God Father | Episode 9

490

چند لمحوں کی خاموشی کے بعد ہیگن نے پوچھا۔ ’’اور ٹے ٹیگ لیا فیملی کا ردعمل کیا ہوگا۔ ہم ان کے لڑکے برونو کو مروا چکے ہیں۔ وہ لوگ کیا اس کے جواب میں کچھ نہیں کریں گے؟‘‘
’’نہیں!‘‘ سنی نے جواب دیا۔ ’’سولوزو ہمیں جس معاہدے کی پیشکش کررہا ہے، اس میں یہ بات بھی شامل ہے۔ رابطے کے آدمی کا کہنا ہے کہ ٹے ٹیگ لیا فیملی اس طرح چلنے کے لئے تیار ہے جس طرح سولوزو چاہتا ہے۔ وہ لوگ اپنا کوئی الگ لائحہ عمل اختیار نہیں کریں گے۔ وہ سمجھ لیں گے کہ جو کچھ انہوں نے پاپا کے ساتھ کیا، اس کے جواب میں برونو کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے اور یوں حساب برابر ہوگیا۔ وہ خبیث بڑے ہمت والے اور بڑے حسابی کتابی قسم کے لوگ ہیں۔‘‘ سنی نے زہریلے انداز میں قہقہہ لگایا۔
ہیگن بولا۔ ’’بہرحال ہمیں ان کی بات سن تو لینی چاہیے۔‘‘

سنی نے نفی میں سر ہلایا۔ ’’نہیں وکیل صاحب! اس مرتبہ بات نہیں ہوگی۔ اب ملاقاتیں اور مذاکرات بھی نہیں ہوں گے۔ رابطے کا آدمی ہمارا جواب سننے کے لئے آئندہ ہم سے رابطہ کرے گا تو میں اس سے کہہ دوں گا کہ مجھے صرف سولوزو چاہیے۔ سولوزو کو میرے حوالے کردو تو بات ختم ہوجائے گی۔ اگر نہیں تو پھر تمام تر وسائل کے ساتھ جنگ ہوگی۔ ہمیں روپوش ہونا پڑا تو ہوجائیں گے اور ہمارے گن مین گلی کوچوں میں پھیل جائیں گے۔ کاروبار اگر متاثر ہوتا ہے تو ہوتا رہے۔‘‘
’’دوسری ’’فیملیز‘‘ اس طرح کی جنگ کے حق میں نہیں ہوں گی۔ اس سے ہر شخص کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے اور مسائل بڑھ جاتے ہیں۔‘‘ ہیگن نے اسے یاد دہانی کرائی۔
’’دوسری ’’فیملیز‘‘ کے پاس بھی سیدھا سا حل یہی ہے کہ وہ سولوزو کو میرے حوالے کردیں ورنہ کارلیون فیملی کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔‘‘ ایک لمحے توقف کے بعد سنی ذرا سخت لہجے میں بولا۔ ’’اب میں اس موضوع پر کوئی مشورہ نہیں سنوں گا کہ مجھے اس مسئلے کو کس طرح حل کرنا چاہیے۔ فیصلہ ہوچکا ہے۔ اب تمہارا کام مجھے جیتنے میں مدد دینا ہے، نصیحتیں کرنا نہیں… سمجھ گئے؟‘‘
ہیگن نے سعادت مندی سے ایک لمحے کے لئے سر جھکا دیا۔ وہ کسی گہری سوچ میں تھا۔ پھر کچھ توقف کے بعد بولا۔ ’’پولیس میں ہمارا جو آدمی موجود ہے، میں نے اس سے بات کی تھی۔ اس نے تصدیق کی ہے کہ کیپٹن کلس جس نے مائیکل کو زخمی کیا تھا، سولوزو کے ہاتھ بکا ہوا ہے اور بہت مہنگے داموں بکا ہے۔ اسے نہ صرف سولوزو سے لمبی رقمیں مل رہی ہیں بلکہ وہ مستقبل میں سولوزو کے منشیات کے کاروبار میں بھی حصے دار ہوگا۔ اس وقت وہ سولوزو کے باڈی گارڈ کا کردار ادا کررہا ہے۔ اگر ہم سولوزو سے ملاقات کے لئے تیار ہوتے ہیں اور سولوزو مذاکرات کرنے آتا ہے، تب بھی کیپٹن کلس اس کے ساتھ ہوگا۔ کیپٹن کلس کے بغیر سولوزو اپنی کمین گاہ سے سر نکالنے کے لئے تیار نہیں۔ سولوزو جب مائیکل سے مذاکرات کے لئے میز پر بیٹھے گا تو کیپٹن کلس اس کے برابر بیٹھا ہوگا۔ وہ یقیناً سادہ کپڑوں میں ہوگا لیکن اس کے پاس ریوالور ضرور ہوگا۔ میں تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اگر ایک پولیس آفیسر سولوزو کی حفاظت کررہا ہوگا تو پھر سولوزو واقعی بہت محفوظ ہوگا کیونکہ آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کسی نے نیویارک پولیس کے کسی کیپٹن کو گولی ماری ہو اور وہ اس کے نتائج بھگتنے سے بچ گیا ہو۔ اگر کیپٹن کلس مارا جاتا ہے تو اخبارات، پولیس ڈیپارٹمنٹ اور تمام چرچ مل کر آسمان سر پر اٹھا لیں گے۔ دبائو ناقابل برداشت ہوجائے گا۔ دوسری ’’فیملیز‘‘ بھی ہماری دشمن ہوچکی ہوں گی اور ہمارے تعاقب میں ہوں گی۔ ہماری حیثیت اچھوتوں کی سی ہوجائے گی حتیٰ کہ وہ سیاسی شخصیتیں جن کی وجہ سے ڈون اور اس کی ’’فیملی‘‘ کو تحفظ ملتا ہے، انہیں بھی ہماری طرف سے ہاتھ کھینچنا پڑے گا۔ وہ خود ادھر ادھر منہ چھپاتی پھریں گی۔ تمہیں ان تمام پہلوئوں کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے۔‘‘
سنی کندھے اچکا کر بولا۔ ’’کیپٹن کلس ہمیشہ تو سولوزو کی حفاظت کے لئے اس کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ ہم انتظار کرلیں گے۔‘‘
ٹیسو اور مینزا دونوں سگار کے گہرے گہرے کش لے رہے تھے۔ ان کے چہروں سے اضطراب عیاں تھا لیکن وہ گفتگو میں دخل دینے کی جرأت نہیں کررہے تھے تاہم انہیں یہ معلوم تھا کہ اگر کوئی غلط فیصلہ ہوا
تو قربانی کے بکرے وہی بنیں گے۔
مائیکل نے اس دوران پہلی مرتبہ گفتگو میں حصہ لیا۔ ’’کیا پاپا کو اسپتال سے گھر منتقل کیا جاسکتا ہے؟‘‘
’’یہ میں اسپتال والوں سے پہلے ہی پوچھ چکا ہوں۔‘‘ ہیگن نے جواب دیا۔ ’’ان کا کہنا ہے کہ یہ ناممکن ہے۔ ڈون کی حالت اچھی نہیں ہے۔ گو کہ وہ بچ جائیں گے لیکن فی الحال انہیں اسپتال سے کہیں اور منتقل کرنے کا خطرہ مول نہیں لیا جاسکتا۔ انہیں جس توجہ اور جن سہولتوں کی ضرورت ہے، وہ صرف اسپتال میں ہی میسر آسکتی ہیں۔ شاید ان کا مزید کوئی آپریشن بھی ہو۔ لہٰذا اس امکان کو تو ذہن سے نکال دو کہ انہیں گھر منتقل کیا جاسکتا ہے۔‘‘
’’اس صورت میں ہمیں فوری طور پر سولوزو کو مذاکرات کی میز پر لانا ہوگا۔‘‘ مائیکل بولا۔ ’’ہم وقت ضائع نہیں کرسکتے۔ وہ شخص بہت خطرناک ہے۔ اسے احساس ہے کہ پاپا پر اس کا حملہ ناکام رہنا، اس کے حق میں بہت برا ثابت ہوگا۔ وہ اس غلطی کی تلافی کرنے کا کوئی طریقہ سوچ سکتا ہے۔ وہ اسپتال میں بھی پاپا پر دوبارہ حملہ کرنے کی کوشش کرچکا ہے۔ اب وہ کوئی نئی ترکیب سوچ سکتا ہے۔ یہ ہماری خوش قسمتی اور اتفاق تھا کہ اس کی دوسری کوشش بھی ناکام ہوگئی۔ اس پولیس کیپٹن کا تعاون حاصل ہونے کی وجہ سے وہ نہ جانے کیا کچھ کرسکتا ہے۔ ہم زیادہ خطرات مول نہیں لے سکتے۔ ہمیں اس کو جلد ازجلد اس کے بل سے نکال کر سامنے لانا ہوگا۔‘‘
