالکل غائب ہو گیا تھا۔ شاید اسے پتا چل گیا تھا کہ مینزا اور ٹیسو کے آدمی شہر میں پھیل گئے تھے اور اس کا سراغ پانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ٹے ٹیگ لیا فیملی کے خاص خاص آدمی بھی روپوش ہوگئے تھے۔ سنی کو اس بات کی توقع تھی۔ دُشمن کو یہ ابتدائی احتیاطی تدبیر تو بہرحال کرنی ہی تھی۔
مینزا اس دوران گیٹو کو ٹھکانے لگانے کے مشن کے سلسلے میں غائب تھا جبکہ ٹیسو کو براسی کا سراغ لگانے کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔ اس کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ وہ ڈون پر فائرنگ کے واقعے سے پچھلی رات گھر سے نکلا تھا اور پھر واپس نہیں آیا تھا۔ یہ ایک برا شگون تھا لیکن سنی یہ تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھا کہ براسی غداری کر سکتا تھا اور نہ ہی اسے اس بات پر یقین آ رہا تھا کہ براسی کو کوئی گھات لگا کر دھوکے سے ہلاک کر سکتا تھا۔
ماما کارلیون یعنی ڈون کی بیوی اور سنی وغیرہ کی ماں شہر کے مرکزی علاقے میں ’’فیملی‘‘ کے ایک خیر خواہ گھرانے کے ساتھ مقیم تھی تاکہ اسے وہاں سے ڈون کی خبرگیری کے لئے اسپتال آنے جانے میں آسانی رہے۔ اسپتال وہاں سے قریب تھا۔ اس کی بیٹی کونی بھی وہیں پہنچ چکی تھی اور اسی کے ساتھ مقیم تھی۔
ڈون کے داماد، رزی نے بھی اس موقع پر اپنی خدمات پیش کی تھیں کہ اگر وہ کسی کام آ سکتا ہے، تو حاضر ہے مگر سنی نے اسے کوئی زحمت نہیں دی تھی اور یہی کہا تھا کہ وہ اپنے کاروبار کی طرف دھیان رکھے۔ ڈون نے اب اسے مین ہٹن کے ایک ایسے علاقے میں کام شروع کرا دیا تھا جہاں اطالویوں کی آبادی زیادہ تھی۔ یہ بلا اجازت بک میکنگ کا کام تھا۔ وہ گھوڑوں کی ریس اور اس قسم کی دوسری چیزوں پر شرطیں بک کرتا تھا۔ کام کی نوعیت سٹے کی سی تھی۔ رزی کا یہ کام بھی اس کے پہلے کاروبار کی طرح لشٹم پشٹم ہی چل رہا تھا۔
فریڈ ابھی تک مسکن دوائوں کے زیراثر تھا۔ وہ باپ کے گھر میں، اپنے کمرے میں آرام کر رہا تھا۔ سنی اور مائیکل اس کی مزاج پرسی کیلئے گئے تھے۔ سنی اس کے چہرے کی زردی اور مجموعی حالت دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔
وہ جب اس کی مزاج پرسی کے بعد اس کے کمرے سے نکلے تھے تو سنی نے بڑی حیرت سے مائیکل سے کہا تھا۔ ’’کمال ہے۔ اس کی حالت دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے جیسے اسے پاپا سے بھی زیادہ گولیاں لگی ہیں۔‘‘
مائیکل کندھے اُچکا کر رہ گیا۔ اس نے میدان جنگ میں بھی بعض فوجیوں کی یہی حالت دیکھی


تھی لیکن وہ زیادہ تر ایسے لوگ تھے جو بالکل عام سے سویلین ہوا کرتے تھے۔ جنگ کے دوران ضرورت پڑنے پر انہیں رضاکارانہ یا جبری طور پر فوج میں بھرتی کرلیا گیا تھا اور مختصر تربیت کے بعد میدان جنگ میں بھیج دیا گیا تھا۔
