God Father | Episode 8

492
جب مینزا کچن سے واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک بلٹ پروف جیکٹ تھی۔ سنی اور ہیگن اس جیکٹ کو اچھی طرح پہچانتے تھے۔ وہ براسی کی جیکٹ تھی جسے وہ بہت ہی خاص موقعوں پر باہر جاتے وقت لباس کے نیچے پہنتا تھا۔ اس جیکٹ کے اندر درمیانے سائز کی ایک مردہ مچھلی پھنسی ہوئی تھی۔
مینزا سپاٹ سے لہجے میں بولا۔ ’’یہ بلٹ پروف جیکٹ چند منٹ پہلے ہمارے علاقے کے قریب پڑی پائی گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سولوزو کو اپنے مخبر اورہمارے غدار گیٹو کے انجام کی خبر مل گئی ہے۔ اس کے جواب میں اس نے یہ جیکٹ ہمارے لیے بھجوائی ہے۔‘‘
ٹیسو نے بھی تقریباً سپاٹ لہجے میں کہا۔ ’’اب ہمیں کم از کم یہ معلوم ہوگیا کہ براسی کہاں ہے۔ اب ہمیں اس کے انتظار کی الجھن میں مبتلا رہنے کی ضرورت نہیں۔‘‘
سنی نے سگار کا ایک کش لیا اور مشروب کا ایک گھونٹ بھرا۔ اس کے چہرے پر سرخی تھی مگر وہ کچھ بولا نہیں۔ مائیکل کی آنکھیں قدرے پھیلی ہوئی تھی۔ بلٹ پروف جیکٹ میں پھنسی ہوئی مچھلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔‘‘ اس کا مطلب کیا ہے؟‘‘
ہیگن بولا۔ ’’یہ سسلی کے باشندوں کا ایک مخصوص پیغام بھیجنے کا انداز ہے۔ یہ مچھلی اس بات کی علامت ہے کہ براسی کو ہلاک کر کے سمندر کی تہہ میں پہنچا دیا گیا ہے جہاں غالباً اب تک اس کی لاش مچھلیوں کی خوراک بن چکی ہوگی۔‘‘
ہیگن گو کہ سسلی کا نہیں تھا مگر وہ اس بات سے واقف تھا…!
٭…٭…٭
مائیکل اس رات جب اپنی دوست اور ’’غیر رسمی‘‘ منگیتر ’کے‘ سے ملنے شہر روانہ ہوا تو اس کا دل بجھا ہوا تھا۔ مینزا کے دو آدمی اسے گاڑی میں اس ہوٹل کے قریب پہنچانے کے لیے روانہ ہوئے تھے جہاں ’کے‘ ٹھہری ہوئی تھی۔ وہ اس بات کا خیال رکھ رہے تھے کہ ان کا تعاقب تو نہیں کیا جارہا؟ یہی چیک کرنے کے لیے وہ پہلے گاڑی کو ادھر ادھر گھماتے رہے۔ جب انہیں اطمینان ہوگیا تب انہوں نے صحیح راستہ اختیار کیا۔
مائیکل نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ ’’فیملی‘‘ کے سنگین حالات میں اس حد تک ملوث ہوجائے گا۔ گو ابھی تک اس نے بہ ذات خود فون اٹینڈ کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا تھا لیکن اس کے سامنے بہرحال تمام اہم باتیں ہورہی تھیں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ ’’فیملی‘‘ کے خفیہ معاملات میں شریک ہوچکا ہے۔ یہ احساس اسے مضطرب بھی کررہا تھا اور وہ اپنے آپ کو پژمردہ سا بھی محسوس کررہا تھا۔
وہ ’کے‘ کے معاملے میں بھی دل ہی دل میں ایک ہلکے سے احساس جرم کا شکار تھا۔ اس نے ’کے‘ کو اپنی فیملی کے متعلق صحیح طور پر کچھ زیادہ نہیں بتایا تھا۔ اگر کچھ باتوں کی طرف اشارے بھی دیئے تھے تو وہ مذاق کے سے انداز میں دیئے تھے جن سے ’’فیملی‘‘ کی اصلی تصویر ابھر کر سامنے نہیں آتی تھی۔ بس کچھ ایسا ہی لگتا تھا جیسے وہ مہم جو اور ذرا دلیر قسم کے لوگ تھے جیسے عام طور پر بعض میکسیکن جو دیہی ماحول کی فلموں میں دکھائے جاتے تھے۔
اپنے باپ پر فائرنگ کے واقعے کے بارے میں بھی اس نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ وہ ایک قسم کا حادثہ تھا۔ لیکن اب حالات سے رفتہ رفتہ کچھ اور ہی تصویر ابھر کر سامنے آرہی تھی۔ اس نے تو ’کے‘ سے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ اب مزید کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن واقعات بتا رہے تھے کہ ابھی تو بات شروع ہوئی تھی۔ آگے نہ جانے کیا کچھ ہونا تھا! وہ کب تک ’کے‘ کے سامنے تلخ اور سنگین حقائق کو مبہم لفظوں کے پردوں میں لپیٹ سکتا تھا؟ یہ اس کی فطرت کے بھی خلاف تھا۔ وہ بنیادی طور پر ایک راست گو نوجوان تھا۔ زیادہ تر سچ ہی بولتا تھا اور پھر جسے وہ زندگی کی ساتھی بنانے کا ارادہ رکھتا تھا، اسے بھلا کیسے اندھیرے میں رکھ سکتا تھا؟
دوسری طرف مسئلہ یہ بھی تھا کہ اس مرحلے پر وہ اپنی فیملی سے لاتعلقی بھی اختیار نہیں کرسکتا تھا۔ وہ بحران میں ان کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ بلکہ حقیقت یہ تھی، اسے ان معاملات میں اپنا بے ضرر سا کردار اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ اس کے بھائی اور ہیگن کا رویہ اس کے ساتھ کچھ ایسا تھا جیسے وہ بے چارہ کچھ کرنے کے قابل نہیں ہے۔ شریف، نرم مزاج اور ڈرپوک سا آدمی تھا، اس لیے صرف فون سننے پر بٹھا دیا گیا تھا۔ ان کی نظر میں گویا اس بات کی بھی کوئی اہمیت نہیں تھی کہ اسے میدان جنگ میں شجاعت کے کارنامے انجام دینے پر تمغے دیئے گئے
تھے۔ شاید ’’فیملی‘‘ کی سرگرمیوں میں نادیدہ تمغے حاصل کرنا میدان جنگ میں تمغے حاصل کرنے سے زیادہ مشکل تھا!