’’تم ٹھیک کہہ رہے ہو بچے!‘‘ سنی نے پرخیال انداز میں ٹھوڑی کھجاتے ہوئے کہا۔ ’’ہم اس خبیث کو پاپا کے سلسلے میں مزید کوئی منصوبہ بنانے کا موقع نہیں دے سکتے۔‘‘
’’لیکن اس پولیس کیپٹن کا کیا کیا جائے؟ اس کے بارے میں ہمیں سوچنا پڑے گا۔‘‘ ہیگن بولا۔
’’ہاں۔‘‘ سنی نے سوالیہ نظروں سے مائیکل کی طرف دیکھا۔ ’’اس مردود کیپٹن کلس کے بارے میں ہم کیا لائحہ عمل اختیار کریں؟‘‘
مائیکل ٹھہرے ٹھہرے لہجے میں بولا۔ ’’میں جو کچھ کہنے جارہا ہوں، وہ شاید تم لوگوں کو انتہا پسندی محسوس ہو لیکن کبھی کبھی حالات ایسا رخ اختیار کرتے ہیں کہ انسان کو انتہا پسندانہ فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ فرض کرو کیپٹن کلس کو ہلاک کرنا ہماری مجبوری بن جاتا ہے تو ہمیں یہ کام اس طرح انجام دینا چاہیے کہ اس کی بددیانتی اور اس کا بکائو ہونا اچھی طرح عوام کے سامنے آجائے۔ یہ بات ظاہر ہوجائے کہ وہ ایک بدعنوان اور رشوت خور پولیس آفیسر تھا اور گروہ بازوں کے معاملات میں ملوث تھا۔ ان کی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کررہا تھا، چنانچہ ویسے ہی انجام کو پہنچ گیا جیسے انجام کو عام طور پر ایسے لوگ پہنچتے ہیں۔ اخبارات میں بھی ہمارے آدمی موجود ہیں جنہیں ہم باقاعدگی سے مالی فائدہ پہنچاتے ہیں۔ انہیں ہم ٹھوس ثبوت کے ساتھ پوری کہانی فراہم کرسکتے ہیں۔ اس طرح ہم پر سے دبائو کافی کم ہوجائے گا اور کیپٹن کلس کو مارے جانے کے بعد بھی عوام اور پولیس ڈیپارٹمنٹ کی کچھ زیادہ ہمدردیاں حاصل نہیں رہیں گی۔ سب یہی سوچیں گے کہ وہ بے ایمان اور بدمعاش شخص تھا۔ ایسے لوگ اسی طرح مارے جاتے ہیں۔ کیا خیال ہے؟‘‘
مائیکل نے رائے طلب نظروں سے سب کی طرف دیکھا۔ ٹیسو اور مینزا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ سنی خفیف مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔ ’’کبھی کبھی بچے بھی عقل کی بات کرلیتے ہیں۔ تمہیں مزید جو کچھ کہنا ہے، وہ بھی کہہ ڈالو۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ مائیکل بولا۔ ’’مذاکرات کے لئے وہ لوگ مجھے بلا رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ مذاکرات کی میز پر صرف ہم تین آدمی موجود ہوں گے یعنی میں، کیپٹن کلس اور سولوزو۔ میٹنگ دو دن بعد رکھ لو اور اس دوران اپنے مخبروں سے یہ پتا کرانے کی کوشش کرو کہ میٹنگ کس جگہ رکھی جارہی ہے۔ تم ان لوگوں سے اصرار کرنا کہ میٹنگ کسی عام سی جگہ پر رکھیں، جہاں لوگوں کی آمدورفت ہو۔ تم میری طرف سے کہہ دینا کہ مائیکل ان لوگوں کے ساتھ کسی مکان یا اپارٹمنٹ کے اندر جانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ تم تجویز دے دینا کہ ملاقات کسی ریستوران، بار یا ایسی ہی کسی جگہ اور ایسے وقت میں ہونی چاہیے جب وہاں زیادہ سے زیادہ لوگ ہوتے ہیں تاکہ میں اپنے آپ کو زیادہ محفوظ محسوس کروں۔ اس طرح وہ بھی خود کو محفوظ محسوس کریں گے۔ اس تجویز میں خود ان کے لئے بھی اطمینان کا پہلو ہوگا۔ یہ بات سولوزو کے ذہن میں نہیں آسکتی کہ ہم پولیس کیپٹن کو بھی ہلاک کرنے کا ارادہ
ہیں۔ وہ یقیناً مجھے مذاکرات کی میز تک پہنچانے سے پہلے میری تلاشی لیں گے۔ اس لئے اس وقت تو واقعی میرے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہونا چاہیے لیکن مذاکرات کے دوران کوئی گن میرے ہاتھوں میں پہنچانے کا کوئی طریقہ سوچو۔ اگر مجھے مذاکرات کے دوران کسی طرح کوئی ریوالور میسر آجاتا ہے تو میں دونوں کا کام تمام کردوں گا۔‘‘
چاروں افراد حیرت سے ایک ٹک اس کی طرف دیکھنے لگے۔ انہیں گویا اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ انہوں نے شاید کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ مائیکل کے منہ سے ایسی بات سن سکتے ہیں۔ تاہم ہیگن کچھ زیادہ حیران نظر نہیں آرہا تھا۔
چند لمحے گہرا سکوت طاری رہا۔ پھر سنی قہقہے لگانے لگا۔ قہقہے تھمے تو وہ بولا۔ ’’تم تو کبھی ’’فیملی‘‘ کے معاملات میں ملوث ہونا پسند نہیں کرتے تھے۔ تم بے ضرر معاملات سے بھی کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے تھے اور اب تم بیک وقت سولوزو اور کیپٹن کو ٹھکانے لگانا چاہتے ہو۔ لگتا ہے تم اس معاملے کو کاروباری جھگڑے سے زیادہ ذاتی دشمنی کے طور پر لے رہے ہو۔ صرف اس لئے کہ اس پولیس والے نے تمہارے منہ پر گھونسا مارا تھا۔‘‘ اس نے ایک اور قہقہہ لگایا۔ پھر بولا۔ ’’ایک بات یاد رکھنا۔ جنگ میں دشمن کو مارنے پر تمغے ملتے ہیں۔ یہاں دشمن کو مارنے پر سزائے موت ملتی ہے۔ بجلی کی کرسی پر بیٹھنا پڑتا ہے۔‘‘
وہ ایک بار پھر قہقہے لگانے لگا۔ مائیکل پلکیں جھپکائے بغیر اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ پھر وہ اٹھ کھڑا ہوا اور اسی طرح ایک ٹک اس کی طرف دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں بولا۔ ’’بہتر ہوگا کہ تم ہنسنا بند کردو۔‘‘
اس کی آواز میں کوئی ایسی بات تھی کہ سنی کے قہقہے یکدم رک گئے۔ مینزا اور ٹیسو کے چہروں سے بھی مسکراہٹ غائب ہوگئی۔ مائیکل دراز قد یا بھاری بھرکم نہیں تھا۔ بظاہر اس کی شخصیت میں مرعوب کرنے والی کوئی خصوصیت نظر نہیں آتی تھی۔ اس کے باوجود اس کی موجودگی کسی بے عنوان خطرے کا احساس دلاتی تھی۔ خاص طور پر اس وقت کچھ ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے وہ ڈون کارلیون کا دوسرا جنم ہو۔ اس نے بدستور سنی کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سرد اور سفاک لہجے میں پوچھا۔ ’’کیا تمہارے خیال میں، میں یہ کام نہیں کرسکتا؟‘‘