جنگ کے ہولناک تجربوں سے گزرتے ہوئے اور بعض ناقابل یقین مناظر دیکھ کر ان کے اعصاب جواب دے جاتے تھے۔ مگر مائیکل کو کم از کم فریڈ کے بارے میں یہ توقع نہیں تھی۔ بچپن اور لڑکپن میں وہ اپنے بڑے اور چھوٹے، دونوں بھائیوں سے زیادہ سخت جان اور لڑاکا تھا مگر مسئلہ یہ بھی تھا کہ وہ باپ کے سامنے بہت زیادہ سعادت مند تھا اور آنکھیں بند کر کے بس اس کے اشاروں پر چلتا تھا۔ اس کی اپنی کوئی رائے نہیں تھی۔ اس کی تمام تر سعادت مندی کے باوجود ڈون کا اسے کاروبار میں کوئی بڑی پوزیشن دینے کا ارادہ نہیں تھا کیونکہ اس کے خیال میں اس کے اعصاب میں وہ مضبوطی اور مزاج میں وہ سفاکی نہیں تھی جو ’’فیملی‘‘ کے معاملات کو چلانے کے لئے ضروری تھی۔
اس سہ پہر، ہالی وڈ سے جونی کا فون بھی آیا۔ مائیکل نے اس کی فرمائش پر سنی سے اس کی بات کرائی۔ وہ فلم کے آخری مراحل میں پھنسا ہوا تھا مگر ڈون کی عیادت کے لئے آنا چاہتا تھا۔
’’اس کی ضرورت نہیں جونی…!‘‘ سنی نے اسے سمجھانے والے انداز میں کہا۔ ’’تم پاپا سے مل تو نہیں سکو گے ان کی حالت ایسی نہیں کہ ڈاکٹر تمہیں ان سے ملنے کی اجازت دے سکیں۔ اس کے علاوہ تمہاری وہ فلم تکمیل کے قریب ہے جس میں کام کرنا تمہارا خواب تھا اور جس میں تمہیں کاسٹ کرانے کے لئے خاصے پاپڑ بیلے گئے ہیں۔ ہو سکتا ہے اس موقع پر تمہارا ڈون کی عیادت کے لئے آنا ٹھیک نہ رہے۔ شاید اس سے میڈیا کے لوگوں کو تمہارے بارے میں کوئی اسکینڈل بنانے کا موقع مل جائے۔ اس بات کو پاپا ہرگز پسند نہیں کریں گے۔ پاپا کو گھر آ جانے دو۔ پھر تم ضرور ان کی عیادت کیلئے آ جانا۔ میں بہرحال تمہارے جذبات ان تک پہنچا دوں گا۔‘‘ فون بند کرنے کے بعد وہ مائیکل کی طرف مڑ کر بولا۔ ’’پاپا یقیناً یہ جان کر خوش ہوں گے کہ جونی لاس اینجلس سے فوری طور پر فلائٹ پکڑ کر ان کی عیادت کے لئے آنا چاہ رہا تھا۔‘‘
چند منٹ بعد کچن میں عام فون پر مائیکل کیلئے کال آئی۔ مینزا کا ایک آدمی مائیکل کو بلانے آیا۔ مائیکل نے جا کر فون سنا۔ دُوسری طرف ’کے‘ تھی۔
’’تمہارے والد اب کیسے ہیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔ اس کے لہجے میں اضطراب اور تنائو تھا۔
مائیکل کو احساس تھا کہ اخبارات میں اس کے باپ کے بارے میں جو خبریں چھپی تھیں، انہوں نے اس کا کوئی اچھا امیج نہیں بنایا تھا۔ اخبارات نے اس کیلئے ’’گروہ کا سرغنہ‘‘ اور ’’ناجائز دھندوں کی سرپرستی کرنے والا‘‘ جیسے الفاظ استعمال کئے تھے۔ مائیکل کو اچھی طرح اندازہ تھا کہ ’کے‘ ان باتوں سے پریشان تھی۔ اس کے لئے ان باتوں پر یقین کرنا مشکل تھا۔
’’وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔‘‘ مائیکل نے جواب دیا۔
’’تم جب انہیں دیکھنے اسپتال جائو گے تو کیا میں بھی تمہارے ساتھ چل سکتی ہوں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
مائیکل کو یاد آیا، اس نے خود ہی ’کے‘ کو بتایا تھا کہ اس کا خاندان قدامت پرست اور روایت پسند تھا۔ ان کے ہاں ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کو بہت اہمیت دی جاتی تھی کہ کون کس کے دُکھ، بیماری کے موقع پر مزاج پرسی کے لئے گیا؟ کس نے کس کی شادی بیاہ کی تقریب میں شرکت کی؟ کس نے کیا تحفہ دیا؟