انہی سوچوں میں الجھا، وہ جب ہوٹل میں داخل ہوا تو ’کے‘ لابی میں ہی اس کی منتظر تھی۔ انہوں نے کھانا اکٹھے کھایا۔ کھانے کے بعد کافی پینے کے دوران ’کے‘ نے پوچھا۔ ’’تم اپنے والد کو دیکھنے اسپتال کب جائو گے؟‘‘
مائیکل گھڑی دیکھتے ہوئے بولا۔ ’’ویسے تو ملاقات کا وقت ساڑھے آٹھ بجے ختم ہوجاتا ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ اس وقت وہاں جائوں جب سب لوگ رخصت ہوچکے ہوں۔ پاپا ایک پرائیویٹ اسپتال میں پرائیویٹ کمرے میں ہیں۔ ان کی دیکھ بھال کے لیے نرسیں بھی خاص طور پر الگ مقرر کی گئی ہیں۔ اس لیے امید یہی ہے کہ بے وقت جانے پر بھی کوئی مجھے نہیں روکے گا اور میں کچھ دیر پاپا کے پاس بیٹھ سکوں گا لیکن میرا خیال ہے پاپا ابھی بات کرنے کے قابل نہیں ہوں گے بلکہ شاید انہیں تو پتا بھی نہ چل سکے کہ میں ان کے پاس آیا تھا… لیکن بہرحال مجھے جانا تو ہے۔‘‘
’کے‘ بولی۔ ’’مجھے تمہارے پاپا کے بارے میں سوچ کر اتنا دکھ ہورہا ہے۔ کس بے دردی سے انہیں گولیاں مار دی گئیں۔ میری دعا ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہوجائیں۔ میں نے تمہاری بہن کی شادی کے موقع پرا نہیں دیکھا تھا۔ وہ اتنے اچھے، مہذب اور شائستہ انسان لگ رہے تھے۔ اخبارات ان کے بارے میں جو کچھ چھاپ رہے ہیں، مجھے تو اس پر یقین نہیں آرہا۔‘‘
’’تمہیں یقین کرنا بھی نہیں چاہیے…‘‘ غیر ارادی طور پر مائیکل کے منہ سے نکلا۔ وہ ایک بار پھر اس کے سامنے سچ بولتے بولتے رہ گیا۔ نہ جانے کون سی طاقت اسے باز رکھتی تھی۔ گو وہ ’کے‘ سے محبت کرتا تھا۔ اس پر اسے پورا اعتماد تھا لیکن نہ جانے کیوں اپنے والد اور ’’فیملی‘‘ کے بارے میں مکمل طور پر سچ بولنے کے معاملے میں اس کی زبان اس کا ساتھ نہیں دیتی تھی۔ ایسے موقع پر کوئی غیبی طاقت گویا اسے مبہم سے انداز میں احساس دلاتی تھی کہ ’کے‘ بہرحال خاندان سے باہر کی لڑکی تھی۔ غیر تھی۔ فی الحال اس کا ’’فیملی‘‘ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
’’تمہیں تو کوئی خطرہ نہیں؟‘‘ ’کے‘ کے لہجے میں تشویش تھی۔ ’’اخبارات خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ گینگ وار نہ شروع ہوجائے۔ اگر ایسا ہوا تو کیا تم بھی اس میں ملوث ہو گے؟‘‘
مائیکل کے کوٹ کے بٹن کھلے ہوئے تھے۔ وہ دونوں ہاتھ اوپر اٹھاکر مسکراتے ہوئے بولا۔ ’’تم چاہو تو میری تلاشی لے سکتی ہو، میری بغلوں میں ہولسٹر لگے ہوئے ہیں اور نہ میری کسی جیب میں کوئی گن ہے۔‘‘
اس کے انداز پر ’کے‘ ہنس دی۔
کچھ دیر بعد وہ دونوں اوپر ’کے‘ کے کمرے میں چلے گئے۔ انہوں نے کچھ وقت اکٹھے گزارہ اور پھر لیٹے لیٹے مائیکل کو غنودگی آگئی۔ شاید اس دوران ’کے‘ کی بھی آنکھ لگ گئی تھی۔ اچانک مائیکل ہڑ بڑا کر اٹھا اور اس نے گھڑی دیکھی۔
’’اوہ…! دس بج گئے…!‘‘ وہ بڑ بڑایا۔ ’’مجھے فوراً اسپتال پہنچنا چاہیے۔‘‘
وہ اپنا حلیہ درست کرنے واش روم میں چلا گیا۔ باہر آکر جب وہ بال بنا رہا تھا تو ’کے‘ پُر اشتیاق لہجے میں بولی۔ ’’ہماری شادی کب ہوگی؟‘‘
’’بس ذرا پاپا ٹھیک ہوجائیں اور معاملات ٹھنڈے پڑجائیں۔ پھر جب تم کہو گی، ہم شادی کرلیں گے۔‘‘ مائیکل نے جواب دیا پھر ایک لمحے کے توقف سے بولا۔ ’’لیکن میرا خیال ہے کہ اس دوران تم اپنے والدین کو تفصیل سے سب کچھ بتا دو تو بہتر ہے۔‘‘
’’کیا بتادوں؟‘‘ ’کے‘ نے آئینے میں ترچھی نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’یہی کہ تمہاری ملاقات اطالوی نسل کے ایک ہینڈ سم اور دلیر نوجوان سے ہوئی ہے۔‘‘ مائیکل مسکراتے ہوئے بولا۔ ’’جس کا تعلیمی ریکارڈ بھی اچھا ہے اور جو جنگ میں بھی حصہ لے چکا ہے۔ کئی تمغے بھی حاصل کرچکا ہے۔ نوجوان بہت محنتی اور ایماندار ہے، صاف ستھری زندگی گزار رہا ہے۔ لیکن خرابی بس یہ ہے کہ اس کا باپ مافیا کا چیف ہے جس کے کاموں کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ کبھی کبھی اسے بعض بدمعاشوں کو قتل بھی کرنا یا کرانا پڑتا ہے… بڑے بڑے سرکاری افسروں کو رشوتیں بھی دینا پڑتی ہیں اور کبھی کبھی خود بھی گولیاں کھانی پڑتی ہیں لیکن ان سب باتوں سے اس کے شریف، دیانتدار اور محنتی بیٹے کا کوئی تعلق نہیں… کیا تمہیں یہ سب باتیں یاد رہ جائیں گی؟‘‘
’کے‘ پیچھے ہٹ کر باتھ روم کے دروازے سے ٹیک لگاتے ہوئے بولی۔ ’’کیا یہ سب سچ ہے؟ میرا مطلب
جو کچھ تم اپنے والد کے بارے میں کہہ رہے ہو…؟‘‘
’’صحیح طور پر مجھے خود بھی معلوم نہیں۔‘‘ مائیکل نے دیانتداری سے جواب دیا۔ ’’لیکن اگر ان باتوں کی تصدیق ہو جائے تب بھی مجھے کوئی حیرت نہیں ہوگی۔‘‘
پھر وہ دروازے کی طرف بڑھا تو ’کے‘ بولی۔ ’’اب تم سے کب ملاقات ہوگی؟‘‘
مائیکل نے پلٹ کر محبت سے اس کا کندھا تھپکتے ہوئے کہا۔ ’’میں چاہتا ہوں کہ اب تم گھر واپس چلی جائو اور اچھی طرح حالات پر غور کرلو۔ میری خواہش اور کوشش یہی ہے کہ میری فیملی کو اس وقت جو حالات درپیش ہیں، ان کا سایہ تم پر نہ پڑے۔ کرسمس کی چھٹیاںگزر جائیں تو میں بھی کالج آجائوں گا۔ پھر اکٹھے بیٹھ کر سوچیں گے کہ کیا کرنا ہے۔ ٹھیک ہے؟‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ ’کے‘ نے طمانیت سے جواب دیا۔ اس وقت اس کے دل میں گویا مائیکل کے لیے محبت کے سوتے پھوٹ رہے تھے۔ اسے مائیکل کی محبت میں گرفتار ہوئے تو کافی دن گزر چکے تھے لیکن اس محبت میں اتنی شدت اس نے پہلے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔
اس وقت اگر کوئی اسے بتاتا کہ اب وہ ایک طویل عرصے تک مائیکل کی صورت بھی نہیں دیکھ سکے گی۔ تو شاید وہ بتانے والے کا منہ نوچ لیتی۔ وہ اس پیشگوئی کی اذیت برداشت نہ کرپاتی۔ شاید غم کی شدت سے اس کا دل پھٹ جاتا۔
٭…٭…٭