’’نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ تم یہ کام کرسکتے ہو۔‘‘ سنی فوراً بولا۔ ’’تم نے جو کچھ کہا، میں اس پر نہیں ہنس رہا ہوں۔ میں تو حالات کے تغیر اور وقت کی ستم ظریفی پر ہنس رہا ہوں۔ میرا بچپن سے ہی تمہارے بارے میں یہ خیال تھا کہ تم گھر میں سب سے زیادہ سخت جان اور غصیلے ہو۔ تم چھوٹے ہوتے ہوئے بھی دونوں بڑے بھائیوں سے خوب لڑتے تھے۔ تم کسی سے نہیں ڈرتے تھے۔‘‘ وہ ایک بار پھر ہنسا لیکن اس بار اس کا انداز مختلف تھا۔ ’’اور سولوزو نے مذاکرات کے لئے تمہیں بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ اس گدھے کے خیال میں تم سب سے کمزور اور نرم دل ہو۔ شاید اس کی یہ رائے اس لئے بھی مزید مضبوط ہوگئی ہو کہ تم نے کیپٹن کلس سے گھونسا کھا کر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا اور تمہارے بارے میں پہلے ہی سے مشہور ہے کہ تم ’’فیملی‘‘ کے معاملات میں ملوث ہونا پسند نہیں کرتے۔ تمہیں بلانے میں وہ کوئی خطرہ محسوس نہیں کررہا۔‘‘ اس نے ایک لمحے توقف کیا۔ پھر بولا تو اس کے لہجے میں فخر جھلک آیا۔ ’’لیکن تم بہرحال کارلیون فیملی کے فرد ہو اور اس بات کا اندازہ صرف مجھے تھا کہ جب تم جھرجھری لے کر بیدار ہوگے تو تمہارے اوپر سے گویا ایک خول اتر جائے گا۔ جس دن سے پاپا پر حملہ ہوا ہے، اس دن سے میں اسی تبدیلی کے انتظار میں تھا۔ مجھے معلوم تھا تم میرا دایاں بازو ثابت ہوگے اور ان سؤر کے بچوں کا قصہ ختم کرنے میں میرا ساتھ دو گے جو ڈون اور اس کی فیملی کو تباہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جبڑے پر صرف ایک گھونسا پڑنے سے تمہارے اندر کا شیر باہر آگیا ہے۔ مجھے بڑی خوشی ہے۔‘‘ اس نے جوشیلے انداز میں ہوا میں گھونسا چلایا۔
کمرے میں پھیلی ہوئی کشیدگی یکدم کم ہوگئی۔ مائیکل دھیمے لہجے میں بولا۔ ’’میں یہ کام اس لئے کرنا چاہتا ہوں کہ میں سولوزو کو پاپا پر ایک اور حملے کا موقع دینا نہیں چاہتا۔ جو کچھ میں نے سوچا ہے، میرے خیال میں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ صرف میں ہی ہوں جسے ان لوگوں کے سامنے جانے کا موقع مل سکتا ہے۔ اور میں ہی یہ کام کر سکتا ہوں۔ تم بھی کرسکتے تھے لیکن ایک
تو وہ لوگ تمہیں اپنے قریب پھٹکنے کا موقع نہیں دیں گے۔ دوسرے تم بیوی، بچوں والے ہو، تمہیں ان کے بارے میں بھی سوچنا ہے اور اس وقت تک ’’فیملی‘‘ کے معاملات کو بھی سنبھالنا ہے جب تک پاپا تندرست نہیں ہوجاتے۔ فریڈ ابھی کچھ کرنے کے قابل نہیں ہے۔ چنانچہ میں یہ سب باتیں منطقی جواز کے تحت کررہا ہوں۔ میرے جبڑے پر گھونسا پڑنے کا ان باتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘
سنی آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگاتے ہوئے بولا۔ ’’مجھے اس بات کی پروا نہیں ہے کہ تمہارے پاس جواز کیا ہے یا تم کیا سوچ رہے ہو۔ میرے لئے بس یہ بات اہم ہے کہ تم ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہوگئے ہو اور میرے خیال میں تم جو کچھ کہہ رہے ہو، وہ بالکل ٹھیک ہے۔‘‘ پھر وہ ہیگن کی طرف مڑتے ہوئے بولا۔ ’’تم کیا کہتے ہو ہیگن…؟‘‘
ہیگن کندھے اچکا کر بولا۔ ’’مائیکل کی باتیں معقول ہیں۔ میری نظر میں سولوزو انتہائی ناقابل اعتبار آدمی ہے۔ ادھر وہ مذاکرات کی باتیں کررہا ہے لیکن کچھ بعید نہیں کہ اسی دوران وہ ڈون پر ایک اور حملہ کرنے کی کوشش کرے۔ اس لئے ہمیں اس کا پکا اور تسلی بخش بندوبست کرنا پڑے گا، خواہ اس کے لئے ہمیں اس کے ساتھ ساتھ کیپٹن کلس کا بھی پتا صاف کرنا پڑے لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ جو کوئی بھی یہ کام کرے گا، اسے بہت سے خطرات کا سامنا کرنا ہوگا۔ پولیس اور دوسرے بہت سے لوگ اس کے خون کے پیاسے ہوں گے۔ کیا یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی یہ کام مائیکل کے سپرد کرنا ضروری ہے؟‘‘
’’تو پھر میں کرلیتا ہوں۔‘‘ سنی بولا۔
ہیگن نے نفی میں سر ہلایا۔ ’’یہ بات پہلے ہی ہوچکی ہے۔ سولوزو کے ساتھ اگر پولیس کے دس کیپٹن ہوں، تب بھی وہ تمہیں اپنے قریب نہیں پھٹکنے دے گا۔ اس کے علاوہ وہ دوسری بات بھی اہم ہے کہ اس وقت تم ہی فیملی کے سربراہ ہو۔ ہم تمہیں اتنے بڑے خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔‘‘ وہ ایک لمحے کے لئے خاموش ہوا۔ ٹیسو اور مینزا کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولا۔ ’’تمہارے پاس کوئی ٹاپ کا آدمی ہے جو یہ کام کرسکے؟‘‘
ٹیسو اور مینزا نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ تب ہیگن نے مزید کہا۔ ’’جو آدمی بھی یہ کام عمدگی سے کردے گا، اسے یا اس کے اہل خانہ کو باقی تمام زندگی میں کبھی کسی مالی مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔‘‘
مینزا بولا۔ ’’میرے اور ٹیسو کے تمام ٹاپ کے آدمیوں کو سولوزو اچھی طرح پہچانتا ہے۔ اگر ہم نے ان میں سے کسی کو مذاکرات کے لئے بھیجا تو سولوزو اسے دور سے دیکھ کر ہی بدک جائے گا اور مذاکرات کی نوبت نہیں آئے گی۔ اگر میں یا ٹیسو خود جاتے ہیں تب بھی یہی صورتحال ہوگی۔‘‘
سنی ہاتھ اٹھاتے ہوئے فیصلہ کن لہجے میں بولا۔ ’’تو پھر گویا طے ہوگیا کہ یہ کام مائیکل ہی کو کرنا ہے اور مجھے یقین ہے کہ مائیکل یہ کام نہایت اچھے طریقے سے کرسکتا ہے۔ یہ موقع ہمیں صرف ایک ہی بار ملے گا اس لئے ہم کام خراب ہونے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ ہمیں اب صرف یہ سوچنا ہے کہ ہم پس منظر میں رہتے ہوئے مائیکل کی زیادہ سے زیادہ مدد کس طرح کرسکتے ہیں۔‘‘ پھر اس نے بیک وقت ہیگن، مینزا اور ٹیسو کو مخاطب کیا۔ ’’تم لوگ ہر ممکن طریقے سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرو کہ سولوزو ملاقات کے لئے کون سی جگہ منتخب کرے گا۔ یہ خبر حاصل کرنے پر خواہ کتنا ہی خرچ آجائے، اس کی پروا مت کرنا۔ اس کے بعد ہم یہ دیکھیں گے کہ ہم اس جگہ مذاکرات کے دوران کس طرح مائیکل کے ہاتھوں میں کوئی پستول یا ریوالور پہنچا سکیں گے۔‘‘ اس نے ایک لمحے کے لئے خاموش ہوکر گویا کچھ سوچا پھر خاص طور پر مینزا کو مخاطب کیا۔ ’’تم اس موقع کے لئے ایک ایسی گن کا بندوبست کرکے رکھو جو سائز میں چھوٹی ہو اور جس کا کہیں سے کوئی سراغ نہ لگایا جاسکے کہ وہ کب اور کہاں سے خریدی گئی تھی یا کس کی ملکیت تھی۔ اس پر اس خاص مادے کی تہہ بھی جما دینا جس کی وجہ سے انگلیوں کے نشانات ثبت نہیں ہوتے۔‘‘