ایک لمحے کی خاموشی کے بعد مائیکل بولا۔ ’’تم ایک بہت معزز اور معروف خاندان کی لڑکی ہو۔ اگر اخبار والوں کو پتا چل گیا کہ اس خاندانی پس منظر کی لڑکی میرے والد کی عیادت کے لئے آئی تھی تو ’’ڈیلی نیوز‘‘ کے صفحہ نمبر تین پر تفصیلی رپورٹ چھپ جائے گی کہ ایک معزز امریکی خاندان کی لڑکی بھی مافیا چیف کی عیادت کرنے پہنچ گئی۔ کیا تمہارے والدین اس بات کو پسند کریں گے؟‘‘
’’میرے والدین ’’ڈیلی نیوز‘‘ نہیں پڑھتے۔‘‘ ’کے‘ نے جواب دیا پھر ایک لمحے کی خاموشی کے بعد بولی۔ ’’مائیکل! تم ٹھیک ہو نا؟ تمہیں تو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں ہے نا؟‘‘
مائیکل دھیرے سے ہنس دیا۔ ’’مجھے تو فیملی کا بے ضرر فرد سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے کوئی مجھے ٹھکانے لگانے کی ضرورت محسوس نہیں کرے گا۔ ویسے بھی اب اس قسم کے مزید کسی واقعے کا امکان نہیں ہے۔ یوں سمجھو، یہ ایک طرح کا حادثہ تھا۔ جب ملاقات ہوگی تو میں تفصیل سے
تمہیں سب کچھ بتا دوں گا۔‘‘
’’اور ملاقات کب ہوگی؟‘‘ ’کے‘ نے فوراً پوچھا۔
مائیکل نے ایک لمحے سوچا۔ پھر کہا۔ ’’آج رات میں تمہارے ہوٹل آ جاتا ہوں۔ کھانا اکٹھے کھائیں گے۔ پھر میں پاپا کو دیکھنے اسپتال چلا جائوں گا۔ میں بھی گھر میں بند رہ کر فون سنتے سنتے بور ہوگیا ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے، میں انتظار کروں گی۔‘‘ ’کے‘ کے لہجے میں بشاشت آ گئی۔
مائیکل جب فون بند کر کے واپس آفس میں پہنچا تو مینزا بھی آن پہنچا۔ ٹیسو وہاں پہلے ہی سے موجود تھا۔ سنی نے معنی خیز سے لہجے میں مینزا سے پوچھا۔ ’’تم نے اس کا بندوبست کر دیا؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ مینزا نے اطمینان سے جواب دیا۔ ’’اب تم اس کی شکل نہیں دیکھو گے۔‘‘
تب مائیکل کو احساس ہوا کہ وہ گیٹو کے بارے میں بات کر رہے تھے اور مینزا کے جواب کا مطلب یہ تھا کہ گیٹو کا کام تمام ہو چکا تھا۔ اس احساس سے مائیکل کے جسم میں سرد سی لہر دوڑ گئی۔
سنی نے ہیگن کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے پوچھا۔ ’’تمہیں سولوزو والے معاملے میں کچھ کامیابی ہوئی؟‘‘
ہیگن نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔ ’’لگتا ہے ہم سے مذاکرات کرنے کے سلسلے میں اس کا جوش خروش ٹھنڈا پڑ گیا ہے۔ وہ معاہدہ کرنے کے لئے اب کچھ زیادہ بے تاب معلوم نہیں ہوتا یا پھر شاید وہ بہت زیادہ احتیاط کر رہا ہے کہ ہمارا کوئی آدمی کہیں اسے ہمارے حکم کے بغیر ہی نہ ڈھونڈ کر مار ڈالے۔ اس کے علاوہ مجھے ابھی تک ذرا اُونچے درجے کا کوئی ایسا آدمی نہیں مل سکا جو ہمارے اور سولوزو کے درمیان رابطے اور ثالثی کا کام کر سکے اور جس پر سولوزو کو بھی اعتماد ہو۔ بہرحال، سولوزو کو ہم سے بات تو کرنا ہی پڑے گی۔ خاص طور پر اس لئے کہ اس کی توقع کے برعکس ڈون زندہ بچ گیا ہے۔‘‘