مائیکل جب ’’فرنچ اسپتال‘‘ کے سامنے ٹیکسی سے اترا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ سڑک سنسان پڑی تھی۔ اسپتال کے سامنے فٹ پاتھ پر بھی کوئی نظر نہیں آرہا تھا۔ اسپتال میں داخل ہونے کے بعد اسے مزید حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔ اسپتال کی لابی میں بھی کوئی نہیں تھا۔
ڈون کارلیون اس اسپتال میں داخل تھا اور مائیکل کی معلومات کے مطابق اسپتال کی چوبیس گھنٹے کڑی نگرانی ہورہی تھی۔ مینزا اور ٹیسو کے آدمی ڈون کی حفاظت پر مامور تھے۔ مگر اس وقت یہاں کوئی بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ مینزا یا ٹیسو کے کسی بھی آدمی کی شکل نظر نہیں آرہی تھی۔ رات کے ساڑھے دس بج رہے تھے اور اسپتال ویران سا لگ رہا تھا۔ صرف استقبالیہ کائونٹر پر سفید یونیفارم میں ایک عورت موجود تھی۔ معلومات بھی اس کائونٹر سے حاصل کی جاسکتی تھیں۔ لیکن مائیکل نے کچھ پوچھنے کے لیے وہاں رکنے کی زحمت نہیں کی۔ اسے معلوم تھا کہ اس کے والد کا کمرہ چوتھے فلور پر ہے۔ اسے اس کا نمبر بھی معلوم تھا۔ اس لیے وہ تیزی سے سیدھا لفٹ کی طرف بڑھ گیا۔
اس کے اعصاب تن چکے تھے اور ذہن میں طرح طرح کے اندیشے سر اٹھا رہے تھے۔ وہ چوتھی منزل پر پہنچ گیا اور اس دوران کسی نے بھی اسے روکنے کی کوشش نہیں کی البتہ اس منزل پر نرسوں کے لیے بنے ہوئے شیشے کے دروازوں والے کیبن میں بیٹھی ہوئی ایک نرس نے اسے آواز دے کر کچھ دریافت کیا لیکن مائیکل نے اس کی طرف توجہ نہیں دی اور کمروں کے نمبر دیکھتا ہوا تیزی سے اپنے والد کے کمرے کی تلاش میں آگے بڑھتا چلا گیا۔
اس کمرے پر پہنچ کر اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ اس کمرے کے دروازے پر بھی کوئی آدمی تعینات نہیں تھا۔ حتیٰ کہ وہاں پولیس کے وہ دو سراغرساں بھی نظر نہیں آرہے تھے جنہیں سرکاری طور پر کم از کم اس وقت تک ڈون کی حفاظت کے فرائض انجام دینے تھے جب تک وہ اس کا تفصیلی بیان نہ لے لیتے۔ آخر سب کے سب کہاں مر گئے تھے؟ کہیں اس سنہری موقع سے فائدہ ا ٹھاتے ہوئے کوئی ڈون کے کمرے میں گھس تو نہیں گیا تھا؟
یہ سوچتے ہوئے اس کے اعصاب مزید تن گئے۔ کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔ وہ سیدھا اندر چلا گیا۔ کمرے میں روشنی بھی نہیں تھی تاہم کھڑکی کے شیشے سے چاندنی اندر آرہی تھی۔ اس ملگجی روشنی میں اسے بیڈ پر لیٹے ہوئے اپنے باپ کا چہرہ نظر آگیا۔ مائیکل کو یہ دیکھ کر قدرے اطمینان ہوا کہ مدھم سانسوں کے ساتھ اس کے باپ کا سینہ اوپر نیچے ہو رہا تھا۔ اس کے منہ اور ناک میں ربڑ کی نالیاں لگی ہوئی تھیں۔ بیڈ کے قریب اسٹیل کا اسٹینڈ اور نیچے شیشے کا جار وغیرہ رکھا ہوا تھا۔
مائیکل نے چند لمحے وہیں کھڑے ہوکر پہلے تو یہ اطمینان کیا کہ اس کے والد کو مزید کوئی گزند نہیں پہنچی تھی۔ پھر وہ باہر آگیا اور نرسوں کے کیبن میں پہنچا۔ وہاں ڈیوٹی پر موجود نرس کو اس نے بتایا۔ ’’میرا نام مائیکل ہے۔ میں ڈون کارلیون کا بیٹا ہوں۔ میں کچھ دیر ان کے پاس بیٹھنے کے لیے آیا تھا لیکن مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہورہی ہے کہ ان کے آس پاس کوئی بھی موجود نہیںہے۔ کم از کم ان دو
کو تو موجود ہونا چاہیے تھا جو سرکاری طور پر ان کی حاظت کے لیے تعینات تھے!‘‘
نوجوان اور خوبصورت نرس کے چہرے پر قدرے نخوت تھی اور شاید اسے یہ احساس بھی تھا کہ اسے بہت سے اختیارات حاصل تھے اور اس کی شخصیت بہت اہم تھی۔ وہ نرسوں والے روایتی سے انداز میں بولی۔ ’’آپ کے والد کے پاس ملاقاتی بہت زیادہ آرہے تھے۔ ان کی وجہ سے اسپتال کا نظام بہت متاثر ہورہا تھا۔ دس منٹ پہلے پولیس آئی اور اس نے تمام لوگوں کو یہاں سے نکال باہر کیا۔ باہر موجود لوگوں کو بھی پولیس نے ہٹادیا۔ پھر پانچ منٹ پہلے پولیس کے سراغرسانوں کے لیے ان کے ہیڈ کوارٹر سے فون آیا۔ میں ہی انہیں بلانے گئی تھی اور انہوں نے یہاں آکر فون سنا تھا۔ شاید ہیڈ کوارٹر میں کوئی ہنگامی صورت حال تھی۔ انہیں فوری طور پر وہاں بلایا گیا تھا۔ چنانچہ وہ بھی رخصت ہوگئے۔‘‘ پھر نرس نے شاید مائیکل کے چہرے پر تشویش دیکھ کر قدرے ہمدردی سے کہا۔ ’’بہرحال تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ میں پوری طرح تمہارے والد کا خیال رکھ رہی ہوں۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد انہیں دیکھنے ان کے کمرے میں جاتی ہوں اور میں نے دروازہ بھی اسی لیے کھلا چھوڑا ہوا ہے کہ کمرے میں ذرا سی بھی آواز ہو تو مجھے سنائی دے جائے۔‘‘
’’شکریہ۔‘‘ مائیکل نے کہا۔ ’’میں تھوڑی دیر ان کے پاس بیٹھوں گا۔‘‘
اب نرس ذرا خوش خلقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسکرائی اور بولی۔ ’’بس تھوڑی دیر ہی بیٹھیے گا۔ میں آپ کو زیادہ بیٹھنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔‘‘
مائیکل اپنے والد کے کمرے میں آیا اور وہاں موجود فون پر اس نے اسپتال کے ٹیلیفون آپریٹر کو اپنے گھر کا نمبر دے کر رابطہ کرانے کے لیے کہا۔ فون سنی نے ریسیو کیا۔
مائیکل نے سرگوشی کے انداز میں کہا۔ ’’سنی! مجھے اسپتال پہنچنے میں دیر ہوگئی تھی۔ میں چند لمحے پہلے ہی پہنچا ہوں۔ یہاں پاپا کے پاس بلکہ اسپتال کے باہر بھی کوئی نہیں ہے۔ مینزا یا ٹیسو کا کوئی آدمی نظر نہیں آرہا۔ حتیٰ کہ پولیس کے سراغرساں بھی موجود نہیں ہیں۔ وہ تو اچھا ہوا کہ میں اس وقت پہنچ گیا۔ پاپا کسی قسم کے حفاظتی انتظام کے بغیر لاوارثوں کی طرح یہاں پڑے ہوئے ہیں۔‘‘ اس کے لہجے میں ہلکا سا ارتعاش تھا۔