پھر اس نے مائیکل کو مخاطب کیا۔ ’’تم جیسے ہی اس گن کو استعمال کر چکو، اسے میز کے نیچے پھینک دینا۔ اگر خدانخواستہ تم پکڑے بھی جائو تو بھی وہ گن تمہارے قبضے میں نہیں ہونی چاہیے۔ چشم دید گواہوں اور باقی سب چیزوں کا کوئی نہ کوئی بندوبست کرلیں گے لیکن اگر گن تمہارے پاس سے برآمد ہوگئی تو پھر بہت بڑا مسئلہ کھڑا ہوجائے گا۔ ویسے تمہاری حفاظت اور تمہیں وہاں سے فرار کرانے کے لئے سارے انتظامات ہوچکے ہوں گے۔



تمہیں کسی قسم کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ تمہیں کافی عرصے کے لئے یہاں سے غائب ہونا پڑے گا لیکن میں نہیں چاہتا کہ تم اپنی گرل فرینڈ کو پہلے سے یہ بات بتائو یا اسے خداحافظ کہو۔ جب تم خیر و عافیت سے یہاں سے نکل جائو گے تو پھر میں تمہاری گرل فرینڈ کو پیغام بھجوا دوں گا کہ تم جہاں بھی ہو، ٹھیک ٹھاک ہو۔ پریشانی کی کوئی بات نہیں۔‘‘
وہ ایک لمحے کے لئے خاموش ہوا۔ پھر الفاظ پر ذرا زور دے کر بولا۔ ’’میں جو کچھ کہہ رہا ہوں، اسے حکم سمجھنا۔‘‘
’’تمہیں میرے لئے یوں بچوں کی طرح ہدایات جاری کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ مائیکل خشک لہجے میں بولا۔ ’’کیا میں تمہارے خیال میں اتنا بھی نہیں سمجھتا کہ کس قسم کی صورتحال میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟‘‘
’’تم کتنے عقلمند سہی، لیکن ان معاملات میں بہرحال ابھی اناڑی ہو۔‘‘ سنی نرمی سے بولا۔
ہیگن گویا بات ختم کرنے کے لئے بولا۔ ’’چلو اب کم ازکم یہ تو واضح ہوگیا کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔‘‘
٭…٭…٭
کیپٹن کلس اپنے آفس میں بیٹھا موٹے سے ایک لفافے کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے سے خوشی عیاں تھی۔ اس لفافے میں مخصوص قسم کی بہت سی پرچیاں تھیں۔ کیپٹن کا ایک ماتحت ایک ایسے بکی سے یہ پرچیاں چھین کر لایا تھا جو غیرقانونی طور پر شرطیں بک کرنے کا کام کرتا تھا۔ کہنے کو تو کیپٹن کے ماتحت نے اس بکی کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا تھا لیکن درحقیقت اس کا انداز بکی کو لوٹنے کا تھا کیونکہ اس نے جو چیزیں اپنے قبضے میں لی تھیں، ان کا کہیں اندراج نہیں ہوا تھا۔ وہ بکی، کارلیون فیملی کی سرپرستی میں کام کرتا تھا اس لئے اس پر چھاپہ ڈلوا کر کیپٹن کلس کو زیادہ خوشی ہوئی تھی لیکن اس سے بھی زیادہ خوشی اسے اس بات کی تھی کہ یہ پرچیاں بکی کو واپس کرکے وہ رشوت کے طور پر اچھی خاصی موٹی رقم حاصل کرسکتا تھا۔
اس تصور سے محظوظ ہوتے ہوئے اس نے وال کلاک کی طرف دیکھا۔ اسے سولوزو کو ایک مقررہ وقت پر، مقررہ مقام سے ساتھ لینا تھا اور پھر اس جگہ لے جانا تھا جہاں کارلیون فیملی کے نمائندے سے اس کی ملاقات طے ہوئی تھی۔
کیپٹن کلس اٹھ کر اپنے لاکر کے پاس پہنچا اور کپڑے تبدیل کرنے لگا۔ پولیس کی وردی اتار کر اس نے سادہ لباس پہن لیا۔ پھر اپنی بیوی کو فون کرکے بتایا کہ وہ رات کے کھانے پر گھر نہیں آئے گا۔ وہ ایک سرکاری کام پر جارہا ہے۔ وہ اپنی ’’خصوصی‘‘ مصروفیات کے بارے میں اپنی بیوی کو کچھ نہیں بتاتا تھا۔ اس کی بیوی کافی حد تک سادہ لوح تھی اور یہی سمجھتی تھی کہ ایک پولیس آفیسر کی حیثیت سے اس کے شوہر کی تنخواہ اچھی خاصی تھی اسی لئے وہ عیش و آرام سے رہتے تھے۔ اس کے بارے میں سوچتے ہوئے کلس مسکرا دیا۔ اسے یاد آیا کہ اس کی ماں بھی یہی سوچا کرتی تھی لیکن کلس نے خاصی چھوٹی عمر میں ہی اپنے گھر کی خوشحالی کا راز سمجھ لیا تھا۔
اس کا باپ پولیس سارجنٹ تھا۔ ہر ہفتے کی شام وہ کم عمر کلس کو ساتھ لیتا اور اپنے پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع بہت سی دکانوں پر جاتا اور بظاہر بڑے ملنسارانہ انداز میں کلس کا تعارف دکاندار سے کراتا۔ ’’یہ میرا بیٹا ہے کلس! بڑا ہونہار بچہ ہے۔‘‘
یہ سن کر ہر دکاندار خوش خلقی سے دانت نکالتا پھر اپنے کیش رجسٹر سے پانچ یا دس ڈالر کا نوٹ نکال کر کمسن کلس کی جیب میں ڈالتے ہوئے کہتا۔ ’’لو بیٹا! آئسکریم یا اپنی پسند کی کوئی چیز کھا لینا۔‘‘
مزید خوش خلقی اور شفقت کے اظہار کے لئے وہ کلس کے گال بھی تھپتھپاتا۔ باپ، بیٹا آگے بڑھ جاتے۔ گھر پہنچنے تک کلس کی تمام جیبیں نوٹوں سے بھر چکی ہوتیں جو اس کا باپ خالی کرالیتا۔ کلس کو صرف ایک دو ڈالر ملتے باقی تمام رقم اس کا باپ بینک میں جمع کرا دیتا اور اسے سمجھاتا کہ یہ سب اس کی تعلیم اور بہتر مستقبل کے لئے ہورہا تھا۔ کلس سے اس زمانے میں کوئی پوچھتا کہ وہ بڑا ہوکر کیا بنے گا تو وہ فوراً جواب دیتا تھا۔ ’’پولیس آفیسر۔‘‘
اسے پولیس آفیسر بننے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ وہ ایک نہایت سخت گیر اور سخت جان پولیس آفیسر ثابت ہوا۔ بدمعاش اس سے ڈرتے تھے تاہم جب اس نے رشوت لینی شروع کی تو اپنے باپ کی روایت نہیں اپنائی۔ وہ رشوت کی رقم جمع کرنے کے لئے بیٹے کو ساتھ لے کر نہیں جاتا تھا بلکہ رقم خود وصول کرتا تھا۔ وہ یہ رقوم وصول کرنے میں خود کو حق بہ جانب سمجھتا تھا کیونکہ وہ
دکانداروں اور تاجروں کو چھوٹے موٹے بدمعاشوں اور بھتہ خوروں سے بچاتا تھا۔ انہیں تحفظ فراہم کرتا تھا۔ اگر کوئی بدمعاش یا بھتہ خور اس کے علاقے میں دکانداروں کو تنگ کرکے ان سے کچھ وصول کرنے کی کوشش کرتا تو کلس اس کا وہ حشر کرتا کہ آئندہ وہ اس علاقے کا رخ کرنے کی جرأت نہیں کرتا تھا۔ اس لئے دکاندار اس کی خدمت میں بخوشی نذرانہ پیش کرتے تھے۔ ان کے خیال میں بدمعاش کے رحم و کرم پر رہنے سے بہتر تھا کہ وہ ایک بارعب اور سخت گیر پولیس آفیسر کی حفاظت اور سرپرستی میں رہتے۔