’’وہ بہت شاطر اور چالاک آدمی ہے۔‘‘ سنی بولا۔ ’’فیملی کو شاید پہلی بار ایسے شاطر، چالاک اور خطرناک آدمی سے واسطہ پڑا ہے۔‘‘
’’ہاں… اس میں کوئی شک نہیں۔‘‘ ہیگن بولا۔ ’’بہرحال مجھے اُمید ہے کہ کل تک میں رابطے کا کوئی آدمی تلاش کرنے اور مذاکرات کا کوئی پروگرام طے کرنے میں کامیاب ہو جائوں گا۔‘‘
اس لمحے مینزا کے ایک آدمی نے دروازے پر دستک دی اور اجازت پا کر اندر آ گیا۔ وہ مینزا سے مخاطب ہوا۔ ’’ابھی ابھی ریڈیو پر مقامی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ پولیس کو گیٹو کی لاش ملی ہے۔ وہ اپنی کار میں مردہ پایا گیا ہے۔‘‘
’’تمہیں اس بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔‘‘ مینزا نے کہا۔ اس کا آدمی اپنی دانست میں بہت بڑی اور اہم خبر لے کر آیا تھا۔ وہ اس سلسلے میں مینزا کی بے نیازی دیکھ کر ایک لمحے کے لئے حیران نظر آیا لیکن پھر سر جھٹک کر واپس چلا گیا۔
کمرے میں موجود افراد نے دوبارہ اس طرح بات چیت شروع کر دی جیسے ان کی گفتگو میں کوئی مداخلت نہیں ہوئی تھی۔ سنی نے ہیگن سے پوچھا۔ ’’پاپا کی حالت میں کوئی تبدیلی آئی؟‘‘
’’ان کی حالت خطرے سے باہر ہے لیکن وہ کم از کم دو دن بعد بات چیت کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔‘‘ ہیگن نے جواب دیا۔ ’’تب شاید وہ ہمیں آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں کچھ ہدایات دے سکیں۔ تب تک ہمیں کوشش کرنی ہے کہ سولوزو کو مزید کوئی اشتعال انگیز قدم اُٹھانے سے باز رکھا جائے۔ اسی لئے میں اسے پیغام بھجوانا چاہتا ہوں کہ تم اس سے بات چیت کیلئے تیار ہو۔‘‘
’’اس دوران مینزا اور ٹیسو اسے تلاش کرتے رہیں گے۔‘‘ سنی غرایا۔ ’’شاید قسمت ہمارا ساتھ دے اور ہم سارا جھگڑا طے کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔‘‘
’’سولوزو کو اندازہ ہے کہ اگر وہ اس وقت مذاکرات کی میز پر آیا تو شاید اسے زیادہ باتیں ہماری ماننی پڑیں۔‘‘ ہیگن بولا۔ ’’اس لئے وہ وقت گزاری کر رہا ہے۔ مہلت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس دوران شاید وہ دوسری ’’فیملیز‘‘ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہو تاکہ بعد میں اگر ڈون ہمیں اس سے بدلہ لینے کا حکم دے تب بھی ہمیں اس کو انجام تک پہنچانے میں دُشواری پیش آئے یا شاید ہم اس حکم پر عملدرآمد کر ہی نہ سکیں۔‘‘
اس لمحے مائیکل نے سنی کے چہرے پر غیظ و غضب کے آثار نمودار ہوتے دیکھے۔ اس کی آنکھیں گویا دہکنے لگیں۔ مائیکل نے ابھی تک اسے اتنے غصّے میں نہیں دیکھا تھا۔ تاہم جب وہ بولا تو اس کی آواز محض سرسراتی ہوئی تھی۔ ’’مجھے ان ’’فیملیز‘‘ کی ذرّہ بھر بھی پروا نہیں ہے۔ ان کے حق میں بہتر یہی ہوگا کہ جب
سولوزو پر جھپٹنے کا موقع ملے تو وہ بیچ میں نہ آئیں۔‘‘
اسی اثنا میں کچن کی طرف سے کچھ شور کی سی آوازیں سنائی دیں۔ وہاں مینزا کے آدمی کھانے پکانے میں مصروف تھے۔ مینزا اُٹھ کر دیکھنے گیا کہ معاملہ کیا ہے۔ (جاری ہے)