سنی ایک لمحے خاموش رہا، پھر نیچی آواز میں بولا۔ ’’یقینا سولوزو کوئی چال چلنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ تم نے پہلے ہی اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ اس کے پاس کوئی کام کا پتا ہے۔ اس لیے وہ اتنے اعتماد اور بے خوفی سے قدم اٹھارہا ہے۔ تمہارا اندیشہ درست ثابت ہوا۔‘‘ سنی کے لہجے میں مرعوبیت تھی۔ وہ گویا مائیکل کی ذہانت اور پیش بینی کا قائل ہوگیا تھا۔
’’لیکن اس نے یہاں سے ہر آدمی کو ہٹا دینے کا کام پولیس سے کیسے لیا اور وہ سب کہاں چلے گئے؟‘‘ مائیکل نے حیرت سے کہا۔ ’’خدا کی پناہ! کیا اس خبیث سولوزو کے ہاتھ اتنے لمبے ہیں؟ کیا پورے نیویارک کی پولیس اس کی جیب میں ہے؟‘‘
’’تم پریشان مت ہو۔‘‘ سنی نے مربیانہ انداز میں گویا اسے تسلی دی۔ ’’خوش قسمتی بہرحال اب بھی ہمارے ساتھ ہے۔ اس لیے تم صحیح موقع پر وہاں پہنچ گئے۔ تمہارا دیر سے جانا ہم سب کے حق میں اچھا ہوا۔ تم پاپا کے کمرے میں ہی ٹھہرو۔ دروازہ اندر سے لاک کرلو۔ میں پندرہ منٹ کے اندر اندر کچھ آدمی وہاں بھجواتا ہوں۔ مجھے بس چند فون کالز کرنا پڑیں گی۔ تب تک تم وہاں سے نہ ہلنا اور دیکھو گھبرانا مت۔‘‘
’’میں گھبرا نہیں رہا ہوں۔‘‘ مائیکل نے سخت لہجے میں کہا۔ اس لمحے وہ اپنے والد کے دشمنوں کے لیے اپنے دل میں شدید غصہ اور نفرت محسوس کررہا تھا۔ ڈون پر فائرنگ کے بعد سے اس کی یہ کیفیت پہلی بار ہوئی تھی۔
فون بند کر کے اس نے نرسوں کو بلانے والی گھنٹی کا بٹن دبایا۔ سنی نے اسے جو ہدایات دی تھیں، وہ اپنی جگہ تھیں لیکن اب وہ خود اپنی عقل اور اپنی قوت فیصلہ کو بھی کام میں لانا چاہتا تھا۔
جب نرس کمرے میں آئی تو مائیکل نے کہا۔ ’’میری بات سن کر تمہیں خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، میں صرف احتیاطاً اپنے والد کو کسی اور کمرے میں منتقل کرنا چاہتا ہوں، کیا یہ ممکن ہے؟‘‘
’’اس کے لیے ہمیں ڈاکٹر سے اجازت لینی پڑے گی۔‘‘ نرس بولی۔
’’معاملہ بہت ہنگامی نوعیت کا ہے۔‘‘ مائیکل بولا۔ ’’سچی بات یہ ہے کہ مجھے ابھی ابھی خبر ملی ہے کہ کچھ لوگ میرے والد کو ہلاک کرنے کی نیت سے اسپتال میں


آنے والے ہیں۔ تم اخبارات میں ان کے بارے میں پڑھ چکی ہوگی۔ ہمیں جو کچھ بھی کرنا ہے، فوری طور پر کرنا ہے۔ پلیز میری مدد کرو۔ کیا انہیں منتقل کرنے کے لیے ہمیں یہ ٹیوبس ہٹانی پڑیں گی؟‘‘
’’نہیں… اس کی ضرورت نہیں۔ اسٹینڈ میں بھی پہیے لگے ہوئے ہیں۔ بیڈ کے ساتھ ساتھ یہ بھی جاسکتا ہے۔‘‘ ایک لمحے کی ہچکچاہٹ کے بعد نرس بولی۔ ’’اس فلور پر کونے کا ایک کمرہ خالی ہے۔‘‘
چند لمحوں کے اندر اندر ان دونوں نے بیڈ اور اسٹینڈ دھکیل کر اسی فلور کے کونے کے کمرے میں منتقل کردیا۔ مائیکل نے نرس سے کہا۔ ’’بہتر یہی ہے کہ تم بھی اسی کمرے میں رہو۔ اگر تم باہر اپنے کیبن میں رہیں تو ممکن ہے تمہیں بھی کوئی گزند پہنچ جائے۔‘‘
اسی لمحے مائیکل نے بیڈ کی طرف سے اپنے والد کی بوجھل لیکن تحکمانہ آواز سنی۔ ’’مائیکل! کیا یہ تم ہو؟ یہاں کیا ہورہا ہے؟‘‘
مائیکل کا دل گویا اچھل کر حلق میں آگیا لیکن اس کی یہ کیفیت خوشی سے ہوئی تھی۔ اس وقت غیر متوقع طور پر اسے اپنے باپ کی آواز سن کر بہت خوشی ہوئی تھی۔ وہ پلٹ کر بیڈ پر جھک گیا۔ اس نے باپ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔
’’ہاں پاپا! یہ میں ہوں، مائیکل۔‘‘ وہ اپنی آواز کو پر سکون رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے بولا۔ ’’یہاں کچھ نہیں ہورہا۔ بس میں ذرا احتیاطی اقدامات کررہا تھا۔ مجھے خطرہ ہے کہ کچھ لوگ یہاں آپ کو قتل کرنے کے ارادے سے آنے والے ہیں۔ اس لیے میں نے آپ کو دوسرے کمرے میں پہنچا دیا ہے۔ اب آپ کوئی آواز مت نکالیے گا۔ اگر کوئی آپ کا نام لے کر پکارے تب بھی کوئی جواب مت دیجیے گا۔ بہرحال، میں یہاں موجود ہوں۔ آپ کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔‘‘
گوڈون کارلیون اس وقت مکمل طور پر ہوش حواس میں نہیں تھا اور دوائوں کے اثرات کے باوجود بڑی تکلیف میں تھا۔ لیکن وہ مشفقانہ انداز میں، نیم وا آنکھوں سے بیٹے کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرادیا اور بیٹھی بیٹھی سی آواز میں بولا۔ ’’میں بھلا کیوں خوفزدہ ہوں گا؟ میں جب بارہ سال کا تھا تب سے نہ جانے کون کون لوگ مجھے قتل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔‘‘
٭…٭…٭
’’فرنچ اسپتال‘‘ زیادہ بڑا نہیں تھا۔ مائیکل کمرے کی کھڑکی میں کھڑے ہوکر باہر سڑک تک کا منظر دیکھ سکتا تھا۔ اسپتال میں داخل ہونے کا ایک ہی دروازہ تھا اور وہ مائیکل کی نظر میں تھا۔ اسپتال میں داخل ہونے والے کسی بھی شخص کو وہ آسانی سے دیکھ سکتا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ اگر وہ اسپتال کے گیٹ پر جاکر کھڑا ہوجائے تو زیادہ اچھا ہوگا۔ داخلے کے دروازے پر اس کا بے خوفی سے کھڑے ہونا کسی بھی حملہ آور کو کم از کم وقتی طور پر تشویش میں مبتلا کرسکتا تھا۔
وہ تیزی سے سیڑھیاں اتر کر نیچے آیا اور اسپتال کے گیٹ سے نکل کر فٹ پاتھ پر ایک اسٹریٹ لائٹ کے عین نیچے کھڑا ہوگیا تاکہ آنے والا دور سے ہی اس کی شکل دیکھ سکے اور اگر وہ اسے پہچانتا ہو تو اس کی موجودگی سے کسی نہ کسی حد تک ہڑبڑا سکے۔
اس نے سگریٹ سلگا لی۔ اس اثناء میں اسے ایک نوجوان موڑ سے نمودار ہوکر اسپتال کی طرف آتا دکھائی دیا۔ اس کی بغل میں ایک پارسل دبا ہواتھا۔ وہ جب روشنی میں آیا تو مائیکل کو اس کا چہرہ کچھ شناسا سا لگا لیکن اسے یاد نہیں آسکا کہ اس نے پہلے اسے کہاں دیکھا تھا۔ نوجوان سیدھا اسی کی طرف آیا اور اس کے عین سامنے آن رُکا۔