کلس کے اخراجات کافی تھے۔ اس کے چار جوان بیٹے یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے تھے۔ ان میں سے کوئی پولیس مین نہیں بنا تھا۔ کلس ترقی کرتے کرتے کیپٹن بن گیا تھا۔ عہدہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنی رشوت کے ریٹ بھی بڑھاتا چلا آیا تھا۔ اس کے خیال میں یہ کوئی ناانصافی کی بات نہیں تھی۔ آخر اس کے اخراجات اور مہنگائی بھی تو بڑھ رہی تھی۔ اسے محکمے سے کوئی شکایت نہیں تھی کہ وہ اپنے ملازمین کو کم تنخواہیں دیتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ جن محکموں میں تنخواہیں کم تھیں، ان کے ملازمین کو خود بھی اپنی آمدنی میں اضافے کے لئے کچھ ہاتھ، پائوں مارنے چاہیے تھے۔
ٹے ٹیگ لیا فیملی کا نوجوان برونو بھی اس کے کرم فرمائوں میں شامل رہا تھا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ دونوں ہی ایک دوسرے کے کرم فرما تھے۔ دونوں ایک دوسرے کے کام آتے تھے۔ ایک دوسرے کی مشکلات دور کرتے تھے۔
جب کوئی کلس کا تعاون حاصل کرنے کے لئے اس سے رابطہ کرتا تو کلس زیادہ تفصیلات میں نہیں جاتا تھا۔ زیادہ سوالات یا چھان بین نہیں کرتا تھا۔ وہ اس رقم سے غرض رکھتا تھا جو اسے تعاون کے بدلے مل سکتی تھی۔ رقم جتنی زیادہ ہوتی تھی، اتنی ہی جلدی وہ تعاون پر کمربستہ ہوتا تھا۔ سولوزو نے اس کے تعاون کی بڑی بھاری قیمت لگائی تھی اور کلس نے ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوچا تھا کہ اس جنگ میں وہ جو کردار ادا کرنے جارہا تھا، اس میں خود اس کی اپنی جان کو بھی کوئی خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔ اس کا نظریہ یہی تھا کہ نیویارک کے ایک پولیس کیپٹن کو ہلاک کرنے کا خیال کسی پاگل کے دماغ میں بھی نہیں آسکتا۔
پولیس اسٹیشن سے نکلنے کی تیاری کرتے وقت اس کا ذہن کئی مسائل میں الجھا ہوا تھا لیکن ان مسائل کا تعلق اس کی پیشہ ورانہ زندگی سے نہیں بلکہ گھریلو زندگی سے تھا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ وہ اپنی رشوت کی کمائی سے اکثر اپنے اور اپنی بیوی کے عزیزوں، رشتے داروں کی مدد بھی کرتا رہتا تھا۔ اس معاملے میں وہ سخت دل نہیں تھا۔ اس وقت بھی دراصل اسے اپنے کچھ مصیبت زدہ عزیزوں، رشتے داروں کا خیال آرہا تھا۔ وہ جب اپنے گائوں یا دوسرے چھوٹے موٹے شہروں میں ان عزیزوں، رشتے داروں کے ہاں جاتا تھا تو وہ اس کا استقبال یوں کرتے جیسے ان کے گھر میں کوئی بادشاہ آگیا ہو۔ وہ اس کے قدموں میں بچھے جاتے تھے۔ ان کے اس طرزعمل سے کلس کو بڑی خوشی ہوتی تھی۔
پولیس اسٹیشن سے رخصت ہوتے وقت اس نے ڈیسک کلرک کو بتا دیا کہ اگر اس کی ضرورت پڑ جائے تو اس سے کہاں رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ اس نے اس معاملے میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ اگر یہ بات سامنے آبھی جاتی کہ وہ سولوزو سے ملنے گیا تھا تو وہ کہہ سکتا تھا کہ سولوزو اصل میں اس کا مخبر تھا اور وہ اس سے کچھ ضروری معلومات حاصل کرنے کی غرض سے ملاقات کرنے گیا تھا۔
پولیس اسٹیشن سے نکل کر کچھ دور پیدل چلا، پھر ایک ٹیکسی پکڑ کر اس مکان کی طرف چل دیا جس کے تہہ خانے میں ان دنوں سولوزو چھپا ہوا تھا۔
٭…٭…٭
سولوزو سے مائیکل کی ملاقات ایک ریسٹورنٹ میں طے پائی تھی۔ ہیگن کو اس دوران بہت سے انتظامات ہنگامی طور پر کرنے پڑے تھے۔ مائیکل کو بتا دیا گیا تھا کہ جب وہ ’’کام‘‘ ختم کرکے ریسٹورنٹ سے نکلے گا تو سامنے ہی ایک پرانی سی کار لئے ٹیسو اس کا منتظر ہوگا جو اس کے ڈرائیور کے فرائض انجام دے گا۔ کار پرانی لیکن اس کا انجن نہایت عمدہ ہوگا اور اس پر جعلی نمبر پلیٹ لگی ہوگی۔
مینزا نے اسے وہ گن بھی دکھا دی تھی جو میٹنگ کے دوران کس طرح اس تک پہنچائی جانی تھی۔ مینزا نے اس گن کو استعمال کرنے کی تھوڑی سی مشق بھی کرا دی تھی تاکہ عین وقت پر کوئی معمولی گڑبڑ بھی نہ ہو۔ ایک بار پھر اس نے مائیکل کو ہدایات دیتے ہوئے کہا تھا۔ ’’گن
کرچکنے کے بعد اس طرح میز کے نیچے پھینک دینا کہ آس پاس موجود افراد میں سے کسی کو پتا نہ چلے تاکہ جب تم وہاں سے نکلو تو لوگ یہی سمجھیں کہ تم ابھی مسلح ہی ہو۔ اس صورت میں کوئی تمہارا راستہ روکنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ تم تیز تیز قدموں سے باہر آنا لیکن دوڑنا نہیں۔ باہر گاڑی میں ٹیسو تمہارا منتظر ہوگا۔ گاڑی میں بیٹھنے کے بعد باقی سارا کام اس پر چھوڑ دینا۔‘‘
پھر اس نے ہلکے سے رنگ کا ایک ہیٹ بھی مائیکل کے سر پر رکھ دیا۔ مائیکل ہیٹ پہننے کا عادی نہیں تھا لیکن مینزا نے اسے ہدایت کی۔ ’’اسے اپنے سر پر ہی رہنے دینا اور چھجا ذرا سا جھکا کر رکھنا۔ اس سے عینی شاہدین کیلئے بھی شناخت کا تعین ذرا مشکل ہوجاتا ہے۔‘‘
’’کیا سنی کو اس ریسٹورنٹ کا نام اور محل وقوع معلوم ہوگیا ہے جس میں سولوزو سے میری ملاقات ہوگی؟‘‘ مائیکل نے پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘ مینزا نے جواب دیا۔ ’’سولوزو بہت زیادہ احتیاط کررہا ہے لیکن بہرحال یہ اندیشہ نہیں ہے کہ وہ تمہیں گزند پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ رابطے کا آدمی تمہاری واپسی تک ہماری تحویل میں ہوگا۔ وہ بھی ٹے ٹیگ لیا فیملی کا ایک اہم آدمی ہے۔‘‘
وہ دونوں آفس نما اس کمرے میں پہنچے جہاں سنی نے ڈیرہ ڈالا ہوا تھا۔ سنی وہاں کائوچ پر لیٹا ہوا تھا۔ اس کی آنکھ لگ گئی تھی۔ اس کے قریب میز پر ایک پلیٹ میں سینڈوچ کا بچاکھچا ٹکڑا پڑا تھا۔ مائیکل نے اس کا کندھا ہلا کر اسے جگایا تو وہ اٹھ بیٹھا۔