پھر وہ مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولا۔ ’’ڈون مائیکل! آپ نے مجھے پہچانا؟ میں اینزو ہوں۔ میں مسٹر نیزورین کی بیکری پر کام کیا کرتا تھا، ان کا معاون تھا۔ اب میں ان کا داماد بھی ہوں۔ آپ کے والد نے میرے کاغذات بنوا کر مجھے امریکا کی شہریت دلوائی تھی۔ اس طرح گویا انہوں نے مجھے ایک نئی زندگی دی تھی۔ میں ان کا یہ احسان کبھی نہیں بھول سکتا۔‘‘
مائیکل نے اس سے ہاتھ ملایا۔ اسے اب یاد آگیا تھا کہ وہ کون تھا۔ اینزو نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ’’میں آپ کے والد کی عیادت کے لیے آیا تھا۔ مگر مجھے بہت دیر ہوگئی ہے۔ کیا اسپتال والے اس وقت مجھے اندر جانے دیں گے؟‘‘ اس کا لہجہ اطالوی تھا۔
مائیکل نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔ ’’نہیں… لیکن بہرحال… تمہارا بہت شکریہ۔ میں ڈون کو بتادوں گا کہ تم آئے تھے۔‘‘
اسی لمحے بڑی سی ایک سیاہ کار سڑک کے کونے پر نمودار ہوئی اور ہلکی مگر گرجدار سی آوازکے ساتھ ان کی طرف آتی
دکھائی دی۔ مائیکل نے جلدی سے نیچی آواز میں کہا۔ ’’شاید یہ پولیس ہو۔ ممکن ہے یہاں کوئی مسئلہ کھڑا ہوجائے اور تم بھی اس کی لپیٹ میں آجائو۔ تم چاہو تو فوراً یہاں سے رخصت ہوسکتے ہو۔‘‘
نوجوان اینزو کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے خوف نمودار ہوا مگر دوسرے ہی لمحے وہ گویا دل ہی دل میں کسی فیصلے پر پہنچتے ہوئے مضبوط لہجے میں بولا۔ ’’اگر کوئی مسئلہ کھڑا ہوا تو میں اپنی بساط کے مطابق تمہارے کام آنے کی کوشش کروں گا۔ ڈون نے مجھ پر جو احسان کیا ہے اس کے بعد اتنا تو میرا فرض بنتا ہے۔‘‘
حالانکہ پولیس کے سامنے کسی مسئلے میں الجھنے سے اس کی وہ شہریت منسوخ ہوسکتی تھی جو اسے بڑی مشکل سے ملی تھی مگر اس وقت اس نے مائیکل کے کہنے کے باوجود راہ فرار اختیار نہ کر کے بڑی جواں مردی کا ثبوت دیا تھا۔ مائیکل کو اس کی بات بہت اچھی لگی۔ وہ اس کے جذبے سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔
اسے احساس ہوا کہ اینزو کی اس وقت اس کے ساتھ موجودگی اس کے حق میں بہت مفید ثابت ہوسکتی تھی۔ اسے خیال آیا تھا کہ عین ممکن ہے اس سیاہ کار میں پولیس کے بجائے سولوزو کے آدمی ہوں۔ وہ دروازے پر دو نوجوانوں کو کھڑے دیکھ کر خوفزدہ ہوسکتے تھے اور اپنے ارادوں پر عملدرآمد کا ارادہ ملتوی کرسکتے تھے۔
وہ کار آگے بڑھتی چلی گئی۔ اس میں کوئی فیملی تھی۔ ان لوگوں نے اسپتال کی طرف آنکھ اٹھاکر بھی نہیں دیکھا۔ مائیکل کے تنے ہوئے اعصاب کچھ ڈھیلے پڑ گئے۔ اس نے اینزو کو بھی ایک سگریٹ سلگا کر دیا۔ دونوں نوجوان اسٹریٹ لائٹ کے نیچے کھڑے سگریٹ کے کش لیتے رہے۔
وہ دونوں سگریٹ تقریباً ختم کرچکے تھے۔ جب ایک اور بڑی سی سیاہ کار دوسری سڑک پر نمودار ہوکر ان کی طرف مڑتی نظر آئی۔ اس کی رفتار بے حد کم تھی اور وہ فٹ پاتھ سے تقریباً لگ کر چل رہی تھی۔ ان کے قریب آتے آتے وہ گویا رکنے لگی۔ مائیکل نے اس میں موجود افراد کو دیکھنے کے لیے آنکھیں سکیڑ کر ذرا گردن جھکائی تو یکدم کار کی رفتار تیز ہوئی اور وہ آگے نکلتی چلی گئی۔ ایسا لگا جیسے کسی نے اسے پہچان کر، وہاں رکنے کا ارادہ ملتوی کردیا تھا۔
مائیکل نے ایک اور سگریٹ سلگا کر اینزو کو دی۔ اس نے دیکھا، اینزو کے ہاتھ میں ہلکی سی کپکپاہٹ تھی۔ مائیکل کو یہ دیکھ کر خود اپنے بارے میں حیرت ہوئی کہ اس کے ہاتھوں میں ذرا بھی لرزش نہیں تھی۔
انہیں وہاں کھڑے مزید دس منٹ بھی نہیں گزرے ہوں گے کہ فضا میں پولیس کار کے سائرن کی آواز گونج اٹھی۔ ایک پولیس کار تیز رفتاری سے اس طرح موڑ عبور کر کے ان کی طرف آئی کہ اس کے ٹائر چرچرا اٹھے۔ کار اسپتال کے عین سامنے آن رکی۔ مزید دو اسکواڈ کاریں اس کے پیچھے پیچھے آن پہنچیں۔
چند لمحے بعد اسپتال کے گیٹ پر بہت سے باوردی پولیس والے نظر آنے لگے۔ مائیکل نے سکون کی سانس لی۔ غالباً سنی پولیس کے محکمے کو حرکت میں لانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ مائیکل پولیس آفیسرز کو خوش آمدید کہنے کے ارادے سے آگے بڑھا۔
اس سے پہلے کہ اس کے منہ سے کوئی خیر مقدمی لفظ نکلتا، دو جسیم اور مضبوط پولیس والوں نے اس کے دونوں بازو سختی سے پکڑ لیے اور تیسرا اس کی تلاشی لینے لگا۔ پھر ایک تنو مند پولیس کیپٹن آگے آتا دکھائی دیا۔ پولیس والوں نے احتراماً جلدی سے اس کے لیے راستہ چھوڑ دیا۔ اس کی ٹوپی پر طلائی نشان چمک رہا تھا۔ اس کے بال، جو ٹوپی کے نیچے سے جھانک رہے تھے، ان میں سفیدی غالب تھی اور وہ خاصا موٹا بھی تھا۔ اس کے باوجود وہ بہت توانا اور سانڈ کی طرح مضبوط معلوم ہورہا تھا۔ اس کا چہرہ سرخ اور پرگوشت تھا۔
وہ مائیکل کے سامنے آن رکا اور کھردری آواز میں برہمی سے بولا۔ ’’میرا خیال تھا کہ میں نے تم سب بدمعاشوں کو حوالات میں ڈال دیا ہے۔ تم کہاں سے آگئے اور کون ہو تم؟ یہاں کیا کررہے ہو؟‘‘
اس سے پہلے کہ مائیکل کوئی جواب دیتا، اس کی تلاشی لینے والے نے اپنے آفیسر کو مطلع کیا۔ ’’اس کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے کیپٹن!‘‘
مائیکل خاموشی سے کیپٹن کا گہری نظروں سے جائزہ لے رہا تھا۔ سادہ لباس والے ایک سراغرساں نے دبی دبی سی آواز میں کیپٹن کو بتایا۔ ’’یہ مائیکل کارلیون ہے۔ ڈون کارلیون کا بیٹا۔‘‘
مائیکل نے کیپٹن کی نیلی اور سفاک آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پر سکون لہجے میں پوچھا۔ ’’وہ دونوں پولیس سراغرساں کہاں ہیں
میرے والد کی حفاظت کے لیے سرکاری طور پر تعینات کیا گیا تھا؟ انہیں کس نے ان کی ڈیوٹی سے ہٹایا تھا؟‘‘
پولیس کیپٹن کا سرخ چہرہ غصے سے بالکل ہی لال بھبھوکا ہوگیا۔ وہ مائیکل کو ایک گالی دیکر غضب ناک انداز میں گرجا۔ ’’تم کون ہوتے ہو مجھ سے پوچھنے والے؟ میں نے ہٹایا تھا انہیں ڈیوٹی سے، اب بتائو، تم میرا کیا بگاڑو گے؟ جب تمہارے باپ کو گولیاں ماری گئیں اس موقع پر اگر میں موجود ہوتا تو میں اسے بچانے کے لیے انگلی بھی نہ ہلاتا۔ تم لوگ جیسے سب بدمعاش اگر آپس میں لڑلڑ کر ایک دوسرے کو ہلاک کردیں تو مجھے بڑی خوشی ہوگی۔ اب فوراً یہاں سے دفع ہوجائو اور مریضوں سے ملاقات کے جو اوقات مقرر ہیں ان کے علاوہ میں ایک لمحے کے لیے بھی یہاں تمہاری شکل نہ دیکھوں… سمجھے؟‘‘
مائیکل بدستور گہری نظر سے پولیس کیپٹن کے چہرے کا جائزہ لے رہا تھا۔ حیرت انگیز بات تھی کہ اسے اب بھی غصہ نہیں آیا تھا۔ اس کے برعکس اس کا ذہن نہایت تیزی سے، منطقی انداز میں حالات کا تجزیہ کرنے کی کوشش کررہا تھا۔
وہ سوچ رہا تھا کہ یہ کیپٹن سولوزو کے ہاتھ بکا ہوا تو نہیں؟ عین ممکن تھا کہ چند منٹ پہلے گزرنے والی کار میں سولوزو خود موجود رہا ہو۔ اسپتال کے گیٹ پر مائیکل اور ایک توانا سے نوجوان کو کھڑے دیکھ کر اس نے اپنے ارادوں پر عمل درآمد کا ارادہ ملتوی کردیا ہو اور آگے جاتے ہی پولیس کیپٹن سے رابطہ کر کے اس سے کہا ہو۔ ’’میں نے تو تمہیں تمام آدمیوں اور پولیس کے سراغرسانوں کو اسپتال سے ہٹانے کے لیے بھاری رقم دی تھی۔ لیکن وہاں تو اب بھی ڈون کا بیٹا اور دوسرے لوگ موجود ہیں۔ کیا راستہ صاف کرنا اسے کہتے ہیں؟‘‘
مائیکل پر سکون لہجے میں کیپٹن سے مخاطب ہوا۔ ’’میں اس وقت تک اسپتال سے کہیں نہیں جائوں گا جب تک تم میرے والد کے کمرے پر کچھ پولیس آفیسرز کو حفاظت کے لیے تعینات نہیں کردیتے۔‘‘
کیپٹن نے اس بات کا جواب دینے کی زحمت نہیں کی اور اپنے پاس کھڑے سادہ لباس والے سراغرساں کو مخاطب کیا۔ ’’فل! اس بدمعاش کو بھی لے جاکر حوالات میں ڈال دو۔‘‘
سراغرساں نے ہچکچاہٹ آمیز انداز میں گویا کیپٹن کو سمجھانے کی کوشش کی۔ ’’اس نوجوان کے پاس سے کوئی ہتھیار برآمد نہیں ہوا ہے کیپٹن! اس کا شمار میدان جنگ کے ہیروز میں ہوتا ہے اور یہ کبھی کسی قسم کے ناجائز دھندوں اور گروہ بازی میں ملوث نہیں رہا۔ اس کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی تو اخبارات ہنگامہ کھڑا کرسکتے ہیں۔‘‘
کیپٹن قہر برساتی آنکھوں سے سراغرساں کی طرف دیکھتے ہوئے دھاڑا۔ ’’لعنت ہو تم پر! میں تم سے کہہ رہا ہوں، اسے لے جا کر حوالات میں بند کردو۔‘‘
اس لمحے مائیکل پلک جھپکائے بغیر کیپٹن کو گھورتے ہوئے پر سکون لہجے میں بول اٹھا۔ ’’میرے والد کو ہلاک کرنے کے لیے راستہ صاف کرنے کا تمہیں سولوزو نے کتنا معاوضہ دیا ہے کیپٹن؟‘‘
کیپٹن کے چہرے سے یوں لگا جیسے وہ غصے کی شدت سے ذہنی توازن کھو بیٹھے گا۔ اس نے مائیکل کے دائیں بائیں کھڑے پولیس والوں کو مخصوص انداز میں اشارہ کیا۔ انہوں نے مائیکل کے بازو زیادہ مضبوطی سے جکڑ لیے اور پھر کیپٹن کا گھونسا پوری طاقت سے مائیکل کے چہرے پر پڑا۔ گھونسا کیا وہ گویا کوئی بھاری ہتھوڑا تھا جس کی ضرب سے مائیکل کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ اس نے اپنے منہ میں خون کا ذائقہ اور تین چار چھوٹی چھوٹی ہڈیوں کی موجودگی محسوس کی اور درد کا ایک سیلاب گویا اس کے چہرے اور سر میں پھیل گیا۔ اسے احساس ہوا کہ اس کے تین چار دانت ٹوٹ گئے تھے اور جبڑا ہل گیا تھا۔ اس کے سر کے اندر گویا کوئی بم پھٹ گیا تھا۔
اگر دونوں پولیس والوں نے اس کے بازو مضبوطی سے نہ پکڑ رکھے ہوتے تو شاید وہ گر جاتا۔ تاہم وہ بے ہوش نہیں ہوا تھا۔ اسے احساس تھا کہ سادہ لباس والا سراغرساں اس کے اور کیپٹن کے درمیان حائل ہوگیا تھا۔ وہ کیپٹن سے کہہ رہا تھا۔ ’’خدا کی پناہ کیپٹن! تم نے اسے زخمی کردیا ہے۔‘‘
کیپٹن بلند آواز میں بولا۔ ’’کیا بکواس کررہے ہو؟ میں نے تو اسے چھوا بھی نہیں… یہ گرفتاری میں مزاحمت کررہا تھا اور مجھ پر حملہ کرنے کے لیے جھپٹ رہا تھا مگر ٹھوکر کھا کر گر پڑا۔ یوں اسے چوٹ لگ گئی۔ سمجھ میں آئی بات؟‘‘
مائیکل کی آنکھوں کے سامنے سرخی آمیز دھندلاہٹ پھیل گئی تھی۔ اسی حالت میں اس نے مزید چند کاریں سڑک


پر نمودار ہوتے دیکھیں۔ کاریں اسپتال کے قریب آکر رک گئیں اور ان میں سے لوگ اترتے دکھائی دیئے۔ ان میں سے ایک کو مائیکل نے پہچان لیا۔ وہ مینزا کا وکیل تھا۔ وہ سخت اور پر اعتماد لہجے میں کیپٹن سے بات کرنے لگا۔
’’کارلیون فیملی نے ڈون کارلیون کی حفاظت کے لیے چند پرائیویٹ سراغرسانوں کی خدمات حاصل کی ہیں۔‘‘ وکیل کہہ رہا تھا۔ ’’جو میرے ساتھ آئے ہیں ان کے پاس جو ہتھیار ہیں، ان کے لائسنس بھی ان کے پاس ہیں۔ اگر تم نے انہیں گرفتار کیا تو تمہیں صبح جج کے سامنے پیش ہوکر اپنے اس اقدام کی وضاحت کرنی ہوگی۔‘‘
پھر وکیل نے مائیکل کے لہو میں لتھڑے ہوئے چہرے کی طرف دیکھا اور اس سے مخاطب ہوا۔ ’’تمہارے ساتھ جس نے بھی یہ سلوک کیا ہے۔ کیا تم اس کے خلاف باضابطہ طور پر رپورٹ کرانا چاہتے ہو؟‘‘
مائیکل نے بولنا چاہا تو اسے اس میں شدید دشواری پیش آئی۔ درد کی ایک نئی لہر اس کے چہرے اور سر میں پھیل گئی۔ اس کا جبڑا اپنی جگہ سے ہل چکا تھا اور بولنے کے لیے اسے حرکت دینا گویا اس کے بس میں نہیں رہا تھا لیکن وہ بڑبڑانے کے سے انداز میں، کسی نہ کسی طرح یہ کہنے میں کامیاب ہوگیا۔ ’’میں گر گیا تھا… مجھے چوٹ لگی ہے…‘‘
کیپٹن کے چہرے پر طمانیت پھیل گئی اور اس نے فاتحانہ انداز میں وکیل کی طرف دیکھا۔ اپنی تمام تر تکلیف اور اذیت کے باوجود نہ جانے کیوں مائیکل اس وقت اپنے آپ کو ذہنی طور پر بالکل پر سکون محسوس کررہا تھا۔ اس کے دل میں سفاکی کی ایک سرد لہر نے جنم لیا تھا جس سے اب تک وہ ناآشنا تھا۔ کیپٹن کے لیے اس کی رگ و پے میں لہو کی جگہ گویا نفرت کا لاوا دوڑنے لگا تھا لیکن وہ فی الحال عام لوگوں کی طرح اس کا ردعمل ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ ابھی اپنے تمام محسوسات دنیا اور خاص طور پر پولیس کیپٹن سے مخفی رکھنا چاہتا تھا۔ اس کا اندازہ تھا کہ شاید اس کا باپ بھی اس قسم کی صورت حال میں ایسا ہی کرتا۔