سنبھل کر بیٹھنے کے بعد وہ مائیکل سے مخاطب ہوا۔ ’’سولوزو اور کیپٹن کلس تمہیں کہیں راستے میں سے اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھائیں گے لیکن ابھی تک اس ریسٹورنٹ کا نام ہمیں نہیں بتایا گیا ہے جہاں وہ تمہیں لے کر جائیں گے اور اگر ہمیں کسی طرح بھی اس ریسٹورنٹ کا نام معلوم نہ ہوسکا تو ہم میٹنگ کے دوران گن تمہارے ہاتھوں میں پہنچانے کا بندوبست نہیں کرسکیں گے۔’’
مائیکل نے پرخیال انداز میں آہستگی سے سر ہلایا اور پانی سے ایک دردکش گولی نگلنے لگا۔ اس کے جبڑے میں اس وقت بھی کافی درد تھا۔ اسی اثناء میں ہیگن کمرے میں آیا اور خاص ٹیلیفون پر اس نے یکے بعد دیگرے کئی لوگوں سے بات کی۔ آخر وہ ریسیور رکھ کر قدرے مایوسی سے سر ہلاتے ہوئے بولا۔ ’’اس ریسٹورنٹ کے نام اور اس کے محل وقوع کے بارے میں ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہو پا رہا۔ وہ بدبخت سولوزو اسے آخری لمحے تک خفیہ رکھنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔‘‘
اسی لمحے فون کی گھنٹی بجی۔ ریسیور سنی نے اٹھایا اور دوسری طرف سے کچھ سننے کے بعد سب کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ چند لمحے وہ انہماک سے بات سنتا رہا۔ پھر بولا۔ ’’ٹھیک ہے، وہ وہاں پہنچ جائے گا۔‘‘ ریسیور رکھنے کے بعد وہ زہریلے انداز میں دھیرے سے ہنسا اور بولا۔ ’’اس خبیث سولوزو کا پیغام تھا۔ آج رات آٹھ بجے وہ اور کیپٹن کلس، براڈوے پر واقع جیک کے بار کے سامنے سے مائیکل کو اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھائیں گے اور ملاقات کی جگہ پر لے جائیں گے۔ سولوزو کا کہنا ہے کہ وہ اور مائیکل اطالوی میں بات کریں گے تاکہ کیپٹن کلس کچھ نہ سمجھ سکے۔‘‘
’’لیکن مائیکل کے جانے سے پہلے رابطے کا آدمی ہماری تحویل میں ہونا چاہیے۔‘‘ ہیگن بولا۔
’’رابطے کا آدمی اس وقت میرے گھر پر میرے تین آدمیوں کے ساتھ تاش کھیل رہا ہے۔‘‘ مینزا نے بتایا۔ ’’یوں سمجھو وہ ہماری تحویل میں ہی ہے۔ میرے آدمی اس وقت تک اسے جانے نہیں دیں گے جب تک میں انہیں فون کرکے حکم نہ دوں۔‘‘
سنی صوفے میں دھنستے ہوئے بولا۔ ’’ابھی تک ہمیں ملاقات کی جگہ کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔‘‘ اس کے انداز میں غصہ، بے بسی اور جھنجھلاہٹ تھی۔ پھر اس نے ہیگن کو مخاطب کیا۔ ’’ہمارے مخبر تو ٹے ٹیگ لیا فیملی میں بھی موجود ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں ہمیں کوئی اطلاع نہیں دی؟‘‘
سولوزو اس معاملے میں حد سے زیادہ رازداری برت رہا تھا۔ اس نے اپنی حفاظت پر بھی کسی کو مامور نہیں کیا اور فرض کرلیا ہے کہ کیپٹن کلس کا اس کے ساتھ ہونا ہی کافی ہے۔‘‘ ہیگن بولا۔ ’’جب وہ دونوں مائیکل کو لے کر روانہ ہوں گے تو ہمارے کسی آدمی کو ان کا تعاقب کرنا ہوگا۔‘‘
’’یہ ممکن نہیں ہوگا۔‘‘ سنی نے نفی میں سر ہلایا۔ ’’انہوں نے خصوصی ہدایت کی ہے کہ کوئی ان کا تعاقب کرنے کی کوشش نہ کرے اور وہ اس سلسلے میں پورا اطمینان بھی کریں
اگر انہیں شبہ بھی ہوگیا کہ کوئی ان کا تعاقب کررہا ہے تو ملاقات خطرے میں پڑ جائے گی۔ اس کے علاوہ پیچھا کرنے والے سے پیچھا چھڑانا زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔‘‘
اس وقت شام کے پانچ بج رہے تھے۔ سنی اپنے چہرے پر تشویش کے آثار لئے چند لمحے کچھ سوچتا رہا۔ پھر بولا۔ ’’براڈوے پر جیک کے بار کے سامنے جب گاڑی مائیکل کو لینے کے لئے رکے تو کیوں نہ مائیکل اسی وقت گاڑی میں موجود افراد کو گولیاں مار دے؟‘‘
ہیگن نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔ ’’اور اگر اس وقت سولوزو گاڑی میں نہ ہوا تو؟‘‘ پھر اسے جیسے کچھ یاد آیا اور وہ چٹکی بجاتے ہوئے بولا۔ ’’وہ جو پولیس میں ہمارا مخبر ہے، سراغرساں فلپس… کیوں نہ اسے فون کیا جائے؟ سنی! تم اسے فون کرو شاید وہ معلوم کرسکے کہ کیپٹن آج رات کہاں کے لئے روانہ ہورہا ہے۔ شاید کیپٹن کلس کو رازداری کی اتنی زیادہ پروا نہ ہو اور وہ پولیس اسٹیشن میں کسی کو یہ بتا کر رخصت ہوکہ ضرورت کے وقت اس سے کہاں رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ اس پہلو پر قسمت آزمائی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔‘‘
سنی کی آنکھوں میں کچھ چمک آگئی۔ اس نے فوراً فون پر ایک نمبر ملا کر کچھ دیر نیچی آواز میں بات کی۔ پھر ریسیور رکھ کر بولا۔ ’’فلپس نے کہا ہے کہ وہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گا اور چند منٹ بعد ہمیں فون کرے گا۔‘‘
انہیں چند منٹ کے بجائے آدھا گھنٹہ انتظار کرنا پڑا۔ آخر فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف فلپس تھا۔ اس سے بات کرتے وقت سنی نے ایک کاغذ پر کچھ نوٹ کیا۔ پھر اس نے ریسیور رکھا تو اس کے چہرے پر تنائو بڑھ چکا تھا لیکن اس کے ساتھ امید کا تاثر بھی تھا۔
’’شاید یہی ہماری مطلوبہ جگہ ہو۔‘‘ وہ کاغذ اونچا کرتے ہوئے بولا۔ ’’کیپٹن کلس ہمیشہ یہ بتا کر پولیس اسٹیشن سے رخصت ہوتا ہے کہ ضرورت کے وقت اس سے کہاں رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ آج وہ یہ بتا کر نکلا ہے کہ آٹھ سے دس بجے کے درمیان وہ برونکس کے علاقے میں لیونا ریسٹورنٹ میں ہوگا۔ میں نے تو یہ نام پہلی بار سنا ہے۔ کسی کو اس کے بارے میں کچھ معلوم ہے۔‘‘
’’مجھے معلوم ہے۔‘’‘ ٹیسو فوراً بولا۔ ’’میں نے یہ ریسٹورنٹ دیکھا ہے۔ چھوٹا ہے اور اس میں زیادہ تر فیملیز آتی ہیں۔ اس میں خاصے بڑے بڑے بوتھ ہیں جن میں لوگ آرام سے بیٹھ کر بات کرسکتے ہیں۔ سولوزو نے اپنے مقصد کے لئے اچھی جگہ کا انتخاب کیا ہے۔‘‘