اس نے محسوس کیا کہ اسے سہارا دے کر اسپتال کے اندر لے جایا رہا تھا۔ اسی دوران اس کا ذہن تاریکی میں ڈوب گیا۔
٭…٭…٭
صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو اسے اندازہ ہوا کہ اس کے جبڑے کو تار کی مد د سے صحیح جگہ پر بٹھایا گیا تھا اور اس کے چار دانت غائب تھے۔ ہیگن اس کے بیڈ کے قریب بیٹھا تھا۔
’’کیسا محسوس کررہے ہو؟‘‘ ہیگن نے پوچھا۔
’’اتنا برا نہیں، جتنا رات محسوس کررہا تھا…‘‘ مائیکل نے آہستگی سے جواب دیا۔ ’’لیکن تکلیف بہرحال اب بھی بہت زیادہ ہے۔ ‘‘
’’سنی چاہتا ہے کہ تمہیں گھر منتقل کردیا جائے۔‘‘ ہیگن بولا۔ ’’کیا تم خود کو اس قابل محسوس کررہے ہوکہ گھر چل سکو؟‘‘
’’ہاں…چلاجائوں گا۔‘‘ مائیکل نے جواب دیا پھر پوچھا۔ ’’باباکیسے ہیں؟‘‘
’’میرا خیال ہے اب مسئلہ حل ہوگیا ہے۔ ہم نے ڈون کی حفاظت کے متبادل انتظامات کرلئے ہیں۔ ہم نے پرائیویٹ سراغرسانوں کی ایک پوری فرم کی خدمات حاصل کرلی ہیں جو اسپتال کے باہر تک مختلف جگہوں پر تعینات رہیں گے۔ مزید باتیں ہم کار میں گھرچلتے وقت کریںگے۔‘‘
مائیکل کو جس کار میں گھر لے جانے کا بندوبست کیا گیا تھا اسے مینزا چلا رہا تھا۔ مائیکل اس کے برابر جبکہ ہیگن پچھلی سیٹ پر بیٹھا تھا۔ مائیکل کے سر میںاب بھی دھمک ہورہی تھی اور پورے چہرے پر ٹیسیں اٹھ رہی تھیں لیکن وہ حوصلے سے یہ تکلیف برداشت کررہا تھا۔
’’پچھلی رات آخر ہوا کیا تھا؟ صحیح بات کا پتا بھی چلا یا نہیں؟‘‘ مائیکل نے دریافت کیا۔
’’پولیس میں ایک سراغرساں فلپس ہے جسے عام طور پر فل کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے…‘‘ ہیگن بتانے لگا۔’’وہی جس نے پچھلی رات کیپٹن کو تمہارے معاملے میں خباثت دکھانے سے روکنے کی کوشش کی تھی … وہ ہمارا آدمی ہے۔ اس نے ہمیںساری بات بتائی ہے۔ پولیس کیپٹن کا نام میک کلس ہے اور وہ اس وقت سے زبردست رشوت خور چلا آرہا ہے جب وہ محض ایک پیٹرول مین تھا۔ گشت پر مامور تھا۔ ہماری ’’فیملی‘‘بھی اسے ماضی میں رقمیں دیتی رہی ہے لیکن وہ جلد ہی ایک سے دوسرے کے ہاتھ بک جانے والا آدمی ہے اور قطعی ناقابل اعتبار ہے۔‘‘
’’ان دنوں وہ سولوزو کے ہاتھوں بکا ہوا ہوگا؟‘‘ مائیکل نے خیال ظاہر کیا۔
’’ہاں۔‘‘ ہیگن نے اثبات میں سرہلایا۔ ’’سولوزو نے اسے ہمارے آدمیوں کو وہاں سے ہٹانے اورکوئی نہ کوئی الزام لگاکر حوالات میں ڈالنے کے لئے بھاری رقم دی ہوگی۔
پولیس کے دونوں سراغرسانوں کو بھی اس نے یہ جواز گھڑ کر واپس بلوالیا کہ کہیں اور ہنگامی قسم کی صورتحال میں ان کی ضرورت ہے۔ ان کی جگہ دوسرے دو پولیس والے بھجوائے جانے تھے لیکن جان بوجھ کرکاغذات میں ان کی ڈیوٹی کے بارے میں غلط فہمی پیدا کردی گئی تاکہ وہ اسپتال پہنچیں بھی …تو دیر سے پہنچیں۔ یوں ڈو ن کو ہلاک کرنے کے لئے سولوزو کو کچھ دیر کی مہلت دی گئی اور اس کا راستہ مکمل طور پرصاف کردیا گیا۔ وہ تو ہماری خوش قسمتی تھی کہ اس دوران تم وہاں پہنچ گئے۔ پولیس میں ہمارا جو آدمی ہے سراغرساں فلپس اس کا کہنا ہے کہ کیپٹن کلس جس قسم کا آدمی ہے اور جیسی اس کی فطرت ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے یہ توقع رکھنی چاہئے کہ وہ دوبارہ ایسی کوشش کرے گا۔ وہ ایک بار پھر سولوزو کو موقع فراہم کرنے کی کوشش کرے گا۔ سولوزو نے اسے نہ جانے کتنی رقم دی ہوگی اور آئندہ کے لئے بھی نہ جانے کیا کیا وعدے کئے ہوں گے۔‘‘
’’کیاکیپٹن کلس کے ہاتھوں میرے زخمی ہونے کی خبر اخباروں میںآئی ہے؟‘‘ مائیکل نے دریافت کیا۔
’’نہیں۔‘‘ ہیگن نے جواب دیا۔ ’’ہم نے اس معاملے میں زبان بند رکھنا ہی بہتر سمجھا اور پولیس بھی نہیں چاہتی تھی کہ یہ معاملہ اخباروں میںآئے۔‘‘
’’یہ اچھا ہوا۔‘‘مائیکل نے طمانیت سے کہا پھرگویا اسے کچھ یادآیا ۔ ’’اور اس نوجوان اینزو کا کیا بنا؟ وہ تو پولیس کے چکر میں نہیں پھنسا؟‘‘
’’نہیں وہ تم سے زیادہ تیز تھا …‘‘ ہیگن بولا۔ ’’پولیس کی نفری دیکھتے ہی وہ وہاں سے کھسک لیا۔‘‘
’’تاہم جب وہ گاڑی وہاں سے گزری جس میںغالباً سولوزو بھی موجود تھا۔ اس وقت وہ لڑکا میرے ساتھ کھڑا رہا۔‘‘ مائیکل نے بتایا۔ پھر تعریفی لہجے میں کہا۔ ’’بہر حال وہ اچھا نوجوان ہے۔‘‘
’’ہم اسے اس کی بہادری کے عتراف میںکسی نہ کسی انعام سے ضرور نواز دیں گے۔‘‘ہیگن بولا۔ ’’اور ہاں شاید یہ خبر سن کر تم اپنی طبیعت کچھ بہتر محسوس کرو کہ آخر کار لیون فیملی کا نام بھی’’اسکور بورڈ‘‘ پر آہی گیا ہے۔ ’’ٹے ٹیگ لیا‘‘ فیملی کا سب سے بڑا لڑکا برونو جو ایک نائٹ کلب چلاتا تھا۔ آج صبح چار بچے مارا گیا ہے۔‘‘
’’ارے!‘‘ مائیکل سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔ ’’یہ کیسے ہوگیا؟ ہم نے تو طے کیا تھا کہ فی الحال کوئی جواب نہیں دیں گے اور انتظارکرنے کی پالیسی پر عمل کریں گے۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ ہیگن کندھے اچکا کر بولا۔ ’’ارادہ تو یہی تھا لیکن رات کو اسپتال میں جو کچھ ہوا، اس کے بعد سنی کا غصہ عود کرآیا۔ وہ بہت مشتعل ہے۔ اس نے اپنے تمام آدمیوں کو نیو یارک اور نیوجرسی میں پھیل جانے کا حکم دیا ہے اور رات ان لوگوں کی نئی لسٹ بنائی گئی ہے جنہیں نشانہ بنانا ہے۔ میں سنی کو زیادہ آگے جانے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن وہ میری نہیںسن رہا … شاید تم اسے سمجھا سکو۔ میرا خیال ہے، اب بھی بڑے پیمانے پر لڑائی چھیڑے بغیر معاملات طے کئے جاسکتے ہیں۔‘‘
’’میں اس سے بات کروں گا۔‘‘ مائیکل نے کہا، پھر پوچھا۔ ’’کیا آج ہم لوگوں کی کوئی میٹنگ طے ہے؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ ہیگن نے جواب دیا۔ ’’سولوزو نے آخر ہم سے رابطہ کیا ہے۔ وہ ہمارے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہتا ہے۔ ایک درمیانی آدمی تفصیلات طے کررہا ہے۔ یہ ہماری جیت ہے۔ سولوزو کو اندازہ ہوگیا ہے کہ وہ ہار چکا ہے اوراب وہ صرف اپنی جان بچانے کی کوشش کررہا ہے۔ وہ اپنی زندگی اور سلامتی کی ضمانت لے کر اس صورت حال سے نکلنا چاہتا ہے۔‘‘
ایک لمحے کے توقف کے بعد ہیگن بولا۔ ’’ڈون پر حملے کے فوراً بعد چونکہ ہم نے کوئی جواب نہیں دیا تھا اس لئے شاید سولوزو کو غلط فہمی ہوگئی کہ ہم نرم پڑگئے ہیں اور ہم میں وہ پہلے والی بات نہیں رہی لیکن آج صبح ٹے ٹیگ لیا فیملی کے سب سے بڑے لڑکے کا پتا صاف ہونے کے بعد اس کی عقل کافی حد تک ٹھکانے آگئی ہوگی اور ہمارے بارے میں اس کی غلط فہمی دور ہوگئی ہوگی۔ اس نے ڈون پر حملہ کروا کے بہت بڑا جوا کھیلا تھا۔‘‘ پھر اسے جیسے کچھ اور یاد آیا۔ ’’اور ہاں… براسی کے بارے میں تصدیق ہوگئی ہے۔ اسے انہوں نے ڈون پر حملے سے ایک رات پہلے ہی ہلاک کردیا تھا۔ اسے برونو کے نائٹ کلب میں ہی ہلاک کیا گیا تھا۔‘‘
’’اس پر یقیناً بے خبری میں جال پھینکا گیا ہوگا اور اس کے لئے کوئی زبردست سازش تیارکی گئی ہوگی۔‘‘ مائیکل نے خیال ظاہرکیا۔ ’’ورنہ وہ اتنی
سے مارا جانے والاآدمی نہیں تھا۔‘‘
٭…٭…٭
مائیکل جب لانگ بیچ پہنچا تو اس بندگلی کی فضا میں پہلے سے زیادہ کشیدگی تھی جسے’’دی مال‘‘ کہا جاتا تھا اور جہاں کارلیون فیملی کے آٹھ گھر تھے۔ گلی کے تنگ دہانے پر موٹی سی زنجیر تو لگی تھی مگر اب ایک بڑی سی سیاہ کار نے راستہ تقریباً روکا ہوا تھا۔ اس کے پاس سے ایک وقت میں دو تین آدمی ہی گزر سکتے تھے۔ کار سے دو آدمی ٹیک لگائے کھڑے تھے۔ وہ دونوں مکان جو گلی کے دہانے پر تھے، ان کی بالائی منزلوں کی کھڑکیاں کھلی ہوئی تھیں۔ مائیکل کو احساس ہوا کہ سنی اب صحیح معنوں میں چوکنا تھا اور اس نے تمام حفاظتی انتظامات کئے ہوئے تھے۔
وہ دونوں مینزا کے آدمی تھے جوکار سے ٹیک لگائے کھڑے تھے۔ انہوں نے آنے والوں کا استقبال صرف سر کے خفیف سے اشارے سے کیا۔ ان کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ گھر کا دروازہ بھی ایک محافظ نے کھولا۔ وہ سیدھے اسی کمرے میں چلے گئے جو آفس کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ سنی اور ٹیسو ان کے منتظر تھے۔
مائیکل کو دیکھ کر سنی اٹھ کھڑا ہوا اور اس کا مضروب چہرہ دونوں ہاتھوں میں لے کر پیار اور فخر سے بولا۔ ’’واہ … واہ…! اب تم پہلے سے زیادہ خوبصورت لگ رہے ہو۔‘‘
مائیکل نے آہستگی سے اس کے ہاتھ ہٹادیئے اور مشروب کی بوتل سے اپنے لئے چند گھونٹ انڈیلے۔ اسے امید تھی کہ شاید اس سے جبڑے کا دردکم کرنے میںکچھ مدد ملے۔ پانچوں آدمی کمرے میں بیٹھ گئے۔ مائیکل نے محسوس کیا کہ اس کا بڑا بھائی پہلے کے مقابلے میں زیادہ مطمئن اور خوش نظر آرہا تھا۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ اسے یکسوئی حاصل ہوگئی تھی۔ وہ اب الجھن میں نہیں تھا بلکہ فیصلے پر پہنچ چکا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے۔ سولوزو نے گزشتہ رات ڈون کو قتل کرنے کی ایک اورکوشش کرکے گویا سنی کو یکسوئی سے فیصلہ کرنے میں آسانی فراہم کردی تھی۔ اب صلح کا کوئی امکان نہیں رہا تھا۔
سنی نے ہیگن کو مخاطب کیا۔ ’’جب تم مائیکل کو لینے گئے ہوئے تھے تو رابطے کے آدمی کا فون آیا تھا جو ہمارے اور سولوزو کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہا ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ اب سولوزو مذاکرات کے لئے ہم سے میٹنگ کرنا چاہتا ہے۔ اس سؤر کے بچے کی جرأت دیکھو جو کچھ وہ کرچکا ہے، اس کے بعد مذاکرات کرنا چاہتا ہے اور اس کا خیال شاید یہ ہے کہ اس دوران وہ مزید کچھ کرے، وہ بھی ہمیں صبر و تحمل سے برداشت کرنا چاہئے۔‘‘ اس نے سولوزو کو مزید موٹی سی ایک گالی دی۔
’’تم نے کیا جواب دیا؟‘‘ ہیگن نے محتاط لہجے میں پوچھا۔
’’میں نے کہا۔ ضرور … ضرور… میٹنگ تو ہونی چاہئے… مذاکرات تو ضروری ہیں۔ وقت اور دن وغیرہ طے کرنے کا معاملہ بھی میں نے اس پر چھوڑ دیا۔ مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔ ہمارے تقریباً سو آدمی اسے چوبیس گھنٹے سے تلاش کررہے ہیں۔ ان میں سے کسی کو اگر اس کی جھلک بھی نظر آگئی تو سمجھ لوکہ وہ مارا گیا۔‘‘
’’کیا اس نے کوئی حتمی قسم کی تجویز پیش کی؟‘‘ ہیگن نے نرمی سے پوچھا۔
’’ہاں وہ چاہتا ہے کہ اس کی تجاویزسننے کے لئے مائیکل کو بھیجا جائے۔ رابطے کے آدمی نے مائیکل کے تحفظ کی ضمانت دی ہے۔ جب تک مائیکل مذاکرات کے لئے ان کے ساتھ رہے گا، تب تک رابطے کا آدمی ضمانت کے طور پر ہماری تحویل میں رہے گا۔ سولوزو نے اپنی حفاظت کی ضمانت نہیں مانگی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ وہ اب ایسا مطالبہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا ہے۔ چنانچہ ملاقات کی جگہ کا فیصلہ وہ کرے گا۔ اس کے آدمی مائیکل کو لینے آئیں گے اور ملاقات کی جگہ پر لے جائیں گے۔ مائیکل ان کی تجاویز سنے گا۔ اس کے بعد وہ مائیکل کو چھوڑ دیں گے۔ میٹنگ کی جگہ کے بارے میں ہمیں کچھ نہیں بتایا جائے گا۔ سولوزو کا کہنا ہے کہ اس کی تجاویز اتنی اچھی اور معقول ہوں گی کہ ہم انہیں رد کر ہی نہیں سکیںگے۔ مذاکرات کی میز پر ہمارے معاملات ضرور طے ہوجائیں گے۔‘‘
سنی نے ہلکا سا قہقہہ لگایا۔ اس قہقہے سے سفاکی عیاں تھی۔ وہ خاموش ہوا توکمرے میں اعصاب شکن سکوت چھا گیا۔ (جاری ہے)