پھر وہ ایک کاغذ پر باقاعدہ نقشہ بنا کر مائیکل کو ریسٹورنٹ کی ساخت کے بارے میں سمجھانے لگا اور یہ بھی بتانے لگا کہ وہ باہر کہاں اس کا منتظر ہوگا اور کس طرح گاڑی کی ہیڈ لائٹ سے اسے سگنل دے گا۔ یہ سب سمجھاتے ہوئے وہ بولا۔ ’’اور اگر اندر کوئی گڑبڑ ہوجائے تو چیخ کر مجھے پکارنا۔ میں آکر تمہیں وہاں سے نکالنے کی کوشش کروں گا۔‘‘ پھر وہ مینزا سے مخاطب ہوا۔ ’’تمہیں جلدی سے اپنے کسی آدمی کو لیونا ریسٹورنٹ بھیجنا ہوگا تاکہ وہ پہلے ہی وہاں گن چھپا دے۔ اس ریسٹورنٹ کے ٹوائلٹ پرانی ساخت کے ہیں۔ ان میں فلش کی ٹنکی اور دیوار کے درمیان کچھ فاصلہ ہے۔ اپنے آدمی کو ہدایت کردو کہ گن اس جگہ فلش کی ٹنکی کے پچھلی طرف ٹیپ سے چپکا دے۔‘‘ پھر اس کا رخ مائیکل کی طرف ہوگیا۔ ’’وہ جب کار میں تمہاری تلاشی لے چکیں گے اور دیکھ چکے ہوں گے کہ تمہارے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے تو وہ تمہاری طرف سے بالکل بے فکر ہوجائیں گے۔ ریسٹورنٹ میں کچھ دیر بات کرنے کے بعد تم ان سے واش روم جانے کی اجازت طلب کرنا۔ وہ یقیناً یہی سمجھیں گے کہ تم نروس ہو۔ ان حالات میں تمہارا واش روم جانا انہیں چونکانے کا باعث نہیں بنے گا اور واش روم سے آنے کے بعد وقت ضائع مت کرنا بلکہ دوبارہ بیٹھنے کی بھی ضرورت نہیں۔ فوراً اپنا کام کرنا۔ دونوں کے سر میں دو دو گولیاں اتارنا تاکہ بچنے کا کوئی امکان نہ رہے۔ اس کے بعد دوڑے بغیر جتنی تیزی سے ممکن ہو، ریسٹورنٹ سے نکل آنا۔‘‘
مائیکل کے علاوہ سنی بھی یہ سب کچھ انہماک سے سن رہا تھا۔ مینزا نے مائیکل کو اطمینان دلایا۔ ’’گن تمہیں وہاں کے ٹوائلٹ میں فلش کی ٹنکی کے پیچھے چپکی ہوئی مل جائے گی۔ میں اپنے ایک بہترین آدمی کو اس کام کے لئے روانہ کررہا ہوں۔‘‘
مینزا اور ٹیسو کمرے سے چلے گئے۔ ہیگن بولا۔ ’’سنی! کیا مائیکل کو براڈوے تک میں گاڑی میں لے جائوں؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ سنی نے بلا تامل جواب دیا۔ ’’میں چاہتا ہوں تم یہیں


مجھے تمہاری یہاں زیادہ ضرورت پڑے گی۔ جونہی مائیکل اپنا ’’کام‘‘ ختم کرے گا، ہمارا کام شروع ہوجائے گا۔ تم نے اخبار والوں کو ہوشیار کردیا ہے۔‘‘
ہیگن اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔ ’’جونہی یہ واقعہ رونما ہوگا، میں انہیں معلومات فراہم کرنا شروع کردوں گا۔‘‘
سنی اٹھ کر مائیکل کے سامنے جاکھڑا ہوا اور گرم جوشی سے اس سے مصافحہ کرتے ہوئے بولا۔ ’’اچھا بچے…! تمہارا کام شروع ہورہا ہے۔ میں مما کو سمجھا دوں گا کہ تم غائب ہونے سے پہلے ان سے کیوں نہیں مل سکے اور مناسب وقت پر میں تمہاری گرل فرینڈ کو بھی تمہاری خیریت سے آگاہ کردوں گا… اوکے؟‘‘
’’اوکے۔‘‘ مائیکل نے فوجیوں والی مستعدی سے کہا اور ایک لمحے کے توقف سے پوچھا۔ ’’تمہارے خیال میں، میں کتنے عرصے بعد واپس آسکوں گا؟‘‘
’’کم ازکم ایک سال تو لگ ہی جائے گا۔‘‘ سنی نے جواب دیا۔
’’اس کا انحصار بہت سی باتوں پر ہے۔‘‘ ہیگن بولا۔ ’’اخبارات سے ہم کس حد تک اپنے حق میں کام لینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ ہمیں سبق سکھانے کے بجائے اپنی عزت بچانے کی کس حد تک فکر کرتا ہے۔ دوسری ’’فیملیز‘‘ کتنی شدت سے اپنا ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔ ان سب باتوں پر تمہاری واپسی کا انحصار ہوگا۔ بہرحال یہ تو طے ہے کہ بہت ہنگامہ، بہت خون خرابہ ہوگا اور بہت ہلچل مچے گی۔‘‘
٭…٭…٭
براڈوے پر مائیکل مقررہ وقت سے پندرہ منٹ پہلے ہی جیک کے بار کے سامنے پہنچ گیا تھا اور فٹ پاتھ پر کھڑا انتظار کررہا تھا کہ کوئی گاڑی اسے لینے آئے۔ اسے یقین تھا کہ سولوزو وقت کی پابندی کرے گا۔ اسے یہ بھی یقین تھا کہ اسے ایک نہایت مشکل کام درپیش تھا جس کی وجہ سے اس کی زندگی کا رخ تبدیل ہورہا تھا اور جس میں اس کی جان بھی جاسکتی تھی۔ سولوزو کوئی عام انسان نہیں تھا اور کلس ایک نہایت سخت جان اور سفاک پولیس آفیسر تھا۔ جونی کے جبڑے میں اس وقت بھی درد ہورہا تھا لیکن اسے یہ درد گراں نہیں گزر رہا تھا۔ اسے امید تھی کہ یہ درد ہی اسے مستعد اور چوکنا رکھے گا۔ وہ ایک لمحے کے لئے بھی سست پڑنا نہیں چاہتا تھا۔
براڈوے پر اس وقت چہل پہل نہیں تھی۔ وہ ایک سرد رات تھی۔ آخر ایک بڑی سی سیاہ کار فٹ پاتھ کے قریب عین مائیکل کے سامنے آکر رکی تو اس کا دل دھڑک اٹھا۔ ڈرائیور والی سائیڈ سے کسی نے دروازہ کھولا اور باہر جھک کر کہا۔ ’’بیٹھ جائو مائیکل!‘‘
مائیکل اسے پہچانتا نہیں تھا۔ وہ کوئی نوجوان بدمعاش معلوم ہوتا تھا جس کا گریبان کھلا تھا۔ مائیکل کو چونکہ نام لے کر مخاطب کیا گیا تھا۔ اس لئے وہ گاڑی میں بیٹھ گیا اور تب اس نے دیکھا کہ پچھلی سیٹ پر سولوزو اور کلس موجود تھے۔ سولوزو نے مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ مائیکل نے اس سے مصافحہ کرلیا۔ اس کے مضبوط ہاتھ میں حرارت تھی اور اس پر پسینے کی نمی نہیںتھی۔
’’مجھے تمہارے آنے کی خوشی ہے مائیکل!‘‘وہ ہموار اور خالص کاروباری لہجے میں بولا۔ ’’مجھے امید ہے کہ ہم مل کر معاملات کو سلجھا سکیں گے۔ جو کچھ ہوا ہے، وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘‘
’’میری بھی خواہش ہے کہ آج رات مسئلہ حل ہوجائے۔‘‘ مائیکل پرسکون لہجے میں بولا۔ ’’میں نہیں چاہتا کہ میرے والد کو مزید کوئی تکلیف دی جائے۔‘‘
’’میں اپنے بچوں کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تمہارے والد کو آئندہ کوئی تکلیف نہیں پہنچائی جائے گی۔‘‘ سولوزو بولا۔ ’’بس! میں چاہتا ہوں کہ تم ذرا دل کشادہ رکھ کر مجھ سے بات کرو۔ تمہارا بڑا بھائی تو بہت گرم کھوپڑی کا ہے۔ اس سے کاروباری گفتگو کرنا اور معاملات طے کرنا بہت مشکل ہے۔‘‘
کیپٹن کلس نے ہنکارا بھرا اور ہاتھ بڑھا کر مشفقانہ انداز میں مائیکل کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے بولا۔ ’’یہ بڑا اچھا بچہ ہے۔ امید ہے اس سے بات چیت نتیجہ خیز رہے گی۔‘‘ پھر وہ براہ راست مائیکل سے مخاطب ہوا۔ ’’مجھے اپنے اس رات کے رویّے پر افسوس ہے مائیکل! مجھے احساس ہے کہ شاید میں بوڑھا ہوتا جارہا ہوں، اس لئے مجھے جلدی غصہ آجاتا ہے اور پھر میرا کام بھی کچھ ایسا ہے۔ ہر وقت ہی میرے سامنے غصہ دلانے والی باتیں ہوتی ہیں۔‘‘ اس نے ٹھنڈی سانس لے کر اپنی حالت پر گویا خود ہی تاسف کا اظہار کیا۔ پھر آگے جھک کر نہایت ماہرانہ انداز میں مائیکل کی تلاشی لی۔ اس کا انداز ایسا تھا کہ مائیکل کے پاس اگر کوئی ننھا سا بھی ہتھیار ہوتا تو
نہیں رہ سکتا تھا۔
اس نے مطمئن ہوکر سولوزو کی طرف دیکھ کر سر ہلا دیا اور سولوزو بھی مطمئن ہوگیا۔ گاڑی اس دوران تیز رفتاری سے آگے روانہ ہوچکی تھی۔ اگر کوئی ان کے تعاقب میں ہوتا تو اسے بھی ٹریفک کے درمیان تیز رفتاری ہی کا مظاہرہ کرنا پڑتا۔ وہ لوگ تعاقب کے سلسلے میں قطعی فکرمند نظر نہیں آرہے تھے۔
گاڑی ویسٹ سائیڈ ہائی وے کی طرف جارہی تھی لیکن اس وقت اسے مایوسی کا دھچکا لگا جب گاڑی جارج واشنگٹن برج کی طرف مڑ گئی۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ لوگ برونکس کے علاقے کی طرف نہیں جارہے تھے جہاں لیونا ریسٹورنٹ واقع تھا۔ ان کا رخ تو نیو جرسی کی طرف ہوچکا تھا۔ مائیکل کو احساس ہوا کہ سنی کو جو اطلاع ملی تھی، اس پر انحصار کرنا ٹھیک نہیں رہا تھا اور اب گویا ساری محنت، ساری منصوبہ بندی اکارت جارہی تھی۔ گن تو لیونا ریسٹورنٹ میں چھپائی گئی تھی لیکن لگتا تھا کہ وہ لوگ اسے مذاکرات کے لئے کہیں اور لے جارہے تھے۔ مائیکل کا دل ڈوبنے لگا۔
کار تیز رفتاری سے پل عبور کرنے کے بعد شہر کی روشنیوں کو پیچھے چھوڑتی ہوئی نیو جرسی کی طرف چلی جارہی تھی۔ مائیکل کوشش کررہا تھا کہ اس کے چہرے سے کسی قسم کے تاثرات کا اظہار نہ ہو۔ وہ سوچ رہا تھا کہ نہ جانے وہ لوگ اسے مار کر اس کی لاش دلدلی علاقے میں پھینکنے کی نیت سے ادھر جارہے تھے یا پھر سولوزو نے آخری لمحے میں ملاقات کی جگہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا؟
وہ ایک دوراہے پر آن پہنچے جہاں سے وہ سیدھے چلتے رہتے تو نیوجرسی کی طرف ان کا سفر جاری رہتا لیکن دوسری طرف سے سڑک نیویارک کی طرف جارہی تھی۔ اس دوراہے پر پہنچ کر عین آخری لمحے میں ڈرائیور نے قطعی غیر متوقع طور پر اتنی تیزی سے اسٹیئرنگ وہیل گھمایا کہ اندازے کی ذرا سی غلطی سے کار اس رکاوٹ سے ٹکرا کر تباہ ہوسکتی تھی جو دونوں سڑکوں کو تقسیم کررہی تھی۔ کار کی تباہی کے ساتھ کار سواروں کا مرنا بھی یقینی تھا لیکن لگتا تھا کہ ڈرائیور کو اپنے آپ پر بے پناہ اعتماد تھا۔
کار ہوا میں ذرا سا اچھلی۔ اس کے ٹائر بری طرح چرچرائے اور پلک جھپکتے میں اس کا رخ نیویارک کی طرف ہوچکا تھا۔ وہ واپس اسی سمت میں جارہے تھے، جدھر سے آئے تھے۔ سولوزو اور کلس دونوں بیک وقت مڑ کر عقبی شیشے سے دیکھ رہے تھے کہ کیا ان کے پیچھے آنے والی کسی اور گاڑی نے بھی یہی انداز اختیار کیا تھا؟
تب مائیکل کی سمجھ میں آیا کہ وہ لوگ انتہائی حد تک یہ اطمینان کرنا چاہتے تھے کہ ان کا تعاقب نہیں کیا جارہا اور اگر کوئی تعاقب کرنے میں کامیاب ہو بھی گیا ہو تو اب وہ نظر میں آجائے مگر ایسا نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ اب وہ مطمئن ہوچکے تھے اور گاڑی اب برونکس کی طرف جارہی تھی۔
دس منٹ بعد گاڑی ایک ریسٹورنٹ کے سامنے جا رکی۔ نشانیاں بتاتی تھیں کہ اس علاقے میں زیادہ آبادی اطالویوں کی تھی۔ سڑک پر آمدورفت زیادہ نہیں تھی اور جب وہ اندر ریسٹورنٹ میں پہنچے تو وہ بھی خالی خالی سا نظر آیا۔ وہ لیونا ریسٹورنٹ ہی تھا۔ گویا انہیں ملنے والی اطلاع درست ثابت ہوئی تھی۔
مائیکل کو یہ دیکھ کر اطمینان ہوا کہ ڈرائیور باہر کار میں ہی رہ گیا تھا ورنہ اسے تشویش تھی کہ وہ بھی ان لوگوں کے ساتھ اندر نہ آجائے۔ اس صورت میں اسے اپنے منصوبے پر عملدرآمد میں دشواری پیش آسکتی تھی۔ ویسے تو سولوزو نے ڈرائیور کو ساتھ لا کر گویا ابتداء میں ہی معاہدے کی خلاف ورزی کردی تھی۔ سولوزو نے فون پر جو بات کی تھی، اس میں تیسرے فرد کا کوئی ذکر نہیں تھا لیکن مائیکل نے یہ نکتہ اٹھانے سے گریز کیا۔
ریسٹورنٹ میں سولوزو نے کسی کیبن میں بیٹھنے سے انکار کردیا۔ وہ لوگ کھلی جگہ میں ہال میں ایک گول میز کے گرد بیٹھ گئے۔ ہال میں صرف وہی میز گول تھی۔ وہاں ان کے علاوہ صرف دو افراد اور تھے۔ مائیکل کے خیال میں اس بات کا کافی امکان تھا کہ وہ دونوں سولوزو کے آدمی ہوں لیکن وہ ان کی موجودگی سے تشویش میں مبتلا نہیں ہوا۔ اس کا ارادہ اتنی پھرتی سے اپنے منصوبے پر عمل کرنے کا تھا کہ شاید ان دونوں کو کسی قسم کی دخل اندازی کا موقع ہی نہ ملتا۔
’’کیا یہاں کا اطالوی کھانا واقعی بہت عمدہ ہوتا ہے؟‘‘ کیپٹن کلس نے کچھ ایسی دلچسپی سے پوچھا جیسے وہ سچ مچ یہاں صرف کھانا کھانے اور اس سے پوری طرح لطف اندوز ہونے آیا ہو۔
’’بہت ہی اچھا!‘‘ سولوزو نے اسے
یقین دلایا۔
ریسٹورنٹ میں صرف ایک ہی ویٹر تھا۔ اس نے بوتل لا کر میز پر رکھ دی اور تین ڈرنکس تیار کردیں۔ کلس نے یہ کہہ کر مائیکل کو حیران کردیا۔ ’’میں نہیں پیوں گا۔ میں شاید واحد آئرش ہوں جو شراب نہیں پیتا۔ میں نے بہت سے اچھے بھلے لوگوں کو شراب کی وجہ سے تباہ ہوتے دیکھا ہے۔‘‘
سولوزو نے تفہیمی انداز میں سر ہلایا پھر کیپٹن سے مخاطب ہوا۔ ’’میں مائیکل سے اطالوی میں بات کروں گا۔ یہ مت سمجھنا کہ میں تم پر بداعتمادی کا اظہار کررہا ہوں اور اپنی گفتگو خفیہ رکھنا چاہتا ہوں بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ میں انگریزی میں اپنا مفہوم زیادہ اچھی طرح بیان نہیں کرسکتا۔ اطالوی میں بات کرکے شاید میں مائیکل کو زیادہ آسانی سے اپنے موقف پر قائل کرسکوں۔‘‘
’’تمہارا جس زبان میں دل چاہے، بات کرو۔ میں تو اس وقت صرف کھانے سے لطف اندوز ہونے کے موڈ میں ہوں۔‘‘ کیپٹن نے بے نیازی سے کہا۔
سولوزو نے مطمئن انداز میں سر ہلایا اور مائیکل کی طرف متوجہ ہوگیا۔ (جاری ہے)